روزوں کا بیان

Sahih Muslim · Chapter 15 · 285 hadiths · Page 12 of 15

2715Sahih Muslim

دن کو زوال سے پہلے نفلی روزے کی نیت کا جواز نفلی روزہ کے بغیر عذر افطار کے جواز کے بیان میں

و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا وَکِيعٌ عَنْ طَلْحَةَ بْنِ يَحْيَی عَنْ عَمَّتِهِ عَائِشَةَ بِنْتِ طَلْحَةَ عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ قَالَتْ دَخَلَ عَلَيَّ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ فَقَالَ هَلْ عِنْدَکُمْ شَيْئٌ فَقُلْنَا لَا قَالَ فَإِنِّي إِذَنْ صَائِمٌ ثُمَّ أَتَانَا يَوْمًا آخَرَ فَقُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ أُهْدِيَ لَنَا حَيْسٌ فَقَالَ أَرِينِيهِ فَلَقَدْ أَصْبَحْتُ صَائِمًا فَأَکَلَ

ابوبکر بن ابی شیبہ، وکیع، طلحہ بن یحیی، ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ ؓ فرماتی ہیں کہ ایک دن نبی ﷺ میری طرف تشریف لائے تو آپ ﷺ نے فرمایا کیا تمہارے پاس کچھ ہے؟ ہم نے عرض کیا نہیں، آپ ﷺ نے فرمایا تو پھر میں روزہ رکھ لیتا ہوں پھر دوسرے دن تشریف لائے تو ہم نے عرض کیا اے اللہ کے رسول! ہمارے لئے حسیس کا ہدیہ لایا گیا ہے آپ ﷺ نے فرمایا وہ مجھے دکھاؤ میں نے صبح روزے کی نیت کی تھے پھر آپ ﷺ نے اسے کھالیا۔

Aisha, the Mother of the Believers (Allah be pleased with her), reported: The Apostle of Allah ﷺ came to me one day and said: Is there anything with you (to eat)? I said: No. Thereupon he said: I shall then be fasting. Then he came to us another day and we said: Messenger of Allah, has been offered to us as a gift. Thereupon he said: Show that to me; I had been fasting since morning. He then ate it.

2716Sahih Muslim

اس بات کے بیان میں کہ بھول کر کھانے پینے اور جماع کرنے سے روزہ نہیں ٹوٹتا

و حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدٍ النَّاقِدُ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ عَنْ هِشَامٍ الْقُرْدُوسِيِّ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ نَسِيَ وَهُوَ صَائِمٌ فَأَکَلَ أَوْ شَرِبَ فَلْيُتِمَّ صَوْمَهُ فَإِنَّمَا أَطْعَمَهُ اللَّهُ وَسَقَاهُ

عمرو بن محمد ناقد، اسماعیل بن ابراہیم، ہشام فردوسی، محمد بن سیرین، حضرت ابوہریرہ ؓ روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جو آدمی روزے کی حالت میں بھول جائے اور کھا پی لے تو اسے چاہئے کہ وہ اپنا روزہ پورا کرلے کیونکہ اس کو یہ اللہ نے کھلایا اور پلایا ہے۔

Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying: If anyone forgets that he is fasting and eats or drinks he should complete his fast, for it is only Allah Who has fed him and given him drink.

2717Sahih Muslim

رمضان کے علاوہ دوسر مہینوں میں نبی ﷺ کے روزوں اور ان کے استح کے بیان میں

حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ عَنْ سَعِيدٍ الْجُرَيْرِيِّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ قَالَ قُلْتُ لِعَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا هَلْ کَانَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُ شَهْرًا مَعْلُومًا سِوَی رَمَضَانَ قَالَتْ وَاللَّهِ إِنْ صَامَ شَهْرًا مَعْلُومًا سِوَی رَمَضَانَ حَتَّی مَضَی لِوَجْهِهِ وَلَا أَفْطَرَهُ حَتَّی يُصِيبَ مِنْهُ

یحییٰ بن یحیی، یزید بن زریع، سعید جریری، حضرت عبداللہ بن شقیق ؓ سے روایت ہے فرمایا کہ میں نے حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے عرض کیا کہ کیا نبی ﷺ نے رمضان کے علاوہ کسی اور مہینہ میں پورا مہینہ روزے رکھے ہیں؟ حضرت عائشہ ؓ نے فرمایا اللہ کی قسم! رمضان کے علاوہ کسی مہینہ میں پورا مہینہ روزے نہیں رکھے اور نہ ہی کوئی ایسا مہینہ گذرا ہے کہ جس میں آپ ﷺ نے بالکل روزے نہ رکھے ہوں یہاں تک کہ آپ ﷺ رحلت فرماگئے۔

Abdullah bin Shaqiq reported: I said toAisha (Allah be pleased with her): Did the Apostle of Allah ﷺ observe fast for full one month besides Ramadan? She said: I do not know of any month in which he fasted through-out, but that of the month of Ramadan and (the month) in which he did not fast at all, till he ran the course of his life.

2718Sahih Muslim

رمضان کے علاوہ دوسر مہینوں میں نبی ﷺ کے روزوں اور ان کے استح کے بیان میں

و حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا کَهْمَسٌ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ قَالَ قُلْتُ لِعَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَکَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُ شَهْرًا کُلَّهُ قَالَتْ مَا عَلِمْتُهُ صَامَ شَهْرًا کُلَّهُ إِلَّا رَمَضَانَ وَلَا أَفْطَرَهُ کُلَّهُ حَتَّی يَصُومَ مِنْهُ حَتَّی مَضَی لِسَبِيلِهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

عبیداللہ بن معاذ، کہمس، حضرت عبداللہ بن شقیق ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے عرض کیا کہ کیا نبی ﷺ نے پورا مہینہ روزے رکھے ہیں؟ حضرت عائشہ صدیقہ ؓ فرماتی ہیں کہ میں نہیں جانتی کہ آپ ﷺ نے رمضان کے علاوہ کسی مہینہ میں پورا مہینہ روزے رکھے ہوں اور نہ ہی کسی مہینہ میں روزے چھوڑے ہوں آپ ﷺ ہر مہینے کچھ نہ کچھ روزے رکھتے رہے یہاں تک کہ آپ ﷺ اس دار فانی سے گزر گئے۔

Abdullah bin Shaqiq reported: I said to Aisha (Allah be pleased with her): Did the Messenger of Allah ﷺ observe fast during a month? She said, I do not know of any month in which he fasted throughout except Ramadan and (the month) in which he did not fast at all till he ran the course of his life. May peace be upon him.

