روزوں کا بیان

Sahih Muslim · Chapter 15 · 285 hadiths · Page 5 of 15

2575Sahih Muslim

اس بات کے بیان میں کہ روزہ میں اپنی بیوی کا بوسہ لینا حرام نہیں شرط یہ ہے کہ اپنے جذبات پر کنٹرول ہو۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ عَنْ الْقَاسِمِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَبِّلُنِي وَهُوَ صَائِمٌ وَأَيُّکُمْ يَمْلِکُ إِرْبَهُ کَمَا کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْلِکُ إِرْبَهُ

ابوبکر بن ابی شیبہ، علی بن مسہر، عبیداللہ بن عمر، قاسم، سیدہ عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ روزہ کی حالت میں میرا بوسہ لے لیا کرتے تھے اور تم میں سے کون ہے جو اپنے جذبات کو قابو میں کرسکے جس طرح کہ رسول اللہ ﷺ کو اپنے جذبات پر کنٹرول تھا۔

Aisha reported: Allahs Messenger ﷺ used to kiss me while observing fast; and who among you can control his desire as the Messenger of Allah ﷺ could control his desire.

2576Sahih Muslim

اس بات کے بیان میں کہ روزہ میں اپنی بیوی کا بوسہ لینا حرام نہیں شرط یہ ہے کہ اپنے جذبات پر کنٹرول ہو۔

حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی وَأَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو کُرَيْبٍ قَالَ يَحْيَی أَخْبَرَنَا و قَالَ الْآخَرَانِ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ الْأَسْوَدِ وَعَلْقَمَةَ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ح و حَدَّثَنَا شُجَاعُ بْنُ مَخْلَدٍ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ أَبِي زَائِدَةَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ مُسْلِمٍ عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَبِّلُ وَهُوَ صَائِمٌ وَيُبَاشِرُ وَهُوَ صَائِمٌ وَلَکِنَّهُ أَمْلَکُکُمْ لِإِرْبِهِ

یحییٰ بن یحیی، ابوبکر بن ابی شیبہ، ابوکریب، یحیی، ابومعاویہ، اعمش، ابراہیم، اسود، علقمہ، سیدہ عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ روزہ کی حالت میں اپنی ازواج مطہرات کو بوسہ لے لیا کرتے تھے اور روزہ کی حالت میں ان سے بغلگیر ہوجایا کرتے تھے لیکن آپ ﷺ تو تم میں سے سب سے زیادہ اپنے جذبات کو کنٹرول میں رکھنے والے تھے۔

Aisha (Allah be pleased with her) reported: Allahs Messenger ﷺ used to kiss (his wives) while fasting and embraced (them) while fasting; but he had the greatest mastery over his desire among you.

2577Sahih Muslim

اس بات کے بیان میں کہ روزہ میں اپنی بیوی کا بوسہ لینا حرام نہیں شرط یہ ہے کہ اپنے جذبات پر کنٹرول ہو۔

حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ قَالَا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَلْقَمَةَ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَانَ يُقَبِّلُ وَهُوَ صَائِمٌ وَکَانَ أَمْلَکَکُمْ لِإِرْبِهِ

علی بن حجر، زہیر بن حرب، سفیان، منصور، ابرہیم، علقمہ، سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ روزہ کی حالت میں اپنی کسی زوجہ کا بوسہ لے لیا کرتے تھے اور آپ کو تو تم میں سے سب سے زیادہ اپنے جذبات پر کنٹرول تھا۔

Aisha (Allah be pleased with her) reported: The Messenger of Allah ﷺ used to kiss (his wives) while fasting; and he had the greatest control over his desire (as compared with you).

2578Sahih Muslim

اس بات کے بیان میں کہ روزہ میں اپنی بیوی کا بوسہ لینا حرام نہیں شرط یہ ہے کہ اپنے جذبات پر کنٹرول ہو۔

و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَابْنُ بَشَّارٍ قَالَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَلْقَمَةَ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَانَ يُبَاشِرُ وَهُوَ صَائِمٌ

محمد بن مثنی، ابن بشار، محمد بن جعفر، شعبہ، منصور، ابرہیم، علقمہ، سیدہ عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ اپنی کسی زوجہ مطہرہ سے روزہ کی حالت میں بغلگیر ہوجایا کرتے تھے۔

Aisha (Allah be pleased with her) said that the Messenger of Allah ﷺ used to embrace (his wives) while fasting.

