حمل کے بعد قید عورت سے وطی کے جواز کے بیان میں اگرچہ اس کا شوہر ہو کیونکہ قید ہوجانے کے وجہ سے اس کا نکاح ٹوٹ جاتا ہے۔
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ مَيْسَرَةَ الْقَوَارِيرِيُّ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ صَالِحٍ أَبِي الْخَلِيلِ عَنْ أَبِي عَلْقَمَةَ الْهَاشِمِيِّ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ حُنَيْنٍ بَعَثَ جَيْشًا إِلَی أَوْطَاسَ فَلَقُوا عَدُوًّا فَقَاتَلُوهُمْ فَظَهَرُوا عَلَيْهِمْ وَأَصَابُوا لَهُمْ سَبَايَا فَکَأَنَّ نَاسًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَحَرَّجُوا مِنْ غِشْيَانِهِنَّ مِنْ أَجْلِ أَزْوَاجِهِنَّ مِنْ الْمُشْرِکِينَ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِي ذَلِکَ وَالْمُحْصَنَاتُ مِنْ النِّسَائِ إِلَّا مَا مَلَکَتْ أَيْمَانُکُمْ أَيْ فَهُنَّ لَکُمْ حَلَالٌ إِذَا انْقَضَتْ عِدَّتُهُنَّ
عبیداللہ بن عمر بن میسرہ قواریری، یزید بن زریع، سعید بن ابی عروبہ، قتادہ، صالح، ابی الخلیل، علقمہ ہاشمی، حضرت ابوسعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حنین کے دن ایک لشکر کو اوطاس کی طرف بھیجا ان کی دشمن سے مڈبھیڑ ہوئی اور ان کو قتل کیا اور ان پر صحابہ ؓ نے غلبہ حاصل کیا اور انہوں نے کافروں کو قیدی بنایا اصحاب رسول اللہ ﷺ میں سے بعض لوگوں نے ان سے صحبت کرنے کو اچھا نہ سمجھا اس لئے کہ ان کے مشرک شوہر موجود تھے تو اللہ نے اس بارے میں یہ آیت نازل فرمائی (وَّالْمُحْصَنٰتُ مِنَ النِّسَا ءِ اِلَّا مَامَلَكَتْ اَيْمَانُكُمْ ) 4۔ النساء: 24) اور شوہر والی عورتیں بھی تم پر حرام ہیں مگر وہ جو قید ہو کر لونڈیوں کی طرح تمہارے قبضے میں آئیں۔ یعنی وہ تمہارے لئے حلال ہیں جب ان کی عدت پوری ہوجائے۔
Abu Said al-Khudri (RA) reported that at the Battle of Hunain Allahs Messenger ﷺ sent an army to Autas and encountered the enemy and fought with them. Having overcome them and taken them captives, the Companions of Allahs Messenger ﷺ seemed to refrain from having intercourse with captive women because of their husbands being polytheists. Then Allah, Most High, sent down regarding that:" And women already married, except those whom your right hands possess (iv. 24)" (i. e. they were lawful for them when their Idda period came to an end).
