روزوں کا بیان

Sahih Muslim · Chapter 15 · 285 hadiths · Page 8 of 15

2635Sahih Muslim

حاجی کے لئے عرفات کے میدان میں عرفہ کے دن روزہ نہ رکھنے کے استح کے بیان میں

و حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي عَمْرٌو أَنَّ أَبَا النَّضْرِ حَدَّثَهُ أَنَّ عُمَيْرًا مَوْلَی ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا حَدَّثَهُ أَنَّهُ سَمِعَ أُمَّ الْفَضْلِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا تَقُولُ شَکَّ نَاسٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي صِيَامِ يَوْمِ عَرَفَةَ وَنَحْنُ بِهَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَرْسَلْتُ إِلَيْهِ بِقَعْبٍ فِيهِ لَبَنٌ وَهُوَ بِعَرَفَةَ فَشَرِبَهُ

ہارون بن سعید، ابن وہب، عمرو، ابی نضر، مولیٰ ابن عباس، حضرت ام فضل ؓ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے صحابہ میں سے کچھ لوگوں نے عرفہ کے دن روزہ کے بارے میں شک کیا حضرت ام فضل ؓ فرماتی ہیں کہ ہم بھی رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے تو میں نے آپ کی طرف ایک پیالہ بھیجا جس میں دودھ تھا عرفہ کے دن تو آپ ﷺ نے وہ دودھ پی لیا۔

Umm al-Fadl (Allah be pleased with her) is reported to have said that some people among the Companions of the Messenger of Allah ﷺ were in doubt about fasting on the day of Arafa and we were with him on that day. I (Umm al-Fadl) sent him a cup of milk and he was halting at Arafa, and he drank that.

2636Sahih Muslim

حاجی کے لئے عرفات کے میدان میں عرفہ کے دن روزہ نہ رکھنے کے استح کے بیان میں

و حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي عَمْرٌو عَنْ بُکَيْرِ بْنِ الْأَشَجِّ عَنْ کُرَيْبٍ مَوْلَی ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنْ مَيْمُونَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهَا قَالَتْ إِنَّ النَّاسَ شَکُّوا فِي صِيَامِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ عَرَفَةَ فَأَرْسَلَتْ إِلَيْهِ مَيْمُونَةُ بِحِلَابِ اللَّبَنِ وَهُوَ وَاقِفٌ فِي الْمَوْقِفِ فَشَرِبَ مِنْهُ وَالنَّاسُ يَنْظُرُونَ إِلَيْهِ

ہارون بن سعید، ابن وہب، عمرو، بکیربن اشج، کریب، مولیٰ ابن عباس، حضرت میمونہ ؓ نبی ﷺ کی زوجہ مطہرہ سے روایت ہے وہ فرماتی ہیں کہ لوگ عرفہ کے دن رسول اللہ ﷺ کے روزے کے بارے میں شک میں پڑگئے چناچہ حضرت میمونہ ؓ نے آپ ﷺ کی طرف دودھ کا ایک لوٹا بھیجا جس وقت کہ آپ ﷺ عرفات کے میدان میں کھڑے ہوئے تھے آپ ﷺ نے اس دودھ سے پیا جبکہ لوگ آپ ﷺ کی طرف دیکھ رہے تھے۔

Kuraib, the freed slave of Ibn Abbas (RA) , reported from Maimuna, the wife of the Apostle of Allah ﷺ , that people had doubt about the fasting of Allahs Messenger ﷺ on the day of Arafa. Maimuna sent him a cup of milk and he was halting at a place and he drank it and the people were seeing him.

2637Sahih Muslim

عاشورہ کے دن روزہ رکھنے کے بیان میں

حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ کَانَتْ قُرَيْشٌ تَصُومُ عَاشُورَائَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ وَکَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُهُ فَلَمَّا هَاجَرَ إِلَی الْمَدِينَةِ صَامَهُ وَأَمَرَ بِصِيَامِهِ فَلَمَّا فُرِضَ شَهْرُ رَمَضَانَ قَالَ مَنْ شَائَ صَامَهُ وَمَنْ شَائَ تَرَکَهُ