2719Sahih Muslim

رمضان کے علاوہ دوسر مہینوں میں نبی ﷺ کے روزوں اور ان کے استح کے بیان میں

و حَدَّثَنِي أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ أَيُّوبَ وَهِشَامٍ عَنْ مُحَمَّدٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ قَالَ حَمَّادٌ وَأَظُنُّ أَيُّوبَ قَدْ سَمِعَهُ مِنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ قَالَ سَأَلْتُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا عَنْ صَوْمِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ کَانَ يَصُومُ حَتَّی نَقُولَ قَدْ صَامَ قَدْ صَامَ وَيُفْطِرُ حَتَّی نَقُولَ قَدْ أَفْطَرَ قَدْ أَفْطَرَ قَالَتْ وَمَا رَأَيْتُهُ صَامَ شَهْرًا کَامِلًا مُنْذُ قَدِمَ الْمَدِينَةَ إِلَّا أَنْ يَکُونَ رَمَضَانَ

ابوربیع زہرانی، حماد، ایوب، ہشام، محمد، حضرت عبداللہ بن شقیق فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ ؓ سے نبی ﷺ کے روزوں کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ آپ روزے رکھتے تھے یہاں تک کہ ہم کہتے کہ آپ روزے ہی رکھتے رہیں گے آپ ﷺ افطار کرتے تو ہم کہتے کہ آپ ﷺ افطار ہی کرتے رہیں گے حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ جس وقت سے آپ ﷺ مدینہ تشریف لائے ہیں میں نے نہیں دیکھا کہ آپ ﷺ نے رمضان کے علاوہ کسی مہینہ میں پورا مہینہ روزے رکھے ہوں۔

Abdullah bin Shaqiq reported. I asked Aisha (Allah be pleased with her) about fasting of the Messenger of Allah ﷺ . She said: He used to observe fast (at times) so continuously that we said: He has fasted, he has fasted. And (at times) he did not observe fast (for days) and we began to say: He has abandoned fasting, he has abandoned fasting. She said: I did not see him observing fast throughout the whole of the month since he arrived in Madinah, but that of Ramadan.

2720Sahih Muslim

رمضان کے علاوہ دوسر مہینوں میں نبی ﷺ کے روزوں اور ان کے استح کے بیان میں

و حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ قَالَ سَأَلْتُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا بِمِثْلِهِ وَلَمْ يَذْکُرْ فِي الْإِسْنَادِ هِشَامًا وَلَا مُحَمَّدًا

قتیبہ، حماد، ایوب، عبداللہ بن شقیق، حضرت عبداللہ بن شقیق ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ ؓ سے پوچھا پھر آگے اسی طرح حدیث ذکر فرمائی۔

A hadith like this has been narrated on the authority ofAbdullah bin Shaqiq but in the chain of transmitters no mention is made of Hisham and Muhammad.

2721Sahih Muslim

رمضان کے علاوہ دوسر مہینوں میں نبی ﷺ کے روزوں اور ان کے استح کے بیان میں

حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَالِکٍ عَنْ أَبِي النَّضْرِ مَوْلَی عُمَرَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّهَا قَالَتْ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُ حَتَّی نَقُولَ لَا يُفْطِرُ وَيُفْطِرُ حَتَّی نَقُولَ لَا يَصُومُ وَمَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَکْمَلَ صِيَامَ شَهْرٍ قَطُّ إِلَّا رَمَضَانَ وَمَا رَأَيْتُهُ فِي شَهْرٍ أَکْثَرَ مِنْهُ صِيَامًا فِي شَعْبَانَ

یحییٰ بن یحیی، مالک، ابی نضر، مولیٰ عمر بن عبیداللہ، ابی سلمہ بن عبدالرحمن، ام المومنین حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ روزے رکھتے رہتے تھے یہاں تک کہ ہم کہتے کہ آپ ﷺ افطار نہیں کریں گے اور آپ ﷺ افطار کرتے تو ہم کہتے کہ آپ ﷺ روزے نہیں رکھیں گے اور میں نے رسول اللہ ﷺ کو رمضان کے مہینہ کے علاوہ کسی اور مہینہ میں پورا مہینہ روزہ رکھتے ہوئے نہیں دیکھا اور نہ ہی میں نے آپ ﷺ کو شعبان کے مہینہ کے علاوہ کسی اور مہینہ میں اتنی کثرت سے روزے رکھتے ہوئے نہیں دیکھا۔

Aisha, the Mother of the Believers (Allah be pleased with her), reported that the Messenger of Allah ﷺ used to observe fasts (so continuously) that we said that he would not break, and did not observe (them) till we said that he would not fast: and I did not see the Messenger of Allah ﷺ completing the fast of a month, but that of Ramadan, and I did not see him fasting more in any other month than that of Shaban.

2722Sahih Muslim

رمضان کے علاوہ دوسر مہینوں میں نبی ﷺ کے روزوں اور ان کے استح کے بیان میں

و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَعَمْرٌو النَّاقِدُ جَمِيعًا عَنْ ابْنِ عُيَيْنَةَ قَالَ أَبُو بَکْرٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ ابْنِ أَبِي لَبِيدٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ قَالَ سَأَلْتُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا عَنْ صِيَامِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ کَانَ يَصُومُ حَتَّی نَقُولَ قَدْ صَامَ وَيُفْطِرُ حَتَّی نَقُولَ قَدْ أَفْطَرَ وَلَمْ أَرَهُ صَائِمًا مِنْ شَهْرٍ قَطُّ أَکْثَرَ مِنْ صِيَامِهِ مِنْ شَعْبَانَ کَانَ يَصُومُ شَعْبَانَ کُلَّهُ کَانَ يَصُومُ شَعْبَانَ إِلَّا قَلِيلًا