حمل کے بعد قید عورت سے وطی کے جواز کے بیان میں اگرچہ اس کا شوہر ہو کیونکہ قید ہوجانے کے وجہ سے اس کا نکاح ٹوٹ جاتا ہے۔
و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَابْنُ بَشَّارٍ قَالُوا حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَی عَنْ سَعِيدٍ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَبِي الْخَلِيلِ أَنَّ أَبَا عَلْقَمَةَ الْهَاشِمِيَّ حَدَّثَ أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ حَدَّثَهُمْ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ يَوْمَ حُنَيْنٍ سَرِيَّةً بِمَعْنَی حَدِيثِ يَزِيدَ بْنِ زُرَيْعٍ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ إِلَّا مَا مَلَکَتْ أَيْمَانُکُمْ مِنْهُنَّ فَحَلَالٌ لَکُمْ وَلَمْ يَذْکُرْ إِذَا انْقَضَتْ عِدَّتُهُنَّ
ابوبکر بن ابی شیبہ، محمد بن مثنی، ابن بشار، عبدالاعلی، سعید، قتادہ، ابی الخلیل، علقمہ ہاشمی، حضرت ابوسعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی ﷺ نے غزوہ حنین کے دن ایک سریہ (چھوٹا لشکر) بھیجا باقی حدیث مبارکہ اسی طرح ہے اس میں یہ ہے (إِلَّا مَا مَلَکَتْ أَيْمَانُکُمْ ) یعنی جو تمہارے قبضے میں آجائیں ان میں سے بھی تمہارے لئے حلال ہیں اس میں ان کی عدت گزرنے کا ذکر نہیں۔
Abu Said al-Khudri (RA) reported that Allahs Apostle ﷺ sent a small army. The rest of the hadith is the same except this that he said: Except what your right hands possess out of them are lawful for you; and he did not mention "when their idda period comes to an end". This hadith has been reported on the authority of Abu Said (al-Khudri) (RA) through another chain of transmitters and the words are: They took captives (women) on the day of Autas who had their husbands. They were afraid (to have sexual intercourse with them) when this verse was revealed: "And women already married except those whom your right hands posses" (iv. 24)
حمل کے بعد قید عورت سے وطی کے جواز کے بیان میں اگرچہ اس کا شوہر ہو کیونکہ قید ہوجانے کے وجہ سے اس کا نکاح ٹوٹ جاتا ہے۔
و حَدَّثَنِيهِ يَحْيَی بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ حَدَّثَنَا خَالِدٌ يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ
یحییٰ بن حبیب حارثی، خالد ابن حارث، شعبہ، حضرت قتادہ ؓ سے اس سند سے بھی یہی حدیث مروی ہے۔
Qatada reported a hadith like this with the same chain of transmitters.
حمل کے بعد قید عورت سے وطی کے جواز کے بیان میں اگرچہ اس کا شوہر ہو کیونکہ قید ہوجانے کے وجہ سے اس کا نکاح ٹوٹ جاتا ہے۔
و حَدَّثَنِيهِ يَحْيَی بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَبِي الْخَلِيلِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ أَصَابُوا سَبْيًا يَوْمَ أَوْطَاسَ لَهُنَّ أَزْوَاجٌ فَتَخَوَّفُوا فَأُنْزِلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ وَالْمُحْصَنَاتُ مِنْ النِّسَائِ إِلَّا مَا مَلَکَتْ أَيْمَانُکُمْ
یحییٰ بن حبیب حارثی، خالد بن حارث، شعبہ، قتادہ، ابی الخلیل، حضرت ابوسعید ؓ سے روایت ہے کہ صحابہ کرام ؓ کو اوطاس کی قیدی عورتیں ملیں جن کے خاوند تھے یعنی شادی شدہ تھیں صحابہ کرام ؓ نے خوف کیا تو یہ آیت مبارکہ نازل کی گئی (وَالْمُحْصَنَاتُ مِنْ النِّسَائِ إِلَّا مَا مَلَکَتْ أَيْمَانُکُمْ )
Likewise, the above hadith has been narrated through another chain.
حمل کے بعد قید عورت سے وطی کے جواز کے بیان میں اگرچہ اس کا شوہر ہو کیونکہ قید ہوجانے کے وجہ سے اس کا نکاح ٹوٹ جاتا ہے۔
و حَدَّثَنِي يَحْيَی بْنُ حَبِيبٍ حَدَّثَنَا خَالِدٌ يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ عَنْ قَتَادَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ
یحییٰ بن حبیب حارثی، خالد ابن حارث، سعید، حضرت قتادہ سے ان اسناد سے بھی یہ حدیث مروی ہے۔
Qatada reported a hadith like this with the same chain of transmitters.
