روزوں کا بیان

Sahih Muslim · Chapter 15 · 285 hadiths · Page 4 of 15

2555Sahih Muslim

سحری کھانے کی فضیلت اور اس کی تاکید اور آخری وقت تک کھانے کے استح کے بیان میں

و حَدَّثَنَاه قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ح و حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ عَنْ سُفْيَانَ کِلَاهُمَا عَنْ أَبِي حَازِمٍ عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ

قتیبہ، یعقوب، زہیر بن حرب، عبدالرحمن ابن مہدی، سفیان، حضرت سہل بن سعد ؓ نے نبی کریم ﷺ سے اسی حدیث مبارکہ کی طرح روایت نقل کی ہے

A hadith like this has been transmitted by Sahl bin Sad.

2556Sahih Muslim

سحری کھانے کی فضیلت اور اس کی تاکید اور آخری وقت تک کھانے کے استح کے بیان میں

حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی وَأَبُو کُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَائِ قَالَا أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ عَنْ أَبِي عَطِيَّةَ قَالَ دَخَلْتُ أَنَا وَمَسْرُوقٌ عَلَی عَائِشَةَ فَقُلْنَا يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ رَجُلَانِ مِنْ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحَدُهُمَا يُعَجِّلُ الْإِفْطَارَ وَيُعَجِّلُ الصَّلَاةَ وَالْآخَرُ يُؤَخِّرُ الْإِفْطَارَ وَيُؤَخِّرُ الصَّلَاةَ قَالَتْ أَيُّهُمَا الَّذِي يُعَجِّلُ الْإِفْطَارَ وَيُعَجِّلُ الصَّلَاةَ قَالَ قُلْنَا عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ قَالَتْ کَذَلِکَ کَانَ يَصْنَعُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَادَ أَبُو کُرَيْبٍ وَالْآخَرُ أَبُو مُوسَی

یحییٰ بن یحیی، ابوکریب، محمد بن علاء، ابومعاویہ، اعمش، عمارہ بن عمیر، حضرت ابوعطیہ ؓ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ میں اور مسروق دونوں نے حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا ام المومینن! محمد ﷺ کے ساتھیوں میں سے دو آدمی ہیں ان میں سے ایک افطاری میں جلدی کرتا ہے اور نماز میں بھی جلدی کرتا ہے دوسرا ساتھی افطاری میں تاخیر کرتا ہے اور نماز میں بھی تاخیر کرتا ہے؟ حضرت عائشہ صدیقہ ؓ نے فرمایا کہ ان میں سے وہ کون ہیں جو افطاری میں جلدی کرتے ہیں اور نماز بھی جلدی پڑھتے ہیں حضرت ابوعطیہ کہتے ہیں کہ ہم نے عرض کیا کہ وہ حضرت عبداللہ ؓ ہیں یعنی ابن مسعود، حضرت عائشہ ؓ نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ بھی اسی طرح کیا کرتے تھے اب کریب کی روایت میں اتنا زائد ہے کہ دوسرے ساتھی حضرت ابوموسی ؓ ہیں۔

Abu Atiyya reported: I and Masruq went to Aisha and said to her: Mother of the Believers, there are two persons among the Companions of Muhammad ﷺ one among whom hastens in breaking the fast and in observing prayer, and the other delays breaking the fast and delays observing prayer. She said: Who among the two hastens in breaking fast and observing prayers? We said, It is Abdullah. i. e. son of Masud. whereupon she said: This is how the Messenger of Allah ﷺ did. Abu Kuraib added: The second one was Abu Musa.

