صلہ رحمی کا بیان

Sahih Muslim · Chapter 47 · 223 hadiths · Page 10 of 12

6680Sahih Muslim

تکبر کی حرمت کے بیان میں

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ الْأَزْدِيُّ حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَقَ عَنْ أَبِي مُسْلِمٍ الْأَغَرِّ أَنَّهُ حَدَّثَهُ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ وَأَبِي هُرَيْرَةَ قَالَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعِزُّ إِزَارُهُ وَالْکِبْرِيَائُ رِدَاؤُهُ فَمَنْ يُنَازِعُنِي عَذَّبْتُهُ

احمد بن یوسف ازدی عمر ابن حفص بن غیاث ابی اعمش، اسحاق ابی مسلم حضرت ابوسعید اور حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا عزت اللہ کی تعالیٰ کی ازار ہے اور کبریائی اللہ تعالیٰ کی رداء ہے تو جو آدمی مجھ سے یہ صفتیں چھینے گا میں اسے عذاب دوں گا۔

Abu Said Khudri and Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying: Allah, the Exalted and Glorious, said: Glory is His lower garment and Majesty is His cloak and (Allah says,) He who contends with Me in regard to them I shall torment him.

6681Sahih Muslim

کسی انسان کو اللہ تعالیٰ کی رحمت سے نا امید کرنے کی ممانعت کے بیان میں

حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ عَنْ مُعْتَمِرِ بْنِ سُلَيْمَانَ عَنْ أَبِيهِ حَدَّثَنَا أَبُو عِمْرَانَ الْجَوْنِيُّ عَنْ جُنْدَبٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدَّثَ أَنَّ رَجُلًا قَالَ وَاللَّهِ لَا يَغْفِرُ اللَّهُ لِفُلَانٍ وَإِنَّ اللَّهَ تَعَالَی قَالَ مَنْ ذَا الَّذِي يَتَأَلَّی عَلَيَّ أَنْ لَا أَغْفِرَ لِفُلَانٍ فَإِنِّي قَدْ غَفَرْتُ لِفُلَانٍ وَأَحْبَطْتُ عَمَلَکَ أَوْ کَمَا قَالَ

سوید بن سعید، معتمر بن سلیمان، ابوعمران جونی حضرت جندب سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ایک آدمی نے کہا اللہ کی قسم اللہ فلاں آدمی کی مغفرت نہیں فرمائے گا تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کون آدمی ہے جو میرے بارے میں قسم کھاتا ہے کہ میں فلاں آدمی کی مغفرت نہیں کروں گا۔ (وہ سن لے) میں نے فلاں کو معاف کردیا اور میں نے تیرے اعمال ضائع کر دئے یا جیسا کہ فرمایا۔

Jundub reported that Allahs Messenger ﷺ stated that a person said: Allah would not forgive such and such (person). Thereupon Allah the Exalted and Glorious, said: Who is he who adjures about Me that I would not grant pardon to so and so; I have granted pardon to so and so and blotted out his deeds (who took an oath that I would not grant pardon to him).

6682Sahih Muslim

کمزوروں اور گمناموں کی فضلیت کے بیان میں

حَدَّثَنِي سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنِي حَفْصُ بْنُ مَيْسَرَةَ عَنْ الْعَلَائِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ رُبَّ أَشْعَثَ مَدْفُوعٍ بِالْأَبْوَابِ لَوْ أَقْسَمَ عَلَی اللَّهِ لَأَبَرَّهُ

سوید بن سعید، حفص بن میسرہ علاء، بن عبدالرحمن حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا بہت سے پراگندہ بالوں والے دروازوں سے دھتکارے ہوئے ایسے ہیں کہ اگر وہ اللہ کے اعتماد پر قسم کھا لیں تو اللہ تعالیٰ ان کی قسم کو پورا کردیتا ہے۔

Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger (may peace he upon him) as saying: Many a person with disheveled hair and covered with dust is turned away from the doors (whereas he is held in such a high esteem by Allah) that if he were to adjure in the name of Allah (about anything) Allah would fulfil that.

