رضاعت کا بیان

Sahih Muslim · Chapter 19 · 83 hadiths · Page 4 of 5

3628Sahih Muslim

بیویوں کے درمیان برابری کرنے اور ہر بیوی کے پاس ایک رات اور دن گزارنے کی سنت کے بیان میں

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا شَبَابَةُ بْنُ سَوَّارٍ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ کَانَ لِلنَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تِسْعُ نِسْوَةٍ فَکَانَ إِذَا قَسَمَ بَيْنَهُنَّ لَا يَنْتَهِي إِلَی الْمَرْأَةِ الْأُولَی إِلَّا فِي تِسْعٍ فَکُنَّ يَجْتَمِعْنَ کُلَّ لَيْلَةٍ فِي بَيْتِ الَّتِي يَأْتِيهَا فَکَانَ فِي بَيْتِ عَائِشَةَ فَجَائَتْ زَيْنَبُ فَمَدَّ يَدَهُ إِلَيْهَا فَقَالَتْ هَذِهِ زَيْنَبُ فَکَفَّ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ فَتَقَاوَلَتَا حَتَّی اسْتَخَبَتَا وَأُقِيمَتْ الصَّلَاةُ فَمَرَّ أَبُو بَکْرٍ عَلَی ذَلِکَ فَسَمِعَ أَصْوَاتَهُمَا فَقَالَ اخْرُجْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِلَی الصَّلَاةِ وَاحْثُ فِي أَفْوَاهِهِنَّ التُّرَابَ فَخَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ عَائِشَةُ الْآنَ يَقْضِي النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاتَهُ فَيَجِيئُ أَبُو بَکْرٍ فَيَفْعَلُ بِي وَيَفْعَلُ فَلَمَّا قَضَی النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاتَهُ أَتَاهَا أَبُو بَکْرٍ فَقَالَ لَهَا قَوْلًا شَدِيدًا وَقَالَ أَتَصْنَعِينَ هَذَا

ابوبکر بن ابی شیبہ، شبابہ بن سوار، سلیمان بن مغیرہ، ثابت، حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ کی نو بیویاں تھیں پس جب آپ ﷺ ان کے درمیان باری مقرر فرماتے تو ہر عورت کے پاس نویں دن ہی تشریف لاتے اور وہ سب ہر رات اس گھر میں جمع ہوجاتیں جس میں آپ ﷺ نے تشریف لانا ہوتا آپ ﷺ عائشہ ؓ کے گھر میں تھے کہ سیدہ زینب آئی تو آپ ﷺ نے اپنا ہاتھ ان کی طرف بڑھایا عائشہ نے کہا یہ زینب ہے تو نبی کریم ﷺ نے اپنا ہاتھ روک لیا دونوں کے درمیان تکرار شروع ہوگئی یہاں تک کہ آواز بلند ہوگئی نماز کی تکبیر ہوگئی ابوبکر ؓ قریب سے گزرے تو انہوں نے ان دونوں کی آواز کو سنا تو فرمایا اے اللہ کے رسول آپ ﷺ نماز کے لئے تشریف لے چلیں اور ان کے منہ میں مٹی ڈالیں نبی کریم ﷺ تشریف لے گئے تو عائشہ ؓ نے کہا اب نبی کریم ﷺ نماز پوری فرما کر تشریف لائیں گے اور ابوبکر بھی آئیں گے اور مجھے برا بھلا کہیں گے جب نبی کریم ﷺ نماز پوری کرچکے تو عائشہ ؓ کے پاس ابوبکر ؓ آئے اور سخت سست کہا اور کہا کیا تو ایسا ایسا کرتی ہے۔

Anas (RA) reported that Allahs Apostle ﷺ had nine wives. So when he divided (his stay) with them, the turn of the first wife did not come but on the ninth (day). They (all the wives) used to gather every night in the house of one where he had to come (and stay that night). It was (the night when he had to stay) in the house of Aisha (Allah be pleased with her), when Zainab came there. He (the Holy Prophet) stretched his hand towards her (Zainab), whereupon she (Aisha) said: It is Zainab. Allahs Apostle ﷺ withdrew his hand. There was an altercation between the two until their voices became loud (and it was at that time) when Iqama was pronounced for prayer. There happened to come Abu Bakr (RA) and he heard their voices and said: Messenger of Allah, (kindly) come for prayer, and throw dust in their mouths. So the Prophet ﷺ went out. Aisha said: When Allahs Apostle ﷺ would finish his prayer there would also come Abu Bakr (RA) and he would do as he does (on such occasions, i. e. reprimanding). When Allahs Apostle ﷺ had finished his prayer, there came to her Abu Bakr. and spoke to her (Aisha) in stern words and said: Do you behave like this?

3629Sahih Muslim

اپنی باری سوکن کو ہبہ کردینے کے جواز کے بیان میں

حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ مَا رَأَيْتُ امْرَأَةً أَحَبَّ إِلَيَّ أَنْ أَکُونَ فِي مِسْلَاخِهَا مِنْ سَوْدَةَ بِنْتِ زَمْعَةَ مِنْ امْرَأَةٍ فِيهَا حِدَّةٌ قَالَتْ فَلَمَّا کَبِرَتْ جَعَلَتْ يَوْمَهَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعَائِشَةَ قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَدْ جَعَلْتُ يَوْمِي مِنْکَ لِعَائِشَةَ فَکَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْسِمُ لِعَائِشَةَ يَوْمَيْنِ يَوْمَهَا وَيَوْمَ سَوْدَةَ

زہیر بن حرب، جریر، ہشام ابن عروہ، سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت ہے کہ میں نے سودہ بن زمعہ ؓ سے زیادہ اپنے نزدیک محبوب کوئی عورت نہیں دیکھی اور میں پسند کرتی ہوں کہ میں اس کے جسم کا حصہ ہوتی اور ان کے مزاج میں تیزی تھی جب وہ بوڑھی ہوگئیں تو انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے اپنے دن کی باری سیدہ عائشہ ؓ کو دیدی تو رسول اللہ ﷺ نے سیدہ عائشہ ؓ کے لئے دو دن تقسیم کئے ایک دن ان کا (حضرت عائشہ ؓ کا) اور ایک دن سودہ ؓ کا۔

Aisha (Allah be pleased with her) reported: Never did I find any woman more loving to me than Sauda bint Zama. I wished I could be exactly like her who was passionate. As she became old, she had made over her day (which she had to spend) with Allahs Messenger ﷺ to Aisha. She said: I have made over my day with you to Aisha. So Allahs Messenger ﷺ allotted two days to Aisha, her own day (when it was her turn) and that of Sauda.