زہیر بن حرب، جریر، ہشام بن عروہ، سیدہ عائشہ ؓ سے روایت ہے فرماتی ہیں کہ قریش جاہلیت کے زمانہ میں عاشورہ کے دن روزہ رکھتے تھے اور رسول اللہ ﷺ نے بھی جب مدینہ کی طرف ہجرت فرمائی تو اپنے صحابہ ؓ کو بھی اس کا روزہ رکھنے کا حکم فرمایا تو جب رمضان کے مہینے کے روزے فرض کر دئیے گئے تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ جو چاہے یوم عاشورہ کا روزہ رکھے اور جو چاہے چھوڑ دے۔

Aisha (Allah be pleased with her) reported that the Quraish used to fast on the day of Ashura in the pre-Islamic days and the Messenger ot Allah ﷺ also observed it. When he migrated to Madinah, he himself observed this fast and commanded (others) to observe it. But when fasting during the month of Ramadan was made obligatory he said: He who wishes to observe this fast may do so, and he who wishes to abandon it may do so.

2638Sahih Muslim

عاشورہ کے دن روزہ رکھنے کے بیان میں

و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو کُرَيْبٍ قَالَا حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ عَنْ هِشَامٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَلَمْ يَذْکُرْ فِي أَوَّلِ الْحَدِيثِ وَکَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُهُ وَقَالَ فِي آخِرِ الْحَدِيثِ وَتَرَکَ عَاشُورَائَ فَمَنْ شَائَ صَامَهُ وَمَنْ شَائَ تَرَکَهُ وَلَمْ يَجْعَلْهُ مِنْ قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَرِوَايَةِ جَرِيرٍ

ابوبکر بن ابی شیبہ، ابوکریب، ابن نمیر، حضرت ہشام سے اس سند کے ساتھ روایت ہے اور حدیث کے شروع میں ذکر نہیں کیا کہ رسول اللہ ﷺ یوم عاشورہ کا روزہ رکھتے تھے اور حدیث کے آخر میں ہے کہ آپ ﷺ نے عاشورہ کا روزہ چھوڑ دیا کہ جو چاہے اس کا روزہ رکھے اور جو چاہے چھوڑ دے۔

This hadith is narrated on the authority of Hisham with the same chain of transmitters, but he made no mention in the first part of the hadith that the Messenger of Allah ﷺ used to observe fast, and said about the second part that he abandoned the (fast) of Ashura, and he who wished observed the fast and who wished otherwise abandoned it, and he did not hold it as the words of the Apostle of Allah ﷺ as mentioned in the narration transmitted by Jarir.

2639Sahih Muslim

عاشورہ کے دن روزہ رکھنے کے بیان میں

حَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ يَوْمَ عَاشُورَائَ کَانَ يُصَامُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَلَمَّا جَائَ الْإِسْلَامُ مَنْ شَائَ صَامَهُ وَمَنْ شَائَ تَرَکَهُ

عمرو ناقد، سفیان، زہری، عروہ، سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت ہے کہ عاشورہ کے دن جاہلیت کے زمانہ میں روزہ رکھا جاتا تھا تو جب اسلام آیا (تو ﷺ نے فرایا) کہ جو چاہے اس کا روزہ رکھے اور جو چاہے چھوڑ دے۔

Aisha (Allah be pleased with her) reported. In the pre-Islamic days fast was observed on the day of Ashura, but with the advent of Islam (its position was ascertained as that of a voluntary fast). Then he who wished to fast fasted, and he who liked to abandon it abandoned it.

2640Sahih Muslim

عاشورہ کے دن روزہ رکھنے کے بیان میں

حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْمُرُ بِصِيَامِهِ قَبْلَ أَنْ يُفْرَضَ رَمَضَانُ فَلَمَّا فُرِضَ رَمَضَانُ کَانَ مَنْ شَائَ صَامَ يَوْمَ عَاشُورَائَ وَمَنْ شَائَ أَفْطَرَ

حرملہ بن یحیی، ابن وہب، یونس، ابن شہاب، عروہ بن زبیر، سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ رمضان کے روزے فرض ہونے سے پہلے عاشورہ کے روزہ کا حکم فرمایا کرتے تھے تو جب رمضان کے روزے فرض ہوگئے (تو آپ ﷺ نے فرمایا) جو چاہے عاشورہ کے دن روزہ رکھے اور جو چاہے چھوڑ دے۔

Aisha (Allah be pleased with her) reported that the Messenger of Allah ﷺ had ordered to observe fast (on Ashura) before the fasting in Ramadan was made obligatory. But when it became obligatory, then he who wished fasted on the day of Ashura, and he who wished did not observe it (on that day).

