روزوں کا بیان

Sahih Muslim · Chapter 15 · 285 hadiths · Page 7 of 15

2615Sahih Muslim

رمضان المبارک کے مہینے میں مسافر کے لئے جبکہ اس کا سفر دو منزل یا اس سے زیادہ ہو تو روزہ رکھنے اور نہ رکھنے کے جواز کے بیان میں

حَدَّثَنَا هَدَّابُ بْنُ خَالِدٍ حَدَّثَنَا هَمَّامُ بْنُ يَحْيَی حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ غَزَوْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِسِتَّ عَشْرَةَ مَضَتْ مِنْ رَمَضَانَ فَمِنَّا مَنْ صَامَ وَمِنَّا مَنْ أَفْطَرَ فَلَمْ يَعِبْ الصَّائِمُ عَلَی الْمُفْطِرِ وَلَا الْمُفْطِرُ عَلَی الصَّائِمِ

ہداب بن خالد، ہمام بن یحیی، قتادہ، حضرت ابوسعید خدری ؓ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ سولہ رمضان کو ایک غزوہ میں گئے تو ہم میں سے کچھ لوگ روزے سے تھے اور کچھ بغیر روزے کے چناچہ نہ تو روزہ رکھنے والوں نے روزہ نہ رکھنے والوں کی مذمت کی اور نہ ہی روزہ نہ رکھنے والوں نے روزہ رکھنے والوں پر کوئی نکیر کی۔

Abu Said al-Khudri (RA) reported: We went out on an expedition with Allahs Messenger ﷺ on the 16th of Ramadan. Some of us fasted and some of us broke the fast. But neither the observer of the fast found fault with one who broke it, nor the breaker of the fast found fault with one who observed it.

2616Sahih Muslim

رمضان المبارک کے مہینے میں مسافر کے لئے جبکہ اس کا سفر دو منزل یا اس سے زیادہ ہو تو روزہ رکھنے اور نہ رکھنے کے جواز کے بیان میں

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَکْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ عَنْ التَّيْمِيِّ ح و حَدَّثَنَاه مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا ابْنُ مَهْدِيٍّ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ح وَقَالَ ابْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ حَدَّثَنَا هِشَامٌ وَقَالَ ابْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا سَالِمُ بْنُ نُوحٍ حَدَّثَنَا عُمَرُ يَعْنِي ابْنَ عَامِرٍ ح و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ عَنْ سَعِيدٍ کُلُّهُمْ عَنْ قَتَادَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَ حَدِيثِ هَمَّامٍ غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِ التَّيْمِيِّ وَعُمَرَ بْنِ عَامِرٍ وَهِشَامٍ لِثَمَانَ عَشْرَةَ خَلَتْ وَفِي حَدِيثِ سَعِيدٍ فِي ثِنْتَيْ عَشْرَةَ وَشُعْبَةَ لِسَبْعَ عَشْرَةَ أَوْ تِسْعَ عَشْرَةَ

محمد بن ابی بکر مقدمی، یحییٰ بن سعید، تیمی، محمد بن مثنی، ابن مہدی، شعبہ، ابوعامر، ہشام، سالم بن نوح، عمر (ابن عامر)، ابوبکر بن ابی شیبہ اس سند کے ساتھ حضرت قتادہ ؓ سے ہمام کی حدیث کی طرح روایت کیا گیا ہے سوائے اس کے کہ تیمی اور عمر بن عامر اور ہشام کی روایت میں اٹھارہ تاریخ اور سعید کی حدیث میں بارہ تاریخ اور شعبہ کی حدیث میں سترہ یا انیس تاریخ ذکر کی گئی ہے۔

A hadith like this has been narrated on the authority of Qatada with the same chain of transmitters by different narrators (except this difference) that in the hadith transmitted by Taimi and Umar bin Amir and Hisham (the date of setting out is) 18th, and in the hadith transmitted by Said it is the 12th, and in the one transmitted by Shubah it is the 17th or 19th.

