روزوں کا بیان

Sahih Muslim · Chapter 15 · 285 hadiths · Page 10 of 15

2675Sahih Muslim

عیدین کے دنوں میں روزہ رکھنے کی حرمت کے بیان میں

و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا وَکِيعٌ عَنْ ابْنِ عَوْنٍ عَنْ زِيَادِ بْنِ جُبَيْرٍ قَالَ جَائَ رَجُلٌ إِلَی ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا فَقَالَ إِنِّي نَذَرْتُ أَنْ أَصُومَ يَوْمًا فَوَافَقَ يَوْمَ أَضْحَی أَوْ فِطْرٍ فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَمَرَ اللَّهُ تَعَالَی بِوَفَائِ النَّذْرِ وَنَهَی رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صَوْمِ هَذَا الْيَوْمِ

ابوبکر بن ابی شیبہ، وکیع، ابن عون، حضرت زیاد بن جبیر ؓ سے روایت ہے کہ فرمایا کہ ایک آدمی حضرت ابن عمر ؓ کی طرف آیا اور عرض کیا کہ میں نے منت مانی تھی کہ میں ایک دن کا روزہ رکھوں گا تو وہ دن قربانی کی عید کے دن یا عیدالفطر کے دن سے موافقت کر رہا ہے تو حضرت ابن عمر ؓ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے منت کو پورا کرنے کا حکم دیا ہے اور رسول اللہ ﷺ نے اس دن کے روزے سے منع فرمایا ہے۔

Ziyad bin Jubair reported that a person came to Ibn Umar (RA) and said: I had taken a vow that I would fast on the day (but it accidentally) synchronises with the day of Adha or the day of Fitr. Thereupon Ibn Umar (RA) said: Allah, the Exalted, has commanded fulfilling of the vow, but the Messenger of Allah ﷺ has forbidden the observance of fast on this day.

2676Sahih Muslim

عیدین کے دنوں میں روزہ رکھنے کی حرمت کے بیان میں

و حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا سَعْدُ بْنُ سَعِيدٍ أَخْبَرَتْنِي عَمْرَةُ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ نَهَی رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صَوْمَيْنِ يَوْمِ الْفِطْرِ وَيَوْمِ الْأَضْحَی

ابن نمیر، سعد بن ابی سعید، عمرہ، سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت ہے فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے دو روزوں سے منع فرمایا ہے ایک عید الفطر کے دن اور عید الاضحی کے دن۔

Aisha (Allah be pleased with her) said that the Prophet ﷺ forbade to observe fast on two days-the day of Fitr and the day of Adha.

2677Sahih Muslim

ایام تشریق کے روزوں کی حرمت اور اس بات کے بیان میں کہ یہ دن کھانے پینے اور اللہ تعالیٰ کے ذکر کے دن ہیں۔

و حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ أَخْبَرَنَا خَالِدٌ عَنْ أَبِي الْمَلِيحِ عَنْ نُبَيْشَةَ الْهُذَلِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيَّامُ التَّشْرِيقِ أَيَّامُ أَکْلٍ وَشُرْبٍ

سریج بن یونس، ہشیم، خالد، ابی ملیح، حضرت نبیشہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تشریق کے دن کھانے اور پینے کے دن ہیں۔

Nubaisha al-Hudhali reported Allahs Messenger ﷺ as saying: The days of Tashriq are the days of eating and drinking.

2678Sahih Muslim

ایام تشریق کے روزوں کی حرمت اور اس بات کے بیان میں کہ یہ دن کھانے پینے اور اللہ تعالیٰ کے ذکر کے دن ہیں۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ يَعْنِي ابْنَ عُلَيَّةَ عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّائِ حَدَّثَنِي أَبُو قِلَابَةَ عَنْ أَبِي الْمَلِيحِ عَنْ نُبَيْشَةَ قَالَ خَالِدٌ فَلَقِيتُ أَبَا الْمَلِيحِ فَسَأَلْتُهُ فَحَدَّثَنِي بِهِ فَذَکَرَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِ حَدِيثِ هُشَيْمٍ وَزَادَ فِيهِ وَذِکْرٍ لِلَّهِ

محمد بن عبداللہ ابن نمیر، اسماعیل ابن علیہ، خالد، ابوقلابہ، ابی ملیح، نبیشہ اس سند کے ساتھ بھی نبی ﷺ سے اسی حدیث کی طرح حدیث منقول ہے اور اس میں صرف ذکر اللہ کے الفاظ زائد ہیں

