جہاد کا بیان

Sahih Muslim · Chapter 34 · 182 hadiths · Page 8 of 10

4659Sahih Muslim

نبی ﷺ کا دعوت اسلام دینا اور اس پر منافقوں کی ایذاء رسانیوں پر صبر کرنے کا بیان

حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ وَاللَّفْظُ لِابْنِ رَافِعٍ قَالَ ابْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا و قَالَ الْآخَرَانِ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ أَنَّ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ أَخْبَرَهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَکِبَ حِمَارًا عَلَيْهِ إِکَافٌ تَحْتَهُ قَطِيفَةٌ فَدَکِيَّةٌ وَأَرْدَفَ وَرَائَهُ أُسَامَةَ وَهُوَ يَعُودُ سَعْدَ بْنَ عُبَادَةَ فِي بَنِي الْحَارِثِ بْنِ الْخَزْرَجِ وَذَاکَ قَبْلَ وَقْعَةِ بَدْرٍ حَتَّی مَرَّ بِمَجْلِسٍ فِيهِ أَخْلَاطٌ مِنْ الْمُسْلِمِينَ وَالْمُشْرِکِينَ عَبَدَةِ الْأَوْثَانِ وَالْيَهُودِ فِيهِمْ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُبَيٍّ وَفِي الْمَجْلِسِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَوَاحَةَ فَلَمَّا غَشِيَتْ الْمَجْلِسَ عَجَاجَةُ الدَّابَّةِ خَمَّرَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُبَيٍّ أَنْفَهُ بِرِدَائِهِ ثُمَّ قَالَ لَا تُغَبِّرُوا عَلَيْنَا فَسَلَّمَ عَلَيْهِمْ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ وَقَفَ فَنَزَلَ فَدَعَاهُمْ إِلَی اللَّهِ وَقَرَأَ عَلَيْهِمْ الْقُرْآنَ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُبَيٍّ أَيُّهَا الْمَرْئُ لَا أَحْسَنَ مِنْ هَذَا إِنْ کَانَ مَا تَقُولُ حَقًّا فَلَا تُؤْذِنَا فِي مَجَالِسِنَا وَارْجِعْ إِلَی رَحْلِکَ فَمَنْ جَائَکَ مِنَّا فَاقْصُصْ عَلَيْهِ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَوَاحَةَ اغْشَنَا فِي مَجَالِسِنَا فَإِنَّا نُحِبُّ ذَلِکَ قَالَ فَاسْتَبَّ الْمُسْلِمُونَ وَالْمُشْرِکُونَ وَالْيَهُودُ حَتَّی هَمُّوا أَنْ يَتَوَاثَبُوا فَلَمْ يَزَلْ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُخَفِّضُهُمْ ثُمَّ رَکِبَ دَابَّتَهُ حَتَّی دَخَلَ عَلَی سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ فَقَالَ أَيْ سَعْدُ أَلَمْ تَسْمَعْ إِلَی مَا قَالَ أَبُو حُبَابٍ يُرِيدُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أُبَيٍّ قَالَ کَذَا وَکَذَا قَالَ اعْفُ عَنْهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَاصْفَحْ فَوَاللَّهِ لَقَدْ أَعْطَاکَ اللَّهُ الَّذِي أَعْطَاکَ وَلَقَدْ اصْطَلَحَ أَهْلُ هَذِهِ الْبُحَيْرَةِ أَنْ يُتَوِّجُوهُ فَيُعَصِّبُوهُ بِالْعِصَابَةِ فَلَمَّا رَدَّ اللَّهُ ذَلِکَ بِالْحَقِّ الَّذِي أَعْطَاکَهُ شَرِقَ بِذَلِکَ فَذَلِکَ فَعَلَ بِهِ مَا رَأَيْتَ فَعَفَا عَنْهُ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

اسحاق بن ابراہیم حنظلی، محمد بن رافع، عبد بن حمید، ابن رافع، عبدالرزاق، معمر، زہری، عروہ، حضرت اسامہ بن زید ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ (ایک دن) گدھے پر سوار ہوئے جس پر پالان تھا اور آپ ﷺ کے نیچے فدک کی ایک چادر تھی اور آپ ﷺ نے اپنے پیچھے اسامہ کو سوار کرلیا اور آپ بنی حارث بن خزرج میں حضرت سعد بن عبادہ ؓ کی عیادت کے لئے جا رہے تھے تھے اور یہ واقعہ بدر سے پہلے کا ہے یہاں تک کہ ایسی مجلس کے پاس سے گزرے جہاں مسلمان، مشرکین، بت پرست اور یہود وغیرہ اکٹھے بیٹھے تھے ان میں عبداللہ بن ابی اور عبداللہ بن رواحہ بھی بیٹھے تھے جب مجلس پر جانور کے پاؤں کا غبار چھا گیا تو عبداللہ بن ابی نے اپنی ناک کو اپنی چادر سے ڈھانپ لیا پھر کہا ہم پر غبار نہ ڈالو پس نبی ﷺ نے ان کو سلام کیا پھر ٹھہر گئے اور (سواری سے) اتر کر انہیں اللہ کی طرف دعوت دی اور ان کے سامنے قرآن مجید کی تلاوت کی تو عبداللہ بن ابی نے کہا اے آدمی اس (کلام) سے بہتر کوئی کلام نہیں اگر جو کچھ تم کہہ رہے ہو سچ ہو تو بھی ہم کو ہماری مجلس میں تکلیف نہ دو اور اپنی سواری کی طرف لوٹ جاؤ اور ہم میں سے جو تیرے پاس آئے اسے یہ قصہ سنانا۔ عبداللہ بن رواحہ ؓ نے کہا آپ ﷺ ہماری مجلسوں میں تشریف لایا کریں ہمیں یہ بات پسند ہے پھر مسلمان مشرکین اور یہود ایک دوسرے کو گالیاں دینے لگے یہاں تک کہ ایک دوسرے پر حملہ کرنے کے لئے تیار ہوگئے مگر نبی ﷺ نے ان کا جوش ٹھنڈا کردیا پھر اپنی سواری پر سوار ہوگئے یہاں تک کہ حضرت سعد بن عبادہ ؓ کے پاس پہنچے تو فرمایا اے سعد! کیا تم نے ابوحباب عبداللہ بن ابی کی بات سنی ہے؟ اس نے اس اس طرح کہا ہے۔ انہوں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول اسے معاف فرما دیں اور درگزر فرمائیں اللہ کی قسم اللہ نے جو کچھ آپ ﷺ کو عطا فرمایا وہ عطا فرما ہی دیا ہے اس آبادی والوں نے اس بات پر اتفاق کرلیا تھا کہ وہ اس کو تاج پہنچائیں اور بادشاہت کی پگڑی اس کے سر پر باندھیں لیکن اللہ نے ان کے فیصلے کو حق عطا کرنے کے ساتھ رد کردیا تو (ابو حباب) حسد میں مبتلا ہوگیا پس اس نے اس وجہ سے یہ معاملہ کیا پس نبی کریم ﷺ نے اسے معاف فرما دیا۔

It has been narrated on the authority of Usama bin Zaid that the Prophet ﷺ rode a donkey. It had on it a saddle under which was a mattress made at Fadak (a place near Madinah). Behind him he seated Usama. He was going to the street of Banu Harith al-Khazraj to inquire after the health of Sad bin Ubadah. This happened before the Battle of Badr. (He proceeded) until he passed by a mixed company of people in which were Muslims, polytheists, idol worshippers and the Jews and among them were Abdullah bin Ubayy and Abdullah bin Rawaha. When the dust raised by the hoofs of the animal spread over the company, Abdullah bin Ubayy covered his nose with his mantle and said: Do not scatter the dust over us (Not minding this remark), the Holy Prophet ﷺ greeted them, stopped, got down from his animal, invited them to Allah, and recited to them the Quran. Abdullah bin Ubayy said: O man, if what you say is the truth, the best thing for you would be not to bother us with it in our assemblies. Get back to your place. Whoso comes to you from us, tell him (all) this.Abdullah bin Rawaha said: Come to us in our gatherings, for we love (to hear) it. The narrator says: (At this), the Muslims, the polytheists and the Jews began to rebuke one another until they were determined to come to blows. The Holy Prophet ﷺ continued to pacify them. (When they were pacified), he rode his animal and came to Sad bin Ubida. He said: Sad, havent you heard what Abu Hubab (meaning Abdullah bin Ubayy) has said? He has said so and so. Sad said: Messenger of Allah, forgive and pardon. God has granted you a sublime position, (but so far as he is concerned) the people of this settlement had-decided to make him their king by making him wear a crown and a turban (in token thereof), but God has circumvented this by the truth He has granted you. This has made him jealous and his jealousy (must have) prompted the behaviour that you have witnessed. So, the Holy Prophet ﷺ (may peace upon him) forgave him.

4660Sahih Muslim

نبی ﷺ کا دعوت اسلام دینا اور اس پر منافقوں کی ایذاء رسانیوں پر صبر کرنے کا بیان

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا حُجَيْنٌ يَعْنِي ابْنَ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا لَيْثٌ عَنْ عُقَيْلٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ فِي هَذَا الْإِسْنَادِ بِمِثْلِهِ وَزَادَ وَذَلِکَ قَبْلَ أَنْ يُسْلِمَ عَبْدُ اللَّهِ

محمد بن رافع، حجین، ابن مثنی، لیث، عقیل، حضرت ابن شہاب سے ان سندوں کے ساتھ اسی طرح حدیث منقول ہے اور اس میں یہ زائد ہے کہ ابھی تک عبداللہ اسلام نہیں لائے تھے۔

A similar tradition has been narrated through a different chain of transmitters by Ibn Shihab with the addition of the words: "BeforeAbdullah (b. Ubayy) became a Muslim."

4661Sahih Muslim

نبی ﷺ کا دعوت اسلام دینا اور اس پر منافقوں کی ایذاء رسانیوں پر صبر کرنے کا بیان

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَی الْقَيْسِيُّ حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ قِيلَ لِلنَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَوْ أَتَيْتَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أُبَيٍّ قَالَ فَانْطَلَقَ إِلَيْهِ وَرَکِبَ حِمَارًا وَانْطَلَقَ الْمُسْلِمُونَ وَهِيَ أَرْضٌ سَبَخَةٌ فَلَمَّا أَتَاهُ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِلَيْکَ عَنِّي فَوَاللَّهِ لَقَدْ آذَانِي نَتْنُ حِمَارِکَ قَالَ فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ وَاللَّهِ لَحِمَارُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَطْيَبُ رِيحًا مِنْکَ قَالَ فَغَضِبَ لِعَبْدِ اللَّهِ رَجُلٌ مِنْ قَوْمِهِ قَالَ فَغَضِبَ لِکُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا أَصْحَابُهُ قَالَ فَکَانَ بَيْنَهُمْ ضَرْبٌ بِالْجَرِيدِ وَبِالْأَيْدِي وَبِالنِّعَالِ قَالَ فَبَلَغَنَا أَنَّهَا نَزَلَتْ فِيهِمْ وَإِنْ طَائِفَتَانِ مِنْ الْمُؤْمِنِينَ اقْتَتَلُوا فَأَصْلِحُوا بَيْنَهُمَا

محمد بن عبدالاعلی قیسی، معتمر، حضرت انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ سے عرض کیا گیا کاش آپ ﷺ عبداللہ بن ابی کے پاس دعوت اسلام کے لئے تشریف لے جائیں آپ ﷺ اس کی طرف گدھے پر سوار ہو کر چلے اور مسلمان بھی چلے اور یہ شور والی زمین تھی جب نبی کریم ﷺ اس کے پاس پہنچے تو اس نے کہا مجھ سے دور رہو اللہ کی قسم تمہارے گدھے کی بدبو سے مجھے تکلیف ہوتی ہے انصار میں سے ایک آدمی نے کہا اللہ کی قسم رسول اللہ ﷺ کا گدھا تجھ سے زیادہ پاکیزہ ہے پس عبداللہ کی قوم میں ایک آدمی غصہ میں آگیا پھر دونوں طرف کے ساتھیوں کو غصہ آگیا اور انہوں نے چھڑیوں ہاتھوں اور جوتوں سے ایک دوسرے کو مارنا شروع کردیا راوی کہتا ہے ہمیں یہ حدیث پہنچی ہے کہ ان کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی اور اگر مومنین کی دو جماعتیں لڑ پڑیں تو ان دونوں کے درمیان صلح کرا دو۔

It has been narrated on the authority of Anas bin Malik (RA) that it was said to the Holy Prophet ﷺ : Would that you approachedAbdullah bin Ubayy (to persuade him to accept Islam). The Holy Prophet ﷺ (accordingly) went to him, riding a donkey, and (a party of) Muslims also went (with him). On the way they had to walk over a piece of land affected with salinity. When the Holy Prophet ﷺ approached him, he said: Do not come near me. By Allah, the obnoxious smell of your donkey has offended me. (As a rejoinder to this remark), a man from the Ansar said: By God, the smell of the donkey of the Messenger of Allah ﷺ is better than your smell. (At this), a man from the tribe of Abdullah got furious. Then people from both sides got furious and exchanged blows with sticks, hands and shoes. (The narrator says) that (after this scuffle) we learnt that (the Quranic verse): "If two parties of the Believers have a quarrel, make ye peace between them" (xlix. 9) was revealed about these fighting parties.

