روزوں کا بیان

Sahih Muslim · Chapter 15 · 285 hadiths · Page 9 of 15

2655Sahih Muslim

عاشورہ کے دن روزہ رکھنے کے بیان میں

و حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ الزُّهْرِيِّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي مِثْلِ هَذَا الْيَوْمِ إِنِّي صَائِمٌ فَمَنْ شَائَ أَنْ يَصُومَ فَلْيَصُمْ وَلَمْ يَذْکُرْ بَاقِي حَدِيثِ مَالِکٍ وَيُونُسَ

ابن ابی عمر، سفیان بن عیینہ، حضرت زہری سے اس سند کے ساتھ روایت ہے کہ انہوں نے نبی کریم ؓ سے اس دن کے بارے میں فرماتے ہوئے سنا کہ میں روزے سے ہوں تو جو چاہتا ہے کہ روزہ رکھے وہ رکھ لے اور مالک بن انس ؓ اور یونس ؓ کی حدیث کا باقی حصہ ذکر نہیں کیا

This hadith has been narrated on the authority of Zuhri with the same chain of transmitters that be heard Allahs Apostle ﷺ as saying on a similar day: I am fasting today, so he who wishes to observe fast should do so; but he did not make mention of the rest of the hadith.

2656Sahih Muslim

عاشورہ کے دن روزہ رکھنے کے بیان میں

حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ عَنْ أَبِي بِشْرٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ فَوَجَدَ الْيَهُودَ يَصُومُونَ يَوْمَ عَاشُورَائَ فَسُئِلُوا عَنْ ذَلِکَ فَقَالُوا هَذَا الْيَوْمُ الَّذِي أَظْهَرَ اللَّهُ فِيهِ مُوسَی وَبَنِي إِسْرَائِيلَ عَلَی فِرْعَوْنَ فَنَحْنُ نَصُومُهُ تَعْظِيمًا لَهُ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْنُ أَوْلَی بِمُوسَی مِنْکُمْ فَأَمَرَ بِصَوْمِهِ

یحییٰ بن یحیی، ہشیم، ابی بشر، سعید بن جبیر، حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ مدینہ تشریف لائے تو آپ ﷺ نے یہودیوں کو عاشورہ کے دن روزہ رکھتے ہوئے پایا تو لوگوں نے ان سے اس روزے کے بارے میں پوچھا تو وہ کہنے لگے کہ یہ وہ دن ہے کہ جس میں اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو اور بنی اسرائیل کو فرعون پر غلبہ عطا فرمایا تھا تو ہم اس دن کی عظمت کی وجہ سے روزہ رکھتے ہیں تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ہم تم سے زیادہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے قریب ہیں تو آپ ﷺ نے اس روزے کا حکم فرمایا۔

Ibn Abbas (RA) (Allah be pleased with both of them) reported that when Allahs Messenger ﷺ came to Madinah, he found the Jews observing the fast on the day of Ashura. They (the Jews) were asked about it and they said: It is the day on which Allah granted victory to Moses (علیہ السلام) and (his people) Bani Israil over the Pharaoh and we observe fast out of gratitude to Him. Upon this the Apostle of Allah ﷺ said: We have a closer connection with Moses (علیہ السلام) than you have, and he commanded to observe fast on this day.

2657Sahih Muslim

عاشورہ کے دن روزہ رکھنے کے بیان میں

و حَدَّثَنَاه ابْنُ بَشَّارٍ وَأَبُو بَکْرِ بْنُ نَافِعٍ جَمِيعًا عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ أَبِي بِشْرٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَقَالَ فَسَأَلَهُمْ عَنْ ذَلِکَ

ابن بشار، ابوبکر بن نافع، محمد بن جعفر، شعبہ، ابی بشر اس سند کے ساتھ حضرت ابی بشر ؓ سے اسی طرح روایت نقل کی گئی ہے اور اس میں ہے کہ آپ نے ان سے اس کی وجہ پوچھی۔

This hadith has been narrated by Ibn Bishr with the same chain of transmitters (but with a slight variation) that he (the Holy Prophet) inquired of them (Jews) about it (fasting on the day of Ashura).