2617Sahih Muslim

رمضان المبارک کے مہینے میں مسافر کے لئے جبکہ اس کا سفر دو منزل یا اس سے زیادہ ہو تو روزہ رکھنے اور نہ رکھنے کے جواز کے بیان میں

حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ حَدَّثَنَا بِشْرٌ يَعْنِي ابْنَ مُفَضَّلٍ عَنْ أَبِي مَسْلَمَةَ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ کُنَّا نُسَافِرُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رَمَضَانَ فَمَا يُعَابُ عَلَی الصَّائِمِ صَوْمُهُ وَلَا عَلَی الْمُفْطِرِ إِفْطَارُهُ

نصر بن علی جہضمی، بشر (ابن مفضل)، ابی مسلمہ، ابی نضرہ، حضرت ابوسعید خدری ؓ فرماتے ہیں کہ ہم رمضان میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ایک سفر میں تھے تو کوئی بھی روزہ رکھنے والے کے روزہ پر تنقید نہیں کرتا تھا اور نہ ہی روزہ کے افطار کرنے والے پر کوئی تنقید کرتا تھا۔

Abu Said al-Khudri (RA) reported: We went out on an expedition with the Messenger of Allah ﷺ during Ramadan and neither the observer of the fast was found fault with for his fasting, nor the breaker of the fast for breaking it.

2618Sahih Muslim

رمضان المبارک کے مہینے میں مسافر کے لئے جبکہ اس کا سفر دو منزل یا اس سے زیادہ ہو تو روزہ رکھنے اور نہ رکھنے کے جواز کے بیان میں

حَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ عَنْ الْجُرَيْرِيِّ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ کُنَّا نَغْزُو مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رَمَضَانَ فَمِنَّا الصَّائِمُ وَمِنَّا الْمُفْطِرُ فَلَا يَجِدُ الصَّائِمُ عَلَی الْمُفْطِرِ وَلَا الْمُفْطِرُ عَلَی الصَّائِمِ يَرَوْنَ أَنَّ مَنْ وَجَدَ قُوَّةً فَصَامَ فَإِنَّ ذَلِکَ حَسَنٌ وَيَرَوْنَ أَنَّ مَنْ وَجَدَ ضَعْفًا فَأَفْطَرَ فَإِنَّ ذَلِکَ حَسَنٌ

عمرو ناقد، اسماعیل بن ابراہیم، جریری، ابی نضرہ، حضرت ابوسعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ رمضان میں ایک غزوہ میں تھے تو ہم میں سے کوئی روزہ دار ہوتا اور کوئی افطار (روزہ نہ رکھنے والا) ہوتا تو نہ تو روزہ دار افطار کرنے والے پر تنقید کرتا وہ یہ سمجھتے تھے اور نہ ہی افطار کرنے والا روزہ رکهنے والے پر تنقید کرتا۔ وہ یہ سمجهتے کہ اگر کوئی طاقت رکھتا ہے تو روزہ رکھ لے تو یہ اس کے لئے اچھا ہے اور وہ یہ بھی سمجھتے اگر کوئی ضعف پاتا ہے تو وہ افطار کرلے تو یہ اس کے لئے اچھا ہے۔

Abu Said al-Khudri (RA) reported: We went out on an expedition with the Messenger of Allah ﷺ during Ramadan. Some of us observed the fast and some of us broke it. Neither the observer of the fast had any grudge against one who broke it, nor the breaker of the fast had any grudge against one who had fasted. They knew that he who had strength enough (to bear its rigour) fasted and that was good, and they also found that he who felt weakness (and could not bear the burden) broke it, and that was also good.

2619Sahih Muslim

رمضان المبارک کے مہینے میں مسافر کے لئے جبکہ اس کا سفر دو منزل یا اس سے زیادہ ہو تو روزہ رکھنے اور نہ رکھنے کے جواز کے بیان میں

حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَمْرٍو الْأَشْعَثِيُّ وَسَهْلُ بْنُ عُثْمَانَ وَسُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ وَحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ کُلُّهُمْ عَنْ مَرْوَانَ قَالَ سَعِيدٌ أَخْبَرَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ عَنْ عَاصِمٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا نَضْرَةَ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ وَجَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ قَالَا سَافَرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَصُومُ الصَّائِمُ وَيُفْطِرُ الْمُفْطِرُ فَلَا يَعِيبُ بَعْضُهُمْ عَلَی بَعْضٍ