Nabaisha reported that Khalid said: I met Abu Malih and asked him and he narrated it to me from the Apostle of Allah ﷺ . A hadith like one (narrated above) with this addition: "And remembrance of Allah"

2679Sahih Muslim

ایام تشریق کے روزوں کی حرمت اور اس بات کے بیان میں کہ یہ دن کھانے پینے اور اللہ تعالیٰ کے ذکر کے دن ہیں۔

و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَابِقٍ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ ابْنِ کَعْبِ بْنِ مَالِکٍ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ حَدَّثَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَهُ وَأَوْسَ بْنَ الْحَدَثَانِ أَيَّامَ التَّشْرِيقِ فَنَادَی أَنَّهُ لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ إِلَّا مُؤْمِنٌ وَأَيَّامُ مِنًی أَيَّامُ أَکْلٍ وَشُرْبٍ

ابوبکر بن ابی شیبہ، محمد بن سابق، ابراہیم بن طہمان، ابی زبیر، حضرت کعب بن مالک ؓ اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے انہیں اوس بن حدثان کو تشریق کے دنوں میں یہ اعلان کرانے کے لئے بھیجا کہ جنت میں مومن کے سوا کوئی داخل نہیں ہوگا اور منٰی کے دن کھانے اور پینے کے دن ہیں۔

Ibn Kab bin Malik reported on the authority of his father that the Messenger of Allah ﷺ sent him and Aus bin Hadathan during the days of Tashriq to make this announcement: None but the believer would be admitted into Paradise, and the days of Mina are the days meant for eating and drinking.

2680Sahih Muslim

ایام تشریق کے روزوں کی حرمت اور اس بات کے بیان میں کہ یہ دن کھانے پینے اور اللہ تعالیٰ کے ذکر کے دن ہیں۔

و حَدَّثَنَاه عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ عَبْدُ الْمَلِکِ بْنُ عَمْرٍو حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ فَنَادَيَا

عبد بن حمید، ابوعامر، عبدالملک بن عمرو، ابراہیم بن طہمان اس سند کے ساتھ بھی اسی طرح روایت نقل کی گئی ہے سوائے اس کے کہ اس میں ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا کہ تم دونوں جا کر اعلان کردو۔

This hadith has been narrated on the authority of Ibrahim bin Tahman with the same chain of transmitters but with this variation that he said: Both of them made the announcement."

2681Sahih Muslim

خاص جمعہ کے دن روزہ رکھنے کی کر اہت کے بیان میں

حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبَّادِ بْنِ جَعْفَرٍ سَأَلْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا وَهُوَ يَطُوفُ بِالْبَيْتِ أَنَهَی رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صِيَامِ يَوْمِ الْجُمُعَةِ فَقَالَ نَعَمْ وَرَبِّ هَذَا الْبَيْتِ

عمرو ناقد، سفیان بن عیینہ، عبدالحمید ابن جبیر، حضرت محمد بن عباد بن جعفر ؓ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت جابر بن عبداللہ ؓ سے پوچھا اس حال میں کہ وہ بیت اللہ کا طواف کر رہے تھے کہ کیا رسول اللہ ﷺ نے جمعہ کے دن روزہ رکھنے سے منع فرمایا ہے؟ تو انہوں نے فرمایا ہاں! قسم ہے اس گھر کے رَبّ کی۔

Muhammad bin Abad. Jafar reported: I asked Jabir bin Abdullah (Allah be pleased with both of them) as he was circumambulating the House (Ka’bah) whether the Messenger of Allah ﷺ had forbidden the fasting on Friday, whereupon he said: Yes, by the Lord of this House.

2682Sahih Muslim

خاص جمعہ کے دن روزہ رکھنے کی کر اہت کے بیان میں

و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جُبَيْرِ بْنِ شَيْبَةَ أَنَّهُ أَخْبَرَهُ مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادِ بْنِ جَعْفَرٍ أَنَّهُ سَأَلَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا بِمِثْلِهِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

محمد بن رافع، عبدالرزاق، ابن جریج، عبدالحمید بن جبیر بن شیبہ، محمد بن عباد بن جعفر، جابر بن عبداللہ اس سند میں بھی حضرت محمد بن عباد بن جعفر خبر دیتے ہیں کہ انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ ؓ سے پوچھا انہوں نے نبی ﷺ سے اس حدیث کی طرح نقل فرمایا۔

Muhammad bin Abad. Jafar reported that he asked Jabir binAbdullah (RA) , whether he had heard like this from the Apostle of Allah ﷺ .

