روزوں کا بیان

Sahih Muslim · Chapter 15 · 285 hadiths · Page 13 of 15

2735Sahih Muslim

صوم دہر یہاں تک کہ عید اور تشریق کے دنوں میں بھی روزہ رکھنے کی ممانعت اور صوم داؤدی یعنی ایک دن روزہ رکھنا اور ایک دن روزہ نہ رکھنے کی فضلیت کے بیان میں۔

و حَدَّثَنِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَقَالَ إِنَّ أَبَا الْعَبَّاسِ الشَّاعِرَ أَخْبَرَهُ قَالَ مُسْلِم أَبُو الْعَبَّاسِ السَّائِبُ بْنُ فَرُّوخَ مِنْ أَهْلِ مَکَّةَ ثِقَةٌ عَدْلٌ

محمد بن حاتم، محمد بن بکر، ابن جریج، ابوالعباس اس سند کے ساتھ بھی یہ روایت اسی طرح نقل کی گئی ہے انہوں نے کہا کہ حضرت ابوالعباس سائب بن فروخ مکہ والوں میں سے ہیں اور ثقہ اور عادل ہیں۔

This hadith has been narrated by Ibn Juraij with the same chain of transmitters. Imam Muslim has narrated this hadith on the authority of Abu Abbas al-Saib bin Farrukh and he was a trustworthy and reliable (narrator) among the people of Makkah.

2736Sahih Muslim

صوم دہر یہاں تک کہ عید اور تشریق کے دنوں میں بھی روزہ رکھنے کی ممانعت اور صوم داؤدی یعنی ایک دن روزہ رکھنا اور ایک دن روزہ نہ رکھنے کی فضلیت کے بیان میں۔

و حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ حَدَّثَنِي أَبِي حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ حَبِيبٍ سَمِعَ أَبَا الْعَبَّاسِ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو إِنَّکَ لَتَصُومُ الدَّهْرَ وَتَقُومُ اللَّيْلَ وَإِنَّکَ إِذَا فَعَلْتَ ذَلِکَ هَجَمَتْ لَهُ الْعَيْنُ وَنَهَکَتْ لَا صَامَ مَنْ صَامَ الْأَبَدَ صَوْمُ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ مِنْ الشَّهْرِ صَوْمُ الشَّهْرِ کُلِّهِ قُلْتُ فَإِنِّي أُطِيقُ أَکْثَرَ مِنْ ذَلِکَ قَالَ فَصُمْ صَوْمَ دَاوُدَ کَانَ يَصُومُ يَوْمًا وَيُفْطِرُ يَوْمًا وَلَا يَفِرُّ إِذَا لَاقَی

عبیداللہ بن معاذ، شعبہ، حبیب، حضرت عبداللہ بن عمرو ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اے عبداللہ تو ہمیشہ روزے رکھتا ہے اور رات بھر قیام کرتا ہے اور اگر تو اسی طرح کرے گا تو تیری آنکھیں خراب ہوجائیں گی اور کمزور ہوجائیں گی کوئی روزے (قبول) نہیں جس نے ہمیشہ روزے رکھے مہینے میں سے تین دنوں کے روزے رکھنا سارے مہینے کے روزے رکھنے کے برابر ہے میں نے عرض کی کہ میں اس سے زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں آپ ﷺ نے فرمایا کہ حضرت داؤد (علیہ السلام) کے روزے رکھ لے کہ وہ ایک دن روزہ رکھتے تھے اور ایک دن افطار کرتے تھے اور نہیں بھاگتے تھے جب کسی دشمن سے ملاقات ہوجاتی۔

Abdullah bin Amr (RA) (Allah be pleased with both of them) reported: The Messenger of Allah ﷺ said to me: Abdullah bin Amr (RA) , you fast continuously and stand in prayer for the whole of night. If you do like that, your eyes would be highly strained and would sink and lose sight. There is no (reward for) fasting (for him) who fasts perpetually. Fasting for three days during the month is like fasting, the whole of the month. I said: I am capable of doing more than this, whereupon he said: Observe the fast of David. He used to fast one day and break (the other) day. And he did not turn back in the encounter.

2737Sahih Muslim

صوم دہر یہاں تک کہ عید اور تشریق کے دنوں میں بھی روزہ رکھنے کی ممانعت اور صوم داؤدی یعنی ایک دن روزہ رکھنا اور ایک دن روزہ نہ رکھنے کی فضلیت کے بیان میں۔

و حَدَّثَنَاه أَبُو کُرَيْبٍ حَدَّثَنَا ابْنُ بِشْرٍ عَنْ مِسْعَرٍ حَدَّثَنَا حَبِيبُ بْنُ أَبِي ثَابِتٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَقَالَ وَنَفِهَتْ النَّفْسُ

ابوکریب، ابن بشر، مسعر، حبیب بن ابی ثابت اس سند کے ساتھ حضرت حبیب بن ابی ثابت ؓ نے ہمیں بیان کیا اور فرمایا وہ خود کمزور ہو جائیگے۔

This hadith is narrated on the authority of Habib bin Abu Thabit with the same chain of transmitters and he said: "And you would become exhausted."

2738Sahih Muslim

صوم دہر یہاں تک کہ عید اور تشریق کے دنوں میں بھی روزہ رکھنے کی ممانعت اور صوم داؤدی یعنی ایک دن روزہ رکھنا اور ایک دن روزہ نہ رکھنے کی فضلیت کے بیان میں۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ عَمْرٍو عَنْ أَبِي الْعَبَّاسِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَلَمْ أُخْبَرْ أَنَّکَ تَقُومُ اللَّيْلَ وَتَصُومُ النَّهَارَ قُلْتُ إِنِّي أَفْعَلُ ذَلِکَ قَالَ فَإِنَّکَ إِذَا فَعَلْتَ ذَلِکَ هَجَمَتْ عَيْنَاکَ وَنَفِهَتْ نَفْسُکَ لِعَيْنِکَ حَقٌّ وَلِنَفْسِکَ حَقٌّ وَلِأَهْلِکَ حَقٌّ قُمْ وَنَمْ وَصُمْ وَأَفْطِرْ

