روزوں کا بیان

Sahih Muslim · Chapter 15 · 285 hadiths · Page 6 of 15

2595Sahih Muslim

رمضان کے دنوں میں روزہ دار ہم بستری کی حرمت اور اس کے کفارہ کے وجوب کے بیان میں

حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی وَأَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَابْنُ نُمَيْرٍ کُلُّهُمْ عَنْ ابْنِ عُيَيْنَةَ قَالَ يَحْيَی أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ جَائَ رَجُلٌ إِلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ هَلَکْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ وَمَا أَهْلَکَکَ قَالَ وَقَعْتُ عَلَی امْرَأَتِي فِي رَمَضَانَ قَالَ هَلْ تَجِدُ مَا تُعْتِقُ رَقَبَةً قَالَ لَا قَالَ فَهَلْ تَسْتَطِيعُ أَنْ تَصُومَ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ قَالَ لَا قَالَ فَهَلْ تَجِدُ مَا تُطْعِمُ سِتِّينَ مِسْکِينًا قَالَ لَا قَالَ ثُمَّ جَلَسَ فَأُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَرَقٍ فِيهِ تَمْرٌ فَقَالَ تَصَدَّقْ بِهَذَا قَالَ أَفْقَرَ مِنَّا فَمَا بَيْنَ لَابَتَيْهَا أَهْلُ بَيْتٍ أَحْوَجُ إِلَيْهِ مِنَّا فَضَحِکَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّی بَدَتْ أَنْيَابُهُ ثُمَّ قَالَ اذْهَبْ فَأَطْعِمْهُ أَهْلَکَ

یحییٰ بن یحیی، ابوبکر بن ابی شیبہ، زہیر بن حرب، ابن نمیر، ابن عیینہ، سفیان بن عیینہ، حمید بن عبدالرحمن، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نبی ﷺ کی خدمت میں آیا اور اس نے عرض کیا اے اللہ کے رسول! میں ہلاک ہوگیا آپ نے فرمایا تو کیسے ہلاک ہوگیا؟ اس نے عرض کیا کہ میں نے رمضان میں اپنی بیوی سے ہم بستری کرلی ہے آپ نے فرمایا کیا تو ایک غلام آزاد کرسکتا ہے؟ اس نے عرض کیا نہیں آپ نے فرمایا کیا تو مسلسل دو مہینے روزے رکھ سکتا ہے؟ اس نے عرض کیا نہیں، آپ نے فرمایا تو کیا تو ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلا سکتا ہے؟ اس نے عرض کیا کہ نہیں، راوی کہتے ہیں کہ پھر وہ آدمی بیٹھ گیا نبی ﷺ کی خدمت میں ایک ٹو کرا لایا گیا جس میں کھجوریں تھیں آپ ﷺ نے فرمایا ان کو محتاجوں میں صدقہ کردو اس نے عرض کیا کیا ہم سے بھی زیادہ محتاج ہے؟ مدینہ کے دونوں اطراف کے درمیان والے گھروں میں کوئی گھر ایسا نہیں جو ہم سے زیادہ محتاج ہو نبی ﷺ ہنس پڑے یہاں تک کہ آپ ﷺ کی داڑھیں مبارک ظاہر ہوگئیں پھر آپ ﷺ نے اس آدمی سے فرمایا جا اور اسے اپنے گھر والوں کو کھلا۔

Abu Hurairah (RA) reported that a person came to the Apostle of Allah ﷺ and said: Messenger of Allah, I am undone. He (the Holy Prophet) said: What has brought about your ruin? He said: I have had intercourse with my wife during the month of Ramadan. Upon this he (the Holy prophet) said: Can you find a slave to set him free? He said: NO. He (the Holy Prophet ﷺ again) said: Can you observe fast for two consecutive months? He said: No. He (the Holy Prophet) said: Can you provide food to sixty poor people? He said: No. He then sat down and (in the meanwhile) there was brought to the Apostle of Allah ﷺ a basket which contained dates. He (the Holy Prophet) said: Give these (dates) in charity. He (the man) said: Am I to give to one who is poorer than I? There is no family poorer than mine between the two lava plains of Madinah. The Apostle of Allah ﷺ laughed so that his molar teeth became visible and said: Go and give it to your family to eat.