3630Sahih Muslim

اپنی باری سوکن کو ہبہ کردینے کے جواز کے بیان میں

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ خَالِدٍ ح و حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ حَدَّثَنَا الْأَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ح و حَدَّثَنَا مُجَاهِدُ بْنُ مُوسَی حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا شَرِيکٌ کُلُّهُمْ عَنْ هِشَامٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ أَنَّ سَوْدَةَ لَمَّا کَبِرَتْ بِمَعْنَی حَدِيثِ جَرِيرٍ وَزَادَ فِي حَدِيثِ شَرِيکٍ قَالَتْ وَکَانَتْ أَوَّلَ امْرَأَةٍ تَزَوَّجَهَا بَعْدِي

ابوبکر بن ابی شیبہ، عقبہ بن خالد، عمرو ناقد، اسو بن عامر، زہیر، مجاہد بن موسی، یونس بن محمد اسی کی دوسری اسناد ذکر کی ہیں شریک کی حدیث میں یہ اضافہ ہے کہ سیدہ عائشہ ؓ نے فرمایا کہ وہ سودہ ؓ سب سے پہلی عورت ہیں جن سے آپ ﷺ نے میرے بعد شادی کی۔

A hadith like this has been transmitted on the authority of Hisham with the same chain of narrators (and the words are): When Sauda became old (the rest of the hadith is the same) and in the narration of Sharik there is an addition (of these words: "She was the first woman whom he (Allahs Apostle) ﷺ married after me."

3631Sahih Muslim

اپنی باری سوکن کو ہبہ کردینے کے جواز کے بیان میں

حَدَّثَنَا أَبُو کُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَائِ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ هِشَامٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ کُنْتُ أَغَارُ عَلَی اللَّاتِي وَهَبْنَ أَنْفُسَهُنَّ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَقُولُ وَتَهَبُ الْمَرْأَةُ نَفْسَهَا فَلَمَّا أَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ تُرْجِي مَنْ تَشَائُ مِنْهُنَّ وَتُؤْوِي إِلَيْکَ مَنْ تَشَائُ وَمَنْ ابْتَغَيْتَ مِمَّنْ عَزَلْتَ قَالَ قُلْتُ وَاللَّهِ مَا أَرَی رَبَّکَ إِلَّا يُسَارِعُ لَکَ فِي هَوَاکَ

ابوکریب، محمد بن العلاء، ابواسامہ، ہشام، سیدہ عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ مجھے ان عورتوں پر غیرت آتی تھی جنہوں نے اپنے آپ کو رسول اللہ ﷺ کے لئے ہبہ کردیا تھا اور میں کہتی تھی کہ کیا عورت بھی اپنے آپ کو ہبہ کرسکتی ہے جب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی، (تُرْجِيْ مَنْ تَشَا ءُ مِنْهُنَّ وَ تُ ْوِيْ اِلَيْكَ مَنْ تَشَا ءُ وَمَنِ ابْتَغَيْتَ مِمَّنْ عَزَلْتَ ) 33۔ الاحزاب: 51) اے نبی ﷺ جسے تو چاہے اپنے سے دور کر اور جسے تو چاہے ان میں سے اسے اپنے پاس جگہ دے تو میں نے کہا اللہ کی قسم! آپ ﷺ کا رب تو آپ ﷺ کی خواہش پوری کرنے میں آپ ﷺ پر سبقت کرتا ہے۔

Aisha (Allah be pleased with her) reported: I felt jealous of the women who offered themselves to Allahs Messenger ﷺ and said: Then when Allah, the Exalted and Glorious, revealed this: "You may defer any one of them you wish, and take to yourself any you wish; and if you desire any you have set aside (no sin is chargeable to you)" (xxxiii. 51), I (Aisha.) said: It seems to me that your Lord hastens to satisfy your desire.

3632Sahih Muslim

اپنی باری سوکن کو ہبہ کردینے کے جواز کے بیان میں

و حَدَّثَنَاه أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ عَنْ هِشَامٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا کَانَتْ تَقُولُ أَمَا تَسْتَحْيِي امْرَأَةٌ تَهَبُ نَفْسَهَا لِرَجُلٍ حَتَّی أَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ تُرْجِي مَنْ تَشَائُ مِنْهُنَّ وَتُؤْوِي إِلَيْکَ مَنْ تَشَائُ فَقُلْتُ إِنَّ رَبَّکَ لَيُسَارِعُ لَکَ فِي هَوَاکَ

ابوبکر بن ابی شیبہ، عبدہ بن سلیمان، ہشام، سیدہ عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ وہ کہتی تھیں کہ کیا کوئی عورت اپنے آپ کو کسی کے لئے ہبہ کرنے سے شرم محسوس نہیں کرتی یہاں تک کہ اللہ عزوجل نے آیت نازل فرمائی ( تُرْجِيْ مَنْ تَشَا ءُ مِنْهُنَّ وَ تُ ْوِيْ اِلَيْكَ مَنْ تَشَا ءُ وَمَنِ ابْتَغَيْتَ مِمَّنْ عَزَلْتَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْكَ ) 33۔ الأحزاب: 51) نازل فرمائی اور میں نے عرض کیا آپ ﷺ کا رب البتہ سبقت کرنے والا ہے آپ ﷺ سے آپ ﷺ کی خواہش میں۔

Hisham reported on the authority of his father that Aisha (Allah be pleased with her) used to say: Does the woman not feel shy of offering herself to a man? Then Allah the Exalted and Glorious revealed this verse: "You may defer any of them you wish and take to yourself any you wish." I (Aisha said): It seems to me that your Lord hastens to satisfy your desire.