ابوبکر بن ابی شیبہ، سفیان بن عیینہ، عمرو، ابی العباس، حضرت ابن عمر و بن عاص ؓ سے روایت ہے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے فرمایا کہ کیا مجھے خبر نہیں دی گئی کہ تو رات بھر قیام کرتا ہے اور دن کو روزہ رکھتا ہے؟ حضرت عبداللہ ؓ نے عرض کیا میں اسی طرح کرتا ہوں آپ ﷺ نے فرمایا کہ جب تو اس طرح کرے گا تو تیری آنکھیں خراب ہوجائیں گی اور تیرا نفس کمزور ہوجائے گا تیری آنکھوں کا بھی تجھ پر حق ہے اور تیرے نفس کا بھی تجھ پر حق ہے اور تیرے گھر والوں کا بھی تجھ پر حق ہے تو قیام بھی کر اور نیند بھی کر اور روزہ بھی رکھ اور افطار بھی کر۔

Abdullah bin Amr (Allah be pleased with both of them) reported: The Messenger of Allah ﷺ said to me: I have been informed that you stand for prayer the whole of night and fast during the day. I said: I do that, whereupon he said: If you did that you in fact strained heavily your eyes and made yourself weak. There is a right of your eyes (upon you) and a right of your self (upon you) and a right of your family (upon you). Stand for prayer and sleep. Observe fasts and break (them).

2739Sahih Muslim

صوم دہر یہاں تک کہ عید اور تشریق کے دنوں میں بھی روزہ رکھنے کی ممانعت اور صوم داؤدی یعنی ایک دن روزہ رکھنا اور ایک دن روزہ نہ رکھنے کی فضلیت کے بیان میں۔

و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ قَالَ زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ أَوْسٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ أَحَبَّ الصِّيَامِ إِلَی اللَّهِ صِيَامُ دَاوُدَ وَأَحَبَّ الصَّلَاةِ إِلَی اللَّهِ صَلَاةُ دَاوُدَ عَلَيْهِ السَّلَام کَانَ يَنَامُ نِصْفَ اللَّيْلِ وَيَقُومُ ثُلُثَهُ وَيَنَامُ سُدُسَهُ وَکَانَ يَصُومُ يَوْمًا وَيُفْطِرُ يَوْمًا

ابوبکر بن ابی شیبہ، زہیر بن حرب، سفیان بن عیینہ، عمرو یعنی ابن دینار، عمرو بن اوس، حضرت عبداللہ بن عمرو سے روایت ہے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ روزوں میں سے سب سے پسندیدہ روزے اللہ کے نزدیک حضرت داؤد (علیہ السلام) کے روزے ہیں اور نماز میں اللہ کے نزدیک سب سے پسندیدہ نماز حضرت داؤد (علیہ السلام) کی نماز ہے وہ آدھی رات سوتے تھے اور تیسرا حصہ قیام کرتے تھے رات کا چھٹا حصہ سوتے تھے اور ایک دن روزہ رکھتے تھے جبکہ ایک دن افطار کرتے تھے۔

Abdullah bin Amr (Allah be pleased with both of them) reported Allahs Messenger ﷺ as saying: With Allah the best fasting is that of David and the best prayer is that of David (peace be upon him) for he slept half of the night and stood for prayer for the third of it and (then) slept the sixth part of it and he observed fast one day and broke on the other.

2740Sahih Muslim

صوم دہر یہاں تک کہ عید اور تشریق کے دنوں میں بھی روزہ رکھنے کی ممانعت اور صوم داؤدی یعنی ایک دن روزہ رکھنا اور ایک دن روزہ نہ رکھنے کی فضلیت کے بیان میں۔

و حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ أَنَّ عَمْرَو بْنَ أَوْسٍ أَخْبَرَهُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَحَبُّ الصِّيَامِ إِلَی اللَّهِ صِيَامُ دَاوُدَ کَانَ يَصُومُ نِصْفَ الدَّهْرِ وَأَحَبُّ الصَّلَاةِ إِلَی اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ صَلَاةُ دَاوُدَ عَلَيْهِ السَّلَام کَانَ يَرْقُدُ شَطْرَ اللَّيْلِ ثُمَّ يَقُومُ ثُمَّ يَرْقُدُ آخِرَهُ يَقُومُ ثُلُثَ اللَّيْلِ بَعْدَ شَطْرِهِ قَالَ قُلْتُ لِعَمْرِو بْنِ دِينَارٍ أَعَمْرُو بْنُ أَوْسٍ کَانَ يَقُولُ يَقُومُ ثُلُثَ اللَّيْلِ بَعْدَ شَطْرِهِ قَالَ نَعَمْ

محمد بن رافع، عبدالرزاق، ابن جریج، عمرو بن دینار، عمرو بن اوس، حضرت عمرو بن عاص ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے پسندیدہ روزے حضرت داؤد (علیہ السلام) کے روزے ہیں اور وہ آدھا زمانہ روزے رکھتے تھے اور نماز میں اللہ کے نزدیک سب سے پسندیدہ نماز حضرت داؤد (علیہ السلام) کی نماز ہے وہ آدھی رات سوتے تھے پھر قیام کرتے تھے پھر آپ سو جاتے اور آدھی رات کے بعد رات کے تیسرے حصہ میں قیام کرتے راوی کہتے ہیں کہ میں عمر بن دینار سے کہا کہ کیا عمرو بن عاص آدھی رات کے بعد رات کے تیسرے حصہ میں قیام کرتے تھے تو انہوں نے کہا ہاں

Abdullah bin Amr bin al-As reported Allahs Messenger ﷺ as saying: The best fasting in the eye of Allah is that of David, for he fasted for half of the age (he fasted on alternate days), and the best prayer in the eye of Allah, the Exalted and Majestic, is that of David (peace be upon him), for he slept for half of the night and then stood for prayer and then again slept. He prayed for one-third of the night after midnight. He (the narrator) said: I asked Amr bin Dinar whether Amr bin Aus said that he stood for prayer one-third of the night after midnight. He said: Yes.