بچہ صاحب فراش کا ہے اور شہبات سے بچنے کے بیان میں
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا لَيْثٌ ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ اخْتَصَمَ سَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ وَعَبْدُ بْنُ زَمْعَةَ فِي غُلَامٍ فَقَالَ سَعْدٌ هَذَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ابْنُ أَخِي عُتْبَةَ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ عَهِدَ إِلَيَّ أَنَّهُ ابْنُهُ انْظُرْ إِلَی شَبَهِهِ وَقَالَ عَبْدُ بْنُ زَمْعَةَ هَذَا أَخِي يَا رَسُولَ اللَّهِ وُلِدَ عَلَی فِرَاشِ أَبِي مِنْ وَلِيدَتِهِ فَنَظَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَی شَبَهِهِ فَرَأَی شَبَهًا بَيِّنًا بِعُتْبَةَ فَقَالَ هُوَ لَکَ يَا عَبْدُ الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ وَلِلْعَاهِرِ الْحَجَرُ وَاحْتَجِبِي مِنْهُ يَا سَوْدَةُ بِنْتَ زَمْعَةَ قَالَتْ فَلَمْ يَرَ سَوْدَةَ قَطُّ وَلَمْ يَذْکُرْ مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ قَوْلَهُ يَا عَبْدُ
قتیبہ بن سعید، لیث، محمد بن رمح، لیث، ابن شہاب، عروبہ، سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت ہے کہ سعد بن ابی وقاص ؓ اور عبد بن زمعہ ؓ ایک غلام کے بارے میں جھگڑ پڑے تو سعد نے کہا اے اللہ کے رسول ﷺ! یہ میرے بھائی عتبہ بن ابی وقاص کا بیٹا ہے اور انہوں نے مجھ سے وعدہ کیا ہے کہ وہ اس کا بیٹا ہے ایک شباہت کی طرف دیکھو اور عبد بن زمعہ نے کہا اے اللہ کے رسول یہ میرا بھائی ہے میرے باپ کے بستر پر پیدا ہوا ان کی باندی کے بطن سے رسول اللہ ﷺ نے اس کی شباہت کو دیکھا تو اسے واضح طور پر عتبہ کے مشابہ پایا تو فرمایا اے عبد! یہ تیرا ہے کیونکہ بچہ صاحب بستر کا ہوتا ہے اور زانی کو پتھر مارے جائیں گے ان سے پردہ کرو اے سودہ بنت زمعہ اس نے عرض کیا کہ سودہ کو اس حکم کے بعد اس نے بالکل نہیں دیکھا اور محمد بن رمح نے آپ کا قول " يَا عَبْدُ " ذکر نہیں کیا۔
Aisha (Allah be pleased with her) reported: Sad bin Abu Waqqas and Abd bin Zama (RA) disputed with each other over a young boy. Sad said: Messenger of Allah, he is the son of my brother Utba bin Abu Waqqas as he made it explicit that he was his son. Look at his resemblance. Abd bin Zama said: Messenger of Allah, he is my brother as he was born on the bed of my father from his slave-girl. Allahs Messenger (may peace he upon him) looked at his resemblance and found a clear resemblance with Utba. (But) he said: He is yours 0 Abd (b. Zama), for the child is to be attributed to one on whose bed it is born, and stoning for a fornicator. Sauda bint Zama, O you should observe veil from him. So he did not see Sauda at all. Muhammad bin Rumh did not make a mention (of the words):" O Abd."