3633Sahih Muslim

اپنی باری سوکن کو ہبہ کردینے کے جواز کے بیان میں

حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَمُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي عَطَائٌ قَالَ حَضَرْنَا مَعَ ابْنِ عَبَّاسٍ جَنَازَةَ مَيْمُونَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسَرِفَ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ هَذِهِ زَوْجُ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِذَا رَفَعْتُمْ نَعْشَهَا فَلَا تُزَعْزِعُوا وَلَا تُزَلْزِلُوا وَارْفُقُوا فَإِنَّهُ کَانَ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تِسْعٌ فَکَانَ يَقْسِمُ لِثَمَانٍ وَلَا يَقْسِمُ لِوَاحِدَةٍ قَالَ عَطَائٌ الَّتِي لَا يَقْسِمُ لَهَا صَفِيَّةُ بِنْتُ حُيَيِّ بْنِ أَخْطَبَ

اسحاق بن ابراہیم، محمد بن حاتم، محمد بن بکر، ابن جریج، عطاء، سیدہ عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ ہم ابن عباس ؓ کے ہمراہ زوجہ نبی کریم سیدہ میمونہ ؓ کے جنازہ میں مقام سرف میں حاضر تھے ابن عباس ؓ نے فرمایا یہ نبی کریم ﷺ کی زوجہ مطہرہ ہیں جب تم ان کی نعش اٹھاؤ تو نہ حرکت دینا اور نہ زیادہ ہلانا اور نرمی برتو کیونکہ رسول اللہ ﷺ کے پاس نو بیویاں تھیں اور آپ ﷺ آٹھ کے لئے تقسیم فرماتے تھے ایک کے لئے تقسیم نہ کرتے عطاء نے کہا جس کے لئے آپ ﷺ تقسیم نہ فرماتے وہ صفیہ بنت حیی بن اخطب تھیں۔

Ata related that when they were with Ibn Abbas (RA) at the funeral of Maimuna In Sarf, Ibn Abbas (RA) said: This is the wife of Allahs Apostle ﷺ ; so when you lift her bier, do not shake her or disturb her, but be gentle, for Allahs Messenger ﷺ had nine wives, with eight of whom he shared his time, but to one of them, he did not allot a share. Ata said: The one to whom he did not allot a share of time was Safiyya, daughter of Hayy bin Akhtab.

3634Sahih Muslim

اپنی باری سوکن کو ہبہ کردینے کے جواز کے بیان میں

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ جَمِيعًا عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَزَادَ قَالَ عَطَائٌ کَانَتْ آخِرَهُنَّ مَوْتًا مَاتَتْ بِالْمَدِينَةِ

محمد بن رافع، عبد بن حمید، عبدالرزاق، ابن جریج، عطاء اسی حدیث کی دوسری سند ذکر کی ہے اور عطاء نے اس میں یہ اضافہ کیا ہے اور یہ آپ ﷺ کی ازواج مطہرات ؓ میں سب سے آخری ہیں موت کے اعتبار سے مدینہ میں۔

Ibn Juraij narrated a hadith with the same chain of transmitters, and she (Hadrat Maimuna) was the last of them to die at Madinah.

3635Sahih Muslim

دیندار عورت سے نکاح کرنے کے استح کے بیان میں

حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ قَالُوا حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ تُنْکَحُ الْمَرْأَةُ لِأَرْبَعٍ لِمَالِهَا وَلِحَسَبِهَا وَلِجَمَالِهَا وَلِدِينِهَا فَاظْفَرْ بِذَاتِ الدِّينِ تَرِبَتْ يَدَاکَ

زہیر بن حرب، محمد بن مثنی، عبیداللہ بن سعید، یحییٰ بن سعید، عبیداللہ، سعید بن ابی سعید، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا عورت سے چار وجہ سے نکاح کیا جاتا ہے اس کے مال کی وجہ سے، شرافت کی وجہ سے، اس کی خوبصورتی کی وجہ سے، اس کی دینداری کی وجہ سے، تو حاصل کر دیندار عورت کے ساتھ کامیابی، تیرے دونوں ہاتھ خاک آلود ہوں۔

Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying: A woman may be married for four reasons: for her property, her status, her beauty and her religion, so try to get one who is religious, may your hand be besmeared with dust.

3636Sahih Muslim

دیندار عورت سے نکاح کرنے کے استح کے بیان میں

و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِکِ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ عَنْ عَطَائٍ أَخْبَرَنِي جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ تَزَوَّجْتُ امْرَأَةً فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَقِيتُ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا جَابِرُ تَزَوَّجْتَ قُلْتُ نَعَمْ قَالَ بِکْرٌ أَمْ ثَيِّبٌ قُلْتُ ثَيِّبٌ قَالَ فَهَلَّا بِکْرًا تُلَاعِبُهَا قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ لِي أَخَوَاتٍ فَخَشِيتُ أَنْ تَدْخُلَ بَيْنِي وَبَيْنَهُنَّ قَالَ فَذَاکَ إِذَنْ إِنَّ الْمَرْأَةَ تُنْکَحُ عَلَی دِينِهَا وَمَالِهَا وَجَمَالِهَا فَعَلَيْکَ بِذَاتِ الدِّينِ تَرِبَتْ يَدَاکَ

محمد بن عبداللہ بن نمیر، عبدالملک بن ابی سلیمان، عطاء، حضرت جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں ایک عورت سے شادی کی پھر رسول اللہ ﷺ سے ملا تو آپ ﷺ نے فرمایا اے جابر تو نے شادی کرلی ہے؟ میں نے عرض کیا جی ہاں! آپ ﷺ نے فرمایا کنواری سے یا بیوہ سے؟ میں نے عرض کیا بیوہ سے آپ ﷺ نے فرمایا تم نے کنواری عورت سے شادی کیوں نہ کی کہ تم اس سے کھیلتے اور وہ تم سے کھیلتی؟ میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول میری یتیم بہنیں ہیں تو میں نے یہ اندیشہ محسوس کیا کہ کہیں وہ میرے اور ان کے درمیان حائل نہ ہوجائے تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ اس صورت حال میں یہی تیرے لئے بہتر ہے اور عورت سے اس کے دین اور مال پر نکاح کیا جاتا ہے پس تجھے دیندار عورت مقدم ہونی چاہئے تیرے دونوں ہاتھ خاک آلود ہوں ازراہ محبت کہا۔

Jabir bin Abdullah (RA) reported: I married a woman during the lifetime of Allahs Messenger ﷺ . I met the Apostle of Allah ﷺ , whereupon he said: Jabir, have you married? I said: Yes. He said: A virgin or one previously marrried? I said: With due previously married, whereupon he said: Why did you not marry a virgin with whom you could sport? I said: Allahs Messenger, I have sisters; I was afraid that she might intervene between me and them, whereupon he said: Well and good, if it is so. A woman is married for four reasons, for her religion, her property, her status, her beauty, so you should choose one with religion. May your hands cleave to dust.