2596Sahih Muslim

رمضان کے دنوں میں روزہ دار ہم بستری کی حرمت اور اس کے کفارہ کے وجوب کے بیان میں

حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مُسْلِمٍ الزُّهْرِيِّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَ رِوَايَةِ ابْنِ عُيَيْنَةَ وَقَالَ بِعَرَقٍ فِيهِ تَمْرٌ وَهُوَ الزِّنْبِيلُ وَلَمْ يَذْکُرْ فَضَحِکَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّی بَدَتْ أَنْيَابُهُ

اسحاق بن ابراہیم، جریر، منصور، حضرت محمد بن مسلم زہری ؓ سے اس سند کے ساتھ اس طرح روایت نقل کی گئی ہے اور راوی نے کہا کہ اس میں اس ٹوکرے کا ذکر نہیں ہے جس میں کھجوریں تھیں یعنی زنبیل اور وہ یہ بھی ذکر نہیں کرتے کہ نبی ﷺ ہنسے یہاں تک کہ آپ ﷺ کی ڈاڑھیں ظاہر ہوگئیں۔

A hadith like this has been narrated on the authority of Mubammad bin Muslim al-Zuhri with the same chain of transmitters, and he said: There was brought an araq containing dates, an araq being a huge basket. But in this hadith no mention has been made of (the fact) that the Apostle of Allah ﷺ laughed till his molar teeth became visible.

2597Sahih Muslim

رمضان کے دنوں میں روزہ دار ہم بستری کی حرمت اور اس کے کفارہ کے وجوب کے بیان میں

حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی وَمُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ قَالَا أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ ح و حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا لَيْثٌ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَجُلًا وَقَعَ بِامْرَأَتِهِ فِي رَمَضَانَ فَاسْتَفْتَی رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِکَ فَقَالَ هَلْ تَجِدُ رَقَبَةً قَالَ لَا قَالَ وَهَلْ تَسْتَطِيعُ صِيَامَ شَهْرَيْنِ قَالَ لَا قَالَ فَأَطْعِمْ سِتِّينَ مِسْکِينًا

یحییٰ بن یحیی، محمد بن رمح، لیث، قتیبہ، لیث، ابن شہاب، حمید بن عبدالرحمن بن عوف، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے رمضان میں اپنی بیوی سے ہم بستری کرلی اور پھر رسول اللہ ﷺ سے اس مسئلہ کے بارے میں پوچھا تو آپ ﷺ نے فرمایا کیا تو ایک غلام آزاد کرسکتا ہے؟ اس نے عرض کیا نہیں آپ ﷺ نے فرمایا کیا تو دو مہینے کے روزے رکھ سکتا ہے اس نے عرض کیا نہیں آپ ﷺ نے فرمایا تو پھر تو ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلا دے۔

Abu Hurairah (RA) reported that a person had intercourse with his wife during Ramadan (while fasting). He asked for the religious verdict (about it) from the Messenger of Allah ﷺ , whereupon he (the Holy Prophet) said: Can you find a slave (to grant him freedom)? He said: No. He (the Holy Prophet ﷺ again) said: Can you afford to observe fasts for two (consecutive) months? He said: No. He (the Holy Prophet) said: Then feed sixty poor men.

2598Sahih Muslim

رمضان کے دنوں میں روزہ دار ہم بستری کی حرمت اور اس کے کفارہ کے وجوب کے بیان میں

و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ عِيسَی أَخْبَرَنَا مَالِکٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ أَنَّ رَجُلًا أَفْطَرَ فِي رَمَضَانَ فَأَمَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُکَفِّرَ بِعِتْقِ رَقَبَةٍ ثُمَّ ذَکَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ ابْنِ عُيَيْنَةَ

محمد بن رافع، اسحاق بن عیسی، مالک، حضرت زہری سے اس سند کے ساتھ روایت ہے کہ ایک آدمی نے رمضان میں روزہ افطار کرلیا تو رسول اللہ ﷺ نے اسے حکم فرمایا کہ ایک غلام آزاد کر کے کفارہ ادا کرے پھر ابن عیینہ کی حدیث کی طرح حدیث ذکر فرمائی۔

This hadith has been narrated on the authority of Zuhri with the same chain of transmitters that a person broke fast in Ramadan whereupon the Messenger of Allah ﷺ commanded him to free a slave (as an atonement), and the rest of the hadith is the same as narrated by Ibn Uyaina.