2641Sahih Muslim

عاشورہ کے دن روزہ رکھنے کے بیان میں

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ جَمِيعًا عَنْ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ ابْنُ رُمْحٍ أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ أَنَّ عِرَاکًا أَخْبَرَهُ أَنَّ عُرْوَةَ أَخْبَرَهُ أَنَّ عَائِشَةَ أَخْبَرَتْهُ أَنَّ قُرَيْشًا کَانَتْ تَصُومُ عَاشُورَائَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ ثُمَّ أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِصِيَامِهِ حَتَّی فُرِضَ رَمَضَانُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ شَائَ فَلْيَصُمْهُ وَمَنْ شَائَ فَلْيُفْطِرْهُ

قتیبہ بن سعید، محمد بن رمح، لیث بن سعید، یزید بن ابی حبیب، عروہ، عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ جاہلیت کے زمانہ میں قریشی لوگ عاشورہ کے دن روزہ رکھنے کا حکم فرمایا کرتے تھے تو جب رمضان کے روزے فرض ہوگئے تو (آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا) جو چاہے عاشورہ کے دن روزہ رکھے اور جو چاہے چھوڑ دے۔

Aisha (Allah be pleased with her) reported that the Quraish used to observe fast on the day of Ashura during the pre-Islamic days. The Messenger of Allah ﷺ then commanded to fast on that day till (fasting) in Ramadan became obligatory. Then the Messenger of Allah ﷺ said: He who wished to fast should do so, and he who wished to break it may do so.

2642Sahih Muslim

عاشورہ کے دن روزہ رکھنے کے بیان میں

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ وَاللَّفْظُ لَهُ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ عَنْ نَافِعٍ أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ أَهْلَ الْجَاهِلِيَّةِ کَانُوا يَصُومُونَ يَوْمَ عَاشُورَائَ وَأَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَامَهُ وَالْمُسْلِمُونَ قَبْلَ أَنْ يُفْتَرَضَ رَمَضَانُ فَلَمَّا افْتُرِضَ رَمَضَانُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ عَاشُورَائَ يَوْمٌ مِنْ أَيَّامِ اللَّهِ فَمَنْ شَائَ صَامَهُ وَمَنْ شَائَ تَرَکَهُ

ابوبکر بن ابی شیبہ، عبداللہ بن نمیر، ابن نمیر، عبیداللہ، نافع، حضرت ابن عمر ؓ فرماتے ہیں کہ جاہلیت کے زمانے کے لوگ عاشورہ کے دن روزہ رکھتے تھے تو رسول اللہ ﷺ اور مسلمانوں نے بھی رمضان کے روزے فرض ہونے سے پہلے اس کا روزہ رکھا جب رمضان کے روزے فرض ہوگئے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ عاشورہ اللہ کے دنوں میں اسے ایک دن ہے تو جو چاہے عاشورہ کا روزہ رکھے اور جو چاہے اسے چھوڑ دے۔

Abdullah bin Umar (RA) reported that the Arabs of pre-Islamic days used to observe fast on the day of Ashura and the Messenger of Allah ﷺ observed it and the Muslims too (observed it) before fasting in Ramadan became obligatory. But when it became obligatory, the Messenger of Allah ﷺ said: Ashura is one of the days of Allah, so he who wished should observe fast and he who wished otherwise should abandon it.

2643Sahih Muslim

عاشورہ کے دن روزہ رکھنے کے بیان میں

و حَدَّثَنَاه مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ قَالَا حَدَّثَنَا يَحْيَی وَهُوَ الْقَطَّانُ ح و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ کِلَاهُمَا عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بِمِثْلِهِ فِي هَذَا الْإِسْنَادِ

محمد بن مثنی، زہیر بن حرب، یحیی، ابوبکر بن ابی شیبہ، ابواسامہ، حضرت عبیداللہ سے اس سند کے ساتھ بھی یہ حدیث روایت کی گئی ہے۔

A hadith like this has been narrated on the authority of Ubaidullah through the same chain of transmitters.