2557Sahih Muslim

سحری کھانے کی فضیلت اور اس کی تاکید اور آخری وقت تک کھانے کے استح کے بیان میں

و حَدَّثَنَا أَبُو کُرَيْبٍ أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ عُمَارَةَ عَنْ أَبِي عَطِيَّةَ قَالَ دَخَلْتُ أَنَا وَمَسْرُوقٌ عَلَی عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فَقَالَ لَهَا مَسْرُوقٌ رَجُلَانِ مِنْ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کِلَاهُمَا لَا يَأْلُو عَنْ الْخَيْرِ أَحَدُهُمَا يُعَجِّلُ الْمَغْرِبَ وَالْإِفْطَارَ وَالْآخَرُ يُؤَخِّرُ الْمَغْرِبَ وَالْإِفْطَارَ فَقَالَتْ مَنْ يُعَجِّلُ الْمَغْرِبَ وَالْإِفْطَارَ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ فَقَالَتْ هَکَذَا کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْنَعُ

ابوکریب، ابن ابی زائدہ، اعمش، عمارہ، حضرت ابوعطیہ ؓ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ میں اور حضرت مسروق ؓ حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ سے حضرت مسروق ؓ نے عرض کیا کہ محمد ﷺ کے ساتھیوں میں سے دو آدمی ایسے ہیں جو بھلائی کے بارے میں کمی نہیں کرتے ان میں سے ایک مغرب کی نماز اور افطاری میں جلدی کرتا ہے دوسرا مغرب کی نماز اور افطاری میں تاخیر کرتا ہے تو حضرت عائشہ ؓ نے فرمایا کہ مغرب کی نماز اور افطاری میں کون جلدی کرتا ہے؟ مسروق ؓ نے عرض کیا کہ حضرت عبداللہ تو حضرت عائشہ ؓ نے فرمایا کہ رسول اللہ بھی اسی طرح کیا کرتے تھے۔

Abu Atiyya reported: I and Misruq went to Aisha (Allah be pleased with her) and Masruq said to her: There are two persons among the Companions of Muhammad ﷺ none of whom abandons the good, but one of them hastens to observe sunset prayer and break the fast, and the other delays in observing the sunset prayer and in breaking the fast, whereupon she said: Who hastens to observe sunset prayer and break the fast? He said: It is Abdullah. Upon this she said: This is how the Messenger of Allah ﷺ used to do.

2558Sahih Muslim

روزہ پورا ہونے اور دن کے نکلنے کے وقت کے بیان میں

حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی وَأَبُو کُرَيْبٍ وَابْنُ نُمَيْرٍ وَاتَّفَقُوا فِي اللَّفْظِ قَالَ يَحْيَی أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ و قَالَ ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِي و قَالَ أَبُو کُرَيْبٍ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ جَمِيعًا عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَقْبَلَ اللَّيْلُ وَأَدْبَرَ النَّهَارُ وَغَابَتْ الشَّمْسُ فَقَدْ أَفْطَرَ الصَّائِمُ لَمْ يَذْکُرْ ابْنُ نُمَيْرٍ فَقَدْ

یحییٰ بن یحیی، ابوکریب، ابن نمیر، یحییٰ، ابومعاویہ، ابن نمیر، ابوکریب، اسامہ، ہشام، عروہ، عاصم، ابن عمر، حضرت عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جب رات آجائے اور دن چلا جائے اور سورج غروب ہوجائے تو روزہ رکھنے والے کو روزہ افطار کرلینا چاہیے۔

Umar (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying: When the night approaches and the day retreates and the sun sinks down, then the observer of the fast should break it. Ibn Numair made no mention of the word "then".

2559Sahih Muslim

روزہ پورا ہونے اور دن کے نکلنے کے وقت کے بیان میں

و حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ عَنْ أَبِي إِسْحَقَ الشَّيْبَانِيِّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَی رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ کُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ فِي شَهْرِ رَمَضَانَ فَلَمَّا غَابَتْ الشَّمْسُ قَالَ يَا فُلَانُ انْزِلْ فَاجْدَحْ لَنَا قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ عَلَيْکَ نَهَارًا قَالَ انْزِلْ فَاجْدَحْ لَنَا قَالَ فَنَزَلَ فَجَدَحَ فَأَتَاهُ بِهِ فَشَرِبَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ قَالَ بِيَدِهِ إِذَا غَابَتْ الشَّمْسُ مِنْ هَا هُنَا وَجَائَ اللَّيْلُ مِنْ هَا هُنَا فَقَدْ أَفْطَرَ الصَّائِمُ