2599Sahih Muslim

رمضان کے دنوں میں روزہ دار ہم بستری کی حرمت اور اس کے کفارہ کے وجوب کے بیان میں

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ حَدَّثَنِي ابْنُ شِهَابٍ عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ حَدَّثَهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ رَجُلًا أَفْطَرَ فِي رَمَضَانَ أَنْ يُعْتِقَ رَقَبَةً أَوْ يَصُومَ شَهْرَيْنِ أَوْ يُطْعِمَ سِتِّينَ مِسْکِينًا

محمد بن رافع، عبدالرزاق، ابن جریج، ابن شہاب، حمید بن عبدالرحمن، حضرت ابوہریرہ ؓ نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے ایک آدمی کو حکم فرمایا جس آدمی نے رمضان میں روزہ توڑ لیا تھا اسے چاہیے کہ وہ ایک غلام آزاد کرے یا دو مہینے کے روزے رکھے یا ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلائے۔

Humaid bin Abdul Rahman reported that Abu Hurairah (RA) had narrated to him that the Apostle of Allah ﷺ commanded the person (who) broke the fast in Ramadan to free a slave or observe fasts for two (consecutive) months or feed sixty poor persons.

2600Sahih Muslim

رمضان کے دنوں میں روزہ دار ہم بستری کی حرمت اور اس کے کفارہ کے وجوب کے بیان میں

حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَ حَدِيثِ ابْنِ عُيَيْنَةَ

عبد بن حمید، عبدالرزاق، معمر، حضرت زہری ؓ سے اس سند کے ساتھ ابن عیینہ کی حدیث کی طرح روایت نقل کی گئی ہے۔

This hadith has been narrated with the same chain of transmitters on the authority of Zuhri.

2601Sahih Muslim

رمضان کے دنوں میں روزہ دار ہم بستری کی حرمت اور اس کے کفارہ کے وجوب کے بیان میں

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحِ بْنِ الْمُهَاجِرِ أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ عَنْ يَحْيَی بْنِ سَعِيدٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّهَا قَالَتْ جَائَ رَجُلٌ إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ احْتَرَقْتُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِمَ قَالَ وَطِئْتُ امْرَأَتِي فِي رَمَضَانَ نَهَارًا قَالَ تَصَدَّقْ تَصَدَّقْ قَالَ مَا عِنْدِي شَيْئٌ فَأَمَرَهُ أَنْ يَجْلِسَ فَجَائَهُ عَرَقَانِ فِيهِمَا طَعَامٌ فَأَمَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَتَصَدَّقَ بِهِ

محمد بن رمح، ابن مہاجر، لیث، یحییٰ بن سعید، عبدالرحمن بن قاسم، محمد بن جعفر، ابن زبیر، عباد بن عبداللہ بن زبیر، سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ فرماتی ہیں کہ ایک آدمی رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں آیا اور اس نے عرض کیا کہ میں تو جل گیا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کیوں؟ اس نے عرض کی کیا کہ میں نے رمضان کے دنوں میں اپنی بیوی سے ہمبستری کرلی ہے تو آپ ﷺ نے فرمایا صدقہ کر، صدقہ کر، اس آدمی نے عرض کیا کہ میرے پاس تو کچھ بھی نہیں ہے تو آپ ﷺ نے اسے حکم فرمایا کہ وہ بیٹھ جائے تو آپ کی خدمت میں دو ٹوکرے آئے جس میں کھانا تھا تو آپ ﷺ نے اس آدمی کو حکم فرمایا کہ اس کو صدقہ کرو۔

Aisha (Allah be pleased with her) reported that a person came to the Messenger of Allah ﷺ and said: I am burnt, whereupon the Messenger of Allah ﷺ said: How is it? He (the person) said: I had intercourse with my wife during the day in Ramadan. Upon this (the Holy Prophet) said: Give charity, give charity. He (the person) said: There is nothing with me. He commanded him to sit down, (In the meanwhile) there were brought to him (to the Holy Prophet) two baskets containing eatables, whereupon the Messenger of Allah ﷺ told him to give them as sadaqa.