4662Sahih Muslim

ابو جہل کے قتل کے بیان میں

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ أَخْبَرَنَا إِسْمَعِيلُ يَعْنِي ابْنَ عُلَيَّةَ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِکٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ يَنْظُرُ لَنَا مَا صَنَعَ أَبُو جَهْلٍ فَانْطَلَقَ ابْنُ مَسْعُودٍ فَوَجَدَهُ قَدْ ضَرَبَهُ ابْنَا عَفْرَائَ حَتَّی بَرَکَ قَالَ فَأَخَذَ بِلِحْيَتِهِ فَقَالَ آنْتَ أَبُو جَهْلٍ فَقَالَ وَهَلْ فَوْقَ رَجُلٍ قَتَلْتُمُوهُ أَوْ قَالَ قَتَلَهُ قَوْمُهُ قَالَ وَقَالَ أَبُو مِجْلَزٍ قَالَ أَبُو جَهْلٍ فَلَوْ غَيْرُ أَکَّارٍ قَتَلَنِي

علی بن حضر سعدی، اسماعیل بن علیہ، سلیمان تیمی، حضرت انس بن مالک ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہم میں سے کون ہے جو ابوجہل کو ختم کر کے دکھائے تو حضرت ابن مسعود گئے تو انہوں نے عفراء کے بیٹوں کو دیکھا کہ انہوں نے ابوجہل کو مار دیا ہے اور وہ ٹھنڈا ہونے والا ہے ابن مسعود نے اس کی داڑھی پکڑ کر فرمایا کیا تو ابوجہل ہے اس نے کہا کیا تم نے اتنے بڑے کسی اور آدمی کو بھی قتل کیا ہے؟ یا اس نے کہا اس کی قوم نے قتل کیا ہے؟ ابومجلز کہتے ہیں کہ ابوجہل کہنے لگا کاش کہ مجھے کسان کے علاوہ کسی اور نے قتل کیا ہوتا۔

It has been narrated on the authority of Anas bin Malik (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said (after the encounter at Badr): Who will ascertain for us what has happened to Abu Jahl? Ibn Masud went (to gather this information). He found that the two sons of Afra had struck him and he lay cold at the point of death. He caught him by his beard and said: Art thou Abu Jahl? He said: is there anybody superior to the person you have killed, or (he said) his people have killed him. Ibn Masud says that, according to Abu Mijlaz, Abu Jahl said: Alas! a person other than a farmer would have killed me.

4663Sahih Muslim

ابو جہل کے قتل کے بیان میں

حَدَّثَنَا حَامِدُ بْنُ عُمَرَ الْبَکْرَاوِيُّ حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ قَالَ سَمِعْتُ أَبِي يَقُولُ حَدَّثَنَا أَنَسٌ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ يَعْلَمُ لِي مَا فَعَلَ أَبُو جَهْلٍ بِمِثْلِ حَدِيثِ ابْنِ عُلَيَّةَ وَقَوْلِ أَبِي مِجْلَزٍ کَمَا ذَکَرَهُ إِسْمَعِيلُ

حامد بن عمر بکراوی، معتمر، حضرت انس فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کون جانتا ہے کہ ابوجہل کا کیا ہوا مجھے بتائے آگے حدیث اسی طرح روایت کی گئی ہے۔

A similar tradition has been transmitted by a different chain of narrators, on the same authority with a slight difference in the wording.

4664Sahih Muslim

سر کش یہودی کعب بن اشرف کے قتل کے بیان میں

حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْمِسْوَرِ الزُّهْرِيُّ کِلَاهُمَا عَنْ ابْنِ عُيَيْنَةَ وَاللَّفْظُ لِلزُّهْرِيِّ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَمْرٍو سَمِعْتُ جَابِرًا يَقُولُا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ لِکَعْبِ بْنِ الْأَشْرَفِ فَإِنَّهُ قَدْ آذَی اللَّهَ وَرَسُولَهُ فَقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَةَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَتُحِبُّ أَنْ أَقْتُلَهُ قَالَ نَعَمْ قَالَ ائْذَنْ لِي فَلْأَقُلْ قَالَ قُلْ فَأَتَاهُ فَقَالَ لَهُ وَذَکَرَ مَا بَيْنَهُمَا وَقَالَ إِنَّ هَذَا الرَّجُلَ قَدْ أَرَادَ صَدَقَةً وَقَدْ عَنَّانَا فَلَمَّا سَمِعَهُ قَالَ وَأَيْضًا وَاللَّهِ لَتَمَلُّنَّهُ قَالَ إِنَّا قَدْ اتَّبَعْنَاهُ الْآنَ وَنَکْرَهُ أَنْ نَدَعَهُ حَتَّی نَنْظُرَ إِلَی أَيِّ شَيْئٍ يَصِيرُ أَمْرُهُ قَالَ وَقَدْ أَرَدْتُ أَنْ تُسْلِفَنِي سَلَفًا قَالَ فَمَا تَرْهَنُنِي قَالَ مَا تُرِيدُ قَالَ تَرْهَنُنِي نِسَائَکُمْ قَالَ أَنْتَ أَجْمَلُ الْعَرَبِ أَنَرْهَنُکَ نِسَائَنَا قَالَ لَهُ تَرْهَنُونِي أَوْلَادَکُمْ قَالَ يُسَبُّ ابْنُ أَحَدِنَا فَيُقَالُ رُهِنَ فِي وَسْقَيْنِ مِنْ تَمْرٍ وَلَکِنْ نَرْهَنُکَ اللَّأْمَةَ يَعْنِي السِّلَاحَ قَالَ فَنَعَمْ وَوَاعَدَهُ أَنْ يَأْتِيَهُ بِالْحَارِثِ وَأَبِي عَبْسِ بْنِ جَبْرٍ وَعَبَّادِ بْنِ بِشْرٍ قَالَ فَجَائُوا فَدَعَوْهُ لَيْلًا فَنَزَلَ إِلَيْهِمْ قَالَ سُفْيَانُ قَالَ غَيْرُ عَمْرٍو قَالَتْ لَهُ امْرَأَتُهُ إِنِّي لَأَسْمَعُ صَوْتًا کَأَنَّهُ صَوْتُ دَمٍ قَالَ إِنَّمَا هَذَا مُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَةَ وَرَضِيعُهُ وَأَبُو نَائِلَةَ إِنَّ الْکَرِيمَ لَوْ دُعِيَ إِلَی طَعْنَةٍ لَيْلًا لَأَجَابَ قَالَ مُحَمَّدٌ إِنِّي إِذَا جَائَ فَسَوْفَ أَمُدُّ يَدِي إِلَی رَأْسِهِ فَإِذَا اسْتَمْکَنْتُ مِنْهُ فَدُونَکُمْ قَالَ فَلَمَّا نَزَلَ نَزَلَ وَهُوَ مُتَوَشِّحٌ فَقَالُوا نَجِدُ مِنْکَ رِيحَ الطِّيبِ قَالَ نَعَمْ تَحْتِي فُلَانَةُ هِيَ أَعْطَرُ نِسَائِ الْعَرَبِ قَالَ فَتَأْذَنُ لِي أَنْ أَشُمَّ مِنْهُ قَالَ نَعَمْ فَشُمَّ فَتَنَاوَلَ فَشَمَّ ثُمَّ قَالَ أَتَأْذَنُ لِي أَنْ أَعُودَ قَالَ فَاسْتَمْکَنَ مِنْ رَأْسِهِ ثُمَّ قَالَ دُونَکُمْ قَالَ فَقَتَلُوهُ

اسحاق بن ابراہیم حنظلی، عبداللہ بن محمد بن عبدالرحمن بن مسور، زہری، ابن عیینہ، زہری، سفیان، عمر، حضرت جابر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کعب بن اشرف کو کون قتل کرے گا کیونکہ اس نے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کو تکلیف پہنچائی ہے محمد بن مسلمہ نے عرض کیا اے اللہ کے رسول! کیا آپ ﷺ پسند کرتے ہیں کہ میں اسے قتل کروں آپ ﷺ نے فرمایا ہاں انہوں نے عرض کیا آپ ﷺ مجھے اجازت دیں کہ میں (مصلحتا) اسے جو کہوں آپ ﷺ نے فرمایا کہہ لے وہ اس (کعب بن اشرف) کے پاس آئے اور اس سے کہا اور اپنے اور حضور ﷺ کے درمیان ایک فرضی بیان کیا اور کہا یہ آدمی ہم سے صدقہ وصول کرتا ہے اور ہمیں مشقت میں ڈال رکھا ہے جب کعب نے سنا تو اس نے کہا اللہ کی قسم ابھی اور لوگ بھی اس سے تنگ ہوں گے ابن مسلمہ نے کہا اب تو ہم ان کی اتباع کرچکے ہیں اور ہم اسے اس کے معاملہ کا انجام دیکھے بغیر چھوڑنا پسند نہیں کرتے مزید کہا کہ میرا ارادہ ہے کہ تو مجھے کچھ دے دے کعب نے کہا تم میرے پاس رہن کیا چیز رکھو گے ابن مسلمہ نے کہا جو تم چاہو گے کعب نے کہا تم اپنی عورتیں میرے پاس رہن رکھ دو ابن مسلمہ نے کہا تو تو عرب کا خوبصورت آدمی ہے کیا ہم تیرے پاس اپنی عورتیں رہن رکھیں کعب نے کہا اچھا تم اپنی اولاد گروی رکھ دو ابن مسلمہ نے کہا ہمارے بیٹوں کو گالی دی جائے گی تو کہا جائے گا وہ دو وسق کھجور کے بدلے گروی رکھا گیا ہے البتہ ہم اسلحہ تیرے پاس گروی رکھ سکتے ہیں اس نے کہا ٹھیک ہے ابن مسلمہ نے اس سے وعدہ کیا کہ وہ اس کے پاس حارث ابی عبس بن جبر اور عباد بن بشر کو لے آئے گا پس یہ لوگ اس کے پاس گئے اور رات کے وقت اسے بلایا وہ ان کی طرف آنے لگا تو اسے اس کی بیوی نے کہا میں آواز سنتی ہوں گویا کہ وہ خون کی آواز ہے کعب نے کہا یہ محمد بن مسلمہ اور اس کا رضاعی بھائی اور ابونائلہ ہے اور معزز آدمی کو اگر رات کے وقت بھی نیزہ بازی کی طرف بلایا جائے تو اسے بھی قبول کرلیتا ہے محمد ؓ نے اپنے ساتھیوں سے کہہ دیا کہ جب وہ آئے گا میں اس کے سر کی طرف اپنے ہاتھ کو بڑھاؤں گا جب میں اسے قبضہ میں لے لوں تو تم حملہ کردینا پس جب نیچے اترا تو اس نے چادر اوڑھی ہوئی تھی ان حضرات نے کہا ہم آپ سے خوشبو کی مہک محسوس کر رہے ہیں اس نے کہا ہاں میری بیوی فلاں ہے جو عرب کی عورتوں میں سب سے زیادہ خوشبو کو پسند کرنے والی ہے ابن مسلمہ نے کہا کیا تو مجھے خوشبو سونگھنے کی اجازت دے گا اس نے کہا سونگھو پھر دوبارہ کہا کیا تو مجھے دوبارہ سونگھنے کی اجازت دے گا اس مرتبہ انہوں نے اس کے سر کو قابو میں لیا اور کہا حملہ کردو پس انہوں نے اسے قتل کردیا۔

It has been narrated on the authority of Jabir that the Messenger of Allah ﷺ said: Who will kill Kab bin Ashraf? He has maligned Allah, the Exalted, and His Messenger. Muhammad bin Maslama said: Messenger of Allah, do you wish that I should kill him? He said: Yes. He said: Permit me to talk (to him in the way I deem fit). He said: Talk (as you like). So, Muhammad bin Maslama came to Kab and talked to him, referred to the old friendship between them and said: This man (i. e. the Holy Prophet) has made up his mind to collect charity (from us) and this has put us to a great hardship. When he heard this, Kab said: By God, you will be put to more trouble by him. Muhammad bin Maslama said: No doubt, now we have become his followers and we do not like to forsake him until we see what turn his affairs will take. I want that you should give me a loan. He said: What will you mortgage? He said: What do you want? He said: Pledge me your women. He said: You are the most handsome of the Arabs; should we pledge our women to you? He said: Pledge me your children. He said: The son of one of us may abuse us saying that he was pledged for two wasqs of dates, but we can pledge you (our) weapons. He said: All right. Then Muhammad bin Maslama promised that he would come to him with Harith, Abu Abs bin Jabr and Abbad bin Bishr. So they came and called upon him at night. He came down to them. Sufyan says that all the narrators except Amr have stated that his wife said: I hear a voice which sounds like the voice of murder. He said: It is only Muhammad bin Maslama and his foster-brother, Abu Naila. When a gentleman is called at night even it to be pierced with a spear, he should respond to the call. Muhammad said to his companions: As he comes down, I will extend my hands towards his head and when I hold him fast, you should do your job. So when he came down and he was holding his cloak under his arm, they said to him: We sense from you a very fine smell. He said: Yes, I have with me a mistress who is the most scented of the women of Arabia. He said: Allow me to smell (the scent on your head). He said: Yes, you may smell. So he caught it and smelt. Then he said: Allow me to do so (once again). He then held his head fast and said to his companions: Do your job. And they killed him.