6683Sahih Muslim

لوگ ہلاک ہوگئی کہنے کی ممانعت کے بیان میں

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ح و حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَالِکٍ عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا قَالَ الرَّجُلُ هَلَکَ النَّاسُ فَهُوَ أَهْلَکُهُمْ قَالَ أَبُو إِسْحَقَ لَا أَدْرِي أَهْلَکَهُمْ بِالنَّصْبِ أَوْ أَهْلَکُهُمْ بِالرَّفْعِ

عبداللہ بن مسلمہ، بن قعنب، حماد بن سلمہ، سہیل بن ابوصالح، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب کسی آدمی نے کہا: لوگ ہلاک ہوگئے تو وہ خود ان سب سے زیادہ ہلاک ہونے والا ہے۔

Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying: When a person says that people are ruined he is himself ruined. Abu Ishaq said: I do not know whether he said "ahlakahum or ahlakuhum.

6684Sahih Muslim

لوگ ہلاک ہوگئی کہنے کی ممانعت کے بیان میں

حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ عَنْ رَوْحِ بْنِ الْقَاسِمِ ح و حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ حَکِيمٍ حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلَالٍ جَمِيعًا عَنْ سُهَيْلٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ

یحییٰ بن یحیی، یزید بن زریع، روح بن قاسم، احمد بن عثمان بن حکیم، بن مخلد، سلیمان بن بلال سہیل اس سند سے بھی یہ حدیث اسی طرح مروی ہے۔

This hadith has been narrated on the authority of Suhail with the same chain of transmitters.

6685Sahih Muslim

پڑوسی کے ساتھ حسن سلوک اور احسان کرنے کے بیان میں

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ عَنْ مَالِکِ بْنِ أَنَسٍ ح و حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ وَمُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ عَنْ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ ح و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَبْدَةُ وَيَزِيدُ بْنُ هَارُونَ کُلُّهُمْ عَنْ يَحْيَی بْنِ سَعِيدٍ ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَاللَّفْظُ لَهُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ يَعْنِي الثَّقَفِيَّ سَمِعْتُ يَحْيَی بْنَ سَعِيدٍ أَخْبَرَنِي أَبُو بَکْرٍ وَهُوَ ابْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ أَنَّ عَمْرَةَ حَدَّثَتْهُ أَنَّهَا سَمِعَتْ عَائِشَةَ تَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَا زَالَ جِبْرِيلُ يُوصِينِي بِالْجَارِ حَتَّی ظَنَنْتُ أَنَّهُ لَيُوَرِّثَنَّهُ

قتیبہ بن سعید، مالک بن انس، قتیبہ محمد بن رمح، لیث، بن سعد ابوبکر بن ابی شیبہ، عبدہ یزید بن ہارون، محمد بن مثنی، عبدالوہاب ثقفی یحییٰ بن سعید ابوبکر ابن محمد عمر بن حزم عمرہ سیدہ عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ جبرائیل (علیہ السلام) مجھے ہمیشہ پڑوسی کے ساتھ اچھا سلوک کرنے کی نصیحت کرتے رہے یہاں تک کہ میں نے گمان کیا کہ وہ پڑوسی کو وارث بنادیں گے۔

Aisha reported Allahs Messenger ﷺ as saying: Gabriel (علیہ السلام) impressed upon me (kind treatment) towards the neighbour (so much) that I thought as if he would confer upon him the (right) of inheritance.

6686Sahih Muslim

پڑوسی کے ساتھ حسن سلوک اور احسان کرنے کے بیان میں

حَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ حَدَّثَنِي هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ

عمرو ناقد عبدالعزیز بن ابی حازم، ہشام بن عروہ اس سند سے بھی سیدہ عائشہ ؓ نے نبی ﷺ سے اسی طرح حدیث روایت کی ہے۔

This hadith has been narrated on the authority of Aisha through another chain of transmitters.

6687Sahih Muslim

پڑوسی کے ساتھ حسن سلوک اور احسان کرنے کے بیان میں

حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ عَنْ عُمَرَ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ يَقُولُا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا زَالَ جِبْرِيلُ يُوصِينِي بِالْجَارِ حَتَّی ظَنَنْتُ أَنَّهُ سَيُوَرِّثُهُ

عبیداللہ بن عمر قواریری یزید بن زریع عمر ابن محمد حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا مجھے جبرائیل (علیہ السلام) ہمیشہ پڑوسی کے ساتھ اچھا سلوک کرنے کی نصیحت کرتے رہے یہاں تک کہ میں نے گمان کیا کہ وہ عنقریب اسے وراث قرار دے دیں گے۔

Ibn Umar (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying: Gabriel (علیہ السلام) impressed upon me (the kind treatment) towards the neighbour (so much) that I thought as if he would soon confer upon him the (right) of inheritance.