بچہ صاحب فراش کا ہے اور شبہات سے بچنے کے بیان میں
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ وَأَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَعَمْرٌو النَّاقِدُ قَالُوا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ح و حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ کِلَاهُمَا عَنْ الزُّهْرِيِّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ غَيْرَ أَنَّ مَعْمَرًا وَابْنَ عُيَيْنَةَ فِي حَدِيثِهِمَا الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ وَلَمْ يَذْکُرَا وَلِلْعَاهِرِ الْحَجَرُ
سعید بن منصور، ابوبکر بن ابی شیبہ، عمرو ناقد، سفیان بن عیینہ، عبد بن حمید، عبدالرزاق، معمر، زہری، ابن عیینہ سابقہ حدیث کی مزید اسناد ذکر کی ہیں اس میں معمر اور ابن عیینہ کی حدیث میں (الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ ) تک ہے اور (وَلِلْعَاهِرِ الْحَجَرُ ) ذکر نہیں کیا۔
A hadith like this is narrated on the authority of Ibn Uyaiyna and Mamar (and the words are): The child is attributed to him on whose bed he is born; but they did not mention this: "For a fornicator there is stoning."
بچہ صاحب فراش کا ہے اور شبہات سے بچنے کے بیان میں
و حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ قَالَ ابْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ ابْنِ الْمُسَيَّبِ وَأَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ وَلِلْعَاهِرِ الْحَجَرُ
محمد بن رافع، عبد بن حمید، ابن رافع، عبدالرزاق، معمر، زہری، ابن مسیب ابی سلمہ، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا بچہ صاحب بستر (جس کا نکاح ہو) کا ہے اور زانی کے لئے پتھر ہیں۔
Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying: The child is to be attributed to one on whose bed he is born, and for a fornicator there is stoning.
بچہ صاحب فراش کا ہے اور شبہات سے بچنے کے بیان میں
و حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَعَبْدُ الْأَعْلَی بْنُ حَمَّادٍ وَعَمْرٌو النَّاقِدُ قَالُوا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ الزُّهْرِيِّ أَمَّا ابْنُ مَنْصُورٍ فَقَالَ عَنْ سَعِيدٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَأَمَّا عَبْدُ الْأَعْلَی فَقَالَ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ أَوْ عَنْ سَعِيدٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَقَالَ زُهَيْرٌ عَنْ سَعِيدٍ أَوْ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ أَحَدُهُمَا أَوْ کِلَاهُمَا عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَقَالَ عَمْرٌو حَدَّثَنَا سُفْيَانُ مَرَّةً عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَعِيدٍ وَأَبِي سَلَمَةَ وَمَرَّةً عَنْ سَعِيدٍ أَوْ أَبِي سَلَمَةَ وَمَرَّةً عَنْ سَعِيدٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِ حَدِيثِ مَعْمَرٍ
سعید بن منصور، زہیر بن حرب، عبدالاعلی بن حماد، عمرو ناقد، سفیان، زہری، ابن منصور، سعید، ابی ہریرہ سابقہ حدیث کی مختلف اسناد ذکر کی ہیں۔
A hadith like this is narrated on the authority of Abu Hurairah (RA) .
الحاق ولد میں قیافہ شناس کی بات پر عمل کرنے کے بیان میں
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی وَمُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ قَالَ أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ ح و حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا لَيْثٌ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَيَّ مَسْرُورًا تَبْرُقُ أَسَارِيرُ وَجْهِهِ فَقَالَ أَلَمْ تَرَيْ أَنَّ مُجَزِّزًا نَظَرَ آنِفًا إِلَی زَيْدِ بْنِ حَارِثَةَ وَأُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ فَقَالَ إِنَّ بَعْضَ هَذِهِ الْأَقْدَامِ لَمِنْ بَعْضٍ
یحییٰ بن یحیی، محمد بن رمح، لیث، قتیبہ بن سعید، لیث، ابن شہاب، عروہ، سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ میرے پاس خوشی خوشی تشریف لائے کہ آپ ﷺ کے چہرے پر خوشی ظاہر ہو رہی تھی پھر فرمایا کہ کیا تو نے مجزز کو نہیں دیکھا کہ اس نے ابھی ابھی زید بن حارثہ ؓ اور اسامہ بن زید ؓ کے قدموں کو دیکھ کر کہا کہ ان میں سے ایک قدم دوسرے قدم کا جزء ہے۔
Aisha (Allah be pleased with her) reported: Allahs Messenger ﷺ visited me looking pleased as if his face was glistening and said: Did you see that Mujazziz cast a glance at Zaid bin Haritha and Usama bin Zaid, and (then) said: Some (of the features) of their feet are found in the others?