4665Sahih Muslim

غزوئہ خیبر کے بیان میں

و حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ يَعْنِي ابْنَ عُلَيَّةَ عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَزَا خَيْبَرَ قَالَ فَصَلَّيْنَا عِنْدَهَا صَلَاةَ الْغَدَاةِ بِغَلَسٍ فَرَکِبَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَکِبَ أَبُو طَلْحَةَ وَأَنَا رَدِيفُ أَبِي طَلْحَةَ فَأَجْرَی نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي زُقَاقِ خَيْبَرَ وَإِنَّ رُکْبَتِي لَتَمَسُّ فَخِذَ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَانْحَسَرَ الْإِزَارُ عَنْ فَخِذِ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَإِنِّي لَأَرَی بَيَاضَ فَخِذَ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا دَخَلَ الْقَرْيَةَ قَالَ اللَّهُ أَکْبَرُ خَرِبَتْ خَيْبَرُ إِنَّا إِذَا نَزَلْنَا بِسَاحَةِ قَوْمٍ فَسَائَ صَبَاحُ الْمُنْذَرِينَ قَالَهَا ثَلَاثَ مِرَارٍ قَالَ وَقَدْ خَرَجَ الْقَوْمُ إِلَی أَعْمَالِهِمْ فَقَالُوا مُحَمَّدٌ قَالَ عَبْدُ الْعَزِيزِ وَقَالَ بَعْضُ أَصْحَابِنَا وَالْخَمِيسَ قَالَ وَأَصَبْنَاهَا عَنْوَةً

زہیر بن حرب، اسماعیل، ابن علیہ، عبدالعزیز بن صہیب، حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے خیبر والوں سے جنگ کی پس ہم نے خیبر کے قریب پہنچ کر فجر کی نماز اندھیرے میں ادا کرلی اللہ کے نبی ﷺ اور ابوطلحہ ؓ سوار ہوگئے اور ابوطلحہ ؓ کے پیچھے میں سوار ہوگیا اللہ کے نبی ﷺ نے سواری خیبر کی گلیوں کی طرف دوڑائی اور میرا گھٹنا اللہ کے نبی ﷺ کی ران سے لگ جاتا تھا نبی کریم ﷺ کی ران سے چادر جدا ہوگئی تھی اور میں نے اللہ کے نبی ﷺ کی ران کی سفیدی دیکھی پس جب آپ ﷺ بستی میں پہنچے تو فرمایا اَللَّهُ أَکْبَرُ خیبر ویران ہوگیا کیونکہ ہم جب کسی قوم کے میدانوں میں اترتے ہیں تو ڈرائے ہوئے لوگوں کی صبح بری ہوجاتی ہے اس جملہ کو آپ ﷺ نے تین مرتبہ فرمایا اور اہل خیبر اس وقت اپنے اپنے کاموں کی طرف نکلے ہوئے تھے تو انہوں نے کہا محمد ﷺ آگئے اور بعض راویوں نے کہا کہ آپ ﷺ اور لشکر آگئے اور ہم نے اسے زبردستی فتح کرلیا۔

It has been narrated on the authority of Anas that the Messenger of Allah ﷺ raided Khaibar. One morning we offered prayers in the darkness of early dawn (near Khaibar). Then the Messenger of Allah ﷺ mounted (his horse). Abu Talha mounted his and I mounted behind Abu Talha on the same horse. The Prophet ﷺ of Allah ﷺ rode through the streets of Khaibar and (I rode so close to him) that my knee touched the thigh of the Prophet ﷺ of Allah ﷺ . The wrapper got aside from his thigh, and I could see its whiteness. When he entered the town, he said: God is Great. Khaibar shall face destruction. When we descend in the city-square of a people, it is a bad day for them who have been warned (and have not taken heed). He said these words thrice. The people of the town had just come out from (their houses) to go about their jobs. They said (in surprise): Muhammad has come. We captured Khaibar by force.

4666Sahih Muslim

غزوئہ خیبر کے بیان میں

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ حَدَّثَنَا ثَابِتٌ عَنْ أَنَسٍ قَالَ کُنْتُ رِدْفَ أَبِي طَلْحَةَ يَوْمَ خَيْبَرَ وَقَدَمِي تَمَسُّ قَدَمَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَأَتَيْنَاهُمْ حِينَ بَزَغَتْ الشَّمْسُ وَقَدْ أَخْرَجُوا مَوَاشِيَهُمْ وَخَرَجُوا بِفُؤُوسِهِمْ وَمَکَاتِلِهِمْ وَمُرُورِهِمْ فَقَالُوا مُحَمَّدٌ وَالْخَمِيسَ قَالَ وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرِبَتْ خَيْبَرُ إِنَّا إِذَا نَزَلْنَا بِسَاحَةِ قَوْمٍ فَسَائَ صَبَاحُ الْمُنْذَرِينَ قَالَ فَهَزَمَهُمْ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ

ابوبکر بن ابی شیبہ، عفان، حماد بن سلمہ، ثابت، حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ میں خیبر کے دن ابوطلحہ ؓ کے پیچھے سوار تھا اور میرا قدم رسول اللہ ﷺ کے قدم کو لگ رہا تھا پس ہم ان کے پاس اس وقت آئے جب سورج نکل چکا تھا اور انہوں نے اپنے جانوروں کو نکال لیا تھا اور خود درانیتاں اور ٹوکریاں اور درختوں پر چڑھنے کے لئے رسیاں لے کر باہر نکل رہے تھے انہوں نے کہا محمد ﷺ بمع لشکر آگئے ہیں اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا خیبر برباد ہوگیا کیونکہ جب ہم کسی قوم کے میدان میں اترتے ہیں تو ڈرائے ہوئے لوگوں کی صبح بری ہوجاتی ہے پس اللہ رب العزت نے انہیں شکست سے دوچار کیا۔

It has been narrated (through another chain of transmitters) on the authority of the same narrator (i. e. Anas) who said: I was riding behind Abu Talha on the day of the Battle of Khaibar (and we were riding so close to the Holy Prophet ﷺ that) my foot would touch his. We encountered the people at sunrise when they had come out with their axes, spades and strings driving their cattle along. They shouted (in surprise): Muhammad has come along with his force! The Messenger of Allah ﷺ said: Khaibar shall face destruction. Behold! when we descend in the city-square of a people, it is a bad day for those who have been warned (but have not taken heed). Allah, the Glorious and Majestic, inflicted defeat upon them.

4667Sahih Muslim

غزوہ خیبر کے بیان میں

حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَإِسْحَقُ بْنُ مَنْصُورٍ قَالَا أَخْبَرَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ لَمَّا أَتَی رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْبَرَ قَالَ إِنَّا إِذَا نَزَلْنَا بِسَاحَةِ قَوْمٍ فَسَائَ صَبَاحُ الْمُنْذَرِينَ

اسحاق بن ابراہیم، اسحاق بن منصور، نضر بن شمیل، شعبہ، قتادہ، حضرت انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ فرماتے ہیں کہ جب رسول اللہ خیبر تشریف لائے تو آپ ﷺ نے فرمایا جب ہم کسی قوم کے میدانوں میں اترتے ہیں تو وہ ان جن لوگوں کو (اللہ کے عذاب سے ڈرایا گیا ہے) ان کے لئے بہت برا ہوتا ہے۔

This hadith has been transmitted on the authority of Anas bin Malik (RA) with a slight variation of words.

4668Sahih Muslim

غزوئہ خیبر کے بیان میں

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ وَاللَّفْظُ لِابْنِ عَبَّادٍ قَالَا حَدَّثَنَا حَاتِمٌ وَهُوَ ابْنُ إِسْمَعِيلَ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ مَوْلَی سَلَمَةَ بْنِ الْأَکْوَعِ عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْأَکْوَعِ قَالَ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَی خَيْبَرَ فَتَسَيَّرْنَا لَيْلًا فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ الْقَوْمِ لِعَامِرِ بْنِ الْأَکْوَعِ أَلَا تُسْمِعُنَا مِنْ هُنَيْهَاتِکَ وَکَانَ عَامِرٌ رَجُلًا شَاعِرًا فَنَزَلَ يَحْدُو بِالْقَوْمِ يَقُولُ اللَّهُمَّ لَوْلَا أَنْتَ مَا اهْتَدَيْنَا وَلَا تَصَدَّقْنَا وَلَا صَلَّيْنَا فَاغْفِرْ فِدَائً لَکَ مَا اقْتَفَيْنَا وَثَبِّتْ الْأَقْدَامَ إِنْ لَاقَيْنَا وَأَلْقِيَنْ سَکِينَةً عَلَيْنَا إِنَّا إِذَا صِيحَ بِنَا أَتَيْنَا وَبِالصِّيَاحِ عَوَّلُوا عَلَيْنَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ هَذَا السَّائِقُ قَالُوا عَامِرٌ قَالَ يَرْحَمُهُ اللَّهُ فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ الْقَوْمِ وَجَبَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَوْلَا أَمْتَعْتَنَا بِهِ قَالَ فَأَتَيْنَا خَيْبَرَ فَحَاصَرْنَاهُمْ حَتَّی أَصَابَتْنَا مَخْمَصَةٌ شَدِيدَةٌ ثُمَّ قَالَ إِنَّ اللَّهَ فَتَحَهَا عَلَيْکُمْ قَالَ فَلَمَّا أَمْسَی النَّاسُ مَسَائَ الْيَوْمِ الَّذِي فُتِحَتْ عَلَيْهِمْ أَوْقَدُوا نِيرَانًا کَثِيرَةً فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا هَذِهِ النِّيرَانُ عَلَی أَيِّ شَيْئٍ تُوقِدُونَ فَقَالُوا عَلَی لَحْمٍ قَالَ أَيُّ لَحْمٍ قَالُوا لَحْمُ حُمُرِ الْإِنْسِيَّةِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَهْرِيقُوهَا وَاکْسِرُوهَا فَقَالَ رَجُلٌ أَوْ يُهْرِيقُوهَا وَيَغْسِلُوهَا فَقَالَ أَوْ ذَاکَ قَالَ فَلَمَّا تَصَافَّ الْقَوْمُ کَانَ سَيْفُ عَامِرٍ فِيهِ قِصَرٌ فَتَنَاوَلَ بِهِ سَاقَ يَهُودِيٍّ لِيَضْرِبَهُ وَيَرْجِعُ ذُبَابُ سَيْفِهِ فَأَصَابَ رُکْبَةَ عَامِرٍ فَمَاتَ مِنْهُ قَالَ فَلَمَّا قَفَلُوا قَالَ سَلَمَةُ وَهُوَ آخِذٌ بِيَدِي قَالَ فَلَمَّا رَآنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَاکِتًا قَالَ مَا لَکَ قُلْتُ لَهُ فَدَاکَ أَبِي وَأُمِّي زَعَمُوا أَنَّ عَامِرًا حَبِطَ عَمَلُهُ قَالَ مَنْ قَالَهُ قُلْتُ فُلَانٌ وَفُلَانٌ وَأُسَيْدُ بْنُ حُضَيْرٍ الْأَنْصَارِيُّ فَقَالَ کَذَبَ مَنْ قَالَهُ إِنَّ لَهُ لَأَجْرَيْنِ وَجَمَعَ بَيْنَ إِصْبَعَيْهِ إِنَّهُ لَجَاهِدٌ مُجَاهِدٌ قَلَّ عَرَبِيٌّ مَشَی بِهَا مِثْلَهُ وَخَالَفَ قُتَيْبَةُ مُحَمَّدًا فِي الْحَدِيثِ فِي حَرْفَيْنِ وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ عَبَّادٍ وَأَلْقِ سَکِينَةً عَلَيْنَا

