رضاعت کا بیان

Sahih Muslim · Chapter 19 · 83 hadiths · Page 2 of 5

3588Sahih Muslim

سوتیلی بیٹی اور بیوی کی بہن کی حرمت کے بیان میں

و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحِ بْنِ الْمُهَاجِرِ أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ شِهَابٍ کَتَبَ يَذْکُرُ أَنَّ عُرْوَةَ حَدَّثَهُ أَنَّ زَيْنَبَ بِنْتَ أَبِي سَلَمَةَ حَدَّثَتْهُ أَنَّ أُمَّ حَبِيبَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدَّثَتْهَا أَنَّهَا قَالَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا رَسُولَ اللَّهِ انْکِحْ أُخْتِي عَزَّةَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتُحِبِّينَ ذَلِکِ فَقَالَتْ نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَسْتُ لَکَ بِمُخْلِيَةٍ وَأَحَبُّ مَنْ شَرِکَنِي فِي خَيْرٍ أُخْتِي فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِنَّ ذَلِکِ لَا يَحِلُّ لِي قَالَتْ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَإِنَّا نَتَحَدَّثُ أَنَّکَ تُرِيدُ أَنْ تَنْکِحَ دُرَّةَ بِنْتَ أَبِي سَلَمَةَ قَالَ بِنْتَ أَبِي سَلَمَةَ قَالَتْ نَعَمْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَوْ أَنَّهَا لَمْ تَکُنْ رَبِيبَتِي فِي حِجْرِي مَا حَلَّتْ لِي إِنَّهَا ابْنَةُ أَخِي مِنْ الرَّضَاعَةِ أَرْضَعَتْنِي وَأَبَا سَلَمَةَ ثُوَيْبَةُ فَلَا تَعْرِضْنَ عَلَيَّ بَنَاتِکُنَّ وَلَا أَخَوَاتِکُنَّ

محمد بن رمح بن مہاجر، لیث، یزید بن ابی حبیب، محمد بن شہاب، زینب بنت ابی سلمہ، ام المومنین حضرت ام حبیبہ ؓ سے روایت ہے کہ اس نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا اے اللہ کے رسول آپ میری بہن عزہ سے نکاح کرلیں تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کیا تو اس بات کو پسند کرتی ہے؟ انہوں نے کہا ہاں اے اللہ کے رسول! میں آپ ﷺ کے لئے مخل ہونے والی نہیں اور میں دو سعی نسبت زیادہ پسند کرتی ہوں اپنی بہن کو بھلائی میں اپنا شریک بنانا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میرے لئے یہ حلال نہیں ہے میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول! ہم تو گفتگو کررہی تھیں کہ آپ ﷺ درہ بنت ابی سلمہ سے نکاح کا ارادہ رکھتے ہیں آپ ﷺ نے فرمایا کیا ابوسلمہ کی بیٹی ہے؟ انہوں نے کہا جی ہاں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اگر وہ میری گود میں میری ربیبہ نہ ہوتی کیونکہ وہ میرے رضاعی بھائی کی بیٹی ہے مجھے اور اس کے باپ ابوسلمہ کو ثوبیہ نے دودھ پلایا ہے پس تم مجھ پر اپنی بیٹیاں اور اپنی بہنیں پیش نہ کرو۔

Umm Habiba, the wife of Allahs Apostle ﷺ , reported that she said to Allahs Messenger ﷺ : Messenger of Allah, marry my sister Azza, whereupon Allahs Messenger ﷺ said: Do you like it? She said: Yes, Messenger of Allah, I am not the exclusive wife of yours, and I wish that the person who joins me in good should be my sister. Thereupon Allahs Messenger ﷺ said: That is not lawful for me. I said: Messenger of Allah, we discussed that you intend to marry Durrah bint Abu Salama. He (the Holy Prophet) said: You mean the daughter of Abu Salama? She said: Yes, whereupon Allahs Messenger ﷺ said: Even if she were not the step-daughter of mine, brought up under my guardianship, she would not have been lawful for me, for she is the daughter of my foster-brother. Thuwabia gave me suck and to Abu Salama (also), so do not offer to me your daughters and sisters.

3589Sahih Muslim

سوتیلی بیٹی اور بیوی کی بہن کی حرمت کے بیان میں

و حَدَّثَنِيهِ عَبْدُ الْمَلِکِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ جَدِّي حَدَّثَنِي عُقَيْلُ بْنُ خَالِدٍ ح و حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ أَخْبَرَنِي يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الزُّهْرِيُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُسْلِمٍ کِلَاهُمَا عَنْ الزُّهْرِيِّ بِإِسْنَادِ ابْنِ أَبِي حَبِيبٍ نَحْوَ حَدِيثِهِ وَلَمْ يُسَمِّ أَحَدٌ مِنْهُمْ فِي حَدِيثِهِ عَزَّةَ غَيْرُ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ

عبدالملک بن شعیب بن لیث، عقیل بن خالد، عبد بن حمید، یعقوب بن ابراہیم زہری، محمد بن عبداللہ بن مسلم، زہری ان اسناد سے بھی یہ حدیث اسی طرح مروی ہے لیکن ان سب میں سوائے یزید بن ابی حبیب کے کسی نے بھی آپ کی حدیث میں عزہ کا نام ذکر نہیں کیا۔

The above hadith is narratted through other chains except they did not mention Azza like the chain of Yazid Bin Abi Habib.

