صلہ رحمی کا بیان

Sahih Muslim · Chapter 47 · 223 hadiths · Page 8 of 12

6640Sahih Muslim

جھوٹ بولنے کی برائی اور سچ بولنے کی اچھائی اور اس کے فضلیت کے بیان میں

حَدَّثَنَا مِنْجَابُ بْنُ الْحَارِثِ التَّمِيمِيُّ أَخْبَرَنَا ابْنُ مُسْهِرٍ ح و حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ أَخْبَرَنَا عِيسَی بْنُ يُونُسَ کِلَاهُمَا عَنْ الْأَعْمَشِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَلَمْ يَذْکُرْ فِي حَدِيثِ عِيسَی وَيَتَحَرَّی الصِّدْقَ وَيَتَحَرَّی الْکَذِبَ وَفِي حَدِيثِ ابْنِ مُسْهِرٍ حَتَّی يَکْتُبَهُ اللَّهُ

منجاب بن حارث تمیمی ابن مسہر اسحاق بن ابراہیم حنظلی، عیسیٰ بن یونس، حضرت اعمش ؓ سے اس سند کے ساتھ روایت نقل کی گئی ہے لیکن اس میں جھوٹ بولنے کا متمنی رہنے کا ذکر نہیں ہے اور ابن قسم کی روایت میں یہ ہے کہ یہاں تک کہ اللہ اسے لکھ لیتا ہے۔

This hadith has been reported on the authority of Amash with the same chain of transmitters and no mention is made in the hadith transmitted on the authority of Isa (of these words): "He who endeavours to tell the truth and endeavours to tell a lie," and in the hadith transmitted on the authority of Mushir (the words are): "Until Allah records it".

6641Sahih Muslim

غصہ کے وقت اپنے آپ پر قابو پانے کی فضلیت اور اس بات کے بیان میں کہ کس چیز سے غصہ جاتا رہتا ہے۔

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَاللَّفْظُ لِقُتَيْبَةَ قَالَا حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ عَنْ الْحَارِثِ بْنِ سُوَيْدٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا تَعُدُّونَ الرَّقُوبَ فِيکُمْ قَالَ قُلْنَا الَّذِي لَا يُولَدُ لَهُ قَالَ لَيْسَ ذَاکَ بِالرَّقُوبِ وَلَکِنَّهُ الرَّجُلُ الَّذِي لَمْ يُقَدِّمْ مِنْ وَلَدِهِ شَيْئًا قَالَ فَمَا تَعُدُّونَ الصُّرَعَةَ فِيکُمْ قَالَ قُلْنَا الَّذِي لَا يَصْرَعُهُ الرِّجَالُ قَالَ لَيْسَ بِذَلِکَ وَلَکِنَّهُ الَّذِي يَمْلِکُ نَفْسَهُ عِنْدَ الْغَضَبِ

قتیبہ بن سعید، عثمان بن ابی شیبہ قتیبہ جریر، اعمش، ابراہیم، تیمی حارث بن سوید حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم لوگوں میں رقوب کسے شمار کیا جاتا ہے؟ (یعنی رقوب کا معنی کیا ہے؟ ) راوی کہتے ہیں کہ ہم نے عرض کیا جس کے ہاں کوئی اولاد نہ ہوتی ہو آپ ﷺ نے فرمایا رقوب اسے نہیں کہتے بلکہ رقوب کا معنی یہ ہے کہ جس آدمی نے پہلے سے اپنی اولاد میں سے کسی کو آگے نہ بھیجا ہو آپ ﷺ نے فرمایا تم پہلوان کس کو شمار کرتے ہو راوی کہتے ہیں کہ ہم نے عرض کی کہ جسے لوگ پچھاڑ نہ سکیں آپ ﷺ نے فرمایا وہ پہلوان نہیں ہے بلکہ پہلوان وہ ہے کہ جو غصہ کے وقت اپنے آپ کو قابو میں رکھ سکے۔

Abdullah bin Masud reported Allahs Messenger ﷺ as saying: Whom do you count as "Raqub" amongst you? They (his Companions) said: One who has no children (the children are born unto him but they do not survive). Thereupon he (the Holy Prophet) said: He is not a Raqub but Raqub is one who does not find his child as the forerunner (in Paradise). He then said: Whom do you count as a wrestler amongst you? We said: He who wrestles with persons. He said: No, it is not he but one who controls himself when in a fit of rage.Abdullah bin Masud reported Allahs Messenger ﷺ as saying: Whom do you count as "Raqub" amongst you? They (his Companions) said: One who has no children (the children are born unto him but they do not survive). Thereupon he (the Holy Prophet) said: He is not a Raqub but Raqub is one who does not find his child as the forerunner (in Paradise). He then said: Whom do you count as a wrestler amongst you? We said: He who wrestles with persons. He said: No, it is not he but one who controls himself when in a fit of rage.

