سلام کرنے کا بیان

Sahih Muslim · Chapter 41 · 177 hadiths · Page 7 of 9

5766Sahih Muslim

کلونجی کے ذریعہ علاج کرنے کے بیان میں

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحِ بْنِ الْمُهَاجِرِ أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ عَنْ عُقَيْلٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَسَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ أَخْبَرَهُمَا أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ فِي الْحَبَّةِ السَّوْدَائِ شِفَائً مِنْ کُلِّ دَائٍ إِلَّا السَّامَ وَالسَّامُ الْمَوْتُ وَالْحَبَّةُ السَّوْدَائُ الشُّونِيزُ

محمد بن رمح بن مہاجر، لیث، عقیل ابن شہاب ابوسلمہ بن عبدالرحمن بن سعید بن مسیب ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا آپ ﷺ فرماتے تھے کلونجی میں سوائے موت کے ہر بیماری کی شفاء ہے السَّامُ کا معنی موت اور الْحَبَّةُ السَّوْدَائُ کا معنی الشُّونِيزُ یعنی کلونجی ہے۔

Abu Hurairah (RA) reported that he heard Allahs Messenger ﷺ as saying: Nigella seed is a remedy for every disease except death.

5767Sahih Muslim

کلونجی کے ذریعہ علاج کرنے کے بیان میں

و حَدَّثَنِيهِ أَبُو الطَّاهِرِ وَحَرْمَلَةُ قَالَا أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ح و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَعَمْرٌو النَّاقِدُ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَابْنُ أَبِي عُمَرَ قَالُوا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ح و حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ح و حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ أَخْبَرَنَا أَبُو الْيَمَانِ أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ کُلُّهُمْ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِ حَدِيثِ عُقَيْلٍ وَفِي حَدِيثِ سُفْيَانَ وَيُونُسَ الْحَبَّةُ السَّوْدَائُ وَلَمْ يَقُلْ الشُّونِيزُ

ابوطاہر حرملہ ابن وہب، یونس ابن شہاب سعید بن مسیب ابوہریرہ ابوبکر بن ابی شیبہ، عمرو ناقد زہیر بن حرب، ابن ابی عمر سفیان بن عیینہ عبد بن حمید عبدالرزاق، معمر، عبداللہ بن عبدالرحمن دارمی، ایوب ابویمان شعیب زہری، ابوسلمہ ابوہریرہ ؓ ان اسناد سے بھی یہ حدیث نبی ﷺ سے مروی ہے۔

This hadith has been narrated through another chain of transmitters but with a slight variation of wording.

5768Sahih Muslim

کلونجی کے ذریعہ علاج کرنے کے بیان میں

و حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ أَيُّوبَ وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ وَابْنُ حُجْرٍ قَالُوا حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ وَهُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ عَنْ الْعَلَائِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَا مِنْ دَائٍ إِلَّا فِي الْحَبَّةِ السَّوْدَائِ مِنْهُ شِفَائٌ إِلَّا السَّامَ

یحییٰ بن ایوب، قتیبہ بن سعید، ابن حجر اسماعیل ابن جعفر، علاء، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کوئی بیماری ایسی نہیں سوائے موت کے جس کی شفاء کلونجی میں نہ ہو۔

Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying: There is no disease for which Nigella seed does not provide remedy.

5769Sahih Muslim

دودھ اور شہد کے حریرہ کا مریض کے دل کے لئے مفید ہونے کے بیان میں

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِکِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ جَدِّي حَدَّثَنِي عُقَيْلُ بْنُ خَالِدٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهَا کَانَتْ إِذَا مَاتَ الْمَيِّتُ مِنْ أَهْلِهَا فَاجْتَمَعَ لِذَلِکَ النِّسَائُ ثُمَّ تَفَرَّقْنَ إِلَّا أَهْلَهَا وَخَاصَّتَهَا أَمَرَتْ بِبُرْمَةٍ مِنْ تَلْبِينَةٍ فَطُبِخَتْ ثُمَّ صُنِعَ ثَرِيدٌ فَصُبَّتْ التَّلْبِينَةُ عَلَيْهَا ثُمَّ قَالَتْ کُلْنَ مِنْهَا فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ التَّلْبِينَةُ مُجِمَّةٌ لِفُؤَادِ الْمَرِيضِ تُذْهِبُ بَعْضَ الْحُزْنِ

عبدالملک بن شعیب بن لیث بن سعد عقیل بن خالد ابن شہاب عروہ سیدہ عائشہ ؓ زوجہ نبی ﷺ سے روایت ہے کہ ان کے گھر والوں میں سے جب کسی کا انتقال ہوجاتا تو اس کی تعزیت کے لئے عورتیں جمع ہو کر چلی جاتیں اور ان کے گھر والے اور خواص ہی باقی رہ جاتے تو سیدہ ؓ ہانڈی میں شہد اور دودھ ملا کر حریرہ پکانے کا حکم دیتیں جب وہ پک جاتا پھر ثرید بنایا جاتا پھر ثرید میں دودھ اور شہد کا حریرہ ڈال دیا جاتا پھر فرماتیں اس میں سے کھاؤ کیونکہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے آپ فرماتے تھے دودھ اور شہد ملا حریرہ مریض کے دل کو خوش کرتا ہے اور رنج وغم کو دور کرتا ہے۔

Aisha the wife of Allahs Apostle ﷺ said: When there was any bereavement in her family the women gathered there for condolence and they departed except the members of the family and some selected persons. She asked to prepare talbina in a small couldron and it was cooked and then tharid was prepared and it was poured over talbina, then she said: Eat it, for I heard Allahs Messenger ﷺ as saying: Talbina gives comfort to the aggrieved heart and it lessens grief.