2658Sahih Muslim

عاشورہ کے دن روزہ رکھنے کے بیان میں

و حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي عُمَرَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدِمَ الْمَدِينَةَ فَوَجَدَ الْيَهُودَ صِيَامًا يَوْمَ عَاشُورَائَ فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا هَذَا الْيَوْمُ الَّذِي تَصُومُونَهُ فَقَالُوا هَذَا يَوْمٌ عَظِيمٌ أَنْجَی اللَّهُ فِيهِ مُوسَی وَقَوْمَهُ وَغَرَّقَ فِرْعَوْنَ وَقَوْمَهُ فَصَامَهُ مُوسَی شُکْرًا فَنَحْنُ نَصُومُهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَحْنُ أَحَقُّ وَأَوْلَی بِمُوسَی مِنْکُمْ فَصَامَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَمَرَ بِصِيَامِهِ

ابن ابی عمر، سفیان، ایوب، عبداللہ بن سعید بن جبیر، حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب مدینہ منورہ تشریف لائے تو آپ نے یہودیوں کو عاشورہ کے دن روزہ رکھتے ہوئے پایا تو رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا کہ اس دن کی کیا وجہ ہے؟ تو وہ کہنے لگے کہ یہ وہ عظیم دن ہے کہ جس میں اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کی قوم کو نجات عطا فرمائی اور فرعون اور اس کی قوم کو غرق فرمایا چناچہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے شکرانے کا روزہ رکھا اس لئے ہم بھی روزہ رکھتے ہیں تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ہم زیادہ حقدار ہیں اور تم سے زیادہ موسیٰ (علیہ السلام) کے قریب ہیں تو رسول اللہ ﷺ نے بھی عاشورہ کے دن روزہ رکھا اور اپنے صحابہ ؓ کو بھی روزہ رکھنے کا حکم فرمایا۔

IbnAbbas (Allah be pleased with both of them) reported that the Messenger of Allah ﷺ arrived in Madinah and found the Jews observing fast on the day of Ashura. The Messenger of Allah ﷺ said to them: What is the (significance) of this day that you observe fast on it? They said: It is the day of great (significance) when Allah delivered Moses (علیہ السلام) and his people, and drowned the Pharaoh and his people, and Moses (علیہ السلام) observed fast out of gratitude and we also observe it. Upon this the Messenger of Allah ﷺ said: We have more right, and we have a closer connection with Moses (علیہ السلام) than you have; so Allahs Messenger ﷺ observed fast (on the day of Ashura), and gave orders that it should be observed.

2659Sahih Muslim

عاشورہ کے دن روزہ رکھنے کے بیان میں

و حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ أَيُّوبَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ عَنْ ابْنِ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ لَمْ يُسَمِّهِ

اسحاق بن ابراہیم، عبدالرزاق، معمر، حضرت ایوب سے اس سند کے ساتھ اسی طرح روایت نقل کی گئی ہے سوائے اس کے کہ اس میں ابن سعید بن جبیر ہے نام ذکر نہیں کیا گیا۔

This hadith has been narrated on the authority of Ayyub with the same chain of transmitters.

2660Sahih Muslim

عاشورہ کے دن روزہ رکھنے کے بیان میں

و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَابْنُ نُمَيْرٍ قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ أَبِي عُمَيْسٍ عَنْ قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ عَنْ أَبِي مُوسَی رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ کَانَ يَوْمُ عَاشُورَائَ يَوْمًا تُعَظِّمُهُ الْيَهُودُ وَتَتَّخِذُهُ عِيدًا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صُومُوهُ أَنْتُمْ

ابوبکر بن ابی شیبہ، ابن نمیر، ابواسامہ، ابی عمیس، قیس بن سالم، طارق بن شہاب، حضرت ابوموسی ؓ سے روایت ہے فرمایا کہ یہودی لوگ عاشورہ کے دن کی تعظیم کرتے تھے اور اسے عید سمجھتے تھے تو رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ تم بھی اس دن کو روزہ رکھو۔

Abu Musa (RA) reported: The day of Ashura was one which the Jews respected and they treated it as Id. The Messenger of Allah ﷺ said: You also observe fast on this day.