3590Sahih Muslim

ایک دو دفعہ چوسنے سے رضاعت کے بیان میں۔

حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ ح و حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ کِلَاهُمَا عَنْ أَيُّوبَ عَنْ ابْنِ أَبِي مُلَيْکَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ سُوَيْدٌ وَزُهَيْرٌ إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تُحَرِّمُ الْمَصَّةُ وَالْمَصَّتَانِ

زہیر بن حرب، اسماعیل بن ابراہیم، محمد بن عبداللہ بن نمیر، اسماعیل، سوید بن سعید، معتمر بن سلیمان، ایوب، ابی ملیکہ، عبداللہ بن زبیر، حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا ایک دفعہ (پستانِ عورت کو) چوسنا یا دو دفعہ چوسنا اس سے حرمت ثابت نہیں ہوتی اور حضرت سوید ؓ وزہیر ؓ نے کہا نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا۔

Aisha (Allah be pleased with her), Suwaid and Zubair reported Allahs Apostle ﷺ as saying: One suckling or two do not make (marriage) unlawful.

3591Sahih Muslim

ایک دو دفعہ چوسنے سے رضاعت کے بیان میں۔

حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی وَعَمْرٌو النَّاقِدُ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ کُلُّهُمْ عَنْ الْمُعْتَمِرِ وَاللَّفْظُ لِيَحْيَی أَخْبَرَنَا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ عَنْ أَيُّوبَ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي الْخَلِيلِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ عَنْ أُمِّ الْفَضْلِ قَالَتْ دَخَلَ أَعْرَابِيٌّ عَلَی نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي بَيْتِي فَقَالَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ إِنِّي کَانَتْ لِي امْرَأَةٌ فَتَزَوَّجْتُ عَلَيْهَا أُخْرَی فَزَعَمَتْ امْرَأَتِي الْأُولَی أَنَّهَا أَرْضَعَتْ امْرَأَتِي الْحُدْثَی رَضْعَةً أَوْ رَضْعَتَيْنِ فَقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تُحَرِّمُ الْإِمْلَاجَةُ وَالْإِمْلَاجَتَانِ قَالَ عَمْرٌو فِي رِوَايَتِهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ نَوْفَلٍ

یحییٰ بن یحیی، عمرو ناقد، اسحاق بن ابراہیم، معتمر، معتمر بن سلیمان، ایوب، ابی الخلیل، عبداللہ بن حارث، حضرت ام الفضل ؓ سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی ﷺ کے پاس ایک دیہاتی آیا اور آپ ﷺ میرے گھر میں تشریف فرما تھے اس نے کہا اے اللہ کے نبی! میرے پاس ایک بیوی تھی اور میں نے اس پر ایک دوسری عورت سے شادی کرلی تو میری پہلی بیوی نے گمان کیا کہ اس نے میری اس نئی بیوی کو ایک یا دو گھونٹ دودھ پلایا ہے تو اللہ کے نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا ایک مرتبہ یا دو مرتبہ چوسنے سے حرمت ثابت نہیں ہوتی۔

Umm al-Fadl reported: A bedouin came to Allahs Apostle ﷺ when he was in my house and said: Allahs Apostle, I have had a wife and I married another besides her, and my first wife claimed that she had suckled once or twice my newly married wife, thereupon Allahs Apostle ﷺ said: One suckling or two do not make the (marriage) unlawful.

3592Sahih Muslim

ایک دو دفعہ چوسنے سے رضاعت کے بیان میں۔

و حَدَّثَنِي أَبُو غَسَّانَ الْمِسْمَعِيُّ حَدَّثَنَا مُعَاذٌ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّی وَابْنُ بَشَّارٍ قَالَا حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ قَتَادَةَ عَنْ صَالِحِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ أَبِي الْخَلِيلِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ عَنْ أُمِّ الْفَضْلِ أَنَّ رَجُلًا مِنْ بَنِي عَامِرِ بْنِ صَعْصَعَةَ قَالَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ هَلْ تُحَرِّمُ الرَّضْعَةُ الْوَاحِدَةُ قَالَ لَا

ابوغسان مسمعی، معاذ، ابن مثنی، ابن بشار، معاذ بن ہشام، قتادہ، صالح بن ابی مریم، ابی الخلیل، عبداللہ بن حارث، حضرت ام الفضل ؓ سے روایت ہے کہ قبیلہ بنی عامر بن صعصعہ ؓ کے ایک آدمی نے عرض کیا اے اللہ کے نبی ﷺ کیا ایک گھونٹ سے حرمت ثابت ہوجاتی ہے؟ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا نہیں۔

Umm Fadl (Allah be pleased with her) reported that a person from Banu Amir bin Sasa said: Allahs Apostle, does one suckling make the (marriage) unlawful? He said: No.