6642Sahih Muslim

غصہ کے وقت اپنے آپ پر قابو پانے کی فضلیت اور اس بات کے بیان میں کہ کس چیز سے غصہ جاتا رہتا ہے۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو کُرَيْبٍ قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ح و حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا عِيسَی بْنُ يُونُسَ کِلَاهُمَا عَنْ الْأَعْمَشِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَ مَعْنَاهُ

ابوبکر بن ابی شیبہ، ابوکریب، ابومعاویہ اسحاق بن ابراہیم، عیسیٰ بن یونس، حضرت اعمش ؓ سے اس سند کے ساتھ مذکورہ حدیث کے معنی کی طرح حدیث نقل کی گئی ہے۔

This hadith has been narrated on the authority of Amash with the same chain of transmitters.

6643Sahih Muslim

غصہ کے وقت اپنے آپ پر قابو پانے کی فضلیت اور اس بات کے بیان میں کہ کس چیز سے غصہ جاتا رہتا ہے۔

حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی وَعَبْدُ الْأَعْلَی بْنُ حَمَّادٍ قَالَا کِلَاهُمَا قَرَأْتُ عَلَی مَالِکٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَيْسَ الشَّدِيدُ بِالصُّرَعَةِ إِنَّمَا الشَّدِيدُ الَّذِي يَمْلِکُ نَفْسَهُ عِنْدَ الْغَضَبِ

یحییٰ بن یحیی، عبدالاعلی بن حماد مالک ابن شہاب سعید بن مسیب، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا طاقتور پہلوان وہ آدمی نہیں ہے کہ کشتی کرتے وقت اپنے مد مقابل کو پچھاڑ دے بلکہ پہلوان تو وہ آدمی ہے کہ جو غصہ کے وقت اپنے آپ کو قابو میں رکھ سکے۔

Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying: The strong-man is not one who wrestles well but the strong man is one who controls himself when he is in a fit of rage.

6644Sahih Muslim

غصہ کے وقت اپنے آپ پر قابو پانے کی فضلیت اور اس بات کے بیان میں کہ کس چیز سے غصہ جاتا رہتا ہے۔

حَدَّثَنَا حَاجِبُ بْنُ الْوَلِيدِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ عَنْ الزُّبَيْدِيِّ عَنْ الزُّهْرِيِّ أَخْبَرَنِي حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَيْسَ الشَّدِيدُ بِالصُّرَعَةِ قَالُوا فَالشَّدِيدُ أَيُّمَ هُوَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ الَّذِي يَمْلِکُ نَفْسَهُ عِنْدَ الْغَضَبِ

حاجب بن ولید محمد بن حرب زبیدی زہری حمید بن عبدالرحمن حضرت ابوہریرہ ؓ نے فرمایا میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا آپ ﷺ فرما رہے تھے کہ طاقتور آدمی پہلوان نہیں ہوتا صحابہ کرام ؓ نے عرض کیا اے اللہ کے رسول پھر طاقتور کون آدمی ہے آپ ﷺ نے فرمایا جو غصہ کے وقت اپنے آپ کو قابو میں رکھ سکے۔

Abu Hurairah (RA) reported: I heard Allahs Messenger ﷺ as saying: One is not strong because of ones wrestling skillfully. They said: Allahs Messenger, then who is strong? He said: He who controls his anger when he is in a fit of rage.

6645Sahih Muslim

غصہ کے وقت اپنے آپ پر قابو پانے کی فضلیت اور اس بات کے بیان میں کہ کس چیز سے غصہ جاتا رہتا ہے۔

و حَدَّثَنَاه مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ جَمِيعًا عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ح و حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ بِهْرَامَ أَخْبَرَنَا أَبُو الْيَمَانِ أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ کِلَاهُمَا عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ

محمد بن رافع عبد بن حمید عبدالرزاق، معمر، عبداللہ بن عبدالرہان بن بہزام ابویمان شعیب زہری، حمید بن عبدالرحمن بن عوف حضرت ابوہریرہ ؓ نے نبی ﷺ سے مذکورہ حدیث کی طرح روایت نقل کی ہے۔

This hadith has been reported on the authority of Abu Hurairah (RA) through another chain of transmitters.