2661Sahih Muslim

عاشورہ کے دن روزہ رکھنے کے بیان میں

وحدثنا احمد بن المنذر حدثنا حماد بن اسامه حدثنا وزاد قال ابواسامة فحدثنی صدقة بن ابی موسیٰ رضی الله عنه قال کان اهل خيبر يصومون يوم عاشورائ يتخذونه عندا ويلبسون نسائهم فيه حليهم وشارتهم فقال رسول الله صلی الله عليه وسلم

احمد بن منذر، حماد بن اسامہ، ابوعمیس، قیس، صدقہ بن ابی عمران، قیس بن مسلم، طارق بن شہاب، حضرت ابوموسی ؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ خیبر کے یہودی عاشورہ کے دن روزہ رکھتے تھے اور اسے عید سمجھتے تھے اور اپنی عورتوں کو زیور پہناتے اور بناؤ سنگھار کرتے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ تم بھی اس دن کا روزہ رکھو۔

Abu Musa reported that the people of Khaibar (most of them were Jews) observed fast on the day of Ashura and they treated it as Id and gave their women ornaments and beautiful dress to wear. The Messenger of Allah ﷺ said: You (only) observe fast on this day.

2662Sahih Muslim

عاشورہ کے دن روزہ رکھنے کے بیان میں

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَعَمْرٌو النَّاقِدُ جَمِيعًا عَنْ سُفْيَانَ قَالَ أَبُو بَکْرٍ حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا وَسُئِلَ عَنْ صِيَامِ يَوْمِ عَاشُورَائَ فَقَالَ مَا عَلِمْتُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَامَ يَوْمًا يَطْلُبُ فَضْلَهُ عَلَی الْأَيَّامِ إِلَّا هَذَا الْيَوْمَ وَلَا شَهْرًا إِلَّا هَذَا الشَّهْرَ يَعْنِي رَمَضَانَ

ابوبکر بن ابی شیبہ، عمرو ناقد، سفیان، ابوبکر، ابن عیینہ، عبیداللہ ابن ابی یزید، حضرت ابن عباس ؓ سے عاشورہ کے دن کے روزوں کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا کہ میں نہیں جانتا کہ رسول اللہ ﷺ نے اس عاشورہ کے دن کے علاوہ کسی اور دن فضیلت کی وجہ سے روزہ رکھا ہو اور نہ کسی مہینے میں سوائے اس مہینے یعنی رمضان کے۔

Ibn Abbas (RA) was asked about observing of fast on the day of Ashura, whereupon he said: I do not know Allahs Messenger ﷺ singling out any days fast and considering it more excellent than another, except this day (the day of Ashura) and this month, meaning the month of Ramadan.

2663Sahih Muslim

عاشورہ کے دن روزہ رکھنے کے بیان میں

و حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي يَزِيدَ فِي هَذَا الْإِسْنَادِ بِمِثْلِهِ

محمد بن رافع، عبدالرزاق، ابن جریج، عبیداللہ بن ابی یزید اس سند کے ساتھ اسی حدیث کی طرح یہ حدیث نقل کی گئی ہے۔

A hadith like this has been narrated on the authority of Ubaidullah bin Abi Yazid.

2664Sahih Muslim

اس بات کے بیان میں کہ عاشورہ کے روزہ کس دن رکھا جائے؟

و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا وَکِيعُ بْنُ الْجَرَّاحِ عَنْ حَاجِبِ بْنِ عُمَرَ عَنْ الْحَکَمِ بْنِ الْأَعْرَجِ قَالَ انْتَهَيْتُ إِلَی ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا وَهُوَ مُتَوَسِّدٌ رِدَائَهُ فِي زَمْزَمَ فَقُلْتُ لَهُ أَخْبِرْنِي عَنْ صَوْمِ عَاشُورَائَ فَقَالَ إِذَا رَأَيْتَ هِلَالَ الْمُحَرَّمِ فَاعْدُدْ وَأَصْبِحْ يَوْمَ التَّاسِعِ صَائِمًا قُلْتُ هَکَذَا کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُهُ قَالَ نَعَمْ

ابوبکر بن ابی شیبہ، وکیع بن جراح، حاجب ابن عمر، حضرت حکم بن اعرج سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ میں حضرت ابن عباس ؓ کے پاس گیا اس حال میں کہ وہ زم زم (کے قریب) اپنی چادر سے ٹیک لگائے بیٹھے تھے تو میں نے ان سے عرض کیا کہ مجھے عاشورہ کے روزے کے بارے میں خبر دیجئے انہوں نے فرمایا کہ جب تو محرم کا چاند دیکھے تو تو گنتا رہ اور نویں تاریخ کے دن کی صبح روزے کی حالت میں کر۔ میں نے عرض کیا کہ کیا محمد ﷺ اسی طرح روزہ رکھتے تھے انہوں نے فرمایا ہاں!