2602Sahih Muslim

رمضان کے دنوں میں روزہ دار ہم بستری کی حرمت اور اس کے کفارہ کے وجوب کے بیان میں

و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ قَالَ سَمِعْتُ يَحْيَی بْنَ سَعِيدٍ يَقُولُ أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْقَاسِمِ أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ أَخْبَرَهُ أَنَّ عَبَّادَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ حَدَّثَهُ أَنَّهُ سَمِعَ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا تَقُولُ أَتَی رَجُلٌ إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَکَرَ الْحَدِيثَ وَلَيْسَ فِي أَوَّلِ الْحَدِيثِ تَصَدَّقْ تَصَدَّقْ وَلَا قَوْلُهُ نَهَارًا

محمد بن مثنی، عبدالوہاب ثقفی، یحییٰ بن سعید، عبدالرحمن بن قاسم، محمد بن جعفر بن زبیر، عبداللہ بن زبیر، سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ فرماتی ہیں کہ ایک آدمی رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں آیا اور پھر حدیث ذکر فرمائی اور اس میں صدقہ کا ذکر نہیں ہے اور نہ ہی دن کا ذکر ہے۔

Abbad binAbdullah bin Zubair narrated that he heard Aisha (Allah be pleased with her) saying: A person came to the Messenger of Allah ﷺ , and he then narrated the hadith. But (neither these words are found): "Give charity, give charity" (nor) his words: "during the day time".

2603Sahih Muslim

رمضان کے دنوں میں روزہ دار ہم بستری کی حرمت اور اس کے کفارہ کے وجوب کے بیان میں

حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الْقَاسِمِ حَدَّثَهُ أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ حَدَّثَهُ أَنَّ عَبَّادَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ حَدَّثَهُ أَنَّهُ سَمِعَ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَقُولُ أَتَی رَجُلٌ إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَسْجِدِ فِي رَمَضَانَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ احْتَرَقْتُ احْتَرَقْتُ فَسَأَلَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا شَأْنُهُ فَقَالَ أَصَبْتُ أَهْلِي قَالَ تَصَدَّقْ فَقَالَ وَاللَّهِ يَا نَبِيَّ اللَّهِ مَالِي شَيْئٌ وَمَا أَقْدِرُ عَلَيْهِ قَالَ اجْلِسْ فَجَلَسَ فَبَيْنَا هُوَ عَلَی ذَلِکَ أَقْبَلَ رَجُلٌ يَسُوقُ حِمَارًا عَلَيْهِ طَعَامٌ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيْنَ الْمُحْتَرِقُ آنِفًا فَقَامَ الرَّجُلُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَصَدَّقْ بِهَذَا فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَغَيْرَنَا فَوَاللَّهِ إِنَّا لَجِيَاعٌ مَا لَنَا شَيْئٌ قَالَ فَکُلُوهُ

ابوطاہر، ابن وہب، عمرو بن حارث، عبدالرحمن بن قاسم، محمد بن جعفر بن زبیر، عباد بن عبداللہ بن زبیر، سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ نبی ﷺ کی زوجہ مطہرہ فرماتی ہیں ایک آدمی نبی ﷺ کی خدمت میں رمضان میں مسجد میں آیا اور اس سے عرض کیا اے اللہ کے رسول! میں تو جل گیا میں تو جل گیا رسول اللہ ﷺ نے اس سے پوچھا کہ کیا ہوا؟ تو اس نے عرض کیا کہ میں نے اپنی بیوی سے ہم بستری کرلی ہے آپ نے فرمایا صدقہ کر تو اس نے عرض کیا اللہ کی قسم! اے اللہ کے نبی ﷺ میرے پاس تو کچھ بھی نہیں اور میں اس پر قدرت بھی نہیں رکھتا آپ ﷺ نے فرمایا بیٹھ جا تو وہ بیٹھ گیا اسی دوران ایک آدمی اپنا گدھا ہانکتے ہوئے لایا جس پر کھانا رکھا ہوا تھا رسول اللہ ﷺ نے فرمایا وہ جلنے والا آدمی کہاں ہے؟ وہ آدمی کھڑا ہوا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اس کو صدقہ کر تو اس آدمی نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ! کیا ہمارے علاوہ بھی (کوئی صدقہ کا مستحق ہے) اللہ کی قسم ہم بھوکے ہیں ہمارے پاس کچھ بھی نہیں ہے آپ ﷺ نے فرمایا تم ہی اسے کھالو۔

Abbad binAbdullah bin Zubair reported that he had heard Aisha, the wife of the Apostle of Allah ﷺ , as saying: A person came to the Messenger of Allah ﷺ in the mosque during (the month of) Ramadan and said: Messenger of Allah, I am burnt I am burnt, whereupon the Messenger of Allah ﷺ asked him as to what the matter was. Upon this he said: I had intercourse with my wife (in a state of fasting) Thereupon he (the Holy Prophet) said: Give charity. Upon this he said: Apostle of Allah ﷺ , I swear by God, there is nothing with me (to give in charity) as I do not possess anything. He (the Holy Prophet) said: Sit down. So he sat down and he was in this very state when there came a person urging a donkey with a load of eatables upon it. The Messenger of Allah ﷺ said: Where is that burnt one who was just here? Thereupon the person stood up. The Messenger of Allah ﷺ said: Give this (eatables brought by the man) in charity. Upon this the person said: Messenger of Allah, can there be anyone else (more deserving than I)? By Allah. we are hungry, we have nothing with us. Upon this he (the Holy Prophet) said: Then eat (these eatables).