قتیبہ بن سعید، محمد بن عباد، حاتم بن اسماعیل، یزید بن ابی عبید مولیٰ حضرت سلمہ بن اکوع ؓ سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ خیبر کی طرف نکلے اور رات کے وقت سفر کیا قوم میں سے ایک آدمی نے عامر بن اکوع ؓ سے کہا آپ ﷺ ہمیں اپنے اشعار میں سے کچھ شعر نہ سنائیں گے اور عامر ؓ شاعر تھے عامر قوم کے ساتھ اترے اور یہ شعر کہے۔ اے اللہ اگر تو ہماری مدد نہ کرتا تو ہمیں ہدایت نہ ملتی نہ ہم زکوٰۃ ادا کرتے اور نہ نماز پڑھتے پس تو ہمیں معاف کر دے یہی ہماری طلب ہے اور ہم تجھ پر فدا ہوں اور ہمارے قدموں کو مضبوط کر دے اگر ہم دشمنوں سے مقابلہ کریں اور ہم پر تسلی نازل فرما جب ہم کو آواز دی جاتی ہے تو ہم پہنچ جاتے ہیں اور آواز دینے کے ساتھ ہی لوگ ہم پر بھروسہ کرلیتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا یہ ہنکانے والا کون ہے صحابہ نے عرض کیا عامر ہے آپ ﷺ نے فرمایا اللہ اس پر رحم فرمائے قوم میں سے ایک آدمی نے عرض کیا اے اللہ کے رسول اس پر رحمت واجب ہوگئی کاش آپ ﷺ ہمیں بھی اس سے مستفید کرتے ہم خبیر میں پہنچے اور ان کا محاصرہ کرلیا یہاں تک کہ ہمیں سخت بھوک لگی پھر آپ ﷺ نے فرمایا بیشک اللہ نے خبیر تمہارے لئے فتح کردیا ہے جب لوگوں نے شام کی اس دن جس دن خبیر ان کے لئے فتح کیا گیا تو لوگوں نے بہت زیادہ آگ جلائی رسول اللہ ﷺ نے فرمایا یہ آگ کیسی ہے اور کس چیز پر تم جلا رہے ہو؟ صحابہ نے عرض کیا گوشت، آپ ﷺ نے فرمایا کونسا گوشت صحابہ نے عرض کیا گھریلو گدھے کا گوشت۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اسے انڈیل دو اور ہانڈیوں کو توڑ ڈالو ایک صحابی نے عرض کیا کیا ہم اسے انڈیل دیں اور ہانڈیوں کو دھولیں آپ ﷺ نے فرمایا ایسا کرلو جب لوگوں نے صف بندی کی تو عامر کی تلوار چھوٹی تھی انہوں نے یہودی کی پنڈلی پر وہ تلوار ماری لیکن تلوار کی دھار واپس آ کر عامر کے زانوں پر لگی پس وہ اس سے فوت ہوگئے پس جب صحابہ واپس لوٹے تو حضرت سلمہ ؓ نے میرا ہاتھ پکڑ کر کہا جب رسول اللہ ﷺ نے مجھے خاموش دیکھا تو فرمایا تجھے کیا ہے؟ میں نے عرض کیا میرے ماں باپ آپ ﷺ پر قربان، لوگوں نے گمان کیا ہے کہ عامر کے تمام اعمال برباد ہوگئے ہیں آپ ﷺ نے فرمایا کس نے یہ بات کہی ہے؟ میں نے عرض کیا فلاں فلاں اور اسید بن حضیر انصاری نے آپ ﷺ نے فرمایا جس نے یہ بات کہی جھوٹ کہا ہے اس کے لئے دوہرا اجر ہے اور آپ ﷺ نے اپنی دونوں انگلیوں کو جمع کیا اور فرمایا کہ اس نے اس طرح جہاد کیا جس کی مثال عرب میں بہت کم ہے جو اس راستہ میں اسی طرح چلا ہو۔

It has been narrated on the authority of Salama bin al-Akwa who said: We marched upon Khaibar with the Messenger of Allah ﷺ . We journeyed during the night. One of the people said to (my brother) Amir bin al-Akwa: Wont you recite to us some of your verses? Amir was a poet. So he began to chant his verses to urge the camels, reciting: O God, if Thou hadst not guided us We would have neither been guided rightly nor practised charity, Nor offered prayers. We wish to lay down our lives for Thee; so forgive Thou our lapses, And keep us steadfast when we encounter (our enemies). Bestow upon us peace and tranquillity. Behold, when with a cry they called upon us to help. The Messenger of Allah ﷺ said: Who is this driver (of the camels)? They said: It is Amir. He said: God will show mercy to him. A man said: Martyrdom is reserved for him. Messenger of Allah, would that you had allowed us to benefit ourselves from his life. (The narrator says): We reached Khaibar and besieged them, and (we continued the siege) until extreme hunger afflicted us. Then the Messenger of Allah ﷺ said: Behold, God has conquered it for you. When it was evening of the day on which the city was conquered. the Muslims lit many fires. The Messenger of Allah ﷺ said: What are these fires? And what are they cooking? They said: They are cooking meat. He asked. Which meat? They said: That of domestic asses. He said: Let them throw it away and break the pots (in which it is being cooked). A man said: Or should they throw it away and wash the pots? He said: They may do that. When the people drew themselves up in battle array Amir caught hold of his sword that was rather short He drove a Jew before him to strike him with it. (As he struck him), his sword recoiled and struck his own knee, and Amir died of the wound. When the people returned (after the conquest of Kliaibar) and he (Salama) had caught hold of my hand, and said: The Messenger of Allah ﷺ saw that I was silent (and dejected); he said: Whats the matter with thee? I said to him: My father and my mother be thy ransom, people presume that Amirs sacrifice has been in vain. He asked: Who has said that? I said: So and so and Usaid bin Hudair al-Ansari. He said: Who has said that has lied. For him (for Amir) there is a double reward. (He indicated this by putting two of his fingers together.) He was a devotee of God and a warrior fighting for His cause. There will be hardly any Arab who can fight as bravely as he did. Qutaiba has differed in a few words.

4669Sahih Muslim

غزوئہ خیبر کے بیان میں

و حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ وَنَسَبَهُ غَيْرُ ابْنِ وَهْبٍ فَقَالَ ابْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ کَعْبِ بْنِ مَالِکٍ أَنَّ سَلَمَةَ بْنَ الْأَکْوَعِ قَالَ لَمَّا کَانَ يَوْمُ خَيْبَرَ قَاتَلَ أَخِي قِتَالًا شَدِيدًا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَارْتَدَّ عَلَيْهِ سَيْفُهُ فَقَتَلَهُ فَقَالَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ذَلِکَ وَشَکُّوا فِيهِ رَجُلٌ مَاتَ فِي سِلَاحِهِ وَشَکُّوا فِي بَعْضِ أَمْرِهِ قَالَ سَلَمَةُ فَقَفَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ خَيْبَرَ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ائْذَنْ لِي أَنْ أَرْجُزَ لَکَ فَأَذِنَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ أَعْلَمُ مَا تَقُولُ قَالَ فَقُلْتُ وَاللَّهِ لَوْلَا اللَّهُ مَا اهْتَدَيْنَا وَلَا تَصَدَّقْنَا وَلَا صَلَّيْنَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَدَقْتَ وَأَنْزِلَنْ سَکِينَةً عَلَيْنَا وَثَبِّتْ الْأَقْدَامَ إِنْ لَاقَيْنَا وَالْمُشْرِکُونَ قَدْ بَغَوْا عَلَيْنَا قَالَ فَلَمَّا قَضَيْتُ رَجَزِي قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ قَالَ هَذَا قُلْتُ قَالَهُ أَخِي فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْحَمُهُ اللَّهُ قَالَ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ نَاسًا لَيَهَابُونَ الصَّلَاةَ عَلَيْهِ يَقُولُونَ رَجُلٌ مَاتَ بِسِلَاحِهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَاتَ جَاهِدًا مُجَاهِدًا قَالَ ابْنُ شِهَابٍ ثُمَّ سَأَلْتُ

ابوطاہر، ابن وہب، یونس، ابن شہاب، عبدالرحمن، ابن وہب، ابن عبداللہ بن کعب بن مالک، سلمہ بن اکوع، حضرت سلمہ بن اکوع ؓ سے روایت ہے کہ غزوہ خبیر کے دن میرے بھائی نے رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ سخت جنگ کی پس اس کی اپنی تلوار لوٹ کر اس کو لگی جس سے وہ شہید ہوگئے تو اصحاب رسول اللہ ﷺ نے اس کے بارے میں گفتگو کی اور ایسے آدمی کی شہادت میں شک کیا جو اپنے اسلحہ سے وفات پا جائے اور اسی طرح اس کے بعض حالات میں شک کیا سلمہ نے کہا جب رسول اللہ ﷺ خبیر سے لوٹے تو میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول! آپ ﷺ مجھے اجازت دیں کہ میں آپ ﷺ کو کچھ رجزیہ اشعار سناؤں تو رسول اللہ ﷺ نے اسے اجازت دے دی حضرت عمر ؓ بن خطاب نے کہا جو کچھ کہو سوچ سمجھ کر کہو تو میں نے یہ شعر کہا اللہ کی قسم اگر اللہ ہمیں ہدایت عطا نہ فرماتا تو ہم نہ زکوٰۃ ادا کرتے اور نہ نماز پڑھتے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تو نے سچ کہا اور ہم پر رحمت نازل فرما اور اگر ہم مقابلہ کریں تو ہمیں ثابت قدم رکھو اور مشرکین نے تحقیق ہم پر زیادتی کی ہوئی ہے جب میں اپنے اشعار پورے کرچکا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ان اشعار کا کہنے والا کون ہے؟ میں نے عرض کیا انہیں میرے بھائی نے کہا ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ اس پر رحم فرمائے میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ بعض لوگ اس کی نماز جنارہ ادا کرنے میں ہچکچاتے رہے تھے اور کہتے تھے کہ یہ ایسا شخص ہے جو اپنے اسلحہ سے شہید ہوا ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا وہ اللہ کی اطاعت اور جہاد میں کوشش کرتے ہوئے شہید ہوا ہے ابن شہاب نے کہا پھر میں نے سلمہ بن اکوع کے بیٹے سے پوچھا تو انہوں نے یہ حدیث اپنے باپ سے مجھے بیان کی اور اس میں یہ کہا جب میں نے عرض کیا کہ بعض لوگ اس کی نماز جنازہ ادا کرنے میں ہچکچا رہے تھے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا انہوں نے جھوٹ کہا ہے بلکہ وہ جہاد کرتے ہوئے مجاہد شہید ہوا ہے اور اس کے لئے دوہرا اجر وثواب ہوگا اور آپ ﷺ نے اپنی دونوں انگلیوں سے اشارہ فرمایا۔

It has been reported on the authority of Salama bin Akwa who said: On the day of the Battle of Khaibar my brother fought a fierce fight by the side of the Messenger of Allah ﷺ . His sword rebounded and killed him. The Companions of the Messenger of Allah ﷺ talked about his death and doubted (whether it was martyrdom). (They said): (He is) a man killed by his own weapon, and expressed doubt about his affair. Salama said: When the Messenger of Allah ﷺ returned from Khaibar, I said: Messenger of Allah, permit me that I may recite to you some rajaz verses. The Messenger of Allah ﷺ permitted him. Umar bin Khattab said: I know what you will recite. I recited: By God, if God had guided us not, We would have neither been guided aright nor practised charity, Nor offered prayers. The Messenger of Allah ﷺ said: What you have said is true, I (continued): And descend on us peace and tranquillity And keep us steadfast if we encounter (with our enemies) And the polytheists have rebelled against us. When I finished my rajaz, the Messenger of Allah ﷺ said: Who composed these verses? I said: They were composed by my brother. The Messenger of Allah ﷺ said: May God show mercy to him! I said: By God, some people are reluctant to invoke Gods mercy on him (because) they say he is a man who died by his own sword. (Hearing this) the Messenger of Allah ﷺ said: He died as Gods devotee and warrior. Ibn Shihab has said: I asked one of the sons of Salama bin Akwa about (the death of Amir). He related to me a similar tradition except that he said: When I said some people were reluctant invoke Gods blessings on him, the Messenger of Allah ﷺ said: They lied. (Amir) died as Gods devotee and warrior (in the cause of Allah). For him there is a double reward, and he pointed out this by putting his two fingers together.