یحییٰ بن یحییٰ، ہشیم، ابی اسحاق شیبانی، حضرت عبداللہ بن ابی اوفیٰ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ رمضان کے مہینے میں ایک سفر میں تھے جب سورج غروب ہوگیا تو آپ نے فرمایا اے فلاں! اتر اور ہمارے لئے ستو ملا اس نے عرض کیا اے اللہ کے رسول! ابھی تو دن ہے آپ نے فرمایا اتر اور ہمارے لئے ستو ملا تو وہ اترا اور اس نے ستو ملا کر آپ ﷺ کی خدمت میں پیش کیا نبی ﷺ نے ستو پیا پھر آپ ﷺ نے اپنے ہاتھ مبارک سے فرمایا جب سورج اس طرف سے غروب ہوجائے اور اس طرف سے رات آجائے تو روزہ رکھنے والے کو روزہ افطار کرلینا چاہیے۔

Abdullah bin Abi Aufa reported: We were with the Messenger of Allah ﷺ on a journey during the month of Ramadan. When the sun had sunk he said: So and so, get down (from your ride) and prepare the meal of parched barley for us. He said: Messenger of Allah, still there is light of day. He (the Holy Prophet) said: Get down and prepare meal of parched barley for us. So he got down and prepared the meal of parched barley and offered him, and the apostle of Allah ﷺ drank that (liquid meal). He then told with the gesture of his hand that when the sun sank from that side and the night appeared from that side, then the observer of the fast should break it.

2560Sahih Muslim

روزہ پورا ہونے اور دن کے نکلنے کے وقت کے بیان میں

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ وَعَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ عَنْ الشَّيْبَانِيِّ عَنْ ابْنِ أَبِي أَوْفَی رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ کُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ فَلَمَّا غَابَتْ الشَّمْسُ قَالَ لِرَجُلٍ انْزِلْ فَاجْدَحْ لَنَا فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَوْ أَمْسَيْتَ قَالَ انْزِلْ فَاجْدَحْ لَنَا قَالَ إِنَّ عَلَيْنَا نَهَارًا فَنَزَلَ فَجَدَحَ لَهُ فَشَرِبَ ثُمَّ قَالَ إِذَا رَأَيْتُمْ اللَّيْلَ قَدْ أَقْبَلَ مِنْ هَا هُنَا وَأَشَارَ بِيَدِهِ نَحْوَ الْمَشْرِقِ فَقَدْ أَفْطَرَ الصَّائِمُ

ابوبکر بن ابی شیبہ، علی بن مسہر، عباد بن عوام، شیبانی، حضرت ابن ابی اوفیٰ ؓ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ایک سفر میں تھے جب سورج غروب ہوگیا تو آپ ﷺ نے ایک آدمی سے فرمایا اتر اور ہمارے لئے ستو ملا اس نے عرض کیا اے اللہ کے رسول اگر آپ شام ہونے دیں؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا اتر اور ہمارے لئے ستو ملا اس نے عرض کیا ابھی تو دن ہے وہ اترا اور اس نے ستو ملایا آپ ﷺ نے ستو پیا پھر آپ ﷺ نے فرمایا کہ جب تم دیکھو کہ رات اس طرف آگئی ہے اور آپ ﷺ نے مشرق کی طرف اپنے ہاتھ سے اشارہ فرمایا تو روزہ دار کو روزہ افطار کرلینا چاہئے۔

Ibn Abi Aufa (RA) reported: We were with the Messenger of Allah ﷺ on a journey. When the sun sank he said to a person: Get down and prepare barley meal for us. Upon this he said: Messenger of Allah, let there be dusk. (He the Holy Prophet) said: Get down and prepare barley meal for us. He (the person) said: There is still (the light of) day upon us. (But) he got down (in obedience to the command of the Holy Prophet) and prepared a barley meal for him and he (the Holy Prophet) drank that (liquid meal) and then said: When you see the night approaching from that side (west) (and he pointed towards the east with his hand), then the observer of the fast should break it.