2741Sahih Muslim

صوم دہر یہاں تک کہ عید اور تشریق کے دنوں میں بھی روزہ رکھنے کی ممانعت اور صوم داؤدی یعنی ایک دن روزہ رکھنا اور ایک دن روزہ نہ رکھنے کی فضلیت کے بیان میں۔

و حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ خَالِدٍ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ قَالَ أَخْبَرَنِي أَبُو الْمَلِيحِ قَالَ دَخَلْتُ مَعَ أَبِيکَ عَلَی عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو فَحَدَّثَنَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذُکِرَ لَهُ صَوْمِي فَدَخَلَ عَلَيَّ فَأَلْقَيْتُ لَهُ وِسَادَةً مِنْ أَدَمٍ حَشْوُهَا لِيفٌ فَجَلَسَ عَلَی الْأَرْضِ وَصَارَتْ الْوِسَادَةُ بَيْنِي وَبَيْنَهُ فَقَالَ لِي أَمَا يَکْفِيکَ مِنْ کُلِّ شَهْرٍ ثَلَاثَةُ أَيَّامٍ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ خَمْسًا قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ سَبْعًا قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ تِسْعًا قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ أَحَدَ عَشَرَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا صَوْمَ فَوْقَ صَوْمِ دَاوُدَ شَطْرُ الدَّهْرِ صِيَامُ يَوْمٍ وَإِفْطَارُ يَوْمٍ

یحییٰ بن یحیی، خالد بن عبداللہ، خالد، ابی قلابہ، ابوملیح، حضرت عبداللہ بن عمرو فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے سامنے میرے روزوں کا ذکر کیا گیا تو آپ ﷺ میری طرف تشریف لائے میں نے آپ ﷺ کے لئے چمڑے کا گدا بچھایا جس میں کھجوروں کی چھال بھری ہوئی تھے تو آپ ﷺ زمین پر بیٹھ گئے اور وہ گدا میرے اور آپ ﷺ کے درمیان تھا تو آپ نے مجھے فرمایا کیا تجھے ہر مہینے تین دن کے روزے کافی نہیں؟ میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول آپ نے فرمایا پانچ، میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول، آپ ﷺ نے فرمایا سات میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول، آپ نے فرمایا نو، میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول، آپ نے فرمایا گیارہ، میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول، تو نبی ﷺ نے فرمایا کہ حضرت داؤد (علیہ السلام) کے روزوں سے بڑھ کر اور کوئی روزہ نہیں کہ انہوں نے آدھا زمانہ روزے رکھے وہ ایک دن روزہ رکھتے تھے اور ایک دن افطار کرتے۔

Abu Qatadah (RA) reported that Abu al Malih informed me: I went along with your father to Abdullah bin Amr (RA), and he narrated to us that the Messenger of Allah ﷺ was informed about my fasting and he came to me, and I placed a leather cushion filled with fibre of date-palms for him. He sat down upon the ground and there was that cushion between me and him, and he said to me: Does three days fasting in a month not suffice you? I said: Messenger of Allah, (I am capable of observing more fasts). He said: (Would) five (not suffice for you)? I said: Messenger of Allah, (I am capable of observing more fasts) He said: (Would) seven (fasts) not suffice you? I said: Messenger of Allah, (I am capable of observing more fasts). He (the Holy Prophet) then said: (Would) nine (fasts not suffice you)? I said: Messenger of Allah, (I am capable of observing more fasts). He said: (Would) eleven (fasts not suffice you)? I said: Messenger of Allah, (I am capable of observing more fasts than these). Thereupon the Apostle of Allah ﷺ said: There is no fasting (better than) the fasting of David which comprises half of the age, fasting a day and not fasting a day.

2742Sahih Muslim

صوم دہر یہاں تک کہ عید اور تشریق کے دنوں میں بھی روزہ رکھنے کی ممانعت اور صوم داؤدی یعنی ایک دن روزہ رکھنا اور ایک دن روزہ نہ رکھنے کی فضلیت کے بیان میں۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ عَنْ شُعْبَةَ ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ زِيَادِ بْنِ فَيَّاضٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا عِيَاضٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهُ صُمْ يَوْمًا وَلَکَ أَجْرُ مَا بَقِيَ قَالَ إِنِّي أُطِيقُ أَکْثَرَ مِنْ ذَلِکَ قَالَ صُمْ يَوْمَيْنِ وَلَکَ أَجْرُ مَا بَقِيَ قَالَ إِنِّي أُطِيقُ أَکْثَرَ مِنْ ذَلِکَ قَالَ صُمْ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ وَلَکَ أَجْرُ مَا بَقِيَ قَالَ إِنِّي أُطِيقُ أَکْثَرَ مِنْ ذَلِکَ قَالَ صُمْ أَرْبَعَةَ أَيَّامٍ وَلَکَ أَجْرُ مَا بَقِيَ قَالَ إِنِّي أُطِيقُ أَکْثَرَ مِنْ ذَلِکَ قَالَ صُمْ أَفْضَلَ الصِّيَامِ عِنْدَ اللَّهِ صَوْمَ دَاوُدَ عَلَيْهِ السَّلَام کَانَ يَصُومُ يَوْمًا وَيُفْطِرُ يَوْمًا

ابوبکر بن ابی شیبہ، غندر، شعبہ، محمد بن مثنی، محمد بن جعفر، شعبہ، زیاد بن فیاض، حضرت عبداللہ بن عمرو ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا کہ تو ایک دن کا روزہ رکھ اور یہ تیرے لئے باقی دنوں کا بھی اجر بن جائے گا حضرت عبداللہ ؓ نے عرض کیا کہ میں تو اس سے زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں آپ نے فرمایا کہ تو دو دونوں کو روزہ رکھ اور یہ تیرے لئے باقی دنوں کا بھی اجر بن جائے گا حضرت عبداللہ ؓ نے عرض کیا کہ میں تو اس سے بھی زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں آپ ﷺ نے فرمایا کہ تو تین دن روزے رکھ اور یہ تیرے باقی دنوں کے لئے بھی اجر بن جائیں گے حضرت عبداللہ ؓ نے عرض کیا کہ میں تو اس سے بھی زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں آپ نے فرمایا کہ تو چار دنوں کے روزے رکھ لے اور یہ تیرے باقی دنوں کے لئے بھی اجر بن جائیں گے حضرت عبداللہ ؓ نے عرض کیا کہ میں تو اس سے بھی زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں آپ نے فرمایا کہ تو وہ روزے رکھ جو اللہ تعالیٰ کے ہاں سب سے زیادہ فضیلت والے ہیں وہ حضرت داؤد (علیہ السلام) کے روزے ہیں وہ ایک دن روزہ رکھتے تھے اور ایک دن افطار کرتے تھے۔