2579Sahih Muslim

اس بات کے بیان میں کہ روزہ میں اپنی بیوی کا بوسہ لینا حرام نہیں شرط یہ ہے کہ اپنے جذبات پر کنٹرول ہو۔

و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عَوْنٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ الْأَسْوَدِ قَالَ انْطَلَقْتُ أَنَا وَمَسْرُوقٌ إِلَی عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فَقُلْنَا لَهَا أَکَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُبَاشِرُ وَهُوَ صَائِمٌ قَالَتْ نَعَمْ وَلَکِنَّهُ کَانَ أَمْلَکَکُمْ لِإِرْبِهِ أَوْ مِنْ أَمْلَکِکُمْ لِإِرْبِهِ شَکَّ أَبُو عَاصِمٍ

محمد بن مثنی، ابوعاصم، ابن عون، ابراہیم، اسود فرماتے ہیں کہ میں اور مسروق حضرت عائشہ ؓ کی خدمت میں آئے تو ہم نے آپ سے عرض کیا کہ کیا رسول اللہ ﷺ روزہ کی حالت میں اپنی کسی زوجہ مطہرہ سے بغلگیر ہوجایا کرتے تھے؟ حضرت عائشہ صدیقہ ؓ نے فرمایا ہاں لیکن آپ ﷺ تو تم میں سب سے زیادہ اپنے جذبات پر کنٹرول رکھنے والے تھے یا فرمایا کہ تم میں سے کون ہے جو آپ ﷺ کی طرح اپنے جذبات پر قابو رکھ سکے ابوعاصم راوی کو شک ہے۔

Aswad reported: I and Masruq went to Aisha (Allah be pleased with her) and asked her if the Messenger of Allah ﷺ embraced (his wives) while fasting. She said: Yes; but he had the greatest control over his desire among you: or he was one of those who had control over his desire. It is further narrated on the authority of Aswad and Masruq that they went to the Mother of the Believers and they asked her (and the rest of the hadith is the same)

2580Sahih Muslim

اس بات کے بیان میں کہ روزہ میں اپنی بیوی کا بوسہ لینا حرام نہیں شرط یہ ہے کہ اپنے جذبات پر کنٹرول ہو۔

و حَدَّثَنِيهِ يَعْقُوبُ الدَّوْرَقِيُّ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ عَنْ ابْنِ عَوْنٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ الْأَسْوَدِ وَمَسْرُوقٍ أَنَّهُمَا دَخَلَا عَلَی أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ لِيَسْأَلَانِهَا فَذَکَرَ نَحْوَهُ

یعقوب، اسماعیل، ابن عون، ابراہیم، اسود، مسروق اس سند کے ساتھ حضرت ابراہیم ؓ سے حضرت اسود اور حضرت مسروق کے بارے میں روایت ہے کہ وہ دونوں ام المومینن کے پاس آئے اور آپ سے پوچھا پھر آکر اسی طرح حدیث ذکر فرمائی۔

Aswad reported: I and Masruq went to Aisha (Allah be pleased with her) and asked her if the Messenger of Allah ﷺ embraced (his wives) while fasting. She said: Yes; but he had the greatest control over his desire among you: or he was one of those who had control over his desire. It is further narrated on the authority of Aswad and Masruq that they went to the Mother of the Believers and they asked her (and the rest of the hadith is the same)

2581Sahih Muslim

اس بات کے بیان میں کہ روزہ میں اپنی بیوی کا بوسہ لینا حرام نہیں شرط یہ ہے کہ اپنے جذبات پر کنٹرول ہو۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُوسَی حَدَّثَنَا شَيْبَانُ عَنْ يَحْيَی بْنِ أَبِي کَثِيرٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ أَنَّ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ أَخْبَرَهُ أَنَّ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ أَخْبَرَهُ أَنَّ عَائِشَةَ أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَخْبَرَتْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَانَ يُقَبِّلُهَا وَهُوَ صَائِمٌ