الحاق ولد میں قیافہ شناس کی بات پر عمل کرنے کے بیان میں
و حَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَأَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَاللَّفْظُ لِعَمْرٍو قَالُوا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ مَسْرُورًا فَقَالَ يَا عَائِشَةُ أَلَمْ تَرَيْ أَنَّ مُجَزِّزًا الْمُدْلِجِيَّ دَخَلَ عَلَيَّ فَرَأَی أُسَامَةَ وَزَيْدًا وَعَلَيْهِمَا قَطِيفَةٌ قَدْ غَطَّيَا رُئُوسَهُمَا وَبَدَتْ أَقْدَامُهُمَا فَقَالَ إِنَّ هَذِهِ الْأَقْدَامَ بَعْضُهَا مِنْ بَعْضٍ
عمرو ناقد، زہیر بن حرب، ابوبکر بن ابی شیبہ، سفیان، زہری، عروہ، سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ ایک دن میرے پاس خوشی خوشی تشریف لائے پھر فرمایا اے عائشہ! کیا تو نے مجزز مدلجی کو نہیں دیکھا وہ میرے پاس آیا تو اس نے اسامہ اور زید ؓ کو دیکھا اور ان دونوں پر چادریں تھیں جن سے انہوں نے اپنے سروں کو ڈھانپ رکھا تھا اور ان کے پیر چادر سے باہر تھے اس نے کہا یہ پاؤں ایک دوسرے سے ملتے جلتے ہیں۔
Aisha (Allah be pleased with her) reported: One day Allahs Apostle ﷺ visited me looking pleased and he said: Aisha, dont you see Mujazziz al-Mudliji? (He) entered (my house) and saw Usama and Zaid with a rug over them covering their heads, but their feet appeared, and (he) said: These feet are related to one another.
الحاق ولد میں قیافہ شناس کی بات پر عمل کرنے کے بیان میں
و حَدَّثَنَاه مَنْصُورُ بْنُ أَبِي مُزَاحِمٍ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ دَخَلَ قَائِفٌ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَاهِدٌ وَأُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ وَزَيْدُ بْنُ حَارِثَةَ مُضْطَجِعَانِ فَقَالَ إِنَّ هَذِهِ الْأَقْدَامَ بَعْضُهَا مِنْ بَعْضٍ فَسُرَّ بِذَلِکَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَعْجَبَهُ وَأَخْبَرَ بِهِ عَائِشَةَ
منصور بن ابی مزاحم، ابراہیم بن سعد، زہری، عروہ، سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت ہے کہ ایک قیافہ شناس رسول اللہ ﷺ کی موجودگی میں آیا اسامہ بن زید ؓ اور زید بن حارثہ ؓ لیٹے ہوئے تھے تو اس نے کہا یہ پاؤں ایک دوسرے سے ملتے جلتے ہیں اور اس سے نبی کریم ﷺ خوش ہوئے اور متعجب بوجہ خوشی ہو کر آپ ﷺ نے اس بات کی خبر حضرت عائشہ ؓ کو دی۔
Aisha (Allah be pleased with her) reported: A physiognomist visited (our house) and Allahs Messenger ﷺ was present, and Usama bin Zaid and Zaid bin Haritha were both lying asleep, and he (the physiognomist), said: These feet are related to one another. Allahs Apostle ﷺ was pleased to hear this, and he was happy and informed Aisha (Allah be pleased with her) about it.