6646Sahih Muslim

غصہ کے وقت اپنے آپ پر قابو پانے کی فضلیت اور اس بات کے بیان میں کہ کس چیز سے غصہ جاتا رہتا ہے۔

حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی وَمُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَائِ قَالَ يَحْيَی أَخْبَرَنَا و قَالَ ابْنُ الْعَلَائِ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ صُرَدٍ قَالَ اسْتَبَّ رَجُلَانِ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَعَلَ أَحَدُهُمَا تَحْمَرُّ عَيْنَاهُ وَتَنْتَفِخُ أَوْدَاجُهُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنِّي لَأَعْرِفُ کَلِمَةً لَوْ قَالَهَا لَذَهَبَ عَنْهُ الَّذِي يَجِدُ أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ فَقَالَ الرَّجُلُ وَهَلْ تَرَی بِي مِنْ جُنُونٍ قَالَ ابْنُ الْعَلَائِ فَقَالَ وَهَلْ تَرَی وَلَمْ يَذْکُرْ الرَّجُلَ

یحییٰ بن یحیی، محمد بن علاء، علاء ابومعاویہ اعمش، عدی بن ثابت حضرت سلیمان بن صرد ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ کے پاس دو آدمیوں نے آپس میں ایک دوسرے کو گالی دی ان میں سے ایک آدمی کی آنکھیں سرخ ہوگئیں اور اس کی گردن کی رگیں پھول گئیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میں ایک ایسا کلمہ جانتا ہوں کہ اگر یہ آدمی اسے کہہ لے تو اس سے (یہ غصہ) جاتا رہے (وہ کلمہ یہ ہے) أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ وہ آدمی عرض کرنے لگا کیا آپ ﷺ مجھ میں جنون خیال کر رہے ہیں ابن علاء کی روایت میں هَلْ تَرَی کا لفظ ہے الرَّجُلَ کا لفظ نہیں ہے۔

Sulaiman bin Surad reported that two persons abused each other in the presence of Allahs Apostle ﷺ and the eyes of one of them became red as embers and the veins of his neck were swollen. Thereupon Allahs Messenger ﷺ said: I know of a wording, if he were to utter that, his fit of rage (would be no more and that wording is): I seek refuge with Allah from Satan the accursed. The person said: Do you find any madness in me? Ibn al-Ala said: Do you see it? And he made no mention of the person.

6647Sahih Muslim

غصہ کے وقت اپنے آپ پر قابو پانے کی فضلیت اور اس بات کے بیان میں کہ کس چیز سے غصہ جاتا رہتا ہے۔

حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ سَمِعْتُ الْأَعْمَشَ يَقُولُ سَمِعْتُ عَدِيَّ بْنَ ثَابِتٍ يَقُولُ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ صُرَدٍ قَالَ اسْتَبَّ رَجُلَانِ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَعَلَ أَحَدُهُمَا يَغْضَبُ وَيَحْمَرُّ وَجْهُهُ فَنَظَرَ إِلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنِّي لَأَعْلَمُ کَلِمَةً لَوْ قَالَهَا لَذَهَبَ ذَا عَنْهُ أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ فَقَامَ إِلَی الرَّجُلِ رَجُلٌ مِمَّنْ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَتَدْرِي مَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ آنِفًا قَالَ إِنِّي لَأَعْلَمُ کَلِمَةً لَوْ قَالَهَا لَذَهَبَ ذَا عَنْهُ أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ فَقَالَ لَهُ الرَّجُلُ أَمَجْنُونًا تَرَانِي

نصر بن علی جہضمی ابواسامہ اعمش، عدی ثابت حضرت سلیمان بن صرد ؓ کہتے ہیں کہ نبی ﷺ کے پاس دو آدمیوں نے آپس میں ایک دوسرے کو گالی دی ان میں سے ایک کا چہرہ غصہ کی وجہ سے سرخ ہوگیا نبی ﷺ نے اس آمی کی طرف دیکھا تو فرمایا میں ایک ایسا کلمہ جانتا ہوں کہ اگر وہ اسے کہہ لے تو اس سے (غصہ کی یہ حالت) جاتی رہے (وہ کلمہ یہ ہے) أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ ایک آدمی اس آدمی کی طرف کھڑا ہوا اور اس نے نبی ﷺ سے جو سنا اس آدمی کو کہا کہ کیا تو جانتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ابھی ابھی کیا فرمایا ہے آپ ﷺ نے فرمایا میں ایک ایسا کلمہ جانتا ہوں کہ اگر وہ اسے کہ لے تو اس سے غصہ کی حالت جاتی رہے أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ تو اس آدمی نے کہا کیا تو مجھے پاگل سمجھتا ہے۔