ابوبکر بن ابی شیبہ، حسن بن موسی، شیبان، یحییٰ بن ابی کثیر، ابی سلمہ، عمر بن عبدالعزیز، عروہ بن زبیر، ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ خبر دیتی ہیں کہ رسول اللہ روزہ کی حالت میں میرا بوسہ لے لیا کرتے تھے۔

Urwa bin Zubair narrated that Aisha the Mother of the Believers (Allah be pleased with her) informed him that the Messenger of Allah ﷺ kissed her while fasting.

2582Sahih Muslim

اس بات کے بیان میں کہ روزہ میں اپنی بیوی کا بوسہ لینا حرام نہیں شرط یہ ہے کہ اپنے جذبات پر کنٹرول ہو۔

و حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ بِشْرٍ الْحَرِيرِيُّ حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ يَعْنِي ابْنَ سَلَّامٍ عَنْ يَحْيَی بْنِ أَبِي کَثِيرٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ

یحییٰ بن بشرحریری، معاویہ، حضرت یحییٰ بن کثیر سے اس سند کے ساتھ اسی طرح روایت نقل کی گئی ہے

A hadith like this has been narrated by Yahya bin Abu Kathir with the same chain of transmitters.

2583Sahih Muslim

اس بات کے بیان میں کہ روزہ میں اپنی بیوی کا بوسہ لینا حرام نہیں شرط یہ ہے کہ اپنے جذبات پر کنٹرول ہو۔

حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ وَأَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ قَالَ يَحْيَی أَخْبَرَنَا و قَالَ الْآخَرَانِ حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَبِّلُ فِي شَهْرِ الصَّوْمِ

یحییٰ بن یحیی، قتیبہ بن سعید، ابوبکر بن ابی شیبہ، یحیی، ابواحوص، زیاد بن علاقہ، عمرو بن میمون، سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ روزوں کے مہینہ میں اپنی کسی زوجہ مطہرہ کا بوسہ لے لیا کرتے تھے

Aisha (Allah be pleased with her) reported that the Messenger of Allah ﷺ used to kiss her during the month of fasting.

2584Sahih Muslim

اس بات کے بیان میں کہ روزہ میں اپنی بیوی کا بوسہ لینا حرام نہیں شرط یہ ہے کہ اپنے جذبات پر کنٹرول ہو۔

و حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ حَدَّثَنَا بَهْزُ بْنُ أَسَدٍ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ النَّهْشَلِيُّ حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ عِلَاقَةَ عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَبِّلُ فِي رَمَضَانَ وَهُوَ صَائِمٌ

محمد بن حاتم، بہزبن اسد، ابوبکر نہشلی، زیاد بن علاقہ، عمرو بن میمون، سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ روزہ کی حالت میں اپنی زوجہ مطہرہ ؓ کا بوسہ لے لیا کرتے تھے۔

Aisha (Allah be pleased with her) reported that Allahs Messenger ﷺ kissed (his wives) during Ramadan while observing fast.

2585Sahih Muslim

اس بات کے بیان میں کہ روزہ میں اپنی بیوی کا بوسہ لینا حرام نہیں شرط یہ ہے کہ اپنے جذبات پر کنٹرول ہو۔

و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَانَ يُقَبِّلُ وَهُوَ صَائِمٌ

محمد بن بشار، عبدالرحمن، سفیان، ابی زناد، علی بن حسین، سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ اپنی زوجہ مطہرہ کا روزہ کی حالت میں بوسہ لے لیا کرتے تھے

Aisha (Allah be pleased with her) reported that Allahs Apostle ﷺ (peace be upon him) kissed (his wives) while fasting.