2644Sahih Muslim

عاشورہ کے دن روزہ رکھنے کے بیان میں

و حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا لَيْثٌ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ رُمْحٍ أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّهُ ذُکِرَ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمُ عَاشُورَائَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَانَ يَوْمًا يَصُومُهُ أَهْلُ الْجَاهِلِيَّةِ فَمَنْ أَحَبَّ مِنْکُمْ أَنْ يَصُومَهُ فَلْيَصُمْهُ وَمَنْ کَرِهَ فَلْيَدَعْهُ

قتیبہ بن سعید، لیث، ابن رمح، لیث، نافع، حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس عاشورہ کے دن کا ذکر کیا گیا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جاہلیت والے لوگ اس دن روزہ رکھتے تھے تو تم میں سے جو کوئی پسند کرتا ہے کہ وہ روزہ رکھے تو وہ رکھ لے اور جو کوئی ناپسند کرتا ہے تو وہ چھوڑ دے۔

Ibn Umar (RA) said that the day of Ashura was mentioned before the Messenger of Allah ﷺ (may peace he upon him). Thereupon the Messenger of Allah, ﷺ said: That was a day on which the people of pre-Islamic days used to observe fast. So he who amongst you likes to observe fast should do so, and he who does not like it should abandon it.

2645Sahih Muslim

عاشورہ کے دن روزہ رکھنے کے بیان میں

حَدَّثَنَا أَبُو کُرَيْبٍ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ الْوَلِيدِ يَعْنِي ابْنَ کَثِيرٍ حَدَّثَنِي نَافِعٌ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا حَدَّثَهُ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي يَوْمِ عَاشُورَائَ إِنَّ هَذَا يَوْمٌ کَانَ يَصُومُهُ أَهْلُ الْجَاهِلِيَّةِ فَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يَصُومَهُ فَلْيَصُمْهُ وَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يَتْرُکَهُ فَلْيَتْرُکْهُ وَکَانَ عَبْدُ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ لَا يَصُومُهُ إِلَّا أَنْ يُوَافِقَ صِيَامَهُ

ابوکریب، ابواسامہ، ولید، ابن کثیر، نافع، حضرت ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے عاشورہ کے دن کے بارے میں فرماتے ہوئے سنا کہ یہ وہ دن ہے جس دن جاہلیت کے لوگ روزہ رکھتے تھے تو جو کوئی پسند کرتا ہے کہ اس دن روزہ رکھے تو وہ روزہ رکھ لے اور جو کوئی یہ پسند کرتا ہے کہ چھوڑ دے تو وہ چھوڑ دے اور حضرت عبداللہ ؓ روزہ نہیں رکھتے تھے سوائے اس کے کہ ان کے روزوں سے موافقت ہوجائے۔

Abdullah bin Umar (Allah be pleased with both of them) reported that he heard the Messenger of Allah ﷺ say about the day of Ashura: It is a day on which the people of pre-Islamic days observed fast. So he who liked to fast on this day should do so, and he who liked to abandon it should abandon it. Abdullah (RA) did not observe fast except when it coincided (with the days when he was in the habit of observing voluntary fasts during every month).

2646Sahih Muslim

عاشورہ کے دن روزہ رکھنے کے بیان میں

و حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي خَلَفٍ حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا أَبُو مَالِکٍ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ الْأَخْنَسِ أَخْبَرَنِي نَافِعٌ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ ذُکِرَ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَوْمُ يَوْمِ عَاشُورَائَ فَذَکَرَ مِثْلَ حَدِيثِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ سَوَائً

محمد بن احمد بن ابی خلف، روح، ابومالک، عبیداللہ بن اخنس، نافع، حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ کے پاس عاشورہ کے دن کے روزہ کا ذکر کیا گیا پھر آگے اسی طرح حدیث بیان کی۔

Abdullah bin Umar (RA) reported that the day of Ashura was mentioned before the Apostle of Allah ﷺ and he narrated a hadith like one (narrated above).