ابوبکر بن ابی شیبہ، عمرو ناقد، ابن عیینہ، ابوبکر، سفیان بن عیینہ، ابی لبید، حضرت ابوسلمہ فرماتے ہیں کہ میں حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے رسول اللہ ﷺ کے روزوں کے بارے میں پوچھا تو سیدہ ؓ نے فرمایا کہ آپ روزے رکھتے رہتے تھے یہاں تک کہ ہم کہتے کہ آپ روزے ہی رکھتے رہیں گے اور آپ ﷺ افطار کرتے تو ہم کہتے کہ آپ ﷺ افطار ہی کرتے رہیں گے اور میں نے آپ کو نہیں دیکھا کہ آپ ﷺ نے شعبان کے مہینہ سے زیادہ کسی اور مہینہ میں اتنی کثرت سے روزے رکھے ہوں آپ شعبان کے تھوڑے روزوں کے علاوہ پورا مہینہ روزے رکھتے تھے۔

Abu Salama reported: I asked Aisha (Allah be pleased with her) about the fasting of the Messenger of Allah ﷺ . She said: He used to observe fast (at times so continuously) that we said: He has fasted (never to break), and he did not observe fast till we said: He has given up perhaps never to fast, and I never saw him observing (voluntary fasts) more in any other month than that of Shaban. (lt appeared as if) he observed fast throughout the whole of Shaban except a few (days).

2723Sahih Muslim

رمضان کے علاوہ دوسر مہینوں میں نبی ﷺ کے روزوں اور ان کے استح کے بیان میں

حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ يَحْيَی بْنِ أَبِي کَثِيرٍ حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ لَمْ يَکُنْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الشَّهْرِ مِنْ السَّنَةِ أَکْثَرَ صِيَامًا مِنْهُ فِي شَعْبَانَ وَکَانَ يَقُولُ خُذُوا مِنْ الْأَعْمَالِ مَا تُطِيقُونَ فَإِنَّ اللَّهَ لَنْ يَمَلَّ حَتَّی تَمَلُّوا وَکَانَ يَقُولُ أَحَبُّ الْعَمَلِ إِلَی اللَّهِ مَا دَاوَمَ عَلَيْهِ صَاحِبُهُ وَإِنْ قَلَّ

اسحاق بن ابراہیم، معاذ بن ہشام، یحییٰ بن ابی کثیر، ابوسلمہ، سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کسی مہینہ میں شعبان سے زیادہ روزے نہیں رکھتے تھے اور آپ فرماتے تھے کہ تمہیں جتنی طاقت ہو اتنے اعمال کرو کیونکہ اللہ تمہیں (اجر عطا کرنے سے) نہیں تھکتا۔ یہاں تک کہ تم تھک نہ جاؤ اور آپ ﷺ فرماتے تھے کہ اللہ کے نزدیک اعمال میں سے سب محبوب وہ عمل ہے جس پر اسے کوئی کرنے والا ہمیشگی کے ساتھ کرے اگرچہ وہ کم ہو۔

Aisha (Allah be pleased with her) reported: The Messenger of Allah ﷺ did not observe fast in any month of the year more than in the month of Shaban, and used to say: Do as many deeds as you are capable of doing, for Allah will not become weary (of giving you reward), but you would be tired (of doing good deeds); and he also said: The deed liked most by Allah is one to which the doer adheres constantly even if it is small.

2724Sahih Muslim

رمضان کے علاوہ دوسر مہینوں میں نبی ﷺ کے روزوں اور ان کے استح کے بیان میں

حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ أَبِي بِشْرٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ مَا صَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَهْرًا کَامِلًا قَطُّ غَيْرَ رَمَضَانَ وَکَانَ يَصُومُ إِذَا صَامَ حَتَّی يَقُولَ الْقَائِلُ لَا وَاللَّهِ لَا يُفْطِرُ وَيُفْطِرُ إِذَا أَفْطَرَ حَتَّی يَقُولَ الْقَائِلُ لَا وَاللَّهِ لَا يَصُومُ

ابوربیع زہرانی، ابوعوانہ، ابی بشر، سعید بن جبیر، حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے کوئی مہینہ رمضان کے علاوہ مکمل مہینہ روزے نہیں رکھے اور جب آپ روزے رکھتے تو کہنے والا کہتا نہیں اللہ کی قسم! اب آپ ﷺ افطار نہیں کریں گے اور جب افطار کرتے تو کہنے والا کہتا نہیں اللہ کی قسم! اب آپ ﷺ روزہ نہیں رکھیں گے۔

Ibn Abbas (RA) (Allah be pleased with both of them) reported: The Messenger of Allah ﷺ did not fast throughout any month except during Ramadan. And when he observed fast (he fasted so continuously) that one would say that he would not break (them) and when he abandoned, he abandoned (so continuously) that one would say: By Allah, perhaps he would never fast.

2725Sahih Muslim

رمضان کے علاوہ دوسر مہینوں میں نبی ﷺ کے روزوں اور ان کے استح کے بیان میں

و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ وَأَبُو بَکْرِ بْنُ نَافِعٍ عَنْ غُنْدَرٍ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ أَبِي بِشْرٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَقَالَ شَهْرًا مُتَتَابِعًا مُنْذُ قَدِمَ الْمَدِينَةَ

محمد بن بشار، ابوبکر بن نافع، غندر، شعبہ، حضرت ابی بشر ؓ سے اس سند کے ساتھ روایت کی گئی ہے۔

This hadith has been narrated on the authority of Abu Bishar with the same chain of transmitters (with a slight variation of words and these are), that he (the narrator) said: "During any month continuously since he came to Madinah."