Sulaiman bin Surad reported that two persons abused each other in the presence of Allahs Apostle ﷺ and one of them fell into a rage and his face became red. Allahs Apostle ﷺ saw him and said: I know of a wording; if he were to utter that, he would get out (of the fit of anger) (and the wording is): I seek refuge with Allah from Satan, the accursed. Thereupon, a person went to him who had heard that from Allahs Apostle ﷺ and said to him: Do you know what Allahs Messenger ﷺ said? He (the Holy Prophet) said: I know of a wording; if he were to say that, (the fit) would be no more (and the words are): I seek refuge with Allah from Satan, the accursed. And the person said to him: Do you find me mad?

6648Sahih Muslim

غصہ کے وقت اپنے آپ پر قابو پانے کی فضلیت اور اس بات کے بیان میں کہ کس چیز سے غصہ جاتا رہتا ہے۔

و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ عَنْ الْأَعْمَشِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ

ابوبکر بن ابی شبیہ حفص بن غیاث، حضرت اعمش ؓ سے اس سند کے ساتھ روایت نقل کی گئی ہے۔

This hadith has been reported on the authority of Amash with the same chain of transmitters.

6649Sahih Muslim

اس بات کے بیان میں کہ انسان کی پیدائش بے قابو ہونے پر ہی ہے۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَمَّا صَوَّرَ اللَّهُ آدَمَ فِي الْجَنَّةِ تَرَکَهُ مَا شَائَ اللَّهُ أَنْ يَتْرُکَهُ فَجَعَلَ إِبْلِيسُ يُطِيفُ بِهِ يَنْظُرُ مَا هُوَ فَلَمَّا رَآهُ أَجْوَفَ عَرَفَ أَنَّهُ خُلِقَ خَلْقًا لَا يَتَمَالَکُ

ابوبکر بن ابی شیبہ، یونس بن محمد حماد بن سلمہ ثابت بن انس، حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب اللہ تعالیٰ نے جنت میں حضرت آدم (علیہ السلام) کا پتلا بنایا تو اسے اللہ تعالیٰ نے جتنا عرصہ چاہا جنت میں چھوڑے رکھا ابلیس اس کے چاروں طرف گھومتا رہا اور اسے دیکھتا رہا کہ وہ کیا ہے تو جب اس نے دیکھا کہ یہ اندر سے کھو کھلا ہے کہ اللہ نے اسے ایسی مخلوق بنایا ہے کہ جو اپنے آپ پر قابو نہ رکھ سکے گا۔

Anas reported Allahs Messenger ﷺ as saying: When Allah fashioned Adam علیہ السلامعلیہ السلامin Paradise, He left him as He liked him to leave. Then Iblis roamed round him to see what actually that was and when he found him hollow from within, he recognised that he had been created with a disposition that he would not have control over himself.

6650Sahih Muslim

اس بات کے بیان میں کہ انسان کی پیدائش بے قابو ہونے پر ہی ہے۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ نَافِعٍ حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ

ابوبکر بن ابی شیبہ بہزحضرت حماد اس سند کے ساتھ مذکورہ حدیث کی طرح روایت بیان کرتے ہیں۔

A hadith like this has been narrated on the authority of Humaid with the same chain of transmitters.

6651Sahih Muslim

چہرے پر مارنے کی ممانعت کے بیان میں

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ يَعْنِي الْحِزَامِيَّ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَاتَلَ أَحَدُکُمْ أَخَاهُ فَلْيَجْتَنِبْ الْوَجْهَ

عبداللہ بن مسلمہ بن قعنب مغیرہ زناد اعرج حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب تم میں سے کوئی آدمی اپنے بھائی سے لڑے تو وہ چہرے پر مارنے سے بچے۔

Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying: When any one of you fights with his brother he should avoid striking at the face.

6652Sahih Muslim

چہرے پر مارنے کی ممانعت کے بیان میں

حَدَّثَنَاه عَمْرٌو النَّاقِدُ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ قَالَا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَقَالَ إِذَا ضَرَبَ أَحَدُکُمْ

عمرو ناقد زہیع بن حرب سفیان بن عیینہ، حضرت ابوالزناد سی اس سند کے ساتھ روایت ہے اور اس میں انہوں نے کہا جب تم میں سے کوئی مارے۔

This hadith has been transmitted on the authority of Abu Zinad and he said: " When one amongst you strikes (at the face)."