6688Sahih Muslim

پڑوسی کے ساتھ حسن سلوک اور احسان کرنے کے بیان میں

حَدَّثَنَا أَبُو کَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَاللَّفْظُ لِإِسْحَقَ قَالَ أَبُو کَامِلٍ حَدَّثَنَا و قَالَ إِسْحَقُ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ الْعَمِّيُّ حَدَّثَنَا أَبُو عِمْرَانَ الْجَوْنِيُّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا أَبَا ذَرٍّ إِذَا طَبَخْتَ مَرَقَةً فَأَکْثِرْ مَائَهَا وَتَعَاهَدْ جِيرَانَکَ

ابوکامل جحدری اسحاق بن ابراہیم، اسحاق ابوکامل اسحاق عبدالعزیز بن عبدالصمد ابوعمران عبداللہ بن صامت حضرت ابوذر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اے ابوذر جب تو سالن پکائے تو اس کے شوربہ کو زیادہ کرلے اور اپنے پڑوسی کی خبر گیری کرلے۔

Abu Dharr (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying: Abu Dharr, when you prepare the broth, add water to that and give that (as a present) to your neighbour.

6689Sahih Muslim

پڑوسی کے ساتھ حسن سلوک اور احسان کرنے کے بیان میں

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ح و حَدَّثَنَا أَبُو کُرَيْبٍ حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ إِنَّ خَلِيلِي صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْصَانِي إِذَا طَبَخْتَ مَرَقًا فَأَکْثِرْ مَائَهُ ثُمَّ انْظُرْ أَهْلَ بَيْتٍ مِنْ جِيرَانِکَ فَأَصِبْهُمْ مِنْهَا بِمَعْرُوفٍ

ابوبکر بن ابی شیبہ، ابن ادریس شعبہ، ابوکریب ابن ادریس شعبہ، ابوعمران جونی عبداللہ بن صامت حضرت ابوزر ؓ سے روایت ہے کہ میرے حبیب ﷺ نے مجھے وصیت فرمائی کہ جب تو سالن پکائے تو اس کے شوربہ کو زیادہ کرلے پھر اپنے پڑوس کے گھر والوں کو دیکھ لے اور انہیں اس میں سے نیکی کے ساتھ بھیج دے۔

Abu Dharr (RA) reported Allahs Messenger ﷺ commanded me thus: Whenever you prepare a broth, add water to it, and have in your mind the members of the household of your neighbours and then give them out of this with courtesy.

6690Sahih Muslim

ملاقات کے وقت خندہ پیشانی سے ملنے کے استح کے بیان میں

حَدَّثَنِي أَبُو غَسَّانَ الْمِسْمَعِيُّ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ يَعْنِي الْخَزَّازَ عَنْ أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ قَالَ لِيَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تَحْقِرَنَّ مِنْ الْمَعْرُوفِ شَيْئًا وَلَوْ أَنْ تَلْقَی أَخَاکَ بِوَجْهٍ طَلْقٍ

ابوغسان مسمعی عثمان بن عمر ابوعامر خزاز ابوعمران جونی عبداللہ بن صامت حضرت ابوذر ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے مجھ سے ارشاد فرمایا نیکی میں کسی بھی چیز کو حقیر نہ سمجھو اگرچہ تو اپنے بھائی سے خندہ پیشانی (خوش روی) سے ہی ملے۔

Abu Dharr (RA) reported: Allahs Apostle ﷺ said to me: Dont consider anything insignificant out of good things even if it is that you meet your brother with a cheerful countenance.

6691Sahih Muslim

جو حرام کام نہ ہو اس میں سفارش کے استح کے بیان میں

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ وَحَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ عَنْ بُرَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِي بُرْدَةَ عَنْ أَبِي مُوسَی قَالَ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَتَاهُ طَالِبُ حَاجَةٍ أَقْبَلَ عَلَی جُلَسَائِهِ فَقَالَ اشْفَعُوا فَلْتُؤْجَرُوا وَلْيَقْضِ اللَّهُ عَلَی لِسَانِ نَبِيِّهِ مَا أَحَبَّ