2726Sahih Muslim

رمضان کے علاوہ دوسر مہینوں میں نبی ﷺ کے روزوں اور ان کے استح کے بیان میں

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ حَکِيمٍ الْأَنْصَارِيُّ قَالَ سَأَلْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ عَنْ صَوْمِ رَجَبٍ وَنَحْنُ يَوْمَئِذٍ فِي رَجَبٍ فَقَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يَقُولُا کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُ حَتَّی نَقُولَ لَا يُفْطِرُ وَيُفْطِرُ حَتَّی نَقُولَ لَا يَصُومُ

ابوبکر بن ابی شیبہ، عبداللہ بن نمیر، ابن نمیر، حضرت عثمان بن حکیم انصاری فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت سعید بن جبیر ؓ سے رجب کے روزوں کے بارے میں پوچھا اور ہم اس وقت کے مہینہ ہی میں تھے حضرت سعید ؓ نے فرمایا کہ میں نے حضرت ابن عباس ؓ سے سنا وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ روزے رکھتے تھے یہاں تک کہ ہم کہتے کہ آپ ﷺ افطار نہیں کریں گے اور افطار کرتے یہاں تک کہ ہم کہتے کہ آپ ﷺ روزہ نہیں رکھیں گے۔

Uthman bin Hakim al-Ansari said: I asked Said bin Jubair about fasting In Rajab, and we were then passing through the month of Rajab, whereupon he said: I heard Ibn Abbas (Allah be pleased with both of them) as saying: The Messenger of Allah ﷺ used to observe fast (so continuously) that we (were inclined) to say that he would not break (them) and did not observe them so continuously) that we (were inclined to say) that he would not observe fast.

2727Sahih Muslim

رمضان کے علاوہ دوسر مہینوں میں نبی ﷺ کے روزوں اور ان کے استح کے بیان میں

و حَدَّثَنِيهِ عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ح و حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَی أَخْبَرَنَا عِيسَی بْنُ يُونُسَ کِلَاهُمَا عَنْ عُثْمَانَ بْنِ حَکِيمٍ فِي هَذَا الْإِسْنَادِ بِمِثْلِهِ

علی بن حجر، علی بن مسہر، ابراہیم بن موسی، عیسیٰ بن یونس، حضرت عثمان بن حکیم ؓ سے اس سند کے ساتھ مذکورہ حدیث کی طرح روایت نقل کی گئی ہے۔

The same hadith as the previous hadith has been transmitted through another chain.

2728Sahih Muslim

رمضان کے علاوہ دوسر مہینوں میں نبی ﷺ کے روزوں اور ان کے استح کے بیان میں

و حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَابْنُ أَبِي خَلَفٍ قَالَا حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ح و حَدَّثَنِي أَبُو بَکْرِ بْنُ نَافِعٍ وَاللَّفْظُ لَهُ حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ حَدَّثَنَا ثَابِتٌ عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَانَ يَصُومُ حَتَّی يُقَالَ قَدْ صَامَ قَدْ صَامَ وَيُفْطِرُ حَتَّی يُقَالَ قَدْ أَفْطَرَ قَدْ أَفْطَرَ

زہیر بن حرب، ابن ابی خلف، روح بن عبادہ، حماد، ثابت، حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ روزے رکھتے تھے یہاں تک کہ کہا جانے لگتا کہ آپ ﷺ روزے ہی رکھتے رہیں گے اور آپ ﷺ افطار کرتے یہاں تک کہ کہا جانے لگا کہ اب آپ ﷺ افطار ہی کرتے رہیں گے۔

Anas (RA) reported that the Messenger of Allah ﷺ used to observe fast till it was said that he had observed fast, he had observed fast (perhaps never to break it), and he did not fast till it was said that he had given up fast, he had given up fast (perhaps never to observe it).

2729Sahih Muslim

صوم دہر یہاں تک کہ عید اور تشریق کے دنوں میں بھی روزہ رکھنے کی ممانعت اور صوم داؤدی یعنی ایک دن روزہ رکھنا اور ایک دن روزہ نہ رکھنے کی فضلیت کے بیان میں۔

حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ وَهْبٍ يُحَدِّثُ عَنْ يُونُسَ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ح و حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ وَأَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ قَالَ أُخْبِرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ يَقُولُ لَأَقُومَنَّ اللَّيْلَ وَلَأَصُومَنَّ النَّهَارَ مَا عِشْتُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ آنْتَ الَّذِي تَقُولُ ذَلِکَ فَقُلْتُ لَهُ قَدْ قُلْتُهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِنَّکَ لَا تَسْتَطِيعُ ذَلِکَ فَصُمْ وَأَفْطِرْ وَنَمْ وَقُمْ وَصُمْ مِنْ الشَّهْرِ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ فَإِنَّ الْحَسَنَةَ بِعَشْرِ أَمْثَالِهَا وَذَلِکَ مِثْلُ صِيَامِ الدَّهْرِ قَالَ قُلْتُ فَإِنِّي أُطِيقُ أَفْضَلَ مِنْ ذَلِکَ قَالَ صُمْ يَوْمًا وَأَفْطِرْ يَوْمَيْنِ قَالَ قُلْتُ فَإِنِّي أُطِيقُ أَفْضَلَ مِنْ ذَلِکَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ صُمْ يَوْمًا وَأَفْطِرْ يَوْمًا وَذَلِکَ صِيَامُ دَاوُدَ عَلَيْهِ السَّلَام وَهُوَ أَعْدَلُ الصِّيَامِ قَالَ قُلْتُ فَإِنِّي أُطِيقُ أَفْضَلَ مِنْ ذَلِکَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا أَفْضَلَ مِنْ ذَلِکَ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا لَأَنْ أَکُونَ قَبِلْتُ الثَّلَاثَةَ الْأَيَّامَ الَّتِي قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَهْلِي وَمَالِي

ابوطاہر، عبداللہ بن وہب، یونس، ابن شہاب، حرملہ بن یحیی، ابن وہب، یونس، ابن شہاب، سعید بن مسیب، ابوسلمہ بن عبدالرحمن، حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کو میرے بارے میں خبر دی گئی کہ وہ کہتا ہے کہ میں رات بھر نماز پڑھتا رہوں گا اور دن کو روزہ رکھتا رہوں گا جب تک کہ میں زندہ رہوں تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کیا تو اسی طرح کہتا ہے؟ تو میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول! جی ہاں، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ تو یہ نہیں کرسکے گا تو روزہ بھی رکھ اور افطار بھی اور نیند بھی کر اور نماز بھی پڑھ اور مہینہ میں تین دن روزے رکھ لیا کر کیونکہ ایک نیکی کا دس گنا اجر ملتا ہے اور یہ زمانہ کے روزے رکھنے کی طرح ہے حضرت عبداللہ ؓ فرماتے ہیں کہ [ یہ عبداللہ بن عمرو بن عاص ؓ ہیں ] میں نے عرض کیا کہ میں تو اس سے زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں اے اللہ کے رسول، آپ ﷺ نے فرمایا ایک دن روزے رکھ اور ایک دن افطار کر اور یہی داؤد (علیہ السلام) کے روزے ہیں اور یہی اعتدال والے روزے ہیں حضرت عبداللہ ؓ نے فرمایا کہ میں نے عرض کیا کہ میں تو اس سے زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اس سے زیادہ فضیلت والی کوئی چیز نہیں حضرت عبداللہ ؓ کہتے ہیں کہ کاش رسول اللہ ﷺ کا یہ فرمانا کہ مہینے میں تین دنوں کے روزے رکھو میں قبول کرلیتا تو یہ بات مجھے اپنے گھر بار اور اپنے مال سے زیادہ پسند ہوتی۔