Abdullah bin Amr (RA) reported that the Messenger of Allah ﷺ had said to him: Observe fast for a day and there would be reward for you for the rest (of the days). He said: I am capable of doing more than this. He then said: Observe fast for two days, and there would be reward for you for the rest (of the days). He said: I am capable of doing more than this. He (the Holy Prophet) said: Observe fast for three days and there would be reward for you for the rest of the days. He said: I am capable of doing more than this, whereupon he said: Observe fast for four days and there would be reward for you for the rest of the days. He said: I am capable of doing more than this. Thereupon he said: Then observe fast (which is the) best in the eye of Allah, the fast of David (peace be upon him); he used to observe fast one day and break on the other day.

2743Sahih Muslim

صوم دہر یہاں تک کہ عید اور تشریق کے دنوں میں بھی روزہ رکھنے کی ممانعت اور صوم داؤدی یعنی ایک دن روزہ رکھنا اور ایک دن روزہ نہ رکھنے کی فضلیت کے بیان میں۔

و حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ جَمِيعًا عَنْ ابْنِ مَهْدِيٍّ قَالَ زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ حَدَّثَنَا سَلِيمُ بْنُ حَيَّانَ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مِينَائَ قَالَ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو بَلَغَنِي أَنَّکَ تَصُومُ النَّهَارَ وَتَقُومُ اللَّيْلَ فَلَا تَفْعَلْ فَإِنَّ لِجَسَدِکَ عَلَيْکَ حَظًّا وَلِعَيْنِکَ عَلَيْکَ حَظًّا وَإِنَّ لِزَوْجِکَ عَلَيْکَ حَظًّا صُمْ وَأَفْطِرْ صُمْ مِنْ کُلِّ شَهْرٍ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ فَذَلِکَ صَوْمُ الدَّهْرِ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ بِي قُوَّةً قَالَ فَصُمْ صَوْمَ دَاوُدَ عَلَيْهِ السَّلَام صُمْ يَوْمًا وَأَفْطِرْ يَوْمًا فَکَانَ يَقُولُ يَا لَيْتَنِي أَخَذْتُ بِالرُّخْصَةِ

زہیر بن حرب، محمد بن حاتم، ابن مہدی، زہیر، عبدالرحمن بن مہدی، سلیم بن حیان، سعید بن میناء، حضرت ابن عمرو ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے فرمایا اے عبداللہ بن عمرو مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ تو دن کو روزہ رکھتا اور رات بھر قیام کرتا ہے تو اس طرح نہ کر کیونکہ تیرے جسم کا بھی تجھ پر حق ہے اور تیری آنکھوں کا بھی تجھ پر حق ہے اور تیری بیوی کا بھی تجھ پر حق ہے تو روزہ بھی رکھ اور افطار بھی کر ہر مہینے میں سے تین دنوں کے روزے رکھ یہ زمانے کے روزوں کی طرح ہے میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ مجھے اس سے زیادہ کی طاقت ہے آپ ﷺ نے فرمایا کہ پھر تو حضرت داؤد (علیہ السلام) کے روزے رکھ وہ ایک دن روزہ رکھتے اور ایک دن افطار کرتے رھے حضرت عبداللہ فرمایا کرتے تھے کہ کاش کہ میں نے آپ ﷺ کی طرف سے دی گئی رخصت پر عمل کرلیا ہوتا۔

Abdullah bin Amr (RA) reported that the Messenger of Allah ﷺ said to me! Abdullah bin Amr, it has been conveyed to me that you observe fast during the day and stand in prayer during the whole night. Dont do that, for your body has a share of its own in you, your eye has a share of its own in you, your wife has a share of her own in you. Observe fast and break it too. Fast for three days in every month and that is a perpetual fasting. I said! Messenger of Allah, I have got strength enough (to do more than this), whereupon he said: Then observe the fast of David (peace be upon him). Observe fast one day and break it (on the other) day. And he (Abdullah bin Amr) used to say: Would that I had availed myself of this concession.

2744Sahih Muslim

ہر مہینے تین دن کے روزے اور ایام عرفہ کا ایک روزہ اور عاشورہ اور سوموار اور جمعرات کے دن کے روزے کے استح کے بیان میں

حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ عَنْ يَزِيدَ الرِّشْکِ قَالَ حَدَّثَتْنِي مُعَاذَةُ الْعَدَوِيَّةُ أَنَّهَا سَأَلَتْ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَکَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُ مِنْ کُلِّ شَهْرٍ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ قَالَتْ نَعَمْ فَقُلْتُ لَهَا مِنْ أَيِّ أَيَّامِ الشَّهْرِ کَانَ يَصُومُ قَالَتْ لَمْ يَکُنْ يُبَالِي مِنْ أَيِّ أَيَّامِ الشَّهْرِ يَصُومُ

شیبان بن فروخ، عبدالوارث، یزید، حضرت معاذہ عدویہ بیان کرتی ہیں کہ انہوں نے نبی ﷺ کے زوجہ مطہرہ سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ سے پوچھا کہ کیا رسول اللہ ﷺ ہر مہینے تین دنوں کے روزے رکھتے تھے؟ انہوں نے فرمایا کہ ہاں تو میں نے عرض کیا کہ مہینے کے کن دنوں کے روزے رکھتے تھے؟ سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ نے فرمایا کہ دنوں کی پرواہ نہیں کرتے تھے مہینے کے جن دنوں میں سے چاہتے روزے رکھ لیتے۔

Muadha al-Adawiyya reported that she asked Aisha, the wife of the Apostle of Allah ﷺ , whether the Messenger of Allah ﷺ observed fasts for three days during every month. She said: Yes. I said to her: Which were (the particular) days of the month on which he observed fast? She said: He was not particular about the days of the month on which to observe fast..