2561Sahih Muslim

روزہ پورا ہونے اور دن کے نکلنے کے وقت کے بیان میں

و حَدَّثَنَا أَبُو کَامِلٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ الشَّيْبَانِيُّ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي أَوْفَی رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُا سِرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ صَائِمٌ فَلَمَّا غَرَبَتْ الشَّمْسُ قَالَ يَا فُلَانُ انْزِلْ فَاجْدَحْ لَنَا مِثْلَ حَدِيثِ ابْنِ مُسْهِرٍ وَعَبَّادِ بْنِ الْعَوَّامِ

ابوکامل، عبدالواحد، سلیمان شیبانی، حضرت عبداللہ بن اوفی ؓ فرماتے ہیں کہ تم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ایک سفر میں تھے اور آپ ﷺ روزہ کی حالت میں تھے تو جب سورج غروب ہوگیا تو آپ ﷺ نے فرمایا اے فلاں! اتر اور ہمارے لئے ستو لا آگے حدیث اسی طرح ہے۔

Abdullah bin Abi Aufa (RA) reported: We travelled with the Messenger of Allah ﷺ as he had been observing fast. When the sun sank he said: So and so, get down and prepare barley meal for us. The rest of the hadith is the same.

2562Sahih Muslim

روزہ پورا ہونے اور دن کے نکلنے کے وقت کے بیان میں

و حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ح و حَدَّثَنَا إِسْحَقُ أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ کِلَاهُمَا عَنْ الشَّيْبَانِيِّ عَنْ ابْنِ أَبِي أَوْفَی ح و حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ حَدَّثَنَا أَبِي ح و حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَا حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ الشَّيْبَانِيِّ عَنْ ابْنِ أَبِي أَوْفَی رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَعْنَی حَدِيثِ ابْنِ مُسْهِرٍ وَعَبَّادٍ وَعَبْدِ الْوَاحِدِ وَلَيْسَ فِي حَدِيثِ أَحَدٍ مِنْهُمْ فِي شَهْرِ رَمَضَانَ وَلَا قَوْلُهُ وَجَائَ اللَّيْلُ مِنْ هَا هُنَا إِلَّا فِي رِوَايَةِ هُشَيْمٍ وَحْدَهُ

ابن ابی عمر، سفیان، اسحاق، جریر، شیبانی، ابن ابی اوفی، عبیداللہ بن معاذ، ابن مثنی، محمد بن جعفر، شعبہ اس سند کے ساتھ حضرت ابن اوفی ؓ نے نبی ﷺ سے اسی طرح روایت نقل کی ہے لیکن اس میں بعض الفاظ کی کمی ہے۔

This hadith has been narrated on the authority of Ibn Abi Aufa (RA) through another chain of transmitters (but with a sight alteration of words): In this hadith transmitted by one of the narrators (neither these words are found): "During the month of Ramadan." nor his statement: "And the night prevails from that side (the eastern side)." (These words are found in the narration of) Hushaim only.

2563Sahih Muslim

صوم وصال کی ممانعت کے بیان میں

حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَالِکٍ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَی عَنْ الْوِصَالِ قَالُوا إِنَّکَ تُوَاصِلُ قَالَ إِنِّي لَسْتُ کَهَيْئَتِکُمْ إِنِّي أُطْعَمُ وَأُسْقَی

یحییٰ بن یحییٰ، نافع، حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے صوم وصال سے منع فرمایا ہے صحابہ ؓ نے عرض کیا کہ آپ تو وصال کرتے ہیں آپ ﷺ نے فرمایا کہ میں تمہاری طرح نہیں ہوں کیونکہ مجھے تو کھلایا اور پلایا جاتا ہے۔

Ibn Umar (Allah be pleased with both of them) said that the Apostle of Allah ﷺ forbade uninterrupted fasting. They (some of the Companions) said: You yourself fast uninterruptedly, whereupon he said: I am not like you. I am fed and supplied drink (by Allah).