2683Sahih Muslim

خاص جمعہ کے دن روزہ رکھنے کی کر اہت کے بیان میں

و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا حَفْصٌ وَأَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ الْأَعْمَشِ ح حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی وَاللَّفْظُ لَهُ أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَصُمْ أَحَدُکُمْ يَوْمَ الْجُمُعَةِ إِلَّا أَنْ يَصُومَ قَبْلَهُ أَوْ يَصُومَ بَعْدَهُ

ابوبکر بن ابی شیبہ، حفص، ابومعاویہ، اعمش، یحییٰ بن یحیی، ابومعاویہ، اعمش، ابی صالح، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا تم میں سے کوئی آدمی جمعہ کے دن روزہ نہ رکھے سوائے اس کے کہ وہ اس سے پہلے یا اس کے بعد روزہ رکھے

Abu Hurairah (RA) reported the Apostle of Allah ﷺ as saying: None among you should observe fast on Friday, but only that he observes fast before it and after it.

2684Sahih Muslim

خاص جمعہ کے دن روزہ رکھنے کی کر اہت کے بیان میں

و حَدَّثَنِي أَبُو کُرَيْبٍ حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ يَعْنِي الْجُعْفِيَّ عَنْ زَائِدَةَ عَنْ هِشَامٍ عَنْ ابْنِ سِيرِينَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تَخْتَصُّوا لَيْلَةَ الْجُمُعَةِ بِقِيَامٍ مِنْ بَيْنِ اللَّيَالِي وَلَا تَخُصُّوا يَوْمَ الْجُمُعَةِ بِصِيَامٍ مِنْ بَيْنِ الْأَيَّامِ إِلَّا أَنْ يَکُونَ فِي صَوْمٍ يَصُومُهُ أَحَدُکُمْ

ابوکریب، حسین یعنی جعفی، زائدہ، ہشام، ابن سیرین، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ راتوں میں سے جمعہ کی رات کو قیام کے ساتھ مخصوص نہ کرو اور نہ ہی دنوں میں سے جمعہ کے دن کو روزے کے ساتھ مخصوص کرو سوائے اس کے کہ تم میں سے جو کوئی روزے رکھ رہا ہو۔

Abu Hurairah (RA) reported Allahs Apostle ﷺ as saying: Do not single out the night (preceding) Friday among the nights for prayer and do not single out Friday among days for fasting but only when anyone among you is accustomed to fast (on dates) which coincide with this day (Friday).

2685Sahih Muslim

اللہ تعالیٰ کے فرمان جو لوگ روزہ رکھنے کی طاقت رکھتے ہوں وہ روزہ کے بدلہ میں ایک مسکین کو کھانا کھلا دیں کے منسوخ ہونے کے بیان میں

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا بَکْرٌ يَعْنِي ابْنَ مُضَرَ عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ عَنْ بُکَيْرٍ عَنْ يَزِيدَ مَوْلَی سَلَمَةَ عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْأَکْوَعِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ وَعَلَی الَّذِينَ يُطِيقُونَهُ فِدْيَةٌ طَعَامُ مِسْکِينٍ کَانَ مَنْ أَرَادَ أَنْ يُفْطِرَ وَيَفْتَدِيَ حَتَّی نَزَلَتْ الْآيَةُ الَّتِي بَعْدَهَا فَنَسَخَتْهَا

قتیبہ بن سعید، بکر یعنی ابن مضر، عمرو بن حارث، بکیر، یزید مولیٰ سلمہ، حضرت سلمہ بن اکوع ؓ فرماتے ہیں کہ جب یہ آیت کریمہ نازل ہوئی (وَعَلَي الَّذِيْنَ يُطِيْقُوْنَه فِدْيَةٌ طَعَامُ مِسْكِيْنٍ ) 2۔ البقرۃ: 184) اور جو لوگ روزہ رکھنے کی طاقت رکھتے ہوں وہ روزہ کے بدلہ میں ایک مسکین کو کھانا کھلا دیں جس آدمی کا روزہ چھوڑنے کا ارادہ ہوتا تو وہ فدیہ دے دیتا یہاں تک کہ اس کے بعد والی آیت نازل ہوئی جس نے اس حکم کو منسوخ کردیا۔

Salama bin Akwa (RA) reported that when this verse was revealed: "And as for those who can fast (but do not) expiation is the feeding of a needy person" (ii. 183), (he who liked to observe fast did observe it) and he who felt reluctant to observe it ate and expiated till the verse was revealed which abrogated it.