الحاق ولد میں قیافہ شناس کی بات پر عمل کرنے کے بیان میں
و حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ ح و حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ وَابْنُ جُرَيْجٍ کُلُّهُمْ عَنْ الزُّهْرِيِّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ بِمَعْنَی حَدِيثِهِمْ وَزَادَ فِي حَدِيثِ يُونُسَ وَکَانَ مُجَزِّزٌ قَائِفًا
حرملہ بن یحیی، ابن وہب، یونس، عبد بن حمید، عبدالرزاق، معمر، ابن جریج، زہری اسی حدیث کی دوسری اسناد ذکر کی ہیں اور یونس کی حدیث میں یہ اضافہ ہے کہ مجزز قیافہ شناس تھا۔
A hadith like this has been narrated on the authority of Zuhri and Yunus said: Mujazziz was a physiognomist.
باکرہ کنواری اور ثیبہ شادی شدہ کے پاس شب رفاف گزارنے کے بعد شوہر کے ٹھہرنے کی مقدار کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَمُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ وَيَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَاللَّفْظُ لِأَبِي بَکْرٍ قَالُوا حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَکْرٍ عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ أَبِي بَکْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا تَزَوَّجَ أُمَّ سَلَمَةَ أَقَامَ عِنْدَهَا ثَلَاثًا وَقَالَ إِنَّهُ لَيْسَ بِکِ عَلَی أَهْلِکِ هَوَانٌ إِنْ شِئْتِ سَبَّعْتُ لَکِ وَإِنْ سَبَّعْتُ لَکِ سَبَّعْتُ لِنِسَائِي
ابوبکر بن ابی شیبہ، محمد بن حاتم، یعقوب بن ابراہیم، یحییٰ بن سعید، سفیان، محمد بن ابی بکر، عبدالملک بن ابی بکربن عبدالرحمن بن حارث بن ہشام، حضرت ام سلمہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے جب ام سلمہ ؓ سے شادی کی تو ان کے ہاں تین دن قیام فرمایا اور پھر ارشاد فرمایا تم اپنے شوہر کے ہاں حقیر نہیں ہو اگر تو چاہے تو تیرے پاس میں ایک ہفتہ قیام کروں اور اگر میں نے تیرے پاس ایک ہفتہ قیام کیا تو اپنی باقی ازواج مطہرات کے پاس بھی ایک ایک ہفتہ رہوں گا۔
Abdul Malik bin Abu Bakr (RA) bin Abdul Rahman bin al-Harith bin Hisham reported on the authority of his father from Umm Salamah (Allah be pleased with her) that when Allahs Messenger ﷺ married Umm Salamah, he stayed with her for three nights, and said: There is no lack of estimation on the part of your husband for you. If you wish I can stay with you for a week, but in case I stay with you for a week, then I shall have to stay for a week with all my wives.
باکرہ کنواری اور ثیبہ شادی شدہ کے پاس شب رفاف گزارنے کے بعد شوہر کے ٹھہرنے کی مقدار کے بیان میں
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَالِکٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَکْرٍ عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ أَبِي بَکْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ تَزَوَّجَ أُمَّ سَلَمَةَ وَأَصْبَحَتْ عِنْدَهُ قَالَ لَهَا لَيْسَ بِکِ عَلَی أَهْلِکِ هَوَانٌ إِنْ شِئْتِ سَبَّعْتُ عِنْدَکِ وَإِنْ شِئْتِ ثَلَّثْتُ ثُمَّ دُرْتُ قَالَتْ ثَلِّثْ
یحییٰ بن یحیی، مالک، عبداللہ بن ابی بکر، عبدالملک بن ابی بکر، حضرت ابوبکر بن عبدالرحمن ؓ سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ نے ام سلمہ ؓ سے شادی کی اور آپ ﷺ نے ان کے پاس صبح کی تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ تو اپنے خاوند کے ہاں حقیر نہیں ہے اگر تو چاہے تو میں ہفتہ تیرے پاس رہوں اگر چاہے تو میں تین دن گزاروں پھر دورہ کروں یعنی باقی بیویوں کے پاس بھی اتنا ہی وقت گزاروں تو انہوں نے کہا تین روزہ ہی قیام فرمائیں۔
Ibn Abu Bakr (RA) bin Abdul Rahman reported that when Allahs Messenger ﷺ married Umm Salamah and she stayed with him (during the night), and it was dawn, he (the Holy Prophet) said to her: There is no lack of estimation for you on the part of your husband. So if you desire I can spend a week with you, and if you like I may spend three (nights), and then I will visit you in turn. She said: Spend three (nights).