2745Sahih Muslim

ہر مہینے تین دن کے روزے اور ایام عرفہ کا ایک روزہ اور عاشورہ اور سوموار اور جمعرات کے دن کے روزے کے استح کے بیان میں

و حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَائَ الضُّبَعِيُّ حَدَّثَنَا مَهْدِيٌّ وَهُوَ ابْنُ مَيْمُونٍ حَدَّثَنَا غَيْلَانُ بْنُ جَرِيرٍ عَنْ مُطَرِّفٍ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهُ أَوْ قَالَ لِرَجُلٍ وَهُوَ يَسْمَعُ يَا فُلَانُ أَصُمْتَ مِنْ سُرَّةِ هَذَا الشَّهْرِ قَالَ لَا قَالَ فَإِذَا أَفْطَرْتَ فَصُمْ يَوْمَيْنِ

عبداللہ بن محمد بن اسماء ضبعی، مہدی، ابن میمون، غیلان بن جریر، مطرف، حضرت عمران بن حصین ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے ان سے یا کسی آدمی سے فرمایا اور وہ سن رہے تھے اے فلاں! کیا تو نے اس مہینے کے درمیان میں سے روزے رکھے ہیں؟ اس نے عرض کیا نہیں آپ ﷺ نے فرمایا کہ جب تو افطار کرلے تو دو دنوں کے اور روزے رکھنا۔

Imran bin Husain (RA) reported that the Apostle of Allah ﷺ said to him (or he said to another person and he was listening to it): O, so and so, did you observe fast in the middle of the month? He said: No. Thereupon he (the Messenger of Allah) ﷺ said: When you break it, then observe fast for two days.

2746Sahih Muslim

ہر مہینے تین دن کے روزے اور ایام عرفہ کا ایک روزہ اور عاشورہ اور سوموار اور جمعرات کے دن کے روزے کے استح کے بیان میں

و حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی التَّمِيمِيُّ وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ جَمِيعًا عَنْ حَمَّادٍ قَالَ يَحْيَی أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ غَيْلَانَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْبَدٍ الزِّمَّانِيِّ عَنْ أَبِي قَتَادَةَ رَجُلٌ أَتَی النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ کَيْفَ تَصُومُ فَغَضِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا رَأَی عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ غَضَبَهُ قَالَ رَضِينَا بِاللَّهِ رَبًّا وَبِالْإِسْلَامِ دِينًا وَبِمُحَمَّدٍ نَبِيًّا نَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ غَضَبِ اللَّهِ وَغَضَبِ رَسُولِهِ فَجَعَلَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يُرَدِّدُ هَذَا الْکَلَامَ حَتَّی سَکَنَ غَضَبُهُ فَقَالَ عُمَرُ يَا رَسُولَ اللَّهِ کَيْفَ بِمَنْ يَصُومُ الدَّهْرَ کُلَّهُ قَالَ لَا صَامَ وَلَا أَفْطَرَ أَوْ قَالَ لَمْ يَصُمْ وَلَمْ يُفْطِرْ قَالَ کَيْفَ مَنْ يَصُومُ يَوْمَيْنِ وَيُفْطِرُ يَوْمًا قَالَ وَيُطِيقُ ذَلِکَ أَحَدٌ قَالَ کَيْفَ مَنْ يَصُومُ يَوْمًا وَيُفْطِرُ يَوْمًا قَالَ ذَاکَ صَوْمُ دَاوُدَ عَلَيْهِ السَّلَام قَالَ کَيْفَ مَنْ يَصُومُ يَوْمًا وَيُفْطِرُ يَوْمَيْنِ قَالَ وَدِدْتُ أَنِّي طُوِّقْتُ ذَلِکَ ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثٌ مِنْ کُلِّ شَهْرٍ وَرَمَضَانُ إِلَی رَمَضَانَ فَهَذَا صِيَامُ الدَّهْرِ کُلِّهِ صِيَامُ يَوْمِ عَرَفَةَ أَحْتَسِبُ عَلَی اللَّهِ أَنْ يُکَفِّرَ السَّنَةَ الَّتِي قَبْلَهُ وَالسَّنَةَ الَّتِي بَعْدَهُ وَصِيَامُ يَوْمِ عَاشُورَائَ أَحْتَسِبُ عَلَی اللَّهِ أَنْ يُکَفِّرَ السَّنَةَ الَّتِي قَبْلَهُ