6653Sahih Muslim

چہرے پر مارنے کی ممانعت کے بیان میں

حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ سُهَيْلٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا قَاتَلَ أَحَدُکُمْ أَخَاهُ فَلْيَتَّقِ الْوَجْهَ

شیبان بن فروض ابوعوانہ، وہیل حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا جب تم میں سے کوئی اپنے بھائی سے لڑے تو وہ چہرے پر مارنے سے ڈرے۔

Abu Hurairah (RA) reported Allahs Apostle ﷺ as saying: When any one of you fights with his brother, he should spare his face.

6654Sahih Muslim

چہرے پر مارنے کی ممانعت کے بیان میں

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ سَمِعَ أَبَا أَيُّوبَ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَاتَلَ أَحَدُکُمْ أَخَاهُ فَلَا يَلْطِمَنَّ الْوَجْهَ

عبیداللہ بن معاذ عنبری شعبہ، قتادہ، ابوایوب، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا اور ابن حاتم کی روایت میں ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا جب تم میں سے کوئی اپنے بھائی سے لڑے تو اسے چاہے کہ وہ چہرے پر ہرگز تھپڑ نہ مارے

Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying: When any one of you fights with his brother, he should not slap at the face.

6655Sahih Muslim

چہرے پر مارنے کی ممانعت کے بیان میں

حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ حَدَّثَنِي أَبِي حَدَّثَنَا الْمُثَنَّی ح و حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ عَنْ الْمُثَنَّی بْنِ سَعِيدٍ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَبِي أَيُّوبَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَفِي حَدِيثِ ابْنِ حَاتِمٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا قَاتَلَ أَحَدُکُمْ أَخَاهُ فَلْيَجْتَنِبْ الْوَجْهَ فَإِنَّ اللَّهَ خَلَقَ آدَمَ عَلَی صُورَتِهِ

نصر بن علی ابی مثنی محمد بن حاتم، عبدالرحمن بن مہدی، مثنی بن سعید قتادہ، ابوایوب حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا اور ابن حاتم کی روایت میں ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا جب تم میں سے کوئی اپنے بھائی سے لڑے تو اسے چاہیے کہ وہ چہرے پر مارنے سے بچے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے آدم کو اپنی صورت پر تخلیق کیا۔

This hadith has been transmitted on the authority of Abu Hurairah (RA) and in the hadith transmitted on the authority of Ibn Hatim Allahs Apostle ﷺ is reported to have said: When any one of you fights with his brother, he should avoid his face for Allah created Adam علیہ السلامعلیہ السلامin His own image.

6656Sahih Muslim

چہرے پر مارنے کی ممانعت کے بیان میں

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنِي عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ يَحْيَی بْنِ مَالِکٍ الْمَرَاغِيِّ وَهُوَ أَبُو أَيُّوبَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا قَاتَلَ أَحَدُکُمْ أَخَاهُ فَلْيَجْتَنِبْ الْوَجْهَ

محمد بن مثنی، عبدالصمد ہمام قتادہ، یحییٰ بن مالک ابوایوب حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب تم میں سے کوئی اپنے بھائی سے لڑے تو اسے چاہیے کہ وہ چہرے پر مارنے سے بچے۔

Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying: When any one of you fights with his brother, he should avoid the face.

6657Sahih Muslim

اس آدمی کے لئے سخت وعید کے بیان میں جو لوگوں کو ناحق عذاب دیتا ہے۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ هِشَامِ بْنِ حَکِيمِ بْنِ حِزَامٍ قَالَ مَرَّ بِالشَّامِ عَلَی أُنَاسٍ وَقَدْ أُقِيمُوا فِي الشَّمْسِ وَصُبَّ عَلَی رُئُوسِهِمْ الزَّيْتُ فَقَالَ مَا هَذَا قِيلَ يُعَذَّبُونَ فِي الْخَرَاجِ فَقَالَ أَمَا إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ اللَّهَ يُعَذِّبُ الَّذِينَ يُعَذِّبُونَ فِي الدُّنْيَا