Hakam bin al-Araj reported: I went to Ibn Abbas (Allah be Pleased with both of them) and he was reclining using his mantle as a pillow near the fountain of Zamzam. I said to him: Tell me about fasting on Ashura. He said: When you see the new moon of Muharram then count the (days) and observe fast on the 9th. I said to him: Is it how the Messenger of Allah ﷺ observed the fast? He said: Yes.

2665Sahih Muslim

اس بات کے بیان میں کہ عاشورہ کے روزہ کس دن رکھا جائے؟

و حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ عَمْرٍو حَدَّثَنِي الْحَکَمُ بْنُ الْأَعْرَجِ قَالَ سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا وَهُوَ مُتَوَسِّدٌ رِدَائَهُ عِنْدَ زَمْزَمَ عَنْ صَوْمِ عَاشُورَائَ بِمِثْلِ حَدِيثِ حَاجِبِ بْنِ عُمَرَ

محمد بن حاتم، یحییٰ بن سعید، معاویہ بن عمرو، حضرت حکم بن اعرج کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عباس ؓ سے اس حال میں پوچھا کہ وہ زم زم کے پاس اپنی چادر سے ٹیک لگائے بیٹھے تھے عاشورہ کے روزے کے بارے میں پوچھا اس کے بعد اسی طرح حدیث مبارکہ ہے

Hakam bin Araj reported: I asked Ibn Abbas (RA) as he was reclining using his cloak as a pillow near Zamzam about fasting on Ashura. The rest of the hadith is the same.

2666Sahih Muslim

اس بات کے بیان میں کہ عاشورہ کے روزہ کس دن رکھا جائے؟

و حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ أَيُّوبَ حَدَّثَنِي إِسْمَعِيلُ بْنُ أُمَيَّةَ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا غَطَفَانَ بْنَ طَرِيفٍ الْمُرِّيَّ يَقُولُ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يَقُولُا حِينَ صَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ عَاشُورَائَ وَأَمَرَ بِصِيَامِهِ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهُ يَوْمٌ تُعَظِّمُهُ الْيَهُودُ وَالنَّصَارَی فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِذَا کَانَ الْعَامُ الْمُقْبِلُ إِنْ شَائَ اللَّهُ صُمْنَا الْيَوْمَ التَّاسِعَ قَالَ فَلَمْ يَأْتِ الْعَامُ الْمُقْبِلُ حَتَّی تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

حسن بن علی حلوانی، ابن ابی مریم، یحییٰ بن ایوب، اسماعیل بن امیہ، حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ جس وقت رسول اللہ ﷺ نے عاشورہ کے دن روزہ رکھا اور اس کے روزے کا حکم فرمایا تو انہوں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول! اس دن تو یہودی اور نصاری تعظیم کرتے ہیں تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جب آئندہ سال آئے گا تو ہم نویں تاریخ کا بھی روزہ رکھیں گے راوی نے کہا کہ ابھی آئندہ سال نہیں آیا تھا کہ رسول اللہ ﷺ وفات پا گئے۔

Ibn Abbas reported that when the Messenger of Allah ﷺ fasted on the day of Ashura and commanded that it should he observed as a fast, they (his Companions) said to him: Messenger of Allah, it is a day which the Jews and Christians hold in high esteem. Thereupon the Messenger of Allah ﷺ said: When the next year comes, God willing, we would observe fast on the 9th But the Messenger of Allah ﷺ died before the advent of the next year.

2667Sahih Muslim

اس بات کے بیان میں کہ عاشورہ کے روزہ کس دن رکھا جائے؟

و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو کُرَيْبٍ قَالَا حَدَّثَنَا وَکِيعٌ عَنْ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ عَبَّاسٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَيْرٍ لَعَلَّهُ قَالَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَئِنْ بَقِيتُ إِلَی قَابِلٍ لَأَصُومَنَّ التَّاسِعَ وَفِي رِوَايَةِ أَبِي بَکْرٍ قَالَ يَعْنِي يَوْمَ عَاشُورَائَ

ابوبکر بن ابی شیبہ، ابوکریب، وکیع، ابن ابی ذئب، قاسم بن عباس، عبداللہ بن عمیر، حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اگر میں آنے والے سال تک زندہ رہا تو میں نویں تاریخ کا بھی ضرور روزہ رکھوں گا اور ابوبکر کی روایت میں ہے کہ آپ نے فرمایا عاشورہ کے دن کا روزہ۔

Abdullah b Abbas reported that the Messenger of Allah ﷺ had said: If I live till the next (year), I would definitely observe fast on the 9th, and the narration transmitted by Abu Bakr (RA) is: "He meant the day of Ashura."