3637Sahih Muslim

کنواری عورت سے نکاح کرنے کے استح کے بیان میں۔

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ مُحَارِبٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ تَزَوَّجْتُ امْرَأَةً فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَلْ تَزَوَّجْتَ قُلْتُ نَعَمْ قَالَ أَبِکْرًا أَمْ ثَيِّبًا قُلْتُ ثَيِّبًا قَالَ فَأَيْنَ أَنْتَ مِنْ الْعَذَارَی وَلِعَابِهَا قَالَ شُعْبَةُ فَذَکَرْتُهُ لِعَمْرِو بْنِ دِينَارٍ فَقَالَ قَدْ سَمِعْتَهُ مِنْ جَابِرٍ وَإِنَّمَا قَالَ فَهَلَّا جَارِيَةً تُلَاعِبُهَا وَتُلَاعِبُکَ

عبیداللہ بن معاذ، شعبہ، محارب، حضرت جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت ہے کہ میں نے ایک عورت سے شادی کی رسول اللہ ﷺ نے مجھے فرمایا کیا تو نے شادی کرلی ہے؟ میں نے عرض کیا جی ہاں آپ ﷺ نے فرمایا کنواری سے یا بیوہ سے؟ میں نے عرض کیا بیوہ سے تو آپ ﷺ نے فرمایا تم کنواری عورتوں کی حالت اور دل لگی سے کیوں غافل رہے؟ شعبہ نے کہا میں نے عمرو بن دینار ؓ سے اس کا ذکر کیا تو انہوں نے فرمایا تو نے کسی کنواری لڑکی سے شادی کیوں نہ کی کہ تم اس سے کھیلتے اور وہ تم سے۔

Jabir bin Abdullah (RA) reported: I married a woman, whereupon Allahs Messenger ﷺ said to me: Have you married? I said: Yes. He said: Is it a virgin or a previously married one (widow or divorced)? I said: With a previously married one, whereupon he said: Where had you been (away) from the amusements of virgins? Shubah said: I made a mention of it to Amr bin Dinar and he said: I too heard from Jabir making mention of that (that Allahs Apostle) ﷺ said: Why didnt you marry a girl, so that you might sport with her and she might sport with you?

3638Sahih Muslim

کنواری عورت سے نکاح کرنے کے استح کے بیان میں۔

حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی وَأَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ قَالَ يَحْيَی أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ هَلَکَ وَتَرَکَ تِسْعَ بَنَاتٍ أَوْ قَالَ سَبْعَ فَتَزَوَّجْتُ امْرَأَةً ثَيِّبًا فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا جَابِرُ تَزَوَّجْتَ قَالَ قُلْتُ نَعَمْ قَالَ فَبِکْرٌ أَمْ ثَيِّبٌ قَالَ قُلْتُ بَلْ ثَيِّبٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ فَهَلَّا جَارِيَةً تُلَاعِبُهَا وَتُلَاعِبُکَ أَوْ قَالَ تُضَاحِکُهَا وَتُضَاحِکُکَ قَالَ قُلْتُ لَهُ إِنَّ عَبْدَ اللَّهِ هَلَکَ وَتَرَکَ تِسْعَ بَنَاتٍ أَوْ سَبْعَ وَإِنِّي کَرِهْتُ أَنْ آتِيَهُنَّ أَوْ أَجِيئَهُنَّ بِمِثْلِهِنَّ فَأَحْبَبْتُ أَنْ أَجِيئَ بِامْرَأَةٍ تَقُومُ عَلَيْهِنَّ وَتُصْلِحُهُنَّ قَالَ فَبَارَکَ اللَّهُ لَکَ أَوْ قَالَ لِي خَيْرًا وَفِي رِوَايَةِ أَبِي الرَّبِيعِ تُلَاعِبُهَا وَتُلَاعِبُکَ وَتُضَاحِکُهَا وَتُضَاحِکُکَ

یحییٰ بن یحیی، ابوربیع زہرانی، حماد ابن زید، عمر بن دینار، حضرت جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت ہے کہ عبداللہ انتقال کر گئے اور نو یا سات بیٹیاں چھوڑیں میں نے ایک بیوہ عورت سے شادی کرلی تو رسول اللہ ﷺ نے مجھے فرمایا اے جابر! تو نے شادی کرلی ہے؟ میں نے کہا جی ہاں فرمایا کنواری یا بیوہ سے؟ میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ! بیوہ سے آپ ﷺ نے فرمایا تو نے کنواری لڑکی سے شادی کیوں نہ کی کہ تم اسے کھیلاتے اور وہ تمہیں کھیلاتی یا فرمایا تم اسے ہنساتے اور وہ تمہیں ہنساتی میں نے آپ ﷺ سے عرض کیا کہ میرے والد عبداللہ فوت ہوگئے اور انہوں نے نو یا سات بیٹیاں چھوڑیں ہیں اور میں نے ناپسند کیا کہ میں ان جیسی ایک اور عورت لے آؤں اور میں نے اس بات کو پسند کیا کہ میں ایک ایسی عورت لاؤں جو ان کی خبر گیری کرے اور خدمت بھی کرے آپ ﷺ نے فرمایا اللہ تیرے لئے برکت دے یا مجھے فرمایا تیرے لئے بھلائی ہو دوسری روایت میں (تُلَاعِبُهَا وَتُلَاعِبُکَ أَوْ قَالَ تُضَاحِکُهَا وَتُضَاحِکُکَ ) کے الفاظ ہیں۔

Jabir bin Abdullah (RA) reported: Abdullah died and he left (behind him) nine or seven daughters. I married a woman who had been previously married. Allahs Messenger ﷺ said to me: Jabir, have you married? I said: Yes. He (again) said: A virgin or one previously married? I said: Messenger of Allah, with one who was previously married, whereupon he said: Why didnt you marry a young girl so that you could sport with her and she could sport with you, or you could amuse with her and she could amuse with you? I said to him: Abdullah died (he fell as martyr in Uhud) and left nine or seven daughters behind him; I, therefore, did not approve of the idea that I should bring a (girl) like them, but I preferred to bring a woman who should look after them and teach them good manners, whereupon he (Allahs Messenger) said: May Allah bless you, or he supplicated (for the) good (to be) conferred on me (by Allah).