ابوبکر بن ابی شیبہ، علی بن مسہر، حفص بن غیاث یزید بن عبداللہ ؓ حضرت ابوموسی ؓ سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں کوئی ضرورت مند حاضر ہوتا تو آپ ﷺ اپنی مجلس میں موجود حاضرین کی طرف متوجہ ہو کر فرماتے کہ تم اس کی سفارش کرو تمہیں ثواب دیا جائے گا اور اللہ تعالیٰ اپنے نبی ﷺ کی زبان پر وہی کلمہ جاری کروائے گا جسے وہ پسند کرتا ہوگا۔

Abu Musa reported that when any needy (person) came to Allahs Messenger ﷺ with a need he commanded him to his Companions, saying: Make a recommendation for him, and you would get the reward. Allah, however, gives the verdict through the tongue of His Apostle ﷺ what He likes most.

6692Sahih Muslim

نیکی لوگوں کی صحبت اختیار کرنے اور بری ہم نشینی سے پرہیز کرنے کے مستحب ہونے کے بیان میں

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ بُرَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ جَدِّهِ عَنْ أَبِي مُوسَی عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَائِ الْهَمْدَانِيُّ وَاللَّفْظُ لَهُ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ بُرَيْدٍ عَنْ أَبِي بُرْدَةَ عَنْ أَبِي مُوسَی عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّمَا مَثَلُ الْجَلِيسِ الصَّالِحِ وَالْجَلِيسِ السَّوْئِ کَحَامِلِ الْمِسْکِ وَنَافِخِ الْکِيرِ فَحَامِلُ الْمِسْکِ إِمَّا أَنْ يُحْذِيَکَ وَإِمَّا أَنْ تَبْتَاعَ مِنْهُ وَإِمَّا أَنْ تَجِدَ مِنْهُ رِيحًا طَيِّبَةً وَنَافِخُ الْکِيرِ إِمَّا أَنْ يُحْرِقَ ثِيَابَکَ وَإِمَّا أَنْ تَجِدَ رِيحًا خَبِيثَةً

ابوبکر بن ابی شیبہ، سفیان بن عیینہ، برید بن عبداللہ حضرت ابوموسی ؓ نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا نیک ہم نشین اور برے ہم نشین کی مثال خوشبو والے اور بھٹی دھونکنے والے کی طرح ہے پس خوشبو والا یا تو تجھے کچھ ویسے ہی عطا کر دے گا یا تو اس سے خرید لے گا ورنہ تو اس سے عمدہ خوشبو تو پائے گا ہی اور بھٹی دھونکنے والا یا تو تیرے کپڑے جلا دے گا ورنہ تو اس بدبو کو تو پائے ہی گا۔

Abu Musa reported Allahs Messenger ﷺ as saying: The similitude of good company and that of bad company is that of the owner of musk and of the one (iron-smith) blowing bellows, and the owner of musk would either offer you free of charge or you would buy it from him or you would smell its pleasant odour, and so far as one who blows the bellows is concerned, he would either burn your clothes or you shall have to smell its repugnant smell.Aisha, the wife of Allahs Apostle ﷺ , said: A woman came to me along with her two daughters. She asked me for (charity) but she found nothing with me except one date, so I gave her that. She accepted it and then divided it between her two daughters and herself ate nothing out of that. She then got up and went out, and so did her two daughters. (In the meanwhile) Allahs Apostle ﷺ visited me and I narrated to him her story. Thereupon Allahs Apostle ﷺ said: He who is involved (in the responsibility) of (bringing up) daughters, and he accords benevolent treatment towards them, there would be protection for him against Hell-Fire.

6693Sahih Muslim

بیٹیوں کے ساتھ حسن سلوک کی فضلیت کے بیان میں

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قُهْزَاذَ حَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَکْرِ بْنِ حَزْمٍ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ ح و حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ بِهْرَامَ وَأَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَقَ وَاللَّفْظُ لَهُمَا قَالَا أَخْبَرَنَا أَبُو الْيَمَانِ أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَکْرٍ أَنَّ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ أَخْبَرَهُ أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ جَائَتْنِي امْرَأَةٌ وَمَعَهَا ابْنَتَانِ لَهَا فَسَأَلَتْنِي فَلَمْ تَجِدْ عِنْدِي شَيْئًا غَيْرَ تَمْرَةٍ وَاحِدَةٍ فَأَعْطَيْتُهَا إِيَّاهَا فَأَخَذَتْهَا فَقَسَمَتْهَا بَيْنَ ابْنَتَيْهَا وَلَمْ تَأْکُلْ مِنْهَا شَيْئًا ثُمَّ قَامَتْ فَخَرَجَتْ وَابْنَتَاهَا فَدَخَلَ عَلَيَّ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَحَدَّثْتُهُ حَدِيثَهَا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ ابْتُلِيَ مِنْ الْبَنَاتِ بِشَيْئٍ فَأَحْسَنَ إِلَيْهِنَّ کُنَّ لَهُ سِتْرًا مِنْ النَّارِ