2604Sahih Muslim

رمضان المبارک کے مہینے میں مسافر کے لئے جبکہ اس کا سفر دو منزل یا اس سے زیادہ ہو تو روزہ رکھنے اور نہ رکھنے کے جواز کے بیان میں

حَدَّثَنِي يَحْيَی بْنُ يَحْيَی وَمُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ قَالَا أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ ح و حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا لَيْثٌ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّهُ أَخْبَرَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ عَامَ الْفَتْحِ فِي رَمَضَانَ فَصَامَ حَتَّی بَلَغَ الْکَدِيدَ ثُمَّ أَفْطَرَ قَالَ وَکَانَ صَحَابَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَّبِعُونَ الْأَحْدَثَ فَالْأَحْدَثَ مِنْ أَمْرِهِ

یحییٰ بن یحیی، محمد بن رمح، لیث، قتیبہ، بن سعید، لیث، ابن شہاب، عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ، حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ فتح مکہ والے سال رمضان میں نکلے تو آپ نے روزہ رکھا جب آپ کدید کے مقام پر پہنچے تو آپ ﷺ نے روزہ افطار کرلیا راوی نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ کے صحابہ آپ ﷺ کے ہر نئے سے نئے حکم کی پیروی کیا کرتے تھے۔

Ibn Abbas (RA) reported that the Messenger of Allah ﷺ went out during the month of Ramadan in the year of Victory (when Makkah was conquered) and was fasting till he reached Kadid (a canal situated at a distance of forty-two miles from Makkah) and he then broke the fast. And it was the habit of the Companions of the Messenger of Allah ﷺ to follow him in every new thing (or act). So they followed him also (in this matter).

2605Sahih Muslim

رمضان المبارک کے مہینے میں مسافر کے لئے جبکہ اس کا سفر دو منزل یا اس سے زیادہ ہو تو روزہ رکھنے اور نہ رکھنے کے جواز کے بیان میں

حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی وَأَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَعَمْرٌو النَّاقِدُ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ الزُّهْرِيِّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ قَالَ يَحْيَی قَالَ سُفْيَانُ لَا أَدْرِي مِنْ قَوْلِ مَنْ هُوَ يَعْنِي وَکَانَ يُؤْخَذُ بِالْآخِرِ مِنْ قَوْلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

یحییٰ بن یحیی، ابوبکر بن ابی شیبہ، عمر، اسحاق بن ابراہیم، سفیان، حضرت زہری سے اس سند کے ساتھ اسی طرح حدیث نقل کی گئی ہے سفیان نے کہا کہ مجھے نہیں معلوم کہ یہ کس کا قول ہے اور رسول اللہ ﷺ کے آخری قول کو لیا جاتا تھا؟

This hadith is narrated on the authority of Zuhri with the same chain of transmitters. Yahya (one of the narrators) said that Sufyan (the narrator) had stated: I do not know whose statement it is: "It is the last word of the Messenger of Allah ﷺ which is accepted as (final as it abrogates the previous ones)."

2606Sahih Muslim

رمضان المبارک کے مہینے میں مسافر کے لئے جبکہ اس کا سفر دو منزل یا اس سے زیادہ ہو تو روزہ رکھنے اور نہ رکھنے کے جواز کے بیان میں

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ قَالَ الزُّهْرِيُّ وَکَانَ الْفِطْرُ آخِرَ الْأَمْرَيْنِ وَإِنَّمَا يُؤْخَذُ مِنْ أَمْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْآخِرِ فَالْآخِرِ قَالَ الزُّهْرِيُّ فَصَبَّحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَکَّةَ لِثَلَاثَ عَشْرَةَ لَيْلَةً خَلَتْ مِنْ رَمَضَانَ