2668Sahih Muslim

اس بات کے بیان میں کہ جس نے عاشورہ کے دن کھانا کھالیا ہو تو اسے چاہیے کہ باقی دن کھانے سے رکا رہے۔

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا حَاتِمٌ يَعْنِي ابْنَ إِسْمَعِيلَ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْأَکْوَعِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا مِنْ أَسْلَمَ يَوْمَ عَاشُورَائَ فَأَمَرَهُ أَنْ يُؤَذِّنَ فِي النَّاسِ مَنْ کَانَ لَمْ يَصُمْ فَلْيَصُمْ وَمَنْ کَانَ أَکَلَ فَلْيُتِمَّ صِيَامَهُ إِلَی اللَّيْلِ

قتیبہ بن سعید، حاتم یعنی ابن اسماعیل، یزید ابن ابی عبید، حضرت سلمہ بن اکوع ؓ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے قبیلہ اسلم کے ایک آدمی کو عاشورہ کے دن بھیجا اور اسے حکم فرمایا کہ وہ لوگوں میں اعلان کر دے کہ جس آدمی نے روزہ نہ رکھا ہو وہ روزہ رکھ لے اور جس نے کھالیا ہو تو اسے چاہئے کہ وہ اپنے روزے کو رات تک پورا کرلے۔

Salama bin al-Akwa (RA) reported that the Messenger of Allah ﷺ sent a person of the tribe of Aslam on the day of Ashura and commanded him to declare to the people to observe fast in case they had not observed it, and to complete fast till evening if they had taken food.

2669Sahih Muslim

اس بات کے بیان میں کہ جس نے عاشورہ کے دن کھانا کھالیا ہو تو اسے چاہیے کہ باقی دن کھانے سے رکا رہے۔

و حَدَّثَنِي أَبُو بَکْرِ بْنُ نَافِعٍ الْعَبْدِيُّ حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ بْنِ لَاحِقٍ حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ ذَکْوَانَ عَنْ الرُّبَيِّعِ بِنْتِ مُعَوِّذِ بْنِ عَفْرَائَ قَالَتْ أَرْسَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَدَاةَ عَاشُورَائَ إِلَی قُرَی الْأَنْصَارِ الَّتِي حَوْلَ الْمَدِينَةِ مَنْ کَانَ أَصْبَحَ صَائِمًا فَلْيُتِمَّ صَوْمَهُ وَمَنْ کَانَ أَصْبَحَ مُفْطِرًا فَلْيُتِمَّ بَقِيَّةَ يَوْمِهِ فَکُنَّا بَعْدَ ذَلِکَ نَصُومُهُ وَنُصَوِّمُ صِبْيَانَنَا الصِّغَارَ مِنْهُمْ إِنْ شَائَ اللَّهُ وَنَذْهَبُ إِلَی الْمَسْجِدِ فَنَجْعَلُ لَهُمْ اللُّعْبَةَ مِنْ الْعِهْنِ فَإِذَا بَکَی أَحَدُهُمْ عَلَی الطَّعَامِ أَعْطَيْنَاهَا إِيَّاهُ عِنْدَ الْإِفْطَارِ

ابوبکر بن نافع، بشر بن مفضل بن لاحق، خالد بن ذکوان، حضرت ربیع بنت معوذ بن عفراء ؓ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے عاشورہ کی صبح کو انصار کی اس بستی کی طرف جو مدینہ منورہ کے ارد گرد تھی یہ پیغام بھجوا دیا کہ جس آدمی نے صبح روزہ رکھا تو وہ اپنے روزے کو پورا کرلے اور جس نے صبح کو افطار کرلیا ہو تو اسے چاہیے کہ باقی دن روزہ پورا کرلے اس کے بعد ہم روزہ رکھتے تھے اور ہم اپنے چھوٹے بچوں کو بھی روزہ رکھواتے تھے اور ہم انہیں مسجد کی طرف لے جاتے اور ہم ان کے لئے روئی کی گڑیا بناتے اور جب ان بچوں میں سے کوئی کھانے کی وجہ سے روتا تو ہم انہیں وہ گڑیا دے دیتے تاکہ وہ افطاری تک ان کے ساتھ کھیلتے رہیں۔