2564Sahih Muslim

صوم وصال کی ممانعت کے بیان میں

و حَدَّثَنَاه أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاصَلَ فِي رَمَضَانَ فَوَاصَلَ النَّاسُ فَنَهَاهُمْ قِيلَ لَهُ أَنْتَ تُوَاصِلُ قَالَ إِنِّي لَسْتُ مِثْلَکُمْ إِنِّي أُطْعَمُ وَأُسْقَی

ابوبکر بن ابی شیبہ، عبداللہ بن نمیر، عبیداللہ، نافع، حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے رمضان میں وصال فرمایا (یعنی بغیر افطاری کے مسلسل روزے رکھے) لہذا صحابہ ؓ نے بھی وصال شروع کردیا تو آپ ﷺ نے ان کو منع فرمایا۔ آپ ﷺ سے عرض کیا گیا کہ آپ بھی تو وصال کرتے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ میں تمہاری طرح نہیں ہوں کیونکہ مجھے کھلایا اور پلایا جاتا ہے۔

Ibn Umar reported that the Messenger of Allah ﷺ observed fasts uninterruptedly in Ramadan and the people (in his wake) did this. But he forbade them to do so. It was said to him (to the Holy Prophet): You yourself observe the fasts uninterruptedly (but you forbid us to do so). Upon this he said: I am not like you; I am fed and supplied drink (by Allah).

2565Sahih Muslim

صوم وصال کی ممانعت کے بیان میں

و حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ جَدِّي عَنْ أَيُّوبَ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ وَلَمْ يَقُلْ فِي رَمَضَانَ

عبدالوارث بن عبدالصمد، ایوب، نافع، ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے اسی حدیث کی طرح نقل فرمایا ہے لیکن اس میں رمضان کا لفظ نہیں۔

A hadith like this has been transmitted by Ibn Umar (Allah be pleased with both of them), but he did not make mention of (the words): "During the month of Ramadan."

2566Sahih Muslim

صوم وصال کی ممانعت کے بیان میں

حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ نَهَی رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْوِصَالِ فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ الْمُسْلِمِينَ فَإِنَّکَ يَا رَسُولَ اللَّهِ تُوَاصِلُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَيُّکُمْ مِثْلِي إِنِّي أَبِيتُ يُطْعِمُنِي رَبِّي وَيَسْقِينِي فَلَمَّا أَبَوْا أَنْ يَنْتَهُوا عَنْ الْوِصَالِ وَاصَلَ بِهِمْ يَوْمًا ثُمَّ يَوْمًا ثُمَّ رَأَوْا الْهِلَالَ فَقَالَ لَوْ تَأَخَّرَ الْهِلَالُ لَزِدْتُکُمْ کَالْمُنَکِّلِ لَهُمْ حِينَ أَبَوْا أَنْ يَنْتَهُوا

حرملہ بن یحییٰ، ابن وہب، یونس، ابن شہاب، ابوسلمہ بن عبدالرحمن، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے وصال سے منع فرمایا مسلمانوں میں سے ایک آدمی نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول! آپ بھی تو مسلسل روزے رکھتے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم میں سے میری طرح کون ہے؟ میں تو اس حال میں رات گزارتا ہوں کہ میرا رب مجھے کھلاتا اور پلاتا ہے جب اس کے باوجود صحابہ ؓ صوم وصال سے نہ رکے تو آپ ﷺ نے ان کے ساتھ ایک افطاری کے بغیر روزہ رکھا پھر افطار کے بغیر روزہ رکھا پھر انہوں نے چاند دیکھ لیا آپ ﷺ نے فرمایا کہ اگر چاند تاخیر کرتا تو میں اور زیادہ وصال کرتا گویا کہ آپ ﷺ نے ان کے نہ رکنے پر نا پسندیدگی کا اظہار فرمایا۔

Abu Hurairah (RA) reported: The Messenger of Allah ﷺ forbade (his Companions) from observing fast unintermptedly. One of the Muslims said: Messenger of Allah, you yourself observe Saum Wisal. Whereupon the Messenger of Allah ﷺ said: Who among you is like me? I spend night (in a state) that my Allah feeds me and provides me drink. When they (the Companions of the Holy Prophet) did not agree in abandoning the uninterrupted fast, then the Holy Prophet ﷺ also observed this fast with them for a day, and then for a day. They then saw the new moon and he (the Holy Prophet) said: If the appearance of the new moon were delayed, I would have observed more (fasts) with you (and he did it) by way of warning to them as they had not agreed to refrain (from observing Saum Wisal)