2586Sahih Muslim

اس بات کے بیان میں کہ روزہ میں اپنی بیوی کا بوسہ لینا حرام نہیں شرط یہ ہے کہ اپنے جذبات پر کنٹرول ہو۔

و حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی وَأَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو کُرَيْبٍ قَالَ يَحْيَی أَخْبَرَنَا و قَالَ الْآخَرَانِ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ مُسْلِمٍ عَنْ شُتَيْرِ بْنِ شَکَلٍ عَنْ حَفْصَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَبِّلُ وَهُوَ صَائِمٌ

یحییٰ بن یحیی، ابوبکر بن ابی شیبہ، ابوکریب، یحیی، ابومعاویہ، اعمش، مسلم، شتیربن شکل، حضرت حفصہ ؓ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ روزہ کی حالت میں اپنی زوجہ مطہرہ کا بوسہ لے لیا کرتے تھے

Hafsa (Allah be pleased with her) reported that the Messenger of Allah ﷺ kissed (his wives) while fasting.

2587Sahih Muslim

اس بات کے بیان میں کہ روزہ میں اپنی بیوی کا بوسہ لینا حرام نہیں شرط یہ ہے کہ اپنے جذبات پر کنٹرول ہو۔

و حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ح و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ عَنْ جَرِيرٍ کِلَاهُمَا عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ مُسْلِمٍ عَنْ شُتَيْرِ بْنِ شَکَلٍ عَنْ حَفْصَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ

ابوربیع زہرانی، ابوعوانہ، ابوبکر بن ابی شیبہ، اسحاق بن ابراہیم، جریر، منصور، مسلم، شتیر بن شکل، اس سند کے ساتھ حضرت حفصہ ؓ نے نبی سے اسی طرح حدیث نقل فرمائی ہے

A hadith like this has been narrated by Hafsa (Allah be pleased with her) through another chain of transmitters.

2588Sahih Muslim

اس بات کے بیان میں کہ روزہ میں اپنی بیوی کا بوسہ لینا حرام نہیں شرط یہ ہے کہ اپنے جذبات پر کنٹرول ہو۔

حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي عَمْرٌو وَهُوَ ابْنُ الْحَارِثِ عَنْ عَبْدِ رَبِّهِ بْنِ سَعِيدٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ کَعْبٍ الْحِمْيَرِيِّ عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ أَنَّهُ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيُقَبِّلُ الصَّائِمُ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَلْ هَذِهِ لِأُمِّ سَلَمَةَ فَأَخْبَرَتْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْنَعُ ذَلِکَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَدْ غَفَرَ اللَّهُ لَکَ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِکَ وَمَا تَأَخَّرَ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَا وَاللَّهِ إِنِّي لَأَتْقَاکُمْ لِلَّهِ وَأَخْشَاکُمْ لَهُ

ہارون بن سعید، ابن وہب، عمرو، ابن حارث، عبدربہ بن سعید، عبداللہ بن کعب حمیری، حضرت عمر بن ابی سلمہ سے روایت ہے انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا کہ کیا روزہ دار بوسہ لے سکتا ہے؟ تو رسول اللہ ﷺ نے حضرت عمر بن سلمہ سے فرمایا کہ یہ حضرت ام سلمہ ؓ سے پوچھو تو حضرت ام سلمہ ؓ نے انہیں خبر دی کہ رسول اللہ ﷺ اسی طرح کرتے ہیں حضرت عمر بن سلمہ نے عرض کیا اے اللہ کے رسول! اللہ تعالیٰ نے تو آپ کے اگلے پچھلے سارے گناہ معاف فرما دئیے ہیں رسول اللہ ﷺ نے حضرت عمر بن سلمہ سے فرمایا سنو اللہ کی قسم! میں تم میں سب سے زیادہ تقوی والا اور اللہ تعالیٰ سے ڈرنے والا ہوں۔

Umar b Abu Salama reported that he asked the Messenger of Allah ﷺ : Should one observing fast kiss (his wife)? The Messenger of Allah ﷺ said to him: Ask her (Umm Salamah). She informed him that the Messenger of Allah ﷺ did that, where upon he said: Messenger of Allah, Allah pardoned thee all thy sins, the previous and the later ones. Upon this the Messenger of Allah ﷺ ) said: By Allah, I am the most God conscious among you and I fear Him most among you.