Abdullah bin Amr bin al-As reported that the Messenger of Allah ﷺ was informed that he could stand up for (prayer) throughout the night and observe fast every day so long as he lived. Thereupon the Messenger of Allah ﷺ said: Is it you who said this? I said to him: Messenger of Allah, it is I who said that. Thereupon the Messenger of Allah ﷺ may peace be upon him) said: You are not capable enough to do so. Observe fast and break it; sleep and stand for prayer, and observe fast for three days during the month; for every good is multiplied ten times and this is like fasting for ever. I said: Messenger of Allah. I am capable of doing more than this. Thereupon he said: Fast one day and do not fast for the next two days. I said: Messenger of Allah, I have the strength to do more than that. The Holy Prophet ﷺ , said: Fast one day and break on the other day. That is known as the fasting of David (peace be upon him) and that is the best fasting. I said: I am capable of doing more than this. Thereupon the Messenger of Allah ﷺ said: There is nothing better than this. Abdullah bin Amr (RA) said: Had I accepted the three days (fasting during every month) as the Messenger of Allah ﷺ had said, it would have been more dear to me than my family and my property.

2730Sahih Muslim

صوم دہر یہاں تک کہ عید اور تشریق کے دنوں میں بھی روزہ رکھنے کی ممانعت اور صوم داؤدی یعنی ایک دن روزہ رکھنا اور ایک دن روزہ نہ رکھنے کی فضلیت کے بیان میں۔

و حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ابْنُ الرُّومِيُّ حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا عِکْرِمَةُ وَهُوَ ابْنُ عَمَّارٍ حَدَّثَنَا يَحْيَی قَالَ انْطَلَقْتُ أَنَا وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ حَتَّی نَأْتِيَ أَبَا سَلَمَةَ فَأَرْسَلْنَا إِلَيْهِ رَسُولًا فَخَرَجَ عَلَيْنَا وَإِذَا عِنْدَ بَابِ دَارِهِ مَسْجِدٌ قَالَ فَکُنَّا فِي الْمَسْجِدِ حَتَّی خَرَجَ إِلَيْنَا فَقَالَ إِنْ تَشَائُوا أَنْ تَدْخُلُوا وَإِنْ تَشَائُوا أَنْ تَقْعُدُوا هَا هُنَا قَالَ فَقُلْنَا لَا بَلْ نَقْعُدُ هَا هُنَا فَحَدِّثْنَا قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ کُنْتُ أَصُومُ الدَّهْرَ وَأَقْرَأُ الْقُرْآنَ کُلَّ لَيْلَةٍ قَالَ فَإِمَّا ذُکِرْتُ لِلنَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَإِمَّا أَرْسَلَ إِلَيَّ فَأَتَيْتُهُ فَقَالَ لِي أَلَمْ أُخْبَرْ أَنَّکَ تَصُومُ الدَّهْرَ وَتَقْرَأُ الْقُرْآنَ کُلَّ لَيْلَةٍ فَقُلْتُ بَلَی يَا نَبِيَّ اللَّهِ وَلَمْ أُرِدْ بِذَلِکَ إِلَّا الْخَيْرَ قَالَ فَإِنَّ بِحَسْبِکَ أَنْ تَصُومَ مِنْ کُلِّ شَهْرٍ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ قُلْتُ يَا نَبِيَّ اللَّهِ إِنِّي أُطِيقُ أَفْضَلَ مِنْ ذَلِکَ قَالَ فَإِنَّ لِزَوْجِکَ عَلَيْکَ حَقًّا وَلِزَوْرِکَ عَلَيْکَ حَقًّا وَلِجَسَدِکَ عَلَيْکَ حَقًّا قَالَ فَصُمْ صَوْمَ دَاوُدَ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِنَّهُ کَانَ أَعْبَدَ النَّاسِ قَالَ قُلْتُ يَا نَبِيَّ اللَّهِ وَمَا صَوْمُ دَاوُدَ قَالَ کَانَ يَصُومُ يَوْمًا وَيُفْطِرُ يَوْمًا قَالَ وَاقْرَأْ الْقُرْآنَ فِي کُلِّ شَهْرٍ قَالَ قُلْتُ يَا نَبِيَّ اللَّهِ إِنِّي أُطِيقُ أَفْضَلَ مِنْ ذَلِکَ قَالَ فَاقْرَأْهُ فِي کُلِّ عِشْرِينَ قَالَ قُلْتُ يَا نَبِيَّ اللَّهِ إِنِّي أُطِيقُ أَفْضَلَ مِنْ ذَلِکَ قَالَ فَاقْرَأْهُ فِي کُلِّ عَشْرٍ قَالَ قُلْتُ يَا نَبِيَّ اللَّهِ إِنِّي أُطِيقُ أَفْضَلَ مِنْ ذَلِکَ قَالَ فَاقْرَأْهُ فِي کُلِّ سَبْعٍ وَلَا تَزِدْ عَلَی ذَلِکَ فَإِنَّ لِزَوْجِکَ عَلَيْکَ حَقًّا وَلِزَوْرِکَ عَلَيْکَ حَقًّا وَلِجَسَدِکَ عَلَيْکَ حَقًّا قَالَ فَشَدَّدْتُ فَشُدِّدَ عَلَيَّ قَالَ وَقَالَ لِي النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّکَ لَا تَدْرِي لَعَلَّکَ يَطُولُ بِکَ عُمْرٌ قَالَ فَصِرْتُ إِلَی الَّذِي قَالَ لِي النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا کَبِرْتُ وَدِدْتُ أَنِّي کُنْتُ قَبِلْتُ رُخْصَةَ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