4670Sahih Muslim

غزوئہ احزاب کے بیان میں

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَابْنُ بَشَّارٍ وَاللَّفْظُ لِابْنِ الْمُثَنَّی قَالَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي إِسْحَقَ قَالَ سَمِعْتُ الْبَرَائَ قَالَ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْأَحْزَابِ يَنْقُلُ مَعَنَا التُّرَابَ وَلَقَدْ وَارَی التُّرَابُ بَيَاضَ بَطْنِهِ وَهُوَ يَقُولُ وَاللَّهِ لَوْلَا أَنْتَ مَا اهْتَدَيْنَا وَلَا تَصَدَّقْنَا وَلَا صَلَّيْنَا فَأَنْزِلَنْ سَکِينَةً عَلَيْنَا إِنَّ الْأُلَی قَدْ أَبَوْا عَلَيْنَا قَالَ وَرُبَّمَا قَالَ إِنَّ الْمَلَا قَدْ أَبَوْا عَلَيْنَا إِذَا أَرَادُوا فِتْنَةً أَبَيْنَا وَيَرْفَعُ بِهَا صَوْتَهُ

محمد بن مثنی، ابن بشار، ابن مثنی، محمد بن جعفر، شعبہ، ابواسحاق، حضرت براء فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ احزاب کے دن ہمارے ساتھ مٹی اٹھا رہے تھے اور مٹی کی وجہ سے آپ ﷺ کی پیٹ کی سفیدی اٹی ہوئی تھی اور آپ ﷺ فرما رہے تھے۔

It has been reported on the authority of Barra who said: The Messenger of Allah ﷺ was carrying the earth with us on the Day of Ahzab and the whiteness of his belly had been covered with earth. (While engaged in this toil) he was reciting: By God, if Thou hadst not guided us We would have neither been guided aright nor practised charity, Nor offered prayers. Descend on us peace and tranquillity. Behold I these people (the Makkahns) refused to follow us. According to another version, he recited: The chieftains (of the tribes) refused to follow us When they contemplated mischief, we rejected it. And with this (verse) he would raise his voice. ________ Book 019, Number 4443: It has been narrated on the authority of Abu Ishaq who said: I heard from Bara a similar tradition except that he said: "These people (the Makkahns) rebelled against us."

4671Sahih Muslim

غزوئہ احزاب کے بیان میں

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي إِسْحَقَ قَالَ سَمِعْتُ الْبَرَائَ فَذَکَرَ مِثْلَهُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ إِنَّ الْأُلَی قَدْ بَغَوْا عَلَيْنَا

محمد بن مثنی، عبدالرحمن بن مہدی، شعبہ، ابواسحاق، اس سند کے ساتھ حضرت براء ؓ سے بھی اسی طرح روایت ہے۔

It has been narrated on the authority of Abu Ishaq who said: I heard from Bara a similar tradition except that he said: "These people (the Makkahns) rebelled against us."

4672Sahih Muslim

غزوئہ احزاب کے بیان میں

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ جَائَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ نَحْفِرُ الْخَنْدَقَ وَنَنْقُلُ التُّرَابَ عَلَی أَکْتَافِنَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اللَّهُمَّ لَا عَيْشَ إِلَّا عَيْشُ الْآخِرَةِ فَاغْفِرْ لِلْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ

عبداللہ بن مسلمہ قعنبی، عبدالعزیز بن ابی حازم، حضرت سہل بن سعد ؓ سے روایت ہے کہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ہمارے پاس تشریف لائے اور حال یہ کہ ہم خندق کھود رہے تھے اور کندھوں پر مٹی اٹھا رہے تھے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اے اللہ زندگی تو صرف آخرت کی زندگی ہے پس تو مہاجرین اور انصار کی مغفرت فرما۔

It has been reported on the authority of Sahl bin Sad who said: The Messenger of Allah ﷺ came to us while we were digging the ditch and were carrying the earth on our shoulders. (Seeing our condition), he said: O God, there is no life but the life of the Hereafter. So forgive Thou the Muhajirs and the Ansar.

4673Sahih Muslim

غزوئہ احزاب کے بیان میں

و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَابْنُ بَشَّارٍ وَاللَّفْظُ لِابْنِ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ اللَّهُمَّ لَا عَيْشَ إِلَّا عَيْشُ الْآخِرَهْ فَاغْفِرْ لِلْأَنْصَارِ وَالْمُهَاجِرَهْ

محمد بن مثنی، ابن بشار، محمد بن جعفر، شعبہ، معاویہ، ابن قرہ، حضرت انس ؓ بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: اے اللہ! زندگی تو صرف آخرت کی زندگی ہے تو انصار اور مہاجرین کی مغفرت فرما

It has been narrated on the authority of Anas bin Malik (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: O God, there is no life, but the life of the Hereafter, So forgive Thou the Ansar and the Muhajirs.

4674Sahih Muslim

غزوئہ احزاب کے بیان میں

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَابْنُ بَشَّارٍ قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِکٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَانَ يَقُولُ اللَّهُمَّ إِنَّ الْعَيْشَ عَيْشُ الْآخِرَةِ قَالَ شُعْبَةُ أَوْ قَالَ اللَّهُمَّ لَا عَيْشَ إِلَّا عَيْشُ الْآخِرَهْ فَأَکْرِمْ الْأَنْصَارَ وَالْمُهَاجِرَهْ

محمد بن مثنی، ابن بشار، ابن مثنی، محمد بن جعفر، شعبہ، قتادہ، حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا اے اللہ زندگی تو صرف آخرت کی زندگی ہے پس تو انصار اور مہاجرین پر کرم فرما

It has been narrated on the authority of Anas bin Malik (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: O God, there is no life, but the life of the Hereafter, So forgive Thou the Ansar and the Muhajirs.

4675Sahih Muslim

غزوئہ احزاب کے بیان میں

و حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی وَشَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ قَالَ يَحْيَی أَخْبَرَنَا و قَالَ شَيْبَانُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِکٍ قَالَ کَانُوا يَرْتَجِزُونَ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَهُمْ وَهُمْ يَقُولُونَ اللَّهُمَّ لَا خَيْرَ إِلَّا خَيْرُ الْآخِرَهْ فَانْصُرْ الْأَنْصَارَ وَالْمُهَاجِرَهْ وَفِي حَدِيثِ شَيْبَانَ بَدَلَ فَانْصُرْ فَاغْفِرْ

یحییٰ بن یحیی، شیبان بن فروخ، یحیی، شیبان، عبدالوارث، ابوتیاح، حضرت انس بن مالک ؓ فرماتے ہیں کہ رجزیہ اشعار کہتے تھے اور رسول اللہ ﷺ بھی ان کے ساتھ رجزیہ اشعار کہتے تھے اور فرماتے تھے اے اللہ بھلائی تو صرف آخرت کی بھلائی ہے پس تو انصار اور مہاجرین کی مدد فرما اور شیبان کی حدیث میں فانصر کی جگہ فاغفر ہے۔

According to still another version of the tradition narrated by the same authority, and handed down through a different chain of transmitters, it has been reported that they (the Companions of the Holy Prophet) were reciting rajaz verses and the Messenger of Allah ﷺ was (reciting) with them. And they were chanting: O God, there is no good but the good of the Hereafter. So help Thou the Ansar and the Muhajirs. Shaiban substituted "So forgive Thou"for "So help Thou".

4676Sahih Muslim

غزوئہ احزاب کے بیان میں

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ حَدَّثَنَا ثَابِتٌ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ أَصْحَابَ مُحَمَّدٍ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَانُوا يَقُولُونَ يَوْمَ الْخَنْدَقِ نَحْنُ الَّذِينَ بَايَعُوا مُحَمَّدًا عَلَی الْإِسْلَامِ مَا بَقِينَا أَبَدًا أَوْ قَالَ عَلَی الْجِهَادِ شَکَّ حَمَّادٌ وَالنَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ اللَّهُمَّ إِنَّ الْخَيْرَ خَيْرُ الْآخِرَهْ فَاغْفِرْ لِلْأَنْصَارِ وَالمُهَاجِرَهْ

محمد بن حاتم، بہز، حماد بن سلمہ، ثابت، حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ محمد ﷺ کے صحابہ ؓ خندق کے دن کہہ رہے تھے جب تک ہماری زندگی باقی ہے ہم نے محمد ﷺ سے اسلام پر بیعت کی ہے اور نبی ﷺ فرماتے تھے اے اللہ بھلائی تو صرف آخرت کی بھلائی ہے پس تو انصار اور مہاجرین کی مغفرت فرما

It has been narrated (through a still difterent chain of transmitters) by Anas that the Companions of Muhammad ﷺ were chanting on the day of the Battle of the Ditch: We are those who have sworn allegiance to Muhammad (And made a covenant with him) to follow Islam as long as we live. Hammad is not sure whether Anas said:" Alal-Islam" or," Alal-Jihad". And the Holy Prophet ﷺ was chanting: O God, the real good is the good of the Hereafter, So forgive Thou the Ansar and the Muhajirs.

4677Sahih Muslim

غزوئہ احزاب کے بیان میں

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا حَاتِمٌ يَعْنِي ابْنَ إِسْمَعِيلَ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ قَالَ سَمِعْتُ سَلَمَةَ بْنَ الْأَکْوَعِ يَقُولُا خَرَجْتُ قَبْلَ أَنْ يُؤَذَّنَ بِالْأُولَی وَکَانَتْ لِقَاحُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَرْعَی بِذِي قَرَدٍ قَالَ فَلَقِيَنِي غُلَامٌ لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ فَقَالَ أُخِذَتْ لِقَاحُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ مَنْ أَخَذَهَا قَالَ غَطَفَانُ قَالَ فَصَرَخْتُ ثَلَاثَ صَرَخَاتٍ يَا صَبَاحَاهْ قَالَ فَأَسْمَعْتُ مَا بَيْنَ لَابَتَيِ الْمَدِينَةِ ثُمَّ انْدَفَعْتُ عَلَی وَجْهِي حَتَّی أَدْرَکْتُهُمْ بِذِي قَرَدٍ وَقَدْ أَخَذُوا يَسْقُونَ مِنْ الْمَائِ فَجَعَلْتُ أَرْمِيهِمْ بِنَبْلِي وَکُنْتُ رَامِيًا وَأَقُولُ أَنَا ابْنُ الْأَکْوَعِ وَالْيَوْمُ يَوْمُ الرُّضَّعِ فَأَرْتَجِزُ حَتَّی اسْتَنْقَذْتُ اللِّقَاحَ مِنْهُمْ وَاسْتَلَبْتُ مِنْهُمْ ثَلَاثِينَ بُرْدَةً قَالَ وَجَائَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالنَّاسُ فَقُلْتُ يَا نَبِيَّ اللَّهِ إِنِّي قَدْ حَمَيْتُ الْقَوْمَ الْمَائَ وَهُمْ عِطَاشٌ فَابْعَثْ إِلَيْهِمْ السَّاعَةَ فَقَالَ يَا ابْنَ الْأَکْوَعِ مَلَکْتَ فَأَسْجِحْ قَالَ ثُمَّ رَجَعْنَا وَيُرْدِفُنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَی نَاقَتِهِ حَتَّی دَخَلْنَا الْمَدِينَةَ

قتیبہ بن سعید، حاتم بن اسماعیل، یزید بن ابی عبید، حضرت سلمہ ؓ فرماتے ہیں کہ میں پہلی اذان سے قبل باہر نکلا کہ ذی قرد میں رسول اللہ ﷺ کی اونٹنیاں چر رہیں تھیں حضرت سلمہ کہتے ہیں کہ مجھے عبدالرحمن بن عوف کا غلام ملا اور اس نے کہا رسول اللہ ﷺ کی اونٹنیوں کو پکڑ لیا گیا ہے تو میں نے اس غلام سے پوچھا کس نے پکڑی ہیں غلام نے کہا غطفان نے حضرت سلمہ فرماتے ہیں کہ میں نے چیخ چیخ کر تین مرتبہ یاصباحاہ کہا مدینہ کے دونوں کناروں تک میری آواز سنی گئی پھر میں سامنے کی طرف چلا یہاں تک کہ میں نے ذی قرد میں غطفان کے لوگوں کو پکڑ لیا وہ لوگ اونٹنیوں کو پانی پلا رہے تھے میں نے اپنے تیروں سے انہیں مارنا شروع کردیا اور میں تیر مارتے ہوئے کہہ رہا تھا۔ میں اکوع کا بیٹا ہوں اور آج کا دن تو کمی لوگوں کی ہلاکت کا دن ہے۔ تو میں یہ رجز پڑھتا رہا یہاں تک کہ میں نے ان سے اونٹنیوں کو چھڑا لیا اور ان سے تین چادریں بھی لے لیں راوی کہتے ہیں نبی ﷺ اور صحابہ تشریف لے آئے تو میں نے عرض کیا اے اللہ کے نبی ﷺ میں نے اس قوم کے لوگوں کو پانی سے روک رکھا ہے حالانکہ یہ لوگ پیاسے ہیں آپ ﷺ ان کی طرف ابھی لوگ بھیجیں آپ ﷺ نے فرمایا اے ابن اکوع تم نے اپنی چیزیں تو لے لیں ہیں اب انہیں چھوڑ دو راوی کہتے ہیں کہ پھر ہم واپس لوٹے اور رسول اللہ ﷺ نے مجھے اپنی اونٹنی پر اپنے پیچھے سوار کیا یہاں تک کہ ہم مدینہ میں داخل ہوگئے۔

It has been narrated on the authority of Yazid bin Abu Ubaid who said that he heard Salama bin al-Akwa say: I went out before the Adhan for the morning prayer had been delivered. The milch she-camels of the Messenger of Allah ﷺ were grazing at Dhu Qarad. Abdul Rahman bin Aufs slave met me and said: The milch she-camels of the Messenger of Allah ﷺ had been taken away. I said: Who has taken them away? He said: (the people belonging to the tribe of) Ghatafan. I cried thrice: Help! I made the whole city between the two lavas hear my cry. Then I ran straight in their pursuit until I overtook them at Dhu Qarad where they were just going to water their animals. I, being an archer, began to shoot them with my arrows and was saying: I am the son of al-Akwa. And today is the day when the cowards will meet their doom. I continued to chant until I rescued the milch she-camels from them, and snatched from them thirty mantles. Now, the Messenger of Allah ﷺ and some other people came along. I said: Prophet ﷺ of Allah, I have prevented them from water while they were thirsty. So you should send a force (to punish them). He (the Holy Prophet) said: Ibn al-Akwa, you have taken (what, you have taken). Now let them go. Then we returned and the Messenger of Allah ﷺ made me mount behind him on his she-camel until we entered Madinah.