5770Sahih Muslim

شہد پلا کر علاج کرنے کے بیان میں

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ وَاللَّفْظُ لِابْنِ الْمُثَنَّی قَالَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَبِي الْمُتَوَکِّلِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ جَائَ رَجُلٌ إِلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنَّ أَخِي اسْتَطْلَقَ بَطْنُهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْقِهِ عَسَلًا فَسَقَاهُ ثُمَّ جَائَهُ فَقَالَ إِنِّي سَقَيْتُهُ عَسَلًا فَلَمْ يَزِدْهُ إِلَّا اسْتِطْلَاقًا فَقَالَ لَهُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ثُمَّ جَائَ الرَّابِعَةَ فَقَالَ اسْقِهِ عَسَلًا فَقَالَ لَقَدْ سَقَيْتُهُ فَلَمْ يَزِدْهُ إِلَّا اسْتِطْلَاقًا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَدَقَ اللَّهُ وَکَذَبَ بَطْنُ أَخِيکَ فَسَقَاهُ فَبَرَأَ

محمد بن مثنی، محمد بن بشار، ابن مثنی محمد بن جعفر، شعبہ، قتادہ، ابی متوکل ابوسعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا میرے بھائی کو دست لگ گئے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اسے شہد پلاؤ اس نے پلایا پھر آکر عرض کیا میں نے اسے شہد پلایا لیکن اس کے دستوں میں مزید زیادتی ہوگئی آپ ﷺ نے اسے تین مرتبہ یہی فرمایا پھر وہ چوتھی مرتبہ آیا تو آپ ﷺ نے فرمایا اسے شہد پلاؤ اس نے عرض کیا میں نے پلایا لیکن اس کے دستوں میں زیادتی ہی ہوتی چلی گئی رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ نے سچ فرمایا اور تیرے بھائی کا پیٹ جھوٹا ہے پس اس نے پھر شہد پلایا تو وہ صحت مند ہوگیا۔

Abu Said Khudri reported that a person came to Allahs Apostle ﷺ and told him that his brothers bowels were loose. Thereupon Allahs Messenger ﷺ said: Give him honey. So he gave him that and then came and said: I gave him honey but it has only made his bowels more loose. He said this three times; and then he came the fourth time, and he (the Holy Prophet) said: Give him honey. He said: I did give him, but it has only made his bowels more loose, whereupon Allahs Messenger ﷺ said: Allah has spoken the truth and your brothers bowels are in the wrong. So he made him drink (honey) and he was recovered.

5771Sahih Muslim

شہد پلا کر علاج کرنے کے بیان میں

و حَدَّثَنِيهِ عَمْرُو بْنُ زُرَارَةَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ يَعْنِي ابْنَ عَطَائٍ عَنْ سَعِيدٍ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَبِي الْمُتَوَکِّلِ النَّاجِيِّ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ رَجُلًا أَتَی النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنَّ أَخِي عَرِبَ بَطْنُهُ فَقَالَ لَهُ اسْقِهِ عَسَلًا بِمَعْنَی حَدِيثِ شُعْبَةَ

عمرو بن زرارہ عبدالوہاب ابن عطاء، سعید قتادہ، ابومتوکل ناجی، حضرت ابوسعید ؓ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اس نے عرض کیا میرے بھائی کا پیٹ خراب ہوگیا تو آپ ﷺ نے اس سے کہا اسے شہد پلاؤ باقی حدیث اسی طرح ہے۔

This hadith has been narrated on the authority of Abu Said Khudri through another chain of transmitters but with a slight variation of wording.

5772Sahih Muslim

طاعون بدفالی اور کہانت وغیرہ کے بیان میں۔

حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَالِکٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْکَدِرِ وَأَبِي النَّضْرِ مَوْلَی عُمَرَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ سَمِعَهُ يَسْأَلُ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ مَاذَا سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الطَّاعُونِ فَقَالَ أُسَامَةُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الطَّاعُونُ رِجْزٌ أَوْ عَذَابٌ أُرْسِلَ عَلَی بَنِي إِسْرَائِيلَ أَوْ عَلَی مَنْ کَانَ قَبْلَکُمْ فَإِذَا سَمِعْتُمْ بِهِ بِأَرْضٍ فَلَا تَقْدَمُوا عَلَيْهِ وَإِذَا وَقَعَ بِأَرْضٍ وَأَنْتُمْ بِهَا فَلَا تَخْرُجُوا فِرَارًا مِنْهُ و قَالَ أَبُو النَّضْرِ لَا يُخْرِجُکُمْ إِلَّا فِرَارٌ مِنْهُ

یحییٰ بن یحیی، مالک محمد بن منکدر ابی نضر مولیٰ عمر بن عبیداللہ عامر، حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے حضرت اسامہ بن زید ؓ سے پوچھا آپ نے رسول اللہ ﷺ سے طاعون کے بارے میں کیا سنا ہے تو اسامہ نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا طاعون ایک عذاب ہے جسے بنی اسرائیل پر یا ان لوگوں پر بھیجا گیا تھا جو تم سے پہلے تھے پس جب تم سنو کہ فلاں علاقہ میں طاعون کی وباء پھیل چکی ہے تو وہاں مت جاؤ اور جب تمہارے رہنے کی جگہ میں واقع ہوجائے تو اس زمین سے طاعون سے فرار ہو کر مت نکلو۔

Amir bin Sad bin Abu Waqqas reported on the authority of his father that he asked Usama bin Zaid: What have you heard from Allahs Messenger ﷺ about plague? Thereupon Usama said: Allahs Messenger ﷺ said: Plague is a calamity which was sent to Bani Israil or upon those who were before you. So when you hear that it has broken out in a land, dont go to it, and when it has broken out in the land where you are, dont run out of it. In the narration transmitted on the authority of Abu Nadr there is a slight variation of wording.

5773Sahih Muslim

طاعون بدفالی اور کہانت وغیرہ کے بیان میں۔

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ قَالَا أَخْبَرَنَا الْمُغِيرَةُ وَنَسَبَهُ ابْنُ قَعْنَبٍ فَقَالَ ابْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْقُرَشِيُّ عَنْ أَبِي النَّضْرِ عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الطَّاعُونُ آيَةُ الرِّجْزِ ابْتَلَی اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بِهِ نَاسًا مِنْ عِبَادِهِ فَإِذَا سَمِعْتُمْ بِهِ فَلَا تَدْخُلُوا عَلَيْهِ وَإِذَا وَقَعَ بِأَرْضٍ وَأَنْتُمْ بِهَا فَلَا تَفِرُّوا مِنْهُ هَذَا حَدِيثُ الْقَعْنَبِيِّ وَقُتَيْبَةَ نَحْوُهُ

عبداللہ بن مسلمہ بن قعنب قتیبہ بن سعید، مغیرہ ابن عبدالرحمن قرشی، ابی نضر، عامر بن سعد بن ابی وقاص، حضرت اسامہ ؓ بن زید سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا طاعون عذاب کی علامت و نشانی ہے اللہ عز وجل نے اپنے بندوں میں سے بعض لوگوں کو اس عذاب میں مبتلا کیا پس جب تم اس بارے میں سنو تو اس جگہ مت داخل ہو اور جب تمہارے رہنے کی زمین میں واقع ہوجائے تو اس سے بھاگو مت۔

Usama bin Zaid reported that Allahs Messenger ﷺ had said: Plague is the sign of a calamity with which Allah, the Exalted and Glorious, affects people from His servants. So when you hear about it, dont enter there (where it has broken out), and when it has broken out in a land and you are there, then dont run away from it.

5774Sahih Muslim

طاعون بدفالی اور کہانت وغیرہ کے بیان میں۔

و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْکَدِرِ عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ أُسَامَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ هَذَا الطَّاعُونَ رِجْزٌ سُلِّطَ عَلَی مَنْ کَانَ قَبْلَکُمْ أَوْ عَلَی بَنِي إِسْرَائِيلَ فَإِذَا کَانَ بِأَرْضٍ فَلَا تَخْرُجُوا مِنْهَا فِرَارًا مِنْهُ وَإِذَا کَانَ بِأَرْضٍ فَلَا تَدْخُلُوهَا

محمد بن عبداللہ بن نمیر، ابی سفیان، محمد بن منکدر، عامر بن سعد، حضرت اسامہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا یہ طاعون ایک عذاب ہے جسے تم سے پہلے لوگوں پر یا بنی اسرائیل پر مسلط کیا گیا جب تم ایسی زمین میں ہو تو طاعون سے بھاگتے ہوئے اس علاقہ سے مت نکلو اور جس جگہ طاعون ہو تو تم وہاں مت جاؤ۔

Usama reported Allahs Messenger ﷺ as saying: Plague is a calamity which was inflicted on those who were before you, or upon Bani Israil. So when it has broken out in a land, dont run out of it, and when it has spread in a land, then dont enter it.