باکرہ کنواری اور ثیبہ شادی شدہ کے پاس شب رفاف گزارنے کے بعد شوہر کے ٹھہرنے کی مقدار کے بیان میں
و حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيُّ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ يَعْنِي ابْنَ بِلَالٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حُمَيْدٍ عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ أَبِي بَکْرٍ عَنْ أَبِي بَکْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ تَزَوَّجَ أُمَّ سَلَمَةَ فَدَخَلَ عَلَيْهَا فَأَرَادَ أَنْ يَخْرُجَ أَخَذَتْ بِثَوْبِهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنْ شِئْتِ زِدْتُکِ وَحَاسَبْتُکِ بِهِ لِلْبِکْرِ سَبْعٌ وَلِلثَّيِّبِ ثَلَاثٌ
عبداللہ بن مسلمہ، سلیمان یعنی ابن بلال، عبدالرحمن بن حمید، عبدالملک بن ابی بکر، حضرت ابوبکر بن عبدالرحمن ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے جب ام سلمہ ؓ سے شادی کی اور ان سے دخول کیا اور آپ نے جب ان سے جدا ہونا چاہا انہوں نے آپ ﷺ کو کپڑے سے پکڑ لیا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اگر تم چاہو تو میں تمہارے پاس زیادہ ٹھہروں اور اس مدت کا حساب رکھوں باکرہ کے لئے سات دن اور ثیبہ کے لئے تین دن ٹھہرنا چاہیے۔
Abu Bakr (RA) bin Abdul Rahman reported that when Allahs Messenger ﷺ married Umm Salamah and he visited her, and when he intended to come out, she caught hold of his cloth, whereupon Allahs Messenger ﷺ said: If you so desire, I can extend the time (of my stay) with you, but then I shall have to calculate the time (that I stay with you and shall have to spend the same time with other wives). For the virgin woman (her husband has to stay with her) for a week, and for the woman previously married it is three days.
باکرہ کنواری اور ثیبہ شادی شدہ کے پاس شب رفاف گزارنے کے بعد شوہر کے ٹھہرنے کی مقدار کے بیان میں
و حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا أَبُو ضَمْرَةَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حُمَيْدٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ
یحییٰ بن یحیی، ابوضمرہ، عبدالرحمن بن حمید ان اسناد سے بھی یہ حدیث مبارکہ اسی طرح مروی ہے۔
A hadith like this has been narrated on the authority of Ibn Humaid.