Rubayyi daughter of Muawwidh bin Afra said that the Messenger of Allah ﷺ sent (a person) on the morning of Ashura to the villages of Ansar around Madinah (with this message): He who got up in the morning fasting (without eating anything) he should complete his fast, and he who had had his breakfast in the morning, he should complete the rest of the day (without food). The Companions said; We henceforth observed fast on it (on the day of Ashura) and, God willing, made our children observe that. We went to the mosque and made toys out of wool for them and when anyone felt hungry and wept for food we gave them these toys till it was the time to break the fast.

2670Sahih Muslim

اس بات کے بیان میں کہ جس نے عاشورہ کے دن کھانا کھالیا ہو تو اسے چاہیے کہ باقی دن کھانے سے رکا رہے۔

و حَدَّثَنَاه يَحْيَی بْنُ يَحْيَی حَدَّثَنَا أَبُو مَعْشَرٍ الْعَطَّارُ عَنْ خَالِدِ بْنِ ذَکْوَانَ قَالَ سَأَلْتُ الرُّبَيِّعَ بِنْتَ مُعَوِّذٍ عَنْ صَوْمِ عَاشُورَائَ قَالَتْ بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رُسُلَهُ فِي قُرَی الْأَنْصَارِ فَذَکَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ بِشْرٍ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ وَنَصْنَعُ لَهُمْ اللُّعْبَةَ مِنْ الْعِهْنِ فَنَذْهَبُ بِهِ مَعَنَا فَإِذَا سَأَلُونَا الطَّعَامَ أَعْطَيْنَاهُمْ اللُّعْبَةَ تُلْهِيهِمْ حَتَّی يُتِمُّوا صَوْمَهُمْ

یحییٰ بن یحیی، ابومعشر، عطار، حضرت خالد بن ذکوان کہتے ہیں کہ میں نے ربیع بنت معوذ ؓ سے عاشورہ کے روزے کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے انصار کی بستی میں اپنا نمائندہ بھیجا پھر آ کر بشر کی حدیث کی طرح روایت ذکر کی سوائے اس کے کہ انہوں نے کہا کہ ہم ان بچوں کے لئے روئی کی گڑیاں بناتے تاکہ وہ ان سے کھیلیں اور وہ ہمارے ساتھ مسجد میں جاتے تو جب وہ ہم سے کھانا مانگتے تو ہم انہیں وہ گڑیاں دے دیتے اور وہ ان سے کھیل میں لگ کر روزہ بھول جاتے یہاں تک کہ ان کا روزہ پورا ہوجاتا۔

Khalid bin Dhakwan reported: I asked Rubayyi daugther of Muawwidh about fasting on the day of Ashura. Thereupon she said: The Messenger of Allah ﷺ (may peace he upon him) sent his messenger to the villages of the Ansar, and the rest of the hadith is the same (but with this variation that one of the Companions) said: "We used to make toys out of wool and took (them to the mosque) along with us. When they (the children) asked us for food, we gave them these toys to play with, and these made them forgetful till they completed their fast."

2671Sahih Muslim

عیدیں کے دنوں میں روزہ رکھنے کی حرمت کے بیان میں

و حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَالِکٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ أَبِي عُبَيْدٍ مَوْلَی ابْنِ أَزْهَرَ أَنَّهُ قَالَ شَهِدْتُ الْعِيدَ مَعَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَجَائَ فَصَلَّی ثُمَّ انْصَرَفَ فَخَطَبَ النَّاسَ فَقَالَ إِنَّ هَذَيْنِ يَوْمَانِ نَهَی رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صِيَامِهِمَا يَوْمُ فِطْرِکُمْ مِنْ صِيَامِکُمْ وَالْآخَرُ يَوْمٌ تَأْکُلُونَ فِيهِ مِنْ نُسُکِکُمْ