5775Sahih Muslim

طاعون بدفالی اور کہانت وغیرہ کے بیان میں۔

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ أَنَّ عَامِرَ بْنَ سَعْدٍ أَخْبَرَهُ أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ سَعْدَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ عَنْ الطَّاعُونِ فَقَالَ أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ أَنَا أُخْبِرُکَ عَنْهُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هُوَ عَذَابٌ أَوْ رِجْزٌ أَرْسَلَهُ اللَّهُ عَلَی طَائِفَةٍ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ أَوْ نَاسٍ کَانُوا قَبْلَکُمْ فَإِذَا سَمِعْتُمْ بِهِ بِأَرْضٍ فَلَا تَدْخُلُوهَا عَلَيْهِ وَإِذَا دَخَلَهَا عَلَيْکُمْ فَلَا تَخْرُجُوا مِنْهَا فِرَارًا

محمد بن حاتم، محمد بن بکر، ابن جریج، عمرو بن دینار، عامر بن سعد، سعد ابن ابی وقاص، حضرت اسامہ بن زید ؓ سے طاعون کے بارے میں روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا یہ عذاب یا بیماری ہے جسے اللہ نے بنی اسرائیل کے ایک گروہ یا کچھ لوگوں پر جو تم سے پہلے گزر چکے بھیجا تھا پس جب تم کسی زمین میں اس کی اطلاع سنو تو اس علاقہ میں مت جاؤ اور جب طاعون تم پر آجائے تو اس علاقہ سے بھاگ کر مت نکلو۔

Amir bin Sad reported that a person asked Sad bin Abu Waqqas about the plague, whereupon Usama bin Zaid said: I would inform you about it. The Messenger of Allah ﷺ said: It is a calamity or a disease which Allah sent to a group of Bani Israil, or to the people who were before you; so when you hear of it in land, dont enter it and when it has broken out in your land, dont run away from it.

5776Sahih Muslim

طاعون بدفالی اور کہانت وغیرہ کے بیان میں۔

و حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ قَالَا حَدَّثَنَا حَمَّادٌ وَهُوَ ابْنُ زَيْدٍ ح و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ کِلَاهُمَا عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ بِإِسْنَادِ ابْنِ جُرَيْجٍ نَحْوَ حَدِيثِهِ

ابوربیع سلیمان بن داؤد قتیبہ بن سعید، حماد ابن زید ابوبکر بن ابی شبیہ سفیان بن عیینہ، عمرو بن دینار ابن جریج، ان دونوں اسناد سے بھی یہ حدیث مبارکہ اسی طرح مروی ہے۔

This hadith has been narrated on the authority of Ibn Juraij through another chain of transmitters.

5777Sahih Muslim

طاعون بدفالی اور کہانت وغیرہ کے بیان میں۔

حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ أَحْمَدُ بْنُ عَمْرٍو وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَی قَالَا أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ أَخْبَرَنِي عَامِرُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ إِنَّ هَذَا الْوَجَعَ أَوْ السَّقَمَ رِجْزٌ عُذِّبَ بِهِ بَعْضُ الْأُمَمِ قَبْلَکُمْ ثُمَّ بَقِيَ بَعْدُ بِالْأَرْضِ فَيَذْهَبُ الْمَرَّةَ وَيَأْتِي الْأُخْرَی فَمَنْ سَمِعَ بِهِ بِأَرْضٍ فَلَا يَقْدَمَنَّ عَلَيْهِ وَمَنْ وَقَعَ بِأَرْضٍ وَهُوَ بِهَا فَلَا يُخْرِجَنَّهُ الْفِرَارُ مِنْهُ

ابوطاہر احمد بن عمرو حرملہ بن یحییٰ ابن وہب، یونس، ابن شہاب، عامر بن سعد، حضرت اسامہ بن زید ؓ بن زید رسول اللہ ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا یہ (طاعون) درد یا بیماری ایک عذاب ہے جس کے ذریعہ تم سے پہلی بعض قوموں کو عذاب دیا گیا پھر یہ ابھی تک زمین میں باقی ہے کبھی چلا جاتا ہے اور کبھی آجاتا ہے پس جو کسی علاقہ میں اس کی اطلاع سنے تو وہ اس جگہ نہ جائے اور جو اس زمین میں موجود ہو جہاں یہ واقع ہوجائے تو اس سے بھاگتے ہوئے وہاں سے نہ نکلے۔

Usama bin Zaid reported Allahs Messenger ﷺ having said this: This calamity or illness was a punishment with which were punished some of the nations before you. Then it was left upon the earth. It goes away once and comes back again. He who heard of its presence in a land should not go towards it, and he who happened to be in a land where it had broken out should not fly from it.

5778Sahih Muslim

طاعون بدفالی اور کہانت وغیرہ کے بیان میں۔

و حَدَّثَنَاه أَبُو کَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ يَعْنِي ابْنَ زِيَادٍ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ بِإِسْنَادِ يُونُسَ نَحْوَ حَدِيثِهِ

ابوکامل جحدری عبدالوحد ابن زیاد معمر، زہری، یونس اس سند سے بھی یہ حدیث منقول ہے۔

This hadith has been narrated on the authority of Zuhri with a different chain of transmitters.