2567Sahih Muslim

صوم وصال کی ممانعت کے بیان میں

و حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَإِسْحَقُ قَالَ زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ عُمَارَةَ عَنْ أَبِي زُرْعَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِيَّاکُمْ وَالْوِصَالَ قَالُوا فَإِنَّکَ تُوَاصِلُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ إِنَّکُمْ لَسْتُمْ فِي ذَلِکَ مِثْلِي إِنِّي أَبِيتُ يُطْعِمُنِي رَبِّي وَيَسْقِينِي فَاکْلَفُوا مِنْ الْأَعْمَالِ مَا تُطِيقُونَ

زہیر بن حرب، اسحاق، زہیر، جریر، عمارہ، ابی زرعہ، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ تم وصال کے روزے رکھنے سے بچو صحابہ نے عرض کیا اے اللہ کے رسول! آپ ﷺ بھی تو وصال کے روزے رکھتے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا تم اس معاملہ میں میری طرح نہیں ہو کیونکہ میں اس حالت میں رات گزارتا ہوں کہ میرا رب مجھے کھلاتا ہے اور پلاتا ہے تو تم وہ کام کرو جس کی تم طاقت رکھتے ہو۔

Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying: Abstain from Saum-Wisal. They (his Companions) said: Messenger of Allah, but you observe Saum Wisal. Upon this he said: You are not like me in this matter, for I spend my night (in a state) that my Lord feeds me and provides me drink Devote yourselves to the deeds (the burden of which) you can bear.

2568Sahih Muslim

صوم وصال کی ممانعت کے بیان میں

و حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ فَاکْلَفُوا مَا لَکُمْ بِهِ طَاقَةٌ

قتیبہ، مغیرہ، ابی زناد، اعرج، حضرت ابوہریرہ ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے اسی طرح روایت کیا ہے۔ سوائے اس کے کہ اس میں ہے آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا جس کام کی تم طاقت رکھو وہی کام کرو

Abu Hurairah (RA) reported Allahs Apostle ﷺ as saying (the words as said in the previous hadith) but with this alteration (of words): "Take upon yourselves (the burden of the deeds) for which you have the strength to bear."

2569Sahih Muslim

صوم وصال کی ممانعت کے بیان میں

و حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ نَهَی عَنْ الْوِصَالِ بِمِثْلِ حَدِيثِ عُمَارَةَ عَنْ أَبِي زُرْعَةَ

ابن نمیر، اعمش، ابی صالح، حضرت ابوہریرہ ؓ نے نبی سے اسی طرح روایت کیا ہے جس میں ہے کہ آپ نے وصال سے منع فرمایا۔

Abu Hurairah (RA) reported that the Apostle of Allah ﷺ forbade (his Companions) to observe Saum Wisal.

2570Sahih Muslim

صوم وصال کی ممانعت کے بیان میں

حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي فِي رَمَضَانَ فَجِئْتُ فَقُمْتُ إِلَی جَنْبِهِ وَجَائَ رَجُلٌ آخَرُ فَقَامَ أَيْضًا حَتَّی کُنَّا رَهْطًا فَلَمَّا حَسَّ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّا خَلْفَهُ جَعَلَ يَتَجَوَّزُ فِي الصَّلَاةِ ثُمَّ دَخَلَ رَحْلَهُ فَصَلَّی صَلَاةً لَا يُصَلِّيهَا عِنْدَنَا قَالَ قُلْنَا لَهُ حِينَ أَصْبَحْنَا أَفَطَنْتَ لَنَا اللَّيْلَةَ قَالَ فَقَالَ نَعَمْ ذَاکَ الَّذِي حَمَلَنِي عَلَی الَّذِي صَنَعْتُ قَالَ فَأَخَذَ يُوَاصِلُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَذَاکَ فِي آخِرِ الشَّهْرِ فَأَخَذَ رِجَالٌ مِنْ أَصْحَابِهِ يُوَاصِلُونَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا بَالُ رِجَالٍ يُوَاصِلُونَ إِنَّکُمْ لَسْتُمْ مِثْلِي أَمَا وَاللَّهِ لَوْ تَمَادَّ لِي الشَّهْرُ لَوَاصَلْتُ وِصَالًا يَدَعُ الْمُتَعَمِّقُونَ تَعَمُّقَهُمْ