سعید بن عمر، سہل بن عثمان، سوید بن سعید، حسین بن حریث، سعید، مروان بن معاویہ، عاصم، ابانضرہ، حضرت ابوسعید خدری، جابر بن عبداللہ اور حضرت جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت ہے فرمایا کہ ہم نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ سفر کیا تو روزہ رکھنے والا روزہ رکھتا اور افطار کرنے والا روزہ افطار کرلیتا تھا اور ان میں سے کوئی کسی کو ملامت نہی کرتا تھا۔

Abu Nadra reported Abu Said al. Khudri and Jabir binAbdullah (RA) as saying: We travelled with the Messenger of Allah ﷺ . The observer of the fast observed it, and the breaker of the fast broke it, but none of them found fault with each other.

2620Sahih Muslim

رمضان المبارک کے مہینے میں مسافر کے لئے جبکہ اس کا سفر دو منزل یا اس سے زیادہ ہو تو روزہ رکھنے اور نہ رکھنے کے جواز کے بیان میں

حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ عَنْ حُمَيْدٍ قَالَ سُئِلَ أَنَسٌ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ صَوْمِ رَمَضَانَ فِي السَّفَرِ فَقَالَ سَافَرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رَمَضَانَ فَلَمْ يَعِبْ الصَّائِمُ عَلَی الْمُفْطِرِ وَلَا الْمُفْطِرُ عَلَی الصَّائِمِ

یحییٰ بن یحیی، ابوخیثمہ، حضرت حمید سے روایت ہے کہ حضرت انس ؓ سے سفر میں رمضان کے روزے کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا کہ ہم نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ سفر کیا ہے تو کوئی روزہ رکھنے والا روزہ چھوڑنے والے کی ملامت نہیں کرتا تھا اور نہ ہی روزہ چھوڑنے والا روزہ رکھنے والے کی ملامت کرتا تھا۔

Humaid reported that Anas (RA) was asked about fasting during Ramadan while travelling. He said: We travelled with the Messenger of Allah ﷺ during the month of Ramadan, but neither the observer of the fast found fault with the breaker of the fast, nor the breaker of the fast found fault with the observer of the fast.

2621Sahih Muslim

رمضان المبارک کے مہینے میں مسافر کے لئے جبکہ اس کا سفر دو منزل یا اس سے زیادہ ہو تو روزہ رکھنے اور نہ رکھنے کے جواز کے بیان میں

و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ عَنْ حُمَيْدٍ قَالَ خَرَجْتُ فَصُمْتُ فَقَالُوا لِي أَعِدْ قَالَ فَقُلْتُ إِنَّ أَنَسًا أَخْبَرَنِي أَنَّ أَصْحَابَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَانُوا يُسَافِرُونَ فَلَا يَعِيبُ الصَّائِمُ عَلَی الْمُفْطِرِ وَلَا الْمُفْطِرُ عَلَی الصَّائِمِ فَلَقِيتُ ابْنَ أَبِي مُلَيْکَةَ فَأَخْبَرَنِي عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا بِمِثْلِهِ

ابوبکر بن ابی شیبہ، ابوخالد احمر، حضرت حمید ؓ سے روایت ہے فرمایا کہ میں نکلا اور میں نے روزہ رکھ لیا تو لوگوں نے مجھے سے کہا کہ تم دوبارہ روزہ رکھو میں نے کہا کہ حضرت انس ؓ نے مجھے خبر دی ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے صحابہ ؓ سفر کرتے تھے تو کوئی بھی روزہ رکھنے والا روزہ چھوڑنے والے کی ملامت نہیں کرتا تھا اور نہ ہی روزہ چھوڑنے والا روزہ رکھنے والے کی ملامت کرتا تھا پھر میں نے ابن ابی ملکیہ سے ملاقات کی تو انہوں نے بھی حضرت عائشہ ؓ کے حوالہ سے اسی طرح کی خبر دی۔

Abu Khalid al-Ahmar narrated from Humaid who said: I went out and was fasting; they said to me: Break (it go back, repeat). He said that Anas reported that the Companions of the Messenger of Allah ﷺ used to set out on a journey and neither the observer of the fast found fault with the breaker of the fast, nor the breaker of the fast found fault with the observer of the fast. (One of the narrators Humaid said): I met Ibn Abi Mulaikahh who informed me the same thing on the authority of Aisha.

