Sahih Muslim 2606

روزوں کا بیان

2606Sahih Muslim

رمضان المبارک کے مہینے میں مسافر کے لئے جبکہ اس کا سفر دو منزل یا اس سے زیادہ ہو تو روزہ رکھنے اور نہ رکھنے کے جواز کے بیان میں

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ قَالَ الزُّهْرِيُّ وَکَانَ الْفِطْرُ آخِرَ الْأَمْرَيْنِ وَإِنَّمَا يُؤْخَذُ مِنْ أَمْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْآخِرِ فَالْآخِرِ قَالَ الزُّهْرِيُّ فَصَبَّحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَکَّةَ لِثَلَاثَ عَشْرَةَ لَيْلَةً خَلَتْ مِنْ رَمَضَانَ

محمد بن رافع، عبدالرزاق، معمر، حضرت زہری ؓ سے اس سند کے ساتھ اسی طرح روایت نقل کی گئی ہے اور زہری نے کہا کہ روزہ افطار کرنا آخری عمل تھا اور رسول اللہ ﷺ کے آخری عمل ہی کو اپنایا جاتا ہے زہری نے کہا کہ نبی ﷺ رمضان کی تیرہ تاریخ کو مکہ مکرمہ پہنچے۔

It has been narrated on the authority of Zuhri with the same chain of transmitters that breaking of fast (in a journey) is the final of the two commands (whether one may fast or one may break it), and it is the last command of the Messenger of Allah ﷺ which is to be accepted as final. Zuhri said: The Messenger of Allah ﷺ marched on Makkah on the morning of 14th of Ramadan (lit. when thirteen nights had passed).