محمد بن عبداللہ بن قہزاد سلیم بن سلیمان عبداللہ معمر، ابن شہاب عبداللہ بن ابی بکر بن حزم عروہ عبداللہ بن عبدالرحمن بن بہزام ابوبکر بن اسحاق ابویمان شعبی، زہری، عبداللہ بن ابی بکر عروہ بن زبیر عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ میرے پاس ایک عورت آئی اور اس کے ہمراہ اس کی دو بیٹیاں تھیں اس نے مجھ سے مانگا لیکن میرے پاس ایک کھجور کے سوا کچھ نہ تھا میں نے اسے وہی عطا کردی پس اس نے لے کر اسے اپنی دونوں بیٹیوں کو تقسیم کر کے دے دیا اور اس نے خود کچھ نہ کھایا پھر کھڑی ہوئی اور وہ اور اس کی بیٹیاں چلی گئیں پھر نبی ﷺ میرے پاس تشریف لائے تو میں نے آپ ﷺ سے اس کی اس حرکت کو بیان کیا تو نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا جس کو بیٹیوں کے ساتھ آزمایا گیا اور اس نے ان سے اچھا سلوک کیا تو وہ اس مرد کے لئے جہنم سے پردہ ہوں گی۔

Abu Hurairah (RA) reported Allahs Apostle ﷺ as saying: Anyone amongst the Muslims, three of whose children die, and he resigns himself calmly to the will of God, Fire will not touch him but for the fulfilment of the oath.

6694Sahih Muslim

بیٹیوں کے ساتھ حسن سلوک کی فضلیت کے بیان میں

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا بَکْرٌ يَعْنِي ابْنَ مُضَرَ عَنْ ابْنِ الْهَادِ أَنَّ زِيَادَ بْنَ أَبِي زِيَادٍ مَوْلَی ابْنِ عَيَّاشٍ حَدَّثَهُ عَنْ عِرَاکِ بْنِ مَالِکٍ سَمِعْتُهُ يُحَدِّثُ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ جَائَتْنِي مِسْکِينَةٌ تَحْمِلُ ابْنَتَيْنِ لَهَا فَأَطْعَمْتُهَا ثَلَاثَ تَمَرَاتٍ فَأَعْطَتْ کُلَّ وَاحِدَةٍ مِنْهُمَا تَمْرَةً وَرَفَعَتْ إِلَی فِيهَا تَمْرَةً لِتَأْکُلَهَا فَاسْتَطْعَمَتْهَا ابْنَتَاهَا فَشَقَّتْ التَّمْرَةَ الَّتِي کَانَتْ تُرِيدُ أَنْ تَأْکُلَهَا بَيْنَهُمَا فَأَعْجَبَنِي شَأْنُهَا فَذَکَرْتُ الَّذِي صَنَعَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنَّ اللَّهَ قَدْ أَوْجَبَ لَهَا بِهَا الْجَنَّةَ أَوْ أَعْتَقَهَا بِهَا مِنْ النَّارِ

قتیبہ بن سعید، بکر ابن مضر ابن ہاد ابن زیاد ابن عباس عراک بن مالک عمر بن عبدالعزیز سیدہ عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ میرے پاس ایک مسکین عورت اپنی دو بیٹیاں اٹھائے ہوئے آئی میں نے اسے تین کھجوریں دیں اور اس نے اپنی دونوں بیٹیوں میں سے ہر ایک کو ایک ایک کھجور دے دی اور ایک کھجور کو اپنے منہ میں کھانے کے لئے رکھ لیا پھر اس کی لڑکیوں نے اس سے یہ کھجور بھی کھانے کے لئے طلب کی تو اس نے اس کھجور کو دو ٹکڑوں میں توڑ کر ان دونوں کو دے دیا جسے وہ خود کھانے کا ارادہ رکھتی تھی مجھے اس کی اس حالت نے متعجب کردیا پس میں نے اس کے اس واقعہ کو رسول اللہ ﷺ سے ذکر کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا اس کے اس عمل نے اس کے لئے جنت کو واجب کردیا ہے اور جہنم سے اسے آزاد کردیا۔

Abu Hurairah (RA) reported Allahs Apostle ﷺ as saying: Anyone amongst the Muslims, three of whose children die, and he resigns himself calmly to the will of God, Fire will not touch him but for the fulfilment of the oath.