2622Sahih Muslim

سفر میں روزہ رکھنے والے کے اجر کے بیان میں جبکہ وہ خدمت والے کام میں لگے رہیں

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ عَاصِمٍ عَنْ مُوَرِّقٍ عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ کُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي السَّفَرِ فَمِنَّا الصَّائِمُ وَمِنَّا الْمُفْطِرُ قَالَ فَنَزَلْنَا مَنْزِلًا فِي يَوْمٍ حَارٍّ أَکْثَرُنَا ظِلًّا صَاحِبُ الْکِسَائِ وَمِنَّا مَنْ يَتَّقِي الشَّمْسَ بِيَدِهِ قَالَ فَسَقَطَ الصُّوَّامُ وَقَامَ الْمُفْطِرُونَ فَضَرَبُوا الْأَبْنِيَةِ وَسَقَوْا الرِّکَابَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَهَبَ الْمُفْطِرُونَ الْيَوْمَ بِالْأَجْرِ

ابوبکر بن ابی شیبہ، ابومعاویہ، عاصم، مورق، حضرت انس ؓ سے روایت ہے فرمایا کہ ہم نبی ﷺ کے ساتھ ایک سفر میں تھے تو ہم میں کچھ روزہ دار تھے اور کچھ روزہ چھوڑے ہوئے تھے راوی نے کہا کہ ہم ایک جگہ سخت گرمی کے موسم میں اترے اور ہم میں سب سے زیادہ سایہ حاصل کرنے والا وہ آدمی تھا کہ جس کے پاس چادر تھی ہم میں سے کچھ اپنے ہاتھوں سے دھوپ سے بچ رہے تھے راوی نے کہا کہ روزہ رکھنے والے تو گرگئے اور روزہ چھوڑنے والے قائم رہے انہوں نے خیمے لگائے اور اونٹوں کو پانی پلایا اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ آج کے دن روزہ چھوڑنے والے اجر حاصل کر گئے۔

Anas (RA) reported: We were with the Apostle of Allah ﷺ on a journey. Some of us had been observing the fast and some of us had not been fasting. We got down at a place on a hot day. Most of us had the cloth for shelter. There were also those amongst us who sheltered themselves against the rays of the sun with the help of their hands. The observers of the fast fell down (on account of weakness). Those who had not observed it got up and pitched tents and watered the mounts. Thereupon the Messenger of Allah ﷺ said: The breakers of the fast have taken away the reward today.

2623Sahih Muslim

سفر میں روزہ رکھنے والے کے اجر کے بیان میں جبکہ وہ خدمت والے کام میں لگے رہیں

و حَدَّثَنَا أَبُو کُرَيْبٍ حَدَّثَنَا حَفْصٌ عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ عَنْ مُوَرِّقٍ عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ فَصَامَ بَعْضٌ وَأَفْطَرَ بَعْضٌ فَتَحَزَّمَ الْمُفْطِرُونَ وَعَمِلُوا وَضَعُفَ الصُّوَّامُ عَنْ بَعْضِ الْعَمَلِ قَالَ فَقَالَ فِي ذَلِکَ ذَهَبَ الْمُفْطِرُونَ الْيَوْمَ بِالْأَجْرِ

ابوکریب، حفص، عاصم، مورق، حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ ایک سفر میں تھے کچھ نے روزہ رکھا اور کچھ نے روزہ چھوڑ دیا روزہ نہ رکھنے والے تو خدمت والے کام پر لگ گئے اور روزہ رکھنے والے کام کرنے کے بارے میں کمزور پڑگئے راوی نے کہا کہ آپ ﷺ نے ان کے بارے میں فرمایا کہ روزہ افطار کرنے والے اجر پا گئے۔

Anas (RA) reported that the Messenger of Allah ﷺ was journeying (along with his Companions). Some of them had observed the fast whereas the others had broken it. Those who did not fast girded up their loins and worked, but the observers of the fast were too weak to work. Upon this he (the Apostle of Allah ﷺ ) said: Today the breakers of the fast have gone with the reward.