یحییٰ بن یحیی، قتیبہ بن سعید، حماد، حماد بن زید، غیلان، عبداللہ بن معبد زمانی، حضرت ابوقتادہ ؓ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نبی ﷺ کی خدمت میں آیا اور عرض کیا کہ آپ ﷺ روزے کیسے رکھتے ہیں؟ رسول اللہ ﷺ اس کی بات سے غصہ میں آگئے (یعنی اس لئے کہ یہ سوال بےموقع تها۔ اس کو لازم تها کہ یوں پوچهتا کہ میں روزے کیسے رکهوں؟ ) اور جب حضرت عمر ؓ نے آپ کو غصہ کی حالت میں دیکھا تو کہنے لگے (رَضِينَا بِاللَّهِ رَبًّا وَبِالْإِسْلَامِ دِينًا وَبِمُحَمَّدٍ نَبِيًّا نَعُوذُ بِاللَّهِ ) ہم اللہ تعالیٰ تعالیٰ سے اس کو رب مانتے ہوئے اور اسلام کو دین مانتے ہوئے اور محمد ﷺ کو نبی مانتے ہوئے راضی ہیں ہم اللہ تعالیٰ سے پناہ مانگتے ہیں اللہ تعالیٰ کے غضب سے اور اس کے رسول ﷺ کے غضب سے حضرت عمر ؓ اپنے اس کلام کو بار بار دہراتے رہے یہاں تک کہ آپ ﷺ کا غصہ ٹھنڈا ہوگیا تو حضرت عمر ؓ نے عرض کیا اے اللہ کے رسول جو آدمی ساری ساری عمر روزے رکھے اس کے بارے میں کیا حکم ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا نہ اس نے روزہ رکھا اور نہ اس نے افطار کیا حضرت عمر ؓ نے عرض کیا کہ جو آدمی دو دن روزے رکھے اور ایک دن افطار کرے اس کے بارے میں کیا حکم ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا وہ کون ہے جو اس کی طاقت رکھتا ہو؟ حضرت عمر ؓ نے عرض کیا کہ جو آدمی ایک دن روزہ رکھے اور ایک دن افطار کرے اس کے بارے میں کیا حکم ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا یہ حضرت داؤد (علیہ السلام) کے روزے ہیں۔ حضرت عمر ؓ نے عرض کیا کہ جو آدمی ایک دن روزہ رکھے اور دو دن افطار کرے اس کے بارے میں کیا حکم ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا میں پسند کرتا ہوں کہ مجھے اس کی طاقت ہوتی پھر آپ ﷺ نے فرمایا ہر مہینے تین دن روزے رکھنا اور ایک رمضان کے بعد دوسرے رمضان کے روزے رکھنا پورے ایک زمانہ کے روزے کے برابر ہے اور عرفہ کے دن روزہ رکھنے سے میں اللہ تعالیٰ کی ذات سے امید کرتا ہوں کہ یہ ایک سال پہلے کے اور ایک سال بعد کے گناہوں کا کفارہ بن جائے گا اور عاشورہ کے دن روزہ رکھنے سے بھی اللہ تعالیٰ کی ذات سے امید کرتا ہوں کہ یہ ایک روزہ اس کے ایک سال پہلے کے گناہوں کا کفارہ بن جائے گا۔

Abu Qatadah (RA) reported that a person came to the Apostle of Allah ﷺ and said: How do you observe fast? The Messenger of Allah ﷺ felt annoyed. When Umar (RA) noticed his annoyance, he said: We are well pleased with Allah as our Lord, with Islam as our Code of Life, and with Muhammad as our Prophet. We seek refuge with Allah from the anger of Allah and that of His Messenger. Umar kept on repeating these words till his (the Prophets) anger calmed down. Then Umar said: Messenger of Allah. what is the position of one who perpetually observes fasts? Thereupon he said: He neither fasted nor broke it, or he said: He did not fast and he did not break it. He said: What about him who observes fast for two days and breaks one day. Thereupon he said: Is anyone capable of doing it? He (Umar) said: What is the position of him who observes fast for a day and breaks on the other day? Thereupon he (the Holy Prophet) said: That is the fast of David (peace be upon him). He (Umar) said: What about him who observes fast one day and breaks it for two days. Thereupon he (the Messenger of Allah) ﷺ said: I wish, I were given strength to observe that. Thereafter he said: The observance of three days fast every Month and that of Ramadan every year is a perpetual fasting. I seek from Allah that fasting on the day of Arafa may atone for the sins of the preceding and the coming years. and I seek from Allah that fasting on the day of Ashura may atone for the sins of the preceding year.

2747Sahih Muslim

ہر مہینے تین دن کے روزے اور ایام عرفہ کا ایک روزہ اور عاشورہ اور سوموار اور جمعرات کے دن کے روزے کے استح کے بیان میں

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ وَاللَّفْظُ لِابْنِ الْمُثَنَّی قَالَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ غَيْلَانَ بْنِ جَرِيرٍ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَعْبَدٍ الزِّمَّانِيَّ عَنْ أَبِي قَتَادَةَ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنْ صَوْمِهِ قَالَ فَغَضِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ رَضِينَا بِاللَّهِ رَبًّا وَبِالْإِسْلَامِ دِينًا وَبِمُحَمَّدٍ رَسُولًا وَبِبَيْعَتِنَا بَيْعَةً قَالَ فَسُئِلَ عَنْ صِيَامِ الدَّهْرِ فَقَالَ لَا صَامَ وَلَا أَفْطَرَ أَوْ مَا صَامَ وَمَا أَفْطَرَ قَالَ فَسُئِلَ عَنْ صَوْمِ يَوْمَيْنِ وَإِفْطَارِ يَوْمٍ قَالَ وَمَنْ يُطِيقُ ذَلِکَ قَالَ وَسُئِلَ عَنْ صَوْمِ يَوْمٍ وَإِفْطَارِ يَوْمَيْنِ قَالَ لَيْتَ أَنَّ اللَّهَ قَوَّانَا لِذَلِکَ قَالَ وَسُئِلَ عَنْ صَوْمِ يَوْمٍ وَإِفْطَارِ يَوْمٍ قَالَ ذَاکَ صَوْمُ أَخِي دَاوُدَ عَلَيْهِ السَّلَام قَالَ وَسُئِلَ عَنْ صَوْمِ يَوْمِ الِاثْنَيْنِ قَالَ ذَاکَ يَوْمٌ وُلِدْتُ فِيهِ وَيَوْمٌ بُعِثْتُ أَوْ أُنْزِلَ عَلَيَّ فِيهِ قَالَ فَقَالَ صَوْمُ ثَلَاثَةٍ مِنْ کُلِّ شَهْرٍ وَرَمَضَانَ إِلَی رَمَضَانَ صَوْمُ الدَّهْرِ قَالَ وَسُئِلَ عَنْ صَوْمِ يَوْمِ عَرَفَةَ فَقَالَ يُکَفِّرُ السَّنَةَ الْمَاضِيَةَ وَالْبَاقِيَةَ قَالَ وَسُئِلَ عَنْ صَوْمِ يَوْمِ عَاشُورَائَ فَقَالَ يُکَفِّرُ السَّنَةَ الْمَاضِيَةَ وَفِي هَذَا الْحَدِيثِ مِنْ رِوَايَةِ شُعْبَةَ قَالَ وَسُئِلَ عَنْ صَوْمِ يَوْمِ الِاثْنَيْنِ وَالْخَمِيسِ فَسَکَتْنَا عَنْ ذِکْرِ الْخَمِيسِ لَمَّا نُرَاهُ وَهْمًا