باکرہ کنواری اور ثیبہ شادی شدہ کے پاس شب رفاف گزارنے کے بعد شوہر کے ٹھہرنے کی مقدار کے بیان میں
حَدَّثَنِي أَبُو کُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَائِ حَدَّثَنَا حَفْصٌ يَعْنِي ابْنَ غِيَاثٍ عَنْ عَبْدِ الْوَاحِدِ بْنِ أَيْمَنَ عَنْ أَبِي بَکْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ذَکَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَزَوَّجَهَا وَذَکَرَ أَشْيَائَ هَذَا فِيهِ قَالَ إِنْ شِئْتِ أَنْ أُسَبِّعَ لَکِ وَأُسَبِّعَ لِنِسَائِي وَإِنْ سَبَّعْتُ لَکِ سَبَّعْتُ لِنِسَائِي
ابوکریب، محمد بن العلاء، حفص یعنی ابن غیاث، عبدالواحد بن ایمن، ابی بکربن عبدالرحمن بن حارث بن ہشام، حضرت ام سلمہ ؓ سے روایت ہے کہ ان سے رسول اللہ ﷺ نے شادی کی اور اس میں جو امور پیش آئے ذکر کئے آپ ﷺ نے فرمایا اگر تو چاہے کہ تیرے لئے میں سات دن ٹھہروں اور سات دن ہر بیوی کے لئے اگر میں نے تیرے پاس سات دن قیام کیا تو دوسری ازواج کے پاس بھی سات سات دن مقرر کروں گا۔
Umm Salamah (Allah be pleased with her) reported that Allahs Messenger ﷺ married her, and he (the narrator) made mention of so many things in this connection (and one of them was this) that he said: If you desire that I spend a week with you, I shall have to spend a week with my (other) wives, and if spend a week with you, I shall have to spend a week with my (other) wives.
باکرہ کنواری اور ثیبہ شادی شدہ کے پاس شب رفاف گزارنے کے بعد شوہر کے ٹھہرنے کی مقدار کے بیان میں
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ عَنْ خَالِدٍ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ إِذَا تَزَوَّجَ الْبِکْرَ عَلَی الثَّيِّبِ أَقَامَ عِنْدَهَا سَبْعًا وَإِذَا تَزَوَّجَ الثَّيِّبَ عَلَی الْبِکْرِ أَقَامَ عِنْدَهَا ثَلَاثًا قَالَ خَالِدٌ وَلَوْ قُلْتُ إِنَّهُ رَفَعَهُ لَصَدَقْتُ وَلَکِنَّهُ قَالَ السُّنَّةُ کَذَلِکَ
یحییٰ بن یحیی، ہشیم، خالد، ابی قلابہ، حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ جب آپ ﷺ نے باکرہ سے ثیبہ پر شادی کی تو باکرہ کے پاس سات دن قیام کیا اور جب ثیبہ سے باکرہ پر شادی کی تو اس کے پاس تین دن قیام کیا خالد نے کہا اگر میں یہ کہوں کہ انہوں نے مرفوع حدیث بیان کی تو میں سچا ہوں لیکن انہوں نے کہا سنت اسی طرح ہے۔
Anas bin Malik (RA) reported: When anyone who has already a wife, marries a virgin, he should stay with her for seven nights (and then turn to his other wife), but when anyone having a virgin with him (as his wife) marries a woman who has been previously married he should stay with her for three nights. Khalid (one of the narrators) said. If I were to say that it could be directly traced to the Holy Prophet ﷺ , I would have told the truth, but he (Hadrat Anas) said: Such is the tradition.
باکرہ کنواری اور ثیبہ شادی شدہ کے پاس شب رفاف گزارنے کے بعد شوہر کے ٹھہرنے کی مقدار کے بیان میں
و حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَيُّوبَ وَخَالِدٍ الْحَذَّائِ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ عَنْ أَنَسٍ قَالَ مِنْ السُّنَّةِ أَنْ يُقِيمَ عِنْدَ الْبِکْرِ سَبْعًا قَالَ خَالِدٌ وَلَوْ شِئْتُ قُلْتُ رَفَعَهُ إِلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
محمد بن رافع، عبدالرزاق، سفیان، ایوب، خالد حذاء، ابی قلابہ، حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ آپ ﷺ کی سنت میں ہے کہ باکرہ کے پاس سات دن قیام کیا جائے خالد نے کہا اگر میں چاہتا تو کہتا کہ انہوں نے اس کو نبی کریم ﷺ سے مرفوعاً بیان کیا ہے۔
Abu Qilaba reported on the authority of Anas (RA) : It is the Sunnah to stay with a virgin (after having married her) for a week. Khalid (one of the narrators) said: I wish I can say that it can be traced up to the Holy Prophet ﷺ .