2624Sahih Muslim

سفر میں روزہ رکھنے والے کے اجر کے بیان میں جبکہ وہ خدمت والے کام میں لگے رہیں

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ عَنْ رَبِيعَةَ قَالَ حَدَّثَنِي قَزَعَةُ قَالَ أَتَيْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَهُوَ مَکْثُورٌ عَلَيْهِ فَلَمَّا تَفَرَّقَ النَّاسُ عَنْهُ قُلْتُ إِنِّي لَا أَسْأَلُکَ عَمَّا يَسْأَلُکَ هَؤُلَائِ عَنْهُ سَأَلْتُهُ عَنْ الصَّوْمِ فِي السَّفَرِ فَقَالَ سَافَرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَی مَکَّةَ وَنَحْنُ صِيَامٌ قَالَ فَنَزَلْنَا مَنْزِلًا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّکُمْ قَدْ دَنَوْتُمْ مِنْ عَدُوِّکُمْ وَالْفِطْرُ أَقْوَی لَکُمْ فَکَانَتْ رُخْصَةً فَمِنَّا مَنْ صَامَ وَمِنَّا مَنْ أَفْطَرَ ثُمَّ نَزَلْنَا مَنْزِلًا آخَرَ فَقَالَ إِنَّکُمْ مُصَبِّحُو عَدُوِّکُمْ وَالْفِطْرُ أَقْوَی لَکُمْ فَأَفْطِرُوا وَکَانَتْ عَزْمَةً فَأَفْطَرْنَا ثُمَّ قَالَ لَقَدْ رَأَيْتُنَا نَصُومُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ ذَلِکَ فِي السَّفَرِ

محمد بن حاتم، عبدالرحمن بن مہدی، معاویہ بن صالح، حضرت ربیعہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ مجھ سے قزعہ نے بیان کیا انہوں نے کہا کہ میں حضرت ابوسعید خدری ؓ کے پاس آیا اس حال میں کہ ان کے پاس لوگوں کا جمگھٹا لگا ہوا تھا تو جب لوگ ان سے علیحدہ ہوگئے تو میں نے ان سے عرض کیا کہ میں آپ سے وہ نہیں پوچھوں گا جس کے بارے میں یہ پوچھ رہے ہیں (راوی کہتے ہیں) کہ میں نے سفر میں روزہ کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ ہم نے رسول اللہ کے ساتھ مکہ مکرمہ تک سفر کیا ہے اور ہم روزہ کی حالت میں تھے انہوں نے فرمایا کہ ہم ایک جگہ اترے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم دشمن کے قریب ہوگئے ہو اور اب افطار کرنا (روزہ نہ رکھنا) تمہارے لئے قوت و طاقت کا باعث ہوگا تو روزہ کی رخصت تھی پھر ہم میں سے کچھ نے روزہ رکھا اور کچھ نے روزہ نہ رکھا پھر جب ہم دوسری منزل تک پہنچے تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ تم صبح کے وقت اپنے دشمن کے پاس گئے اور روزہ نہ رکھنے سے تمہارے اندر طاقت زیادہ ہوگی اس لئے روزہ نہ رکھو آپ ﷺ کا یہ حکم ضروری تھا اس لئے ہم نے روزہ نہیں رکھا پھر ہم نے دیکھا کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ سفر میں روزہ رکھتے رہے۔

Qazaa reported: I came to Abu Said al-Khudri (RA) and he was surrounded (by people), and when they dispersed I said to him: I am not going to ask you about what these people were asking. I ask you about fasting on a journey. Upon this he said: We travelled with the Messenger of Allah ﷺ towards Makkah and we had been observing fast. We halted at a place. There the Messenger of Allah ﷺ said: You are nearing your enemy and breaking of fast would give you greater strength, and that was a concession (given to us). But some of us continued to observe the fast and some of us broke it. We then got down at another place and he (the Holy Prophet) said: You are going to encounter the enemy in the morning and breaking of the fast would give you strength, so break the fast. As it was a point of stress, so we broke the fast. But subsequently we saw ourselves observing the fast with the Messenger of Allah ﷺ on a journey.