محمد بن رافع، عبدالرزاق، معمر، حضرت زہری ؓ سے اس سند کے ساتھ اسی طرح روایت نقل کی گئی ہے اور زہری نے کہا کہ روزہ افطار کرنا آخری عمل تھا اور رسول اللہ ﷺ کے آخری عمل ہی کو اپنایا جاتا ہے زہری نے کہا کہ نبی ﷺ رمضان کی تیرہ تاریخ کو مکہ مکرمہ پہنچے۔

It has been narrated on the authority of Zuhri with the same chain of transmitters that breaking of fast (in a journey) is the final of the two commands (whether one may fast or one may break it), and it is the last command of the Messenger of Allah ﷺ which is to be accepted as final. Zuhri said: The Messenger of Allah ﷺ marched on Makkah on the morning of 14th of Ramadan (lit. when thirteen nights had passed).

2607Sahih Muslim

رمضان المبارک کے مہینے میں مسافر کے لئے جبکہ اس کا سفر دو منزل یا اس سے زیادہ ہو تو روزہ رکھنے اور نہ رکھنے کے جواز کے بیان میں

و حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَ حَدِيثِ اللَّيْثِ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ فَکَانُوا يَتَّبِعُونَ الْأَحْدَثَ فَالْأَحْدَثَ مِنْ أَمْرِهِ وَيَرَوْنَهُ النَّاسِخَ الْمُحْکَمَ

حرملہ بن یحیی، ابن وہب، یونس، ابن شہاب، لیث اس سند کے ساتھ ابن شہاب سے لیث کی حدیث کی طرح روایت نقل کی گئی ہے ابن شہاب نے فرمایا کہ وہ لوگ آپ ﷺ کے آخری عمل کی پیروی کرتے تھے اور آپ ﷺ کے آخری عمل کو ناسخ قرار دیتے تھے۔

A hadith like this has been transmitted on the authority of Ibn Shahab who said that they (the Companions of the Holy Prophet) followed the latest of his commands and looked upon it as one abrogating (the previous ones) and the most firm.

2608Sahih Muslim

رمضان المبارک کے مہینے میں مسافر کے لئے جبکہ اس کا سفر دو منزل یا اس سے زیادہ ہو تو روزہ رکھنے اور نہ رکھنے کے جواز کے بیان میں

و حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنْ طَاوُسٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ سَافَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رَمَضَانَ فَصَامَ حَتَّی بَلَغَ عُسْفَانَ ثُمَّ دَعَا بِإِنَائٍ فِيهِ شَرَابٌ فَشَرِبَهُ نَهَارًا لِيَرَاهُ النَّاسُ ثُمَّ أَفْطَرَ حَتَّی دَخَلَ مَکَّةَ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا فَصَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَفْطَرَ فَمَنْ شَائَ صَامَ وَمَنْ شَائَ أَفْطَرَ

اسحاق بن ابراہیم، جریر، منصور، مجاہد، طاو س، حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ رمضان میں ایک سفر میں تھے تو آپ ﷺ نے روزہ رکھا جب آپ عسفان کے مقام پر پہنچے تو آپ ﷺ نے ایک برتن منگوایا جس میں کوئی پینے کی چیز تھی آپ ﷺ نے اسے دن کے وقت میں پیا تاکہ لوگ اسے دیکھ لیں پھر آپ نے روزہ نہیں رکھا یہاں تک کہ آپ ﷺ مکہ میں داخل ہوگئے حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے سفر کے دوران روزہ رکھا بھی اور نہیں بھی رکھا تو جو چاہے سفر میں روزہ رکھ لے اور جو چاہے روزہ نہ رکھے۔

Ibn Abbas (RA) reported that the Messenger of Allah ﷺ journeyed during the month of Ramadan in a state of fasting till he reached Usfan. He then ordered a cup containing drinking water and he drank that openly so that the people might see it, and broke the fast (and did not resume it) till he reached Makkah. Ibn Abbas (RA) said: Allahs Messenger ﷺ fasted and broke the fast, so he who wished fasted and he who wished to break it broke it.