2686Sahih Muslim

اللہ تعالیٰ کے فرمان جو لوگ روزہ رکھنے کی طاقت رکھتے ہوں وہ روزہ کے بدلہ میں ایک مسکین کو کھانا کھلا دیں کے منسوخ ہونے کے بیان میں

حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ سَوَّادٍ الْعَامِرِيُّ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ عَنْ بُکَيْرِ بْنِ الْأَشَجِّ عَنْ يَزِيدَ مَوْلَی سَلَمَةَ بْنِ الْأَکْوَعِ عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْأَکْوَعِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ کُنَّا فِي رَمَضَانَ عَلَی عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ شَائَ صَامَ وَمَنْ شَائَ أَفْطَرَ فَافْتَدَی بِطَعَامِ مِسْکِينٍ حَتَّی أُنْزِلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ فَمَنْ شَهِدَ مِنْکُمْ الشَّهْرَ فَلْيَصُمْهُ

عمرو بن سواد عامری، عبداللہ بن وہب، عمرو بن حارث، بکیر بن اشجع، یزید مولیٰ سلمہ بن اکوع، حضرت سلمہ بن اکوع ؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ رمضان کے مہینہ میں رسول اللہ ﷺ کے زمانہ مبارک میں ہم میں سے جو چاہتا روزہ رکھ لیتا اور جو چاہتا روزہ چھوڑ دیتا اور ایک مسکین کو کھانا کھلا کر ایک روزے کا فدیہ دے دیتا یہاں تک کہ یہ آیت کریمہ نازل ہوئی (فَمَنْ شَهِدَ مِنْكُمُ الشَّهْرَ فَلْيَصُمْهُ ) 2۔ البقرۃ: 185) تو جو تم میں سے اس مہینہ میں موجود ہو تو اسے چاہے کہ وہ روزہ رکھے۔

Salama bin Akwa reported: We, during the lifetime of the Messenger of Allah ﷺ , in one month of Ramadan (observed fast according to our liking). He who wished to fast lasted and he who wished to break broke it and fed a needy person as an expiation (1544) till this verse was revealed: "He who witnesses among you the month (of Ramadan) he should observe fast during it" (ii. 184).

2687Sahih Muslim

رمضان کے روزوں کی قضا جب تک کہ دوسرا رمضان نہ آجائے تاخیر کے جواز کے بیان میں اور یہ اس آدمی کے لئے ہے جس نے بیماری سفر حیض وغیرہ عذر کی وجہ سے روزہ چھوڑ دیا

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يُونُسَ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ قَالَ سَمِعْتُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا تَقُولُ کَانَ يَکُونُ عَلَيَّ الصَّوْمُ مِنْ رَمَضَانَ فَمَا أَسْتَطِيعُ أَنْ أَقْضِيَهُ إِلَّا فِي شَعْبَانَ الشُّغْلُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

احمد بن عبداللہ بن یونس، زہیر، یحییٰ بن سعید، حضرت ابوسلمہ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کو فرماتے ہوئے سنا کہ رمضان کے روزے مجھ سے قضاء ہوجاتے تھے تو میں ان روزوں کے سوائے شعبان کی قضا نہیں کرسکتی تھی رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں مشغولیت کی وجہ سے۔

Abu Salama reported: I heard Aisha (Allah be pleased with her) as saying: I had to complete some of the fasts of Ramadan, but I could not do it but during the month of Shaban due to my duties to the Messenger of Allah ﷺ or with the Messenger of Allah ﷺ .