3593Sahih Muslim

ایک دو دفعہ چوسنے سے رضاعت کے بیان میں۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَبِي الْخَلِيلِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ أَنَّ أُمَّ الْفَضْلِ حَدَّثَتْ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تُحَرِّمُ الرَّضْعَةُ أَوْ الرَّضْعَتَانِ أَوْ الْمَصَّةُ أَوْ الْمَصَّتَانِ

ابوبکر بن ابی شیبہ، محمد بن بشر، سعید بن ابی عروبہ، قتادہ، ابی الخلیل، عبداللہ بن حارث، حضرت ام الفضل ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا ایک یا دو گھونٹ ایک یا دو مرتبہ چوسنے سے حرمت ثابت نہیں ہوتی

Umm Fadl (Allah be pleased with her) reported that Allahs Apostle ﷺ said: Being suckled once or twice, or one suckling or two, do not make marriage unlawful.

3594Sahih Muslim

ایک دو دفعہ چوسنے سے رضاعت کے بیان میں۔

و حَدَّثَنَاه أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ جَمِيعًا عَنْ عَبْدَةَ بْنِ سُلَيْمَانَ عَنْ ابْنِ أَبِي عَرُوبَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ أَمَّا إِسْحَقُ فَقَالَ کَرِوَايَةِ ابْنِ بِشْرٍ أَوْ الرَّضْعَتَانِ أَوْ الْمَصَّتَانِ وَأَمَّا ابْنُ أَبِي شَيْبَةَ فَقَالَ وَالرَّضْعَتَانِ وَالْمَصَّتَانِ

ابوبکر بن ابی شیبہ، اسحاق بن ابراہیم، عبدہ بن سلیمان، حضرت ابن عروبہ ؓ سے ان اسناد سے بھی یہ حدیث مروی ہے اس سند میں اختلافِ الفاظ ذکر کیا ہے۔ مطلب و مفہوم ایک ہی ہے۔

In the narration transmitted on the authority of Ibn Bishr there is a mention of two sucklings and Ibn Abu Shaiba has narrated it with a small variation of wording.

3595Sahih Muslim

ایک دو دفعہ چوسنے سے رضاعت کے بیان میں۔

و حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ السَّرِيِّ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَبِي الْخَلِيلِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ نَوْفَلٍ عَنْ أُمِّ الْفَضْلِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تُحَرِّمُ الْإِمْلَاجَةُ وَالْإِمْلَاجَتَانِ

ابن ابی عمر، بشربن سری، حماد بن سلمہ، قتادہ، ابی الخلیل، عبداللہ بن حارث بن نوفل، حضرت ام الفضل ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا ایک مرتبہ یا دو مرتبہ چوسنے سے حرمت ثابت نہیں ہوتی۔

Umm Fadl (Allah be pleased with her) reported Allahs Apostle ﷺ having said this: One or two sucklings do not make (the marriage) unlawful.

3596Sahih Muslim

ایک دو دفعہ چوسنے سے رضاعت کے بیان میں۔

حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ حَدَّثَنَا حَبَّانُ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ أَبِي الْخَلِيلِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ عَنْ أُمِّ الْفَضْلِ سَأَلَ رَجُلٌ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتُحَرِّمُ الْمَصَّةُ فَقَالَ لَا

احمد بن سعید دارمی، حبان، ہمام، قتادہ، ابی الخلیل، عبداللہ بن حارث، حضرت ام الفضل ؓ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے نبی کریم ﷺ سے پوچھا کیا ایک دفعہ کے چوسنے سے حرمت ثابت ہوجاتی ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا نہیں۔۔

Umm Fadl (Allah be pleased with her) reported that a person asked Allahs Apostle ﷺ : Does one suckling make (the marriage) unlawful? He said: No.