3639Sahih Muslim

کنواری عورت سے نکاح کرنے کے استح کے بیان میں۔

و حَدَّثَنَاه قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَمْرٍو عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَلْ نَکَحْتَ يَا جَابِرُ وَسَاقَ الْحَدِيثَ إِلَی قَوْلِهِ امْرَأَةً تَقُومُ عَلَيْهِنَّ وَتَمْشُطُهُنَّ قَالَ أَصَبْتَ وَلَمْ يَذْکُرْ مَا بَعْدَهُ

قتیبہ بن سعید، سفیان، عمر، حضرت جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے فرمایا اے جابر! کیا تو نے نکاح کرلیا ہے؟ باقی حدیث گزر چکی ہے لیکن اس میں ( امْرَأَةً تَقُومُ عَلَيْهِنَّ وَتَمْشُطُهُنَّ ) تک ہے اور فرمایا تو نے اچھا کیا اور اس کے بعد حدیث ذکر نہیں کی۔

Jabir bin Abdullah (RA) reported Allahs Messenger ﷺ said to me: Jabir, have you married? The rest of the hadith is the same up to (the words): "The woman would look after them and comb them." He (Allahs Messenger) said: You did well. But no mention is made of the subsequent portion.

3640Sahih Muslim

کنواری عورت سے نکاح کرنے کے استح کے بیان میں۔

حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ عَنْ سَيَّارٍ عَنْ الشَّعْبِيِّ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ کُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزَاةٍ فَلَمَّا أَقْبَلْنَا تَعَجَّلْتُ عَلَی بَعِيرٍ لِي قَطُوفٍ فَلَحِقَنِي رَاکِبٌ خَلْفِي فَنَخَسَ بَعِيرِي بِعَنَزَةٍ کَانَتْ مَعَهُ فَانْطَلَقَ بَعِيرِي کَأَجْوَدِ مَا أَنْتَ رَائٍ مِنْ الْإِبِلِ فَالْتَفَتُّ فَإِذَا أَنَا بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ مَا يُعْجِلُکَ يَا جَابِرُ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي حَدِيثُ عَهْدٍ بِعُرْسٍ فَقَالَ أَبِکْرًا تَزَوَّجْتَهَا أَمْ ثَيِّبًا قَالَ قُلْتُ بَلْ ثَيِّبًا قَالَ هَلَّا جَارِيَةً تُلَاعِبُهَا وَتُلَاعِبُکَ قَالَ فَلَمَّا قَدِمْنَا الْمَدِينَةَ ذَهَبْنَا لِنَدْخُلَ فَقَالَ أَمْهِلُوا حَتَّی نَدْخُلَ لَيْلًا أَيْ عِشَائً کَيْ تَمْتَشِطَ الشَّعِثَةُ وَتَسْتَحِدَّ الْمُغِيبَةُ قَالَ وَقَالَ إِذَا قَدِمْتَ فَالْکَيْسَ الْکَيْسَ

یحییٰ بن یحیی، ہشیم، سیار، شعبہ، حضرت جابر ؓ سے روایت ہے کہ ہم ایک غزوہ میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے جب ہم لوٹے تو میں نے اپنے سست اونٹ کو جلدی دوڑایا ایک شخص پیچھے سے آپہنچا اور اپنے پاس موجود چھڑی سے میرے اونٹ کو ایک کونچا لگا چھڑی چبھوئی تو میرا اونٹ اس قدر تیز چلنے لگا کہ دیکھنے والے نے ایسا عمدہ اونٹ نہ دیکھا ہوگا جب میں نے توجہ کی تو میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھا آپ ﷺ نے فرمایا اے جابر! کس چیز نے تجھ کو تیز کردیا ہے میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول! میری شادی ابھی ابھی ہوئی ہے آپ ﷺ نے فرمایا تو نے کنواری سے شادی کی یا بیوہ سے میں نے عرض کیا بیوہ سے آپ ﷺ نے فرمایا کنواری لڑکی سے کیوں نہ شادی کی؟ تو اسے کھلاتا اور وہ تجھے کھلاتی جب ہم مدینہ پہنچے تو ہم نے داخل ہونا چاہا آپ ﷺ نے فرمایا ٹھہر جاؤ ہم رات کو یعنی شام کو داخل ہوں گے تاکہ پراگندہ بالوں والی کنگھی کرلے اور استرہ لے لے وہ عورت جس کا شوہر باہر گیا ہوا ہے پھر آپ ﷺ نے فرمایا جب تو جائے گا تو پھر جماع ہی جماع ہوگا۔

Jabir bin Abdullah (RA) reported: We were with Allahs Messenger ﷺ in an expedition. When we returned I urged my camel to move quickly as it was slow. There met me a rider from behind me and he goaded it with an iron-tipped stick which he had with him. My camel moved forward like the best that you have ever seen. As I turned (my face) I found him to be Allahs Messenger ﷺ He said: Jabir, what hastens you? I said: Messenger of Allah, I am newly wedded. Whereupon he said: Is it a virgin that you have married or one previously married? I said: With one previously married. He said: Why not a young girl so that you could play with her and she could play with you? Then when we arrived at and were about to enter Madinah he said: Wait, so that we may enter by night (i. e. in the evening) in order that the woman with dishevelled hair may comb it, and the woman whose husband had been away may get herself clean; and when you enter (then you have the) enjoyment (of tho wifes company).