2609Sahih Muslim

رمضان المبارک کے مہینے میں مسافر کے لئے جبکہ اس کا سفر دو منزل یا اس سے زیادہ ہو تو روزہ رکھنے اور نہ رکھنے کے جواز کے بیان میں

و حَدَّثَنَا أَبُو کُرَيْبٍ حَدَّثَنَا وَکِيعٌ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ عَبْدِ الْکَرِيمِ عَنْ طَاوُسٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ لَا تَعِبْ عَلَی مَنْ صَامَ وَلَا عَلَی مَنْ أَفْطَرَ قَدْ صَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي السَّفَرِ وَأَفْطَرَ

ابوکریب، وکیع، سفیان، عبدالکریم، طاو س، حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ ہم برا بھلا نہیں کہتے تھے کہ جو آدمی سفر میں روزہ رکھے اور نہ ہی برا بھلا کہتے ہیں جو آدمی سفر میں روزہ نہ رکھے تحقیق رسول اللہ ﷺ نے سفر میں روزہ رکھا بھی اور روزہ افطار بھی کیا ہے۔

Ibn Abbas (RA) reported: Do not condemn one who observes fast, or one who does not observe (in a journey), for the Messenger of Allah ﷺ observed fast in a journey or he did not observe it (too).

2610Sahih Muslim

رمضان المبارک کے مہینے میں مسافر کے لئے جبکہ اس کا سفر دو منزل یا اس سے زیادہ ہو تو روزہ رکھنے اور نہ رکھنے کے جواز کے بیان میں

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الْمَجِيدِ حَدَّثَنَا جَعْفَرٌ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ عَامَ الْفَتْحِ إِلَی مَکَّةَ فِي رَمَضَانَ فَصَامَ حَتَّی بَلَغَ کُرَاعَ الْغَمِيمِ فَصَامَ النَّاسُ ثُمَّ دَعَا بِقَدَحٍ مِنْ مَائٍ فَرَفَعَهُ حَتَّی نَظَرَ النَّاسُ إِلَيْهِ ثُمَّ شَرِبَ فَقِيلَ لَهُ بَعْدَ ذَلِکَ إِنَّ بَعْضَ النَّاسِ قَدْ صَامَ فَقَالَ أُولَئِکَ الْعُصَاةُ أُولَئِکَ الْعُصَاةُ

محمد بن مثنی، عبدالوہاب، ابن عبدالمجید، جعفر، حضرت جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ فتح مکہ والے سال رمضان میں مکہ کی طرف نکلے تو آپ ﷺ نے روزہ رکھا جب آپ کراع الغمیم پہنچے تو لوگوں نے بھی روزہ رکھا پھر آپ ﷺ نے پانی کا ایک پیالہ منگوایا پھر اسے بلند کیا یہاں تک کہ لوگوں نے اسے دیکھ لیا پھر آپ نے وہ پی لیا اس کے بعد آپ ﷺ سے عرض کیا گیا کہ کچھ لوگوں نے روزہ رکھا ہوا ہے تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ یہ لوگ نافرمان ہیں یہ لوگ نافرمان ہیں

Jabir bin Abdullah (Allah be pleased with both of them) reported that Allahs Messenger ﷺ went out to Makkah in Ramadan in the year of Victory, and he and the people fasted till he came to Kura al-Ghamim and the people also fasted. He then called for a cup of water which he raised till the people saw it, and then he drank. He was told afterwards that some people had continued to fast, and he said: These people are the disobedient ones; these are the disobedient ones.

2611Sahih Muslim

رمضان المبارک کے مہینے میں مسافر کے لئے جبکہ اس کا سفر دو منزل یا اس سے زیادہ ہو تو روزہ رکھنے اور نہ رکھنے کے جواز کے بیان میں

و حَدَّثَنَاه قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي الدَّرَاوَرْدِيَّ عَنْ جَعْفَرٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَزَادَ فَقِيلَ لَهُ إِنَّ النَّاسَ قَدْ شَقَّ عَلَيْهِمْ الصِّيَامُ وَإِنَّمَا يَنْظُرُونَ فِيمَا فَعَلْتَ فَدَعَا بِقَدَحٍ مِنْ مَائٍ بَعْدَ الْعَصْرِ

قتیبہ بن سعید، عبدالعزیز، حضرت جعفر ؓ سے اس سند کے ساتھ یہ روایت نقل کی گئی ہے اور اس میں یہ زائد ہے کہ آپ ﷺ سے عرض کیا گیا کہ لوگوں پر روزہ دشوار ہو رہا ہے اور وہ اس بارے میں انتظار کر رہے ہیں کہ آپ ﷺ کیا کرتے ہیں تو آپ ﷺ نے عصر کے بعد پانی کا ایک پیالہ منگوایا۔

This hadith has been narrated by Jafar with the some chain of transmitters and he added: It was said to him (to the Holy Prophet): There are people to whom fasting has become unbearable and they are waiting how you do. He (the Holy Prophet) then called for a cup of water when it was afternoon. The rest of the hadith is the same.