2589Sahih Muslim

جنبی ہونے کی حالت میں جس پر فجر طلوع ہوجائے تو اسکا روزہ درست ہے

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ ح و حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ وَاللَّفْظُ لَهُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ بْنُ هَمَّامٍ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي عَبْدُ الْمَلِکِ بْنُ أَبِي بَکْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِي بَکْرٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُصُّ يَقُولُ فِي قَصَصِهِ مَنْ أَدْرَکَهُ الْفَجْرُ جُنُبًا فَلَا يَصُمْ فَذَکَرْتُ ذَلِکَ لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ لِأَبِيهِ فَأَنْکَرَ ذَلِکَ فَانْطَلَقَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ وَانْطَلَقْتُ مَعَهُ حَتَّی دَخَلْنَا عَلَی عَائِشَةَ وَأُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا فَسَأَلَهُمَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ عَنْ ذَلِکَ قَالَ فَکِلْتَاهُمَا قَالَتْ کَانَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصْبِحُ جُنُبًا مِنْ غَيْرِ حُلُمٍ ثُمَّ يَصُومُ قَالَ فَانْطَلَقْنَا حَتَّی دَخَلْنَا عَلَی مَرْوَانَ فَذَکَرَ ذَلِکَ لَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ فَقَالَ مَرْوَانُ عَزَمْتُ عَلَيْکَ إِلَّا مَا ذَهَبْتَ إِلَی أَبِي هُرَيْرَةَ فَرَدَدْتَ عَلَيْهِ مَا يَقُولُ قَالَ فَجِئْنَا أَبَا هُرَيْرَةَ وَأَبُو بَکْرٍ حَاضِرُ ذَلِکَ کُلِّهِ قَالَ فَذَکَرَ لَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ أَهُمَا قَالَتَاهُ لَکَ قَالَ نَعَمْ قَالَ هُمَا أَعْلَمُ ثُمَّ رَدَّ أَبُو هُرَيْرَةَ مَا کَانَ يَقُولُ فِي ذَلِکَ إِلَی الْفَضْلِ بْنِ الْعَبَّاسِ فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ سَمِعْتُ ذَلِکَ مِنْ الْفَضْلِ وَلَمْ أَسْمَعْهُ مِنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَرَجَعَ أَبُو هُرَيْرَةَ عَمَّا کَانَ يَقُولُ فِي ذَلِکَ قُلْتُ لِعَبْدِ الْمَلِکِ أَقَالَتَا فِي رَمَضَانَ قَالَ کَذَلِکَ کَانَ يُصْبِحُ جُنُبًا مِنْ غَيْرِ حُلُمٍ ثُمَّ يَصُومُ

محمد بن حاتم، یحییٰ بن سعید، ابن جریج، محمد بن رافع، عبدالرزاق بن ہمام، ابن جریج، عبدالملک بن ابی بکربن عبدالرحمن، حضرت ابوبکر سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ میں نے حضرت ابوہریرہ ؓ سے سنا کہ وہ اپنی روایات بیان کرتے ہیں جس آدمی نے جنبی حالت میں صبح کی تو وہ روزہ نہ رکھے، راوی حضرت ابوبکر ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے اس کا ذکر اپنے باپ عبدالرحمن بن حارث سے کیا تو انہوں نے اس کا انکار کردیا تو حضرت عبدالرحمن چلے اور میں بھی ان کے ساتھ چلا یہاں تک کہ حضرت عائشہ ؓ اور حضرت ام سلمہ ؓ کی خدمت میں حاضر ہوئے حضرت عبدالرحمن نے ان دونوں سے اس بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ نبی ﷺ احتلام کے بغیر جنبی ہونے کی حالت میں صبح کرتے پھر آپ ﷺ روزہ رکھتے راوی کہتے ہیں کہ پھر ہم چلے یہاں تک کہ مروان کے پاس آگئے حضرت عبدالرحمن نے مروان سے اس بارے میں ذکر کیا تو مروان نے کہا کہ میں تم پر لازم کرتا ہوں کہ تم ضرور حضرت ابوہریرہ ؓ کی طرف جاؤ اور اس کی تردید کرو جو وہ کہتے ہیں تو ہم حضرت ابوہریرہ ؓ کے پاس آئے اور حضرت ابوبکر ؓ بھی وہاں موجود تھے حضرت عبدالرحمن نے حضرت ابوہریرہ ؓ سے یہ سارا کچھ ذکر کیا حضرت ابوہریرہ ؓ نے فرمایا کیا ان دونوں نے تجھ سے یہ فرمایا ہے؟ حضرت عبدالرحمن ؓ نے کہا کہ ہاں حضرت ابوہریرہ ؓ نے فرمایا کہ وہ دونوں اس مسئلہ کو زیادہ جانتی ہیں پھر حضرت ابوہریرہ ؓ نے اپنے اس قول کی جو کہ آپ نے فضل بن عباس ؓ سے سنا تھا اس کی تردید کردی اور حضرت ابوہریرہ ؓ نے فرمایا کہ میں نے یہ فضل بن عباس ؓ سے سنا تھا اور نبی ﷺ سے نہیں سنا راوی کہتے ہیں کہ حضرت ابوہریرہ ؓ نے اپنے قول سے رجوع کرلیا جو وہ کہا کرتے تھے راوی کہتے ہیں کہ میں نے عبدالملک سے کہا کہ کیا ان دونوں نے یہ حدیث رمضان کے بارے میں بیان کی تھی؟ انہوں نے کہا کہ آپ ﷺ بغیر احتلام کے جنبی حالت میں صبح اٹھتے پھر آپ روزہ رکھتے۔