عبداللہ بن محمد رومی، نضر بن محمد، عکرمہ، ابن عمار، حضرت یحییٰ فرماتے ہیں کہ میں اور حضرت عبداللہ بن یزید ؓ چلے یہاں تک کہ ہم حضرت ابوسلمہ ؓ کے پاس آئے تو ہم نے ان کی طرف ایک قاصد بھیجا تو وہ باہر تشریف لائے اور ان کے گھر کے دروازے کے پاس ایک مسجد تھی انہوں نے کہا کہ ہم مسجد میں تھے یہاں تک کہ آپ ہماری طرف تشریف لے آئے حضرت ابوسلمہ ؓ نے فرمایا کہ اگر تم چاہو تو گھر چلتے ہیں اور اگر تم چاہو تو یہیں بیٹھ جاتے ہیں تو ہم نے کہا کہ نہیں بلکہ ہم یہیں بیٹھیں گے آپ ہمیں حدیثیں بیان کریں انہوں نے کہا کہ حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص ؓ نے مجھ سے بیان کیا کہ میں ہمیشہ روزے رکھتا ہوں اور ہر رات قرآن مجید پڑھتا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ نبی ﷺ سے (میرے بارے میں) ذکر کیا گیا تو آپ ﷺ نے مجھے بلوایا تو میں آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا آپ ﷺ نے مجھ سے فرمایا مجھے یہ خبر دی گئی کہ تو ہمیشہ روزے رکھتا ہے اور ہر رات قرآن مجید پڑھتا ہے؟ تو میں نے عرض کیا جی ہاں اے اللہ کے نبی ﷺ اور میرا اس سے سوائے خیر کے اور کوئی مقصد نہیں آپ ﷺ نے فرمایا کہ تجھے یہی کافی ہے کہ تو ہر مہینے تین دن روزے رکھ میں نے عرض کیا اے اللہ کے نبی ﷺ میں تو اس سے زیادہ طاقت رکھتا ہوں آپ ﷺ نے فرمایا کہ تیری بیوی کا بھی تجھ پر حق ہے اور تیرے مہمان کا بھی تجھ پر حق ہے اور تیرے جسم کا بھی تجھ پر حق ہے آپ ﷺ نے فرمایا کہ تو اللہ کے نبی حضرت داؤد (علیہ السلام) کے روزے رکھ کیونکہ وہ لوگوں میں سب سے زیادہ عبادت گزار تھے میں نے عرض کیا اے اللہ کے نبی ﷺ حضرت داؤد (علیہ السلام) کے روزے کس طرح تھے؟ آپ ﷺ نے فرمایا وہ ایک دن روزہ رکھتے تھے اور ایک دن افطار کرتے تھے اور آپ ﷺ نے فرمایا ہر مہینے ایک قرآن مجید ختم کیا کر میں نے عرض کی اے اللہ کے نبی ﷺ! میں تو اس سے بھی زیادہ طاقت رکھتا ہوں تو آپ نے فرمایا بیس دنوں میں ایک قرآن مجید پڑھ لیا کر میں نے عرض کیا میں تو اس سے بھی زیادہ طاقت رکھتا ہوں تو آپ نے فرمایا کہ دس دن میں ایک قرآن مجید پڑھ لیا کر میں نے عرض کیا میں تو اس سے بھی زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں تو آپ ﷺ نے فرمایا پھر تو سات دن میں ایک قرآن مجید پڑھ لیا کر اور اس سے زیادہ اپنے آپ کو مشقت میں مت ڈال کیونکہ تیری بیوی کا بھی تجھ پر حق ہے اور تیرے مہمان کا بھی تجھ پر حق ہے اور تیرے جسم کا بھی تجھ پر حق ہے حضرت عبداللہ ؓ نے کہا کہ میں نے سختی کی پھر مجھ پر سختی کی گئی حضرت عبداللہ ؓ کہتے ہیں آپ ﷺ نے مجھ سے فرمایا کہ تو نہیں جانتا شاید کہ تیری عمر لمبی ہو حضرت ابن عمر کہتے ہیں کہ پھر میں اس عمر تک پہنچ گیا جس کی نبی نے مجھ سے نشان دہی فرمائی تھی اور جب میں بوڑھا ہوگیا تو میں یہ چاہنے لگا کہ کاش کہ اللہ کے نبی کی دی گئی رخصت میں قبول کرلیتا۔

Yahya reported: I and Abdullah bin Yazid set out till we came to Abu Salama. We sent a messenger to him (in his house in order to inform him about our arrival) and he came to us. There was a mosque near the door of his house, and we were in that mosque, till he came out to us. He said: If you like you may enter (the house) and, if you like, you may sit here (in the mosque). We said: We would rather sit here and (you) relate to us. He (Yahya) then narrated that Abdullah b Amr bin al-As (RA) told him: I used to observe fast uninterruptedly and recited the (whole of the) Quran every night. It (the uninterrupted fasting and recital of the Quran every night) was mentioned to the Apostle of Allah ﷺ so he sent for me, and I went to him and he said to me: I have been informed that you fast continuously and recite (the whole of the Quran) every night. I said: Apostle of Allah ﷺ , it is right, but I covet thereby nothing but good, whereupon he said: It suffices for you that you should observe fast for three days during every month. I said: Apostle of Allah ﷺ , I am capable of doing more than this. He said: Your wife has a right upon you, your visitor has a right upon you, your body has a right upon you; so observe the fast of David, the Apostle of Allah ﷺ (peace be upon him), for he was the best worshipper of Allah. I said: Apostle of Allah ﷺ , what is the fast of David? He said: He used to fast one day and did not fast the other day. He (also) said: Recite the Quran during every month. I said: Apostle of Allah ﷺ , I am capable of doing more than this, whereupon he said: Recite it in twenty days; recite it in ten days. I said: I am capable of doing more than this, whereupon he said: Recite it every week, and do not exceed beyond this, for your wife has a right upon you, your visitor has a right upon you, your body has a right upon you. He (Amr bin As) said: I was hard to myself and thus I was put to hardship. The Apostle of Allah ﷺ had told me: You do not know you may live long (thus and bear the hardships for a long time), and I accepted that which the Apostle of Allah ﷺ had told me. When I grew old I wished I had availed myself of the concession (granted by) the Apostle of Allah ﷺ .