2625Sahih Muslim

سفر میں روزہ رکھنے یا نہ رکھنے کے اختیار کے بیان میں

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا لَيْثٌ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّهَا قَالَتْ سَأَلَ حَمْزَةُ بْنُ عَمْرٍو الْأَسْلَمِيُّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الصِّيَامِ فِي السَّفَرِ فَقَالَ إِنْ شِئْتَ فَصُمْ وَإِنْ شِئْتَ فَأَفْطِرْ

قتیبہ بن سعید، لیث، ہشام بن عروہ، سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ فرماتی ہیں کہ حضرت حمزہ بن عمر اسلمی ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے سفر میں روزے رکھنے کے بارے میں پوچھا تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اگر تو چاہے تو روزہ رکھ لے اور اگر تو چاہے تو افطار کرلے۔

Aisha (Allah be pleased with her) reported that Hamza bin Amr al-Aslami asked the Messenger of Allah ﷺ about fasting on a journey, and he (the Holy Prophet) said: Fast if you like and break it if you like.

2626Sahih Muslim

سفر میں روزہ رکھنے یا نہ رکھنے کے اختیار کے بیان میں

و حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ وَهُوَ ابْنُ زَيْدٍ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ حَمْزَةَ بْنَ عَمْرٍو الْأَسْلَمِيَّ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي رَجُلٌ أَسْرُدُ الصَّوْمَ أَفَأَصُومُ فِي السَّفَرِ قَالَ صُمْ إِنْ شِئْتَ وَأَفْطِرْ إِنْ شِئْتَ

ابوربیع، حماد، ابن زید، ہشام، سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت ہے کہ حضرت حمزہ بن عمرو اسلمی ؓ نے نبی ﷺ سے عرض کیا اے اللہ کے رسول! میں ایک ایسا آدمی ہوں کہ مسلسل روزے رکھتا ہوں تو کیا میں سفر میں بھی روزہ رکھوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا اگر تو چاہے تو روزہ رکھ لے اور اگر چاہے تو افطار کرلے۔

Aisha (Allah be pleased with her) reported that Hamza bin Amr al-Aslami asked the Messenger of Allah ﷺ thus: Messenger of Allah, I am a person devoted much to fasting. Should I fast during the journey? He (the Holy Prophet) said: Fast if you like and break it if you like.

2627Sahih Muslim

سفر میں روزہ رکھنے یا نہ رکھنے کے اختیار کے بیان میں

و حَدَّثَنَاه يَحْيَی بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ هِشَامٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَ حَدِيثِ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ إِنِّي رَجُلٌ أَسْرُدُ الصَّوْمَ

یحییٰ بن یحیی، ابومعاویہ، حضرت ہشام سے اس سند کے ساتھ اسی طرح حدیث نقل کی گئی ہے۔

This hadith has been narrated on the authority of Hisham with the same chain of transmitters.

2628Sahih Muslim

سفر میں روزہ رکھنے یا نہ رکھنے کے اختیار کے بیان میں

و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو کُرَيْبٍ قَالَا حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ وَقَالَ أَبُو بَکْرٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ کِلَاهُمَا عَنْ هِشَامٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ أَنَّ حَمْزَةَ قَالَ إِنِّي رَجُلٌ أَصُومُ أَفَأَصُومُ فِي السَّفَرِ

ابوبکر بن ابی شیبہ ابوکریب، ابن نمیر، ابوبکر، عبدالرحیم بن سلیمان، حضرت ہشام سے اس سند کے ساتھ روایت ہے کہ حضرت حمزہ ؓ نے کہا کہ میں ایک روزے دار آدمی ہوں تو کیا میں سفر میں بھی روزہ رکھوں؟

This hadith has been narrated on the authority of Hisham with the same chain of transmitters that Hamza said: I am a person much used to fasting. Should I fast during the journey? (The rest of the hadith is the same.)