ابوبکر بن ابی شیبہ، حفص بن غیاث ہشام بن عروہ حضرت ہشام بن حکیم بن حزام ؓ سے روایت ہے کہ وہ ملک شام میں کچھ لوگوں کے پاس سے گزرے جنہیں دھوپ میں کھڑا کیا گیا تھا اور ان کے سروں پر روغن زیتوں بہا یا گیا تھا حضرت ہشام نے پوچھا یہ کیا ان کی حالت ہے؟ آپ سے لوگوں نے کہا خراج کی وصولی کے سلسلہ میں ان کو عذاب دیا جا رہا ہے حضرت ہشام نے فرمایا میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا آپ ﷺ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو عذاب دے گا جو لوگ دنیا میں عذاب دیتے ہیں۔

Urwa reported on the authority of his father that Hisham bin Hakim bin Hizam happened to pass by some people in Syria who had been made to stand in the sun and olive-oil was being poured upon their heads. He said: What is this? It was said: They are being punished for (not paying) the Kharaj (the government revenue). Thereupon he said: Allah would punish those who torment people in this world (without any genuine reason).

6658Sahih Muslim

اس آدمی کے لئے سخت وعید کے بیان میں جو لوگوں کو ناحق عذاب دیتا ہے۔

حَدَّثَنَا أَبُو کُرَيْبٍ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ هِشَامٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ مَرَّ هِشَامُ بْنُ حَکِيمِ بْنِ حِزَامٍ عَلَی أُنَاسٍ مِنْ الْأَنْبَاطِ بِالشَّامِ قَدْ أُقِيمُوا فِي الشَّمْسِ فَقَالَ مَا شَأْنُهُمْ قَالُوا حُبِسُوا فِي الْجِزْيَةِ فَقَالَ هِشَامٌ أَشْهَدُ لَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ اللَّهَ يُعَذِّبُ الَّذِينَ يُعَذِّبُونَ النَّاسَ فِي الدُّنْيَا

ابوکریب ابواسامہ، ہشام بن حکیم بن حزام ؓ حضرت ہشام اپنے باپ سے روایت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ حضرت ہشام بن حکیم بن حزام ملک شام میں کچھ نبطی لوگوں کے پاس سے گزرے جن کو دھوپ میں کھڑا کیا ہوا تھا انہوں نے فرمایا ان لوگوں کی یہ کیا حالت ہے لوگوں نے کہا جزیہ کی وصولی کے سلسلہ میں انہیں قید کیا گیا ہے تو حضرت ہشام نے فرمایا میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ نے سنا آپ فرما رہے تھے کہ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو عذاب دے گا جو لوگ دنیا میں (لوگوں کو) عذاب دیتے ہیں۔

Hisham reported on the authority of his father that Hisham bin Hakim bin Hizam happened to pass by people, the farmers of Syria, who had been made to stand in the sun. He said: What is the matter with them? They said: They have been detained for Jizya. Thereupon Hisham said: I bear testimony to the fact that I heard Allahs Messenger ﷺ as saying: Allah would torment those who torment people in the world.

6659Sahih Muslim

اس آدمی کے لئے سخت وعید کے بیان میں جو لوگوں کو ناحق عذاب دیتا ہے۔

حَدَّثَنَا أَبُو کُرَيْبٍ حَدَّثَنَا وَکِيعٌ وَأَبُو مُعَاوِيَةَ ح و حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ کُلُّهُمْ عَنْ هِشَامٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَزَادَ فِي حَدِيثِ جَرِيرٍ قَالَ وَأَمِيرُهُمْ يَوْمَئِذٍ عُمَيْرُ بْنُ سَعْدٍ عَلَی فِلَسْطِينَ فَدَخَلَ عَلَيْهِ فَحَدَّثَهُ فَأَمَرَ بِهِمْ فَخُلُّوا

ابوکریب وکیع، ابومعاویہ اسحاق بن ابراہیم، جریر، حضرت ہشام ؓ سے اس سند کے ساتھ روایت نقل کی گئی ہے لیکن اس روایت میں یہ الفاظ زائد ہیں کہ ان دنوں فلسطین پر ان کے حکمران حضرت عمیر بن سعد تھے حضرت ہشام ان کی خدمت میں گئے اور انہیں یہ حدیث بیان کی تو حضرت عمر بن سعد نے حکم دیا کہ ان کو رہا کردو۔

This hadith has been narrated on the authority of Hisham with the same chain of transmitters and he made this addition of Jarir that (Hisham bin Hakim) went to Umair bin Sad who was then ruler in Palestine and he narrated to him this hadith and he (submitting before the words of the Prophet) commanded that they should be let off and so they were let off.