4678Sahih Muslim

غزوئہ احزاب کے بیان میں

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ح و حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ کِلَاهُمَا عَنْ عِکْرِمَةَ بْنِ عَمَّارٍ ح و حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ وَهَذَا حَدِيثُهُ أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الْحَنَفِيُّ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ حَدَّثَنَا عِکْرِمَةُ وَهُوَ ابْنُ عَمَّارٍ حَدَّثَنِي إِيَاسُ بْنُ سَلَمَةَ حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ قَدِمْنَا الْحُدَيْبِيَةَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ أَرْبَعَ عَشْرَةَ مِائَةً وَعَلَيْهَا خَمْسُونَ شَاةً لَا تُرْوِيهَا قَالَ فَقَعَدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَی جَبَا الرَّکِيَّةِ فَإِمَّا دَعَا وَإِمَّا بَصَقَ فِيهَا قَالَ فَجَاشَتْ فَسَقَيْنَا وَاسْتَقَيْنَا قَالَ ثُمَّ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَعَانَا لِلْبَيْعَةِ فِي أَصْلِ الشَّجَرَةِ قَالَ فَبَايَعْتُهُ أَوَّلَ النَّاسِ ثُمَّ بَايَعَ وَبَايَعَ حَتَّی إِذَا کَانَ فِي وَسَطٍ مِنْ النَّاسِ قَالَ بَايِعْ يَا سَلَمَةُ قَالَ قُلْتُ قَدْ بَايَعْتُکَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فِي أَوَّلِ النَّاسِ قَالَ وَأَيْضًا قَالَ وَرَآنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَزِلًا يَعْنِي لَيْسَ مَعَهُ سِلَاحٌ قَالَ فَأَعْطَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَجَفَةً أَوْ دَرَقَةً ثُمَّ بَايَعَ حَتَّی إِذَا کَانَ فِي آخِرِ النَّاسِ قَالَ أَلَا تُبَايِعُنِي يَا سَلَمَةُ قَالَ قُلْتُ قَدْ بَايَعْتُکَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فِي أَوَّلِ النَّاسِ وَفِي أَوْسَطِ النَّاسِ قَالَ وَأَيْضًا قَالَ فَبَايَعْتُهُ الثَّالِثَةَ ثُمَّ قَالَ لِي يَا سَلَمَةُ أَيْنَ حَجَفَتُکَ أَوْ دَرَقَتُکَ الَّتِي أَعْطَيْتُکَ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَقِيَنِي عَمِّي عَامِرٌ عَزِلًا فَأَعْطَيْتُهُ إِيَّاهَا قَالَ فَضَحِکَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ إِنَّکَ کَالَّذِي قَالَ الْأَوَّلُ اللَّهُمَّ أَبْغِنِي حَبِيبًا هُوَ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ نَفْسِي ثُمَّ إِنَّ الْمُشْرِکِينَ رَاسَلُونَا الصُّلْحَ حَتَّی مَشَی بَعْضُنَا فِي بَعْضٍ وَاصْطَلَحْنَا قَالَ وَکُنْتُ تَبِيعًا لِطَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ أَسْقِي فَرَسَهُ وَأَحُسُّهُ وَأَخْدِمُهُ وَآکُلُ مِنْ طَعَامِهِ وَتَرَکْتُ أَهْلِي وَمَالِي مُهَاجِرًا إِلَی اللَّهِ وَرَسُولِهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَلَمَّا اصْطَلَحْنَا نَحْنُ وَأَهْلُ مَکَّةَ وَاخْتَلَطَ بَعْضُنَا بِبَعْضٍ أَتَيْتُ شَجَرَةً فَکَسَحْتُ شَوْکَهَا فَاضْطَجَعْتُ فِي أَصْلِهَا قَالَ فَأَتَانِي أَرْبَعَةٌ مِنْ الْمُشْرِکِينَ مِنْ أَهْلِ مَکَّةَ فَجَعَلُوا يَقَعُونَ فِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَبْغَضْتُهُمْ فَتَحَوَّلْتُ إِلَی شَجَرَةٍ أُخْرَی وَعَلَّقُوا سِلَاحَهُمْ وَاضْطَجَعُوا فَبَيْنَمَا هُمْ کَذَلِکَ إِذْ نَادَی مُنَادٍ مِنْ أَسْفَلِ الْوَادِي يَا لِلْمُهَاجِرِينَ قُتِلَ ابْنُ زُنَيْمٍ قَالَ فَاخْتَرَطْتُ سَيْفِي ثُمَّ شَدَدْتُ عَلَی أُولَئِکَ الْأَرْبَعَةِ وَهُمْ رُقُودٌ فَأَخَذْتُ سِلَاحَهُمْ فَجَعَلْتُهُ ضِغْثًا فِي يَدِي قَالَ ثُمَّ قُلْتُ وَالَّذِي کَرَّمَ وَجْهَ مُحَمَّدٍ لَا يَرْفَعُ أَحَدٌ مِنْکُمْ رَأْسَهُ إِلَّا ضَرَبْتُ الَّذِي فِيهِ عَيْنَاهُ قَالَ ثُمَّ جِئْتُ بِهِمْ أَسُوقُهُمْ إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ وَجَائَ عَمِّي عَامِرٌ بِرَجُلٍ مِنْ الْعَبَلَاتِ يُقَالُ لَهُ مِکْرَزٌ يَقُودُهُ إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَی فَرَسٍ مُجَفَّفٍ فِي سَبْعِينَ مِنْ الْمُشْرِکِينَ فَنَظَرَ إِلَيْهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ دَعُوهُمْ يَکُنْ لَهُمْ بَدْئُ الْفُجُورِ وَثِنَاهُ فَعَفَا عَنْهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنْزَلَ اللَّهُ وَهُوَ الَّذِي کَفَّ أَيْدِيَهُمْ عَنْکُمْ وَأَيْدِيَکُمْ عَنْهُمْ بِبَطْنِ مَکَّةَ مِنْ بَعْدِ أَنْ أَظْفَرَکُمْ عَلَيْهِمْ الْآيَةَ کُلَّهَا قَالَ ثُمَّ خَرَجْنَا رَاجِعِينَ إِلَی الْمَدِينَةِ فَنَزَلْنَا مَنْزِلًا بَيْنَنَا وَبَيْنَ بَنِي لَحْيَانَ جَبَلٌ وَهُمْ الْمُشْرِکُونَ فَاسْتَغْفَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِمَنْ رَقِيَ هَذَا الْجَبَلَ اللَّيْلَةَ کَأَنَّهُ طَلِيعَةٌ لِلنَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابِهِ قَالَ سَلَمَةُ فَرَقِيتُ تِلْکَ اللَّيْلَةَ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا ثُمَّ قَدِمْنَا الْمَدِينَةَ فَبَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِظَهْرِهِ مَعَ رَبَاحٍ غُلَامِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا مَعَهُ وَخَرَجْتُ مَعَهُ بِفَرَسِ طَلْحَةَ أُنَدِّيهِ مَعَ الظَّهْرِ فَلَمَّا أَصْبَحْنَا إِذَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ الْفَزَارِيُّ قَدْ أَغَارَ عَلَی ظَهْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاسْتَاقَهُ أَجْمَعَ وَقَتَلَ رَاعِيَهُ قَالَ فَقُلْتُ يَا رَبَاحُ خُذْ هَذَا الْفَرَسَ فَأَبْلِغْهُ طَلْحَةَ بْنَ عُبَيْدِ اللَّهِ وَأَخْبِرْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ الْمُشْرِکِينَ قَدْ أَغَارُوا عَلَی سَرْحِهِ قَالَ ثُمَّ قُمْتُ عَلَی أَکَمَةٍ فَاسْتَقْبَلْتُ الْمَدِينَةَ فَنَادَيْتُ ثَلَاثًا يَا صَبَاحَاهْ ثُمَّ خَرَجْتُ فِي آثَارِ الْقَوْمِ أَرْمِيهِمْ بِالنَّبْلِ وَأَرْتَجِزُ أَقُولُ أَنَا ابْنُ الْأَکْوَعِ وَالْيَوْمُ يَوْمُ الرُّضَّعِ فَأَلْحَقُ رَجُلًا مِنْهُمْ فَأَصُکُّ سَهْمًا فِي رَحْلِهِ حَتَّی خَلَصَ نَصْلُ السَّهْمِ إِلَی کَتِفِهِ قَالَ قُلْتُ خُذْهَا وَأَنَا ابْنُ الْأَکْوَعِ وَالْيَوْمُ يَوْمُ الرُّضَّعِ قَالَ فَوَاللَّهِ مَا زِلْتُ أَرْمِيهِمْ وَأَعْقِرُ بِهِمْ فَإِذَا رَجَعَ إِلَيَّ فَارِسٌ أَتَيْتُ شَجَرَةً فَجَلَسْتُ فِي أَصْلِهَا ثُمَّ رَمَيْتُهُ فَعَقَرْتُ بِهِ حَتَّی إِذَا تَضَايَقَ الْجَبَلُ فَدَخَلُوا فِي تَضَايُقِهِ عَلَوْتُ الْجَبَلَ فَجَعَلْتُ أُرَدِّيهِمْ بِالْحِجَارَةِ قَالَ فَمَا زِلْتُ کَذَلِکَ أَتْبَعُهُمْ حَتَّی مَا خَلَقَ اللَّهُ مِنْ بَعِيرٍ مِنْ ظَهْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا خَلَّفْتُهُ وَرَائَ ظَهْرِي وَخَلَّوْا بَيْنِي وَبَيْنَهُ ثُمَّ اتَّبَعْتُهُمْ أَرْمِيهِمْ حَتَّی أَلْقَوْا أَکْثَرَ مِنْ ثَلَاثِينَ بُرْدَةً وَثَلَاثِينَ رُمْحًا يَسْتَخِفُّونَ وَلَا يَطْرَحُونَ شَيْئًا إِلَّا جَعَلْتُ عَلَيْهِ آرَامًا مِنْ الْحِجَارَةِ يَعْرِفُهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ حَتَّی أَتَوْا مُتَضَايِقًا مِنْ ثَنِيَّةٍ فَإِذَا هُمْ قَدْ أَتَاهُمْ فُلَانُ بْنُ بَدْرٍ الْفَزَارِيُّ فَجَلَسُوا يَتَضَحَّوْنَ يَعْنِي يَتَغَدَّوْنَ وَجَلَسْتُ عَلَی رَأْسِ قَرْنٍ قَالَ الْفَزَارِيُّ مَا هَذَا الَّذِي أَرَی قَالُوا لَقِينَا مِنْ هَذَا الْبَرْحَ وَاللَّهِ مَا فَارَقَنَا مُنْذُ غَلَسٍ يَرْمِينَا حَتَّی انْتَزَعَ کُلَّ شَيْئٍ فِي أَيْدِينَا قَالَ فَلْيَقُمْ إِلَيْهِ نَفَرٌ مِنْکُمْ أَرْبَعَةٌ قَالَ فَصَعِدَ إِلَيَّ مِنْهُمْ أَرْبَعَةٌ فِي الْجَبَلِ قَالَ فَلَمَّا أَمْکَنُونِي مِنْ الْکَلَامِ قَالَ قُلْتُ هَلْ تَعْرِفُونِي قَالُوا لَا وَمَنْ أَنْتَ قَالَ قُلْتُ أَنَا سَلَمَةُ بْنُ الْأَکْوَعِ وَالَّذِي کَرَّمَ وَجْهَ مُحَمَّدٍ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا أَطْلُبُ رَجُلًا مِنْکُمْ إِلَّا أَدْرَکْتُهُ وَلَا يَطْلُبُنِي رَجُلٌ مِنْکُمْ فَيُدْرِکَنِي قَالَ أَحَدُهُمْ أَنَا أَظُنُّ قَالَ فَرَجَعُوا فَمَا بَرِحْتُ مَکَانِي حَتَّی رَأَيْتُ فَوَارِسَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَخَلَّلُونَ الشَّجَرَ قَالَ فَإِذَا أَوَّلُهُمْ الْأَخْرَمُ الْأَسَدِيُّ عَلَی إِثْرِهِ أَبُو قَتَادَةَ الْأَنْصَارِيُّ وَعَلَی إِثْرِهِ الْمِقْدَادُ بْنُ الْأَسْوَدِ الْکِنْدِيُّ قَالَ فَأَخَذْتُ بِعِنَانِ الْأَخْرَمِ قَالَ فَوَلَّوْا مُدْبِرِينَ قُلْتُ يَا أَخْرَمُ احْذَرْهُمْ لَا يَقْتَطِعُوکَ حَتَّی يَلْحَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ قَالَ يَا سَلَمَةُ إِنْ کُنْتَ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَتَعْلَمُ أَنَّ الْجَنَّةَ حَقٌّ وَالنَّارَ حَقٌّ فَلَا تَحُلْ بَيْنِي وَبَيْنَ الشَّهَادَةِ قَالَ فَخَلَّيْتُهُ فَالْتَقَی هُوَ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ قَالَ فَعَقَرَ بِعَبْدِ الرَّحْمَنِ فَرَسَهُ وَطَعَنَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ فَقَتَلَهُ وَتَحَوَّلَ عَلَی فَرَسِهِ وَلَحِقَ أَبُو قَتَادَةَ فَارِسُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَبْدِ الرَّحْمَنِ فَطَعَنَهُ فَقَتَلَهُ فَوَالَّذِي کَرَّمَ وَجْهَ مُحَمَّدٍ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَتَبِعْتُهُمْ أَعْدُو عَلَی رِجْلَيَّ حَتَّی مَا أَرَی وَرَائِي مِنْ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا غُبَارِهِمْ شَيْئًا حَتَّی يَعْدِلُوا قَبْلَ غُرُوبِ الشَّمْسِ إِلَی شِعْبٍ فِيهِ مَائٌ يُقَالُ لَهُ ذَو قَرَدٍ لِيَشْرَبُوا مِنْهُ وَهُمْ عِطَاشٌ قَالَ فَنَظَرُوا إِلَيَّ أَعْدُو وَرَائَهُمْ فَخَلَّيْتُهُمْ عَنْهُ يَعْنِي أَجْلَيْتُهُمْ عَنْهُ فَمَا ذَاقُوا مِنْهُ قَطْرَةً قَالَ وَيَخْرُجُونَ فَيَشْتَدُّونَ فِي ثَنِيَّةٍ قَالَ فَأَعْدُو فَأَلْحَقُ رَجُلًا مِنْهُمْ فَأَصُکُّهُ بِسَهْمٍ فِي نُغْضِ کَتِفِهِ قَالَ قُلْتُ خُذْهَا وَأَنَا ابْنُ الْأَکْوَعِ وَالْيَوْمُ يَوْمُ الرُّضَّعِ قَالَ يَا ثَکِلَتْهُ أُمُّهُ أَکْوَعُهُ بُکْرَةَ قَالَ قُلْتُ نَعَمْ يَا عَدُوَّ نَفْسِهِ أَکْوَعُکَ بُکْرَةَ قَالَ وَأَرْدَوْا فَرَسَيْنِ عَلَی ثَنِيَّةٍ قَالَ فَجِئْتُ بِهِمَا أَسُوقُهُمَا إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ وَلَحِقَنِي عَامِرٌ بِسَطِيحَةٍ فِيهَا مَذْقَةٌ مِنْ لَبَنٍ وَسَطِيحَةٍ فِيهَا مَائٌ فَتَوَضَّأْتُ وَشَرِبْتُ ثُمَّ أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عَلَی الْمَائِ الَّذِي حَلَّأْتُهُمْ عَنْهُ فَإِذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ أَخَذَ تِلْکَ الْإِبِلَ وَکُلَّ شَيْئٍ اسْتَنْقَذْتُهُ مِنْ الْمُشْرِکِينَ وَکُلَّ رُمْحٍ وَبُرْدَةٍ وَإِذَا بِلَالٌ نَحَرَ نَاقَةً مِنْ الْإِبِلِ الَّذِي اسْتَنْقَذْتُ مِنْ الْقَوْمِ وَإِذَا هُوَ يَشْوِي لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ کَبِدِهَا وَسَنَامِهَا قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ خَلِّنِي فَأَنْتَخِبُ مِنْ الْقَوْمِ مِائَةَ رَجُلٍ فَأَتَّبِعُ الْقَوْمَ فَلَا يَبْقَی مِنْهُمْ مُخْبِرٌ إِلَّا قَتَلْتُهُ قَالَ فَضَحِکَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّی بَدَتْ نَوَاجِذُهُ فِي ضَوْئِ النَّارِ فَقَالَ يَا سَلَمَةُ أَتُرَاکَ کُنْتَ فَاعِلًا قُلْتُ نَعَمْ وَالَّذِي أَکْرَمَکَ فَقَالَ إِنَّهُمْ الْآنَ لَيُقْرَوْنَ فِي أَرْضِ غَطَفَانَ قَالَ فَجَائَ رَجُلٌ مِنْ غَطَفَانَ فَقَالَ نَحَرَ لَهُمْ فُلَانٌ جَزُورًا فَلَمَّا کَشَفُوا جِلْدَهَا رَأَوْا غُبَارًا فَقَالُوا أَتَاکُمْ الْقَوْمُ فَخَرَجُوا هَارِبِينَ فَلَمَّا أَصْبَحْنَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَانَ خَيْرَ فُرْسَانِنَا الْيَوْمَ أَبُو قَتَادَةَ وَخَيْرَ رَجَّالَتِنَا سَلَمَةُ قَالَ ثُمَّ أَعْطَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَهْمَيْنِ سَهْمَ الْفَارِسِ وَسَهْمَ الرَّاجِلِ فَجَمَعَهُمَا لِي جَمِيعًا ثُمَّ أَرْدَفَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَائَهُ عَلَی الْعَضْبَائِ رَاجِعِينَ إِلَی الْمَدِينَةِ قَالَ فَبَيْنَمَا نَحْنُ نَسِيرُ قَالَ وَکَانَ رَجُلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ لَا يُسْبَقُ شَدًّا قَالَ فَجَعَلَ يَقُولُ أَلَا مُسَابِقٌ إِلَی الْمَدِينَةِ هَلْ مِنْ مُسَابِقٍ فَجَعَلَ يُعِيدُ ذَلِکَ قَالَ فَلَمَّا سَمِعْتُ کَلَامَهُ قُلْتُ أَمَا تُکْرِمُ کَرِيمًا وَلَا تَهَابُ شَرِيفًا قَالَ لَا إِلَّا أَنْ يَکُونَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ بِأَبِي وَأُمِّي ذَرْنِي فَلِأُسَابِقَ الرَّجُلَ قَالَ إِنْ شِئْتَ قَالَ قُلْتُ اذْهَبْ إِلَيْکَ وَثَنَيْتُ رِجْلَيَّ فَطَفَرْتُ فَعَدَوْتُ قَالَ فَرَبَطْتُ عَلَيْهِ شَرَفًا أَوْ شَرَفَيْنِ أَسْتَبْقِي نَفَسِي ثُمَّ عَدَوْتُ فِي إِثْرِهِ فَرَبَطْتُ عَلَيْهِ شَرَفًا أَوْ شَرَفَيْنِ ثُمَّ إِنِّي رَفَعْتُ حَتَّی أَلْحَقَهُ قَالَ فَأَصُکُّهُ بَيْنَ کَتِفَيْهِ قَالَ قُلْتُ قَدْ سُبِقْتَ وَاللَّهِ قَالَ أَنَا أَظُنُّ قَالَ فَسَبَقْتُهُ إِلَی الْمَدِينَةِ قَالَ فَوَاللَّهِ مَا لَبِثْنَا إِلَّا ثَلَاثَ لَيَالٍ حَتَّی خَرَجْنَا إِلَی خَيْبَرَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَجَعَلَ عَمِّي عَامِرٌ يَرْتَجِزُ بِالْقَوْمِ تَاللَّهِ لَوْلَا اللَّهُ مَا اهْتَدَيْنَا وَلَا تَصَدَّقْنَا وَلَا صَلَّيْنَا وَنَحْنُ عَنْ فَضْلِکَ مَا اسْتَغْنَيْنَا فَثَبِّتْ الْأَقْدَامَ إِنْ لَاقَيْنَا وَأَنْزِلَنْ سَکِينَةً عَلَيْنَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ هَذَا قَالَ أَنَا عَامِرٌ قَالَ غَفَرَ لَکَ رَبُّکَ قَالَ وَمَا اسْتَغْفَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِإِنْسَانٍ يَخُصُّهُ إِلَّا اسْتُشْهِدَ قَالَ فَنَادَی عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ وَهُوَ عَلَی جَمَلٍ لَهُ يَا نَبِيَّ اللَّهِ لَوْلَا مَا مَتَّعْتَنَا بِعَامِرٍ قَالَ فَلَمَّا قَدِمْنَا خَيْبَرَ قَالَ خَرَجَ مَلِکُهُمْ مَرْحَبٌ يَخْطِرُ بِسَيْفِهِ وَيَقُولُ قَدْ عَلِمَتْ خَيْبَرُ أَنِّي مَرْحَبُ شَاکِي السِّلَاحِ بَطَلٌ مُجَرَّبُ إِذَا الْحُرُوبُ أَقْبَلَتْ تَلَهَّبُ قَالَ وَبَرَزَ لَهُ عَمِّي عَامِرٌ فَقَالَ قَدْ عَلِمَتْ خَيْبَرُ أَنِّي عَامِرٌ شَاکِي السِّلَاحِ بَطَلٌ مُغَامِرٌ قَالَ فَاخْتَلَفَا ضَرْبَتَيْنِ فَوَقَعَ سَيْفُ مَرْحَبٍ فِي تُرْسِ عَامِرٍ وَذَهَبَ عَامِرٌ يَسْفُلُ لَهُ فَرَجَعَ سَيْفُهُ عَلَی نَفْسِهِ فَقَطَعَ أَکْحَلَهُ فَکَانَتْ فِيهَا نَفْسُهُ قَالَ سَلَمَةُ فَخَرَجْتُ فَإِذَا نَفَرٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُونَ بَطَلَ عَمَلُ عَامِرٍ قَتَلَ نَفْسَهُ قَالَ فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا أَبْکِي فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ بَطَلَ عَمَلُ عَامِرٍ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ قَالَ ذَلِکَ قَالَ قُلْتُ نَاسٌ مِنْ أَصْحَابِکَ قَالَ کَذَبَ مَنْ قَالَ ذَلِکَ بَلْ لَهُ أَجْرُهُ مَرَّتَيْنِ ثُمَّ أَرْسَلَنِي إِلَی عَلِيٍّ وَهُوَ أَرْمَدُ فَقَالَ لَأُعْطِيَنَّ الرَّايَةَ رَجُلًا يُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ أَوْ يُحِبُّهُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ قَالَ فَأَتَيْتُ عَلِيًّا فَجِئْتُ بِهِ أَقُودُهُ وَهُوَ أَرْمَدُ حَتَّی أَتَيْتُ بِهِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَبَسَقَ فِي عَيْنَيْهِ فَبَرَأَ وَأَعْطَاهُ الرَّايَةَ وَخَرَجَ مَرْحَبٌ فَقَالَ قَدْ عَلِمَتْ خَيْبَرُ أَنِّي مَرْحَبُ شَاکِي السِّلَاحِ بَطَلٌ مُجَرَّبُ إِذَا الْحُرُوبُ أَقْبَلَتْ تَلَهَّبُ فَقَالَ عَلِيٌّ أَنَا الَّذِي سَمَّتْنِي أُمِّي حَيْدَرَهْ کَلَيْثِ غَابَاتٍ کَرِيهِ الْمَنْظَرَهْ أُوفِيهِمُ بِالصَّاعِ کَيْلَ السَّنْدَرَهْ قَالَ فَضَرَبَ رَأْسَ مَرْحَبٍ فَقَتَلَهُ ثُمَّ کَانَ الْفَتْحُ عَلَی يَدَيْهِ قَالَ إِبْرَاهِيمُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَی حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ عَنْ عِکْرِمَةَ بْنِ عَمَّارٍ بِهَذَا الْحَدِيثِ بِطُولِهِ و حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ الْأَزْدِيُّ السُّلَمِيُّ حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ عِکْرِمَةَ بْنِ عَمَّارٍ بِهَذَا