3597Sahih Muslim

پانچ دفعہ دودھ پینے سے حرمت کے بیان میں

حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَالِکٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَکْرٍ عَنْ عَمْرَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ کَانَ فِيمَا أُنْزِلَ مِنْ الْقُرْآنِ عَشْرُ رَضَعَاتٍ مَعْلُومَاتٍ يُحَرِّمْنَ ثُمَّ نُسِخْنَ بِخَمْسٍ مَعْلُومَاتٍ فَتُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُنَّ فِيمَا يُقْرَأُ مِنْ الْقُرْآنِ

یحییٰ بن یحیی، مالک، عبداللہ بن ابی بکر، عمرہ، حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت ہے کہ اس بارے میں جو قرآن میں نازل کیا گیا وہ دس مقرر شدہ گھونٹ تھے جو حرام کردیتے تھے پھر ان کو پانچ مقرر گھونٹوں سے منسوخ کردیا گیا رسول اللہ ﷺ کو وفات دے دی گئی اور یہ اسی طرح قرآن میں پڑھا جاتا ہے۔

Aisha (Allah be pleased with her) reported that it had been revealed in the Holy Quran that ten clear sucklings make the marriage unlawful, then it was abrogated (and substituted) by five sucklings and Allahs Apostle ﷺ died and it was before that time (found) in the Holy Quran (and recited by the Muslims).

3598Sahih Muslim

پانچ دفعہ دودھ پینے سے حرمت کے بیان میں

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيُّ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ عَنْ يَحْيَی وَهُوَ ابْنُ سَعِيدٍ عَنْ عَمْرَةَ أَنَّهَا سَمِعَتْ عَائِشَةَ تَقُولُ وَهِيَ تَذْکُرُ الَّذِي يُحَرِّمُ مِنْ الرَّضَاعَةِ قَالَتْ عَمْرَةُ فَقَالَتْ عَائِشَةُ نَزَلَ فِي الْقُرْآنِ عَشْرُ رَضَعَاتٍ مَعْلُومَاتٍ ثُمَّ نَزَلَ أَيْضًا خَمْسٌ مَعْلُومَاتٌ

عبداللہ بن مسلمہ قعنبی، سلیمان بن بلال، یحیی، ابن سعید، عمرہ، حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت ہے کہ وہ ان باتوں کا ذکر کر رہی تھیں جو رضاعت کی وجہ سے حرمت کا ذریعہ ہیں عمرہ نے کہا کہ سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ نے فرمایا قرآن میں دس مقررہ گھونٹ نازل ہوئے پھر پانچ مقرر شدہ بھی نازل ہوئے۔

Amra reported that she heard Aisha (Allah he pleased with her) discussing fosterage which (makes marriage) unlawful; and she (Aisha) said: There was revealed in the Holy Quran ten clear sucklings, and then five clear (sucklings).

3599Sahih Muslim

پانچ دفعہ دودھ پینے سے حرمت کے بیان میں

و حَدَّثَنَاه مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ قَالَ سَمِعْتُ يَحْيَی بْنَ سَعِيدٍ قَالَ أَخْبَرَتْنِي عَمْرَةُ أَنَّهَا سَمِعَتْ عَائِشَةَ تَقُولُ بِمِثْلِهِ

محمد بن مثنی، عبدالوہاب، یحییٰ بن سعید، حضرت عمرہ ؓ سے روایت ہے کہ اس نے سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ سے اسی طرح سنا۔

Ahadith like this is transmitted by Aisha through another chain of narrators.

3600Sahih Muslim

بڑے کی رضاعت کے بیان میں

حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ وَابْنُ أَبِي عُمَرَ قَالَا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ جَائَتْ سَهْلَةُ بِنْتُ سُهَيْلٍ إِلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أَرَی فِي وَجْهِ أَبِي حُذَيْفَةَ مِنْ دُخُولِ سَالِمٍ وَهُوَ حَلِيفُهُ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْضِعِيهِ قَالَتْ وَکَيْفَ أُرْضِعُهُ وَهُوَ رَجُلٌ کَبِيرٌ فَتَبَسَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ قَدْ عَلِمْتُ أَنَّهُ رَجُلٌ کَبِيرٌ زَادَ عَمْرٌو فِي حَدِيثِهِ وَکَانَ قَدْ شَهِدَ بَدْرًا وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ أَبِي عُمَرَ فَضَحِکَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

عمرو ناقد، ابن ابی عمر، سفیان بن عیینہ، عبدالرحمن بن قاسم، حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت ہے کہ سہلہ بنت سہیل ؓ نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی اس نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ میں نے اب حذیفہ کے چہرہ میں سالم کے آنے کی وجہ سے کچھ ناراضگی کے آثار دیکھے ہیں حالانکہ وہ ان کا حلیف ہے تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا تم اسے دودھ پلادو اس نے عرض کیا میں اسے کیسے دودھ پلاؤں حالانکہ وہ نوجوان آدمی ہے؟ رسول اللہ ﷺ نے مسکراتے ہوئے فرمایا میں جانتا ہوں کہ وہ نوجوان آدمی ہے حضرت عمرہ نے اپنی حدیث میں یہ اضافہ کیا ہے کہ وہ سالم بدر میں حاضر ہوئے تھے اور ابن ابی عمر کی حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ کھلکھلا کر ہنسے۔