محمد بن مثنی، محمد بن بشار، محمد بن جعفر، شعبہ، غیلان بن جریر، عبداللہ بن معبد زمانی، حضرت ابوقتادہ انصاری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے آپ ﷺ کے روزے کے بارے میں سوال کیا گیا تو رسول اللہ غصہ ہوگئے تو حضرت عمر ؓ عرض کرنے لگے ہم اللہ تعالیٰ کو رب مانتے ہوئے اور اسلام کو دین مانتے ہوئے اور محمد ﷺ کو رسول مانتے ہوئے راضی ہیں اور جو ہم نے بیعت کی اس بیعت پر بھی راضی ہیں راوی کہتے ہیں کہ آپ ﷺ سے صوم دہر (ساری عمر کے روزے) کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا کہ نہ اس نے روزہ رکھا اور نہ اس نے افطار کیا راوی کہتے ہیں کہ پھر آپ ﷺ سے دو دن کے روزے اور ایک دن افطار کرنے کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا کون اس کی طاقت رکهتا ہے؟ راوی کہتے ہیں کہ پھر آپ سے ﷺ سے ایک دن روزہ اور دو دن افطار کرنے کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا یہ روزے میرے بھائی حضرت داؤد (علیہ السلام) کے ہیں راوی کہتے ہیں کہ پھر آپ ﷺ سے سوموار کے دن کے روزہ کے بارے میں پوچھا گیا آپ ﷺ نے فرمایا یہ وہ دن ہے جس میں مجھے پیدا کیا گیا اور اسی دن مجھے مبعوث کیا گیا اسی دن مجھ پر (قرآن) نازل کیا گیا راوی کہتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا ہر مہینے تین روزے اور ایک رمضان کے بعد دوسرے رمضان کے روزے رکھنا ساری عمر کے روزوں کے برابر ہے راوی کہتے ہیں آپ ﷺ سے عرفہ کے دن کے روزے کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا گزرے ہوئے سال اور آنے والے سال کے گناہوں کا کفارہ بن جاتا ہے راوی کہتے ہیں کہ آپ سے عاشورہ کے دن کے روزے کے بارے میں پوچھا گیا آپ ﷺ نے فرمایا یہ روزہ رکھنا گزرے ہوئے ایک سال کے گناہوں کا کفارہ بن جاتا ہے امام مسلم فرماتے ہیں اور اس حدیث میں شعبہ کی روایت میں ہے آپ ﷺ سے پیر اور جمعرات کے دن کے روزوں کے بارے میں پوچھا گیا تو ہم جمعرات کے ذکر سے خاموش رہے کیونکہ ہم اس میں وہم خیال کرتے ہیں۔

Abu Qatadah (RA) al-Ansari (RA) reported that the Messenger of Allah ﷺ was asked about his fasting. The Messenger of Allah ﷺ felt annoyed. Thereupon Umar (RA) said: We are pleased with Allah as the Lord, with Islam as our Code of Life, with Muhammad as the Messenger and with our pledge (to you for willing and cheerful submission) as a (sacred) commitment. He was then asked about perpetual fasting, whereupon he said: He neither fasted nor did he break it, or he did not fast and he did not break it. He was then asked about fasting for two days and breaking one day. He (the Holy Prophet) said: And who has strength enough to do it? He was asked about fasting for a day and breaking for two days, whereupon he said: May Allah bestow upon us strength to do it. He was then asked about fasting for a day and breaking on the other, whereupon he said: That is the fasting of my brother David (peace be upon him). He was then asked about fasting on Monday, whereupon he said: It was the day on which I was born. on which I was commissioned with prophethood or revelation was sent to me, (and he further) said: Three days fasting every month and of the whole of Ramadan every year is a perpetual fast. He was asked about fasting on the day of Arafa (9th of DhuI-Hijja), whereupon he said: It expiates the sins of the preceding year and the coming year. He was asked about fasting on the day of Ashura (10th of Muharram), whereupon be said: It expiates the sins of the preceding year. Imam Muslim said (that in this hadith) there is a narration of Imam Shubah that he was asked about fasting on Monday and Thursday, but we (Imam Muslim) did not mention Thursday for we found it as an error (in reporting).

2748Sahih Muslim

ہر مہینے تین دن کے روزے اور ایام عرفہ کا ایک روزہ اور عاشورہ اور سوموار اور جمعرات کے دن کے روزے کے استح کے بیان میں

و حَدَّثَنَاه عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ حَدَّثَنَا أَبِي ح و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا شَبَابَةُ ح و حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ کُلُّهُمْ عَنْ شُعْبَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ

عبیداللہ بن معاذ، ابوبکر بن ابی شیبہ، شبابہ، اسحاق بن ابراہیم، نضر بن شمیل، حضرت شعبہ سے اس سند کے ساتھ اسی طرح روایت نقل کی گئی ہے

This hadith has been narrated by Shubah with the same chain of transmitters.

2749Sahih Muslim

ہر مہینے تین دن کے روزے اور ایام عرفہ کا ایک روزہ اور عاشورہ اور سوموار اور جمعرات کے دن کے روزے کے استح کے بیان میں

حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ حَدَّثَنَا حَبَّانُ بْنُ هِلَالٍ حَدَّثَنَا أَبَانُ الْعَطَّارُ حَدَّثَنَا غَيْلَانُ بْنُ جَرِيرٍ فِي هَذَا الْإِسْنَادِ بِمِثْلِ حَدِيثِ شُعْبَةَ غَيْرَ أَنَّهُ ذَکَرَ فِيهِ الِاثْنَيْنِ وَلَمْ يَذْکُرْ الْخَمِيسَ

احمد بن سعید دارمی، حبان بن ہلال، ابان عطار، غیلان بن جریر، شعبہ اس سند کے ساتھ بھی اس طرح حدیث نقل کی گئی ہے سوائے اس کے کہ اس میں سوموار کا ذکر ہے اور جمعرات کا ذکر نہیں کیا۔

This hadith has been narrated by Ghailan bin Jarir with the same chain of transmitters, but with one variation, that there has been made mention of Monday and not of Thursday.