6695Sahih Muslim

بیٹیوں کے ساتھ حسن سلوک کی فضلیت کے بیان میں

حَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَکْرِ بْنِ أَنَسٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ عَالَ جَارِيَتَيْنِ حَتَّی تَبْلُغَا جَائَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَنَا وَهُوَ وَضَمَّ أَصَابِعَهُ

عمرو ناقد ابواحمد ابوبکر بن انس حضرت انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس نے دو لڑکیوں کی پرورش کی یہاں تک کہ وہ بالغ ہوگئیں میں اور وہ قیامت کے دن اس طرح ہوں گے اور آپ ﷺ نے اپنی انگلیوں کو ملا کر بتایا۔

Malik reported Allahs Messenger ﷺ as saying: He, who brought up two girls properly till they grew up, he and I would come (together) (very closely) on the Day of Resurrection, and he interlaced his fingers (for explaining the point of nearness between him and that person).

6696Sahih Muslim

جس کے بچے فوت ہوجائیں اور وہ ثواب کی امید پر صبر کرے اس کی فضلیت کے بیان میں

حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَالِکٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يَمُوتُ لِأَحَدٍ مِنْ الْمُسْلِمِينَ ثَلَاثَةٌ مِنْ الْوَلَدِ فَتَمَسَّهُ النَّارُ إِلَّا تَحِلَّةَ الْقَسَمِ

یحییٰ بن یحیی، مالک ابن شہاب سعید بن مسیب حضرت ابوہریرہ ؓ نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا جس مسلمان آدمی کے تین بچے فوت ہوجائیں اسے آگ صرف قسم کو پورا کرنے کے لئے چھوئے گی۔

Abu Hurairah (RA) reported Allahs Apostle ﷺ as saying: Anyone amongst the Muslims, three of whose children die, and he resigns himself calmly to the will of God, Fire will not touch him but for the fulfilment of the oath.

6697Sahih Muslim

جس کے بچے فوت ہوجائیں اور وہ ثواب کی امید پر صبر کرے اس کی فضلیت کے بیان میں

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَعَمْرٌو النَّاقِدُ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ قَالُوا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ح و حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ وَابْنُ رَافِعٍ عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ کِلَاهُمَا عَنْ الزُّهْرِيِّ بِإِسْنَادِ مَالِکٍ وَبِمَعْنَی حَدِيثِهِ إِلَّا أَنَّ فِي حَدِيثِ سُفْيَانَ فَيَلِجَ النَّارَ إِلَّا تَحِلَّةَ الْقَسَمِ

ابوبکر بن ابی شیبہ، عمرو نا قد زہیر بن حرب سفیان بن عیینہ، عبد بن حمید ابن رافع عبدالرزاق، معمر، زہری، مالک ان اسناد سے بھی یہ حدیث مروی ہے البتہ حضرت سفیان کی حدیث میں ہے کہ وہ صرف قسم کو پورا کرنے کے لئے جہنم میں داخل ہوگا۔

This hadith has been reported by Zuhri on the authority of Malik, and in the hadith transmitted on the authority of Sufyan (the words are): "He would enter into Fire, except for the fulfilment of the oath."