Abu Bakr (RA) (he is Abu Bakr (RA) bin Abdul Rahman bin Harith) reported: I heard Abu Hurairah (RA) narrating that he who is overtaken by dawn in a state of seminal emission should not observe fast. I made a mention of it to Abdul Rahman bin Harith (i. e. to his father) but he denied it. Abdul Rahman went and I also went along with him till we came toAisha and Umm Salamah (Allah be pleased with both of them) and Abdul Rahman asked them about it. Both of them said: (At times it so happened) that the Apostle of Allah ﷺ woke up in the morning in a state of junub (but without seminal emission in a dream) and observed fast. He (the narrator) said: We then proceeded till we went to Marwan and Abdul Rahman made a mention of it to him. Upon this Marwan said: I stress upon you (with an oath) that you better go to Abu Hurairah (RA) and refer to him what is said about it. So we came to Abu Hurairah (RA) and Abu Bakr (RA) had been with us throughout and Abdul Rahman made a mention of it to him, whereupon Abu Hurairah (RA) said: Did they (the two wives of the Holy Prophet) tell you this? He replied: Yes. Upon this ( Abu Hurairah (RA) ) said: They have better knowledge. Abu Hurairah (RA) then attributed that what was said about it to Fadl bin Abbas and said: I heard it from Fadl and not from the Apostle of Allah ﷺ . Abu Hurairah (RA) then retracted from what he used to say about it. Ibn Juraij (one of the narrators) reported: I asked Abdul Malik, if they (the two wives) said (made the statement) in regard to Ramadan, whereupon he said: It was so, and he (the Holy Prophet) (woke up in the) morning in a state of junub which was not due to the wet dream and then observed fast.

2590Sahih Muslim

جنبی ہونے کی حالت میں جس پر فجر طلوع ہوجائے تو اسکا روزہ درست ہے

و حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ وَأَبِي بَکْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ قَدْ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُدْرِکُهُ الْفَجْرُ فِي رَمَضَانَ وَهُوَ جُنُبٌ مِنْ غَيْرِ حُلُمٍ فَيَغْتَسِلُ وَيَصُومُ

حرملہ بن یحیی، ابن وہب، یونس، ابن شہاب، عروہ بن زبیر، ابی بکربن عبدالرحمن، سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ نبی کریم ﷺ کی زوجہ مطہرہ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ رمضان میں جنبی حالت میں بغیر احتلام کے صبح اٹھتے پھر آپ ﷺ غسل فرماتے اور روزہ رکھتے۔

Aisha, the wife of the Apostle of Allah ﷺ , said: The dawn broke upon the Messenger of Allah ﷺ during the Ramadan in a state of junub not because of sexual dream (but on account of intercourse) and he washed himself and observed fast.