2731Sahih Muslim

صوم دہر یہاں تک کہ عید اور تشریق کے دنوں میں بھی روزہ رکھنے کی ممانعت اور صوم داؤدی یعنی ایک دن روزہ رکھنا اور ایک دن روزہ نہ رکھنے کی فضلیت کے بیان میں۔

و حَدَّثَنِيهِ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ الْمُعَلِّمُ عَنْ يَحْيَی بْنِ أَبِي کَثِيرٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَزَادَ فِيهِ بَعْدَ قَوْلِهِ مِنْ کُلِّ شَهْرٍ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ فَإِنَّ لَکَ بِکُلِّ حَسَنَةٍ عَشْرَ أَمْثَالِهَا فَذَلِکَ الدَّهْرُ کُلُّهُ وَقَالَ فِي الْحَدِيثِ قُلْتُ وَمَا صَوْمُ نَبِيِّ اللَّهِ دَاوُدَ قَالَ نِصْفُ الدَّهْرِ وَلَمْ يَذْکُرْ فِي الْحَدِيثِ مِنْ قِرَائَةِ الْقُرْآنِ شَيْئًا وَلَمْ يَقُلْ وَإِنَّ لِزَوْرِکَ عَلَيْکَ حَقًّا وَلَکِنْ قَالَ وَإِنَّ لِوَلَدِکَ عَلَيْکَ حَقًّا

زہیر بن حرب، روح بن عبادہ، حسین، حضرت یحییٰ بن ابی کثیر سے اس سند کے ساتھ روایت کیا ہے اور اس میں یہ زائد ہے کہ ہر مہینے تین روزے کے بعد ہے کیونکہ ہر نیکی کا دس گنا اجر ہے اور یہ سارے زمانہ کے برابر ہے اور اس حدیث میں ہے کہ میں نے عرض کیا کہ اللہ کے نبی داؤد (علیہ السلام) کے روزے کیا تھے آپ ﷺ نے فرمایا آدھا زمانہ اور اس حدیث میں قرآن مجید پڑھنے کے بارے میں کچھ بھی ذکر نہیں ہے اس میں یہ بھی نہیں کہ کہ تیرے مہمان کا بھی تجھ پر حق ہے اور لیکن اس میں ہے کہ تیری بیٹے کا بھی تجھ پر حق ہے۔

This hadith has been narrated by Yahya bin Abu Kathir with the same chain of transmitters and he made this addition after these words: During every month, (fasting) for three days, there is for you ten times for every good and that is perpetual fasting (for three days would bring a reward for full thirty days). I said: What is the fast of the Apostle of Allah ﷺ , David? He said: Half of the age (observing fast on alternate days for the whole

2732Sahih Muslim

صوم دہر یہاں تک کہ عید اور تشریق کے دنوں میں بھی روزہ رکھنے کی ممانعت اور صوم داؤدی یعنی ایک دن روزہ رکھنا اور ایک دن روزہ نہ رکھنے کی فضلیت کے بیان میں۔

حَدَّثَنِي الْقَاسِمُ بْنُ زَکَرِيَّائَ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَی عَنْ شَيْبَانَ عَنْ يَحْيَی عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ مَوْلَی بَنِي زُهْرَةَ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ قَالَ وَأَحْسَبُنِي قَدْ سَمِعْتُهُ أَنَا مِنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اقْرَأْ الْقُرْآنَ فِي کُلِّ شَهْرٍ قَالَ قُلْتُ إِنِّي أَجِدُ قُوَّةً قَالَ فَاقْرَأْهُ فِي عِشْرِينَ لَيْلَةً قَالَ قُلْتُ إِنِّي أَجِدُ قُوَّةً قَالَ فَاقْرَأْهُ فِي سَبْعٍ وَلَا تَزِدْ عَلَی ذَلِکَ

قاسم بن زکریا، عبیداللہ بن موسی، شیبان، یحیی، محمد بن عبدالرحمن مولیٰ بنی زہرہ، ابی سلمہ، حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے فرمایا کہ ہر مہینہ میں ایک قرآن مجید پڑھو میں نے عرض کیا کہ میں تو اس سے زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں آپ ﷺ نے فرمایا کہ پھر تو بیس راتوں میں قرآن مجید پڑھ میں نے عرض کیا کہ میں اس سے بھی زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں آپ ﷺ نے فرمایا پھر تو سات دنوں میں قرآن مجید پڑھ اور اس سے زیادہ نہ کر

Abdullah bin Amr (RA) reported: The Messenger of Allah ﷺ said to me: Recite the whole of the Quran during every month. I said: I find power (to recite it) in a shorter period. He said: Then recite it in twenty nights. I said: I find power (to recite it in a shorter period even than this), whereupon he said: Then recite it in seven (nights) and do not exceed beyond it.

2733Sahih Muslim

صوم دہر یہاں تک کہ عید اور تشریق کے دنوں میں بھی روزہ رکھنے کی ممانعت اور صوم داؤدی یعنی ایک دن روزہ رکھنا اور ایک دن روزہ نہ رکھنے کی فضلیت کے بیان میں۔

و حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ الْأَزْدِيُّ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ قِرَائَةً قَالَ حَدَّثَنِي يَحْيَی بْنُ أَبِي کَثِيرٍ عَنْ ابْنِ الْحَکَمِ بْنِ ثَوْبَانَ حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا عَبْدَ اللَّهِ لَا تَکُنْ بِمِثْلِ فُلَانٍ کَانَ يَقُومُ اللَّيْلَ فَتَرَکَ قِيَامَ اللَّيْلِ

احمد بن یوسف ازدی، عمرو بن ابی سلمہ، اوزاعی، یحییٰ بن ابی کثیر، حکم بن ثوبان، ابوسلمہ بن عبدالرحمن، حضرت ابن عمر بن عاص سے روایت ہے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا اے عبداللہ! تو فلاں کی طرح نہ ہوجا کہ رات کو کھڑا رہتا تھا (عبادت کرتا رہتا تها) پھر اس نے رات کا قیام چھوڑ دیا۔

Abdullah bin Amr bin al-As (RA) reported that the Messenger of Allah ﷺ said: Abdullah, dont be like so and so who observed prayer during the whole night and then abandoned it (altogether).