5779Sahih Muslim

طاعون بدفالی اور کہانت وغیرہ کے بیان میں۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ حَبِيبٍ قَالَ کُنَّا بِالْمَدِينَةِ فَبَلَغَنِي أَنَّ الطَّاعُونَ قَدْ وَقَعَ بِالْکُوفَةِ فَقَالَ لِي عَطَائُ بْنُ يَسَارٍ وَغَيْرُهُ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا کُنْتَ بِأَرْضٍ فَوَقَعَ بِهَا فَلَا تَخْرُجْ مِنْهَا وَإِذَا بَلَغَکَ أَنَّهُ بِأَرْضٍ فَلَا تَدْخُلْهَا قَالَ قُلْتُ عَمَّنْ قَالُوا عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ يُحَدِّثُ بِهِ قَالَ فَأَتَيْتُهُ فَقَالُوا غَائِبٌ قَالَ فَلَقِيتُ أَخَاهُ إِبْرَاهِيمَ بْنَ سَعْدٍ فَسَأَلْتُهُ فَقَالَ شَهِدْتُ أُسَامَةَ يُحَدِّثُ سَعْدًا قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ هَذَا الْوَجَعَ رِجْزٌ أَوْ عَذَابٌ أَوْ بَقِيَّةُ عَذَابٍ عُذِّبَ بِهِ أُنَاسٌ مِنْ قَبْلِکُمْ فَإِذَا کَانَ بِأَرْضٍ وَأَنْتُمْ بِهَا فَلَا تَخْرُجُوا مِنْهَا وَإِذَا بَلَغَکُمْ أَنَّهُ بِأَرْضٍ فَلَا تَدْخُلُوهَا قَالَ حَبِيبٌ فَقُلْتُ لِإِبْرَاهِيمَ آنْتَ سَمِعْتَ أُسَامَةَ يُحَدِّثُ سَعْدًا وَهُوَ لَا يُنْکِرُ قَالَ نَعَمْ

محمد بن مثنی، ابن ابی عدی، شعبہ، حضرت حبیب (رح) سے روایت ہے کہ ہم مدینہ میں تھے تو مجھے یہ خبر پہنچی کہ کوفہ میں طاعون واقع ہوچکا ہے تو مجھے حضرت عطاء بن یسار اور ان کے علاوہ لوگوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب تم کسی جگہ قیام پذیر ہو اور وہاں طاعون واقع ہوجائے تو تم وہاں سے نہ نکلو اور جب تجھے کسی علاقہ کے بارے میں خبر پہنچے تو وہاں داخل مت ہو میں نے کہا تم نے یہ بات کس سے سنی ہے انہوں نے کہا عامر بن سعد سے جو اسے روایت کرتے ہیں میں ان کے پاس گیا تو لوگوں نے کہا وہ موجود نہیں ہیں میں ان کے بھائی ابراہیم سے ملا اور ان سے اس بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا میری موجودگی میں حضرت اسامہ نے یہ حدیث حضرت سعد کو بیان کی حضرت اسامہ ؓ نے کہا میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا آپ ﷺ فرماتے تھے یہ درد بیماری ہے، یا عذاب یا عذاب کا بقیہ حصہ تم سے پہلے لوگوں کو اس کے ذریعے عذاب دیا گیا پس جب کسی علاقہ میں یہ پھیل جائے اور تم وہاں موجود ہو تو اس علاقہ سے مت بھاگو اور جب تمہیں کسی علاقہ کے بارے میں اس کی خبر پہنچے تو اس علاقہ میں مت داخل ہو حبیب نے کہا کہ میں نے ابراہیم سے کہا تم نے حضرت اسامہ کو یہ حدیث حضرت سعد سے بیان کرتے ہوئے سنا تو انہوں نے اس پر کوئی اعتراض نہیں کیا تھا انہوں نے کہا ہاں۔

Shubah reported from Habib: While we were in Madinah we heard of plague having broken out in Kufa. Ata bin Yasir and others said to me that Allahs Messenger ﷺ had said. If you are in a land where it (this scourge) has broken out, dont get out of it, and if you were to know that it had broken (in another land, then dont enter it. I said to him: From whom (did you hear it)? They said: Amir bin Sad has narrated it. So I came to him. They said that he was not present there. So I met his brother Ibrahim bin Sad and asked him. He said: I bear testimony to the fact that Usama narrated it to Sad saying: I heard Allahs Messenger ﷺ as saying that it is a God-sent punishment from the calamity or from the remnant of the calamity with which people were afflicted before you. So when it is in a land and you are there, dont get out of it, and if (this news reaches you) that it has broken out in a land, then dont enter therein. Habib said: I said to Ibrahim: Did you hear Usama narrating it to Sad and he was not denying it. He said: Yes.

5780Sahih Muslim

طاعون بدفالی اور کہانت وغیرہ کے بیان میں۔

و حَدَّثَنَاه عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا شُعْبَةُ بِهَذَا الْإِسْنَادِ غَيْرَ أَنَّهُ لَمْ يَذْکُرْ قِصَّةَ عَطَائِ بْنِ يَسَارٍ فِي أَوَّلِ الْحَدِيثِ

عبیداللہ بن معاذ ابی شعبہ، عطاء، بن یسار اس سند سے بھی یہ حدیث مروی ہے لیکن اس سند کے ساتھ اس حدیث کی ابتداء میں حضرت عطاء بن یسار کا قصہ مذکور نہیں ہے۔

This hadith has been narrated on the authority of Shubah with the same chain of transmitters except for the fact that no mention has been made of the account of Ata bin Yasir as in the previous hadith.