2647Sahih Muslim

عاشورہ کے دن روزہ رکھنے کے بیان میں

و حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ النَّوْفَلِيُّ حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ الْعَسْقَلَانِيُّ حَدَّثَنَا سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ ذُکِرَ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمُ عَاشُورَائَ فَقَالَ ذَاکَ يَوْمٌ کَانَ يَصُومُهُ أَهْلُ الْجَاهِلِيَّةِ فَمَنْ شَائَ صَامَهُ وَمَنْ شَائَ تَرَکَهُ

احمد بن عثمان نوفلی، ابوعاصم، عمر ابن محمد بن زید عسقلانی، سالم بن عبداللہ، حضرت ابن عمر ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس عاشورہ کے دن کا ذکر کیا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ یہ وہ دن ہے کہ جس دن جاہلیت کے لوگ روزہ رکھتے تھے تو جو چاہے روزہ رکھے اور جو چاہے روزہ چھوڑ دے۔

Abdullah bin Umar (RA) reported that the day of Ashura was mentioned before the Messenger of Allah ﷺ and he said: It is a day when the people in the pre-Islamic days need to observe fast, so he who wishes to observe fast should do so, and he who wishes to abandon it should do so.

2648Sahih Muslim

عاشورہ کے دن روزہ رکھنے کے بیان میں

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو کُرَيْبٍ جَمِيعًا عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ قَالَ أَبُو بَکْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ عُمَارَةَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ قَالَ دَخَلَ الْأَشْعَثُ بْنُ قَيْسٍ عَلَی عَبْدِ اللَّهِ وَهُوَ يَتَغَدَّی فَقَالَ يَا أَبَا مُحَمَّدٍ ادْنُ إِلَی الْغَدَائِ فَقَالَ أَوَلَيْسَ الْيَوْمُ يَوْمَ عَاشُورَائَ قَالَ وَهَلْ تَدْرِي مَا يَوْمُ عَاشُورَائَ قَالَ وَمَا هُوَ قَالَ إِنَّمَا هُوَ يَوْمٌ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُهُ قَبْلَ أَنْ يَنْزِلَ شَهْرُ رَمَضَانَ فَلَمَّا نَزَلَ شَهْرُ رَمَضَانَ تُرِکَ و قَالَ أَبُو کُرَيْبٍ تَرَکَهُ

ابوبکر بن ابی شیبہ، ابوکریب، ابی معاویہ، ابوبکر، ابومعاویہ، اعمش، عمارہ، حضرت عبدالرحمن بن یزید فرماتے ہیں کہ اشعث بن قیس حضرت عبداللہ کی خدمت میں آئے اس حال میں کہ وہ صبح کا ناشتہ کر رہے تھے انہوں نے فرمایا اے ابومحمد! آؤ ناشتہ کرلو تو انہوں نے کہا کہ کیا آج عاشورہ کا دن نہیں ہے؟ حضرت عبداللہ نے فرمایا کہ کیا تو جانتا ہے کہ عاشورہ کا دن کیا ہے؟ اشعث نے کہا وہ کیا ہے؟ حضرت عبداللہ نے فرمایا کہ یہ وہ دن ہے کہ جس دن رسول اللہ ﷺ رمضان کے مہینے کے روزے فرض ہونے سے پہلے روزہ رکھا کرتے تھے تو جب رمضان کے مہینے کے روزے فرض ہوگئے تو آپ ﷺ نے عاشورہ کے دن کا روزہ چھوڑ دیا۔

Abdul Rahman bin Yazid said: When al-Ashath bin Qais entered the house of Abdullah he was having his breakfast. He (Abdullah bin Umar (RA) said: Abu Muhammad (al-Ashath), came near to the breakfast. Thereupon he said: Is not today the Day of Ashura? He (Abdul Rahman) said: Do you know what the Day of Ashura is? He said: What is it? He said: It is a day on which the Messenger of Allah ﷺ used To observe fast before the (fasting) in the month of Ramadan became obligatory. But when it became obligatory the (fasting of Ashura) was abandoned (as compulsory). Abu Kuraib said: He (the Holy Prophet ﷺ abandoned it.

2649Sahih Muslim

عاشورہ کے دن روزہ رکھنے کے بیان میں

و حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ قَالَا حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ الْأَعْمَشِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَقَالَا فَلَمَّا نَزَلَ رَمَضَانُ تَرَکَهُ

زہیر بن حرب، عثمان بن ابی شیبہ، جریر، حضرت اعمش سے اس سند کے ساتھ یہ حدیث اسی طرح نقل کی گئی ہے۔

This hadith has been narrated from Jarir on the authority of Amash with the same chain of transmitters and he said (these words with a little bit of variation from the previous hadith): When (fasting) in Ramadan was (made) obligatory, he abandoned it (the practice of observing fast on Ashura).