2591Sahih Muslim

جنبی ہونے کی حالت میں جس پر فجر طلوع ہوجائے تو اسکا روزہ درست ہے

حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي عَمْرٌو وَهُوَ ابْنُ الْحَارِثِ عَنْ عَبْدِ رَبِّهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ کَعْبٍ الْحِمْيَرِيِّ أَنَّ أَبَا بَکْرٍ حَدَّثَهُ أَنَّ مَرْوَانَ أَرْسَلَهُ إِلَی أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا يَسْأَلُ عَنْ الرَّجُلِ يُصْبِحُ جُنُبًا أَيَصُومُ فَقَالَتْ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصْبِحُ جُنُبًا مِنْ جِمَاعٍ لَا مِنْ حُلُمٍ ثُمَّ لَا يُفْطِرُ وَلَا يَقْضِي

ہارون بن سعید، ابن وہب، عمرو، ابن حارث، عبدربہ، حضرت عبداللہ بن کعب حمیری ؓ سے روایت ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق ؓ بیان کرتے ہیں کہ مروان نے ان کو حضرت ام سلمہ ؓ کی طرف ایک آدمی کے بارے میں پوچھنے کے لئے بھیجا کہ وہ جنبی حالت میں صبح اٹھتا ہے کیا وہ روزہ رکھ سکتا ہے؟ تو حضرت ام سلمہ ؓ نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ جماع کی وجہ سے جنبی حالت میں بغیر احتلام کے صبح اٹھتے پھر آپ افطار نہ کرتے اور نہ ہی اس کی قضا کرتے۔

Abu Bakr (RA) reported that Marwan sent him to Umm Salamah to ask whether a person should observe fast who is in a state of junub and the dawn breaks upon him, whereupon she said that the Messenger of Allah ﷺ (was at times) junbi on account of intercourse and not due to sexual dream, and the dawn broke upon him, but he neither broke the fast nor recompensed.

2592Sahih Muslim

جنبی ہونے کی حالت میں جس پر فجر طلوع ہوجائے تو اسکا روزہ درست ہے

حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَالِکٍ عَنْ عَبْدِ رَبِّهِ بْنِ سَعِيدٍ عَنْ أَبِي بَکْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ عَنْ عَائِشَةَ وَأُمِّ سَلَمَةَ زَوْجَيْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُمَا قَالَتَا إِنْ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيُصْبِحُ جُنُبًا مِنْ جِمَاعٍ غَيْرِ احْتِلَامٍ فِي رَمَضَانَ ثُمَّ يَصُومُ

یحییٰ بن یحیی، مالک، عبدربہ بن سعید، ابی بکر بن عبدالرحمن بن حارث بن ہشام، سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ اور حضرت ام سلمہ ؓ نبی کریم ﷺ کی ازواج مطہرات فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ رمضان میں جماع کی وجہ سے نہ کہ احتلام کی وجہ سے جنبی حالت میں صبح کرتے پھر آپ ﷺ روزہ رکھتے تھے۔

Abu Bakr (RA) bin Abdul Rahman bin al-Harith bin Hisham reported on the authority of Aisha and Umm Salamah, the wives of the Apostle of Allah ﷺ : The Messenger of Allah ﷺ at times got up in the morning in a state of junub on account of having a sexual intercourse (with his wives during night) but not due to sexual dreams in the month of Ramadan, and would observe fast.