Aisha (Allah be pleased with her) reported that Sahla bint Suhail came to Allahs Apostle ﷺ (may peace be eupon him) and said: Messengerof Allah, I see on the face of Abu Hudhaifa (signs of disgust) on entering of Salim (who is an ally) into (our house), whereupon Allahs Apostle ﷺ said: Suckle him. She said: How can I suckle him as he is a grown-up man? Allahs Messenger ﷺ smiled and said: I already know that he is a young man. Amr has made this addition in his narration that he participated in the Battle of Badr and in the narration of Ibn Umar (the words are): Allahs Messenger ﷺ laughed.

3601Sahih Muslim

بڑے کی رضاعت کے بیان میں

و حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ وَمُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عُمَرَ جَمِيعًا عَنْ الثَّقَفِيِّ قَالَ ابْنُ أَبِي عُمَرَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ ابْنِ أَبِي مُلَيْکَةَ عَنْ الْقَاسِمِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ سَالِمًا مَوْلَی أَبِي حُذَيْفَةَ کَانَ مَعَ أَبِي حُذَيْفَةَ وَأَهْلِهِ فِي بَيْتِهِمْ فَأَتَتْ تَعْنِي ابْنَةَ سُهَيْلٍ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ إِنَّ سَالِمًا قَدْ بَلَغَ مَا يَبْلُغُ الرِّجَالُ وَعَقَلَ مَا عَقَلُوا وَإِنَّهُ يَدْخُلُ عَلَيْنَا وَإِنِّي أَظُنُّ أَنَّ فِي نَفْسِ أَبِي حُذَيْفَةَ مِنْ ذَلِکَ شَيْئًا فَقَالَ لَهَا النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْضِعِيهِ تَحْرُمِي عَلَيْهِ وَيَذْهَبْ الَّذِي فِي نَفْسِ أَبِي حُذَيْفَةَ فَرَجَعَتْ فَقَالَتْ إِنِّي قَدْ أَرْضَعْتُهُ فَذَهَبَ الَّذِي فِي نَفْسِ أَبِي حُذَيْفَةَ

اسحاق بن ابراہیم حنظلی، محمد بن ابی عمر ثقفی، ابن ابی عمر، عبدالوہاب ثقفی، ایوب، ابن ملیکہ، قاسم، سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت ہے کہ سالم جو کہ ابوحذیفہ کے مولیٰ آزاد کردہ غلام تھے وہ ابوحذیفہ اور ان کے گھر والوں کے ساتھ ان کے گھر میں رہتے تھے۔ تو بنت سہیل نے نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا کہ سالم نوجوانوں کی طرح جوان ہوگیا اور مردوں کی طرح بات سمجھنے لگا ہے وہ ہمارے پاس آتا جاتا رہتا ہے اور میرا گمان ہے کہ ابوحذیفہ کے دل میں اس کے بارے میں کوئی بات ہے آپ ﷺ نے اس سے ارشاد فرمایا تو اسے دودھ پلا دے تو تو اس پر حرام ہوجائے گی اور ابوحذیفہ ؓ کے دل میں جو بات ہے وہ چلی جائے گی وہ پھر حاضر خدمت ہوئیں اور عرض کیا میں نے سالم کو دودھ پلایا اور ابوحذیفہ ؓ کے دل سے کراہت جاتی رہی۔

Aisha (Allah be pleased with her) reported that Salim, the freed slave of Abu Hadhaifa, lived with him and his family in their house. She (i. e. the daughter of Suhail came to Allahs Apostle ﷺ and said: Salim has attained (pubety) as men attain, and he understands what they understand, and he enters our house freely, I, however, perceive that something (rankles) in the heart of Abu Hudhaifa, whereupon Allahs Apostle ﷺ said to her: Suckle him and you would become unlawful for him, and (the rankling) which Abu Hudhaifa feels in his heart will disappear. She returned and said: So I suckled him, and what (was there) in the heart of Abu Hudhaifa disappeared.