2688Sahih Muslim

رمضان کے روزوں کی قضا جب تک کہ دوسرا رمضان نہ آجائے تاخیر کے جواز کے بیان میں اور یہ اس آدمی کے لئے ہے جس نے بیماری سفر حیض وغیرہ عذر کی وجہ سے روزہ چھوڑ دیا

و حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا بِشْرُ بْنُ عُمَرَ الزَّهْرَانِيُّ حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ وَذَلِکَ لِمَکَانِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

اسحاق بن ابراہیم، بشر بن عمر زہرانی، سلیمان بن بلال، یحیی، حضرت یحییٰ بن سعید اس سند کے ساتھ اس طرح بیان کرتے ہیں سوائے اس کہ اس میں میں رسول اللہ ﷺ کیوجہ سے مشغول رہتی تھی۔

This hadith is narrated on the authority of Yahya bin Said with the same chain of transmitters but with this variation that he said that (Aisha did not observe fast but in Shaban) out of regard for the Messenger of Allah ﷺ .

2689Sahih Muslim

رمضان کے روزوں کی قضا جب تک کہ دوسرا رمضان نہ آجائے تاخیر کے جواز کے بیان میں اور یہ اس آدمی کے لئے ہے جس نے بیماری سفر حیض وغیرہ عذر کی وجہ سے روزہ چھوڑ دیا

و حَدَّثَنِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ حَدَّثَنِي يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَقَالَ فَظَنَنْتُ أَنَّ ذَلِکَ لِمَکَانِهَا مِنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَحْيَی يَقُولُهُ

محمد بن رافع، عبدالرزاق، ابن جریج، حضرت یحییٰ بن سعید نے اس سند کے ساتھ اس طرح بیان کیا کہ میرا خیال ہے کہ یہ تاخیر نبی ﷺ کی خدمت میں مشغولی کی وجہ سے ہوتی تھی۔

(In another version, the words are): "Yahya said: I think it was due to the regard for the Apostle of Allah ﷺ ."

2690Sahih Muslim

رمضان کے روزوں کی قضا جب تک کہ دوسرا رمضان نہ آجائے تاخیر کے جواز کے بیان میں اور یہ اس آدمی کے لئے ہے جس نے بیماری سفر حیض وغیرہ عذر کی وجہ سے روزہ چھوڑ دیا

و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ ح و حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ کِلَاهُمَا عَنْ يَحْيَی بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَلَمْ يَذْکُرَا فِي الْحَدِيثِ الشُّغْلُ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

محمد بن مثنی، عبدالوہاب، عمرو ناقد، سفیان، حضرت یحییٰ سے اس سند کے ساتھ روایت ہے اور اس حدیث میں یہ ذکر نہیں کیا کہ رسول اللہ ﷺ کی وجہ سے قضا میں تاخیر ہوتی تھی۔

This hadith is reported on the authority of Yahya with the same chain of transmitters but no mention is made of the duty to the Messenger of Allah ﷺ .

2691Sahih Muslim

رمضان کے روزوں کی قضا جب تک کہ دوسرا رمضان نہ آجائے تاخیر کے جواز کے بیان میں اور یہ اس آدمی کے لئے ہے جس نے بیماری سفر حیض وغیرہ عذر کی وجہ سے روزہ چھوڑ دیا

و حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عُمَرَ الْمَکِّيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ الدَّرَاوَرْدِيُّ عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْهَادِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّهَا قَالَتْ إِنْ کَانَتْ إِحْدَانَا لَتُفْطِرُ فِي زَمَانِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَا تَقْدِرُ عَلَی أَنْ تَقْضِيَهُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّی يَأْتِيَ شَعْبَانُ

محمد بن ابی عمر مکی، عبدالعزیز بن محمد در اور دی، یزید بن عبداللہ بن ہاد، محمد بن ابراہیم، ابی سلمہ بن عبدالرحمن، سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت ہے فرماتی ہیں کہ اگر ہم میں سے کوئی رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں کوئی روزہ چھوڑتی تھی تو وہ قدرت نہ رکھتی کہ ان کی قضا کرلے رسول اللہ ﷺ کی وجہ سے یہاں تک کہ شعبان آجاتا۔

Aisha reported: If one amongst us had to break fasts of Ramadan (due to natural reasons, i. e. menses) during the life of the Messenger of Allah ﷺ she could not find it possible to complete them so long she had been in the presence of Allahs Messenger ﷺ till Shaban commenced.