2750Sahih Muslim

ہر مہینے تین دن کے روزے اور ایام عرفہ کا ایک روزہ اور عاشورہ اور سوموار اور جمعرات کے دن کے روزے کے استح کے بیان میں

حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ حَدَّثَنَا مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ عَنْ غَيْلَانَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْبَدٍ الزِّمَّانِيِّ عَنْ أَبِي قَتَادَةَ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنْ صَوْمِ الِاثْنَيْنِ فَقَالَ فِيهِ وُلِدْتُ وَفِيهِ أُنْزِلَ عَلَيَّ

زہیر بن حرب، عبدالرحمن بن مہدی، مہدی بن میمون، غیلان، عبداللہ بن معبد زمانی، حضرت ابوقتادہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے سوموار کے دن کے روزے کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ اسی دن میں مجھے پیدا کیا گیا اور اس دن میں مجھ پر وحی نازل کی گئی۔

Abu Qatadah (RA) Ansari (RA) reported that Allahs Messenger ﷺ was asked about fasting on Monday, whereupon he said: It is (the day) when I was born and revelation was sent down to me.

2751Sahih Muslim

شعبان کے مہینے کے روزوں کے بیان میں

حَدَّثَنَا هَدَّابُ بْنُ خَالِدٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ مُطَرِّفٍ وَلَمْ أَفْهَمْ مُطَرِّفًا مِنْ هَدَّابٍ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهُ أَوْ لِآخَرَ أَصُمْتَ مِنْ سُرَرِ شَعْبَانَ قَالَ لَا قَالَ فَإِذَا أَفْطَرْتَ فَصُمْ يَوْمَيْنِ

ہداب بن خالد، حماد بن سلمہ، ثابت، مطرف، ہداب، حضرت عمران بن حصین ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ان سے یا کسی دوسرے سے فرمایا کہ کیا تو نے شعبان کے مہینے میں روزے رکھا ہے؟ اس نے عرض کیا نہیں آپ ﷺ نے فرمایا کہ جب تو افطار کرے تو (بعد میں) دو دنوں کے روزے رکھنا۔

Imran bin Husain (RA) reported Allahs Messenger (may peace he upon him) having said to him or to someone else: Did you fast in the middle of Shaban? He said: No. Thereupon he (the Holy Prophet) said: If you did not observe fast, then you should observe fast for two days.

2752Sahih Muslim

شعبان کے مہینے کے روزوں کے بیان میں

و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ عَنْ الْجُرَيْرِيِّ عَنْ أَبِي الْعَلَائِ عَنْ مُطَرِّفٍ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِرَجُلٍ هَلْ صُمْتَ مِنْ سُرَرِ هَذَا الشَّهْرِ شَيْئًا قَالَ لَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِذَا أَفْطَرْتَ مِنْ رَمَضَانَ فَصُمْ يَوْمَيْنِ مَکَانَهُ

ابوبکر بن ابی شیبہ، یزید بن ہارون، جریری، ابی العلاء، حضرت عمران بن حصین ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ایک آدمی سے فرمایا کیا تو نے اس مہینے یعنی شعبان کے درمیان میں کچھ روزے رکھے ہیں؟ تو اس نے عرض کی نہیں آپ ﷺ نے فرمایا کہ جب تو رمضان کے روزے افطار کرلے تو (عیدالفطر کے بعد) اس کی جگہ دو روزے رکھنا۔

Imran bin Husain (RA) reported that Allahs Apostle ﷺ (may peace heupon him) said to a person: Did you observe any fast in the middle of this month (Shaban)? He said: No. Thereupon the Messenger of Allah ﷺ said: Fast for two days instead of (one fast) when you have completed (fasts of) Ramadan.

2753Sahih Muslim

شعبان کے مہینے کے روزوں کے بیان میں

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ ابْنِ أَخِي مُطَرِّفِ بْنِ الشِّخِّيرِ قَالَ سَمِعْتُ مُطَرِّفًا يُحَدِّثُ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِرَجُلٍ هَلْ صُمْتَ مِنْ سُرَرِ هَذَا الشَّهْرِ شَيْئًا يَعْنِي شَعْبَانَ قَالَ لَا قَالَ فَقَالَ لَهُ إِذَا أَفْطَرْتَ رَمَضَانَ فَصُمْ يَوْمًا أَوْ يَوْمَيْنِ شُعْبَةُ الَّذِي شَکَّ فِيهِ قَالَ وَأَظُنُّهُ قَالَ يَوْمَيْنِ

محمد بن مثنی، محمد بن جعفر، شعبہ، ابن اخی مطرف بن شخیر، حضرت عمران بن حصین ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے ایک آدمی سے فرمایا کیا تو نے اس مہینے یعنی شعبان کے درمیان میں کچھ روزے رکھے ہیں؟ اس نے عرض کیا نہیں تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جب تو رمضان کے روزے افطار کرلے تو ایک دن یا دو دن کے روزے رکھ شعبہ نے اس میں شک کیا ہے وہ کہتے ہیں کہ میرا خیال ہے آپ نے دو دن فرمایا

Imran bin Husain (RA) reported that the Apostle of Allah ﷺ said to a person: Did you observe fast in the middle of this month. i. e. Shaban? He said: No. Thereupon he said to him: When it is the end of Ramadan, then observe fast for one day or two (Shubah had some doubt about it) but he said: I think that he has said: two days.

2754Sahih Muslim

شعبان کے مہینے کے روزوں کے بیان میں

و حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ قُدَامَةَ وَيَحْيَی اللُّؤْلُؤِيُّ قَالَا أَخْبَرَنَا النَّضْرُ أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هَانِئِ ابْنِ أَخِي مُطَرِّفٍ فِي هَذَا الْإِسْنَادِ بِمِثْلِهِ

محمد بن قدامہ، یحییٰ لولوی، نضر، شعبہ، عبداللہ بن ہانی، ابن اخی مطرف اس سند کے ساتھ اسی حدیث کی طرح یہ حدیث نقل کی گئی ہے۔

This hadith is narrated by Abdullah bin Hani bin Akhi Mutarrif with the same chain of transmitters.