2629Sahih Muslim

سفر میں روزہ رکھنے یا نہ رکھنے کے اختیار کے بیان میں

و حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ وَهَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ قَالَ هَارُونُ حَدَّثَنَا و قَالَ أَبُو الطَّاهِرِ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ أَبِي مُرَاوِحٍ عَنْ حَمْزَةَ بْنِ عَمْرٍو الْأَسْلَمِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَجِدُ بِي قُوَّةً عَلَی الصِّيَامِ فِي السَّفَرِ فَهَلْ عَلَيَّ جُنَاحٌ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هِيَ رُخْصَةٌ مِنْ اللَّهِ فَمَنْ أَخَذَ بِهَا فَحَسَنٌ وَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يَصُومَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِ قَالَ هَارُونُ فِي حَدِيثِهِ هِيَ رُخْصَةٌ وَلَمْ يَذْکُرْ مِنْ اللَّهِ

ابوطاہر، ہارون بن سعید، ہارون، ابوطاہر، ابن وہب، عمرو بن حارث، ابی اسود، عروہ بن زبیر، ابی مرواح، حضرت حمزہ بن عمر اسلمی ؓ سے روایت ہے انہوں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ! میں سفر میں روزے رکھنے کی طاقت رکھتا ہوں تو کیا مجھ پر کوئی گناہ تو نہیں؟ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک رخصت ہے تو جس نے اس رخصت پر عمل کیا تو اس نے اچھا کیا اور جس نے روزہ رکھنا پسند کیا تو اس پر کوئی گناہ نہیں ہارون نے اپنی حدیث میں رخصہ کا لفظ کہا ہے اور من اللہ کا ذکر نہیں کیا۔

Hamza bin Amr al-Aslami (RA) said: Messenger of Allah, I find strength in me for fasting on a journey; is there any sin upon me (in doing it)? Thereupon the Messenger of Allah ﷺ said: It is a concession from Allah. He who took advantage of it, it is good for him, and he who preferred to observe fast, there is no sin upon him. Harun (one of the narrators) in his narration said: lt is a concession, and he made no mention of "from Allah".

2630Sahih Muslim

سفر میں روزہ رکھنے یا نہ رکھنے کے اختیار کے بیان میں

حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ عَنْ إِسْمَعِيلَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ أُمِّ الدَّرْدَائِ عَنْ أَبِي الدَّرْدَائِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي شَهْرِ رَمَضَانَ فِي حَرٍّ شَدِيدٍ حَتَّی إِنْ کَانَ أَحَدُنَا لَيَضَعُ يَدَهُ عَلَی رَأْسِهِ مِنْ شِدَّةِ الْحَرِّ وَمَا فِينَا صَائِمٌ إِلَّا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَوَاحَةَ

داؤد بن رشید، ولید بن مسلم، سعید بن عبدالعزیز، اسماعیل، عبیداللہ، ام درداء، حضرت ابودرداء ؓ سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ رمضان کے مہینے میں گرمی کے موسم میں ایک سفر میں نکلے یہاں تک کہ گرمی کی وجہ سے ہم میں سے کچھ لوگ اپنے ہاتھوں کو اپنے سر پر رکھ لیتے تھے اور ہم میں سے کوئی بھی روزہ دار نہیں تھا سوائے رسول اللہ ﷺ اور حضرت عبداللہ بن رواحہ ؓ کے۔

Abu Darda (RA) reported: We set out during the month of Ramadan with the Messenger of Allah ﷺ in such an intense heat that one of us would place his hand over his head (in order to protect himself) against the excessive heat, and none among us was observing the fast, except the Messenger of Allah ﷺ and Abdullah bin Rawaha.

2631Sahih Muslim

سفر میں روزہ رکھنے یا نہ رکھنے کے اختیار کے بیان میں

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيُّ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ حَيَّانَ الدِّمَشْقِيِّ عَنْ أُمِّ الدَّرْدَائِ قَالَتْ قَالَ أَبُو الدَّرْدَائِ لَقَدْ رَأَيْتُنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ أَسْفَارِهِ فِي يَوْمٍ شَدِيدِ الْحَرِّ حَتَّی إِنَّ الرَّجُلَ لَيَضَعُ يَدَهُ عَلَی رَأْسِهِ مِنْ شِدَّةِ الْحَرِّ وَمَا مِنَّا أَحَدٌ صَائِمٌ إِلَّا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَوَاحَةَ

عبداللہ بن مسلمہ، ہشام بن سعید، عثمان ابن حیان دمشقی، حضرت ام درداء ؓ سے روایت ہے کہ حضرت ابودرداء ؓ فرماتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ سخت گرمیوں کے دنوں میں بعض سفروں میں دیکھا کہ لوگ سخت گرمی کی وجہ سے اپنے ہا تھوں کو اپنے سروں پر رکھ لیتے ہیں اور ہم میں سے سوائے رسول اللہ ﷺ اور حضرت عبداللہ بن رواحہ ؓ کے کوئی بھی روزہ دار نہیں تھا۔

Abu Darda reported: We were with the Messenger of Allah ﷺ on some of his journeys on an intensely hot day so much so that a person would place his hand on his head (in order to protect himself) against excessive heat, and none amongst us was fasting but the Messenger of Allah ﷺ andAbdullah bin Rawaha

2632Sahih Muslim

حاجی کے لئے عرفات کے میدان میں عرفہ کے دن روزہ نہ رکھنے کے استح کے بیان میں

حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَالِکٍ عَنْ أَبِي النَّضْرِ عَنْ عُمَيْرٍ مَوْلَی عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ عَنْ أُمِّ الْفَضْلِ بِنْتِ الْحَارِثِ أَنَّ نَاسًا تَمَارَوْا عِنْدَهَا يَوْمَ عَرَفَةَ فِي صِيَامِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ بَعْضُهُمْ هُوَ صَائِمٌ وَقَالَ بَعْضُهُمْ لَيْسَ بِصَائِمٍ فَأَرْسَلْتُ إِلَيْهِ بِقَدَحِ لَبَنٍ وَهُوَ وَاقِفٌ عَلَی بَعِيرِهِ بِعَرَفَةَ فَشَرِبَهُ

یحییٰ بن یحیی، مالک، ابی نضر، عمیر، مولیٰ ابن عباس، حضرت ام الفضل بنت حارثہ سے روایت ہے کہ کچھ لوگوں نے ان کے پاس عرفہ کے دن رسول اللہ ﷺ کے روزے کے بارے میں بات چیت کی ان میں سے کچھ نے کہا کہ آپ ﷺ روزے کی حالت میں تھے اور کچھ نے کہا کہ آپ ﷺ روزہ سے نہیں تھے۔ آپ ﷺ کی طرف دودھ کا ایک پیالہ اس وقت بھیجا جب آپ ﷺ اپنے اونٹ پر عرفہ کے دن سوار تھے تو آپ ﷺ نے وہ دودھ پی لیا۔

Umm al-Fadl bint- al-Harith reported that some people argued about the fasting of the Messenger of Allah ﷺ on the day of Arafa. Some of them said that he had been fasting, whereas the others said that he had not been fasting. I sent a cup of milk to him while he was riding his camel at Arafa, and he drank it.

2633Sahih Muslim

حاجی کے لئے عرفات کے میدان میں عرفہ کے دن روزہ نہ رکھنے کے استح کے بیان میں

حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَابْنُ أَبِي عُمَرَ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ أَبِي النَّضْرِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَلَمْ يَذْکُرْ وَهُوَ وَاقِفٌ عَلَی بَعِيرِهِ وَقَالَ عَنْ عُمَيْرٍ مَوْلَی أُمِّ الْفَضْلِ

اسحاق بن ابراہیم، ابن ابی عمر، سفیان، حضرت ابی النصر سے اس سند کے ساتھ روایت ہے لیکن اس میں آپ ﷺ کا اونٹ پر سوار ہونے کا ذکر نہیں۔

This hadith has been narrated on the authority of Abu Nadr with the same chain of transmitters, but he did not mention that he was mounting (riding on) his camel.

2634Sahih Muslim

حاجی کے لئے عرفات کے میدان میں عرفہ کے دن روزہ نہ رکھنے کے استح کے بیان میں

حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ سَالِمٍ أَبِي النَّضْرِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَ حَدِيثِ ابْنِ عُيَيْنَةَ وَقَالَ عَنْ عُمَيْرٍ مَوْلَی أُمِّ الْفَضْلِ

زہیر بن حرب، عبدالرحمن بن مہدی، سفیان، حضرت سالم بن ابی النضر ؓ سے اس سند کے ساتھ اسی طرح روایت نقل کی گئی ہے۔

This hadith has been narrated by Abu Nadr on the authority of Umair, the freed slave of Umm al-Fadl, through the same chain of transmitters.