3641Sahih Muslim

کنواری عورت سے نکاح کرنے کے استح کے بیان میں۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الْمَجِيدِ الثَّقَفِيَّ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ عَنْ وَهْبِ بْنِ کَيْسَانَ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ خَرَجْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزَاةٍ فَأَبْطَأَ بِي جَمَلِي فَأَتَی عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لِي يَا جَابِرُ قُلْتُ نَعَمْ قَالَ مَا شَأْنُکَ قُلْتُ أَبْطَأَ بِي جَمَلِي وَأَعْيَا فَتَخَلَّفْتُ فَنَزَلَ فَحَجَنَهُ بِمِحْجَنِهِ ثُمَّ قَالَ ارْکَبْ فَرَکِبْتُ فَلَقَدْ رَأَيْتُنِي أَکُفُّهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَتَزَوَّجْتَ فَقُلْتُ نَعَمْ فَقَالَ أَبِکْرًا أَمْ ثَيِّبًا فَقُلْتُ بَلْ ثَيِّبٌ قَالَ فَهَلَّا جَارِيَةً تُلَاعِبُهَا وَتُلَاعِبُکَ قُلْتُ إِنَّ لِي أَخَوَاتٍ فَأَحْبَبْتُ أَنْ أَتَزَوَّجَ امْرَأَةً تَجْمَعُهُنَّ وَتَمْشُطُهُنَّ وَتَقُومُ عَلَيْهِنَّ قَالَ أَمَا إِنَّکَ قَادِمٌ فَإِذَا قَدِمْتَ فَالْکَيْسَ الْکَيْسَ ثُمَّ قَالَ أَتَبِيعُ جَمَلَکَ قُلْتُ نَعَمْ فَاشْتَرَاهُ مِنِّي بِأُوقِيَّةٍ ثُمَّ قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدِمْتُ بِالْغَدَاةِ فَجِئْتُ الْمَسْجِدَ فَوَجَدْتُهُ عَلَی بَابِ الْمَسْجِدِ فَقَالَ الْآنَ حِينَ قَدِمْتَ قُلْتُ نَعَمْ قَالَ فَدَعْ جَمَلَکَ وَادْخُلْ فَصَلِّ رَکْعَتَيْنِ قَالَ فَدَخَلْتُ فَصَلَّيْتُ ثُمَّ رَجَعْتُ فَأَمَرَ بِلَالًا أَنْ يَزِنَ لِي أُوقِيَّةً فَوَزَنَ لِي بِلَالٌ فَأَرْجَحَ فِي الْمِيزَانِ قَالَ فَانْطَلَقْتُ فَلَمَّا وَلَّيْتُ قَالَ ادْعُ لِي جَابِرًا فَدُعِيتُ فَقُلْتُ الْآنَ يَرُدُّ عَلَيَّ الْجَمَلَ وَلَمْ يَکُنْ شَيْئٌ أَبْغَضَ إِلَيَّ مِنْهُ فَقَالَ خُذْ جَمَلَکَ وَلَکَ ثَمَنُهُ

محمد بن مثنی، عبدالوہاب ابن عبدالمجید ثقفی، عبیداللہ، وہب بن کیسان، حضرت جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت ہے کہ میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ایک غزوہ میں نکلا اور میرے اونٹ نے مجھے پیچھے کردیا تو رسول اللہ ﷺ میرے پاس تشریف لائے اور مجھے فرمایا اے جابر! میں نے عرض کیا جی ہاں! آپ ﷺ نے فرمایا تیرا کیا حال ہے؟ میں نے عرض کیا میرے اونٹ نے دیر لگائی اور مجھے تھکا دیا پھر فرمایا سوار ہو میں سوار ہوا تو میں نے دیکھا کہ اونٹ اس قدر تیز ہوا کہ میں اسے رسول اللہ ﷺ کے اونٹ سے آگے بڑھ جانے سے روکتا تھا آپ ﷺ نے فرمایا کیا تو نے شادی کرلی ہے؟ میں نے عرض کیا جی ہاں آپ ﷺ نے فرمایا کنواری سے یا بیوہ سے؟ میں نے عرض کیا نہیں بلکہ بیوہ سے آپ ﷺ نے فرمایا تو نے کنواری لڑکی سے شادی کیوں نہ کی تم اس سے کھیلتے اور وہ تم سے کھیلتی؟ میں نے عرض کیا میری بہنیں ہیں میں نے یہ پسند کیا کہ میں ایسی عورت سے شادی کروں جو انہیں اکٹھا رکھے کنگھی کرے اور ان کی نگرانی رکھے آپ ﷺ نے فرمایا تم پہنچنے والے ہو جب تم گھر پہنچ جاؤ گے تو پھر جماع ہی جماع ہوگا پھر فرمایا کیا تم اپنا اونٹ فروخت کرتے ہو؟ میں نے عرض کیا جی ہاں! تو آپ ﷺ نے مجھ سے وہ اونٹ ایک اوقیہ چاندی کے عوض خرید لیا اس کے بعد رسول اللہ ﷺ تشریف لے آئے اور میں صبح پہنچا میں مسجد کی طرف آیا تو آپ ﷺ کو مسجد کے دروازے پر موجود پایا آپ ﷺ نے فرمایا تو اب آیا ہے؟ میں نے عرض کی جی ہاں آپ ﷺ نے فرمایا اپنا اونٹ چھوڑ دے مسجد میں داخل ہو اور دو رکعتیں نماز نفل ادا کر کہتے ہیں میں داخل ہوا نماز ادا کی پھر واپس آیا تو آپ ﷺ نے حضرت بلال ؓ کو حکم دیا کہ مجھے ایک اوقیہ چاندی تول دے تو حضرت بلال ؓ نے مجھے وزن کردیا اور وزن کرنے میں جھکاؤ کے ساتھ تولا کہتے ہیں میں چلا جب میں نے پیٹھ پھیری تو آپ ﷺ نے فرمایا جابر کو میرے پاس بلالاؤ پس مجھے بلایا گیا تو میں نے دل میں کہا کہ آپ ﷺ میرا اونٹ مجھے واپس کردیں گے اور کوئی چیز مجھے اس سے زیادہ ناپسند نہ تھی تو آپ ﷺ نے فرمایا اپنا اونٹ لے اور اس کی قیمت بھی تیرے لئے ہے۔