زہیر بن حرب ابونضر ہاشم بن قاسم سلیمان ثابت حضرت انس ؓ نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ رمضان میں نماز پڑھ رہے تھے تو میں آکر آپ ﷺ کے پہلو کی جانب کھڑا ہوگیا یہاں تک کہ ہماری ایک جماعت بن گئی جب نبی ﷺ نے محسوس فرمایا کہ میں آپ کے پیچھے ہوں تو آپ نے نماز میں تخفیف شروع فرما دی پھر آپ گھر میں داخل ہوئے آپ نے ایک ایسی نماز پڑھی جیسی نماز آپ ہمارے ساتھ نہیں پڑھتے تھے جب صبح ہوئی تو ہم نے آپ ﷺ سے عرض کیا کہ کیا رات آپ کو ہمارا علم ہوگیا تھا؟ آپ ﷺ نے فرمایا ہاں اسی وجہ سے وہ کام کیا جو میں نے کیا حضرت انس کہتے ہیں کہ پھر رسول اللہ ﷺ نے وصال کے روزے رکھنے شروع فرما دئیے وہ مہینہ کے آخر میں تھے آپ کے صحابہ سے بھی کچھ لوگوں نے وصال کے روزے رکھنے شروع کر دئیے تو نبی ﷺ نے فرمایا کہ یہ لوگ صوم وصال کیوں رکھ رہے ہیں؟ تم لوگ میری طرح نہیں ہو اللہ کی قسم اگر یہ مہینہ لمبا ہوتا تو میں اس قدر وصال کے روزے رکھتا کہ ضد کرنے والے اپنی ضد چھوڑ دیتے۔

Anas (RA) reported The Messenger of Allah ﷺ was observing prayer during Ramadan. I came and stood by his side. Then another man came and he stood likewise till we became a group. When the Apostle of Allah ﷺ perceived that we were behind him, he lightened the prayer. He then went to his abode and observed such (a long) prayer (the like of which) he never observed with us. When it was morning we said to him: Did you perceive us during the night? Upon this he said: Yes, it was this (realisation) that induced me to do that which I did. He (the narrator) said: The Messenger of Allah ﷺ began to observe Saum Wisal at the end of the month (of Ramadan), and some persons among his Companions began to observe this uninterrupted fast, whereupon the Apostle of Allah ﷺ said: What about such persons who observe uninterrupted fasts? You are not like me. By Allah. if the month were lengthened for me, I would have observed Saum Wisal, so that those who act with an exaggeration would (have been obliged) to abandon their exaggeration. 1501

2571Sahih Muslim

صوم وصال کی ممانعت کے بیان میں

حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ النَّضْرِ التَّيْمِيُّ حَدَّثَنَا خَالِدٌ يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ وَاصَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أَوَّلِ شَهْرِ رَمَضَانَ فَوَاصَلَ نَاسٌ مِنْ الْمُسْلِمِينَ فَبَلَغَهُ ذَلِکَ فَقَالَ لَوْ مُدَّ لَنَا الشَّهْرُ لَوَاصَلْنَا وِصَالًا يَدَعُ الْمُتَعَمِّقُونَ تَعَمُّقَهُمْ إِنَّکُمْ لَسْتُمْ مِثْلِي أَوْ قَالَ إِنِّي لَسْتُ مِثْلَکُمْ إِنِّي أَظَلُّ يُطْعِمُنِي رَبِّي وَيَسْقِينِي

عاصم بن نضرتیمی، خالد، ابن حارث، حمید، ثابت، حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے رمضان کے مہینہ کے آخر میں وصال کے روزے رکھے تو مسلمانوں میں سے کچھ لوگوں نے وصال کے روزے رکھنے شروع کر دئیے آپ ﷺ تک یہ بات پہنچی تو آپ ﷺ نے فرمایا اگر ہمارے لئے یہ مہینہ لمبا ہوجائے تو میں اس قدر وصال کے روزے رکھتا کہ ضد کرنے والے اپنی ضد چھوڑ دیتے کیونکہ تم میری طرح نہیں ہو یا آپ ﷺ نے فرمایا کہ میں تمہاری طرح نہیں ہوں میں تو اس حالت میں رات گزارتا ہوں کہ میرا رب مجھے کھلاتا اور پلاتا ہے