3602Sahih Muslim

بڑے کی رضاعت کے بیان میں

و حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ وَاللَّفْظُ لِابْنِ رَافِعٍ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي مُلَيْکَةَ أَنَّ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَکْرٍ أَخْبَرَهُ أَنَّ عَائِشَةَ أَخْبَرَتْهُ أَنَّ سَهْلَةَ بِنْتَ سُهَيْلِ بْنِ عَمْرٍو جَائَتْ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ سَالِمًا لِسَالِمٍ مَوْلَی أَبِي حُذَيْفَةَ مَعَنَا فِي بَيْتِنَا وَقَدْ بَلَغَ مَا يَبْلُغُ الرِّجَالُ وَعَلِمَ مَا يَعْلَمُ الرِّجَالُ قَالَ أَرْضِعِيهِ تَحْرُمِي عَلَيْهِ قَالَ فَمَکَثْتُ سَنَةً أَوْ قَرِيبًا مِنْهَا لَا أُحَدِّثُ بِهِ وَهِبْتُهُ ثُمَّ لَقِيتُ الْقَاسِمَ فَقُلْتُ لَهُ لَقَدْ حَدَّثْتَنِي حَدِيثًا مَا حَدَّثْتُهُ بَعْدُ قَالَ فَمَا هُوَ فَأَخْبَرْتُهُ قَالَ فَحَدِّثْهُ عَنِّي أَنَّ عَائِشَةَ أَخْبَرَتْنِيهِ

اسحاق بن ابراہیم، محمد بن رافع، عبدالرزاق، ابن جریج، ابن ابی ملیکہ، قاسم بن محمد بن ابی بکر، سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت ہے کہ سہلہ بنت سہیل بن عمرو نے نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ اب حذیفہ کا مولیٰ سالم ہمارے ساتھ ہمارے گھر میں رہتا ہے اور وہ بلوغ کو پہنچ گیا ہے اور وہ باتیں سمجھ لیتا ہے جو مرد سمجھتے ہیں آپ ﷺ نے فرمایا تو اسے دودھ پلا دے تو تو اس پر حرام ہوجائے گی راوی کہتے ہیں پھر میں ایک سال یا اس کے قریب زمانہ ٹھہرا رہا اور اس حدیث کو خوف کی وجہ سے بیان نہیں کیا پھر میں قاسم سے ملا تو اس سے کہا کہ سیدہ عائشہ ؓ نے مجھے ایک حدیث بیان کی لیکن میں نے اس کے بعد اسے بیان نہیں کیا انہوں نے کہا وہ حدیث کیا ہے میں نے ان کو اس کی خبر دی تو انہوں نے کہا تم یہ حدیث مجھ سے روایت کرو کہ عائشہ ؓ نے یہ حدیث مجھے بیان کی۔

Ibn Abu Mulaikahh reported that al-Qasim bin Muhammad bin Abu Bakr (RA) had narrated to him that Aisha (Allah be pleased with her) reported that Sahla bint Suhail bin Amr came to Allahs Apostle ﷺ and said: Messenger of Allah, Salim (the freed slave of Abu Hudhaifa) is living with us in our house, and he has attained (puberty) as men attain it and has acquired knowledge (of the sex problems) as men acquire, whereupon he said: Suckle him so that he may become unlawful (in regard to marriage) for you. He (Ibn Abu Mulaikahh) said: I refrained from (narrating this hadith) for a year or so on account of fear. I then met al-Qasim and said to him: You narrated to me a hadith which I did not narrate (to anyone) afterwards. He said: What is that? I informed him, whereupon he said: Narrate it on my authority that Aisha (Allah be pleased with her) had narrated that to me.

3603Sahih Muslim

بڑے کی رضاعت کے بیان میں

و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ حُمَيْدِ بْنِ نَافِعٍ عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ قَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ لِعَائِشَةَ إِنَّهُ يَدْخُلُ عَلَيْکِ الْغُلَامُ الْأَيْفَعُ الَّذِي مَا أُحِبُّ أَنْ يَدْخُلَ عَلَيَّ قَالَ فَقَالَتْ عَائِشَةُ أَمَا لَکِ فِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُسْوَةٌ قَالَتْ إِنَّ امْرَأَةَ أَبِي حُذَيْفَةَ قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ سَالِمًا يَدْخُلُ عَلَيَّ وَهُوَ رَجُلٌ وَفِي نَفْسِ أَبِي حُذَيْفَةَ مِنْهُ شَيْئٌ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْضِعِيهِ حَتَّی يَدْخُلَ عَلَيْکِ

محمد بن مثنی، محمد بن جعفر، شعبہ، حمید بن نافع، حضرت زینب بنت ام سلمہ ؓ سے روایت ہے کہ ام سلمہ ؓ نے سیدہ عائشہ ؓ سے کہا تیرے پاس ایفع (نامی) نوجوان آتا ہے جس کا میں اپنے پاس آنا پسند نہیں کرتی سیدہ عائشہ ؓ نے کہا کیا تیرے لئے رسول اللہ ﷺ کی زندگی میں بہترین نمونہ نہیں ہے کہا ابوحذیفہ کی بیوی نے کہا اے اللہ کے رسول سالم میرے پاس آتا ہے حالانکہ وہ نوجوان ہے اور ابوحذیفہ کو اس بارے میں ناگواری ہوتی ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اسے دودھ پلا دے جس سے وہ تیرے پاس آسکے گا۔

Umm Salamah said to Aisha (Allah be pleased with her): A young boy who is at the threshold of puberty comes to you. I, however, do not like that he should come to me, whereupon Aisha (Allah be pleased with her) said: Dont you see in Allahs Messenger ﷺ a model for you? She also said: The wife of Abu Hudhaifa said: Messenger of Allah, Salim comes to me and now he is a (grown-up) person, and there is something that (rankles) in the mind of Abu Hudhaifa about him, whereupon Allahs Messenger ﷺ said: Suckle him (so that he may become your foster-child), and thus he may be able to come to you (freely).