6698Sahih Muslim

جس کے بچے فوت ہوجائیں اور وہ ثواب کی امید پر صبر کرے اس کی فضلیت کے بیان میں

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ عَنْ سُهَيْلٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِنِسْوَةٍ مِنْ الْأَنْصَارِ لَا يَمُوتُ لِإِحْدَاکُنَّ ثَلَاثَةٌ مِنْ الْوَلَدِ فَتَحْتَسِبَهُ إِلَّا دَخَلَتْ الْجَنَّةَ فَقَالَتْ امْرَأَةٌ مِنْهُنَّ أَوْ اثْنَيْنِ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ أَوْ اثْنَيْنِ

قتیبہ بن سعید، عبدالعزیز ابن محمد سہیل، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے انصار کی عورتوں سے فرمایا تم میں سے جس کسی کے بھی تین بچے فوت ہوجائیں گے اور وہ ثواب کی امید پر صبر کرے گی تو جنت میں داخل ہوگی ان میں سے ایک عورت نے عرض کیا اے اللہ کے رسول اگر دو مرجائیں؟ (تو کیا حکم ہے؟ ) آپ ﷺ نے فرمایا: یا دو (یعنی دو مرجائیں تب بھی یہی حکم ہے )۔

Abu Hurairah (RA) reported that Allahs Messenger ﷺ said to a woman of the Ansar: In case anyone amongst you sees the sad demise of three children of (hers) and she resigns herself to the will of God hoping to get reward, she would be admitted to Paradise. A woman from amongst them said: Allahs Messenger, even if they (the children who die) are two. Thereupon, he (the Holy Prophet,) said: Even if they are two.

6699Sahih Muslim

جس کے بچے فوت ہوجائیں اور وہ ثواب کی امید پر صبر کرے اس کی فضلیت کے بیان میں

حَدَّثَنَا أَبُو کَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ فُضَيْلُ بْنُ حُسَيْنٍ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَصْبَهَانِيِّ عَنْ أَبِي صَالِحٍ ذَکْوَانَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ جَائَتْ امْرَأَةٌ إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ ذَهَبَ الرِّجَالُ بِحَدِيثِکَ فَاجْعَلْ لَنَا مِنْ نَفْسِکَ يَوْمًا نَأْتِيکَ فِيهِ تُعَلِّمُنَا مِمَّا عَلَّمَکَ اللَّهُ قَالَ اجْتَمِعْنَ يَوْمَ کَذَا وَکَذَا فَاجْتَمَعْنَ فَأَتَاهُنَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَلَّمَهُنَّ مِمَّا عَلَّمَهُ اللَّهُ ثُمَّ قَالَ مَا مِنْکُنَّ مِنْ امْرَأَةٍ تُقَدِّمُ بَيْنَ يَدَيْهَا مِنْ وَلَدِهَا ثَلَاثَةً إِلَّا کَانُوا لَهَا حِجَابًا مِنْ النَّارِ فَقَالَتْ امْرَأَةٌ وَاثْنَيْنِ وَاثْنَيْنِ وَاثْنَيْنِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاثْنَيْنِ وَاثْنَيْنِ وَاثْنَيْنِ

ابوکامل جحدری فضیل بن حسین ابوعوانہ، عبدالرحمن بن اصبہانی ابوصالح ذکوان حضرت ابوسعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ ایک عورت نے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا اے اللہ کے رسول مرد تو آپ ﷺ سے احادیث لے گئے اور آپ ﷺ اپنے پاس سے ایک دن ہمارے لئے بھی مقرر کردیں تاکہ ہم آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر آپ ﷺ سے وہ تعلیم حاصل کریں جو اللہ نے آپ ﷺ کو سکھائی ہے آپ ﷺ نے فرمایا تم فلاں فلاں دن جمع ہوا کرو پس وہ جمع ہوگئیں اور رسول اللہ ﷺ ان کے پاس تشریف لائے اور انہیں (احکام کی) تعلیم دی جو اللہ نے آپ ﷺ کو سکھائی تھے پھر فرمایا تم میں سے جو عورت اپنے سے پہلے اپنے تین بچوں کو بھیجے گی تو وہ اس کے لئے جہنم سے پردہ ہوں گے ایک عورت نے کہا اور دو اور دو اور دو؟ (کا کیا حکم ہے؟ ) تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اور دو اور دو اور دو۔ (کے لئے بھی یہی بشارت ہے)۔

Abu Said Khudri reported that a woman came to Allahs Messenger ﷺ and said: Allahs Messenger, men receive your instructions; kindly allocate at your convenience a day for us also, on which we would come to you and you would teach us what Allah has taught you. He said: You assemble on such and such a day. They assembled and Allahs Messenger ﷺ came to them and taught them what Allah had taught him and he then said: No woman amongst you who sends her three children as her forerunners (in the Hereafter) but they would serve him as a protection against Hell-Fire. A woman said: What about two and two and two? Thereupon Allahs Messenger ﷺ said: Even if they are two and two and two.