2692Sahih Muslim

میت کی طرف سے روزوں کی قضا کے بیان میں

و حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ وَأَحْمَدُ بْنُ عِيسَی قَالَا حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي جَعْفَرٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ مَاتَ وَعَلَيْهِ صِيَامٌ صَامَ عَنْهُ وَلِيُّهُ

ہارون بن سعید، احمد بن عیسی، ابن وہب، عمرو بن حارث، عبیداللہ بن ابی جعفر، محمد بن جعفر بن زبیر، عروہ، سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جو آدمی انتقال کر جائے اور اس پر کچھ روزے لازم ہوں تو اس کا وارث اس کی طرف سے روزے رکھے۔

Aisha (Allah be pleased with her) reported Allahs Messenger ﷺ as saying: If anyone dies in a state (that he had to complete) some fasts, his heir must fast on his behalf.

2693Sahih Muslim

میت کی طرف سے روزوں کی قضا کے بیان میں

و حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا عِيسَی بْنُ يُونُسَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ مُسْلِمٍ الْبَطِينِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ امْرَأَةً أَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ إِنَّ أُمِّي مَاتَتْ وَعَلَيْهَا صَوْمُ شَهْرٍ فَقَالَ أَرَأَيْتِ لَوْ کَانَ عَلَيْهَا دَيْنٌ أَکُنْتِ تَقْضِينَهُ قَالَتْ نَعَمْ قَالَ فَدَيْنُ اللَّهِ أَحَقُّ بِالْقَضَائِ

اسحاق بن ابراہیم، عیسیٰ بن یونس، اعمش، مسلم، سعید بن جبیر، حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ ایک عورت رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں آئی اور کہنے لگی کہ میری ماں کا انتقال ہوگیا ہے اور اس پر ایک مہینے کے روزے لازم ہیں تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ تیرا کیا خیال ہے کہ اگر اس پر کوئی قرض ہوتا تو کیا تو اسے ادا کرتی؟ اس نے عرض کیا ہاں! آپ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کے قرض کا زیادہ حق ہے کہ اسے ادا کیا جائے

Ibn Abbas (Allah be pleased with both of them) reported: A woman came to the Messenger of Allah ﷺ and said: My mother has died, and fasts of a month are due from her. Thereupon he said: Dont you see that if debt was due from her, would you not pay it? She said: Yes (I would pay on her behalf). Thereupon he said: The debt of Allah deserves its payment more than the payment of anyone else.

2694Sahih Muslim

میت کی طرف سے روزوں کی قضا کے بیان میں

و حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ عُمَرَ الْوَکِيعِيُّ حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ عَنْ زَائِدَةَ عَنْ سُلَيْمَانَ عَنْ مُسْلِمٍ الْبَطِينِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ جَائَ رَجُلٌ إِلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أُمِّي مَاتَتْ وَعَلَيْهَا صَوْمُ شَهْرٍ أَفَأَقْضِيهِ عَنْهَا فَقَالَ لَوْ کَانَ عَلَی أُمِّکَ دَيْنٌ أَکُنْتَ قَاضِيَهُ عَنْهَا قَالَ نَعَمْ قَالَ فَدَيْنُ اللَّهِ أَحَقُّ أَنْ يُقْضَی قَالَ سُلَيْمَانُ فَقَالَ الْحَکَمُ وَسَلَمَةُ بْنُ کُهَيْلٍ جَمِيعًا وَنَحْنُ جُلُوسٌ حِينَ حَدَّثَ مُسْلِمٌ بِهَذَا الْحَدِيثِ فَقَالَا سَمِعْنَا مُجَاهِدًا يَذْکُرُ هَذَا عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ

احمد بن عمر وکیعی، حسین بن علی، زائدہ، سلیمان، مسلم، سعید بن جبیر، حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ ایک عورت آپ ﷺ کی خدمت میں آئی اور اس نے عرض کیا اے اللہ کے رسول! ﷺ میری ماں کا انتقال ہوگیا ہے اور اس پر ایک مہینے کے روزوں کی قضا لازم ہے تو آپ ﷺ نے فرمایا اگر تیری ماں پر کوئی قرض ہوتا تو کیا وہ قرض اس کی طرف سے تو ادا کرتی؟ عرض کیا کہ ہاں! آپ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ کا قرض زیادہ اس کا حقدار ہے کہ اسے ادا کیا جائے۔

Ibn Abbas (RA) reported: A man came to the Apostle of Allah ﷺ and said: Messenger of Allah, my mother has died (in a state) that she had to observe fasts of a month (of Ramadan). Should I complete (them) on her behalf? Thereupon he (the Holy Prophet) said: Would you not pay the debt if your mother had died (without paying it)? He said: Yes. He (the Holy Prophet) said: The debt of Allah deserves more that it should he paid.