3604Sahih Muslim

بڑے کی رضاعت کے بیان میں

و حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ وَهَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ وَاللَّفْظُ لِهَارُونَ قَالَا حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي مَخْرَمَةُ بْنُ بُکَيْرٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ سَمِعْتُ حُمَيْدَ بْنَ نَافِعٍ يَقُولُ سَمِعْتُ زَيْنَبَ بِنْتَ أَبِي سَلَمَةَ تَقُولُ سَمِعْتُ أُمَّ سَلَمَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَقُولُ لِعَائِشَةَ وَاللَّهِ مَا تَطِيبُ نَفْسِي أَنْ يَرَانِي الْغُلَامُ قَدْ اسْتَغْنَی عَنْ الرَّضَاعَةِ فَقَالَتْ لِمَ قَدْ جَائَتْ سَهْلَةُ بِنْتُ سُهَيْلٍ إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي لَأَرَی فِي وَجْهِ أَبِي حُذَيْفَةَ مِنْ دُخُولِ سَالِمٍ قَالَتْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْضِعِيهِ فَقَالَتْ إِنَّهُ ذُو لِحْيَةٍ فَقَالَ أَرْضِعِيهِ يَذْهَبْ مَا فِي وَجْهِ أَبِي حُذَيْفَةَ فَقَالَتْ وَاللَّهِ مَا عَرَفْتُهُ فِي وَجْهِ أَبِي حُذَيْفَةَ

ابوطاہر، ہارون بن سعید ایلی، ابن وہب، مخرمہ بن بکیر، حمید بن نافع، حضرت ام المومنین ام سلمہ ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے عائشہ ؓ سے کہا اللہ کی قسم! مجھے یہ بات پسند نہیں کہ مجھے وہ لڑکا دیکھے جو رضاعت سے مستغنی ہوچکا ہو سیدہ عائشہ ؓ نے کہا کیوں؟ حالانکہ سہلہ بنت سہیل رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی اس نے عرض کیا اے اللہ کے رسول اللہ کی قسم میں ابوحذیفہ کے چہرہ پر سالم کے آنے کی وجہ سے ناگواری محسوس کرتی ہوں تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تو اسے دودھ پلادے تو سہلہ نے عرض کیا وہ تو داڑھی والا ہے آپ ﷺ نے فرمایا تو اسے دودھ پلا دے اس سے حذیفہ کے دل میں جو کراہت ہے وہ جاتی رہے گی کہتی ہیں اللہ کی قسم پھر میں نے ابوحذیفہ کے چہرہ پر ناگواری کے اثرات نہیں دیکھے۔

Zainab daughter of Abu Salama reported: I heard Umm Salamah, the wife of Allahs Apostle ﷺ , saying to Aisha: By Allah, I do not like to be seen by a young boy who has passed the period of fosterage, whereupon she (Aisha) said: Why is it so? Sahla daughter of Suhail came to Allahs Messenger ﷺ and said: Allahs Messenger, I swear by Allah that I see in the face of Abu Hudhaifa (the signs of disgust) on account of entering of Salim (in the house), whereupon Allahs Messenger ﷺ said: Suckle him. She (Sahla bint Suhail) said: He has a beard. But he (again) said: Suckle him, and it would remove what is there (expression of disgust) on the face of Abu Hudhaifa. She said: (I did that) and, by Allah, I did not see (any sign of disgust) on the face of Abu Hadhaifa.

3605Sahih Muslim

بڑے کی رضاعت کے بیان میں

حَدَّثَنِي عَبْدُ الْمَلِکِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ جَدِّي حَدَّثَنِي عُقَيْلُ بْنُ خَالِدٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ أَنَّهُ قَالَ أَخْبَرَنِي أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَمْعَةَ أَنَّ أُمَّهُ زَيْنَبَ بِنْتَ أَبِي سَلَمَةَ أَخْبَرَتْهُ أَنَّ أُمَّهَا أُمَّ سَلَمَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَانَتْ تَقُولُ أَبَی سَائِرُ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُدْخِلْنَ عَلَيْهِنَّ أَحَدًا بِتِلْکَ الرَّضَاعَةِ وَقُلْنَ لِعَائِشَةَ وَاللَّهِ مَا نَرَی هَذَا إِلَّا رُخْصَةً أَرْخَصَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِسَالِمٍ خَاصَّةً فَمَا هُوَ بِدَاخِلٍ عَلَيْنَا أَحَدٌ بِهَذِهِ الرَّضَاعَةِ وَلَا رَائِينَا