2650Sahih Muslim

عاشورہ کے دن روزہ رکھنے کے بیان میں

و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا وَکِيعٌ وَيَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ عَنْ سُفْيَانَ ح و حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ وَاللَّفْظُ لَهُ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ حَدَّثَنِي زُبَيْدٌ الْيَامِيُّ عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ عَنْ قَيْسِ بْنِ سَکَنٍ أَنَّ الْأَشْعَثَ بْنَ قَيْسٍ دَخَلَ عَلَی عَبْدِ اللَّهِ يَوْمَ عَاشُورَائَ وَهُوَ يَأْکُلُ فَقَالَ يَا أَبَا مُحَمَّدٍ ادْنُ فَکُلْ قَالَ إِنِّي صَائِمٌ قَالَ کُنَّا نَصُومُهُ ثُمَّ تُرِکَ

ابوبکر بن ابی شیبہ، وکیع، یحییٰ بن سعید، سفیان، محمد بن حاتم، زبیدیامی، عمارہ بن عمیر، حضرت قیس بن سکن ؓ سے روایت ہے کہ اشعث بن قیس ؓ عاشورہ کے دن حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ کی خدمت میں اس حال میں آئے کہ آپ کھا رہے تھے تو انہوں نے فرمایا اے ابومحمد! قریب ہوجاؤ اور کھاؤ انہوں نے کہا کہ میں روزے سے ہوں حضرت عبداللہ نے فرمایا کہ ہم بھی اس دن روزہ رکھتے تھے پھر چھوڑ دیا۔

Qais b. Sakan reported that al-Ashath bin Qais went to Abdullah on the day of Ashura while he was eating. He said: Abu Muhammad, come near and dine. Upon this he said: I am fasting. Thereupon he said: We used to observe fast and then (this practice) was abandoned.

2651Sahih Muslim

عاشورہ کے دن روزہ رکھنے کے بیان میں

و حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَلْقَمَةَ قَالَ دَخَلَ الْأَشْعَثُ بْنُ قَيْسٍ عَلَی ابْنِ مَسْعُودٍ وَهُوَ يَأْکُلُ يَوْمَ عَاشُورَائَ فَقَالَ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ إِنَّ الْيَوْمَ يَوْمُ عَاشُورَائَ فَقَالَ قَدْ کَانَ يُصَامُ قَبْلَ أَنْ يَنْزِلَ رَمَضَانُ فَلَمَّا نَزَلَ رَمَضَانُ تُرِکَ فَإِنْ کُنْتَ مُفْطِرًا فَاطْعَمْ

محمد بن حاتم، اسحاق بن منصور، اسرائیل، منصور، ابراہیم، علقمہ، اشعث بن قیس، علی ابن مسعود، حضرت علقمہ ؓ سے روایت ہے کہ اشعث بن قیس ؓ ابن مسعود ؓ کے پاس عاشورہ کے دن اس حال میں آئے کہ وہ کھانا کھا رہے تھے تو انہوں نے فرمایا اے ابوعبدالرحمن! آج تو عاشورہ ہے؟ تو ابن مسعود ؓ نے فرمایا کہ رمضان کے روزے فرض ہونے سے پہلے روزہ رکھا جاتا تھا تو جب رمضان کے روزے فرض ہوگئے یہ روزہ چھوڑ دیا گیا کہ اگر تیرا روزہ نہیں تو تو بھی کھا۔

Alqama reported that Ashath bin Qais went to Ibn Masudd while he was eating on the day of Ashura. Thereupon he said: Abu Abdul Rahman, it is the day of Ashura (and you are eating). Upon this he said: Fast was observed on (this day) before the (fasting) in Ramadan was made obligatory, but when it was made obligatory, (fasting on the day of Ashura) was abandoned. So if you are not fasting, then take food.