5781Sahih Muslim

طاعون بدفالی اور کہانت وغیرہ کے بیان میں۔

و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا وَکِيعٌ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ حَبِيبٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ عَنْ سَعْدِ بْنِ مَالِکٍ وَخُزَيْمَةَ بْنِ ثَابِتٍ وَأُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ قَالُوا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَعْنَی حَدِيثِ شُعْبَةَ

ابوبکر بن ابی شیبہ، وکیع، سفیان، حبیب، ابراہیم بن سعد، سعد بن مالک، خزیمہ بن ثابت، اسامہ بن زید، حضرت سعد بن مالک ؓ حضرت خزیمہ بن ثابت اور حضرت اسامہ ؓ بن زید سے یہی روایت رسول اللہ ﷺ سے منقول ہے۔

This hadith has been transmitted on the authority of Sad bin Malik, Khuzaima bin Thabit and Usama bin Zaid.

5782Sahih Muslim

طاعون بدفالی اور کہانت وغیرہ کے بیان میں۔

و حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ کِلَاهُمَا عَنْ جَرِيرٍ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ حَبِيبٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ قَالَ کَانَ أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ وَسَعْدٌ جَالِسَيْنِ يَتَحَدَّثَانِ فَقَالَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنَحْوِ حَدِيثِهِمْ

عثمان بن ابی شیبہ اسحاق بن ابراہیم، جریر، اعمش، حبیب ابراہیم بن سعد بن ابی وقاص اسامہ بن زید، سعد حضرت ابراہیم بن سعد بن ابی وقاص سے روایت ہے کہ حضرت اسامہ بن زید اور سعد بیٹھے گفتگو کر رہے تھے تو انہوں نے ان کی حدیث مبارکہ کی طرح رسول اللہ ﷺ کی حدیث مبارکہ روایت کی۔

Ibrahim bin Sad bin Abu Waqqas reported: Usama bin Zaid and Sad had been sitting and they had been conversing and they said this:

5783Sahih Muslim

طاعون بدفالی اور کہانت وغیرہ کے بیان میں۔

و حَدَّثَنِيهِ وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ أَخْبَرَنَا خَالِدٌ يَعْنِي الطَّحَّانَ عَنْ الشَّيْبَانِيِّ عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدِ بْنِ مَالِکٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنَحْوِ حَدِيثِهِمْ

وہب بن بقیہ، خالد شیبانی، حبیب بن ابی ثابت، حضرت ابراہیم بن سعد بن مالک ؓ سے اپنے والد کے واسطہ سے نبی ﷺ سے یہی حدیث مبارکہ اسی طرح روایت کی ہے۔

This hadith has been transmitted by Ibrahim bin Sad bin Malik on the authority of his father.

5784Sahih Muslim

طاعون بدفالی اور کہانت وغیرہ کے بیان میں۔

حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی التَّمِيمِيُّ قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَالِکٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زَيْدِ بْنِ الْخَطَّابِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ نَوْفَلٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ خَرَجَ إِلَی الشَّامِ حَتَّی إِذَا کَانَ بِسَرْغَ لَقِيَهُ أَهْلُ الْأَجْنَادِ أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ وَأَصْحَابُهُ فَأَخْبَرُوهُ أَنَّ الْوَبَائَ قَدْ وَقَعَ بِالشَّامِ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ فَقَالَ عُمَرُ ادْعُ لِي الْمُهَاجِرِينَ الْأَوَّلِينَ فَدَعَوْتُهُمْ فَاسْتَشَارَهُمْ وَأَخْبَرَهُمْ أَنَّ الْوَبَائَ قَدْ وَقَعَ بِالشَّامِ فَاخْتَلَفُوا فَقَالَ بَعْضُهُمْ قَدْ خَرَجْتَ لِأَمْرٍ وَلَا نَرَی أَنْ تَرْجِعَ عَنْهُ وَقَالَ بَعْضُهُمْ مَعَکَ بَقِيَّةُ النَّاسِ وَأَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا نَرَی أَنْ تُقْدِمَهُمْ عَلَی هَذَا الْوَبَائِ فَقَالَ ارْتَفِعُوا عَنِّي ثُمَّ قَالَ ادْعُ لِي الْأَنْصَارِ فَدَعَوْتُهُمْ لَهُ فَاسْتَشَارَهُمْ فَسَلَکُوا سَبِيلَ الْمُهَاجِرِينَ وَاخْتَلَفُوا کَاخْتِلَافِهِمْ فَقَالَ ارْتَفِعُوا عَنِّي ثُمَّ قَالَ ادْعُ لِي مَنْ کَانَ هَاهُنَا مِنْ مَشْيَخَةِ قُرَيْشٍ مِنْ مُهَاجِرَةِ الْفَتْحِ فَدَعَوْتُهُمْ فَلَمْ يَخْتَلِفْ عَلَيْهِ رَجُلَانِ فَقَالُوا نَرَی أَنْ تَرْجِعَ بِالنَّاسِ وَلَا تُقْدِمَهُمْ عَلَی هَذَا الْوَبَائِ فَنَادَی عُمَرُ فِي النَّاسِ إِنِّي مُصْبِحٌ عَلَی ظَهْرٍ فَأَصْبِحُوا عَلَيْهِ فَقَالَ أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ أَفِرَارًا مِنْ قَدَرِ اللَّهِ فَقَالَ عُمَرُ لَوْ غَيْرُکَ قَالَهَا يَا أَبَا عُبَيْدَةَ وَکَانَ عُمَرُ يَکْرَهُ خِلَافَهُ نَعَمْ نَفِرُّ مِنْ قَدَرِ اللَّهِ إِلَی قَدَرِ اللَّهِ أَرَأَيْتَ لَوْ کَانَتْ لَکَ إِبِلٌ فَهَبَطَتْ وَادِيًا لَهُ عُدْوَتَانِ إِحْدَاهُمَا خَصْبَةٌ وَالْأُخْرَی جَدْبَةٌ أَلَيْسَ إِنْ رَعَيْتَ الْخَصْبَةَ رَعَيْتَهَا بِقَدَرِ اللَّهِ وَإِنْ رَعَيْتَ الْجَدْبَةَ رَعَيْتَهَا بِقَدَرِ اللَّهِ قَالَ فَجَائَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ وَکَانَ مُتَغَيِّبًا فِي بَعْضِ حَاجَتِهِ فَقَالَ إِنَّ عِنْدِي مِنْ هَذَا عِلْمًا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِذَا سَمِعْتُمْ بِهِ بِأَرْضٍ فَلَا تَقْدَمُوا عَلَيْهِ وَإِذَا وَقَعَ بِأَرْضٍ وَأَنْتُمْ بِهَا فَلَا تَخْرُجُوا فِرَارًا مِنْهُ قَالَ فَحَمِدَ اللَّهَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ثُمَّ انْصَرَفَ