2734Sahih Muslim

صوم دہر یہاں تک کہ عید اور تشریق کے دنوں میں بھی روزہ رکھنے کی ممانعت اور صوم داؤدی یعنی ایک دن روزہ رکھنا اور ایک دن روزہ نہ رکھنے کی فضلیت کے بیان میں۔

و حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ سَمِعْتُ عَطَائً يَزْعُمُ أَنَّ أَبَا الْعَبَّاسِ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يَقُولُا بَلَغَ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنِّي أَصُومُ أَسْرُدُ وَأُصَلِّي اللَّيْلَ فَإِمَّا أَرْسَلَ إِلَيَّ وَإِمَّا لَقِيتُهُ فَقَالَ أَلَمْ أُخْبَرْ أَنَّکَ تَصُومُ وَلَا تُفْطِرُ وَتُصَلِّي اللَّيْلَ فَلَا تَفْعَلْ فَإِنَّ لِعَيْنِکَ حَظًّا وَلِنَفْسِکَ حَظًّا وَلِأَهْلِکَ حَظًّا فَصُمْ وَأَفْطِرْ وَصَلِّ وَنَمْ وَصُمْ مِنْ کُلِّ عَشْرَةِ أَيَّامٍ يَوْمًا وَلَکَ أَجْرُ تِسْعَةٍ قَالَ إِنِّي أَجِدُنِي أَقْوَی مِنْ ذَلِکَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ قَالَ فَصُمْ صِيَامَ دَاوُدَ عَلَيْهِ السَّلَام قَالَ وَکَيْفَ کَانَ دَاوُدُ يَصُومُ يَا نَبِيَّ اللَّهِ قَالَ کَانَ يَصُومُ يَوْمًا وَيُفْطِرُ يَوْمًا وَلَا يَفِرُّ إِذَا لَاقَی قَالَ مَنْ لِي بِهَذِهِ يَا نَبِيَّ اللَّهِ قَالَ عَطَائٌ فَلَا أَدْرِي کَيْفَ ذَکَرَ صِيَامَ الْأَبَدِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا صَامَ مَنْ صَامَ الْأَبَدَ لَا صَامَ مَنْ صَامَ الْأَبَدَ لَا صَامَ مَنْ صَامَ الْأَبَدَ

محمد بن رافع، عبدالرزاق، ابن جریج، عطاء، حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص ؓ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ کو (میرے بارے میں) یہ بات پہنچی کہ میں (مسلسل) روزے رکھتا رہتا ہوں اور رات بھر نماز پڑھتا رہتا ہوں تو آپ ﷺ نے میری طرف پیغام بھیجا تو میں نے آپ ﷺ سے ملاقات کی آپ ﷺ نے فرمایا کہ کیا مجھے یہ خبر نہیں دی گئی کہ تو روزے رکھتا رہتا ہے اور افطار نہیں کرتا اور رات بھر نماز پڑھتا رہتا ہے تو تو اس طرح نہ کر کیونکہ تیری آنکھوں کا بھی تجھ پر حق ہے اور تیرے نفس کا بھی تجھ پر حق ہے اور تیری بیوی کا بھی تجھ پر حق ہے اور تو روزہ بھی رکھ اور افطار بھی کر اور نماز بھی پڑھ اور نیند بھی کر اور ہر دس دنوں میں سے ایک دن کا روزہ رکھ اور یہ تیرے لئے نو روزوں کا اجر بن جائے گا حضرت عبداللہ نے عرض کیا کہ میں تو اس سے زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں اے اللہ کے رسول، آپ ﷺ نے فرمایا حضرت داؤد (علیہ السلام) کے روزوں کی طرح روزے رکھ لے انہوں نے عرض کیا کہ حضرت داؤد (علیہ السلام) کے روزے کس طرح تھے؟ اے اللہ کے نبی ﷺ، آپ ﷺ نے فرمایا کہ ایک دن روزہ رکھتے تھے اور ایک دن افطار کرتے تھے اور نہیں بھاگتے تھے جب کسی دشمن سے ملاقات ہوجائے حضرت حضرت عبداللہ ؓ [ یہ عبداللہ بن عمرو بن عاص ؓ ہیں ] عرض کرنے لگے اے اللہ کے نبی یہ میرے لئے کیسے ہوسکتا ہے؟ عطا راوی کہتے ہیں کہ میں نہیں جانتا کہ ہمیشہ کے روزوں کا ذکر کیسے آگیا؟ نبی ﷺ نے فرمایا نہیں (قبول) اس کے روزے جس نے ہمیشہ رکھے نہیں (قبول) اس کے روزے جس نے ہمیشہ روزے رکھے نہیں قبول۔

Abdullah bin Amr bin As (RA) reported: It was conveyed to the Apostle of Allah ﷺ that I observe fast successively and pray during the whole night. He sent for me or I met him and he (the Holy Prophet) said: It has been conveyed to me that you observe fast continuously and do not break it and pray during the whole night. Dont do that. for there is share for your eyes, share for your own self, share for your family; so observe fast and break it, pray and sleep and observe fast for one day during the ten days, and there is a reward for you (for other) nine (days besides the tenth day of the fast). I said: Apostle of Allah ﷺ , I find myself more powerful than this. He said: Then observe the fast of David (peace be upon him). He (Amr) said: Apostle of Allah ﷺ , how did David observe fast? He (the Holy Prophet) said: He used to fast one day and break it on the other day, and he did not run (from the battlefield) as he encountered (the enemy). He said: Apostle of Allah ﷺ , who can guarantee this for me (will I also encounter the enemy dauntlessly)? Ata, the narrator of the hadith, said: I do not know how there (crept in) the matter of perpetual fast. The Apostle of Allah ﷺ , however, said: He who observed perpetual fast did not fast at all; he who observed perpetual fast did not fast at all, he who observed perpetual fast did not fast at all.