Anas (RA) reported that the Messenger of Allah ﷺ observed Saum Wisal during the early part of the month of Ramadan. The people among Muslims also observed uninterrupted fast. This (news) reached him (the Holy Prophet) and he said: Had the month been lengthened for me I would have continued observing Saum Wisal, so that those who act with forced hardness would (have been obliged) to abandon it. You are not like me (or he said): I am not like you. I continue to do so (in a state) that my Lord feeds me and provides me drink.

2572Sahih Muslim

صوم وصال کی ممانعت کے بیان میں

و حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ جَمِيعًا عَنْ عَبْدَةَ قَالَ إِسْحَقُ أَخْبَرَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ نَهَاهُمْ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْوِصَالِ رَحْمَةً لَهُمْ فَقَالُوا إِنَّکَ تُوَاصِلُ قَالَ إِنِّي لَسْتُ کَهَيْئَتِکُمْ إِنِّي يُطْعِمُنِي رَبِّي وَيَسْقِينِي

اسحاق بن ابراہیم، عثمان بن ابی شیبہ، عبدہ بن سلیمان، ہشام بن عروہ، حضرت عائشہ صدیقہ ؓ فرماتی ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے ان کو شفقت کے طور پر وصال کے روزوں سے منع فرمایا صحابہ کرام نے عرض کیا کہ آپ ﷺ تو وصال کے روزے رکھتے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا میں تمہاری طرح نہیں ہوں کیونکہ میرا رب مجھے کھلاتا اور پلاتا ہے۔

Aisha (Allah be pleased with her) said: The Apostle of Allah ﷺ forbade them (his Companions) to observe Saum Wisal out of mercy for them. They said: You (Holy Prophet) yourself observe it. Upon this he said: I am not like you. My Lord feeds me and provides me drink.

2573Sahih Muslim

اس بات کے بیان میں کہ روزہ میں اپنی بیوی کا بوسہ لینا حرام نہیں شرط یہ ہے کہ اپنے جذبات پر کنٹرول ہو۔

حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَبِّلُ إِحْدَی نِسَائِهِ وَهُوَ صَائِمٌ ثُمَّ تَضْحَکُ

علی بن حجر، سفیان، ہشام بن عروہ، سیدہ عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ اپنی ازواج مطہرات میں سے کسی کا بوسہ لے لیا کرتے تھے (یہ فرما کر) حضرت عائشہ صدیقہ ؓ مسکرا پڑیں۔

Aisha (Allah be pleased with her) said that the Messenger of Allah ﷺ kissed one of his wives while he was fasting, and then she (Aisha) smiled (as she narrated).

2574Sahih Muslim

اس بات کے بیان میں کہ روزہ میں اپنی بیوی کا بوسہ لینا حرام نہیں شرط یہ ہے کہ اپنے جذبات پر کنٹرول ہو۔

حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ وَابْنُ أَبِي عُمَرَ قَالَا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ قَالَ قُلْتُ لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ أَسَمِعْتَ أَبَاکَ يُحَدِّثُ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَانَ يُقَبِّلُهَا وَهُوَ صَائِمٌ فَسَکَتَ سَاعَةً ثُمَّ قَالَ نَعَمْ

علی بن حجر، ابن ابی عمر، حضرت سفیان ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے عبدالرحمن بن قاسم سے پوچھا کہ کیا تم نے اپنے باپ کو عائشہ ؓ سے روایت بیان کرتے ہوئے سنا کہ نبی ﷺ روزہ کی حالت میں ان کو بوسہ لے لیا کرتے تھے؟ حضرت عبدالرحمن تھوڑی دیر خاموش رہے پھر فرمایا ہاں

Sufyan reported: I said to Abdul Rahman bin Qasim: Have you heard from your father narrating from Aisha (Allah be pleased with her) that he kissed her while observing fast? He (Abdul Rahman bin Qasim) kept silence for a short while and then said: "Yes."