یحییٰ بن یحییٰ تمیمی، مالک بن شہاب عبدالحمید بن عبدالرحمن بن زید بن خطاب عبداللہ بن عبداللہ بن حارث ابن نوفل، عمر بن خطاب، حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ حضرت عمر بن خطاب ؓ شام کی طرف چلے جب مقام سرغ پہنچے تو لشکر والوں میں سے حضرت عبیدہ بن جراح ؓ نے حضرت عمر ؓ کو خبر دی کہ شام میں وباء پھیل چکی ہے ابن عمر ؓ نے بیان کیا کہ حضرت عمر ؓ نے کہا میرے پاس مہاجرین اولین کو بلاؤ میں ان کو بلا لایا آپ نے ان سے مشورہ کیا اور انہیں خبر دی کہ شام میں وباء پھیل چکی ہے پس انہوں نے اختلاف کیا ان میں سے بعض نے کہا آپ جس کام کے لئے نکل چکے ہیں ہمارا خیال ہے کہ آپ واپس نہ ہوں اور بعض نے کہا آپ کے ساتھ بعض متقدمین اور رسول اللہ ﷺ کے صحابہ ہیں۔ ہمارے خیال میں آپ کا انہیں اس وبا کی طرف لے جانا مناسب نہیں آپ نے کہا اچھا تم جاؤ پھر کہا میرے پاس انصار کو بلاؤ میں نے آپ کے لئے انہیں بلایا آپ نے ان سے مشورہ کیا تو وہ بھی مہاجرین کے راستہ پر چلے اور ان کے اختلاف کی طرح انہوں نے بھی اختلاف کیا آپ نے کہا میرے پاس سے تشریف لے جائیں پھر آپ نے کہا میرے پاس مہاجرین فتح مکہ سے قریشی بزرگوں کو لاؤ میں ان کو بلا لیا ان میں سے دو آدمیوں نے بھی اختلاف نہ کیا سب حضرات نے کہا کہ ہمارا خیال ہے کہ آپ لوگوں کے ساتھ واپس چلے جائیں اور ان کو اس وباء میں نہ لے جائیں حضرت عمر ؓ نے لوگوں میں اعلان کردیا کہ میں سواری کی حالت میں صبح کرنے والا ہوں پس لوگ بھی سوار ہوگئے تو ابوعبیدہ بن جراح نے کہا کیا تم اللہ کی تقدیر سے فرار ہو رہے ہو حضرت عمر ؓ نے کہا اے ابوعبیدہ کاش یہ بات کہنے والا آپ کے سوا کوئی اور ہوتا اور حضرت عمر ؓ ان سے اختلاف کرنے کو پسند نہ کرتے تھے کہا ہاں ہم اللہ کی تقدیر سے اللہ کی تقدیر ہی کی طرف جا رہے ہیں آپ کا کیا خیال ہے کہ اگر آپ کے پاس اونٹ ہوں اور آپ ایسی وادی میں اتریں جس کی دو گھاٹیاں ہوں ان میں سے ایک سرسبز اور دوسری خشک اور ویران و بنجر اگر آپ انہیں سرسبز و شاداب وادی میں چرائیں تو کیا یہ اللہ کی تقدیر سے نہ ہوگا اور اگر انہیں بنجر و ویران میں چرائیں تو کیا یہ بھی تقدیر الٰہی سے نہ ہوگا اتنے میں حضرت عبدالرحمن بن عوف بھی آگئے جو کہ اپنی کسی ضرورت کی وجہ سے موجود نہ تھے انہوں نے کہا میرے پاس اس بارے میں علم ہے میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا آپ ﷺ فرماتے تھے جب تم کسی علاقہ کے بارے میں اس اطلاع کو سنو تو وہاں مت جاؤ اور جب یہ کسی علاقہ میں پھیل جائے اور تم وہاں موجود ہو تو اس سے فرار اختیار کرتے ہوئے مت نکلو ابن عباس ؓ نے کہا پھر حضرت عمر بن خطاب ؓ نے اللہ کی حمد بیان کی اور لوٹ گئے۔