Jabir bin Abdullah (RA) reported: I went out with Allahs Messenger ﷺ on an expedition, but my camel delayed me. Allahs Messenger ﷺ came to me and said to me: Jabir, I said: Yes. Allahs Messenger, (here I am at your beck and call) He said: What is the matter with you? I said: My camel has delayed me and is tired, so I have lagged behind. He (the Holy Prophet) got down and goaded it with a crooked stick and then said: Mount it. So I mounted and (to my great surprise) I saw it (moving so quickly that) I had to restrain it from going ahead of Allahs Messenger ﷺ . He (the Holy Prophet) (in the course of journey said to me): Have you married? I said: Yes. He (again) said: Is it with a virgin or one previously married? I said. With one previously married, whereupon he (again) said: Why not with a young girl with whom you could sport and she could have sported with you? I said: I have sisters, so I preferred to marry a woman who could keep them together (as one family). One who could comb them and look after them. He said: You are about to go (to your house), and there you have the enjoyment (of the wifes company). He again said: Do you want to sell your camel? I said: Yes. So he bought it from me for one uqiya (of silver), Then Allahs Messenger ﷺ arrived (at Madinah) and I arrived in the evening. I went to the mosque and found him at the door of the mosque, and said: Is it now that you have arrived? I said: Yes, He said: Leave your camel, and enter (the mosque) and offer two rakahs. So I entered and offered two rakahs of prayer, and then returned. He (the Holy Prophet) then commanded Bilal (RA) to weigh out one uqiya (of silver) for me. Bilal (RA) weighed that out for me (lowering the scale of) balance. So I proceeded and as I turned my back he said: Call Jabir for me . So I was called back, and I said (to myself): He would return me the camel, and nothing was more displeasing to me than this (that after having received the price I should also get the camel). He said: Take your camel and keep its price with you, (also).

3642Sahih Muslim

کنواری عورت سے نکاح کرنے کے استح کے بیان میں۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَی حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ قَالَ سَمِعْتُ أَبِي حَدَّثَنَا أَبُو نَضْرَةَ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ کُنَّا فِي مَسِيرٍ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا عَلَی نَاضِحٍ إِنَّمَا هُوَ فِي أُخْرَيَاتِ النَّاسِ قَالَ فَضَرَبَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ قَالَ نَخَسَهُ أُرَاهُ قَالَ بِشَيْئٍ کَانَ مَعَهُ قَالَ فَجَعَلَ بَعْدَ ذَلِکَ يَتَقَدَّمُ النَّاسَ يُنَازِعُنِي حَتَّی إِنِّي لِأَکُفُّهُ قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَبِيعُنِيهِ بِکَذَا وَکَذَا وَاللَّهُ يَغْفِرُ لَکَ قَالَ قُلْتُ هُوَ لَکَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ قَالَ أَتَبِيعُنِيهِ بِکَذَا وَکَذَا وَاللَّهُ يَغْفِرُ لَکَ قَالَ قُلْتُ هُوَ لَکَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ قَالَ وَقَالَ لِي أَتَزَوَّجْتَ بَعْدَ أَبِيکَ قُلْتُ نَعَمْ قَالَ ثَيِّبًا أَمْ بِکْرًا قَالَ قُلْتُ ثَيِّبًا قَالَ فَهَلَّا تَزَوَّجْتَ بِکْرًا تُضَاحِکُکَ وَتُضَاحِکُهَا وَتُلَاعِبُکَ وَتُلَاعِبُهَا قَالَ أَبُو نَضْرَةَ فَکَانَتْ کَلِمَةً يَقُولُهَا الْمُسْلِمُونَ افْعَلْ کَذَا وَکَذَا وَاللَّهُ يَغْفِرُ لَکَ

محمد بن عبدالاعلی، معتمر، ابونضرہ، حضرت جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت ہے کہ ہم ایک سفر میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے اور میں اپنے پانی لانے والے اونٹ پر سوار تھا اور وہ سب لوگوں سے پیچھے تھا رسول اللہ ﷺ نے اسے مارا یا کونچا دیا میرا گمان ہے کہ اپنے پاس موجود کسی چیز سے پس اس کے بعد وہ لوگوں سے آگے بڑھنے لگا اور مجھ سے لڑتا تھا اور میں اسے روکتا تھا رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کیا تو اسے مجھے اتنے اتنے دام کے عوض بیچتا ہے؟ اللہ تجھے بخش دے گا، میں نے عرض کیا یہ آپ ﷺ کا ہے اے اللہ کے نبی ﷺ! آپ ﷺ نے فرمایا کیا تو اتنی اتنی قیمت کے عوض یہ اونٹ مجھے بیچتا ہے اور اللہ تجھے بخش دے؟ میں نے عرض کیا وہ آپ کا ہے اور پھر آپ ﷺ نے مجھے فرمایا کیا تو نے اپنے والد کے بعد شادی کی ہے؟ میں نے عرض کیا جی ہاں بیوہ سے آپ ﷺ نے فرمایا تو نے کنواری سے شادی کیوں نہ کی وہ تجھے ہنساتی اور تو اسے ہنساتا اور وہ تجھ سے کھیلتی اور تو اس سے کھیلتا؟ ابونضرہ نے کہا کہ یہ کلمہ مسلمانوں کا تکیہ کلام ہوگیا ہے کہ تو اس طرح کر اللہ تجھے بخش دے گا۔

Jabir bin Abdullah (RA) reported: We were with Allahs Messenger ﷺ in a journey, and I was riding a camel meant for carrying water and it lagged behind all persons. Allahs Messenger ﷺ hit it or goaded it (I think) with something he had with him. And after it (it moved so quickly) that it went ahead of all persons and it struggled with me (to move faster than I permitted it) and I had to restrain it. Allahs Messenger ﷺ said: Do you sell it at such and such (price)? May Allah grant you pardon. I said: Allahs Apostle, it is yours. He (again) said: Do you sell it at such and such (price)? May Allah grant you pardon. I said: Allahs Apostle, it is yours. He said to me: Have you married after the death of your father? I said: Yes. He (again) said: With one previously married or a virgin? I said: With one previously married. He said: Why didnt you marry a virgin who might amuse you and you might amuse her, and she might sport with you and you might sport with her? Abu Nadra said: That was the common phrase which the Muslims spoke: "You do such and such (thing) and Allah may grant you pardon."