2593Sahih Muslim

جنبی ہونے کی حالت میں جس پر فجر طلوع ہوجائے تو اسکا روزہ درست ہے

حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ أَيُّوبَ وَقُتَيْبَةُ وَابْنُ حُجْرٍ قَالَ ابْنُ أَيُّوبَ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَهُوَ ابْنُ مَعْمَرِ بْنِ حَزْمٍ الْأَنْصَارِيُّ أَبُو طُوَالَةَ أَنَّ أَبَا يُونُسَ مَوْلَی عَائِشَةَ أَخْبَرَهُ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ رَجُلًا جَائَ إِلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَفْتِيهِ وَهِيَ تَسْمَعُ مِنْ وَرَائِ الْبَابِ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ تُدْرِکُنِي الصَّلَاةُ وَأَنَا جُنُبٌ أَفَأَصُومُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا تُدْرِکُنِي الصَّلَاةُ وَأَنَا جُنُبٌ فَأَصُومُ فَقَالَ لَسْتَ مِثْلَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ قَدْ غَفَرَ اللَّهُ لَکَ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِکَ وَمَا تَأَخَّرَ فَقَالَ وَاللَّهِ إِنِّي لَأَرْجُو أَنْ أَکُونَ أَخْشَاکُمْ لِلَّهِ وَأَعْلَمَکُمْ بِمَا أَتَّقِي

یحییٰ بن یحیی، ایوب، قتیبہ، ابن حجر، ابن ایوب، اسماعیل بن جعفر، عبداللہ بن عبدالرحمن، ابن معمر بن حزم انصاری، ابوطوالہ، یونس، سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نبی ﷺ کی خدمت میں کوئی مسئلہ پوچھنے کے لئے آیا اور وہ دروازہ کے پیچھے سے سن رہی تھیں اس آدمی نے عرض کیا اے اللہ کے رسول! جنبی حالت میں ہوتا ہوں کہ نماز کا وقت ہوجاتا ہے تو کیا میں اس وقت روزہ رکھ سکتا ہوں؟ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میں بھی تو نماز کے وقت جنبی حالت میں اٹھتا ہوں تو میں بھی تو روزہ رکھتا ہوں تو اس آدمی نے عرض کیا اے اللہ کے رسول! آپ ہماری طرح تو نہیں ہیں اللہ نے تو آپ کے اگلے پچھلے سارے گناہ معاف فرما دیئے ہیں تو آپ ﷺ نے فرمایا اللہ کی قسم مجھے امید ہے کہ میں تم میں سب سے زیادہ اللہ سے ڈرنے والا ہوں اور میں تم میں سب سے زیادہ جانتا ہوں ان چیزوں کو جن سے بچنا چاہے۔

Aisha reported that a person came to the Apottle of Allah ﷺ asking for a fatwa (religious verdict). She (Aisha) had been overhearing it from behind the curtain. Aisha added that he (the person) had said: Messenger of Allah, (the time) of prayer overtakes me as I am in a state of junub; should I observe fast (in this state)? Upon this the Messenger of Allah ﷺ said: At times, the time of prayer overtakes me while I am in a state of junub, and I observe fast (in that very state), whereupon he said: Messenger of Allah, you are not like us Allah has pardoned all your sins, the previous ones and the later ones. Upon this he (the Holy Prophet) said: By Allah, I hope I am the most God-fearirg of you, and possess the best knowledge among you of those (things) against which I should guard.

2594Sahih Muslim

جنبی ہونے کی حالت میں جس پر فجر طلوع ہوجائے تو اسکا روزہ درست ہے

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ النَّوْفَلِيُّ حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ أَنَّهُ سَأَلَ أُمَّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا عَنْ الرَّجُلِ يُصْبِحُ جُنُبًا أَيَصُومُ قَالَتْ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصْبِحُ جُنُبًا مِنْ غَيْرِ احْتِلَامٍ ثُمَّ يَصُومُ

احمد بن عثمان نوفلی، ابوعاصم، ابن جریج، محمد بن یوسف، حضرت سلیمان بن یسار ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے حضرت ام سلمہ ؓ سے ایک آدمی کے بارے میں پوچھا کہ وہ جنبی حالت میں صبح کرتا ہے تو کیا وہ آدمی روزہ رکھ سکتا ہے؟ حضرت ام سلمہ ؓ نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ جبنی حالت میں بغیر احتلام کے صبح کرتے پھر آپ روزہ رکھتے۔

Sulaiman bin Yasar reported that he asked Umm Salamah whether a person (who gets up) in the morning in a state of junub should observe fast. She said: The Messenger of Allah ﷺ (at times) got up in the morning in a state of junub, not because of sexual dreams (but on account of intercourse at night), and then observed fast.