Abdullah bin Abbas reported: Umar bin Khattab set out for Syria. As he came at Sargh (a town by the side of Hijaz on the way to Syria), there met him the commander of the forces, Abu Ubaida bin Jandb, and his companions. They informed him that a scourge had broken out in Syria. Ibn Abbas further reported that Umar said: Call to me the earliest emigrants. So I called them. He (Hadrat Umar) sought their advice, and they told him that the scourge had broken out in Syria. There was a difference of opinion (whether they should proceed further or go back to their homes in such a situation). Some of them said: You (Umar) have set forth for a task, and, therefore, we would not advise you to go back, whereas some of them said: You have along with you the remnants (of the sacred galaxy) of men and (the blessed) Companions of Allahs Messenger ﷺ , so we would not advise you to go forth towards this calamity (with such eminent persons and thus expose them deliberately to a danger). He (Hadrat Umar) said: You can now go away. He said: Call to me the Ansar. So I called them to him, and he consulted them, and they trod the same path as was trodden by the Muhajirin, and they differed in their opinions as they had differed. He said: Now, you can go. He again said: Call to me the old persons of the Quraish who had migrated before the Victory (that is the Victory of Makkah), so I called them (and Hadrat Umar consulted them) and not even two persons differed (from the opinion held by the earlier delegates). They said: Our opinion is that you better go back along with the people and do not make them go to this scourge, So Umar made announcement to the people: In the morning I would be on the back of my side. So they (set forth in the morning), whereupon Abu Ubaida bin Jarrah said: Are you going to run away from the Divine Decree? Thereupon Umar said: Had it been someone else to say this besides you! Umar (in fact) did not approve of his opposing (this decision) and he said: Yes, we are running from the Divine Decree (to the) Divine Decree. You should think if there had been camels for you and you happened to get down in a valley having two sides, one of them covered with verdure and the other being barren, would you not (be doing) according to the Divine Decree if you graze them in verdure? And in case you graze them in the barren land (even then you would be grazing them) according to the Divine Decree. There happened to come Abdul Rahman bin Auf and he had been absent in connection with some of his needs. He said: I have with me a knowledge of it, that I heard Allahs Messenger ﷺ as saying: If you hear of its presence (the presence of plague) in a land, dont enter it, but if it spreads in the land where you are, dont fly from it. Thereupon Umar bin Khattab praised Allah and then went back?

5785Sahih Muslim

طاعون بدفالی اور کہانت وغیرہ کے بیان میں۔

و حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ قَالَ ابْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا و قَالَ الْآخَرَانِ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَ حَدِيثِ مَالِکٍ وَزَادَ فِي حَدِيثِ مَعْمَرٍ قَالَ وَقَالَ لَهُ أَيْضًا أَرَأَيْتَ أَنَّهُ لَوْ رَعَی الْجَدْبَةَ وَتَرَکَ الْخَصْبَةَ أَکُنْتَ مُعَجِّزَهُ قَالَ نَعَمْ قَالَ فَسِرْ إِذًا قَالَ فَسَارَ حَتَّی أَتَی الْمَدِينَةَ فَقَالَ هَذَا الْمَحِلُّ أَوْ قَالَ هَذَا الْمَنْزِلُ إِنْ شَائَ اللَّهُ

اسحاق بن ابراہیم، محمد بن رافع عبد بن حمید ابن رافع عبدالرزاق، معمر، مالک معمر، اس سند سے بھی یہ حدیث اسی طرح مروی ہے فرق یہ ہے کہ حضرت عمر ؓ نے حضرت ابوعبیدہ سے کہا اگر کوئی آدمی سرسبز و شاداب وادی چھوڑ کر خشک اور بےآب وگیاہ وادی میں اپنے جانور چرائے تو کیا تم اسے قصور وار تصور کرو گے انہوں نے کہا جی ہاں حضرت عمر ؓ نے کہا بس چلو آپ چلے جب مدینہ آگیا تو آپ نے کہا یہی قیام گاہ ہے یا کہا یہی منزل ہے انشاء اللہ تعالیٰ۔

This hadith has been reported on the authority of Mamar with the same chain of transmitters but with this addition: "Do you think that he would graze in the barren land but would abandon the green land? Would you not attribute it to be a failing on his part? He said: Yes. He said: Then proceed. And he moved on until he came to Madinah. And he said to me: This is the right place, or he said: That is the destination if Allah so wills.