2652Sahih Muslim

عاشورہ کے دن روزہ رکھنے کے بیان میں

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَی أَخْبَرَنَا شَيْبَانُ عَنْ أَشْعَثَ بْنِ أَبِي الشَّعْثَائِ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي ثَوْرٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْمُرُنَا بِصِيَامِ يَوْمِ عَاشُورَائَ وَيَحُثُّنَا عَلَيْهِ وَيَتَعَاهَدُنَا عِنْدَهُ فَلَمَّا فُرِضَ رَمَضَانُ لَمْ يَأْمُرْنَا وَلَمْ يَنْهَنَا وَلَمْ يَتَعَاهَدْنَا عِنْدَهُ

ابوبکر بن ابی شیبہ، عبیداللہ بن موسی، شیبان، اشعث بن ابی شعثاء، جعفر بن ابی ثور، حضرت جابر بن سمرہ ؓ سے روایت ہے کہ فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ عاشورہ کے دن روزہ رکھنے کا حکم فرماتے تھے اور ہمیں اس پر آمادہ کرتے تھے اور اس کا اہتمام کرتے تھے تو جب رمضان کے روزے فرض کردئیے گئے تو پھر آپ نہ ہمیں اس کا حکم فرماتے اور نہ اس سے منع فرماتے اور نہ ہی اس کا اہتمام فرماتے۔

Jabir b. ahadeeth reported that the Messenger of Allah ﷺ commanded us to observe fast on the day of Ashura and exhorted us to do it and was particular about it But when (fasting) in Ramadan was made obligatory, he hence forth neither commanded us nor forbade us, nor was he so particular about it.

2653Sahih Muslim

عاشورہ کے دن روزہ رکھنے کے بیان میں

حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ أَخْبَرَنِي حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّهُ سَمِعَ مُعَاوِيَةَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ خَطِيبًا بِالْمَدِينَةِ يَعْنِي فِي قَدْمَةٍ قَدِمَهَا خَطَبَهُمْ يَوْمَ عَاشُورَائَ فَقَالَ أَيْنَ عُلَمَاؤُکُمْ يَا أَهْلَ الْمَدِينَةِ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لِهَذَا الْيَوْمِ هَذَا يَوْمُ عَاشُورَائَ وَلَمْ يَکْتُبْ اللَّهُ عَلَيْکُمْ صِيَامَهُ وَأَنَا صَائِمٌ فَمَنْ أَحَبَّ مِنْکُمْ أَنْ يَصُومَ فَلْيَصُمْ وَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يُفْطِرَ فَلْيُفْطِرْ

حرملہ بن یحیی، ابن وہب، یونس، ابن شہاب، حضرت حمید بن عبدالرحمن ؓ خبر دیتے ہیں کہ انہوں نے حضرت معاویہ بن ابی سفیان کا مدینہ میں خطبہ سنا یعنی جب وہ مدینہ آئے تو انہوں نے عاشورہ کے دن خطبہ دیا اور فرمایا اے مدینہ والو! کہاں ہیں تمہارے علماء؟ میں نے رسول اللہ ﷺ کو اس دن کے لئے فرماتے ہوئے سنا کہ یہ عاشورہ کا دن ہے اور اللہ تعالیٰ نے تم پر اس دن کا روزہ فرض نہیں کیا اور میں روزے سے ہوں تو جو تم میں سے پسند کرتا ہو کہ وہ روزہ رکھے تو اسے چاہئے کہ وہ روزہ رکھ لے اور جو تم میں سے پسند کرتا ہو کہ وہ افطار کرلے تو اسے چاہیے کہ وہ افطار کرلے۔

Abdul Rahman reported that he heard Muawiyahh bin Abu Sufyan (RA) delivering a sermon in Madinah. i. e. when he came there (for Hajj). He delivered a sermon on the day of Ashura and said: People of Madinah, where are your scholars? I heard the Messenger of Allah ﷺ say on this very day: It is the day of Ashura. Allah has not made fasting on This day obligatory for you but I am fasting. He who likes to observe fast among you should do so, and he who likes not to observe it may not observe it.

2654Sahih Muslim

عاشورہ کے دن روزہ رکھنے کے بیان میں

حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي مَالِکُ بْنُ أَنَسٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ فِي هَذَا الْإِسْنَادِ بِمِثْلِهِ

ابوطاہر، عبداللہ بن وہب، مالک بن انس، حضرت ابن شہاب ؓ سے اس سند کے ساتھ مذکورہ حدیث کی طرح روایت کی گئی ہے۔

A hadith like this has been narrated on the authority of Ibn Shihab through the same chain of transmitters.