3643Sahih Muslim

عورتوں کے ساتھ اچھا سلوک کرنے کے بیان میں

حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ وَابْنُ أَبِي عُمَرَ وَاللَّفْظُ لِابْنِ أَبِي عُمَرَ قَالَا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ الْمَرْأَةَ خُلِقَتْ مِنْ ضِلَعٍ لَنْ تَسْتَقِيمَ لَکَ عَلَی طَرِيقَةٍ فَإِنْ اسْتَمْتَعْتَ بِهَا اسْتَمْتَعْتَ بِهَا وَبِهَا عِوَجٌ وَإِنْ ذَهَبْتَ تُقِيمُهَا کَسَرْتَهَا وَکَسْرُهَا طَلَاقُهَا

عمرو ناقد، ابن ابی عمر، سفیان، ابی زناد، اعرج، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا عورت کو پسلی کی ہڈی سے پیدا کیا گیا ہے اور تجھ سے کبھی سیدھی نہیں چل سکتی پس اگر تو اس سے نفع اٹھانا چاہتا ہے تو اٹھا لے اور اس کا ٹیڑھا پن اپنی جگہ قائم رہے گا اور اگر تو نے اسے سیدھا کرنا چاہا تو تو اسے توڑ دے گا اور اس کا توڑنا اسے طلاق دینا ہے۔

Abu Hurairah (RA) reported: Woman has been created from a rib and will in no way be straightened for you; so if you wish to benefit by her, benefit by her while crookedness remains in her. And if you attempt to straighten her, you will break her, and breaking her is divorcing her.

3644Sahih Muslim

عورتوں کے ساتھ اچھا سلوک کرنے کے بیان میں

و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ عَنْ زَائِدَةَ عَنْ مَيْسَرَةَ عَنْ أَبِي حَازِمٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ کَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَإِذَا شَهِدَ أَمْرًا فَلْيَتَکَلَّمْ بِخَيْرٍ أَوْ لِيَسْکُتْ وَاسْتَوْصُوا بِالنِّسَائِ فَإِنَّ الْمَرْأَةَ خُلِقَتْ مِنْ ضِلَعٍ وَإِنَّ أَعْوَجَ شَيْئٍ فِي الضِّلَعِ أَعْلَاهُ إِنْ ذَهَبْتَ تُقِيمُهُ کَسَرْتَهُ وَإِنْ تَرَکْتَهُ لَمْ يَزَلْ أَعْوَجَ اسْتَوْصُوا بِالنِّسَائِ خَيْرًا

ابوبکر بن ابی شیبہ، حسین بن علی، زائدہ، میسرہ، ابی حازم، حضرت ابوہریرہ ؓ نبی کریم ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا جو اللہ پر اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتا ہو اس کے لئے ضروری ہے کہ جب کوئی امر پیش آئے تو چاہئے کہ اچھی بات کرے یا خاموش رہے اور عورتوں کے ساتھ خیر خواہی کرو کیونکہ عورت پسلی کی ہڈی سے پیدا کی گئی ہے اور پسلی میں اوپر کا حصہ زیادہ ٹیڑھا ہے اگر تو اسے سیدھا کرنا چاہے گا تو توڑ لے گا اور اگر تو نے اسے چھوڑ دیا تو وہ ٹیڑھی ہی رہے گی پس چاہیے کہ عورتوں کے ساتھ خیر خواہی کرو۔

Abu Hurairah (RA) reported Allahs Apostle ﷺ as saying: He who believes in Allah and the Hereafter, if he witnesses any matter he should talk in good terms about it or keep quiet. Act kindly towards woman, for woman is created from a rib, and the most crooked part of the rib is its top. If you attempt to straighten it, you will break it, and if you leave it, its crookedness will remain there. So act kindly towards women.

3645Sahih Muslim

عورتوں کے ساتھ اچھا سلوک کرنے کے بیان میں

و حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَی الرَّازِيُّ حَدَّثَنَا عِيسَی يَعْنِي ابْنَ يُونُسَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ أَبِي أَنَسٍ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْحَکَمِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَفْرَکْ مُؤْمِنٌ مُؤْمِنَةً إِنْ کَرِهَ مِنْهَا خُلُقًا رَضِيَ مِنْهَا آخَرَ أَوْ قَالَ غَيْرَهُ

ابراہیم بن موسیٰ رازی، عیسیٰ بن یونس، عبدالحمید ابن جعفر، عمران بن ابی انس، عمر بن حکم، حضرت ابوہریرہ ؓ روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کوئی مومن مرد کسی مومن عورت کو دشمن نہ رکھے اگر کوئی ایک عادت اسے ناپسند ہوگی تو اس کی دوسری عادت سے خوش ہوجائے گا یا اس کے علاوہ اور کچھ فرمایا۔

Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying: A believing man should not hate a believing woman; if he dislikes one of her characteristics, he will be pleased with another.

3646Sahih Muslim

عورتوں کے ساتھ اچھا سلوک کرنے کے بیان میں

و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا عِمْرَانُ بْنُ أَبِي أَنَسٍ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْحَکَمِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ

محمد بن مثنی، ابوعاصم، عبدالحمید بن جعفر، عمران بن ابی انس، عمر بن حکم، ابی ہریرہ ان اسناد سے بھی حضرت ابوہریرہ ؓ نے نبی کریم ﷺ سے اسی طرح روایت کی ہے۔

A hadith like this has been narrated on the authority of Abu Hurairah (RA) .

3647Sahih Muslim

اگر حوا خیانت نہ کرتی تو قیامت تک کوئی عورت اپنے خاوند سے خیانت نہ کرتی۔

حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ أَنَّ أَبَا يُونُسَ مَوْلَی أَبِي هُرَيْرَةَ حَدَّثَهُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَوْلَا حَوَّائُ لَمْ تَخُنْ أُنْثَی زَوْجَهَا الدَّهْرَ

ہارون بن معروف، عبداللہ بن وہب، عمرو بن حارث، یونس مولیٰ ابی ہریرہ، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا اگر حوا نہ ہوتیں تو کوئی عورت زندگی بھر اپنے شوہر سے خیانت نہ کرتی۔

Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying: Had it not been for Eve, woman would have never acted unfaithfully towards her husband.