عبدالملک بن شعیب بن لیث، عقیل بن خالد، ابن شہاب، ابو عبیداللہ بن عبداللہ بن زمعہ، حضرت زینب بنت ابوسلمہ ؓ سے روایت ہے کہ اس کی والدہ ام سلمہ زوجہ رسول اللہ ﷺ فرماتی تھیں کہ تمام ازواج مطہرات نے انکار کیا اس بات سے کہ کوئی اس رضاعت کی وجہ سے ان پاس آئے اور انہوں نے عائشہ ؓ سے کہا اللہ کی قسم! ہم نے سوائے خصوصاً سالم کے علاوہ کسی کے لئے نہیں دیکھا کہ رسول اللہ ﷺ نے اسے رخصت دی ہو اور آپ ﷺ ہمارے پاس ایسا دودھ پلا کر کسی کو ملاقات کے لئے داخل نہیں کرتے تھے اور نہ ہمیں کسی کے سامنے کیا۔

Umm Salamah, the wife of Allahs Apostle ﷺ , used to say that all wives of Allahs Apostle ﷺ disclaimed the idea that one with this type of fosterage (having been suckled after the proper period) should come to them and said to Aisha: By Allah, we do not find this but a sort of concession given by Allahs Messenger ﷺ only for Salim, and no one was going to be allowed to enter (our houses) with this type of fosterage and we do not subscribe to this view.

3606Sahih Muslim

رضاعت کے بھوک سے ثابت ہونے کے بیان میں

حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ عَنْ أَشْعَثَ بْنِ أَبِي الشَّعْثَائِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ مَسْرُوقٍ قَالَ قَالَتْ عَائِشَةُ دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعِنْدِي رَجُلٌ قَاعِدٌ فَاشْتَدَّ ذَلِکَ عَلَيْهِ وَرَأَيْتُ الْغَضَبَ فِي وَجْهِهِ قَالَتْ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهُ أَخِي مِنْ الرَّضَاعَةِ قَالَتْ فَقَالَ انْظُرْنَ إِخْوَتَکُنَّ مِنْ الرَّضَاعَةِ فَإِنَّمَا الرَّضَاعَةُ مِنْ الْمَجَاعَةِ

ہناد بن سری، ابواحوص، اشعث بن ابی شعثاء، مسروق، سیدہ عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ میرے پاس تشریف لائے جبکہ میرے پاس ایک آدمی بیٹھا ہوا تھا جو آپ ﷺ کو ناگوار گزرا اور میں نے آپ ﷺ کے چہرہ انور پر غصہ کے اثرات دیکھے میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول یہ میرا رضاعی بھائی ہے آپ ﷺ نے فرمایا اپنے رضاعی بھائیوں کو دیکھ لیا کرو کیونکہ رضاعت وہی معتبر ہے جو بھوک کے وقت ہو یعنی مدت رضاعت کے اندر ہو

Aisha (Allah be pleased with her) reported: Allahs Messenger ﷺ visited me when a man was sitting near me, and he seemed to disapprove of that. And I saw signs of anger on his face and I said: Messenger of Allah, he is my brother by forsterage, whereupon he said: Consider who your brothers are because of fosterage since fosterage is through hunger (i. e. in infancy).

3607Sahih Muslim

رضاعت کے بھوک سے ثابت ہونے کے بیان میں

و حَدَّثَنَاه مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَابْنُ بَشَّارٍ قَالَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ح و حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ حَدَّثَنَا أَبِي قَالَا جَمِيعًا حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ح و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا وَکِيعٌ ح و حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ جَمِيعًا عَنْ سُفْيَانَ ح و حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ الْجُعْفِيُّ عَنْ زَائِدَةَ کُلُّهُمْ عَنْ أَشْعَثَ بْنِ أَبِي الشَّعْثَائِ بِإِسْنَادِ أَبِي الْأَحْوَصِ کَمَعْنَی حَدِيثِهِ غَيْرَ أَنَّهُمْ قَالُوا مِنْ الْمَجَاعَةِ

محمد بن مثنی، ابن بشار، محمد بن جعفر، عبیداللہ بن معاذ، شعبہ، ابوبکر بن ابی شیبہ، وکیع، زہیر بن حرب، عبدالرحمن بن مہدی، سفیان، عبد بن حمید، حسین جعفی، اشعث بن ابی شعثاء اوپر والی وہی حدیث ان مختلف اسناد سے بھی روایت کی گئی ہے۔

This hadith is narrated on the authority of Abdul Ahwas with another chain of transmitters and a slight variation of words.