2612Sahih Muslim

رمضان المبارک کے مہینے میں مسافر کے لئے جبکہ اس کا سفر دو منزل یا اس سے زیادہ ہو تو روزہ رکھنے اور نہ رکھنے کے جواز کے بیان میں

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَابْنُ بَشَّارٍ جَمِيعًا عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ قَالَ أَبُو بَکْرٍ حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْحَسَنِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ فَرَأَی رَجُلًا قَدْ اجْتَمَعَ النَّاسُ عَلَيْهِ وَقَدْ ظُلِّلَ عَلَيْهِ فَقَالَ مَا لَهُ قَالُوا رَجُلٌ صَائِمٌ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْسَ مِنْ الْبِرِّ أَنْ تَصُومُوا فِي السَّفَرِ

ابوبکر بن ابی شیبہ، محمد بن مثنی، ابن بشار، محمد بن جعفر، غندر، شعبہ، محمد بن عبدالرحمن، ابن سعد، محمد بن عمرو بن حسن، حضرت جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ ایک سفر میں تھے آپ ﷺ نے ایک آدمی کو دیکھا کہ لوگ اس کے ارد گرد جمع ہیں اور اس پر سایہ کیا گیا ہے تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ اس آدمی کو کیا ہوا؟ لوگوں نے عرض کیا یہ ایک آدمی ہے جس نے روزہ رکھا ہوا ہے تب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا یہ نیکی نہیں کہ تم سفر میں روزہ رکھو۔

Jabir bin Abdullah (Allah be pleased with both of them) reported that in the course of a journey Allahs Messenger ﷺ saw a man, people crowding around him and providing him a shade. Upon this he (the Holy Prophet) said: What is the matter with him? They said: He is a person observing fast. Whereupon the Messenger of Allah ﷺ said: It is no righteousness that you fast on journey.

2613Sahih Muslim

رمضان المبارک کے مہینے میں مسافر کے لئے جبکہ اس کا سفر دو منزل یا اس سے زیادہ ہو تو روزہ رکھنے اور نہ رکھنے کے جواز کے بیان میں

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْحَسَنِ يُحَدِّثُ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يَقُولُا رَأَی رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا بِمِثْلِهِ

عبیداللہ بن معاذ، شعبہ، محمد بن عبدالرحمن، محمد بن عمرو بن حسن، حضرت جابر بن عبداللہ ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک آدمی کو دیکھا باقی حدیث اسی طرح ہے۔

Amr bin al-Hasan is reported to have said that he heard Jabir bin Abdullah (Allah be pleased with both of them) as saying that the Messenger of Allah ﷺ saw a man. The rest of the hadith is the same as mentioned above.

2614Sahih Muslim

رمضان المبارک کے مہینے میں مسافر کے لئے جبکہ اس کا سفر دو منزل یا اس سے زیادہ ہو تو روزہ رکھنے اور نہ رکھنے کے جواز کے بیان میں

و حَدَّثَنَاه أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ النَّوْفَلِيُّ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ وَزَادَ قَالَ شُعْبَةُ وَکَانَ يَبْلُغُنِي عَنْ يَحْيَی بْنِ أَبِي کَثِيرٍ أَنَّهُ کَانَ يَزِيدُ فِي هَذَا الْحَدِيثِ وَفِي هَذَا الْإِسْنَادِ أَنَّهُ قَالَ عَلَيْکُمْ بِرُخْصَةِ اللَّهِ الَّذِي رَخَّصَ لَکُمْ قَالَ فَلَمَّا سَأَلْتُهُ لَمْ يَحْفَظْهُ

احمد بن عثمان نوفلی، ابوداود، شعبہ، یحییٰ بن ابی کثیر اس طرح ایک اور سند کے ساتھ بھی یہ روایت نقل کی گئی ہے جس میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں جو رخصت عطاء فرمائی ہے اس پر عمل کرنا تمہارے لئے ضروری ہے راوی نے کہا کہ جب میں نے ان سے سوال کیا تو ان کو یاد نہیں تھا۔

This hadith has been narrated on the authority of Shubah with the same chain of transmitters but with this addition that he (the Holy Prophet) said: "Take advantage of the concession of Allah Who Wanted it to you." When he (one of the narrators) asked him (the other one, Yahya bin Abi Kathir) he did not retain it in his mind.