یحییٰ بن یحیی، مالک ابن شہاب، حضرت ابوعبید مولیٰ بن ازہر سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ میں عید کے دن حضرت عمر بن خطاب ؓ کے پاس موجود تھا تو آپ آئے اور نماز پڑھی پھر نماز سے فارغ ہو کر لوگوں کو خطبہ دیا اور فرمایا کہ یہ دو دن (ان دنوں میں) ہیں رسول اللہ ﷺ نے روزہ رکھنے سے منع فرمایا ہے (ان دنوں میں سے) ایک وہ دن کہ جس دن تم (مضان کے روزوں سے فارغ ہوکر) افطار کرتے ہو (عید الفطر) اور دوسرا وہ دن کہ جس میں تم اپنی قربانیوں کا گوشت کھاتے ہو (عینی عید الاضحیٰ )۔

Abu Ubaid, the freed slave of Ibn Azhar, reported: I observed Id along with Umar bin al-Khattab (RA) . He came (out in an open space) and prayed and (after) completing it addressed the people and said: The Messenger of Allah ﷺ has forbidden the observing of fast on these two days. One is the day of Fitr (at the end of your fasts), and the second one, the day when you eat (the meat) of your sacrifices.

2672Sahih Muslim

عیدیں کے دنوں میں روزہ رکھنے کی حرمت کے بیان میں

و حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَالِکٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَی بْنِ حَبَّانَ عَنْ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَی عَنْ صِيَامِ يَوْمَيْنِ يَوْمِ الْأَضْحَی وَيَوْمِ الْفِطْرِ

یحییٰ بن یحیی، مالک، محمد بن یحییٰ بن حبان، اعرج، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے دو دنوں کے روزوں سے منع فرمایا ایک قربانی کے دن اور دوسرا فطر (عید الفطر) کے دن۔

Abu Hurairah (RA) reported that the Messenger of Allah ﷺ forbade to observe fast on these two days. Id-ul-Adha bi and Id-ul-Fitr.

2673Sahih Muslim

عیدین کے دنوں میں روزہ رکھنے کی حرمت کے بیان میں

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ وَهُوَ ابْنُ عُمَيْرٍ عَنْ قَزَعَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ مِنْهُ حَدِيثًا فَأَعْجَبَنِي فَقُلْتُ لَهُ آنْتَ سَمِعْتَ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَأَقُولُ عَلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا لَمْ أَسْمَعْ قَالَ سَمِعْتُهُ يَقُولُ لَا يَصْلُحُ الصِّيَامُ فِي يَوْمَيْنِ يَوْمِ الْأَضْحَی وَيَوْمِ الْفِطْرِ مِنْ رَمَضَانَ

قتیبہ بن سعید، جریر، عبدالملک، ابن عمیر، قزعہ، حضرت ابوسعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ میں نے ایک حدیث سنی جو مجھے بڑی عجیب لگی قزعہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابوسعید ؓ سے کہا کہ کیا آپ نے رسول اللہ ﷺ سے یہ حدیث سنی ہے؟ حضرت ابوسعید نے فرمایا کہ کیا میں رسول اللہ ﷺ پر وہ بات کہہ سکتا ہوں جس کو میں نے آپ سے نہ سنا ہو انہوں نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ دو دنوں میں روزہ رکھنا درست نہیں ایک قربانی کے دن دوسرے رمضان (رمضان کے بعد) عیدالفطر کے دن۔

Qazaa related from Abu Said. He said: I heard from him (Abu Said) a hadith which impressed me, and I said to him: Did you hear it from the Messenger of Allah ﷺ ? Thereupon he said: (Is it possible) that (I should) say about the Messenger of Allah ﷺ that which I have not heard? I heard him saying: It is not proper to fast on two days, Adha and Fitr (at the end) of Ramadan.

2674Sahih Muslim

عیدین کے دنوں میں روزہ رکھنے کی حرمت کے بیان میں

و حَدَّثَنَا أَبُو کَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ الْمُخْتَارِ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ يَحْيَی عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَی عَنْ صِيَامِ يَوْمَيْنِ يَوْمِ الْفِطْرِ وَيَوْمِ النَّحْرِ

ابوکامل جحدری، عبدالعزیز بن مختار، عمرو بن یحیی، حضرت ابوسعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے دو دنوں کے روزے رکھنے سے منع فرمایا ہے ایک عید الفطر کے دن دوسرے عید الاضحی یعنی قربانی کے دن۔

Abu Said al-Khudri (RA) reported that the Messenger of Allah ﷺ forbade to observe fast on two days the day of Fitr and the day of Sacrifice (Id-ul-Adha).