ابوبکر بن ابی شیبہ، ہاشم بن قاسم، اسحاق بن ابراہیم، ابوعامر عقدی، عکرمہ بن عمار، عبداللہ بن عبدالرحمن دارمی، ابوعلی حنفی، عبیداللہ بن عبدالمجید، عکرمہ، ابن عمار، ایاس بن سلمہ، حضرت سلمہ ؓ فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ حدیبیہ کے مقام پر آئے اور ہم چودہ سو کی تعداد میں تھے اور ہمارے پاس پچاس بکریاں تھیں وہ سیراب نہیں ہو رہی تھیں راوی کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کنوئیں کے کنارے بیٹھ گئے یا تو آپ ﷺ نے دعا فرمائی اور یا اس میں آپ ﷺ نے اپنا لعاب دہن ڈالا راوی کہتے ہیں کہ پھر اس کنوئیں میں جوش آگیا پھر ہم نے اپنے جانوروں کو بھی سیراب کیا اور خود ہم بھی سیراب ہوگئے پھر رسول اللہ ﷺ نے ہمیں درخت کی جڑ میں بیٹھ کر بیعت کے لئے بلایا راوی کہتے ہیں کہ لوگوں میں سے سب سے پہلے میں نے بیعت کی پھر اور لوگوں نے بیعت کی یہاں تک کہ جب آدھے لوگوں نے بیعت کرلی تو آپ ﷺ نے فرمایا ابوسلمہ بیعت کرو میں نے عرض کیا اللہ کے رسول میں تو سب سے پہلے بیعت کرچکا ہوں آپ ﷺ نے فرمایا پھر دوبارہ کرلو اور رسول اللہ ﷺ نے مجھے دیکھا کہ میرے پاس کوئی اسلحہ وغیرہ نہیں ہے تو رسول اللہ ﷺ نے مجھے ایک ڈھال عطا فرمائی (اس کے بعد) پھر بیعت کا سلسلہ شروع ہوگیا جب سب لوگوں نے بیعت کرلی تو آپ ﷺ نے فرمایا اے سلمہ کیا تو نے بیعت نہیں کی میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ لوگوں میں سب سے پہلے تو میں نے بیعت کی اور لوگوں کے درمیان میں بھی میں نے بیعت کی آپ ﷺ نے فرمایا پھر کرلو حضرت سلمہ ؓ کہتے ہیں کہ میں نے تیسری مرتبہ بیعت کی پھر آپ ﷺ نے مجھے فرمایا! اے سلمہ ؓ وہ ڈھال کہاں ہے جو میں نے تجھے دی تھی میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ میرے چچا عامر کے پاس کوئی اسلحہ وغیرہ نہیں تھا وہ ڈھال میں نے ان کو دے دی حضرت سلمہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ مسکرا پڑے اور فرمایا کہ تو بھی اس آدمی کی طرح ہے کہ جس نے سب سے پہلے دعا کی تھی اے اللہ مجھے وہ دوست عطا فرما جو مجھے میری جان سے زیادہ پیارا ہو پھر مشرکوں نے ہمیں صلح کا پیغام بھیجا یہاں تک کہ ہر ایک جانب کا آدمی دوسری جانب جانے لگا اور ہم نے صلح کرلی حضرت سلمہ کہتے ہیں کہ میں حضرت طلحہ بن عبیداللہ کی خدمت میں تھا اور میں ان کے گھوڑے کو پانی پلاتا تھا اور اسے چرایا کرتا اور ان کی خدمت کرتا اور کھانا بھی ان کے ساتھ ہی کھاتا کیونکہ میں اپنے گھر والوں اور اپنے مال و اسباب کو چھوڑ کر اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی طرف ہجرت کر آیا تھا پھر جب ہماری اور مکہ والوں کی صلح ہوگئی اور ایک دوسرے سے میل جول ہونے لگا تو میں ایک درخت کے پاس آیا اور اس کے نیچے سے کانٹے وغیرہ صاف کر کے اس کی جڑ میں لیٹ گیا اور اسی دوران مکہ کے مشرکوں میں سے چار آدمی آئے اور رسول اللہ ﷺ کو برا بھلا کہنے لگے مجھے ان مشرکوں پر بڑا غصہ آیا پھر میں دوسرے درخت کی طرف آگیا اور انہوں نے اپنا اسلحہ لٹکایا اور لیٹ گئے وہ لوگ اس حال میں تھے کہ اسی دوران وادی کے نشیب میں سے ایک پکارنے والے نے پکارا اے مہاجرین ابن زقیم شہید کر دئے گئے میں نے یہ سنتے ہی اپنی تلوار سیدھی کی اور پھر میں نے ان چاروں پر اس حال میں حملہ کیا کہ وہ سو رہے تھے اور ان کا اسلحہ میں نے پکڑ لیا اور ان کا ایک گٹھا بنا کر اپنے ہاتھ میں رکھا پھر میں نے کہا قسم ہے اس ذات کی کہ جس نے حضرت محمد ﷺ کے چہرہ اقدس کو عزت عطا فرمائی تم میں سے کوئی اپنا سر نہ اٹھائے ورنہ میں تمہارے اس حصہ میں ماروں گا کہ جس میں دونوں آنکھیں ہیں راوی کہتے ہیں کہ پھر میں ان کو کھینچتا ہوا رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں لے کر حاضر ہوا اور میرے چچا حضرت عامر ؓ بھی قبیلہ عبلات کے آدمی کو جسے مکرز کہا جاتا ہے اس کے ساتھ مشرکوں کے ستر آدمیوں کو گھسیٹ کر رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں لائے حضرت عامر ؓ جھول پوش گھوڑے پر سوار تھے رسول اللہ ﷺ نے ان کی طرف دیکھا اور پھر فرمایا ان کو چھوڑ دو کیونکہ جھگڑے کی ابتداء بھی انہی کی طرف سے ہوئی اور تکرار بھی انہی کی طرف سے، الغرض رسول اللہ ﷺ نے ان کو معاف فرما دیا اور اللہ تعالیٰ نے یہ آیت مبارکہ نازل فرمائی اور وہ اللہ کہ جس نے ان کے ہاتھوں کو تم سے روکا اور تمہارے ہاتھوں کو ان سے روکا مکہ کی وادی میں بعداس کے کہ تم کو ان پر فتح اور کامیابی دے دی تھی "۔ پھر ہم مدینہ منورہ کی طرف نکلے راستہ میں ہم ایک جگہ اترے جس جگہ ہمارے اور بنی لحیان کے مشر کون کے درمیان ایک پہاڑ حائل تھا رسول اللہ ﷺ نے اس آدمی کے لئے مغفرت کی دعا فرمائی جو آدمی اس پہاڑ پر چڑھ کر نبی ﷺ اور آپ ﷺ کے صحابہ کے لئے پہرہ دے حضرت سلمہ فرماتے ہیں کہ میں اس پہاڑ پر دو یا تین مرتبہ چڑھا پھر ہم مدینہ منورہ پہنچ گئے رسول اللہ ﷺ نے اپنے اونٹ رباح کے ساتھ بھیج دیئے جو کہ رسول اللہ ﷺ کا غلام تھا میں بھی ان اونٹوں کے ساتھ حضرت ابوطلحہ کے گھوڑے پر سوار ہو کر نکلا جب صبح ہوئی تو عبدالرحمن فراری نے رسول اللہ ﷺ کے اونٹوں کو لوٹ لیا اور ان سب اونٹوں کو ہانک کرلے گیا اور اس نے آپ ﷺ کے چرواہے کو قتل کردیا حضرت سلمہ کہتے ہیں کہ میں نے کہا اے رباح یہ گھوڑا پکڑ اور اسے حضرت طلحہ بن عبیداللہ کو پہنچا دے اور رسول اللہ کو خبر دے کہ مشرکوں نے آپ ﷺ کے اونٹوں کو لوٹ لیا ہے حضرت سلمہ کہتے ہیں کہ پھر میں ایک ٹیلے پھر کھڑا ہوا اور میں نے اپنا رخ مدینہ منورہ کی طرف کر کے بہت بلند آواز سے پکارا یا صباحاہ پھر میں ان لٹیروں کے پیچھے ان کو تیر مارتا ہوا اور رجز پڑھتے ہوئے نکلا میں اکوع کا بیٹا ہوں اور آج کا دن ان ذلیلوں کی بربادی کا دن ہے۔ میں ان میں سے ایک ایک آدمی سے ملتا اور اسے تیر مارتا یہاں تک کہ تیر ان کے کندھے سے نکل جاتا اور میں کہتا کہ یہ وار پکڑ، میں اکوع کا بیٹا ہوں اور آج کا دن ان ذلیلوں کی بربادی کا دن ہے۔ حضرت سلمہ کہتے ہیں کہ اللہ کی قسم میں ان کو لگاتار تیر مارتا رہا اور ان کو زخمی کرتا رہا تو جب ان میں سے کوئی سوار میری طرف لوٹتا تو میں درخت کے نیچے آ کر اس درخت کی جڑ میں بیٹھ جاتا پھر میں اس کو ایک تیر مارتا جس کی وجہ سے وہ زخمی ہوجاتا یہاں تک کہ وہ لوگ پہاڑ کے تنگ راستہ میں گھسے اور میں پہاڑ پر چڑھ گیا اور وہاں سے میں نے ان کو پتھر مارنے شروع کر دئے۔ حضرت سلمہ کہتے ہیں کہ میں لگاتار ان کا پیچھا کرتا رہا یہاں تک کہ کوئی اونٹ جو اللہ نے پیدا کیا ہو اور وہ رسول اللہ ﷺ کی سواری کا ہو ایسا نہیں ہوا کہ اسے میں نے اپنی پشت کے پیچھے نہ چھوڑ دیا ہو حضرت سلمہ کہتے ہیں پھر میں نے ان کے پیچھے تیر پھینکے یہاں تک کہ ان لوگوں نے ہلکا ہونے کی خاطر تیس چادریں اور تیس نیزوں سے زیادہ پھینک دیئے سوائے اس کے کہ وہ لوگ جو چیز بھی پھینکتے میں پتھروں سے میل کی طرح اس پر نشان ڈال دیتا کہ رسول اللہ ﷺ اور آپ ﷺ کے صحابہ پہچان لیں یہاں تک کہ وہ ایک تنگ گھاٹی پر آگئے اور فلاں بن بدر فرازی بھی ان کے پاس آگیا سب لوگ دوپہر کا کھانا کھانے کے لئے بیٹھ گئے اور میں پہاڑ کی چوٹی پر چڑھ کر بیٹھ گیا فرازی کہنے لگا کہ یہ کون سا آدمی ہمیں دیکھ رہا ہے لوگوں نے کہا اس آدمی نے ہمیں بڑا تنگ کر رکھا ہے اللہ کی قسم اندھیری رات سے ہمارے ساتھ ہے اور لگاتار ہمیں تیر مار رہا ہے یہاں تک کہ ہمارے پاس جو کچھ بھی تھا اس نے سب کچھ چھین لیا ہے فرازی کہنے لگا کہ تم میں سے چار آدمی اس کی طرف کھڑے ہوں اور اسے مار دیں حضرت سلمہ کہتے ہیں ان میں سے چار آدمی میری طرف پہاڑ پر چڑھے تو جب وہ اتنی دور تک پہنچ گئے جہاں میری بات سن سکیں حضرت سلمہ کہتے ہیں کہ میں نے کہا کیا تم مجھے پہچانتے ہو انہوں نے کہا نہیں اور تم کون ہو میں نے جواب میں کہا میں سلمہ بن اکوع ہوں اور قسم ہے اس ذات کی جس نے حضرت محمد ﷺ کے چہرہ اقدس کو بزرگی عطا فرمائی ہے میں تم میں سے جسے چاہوں مار دوں اور تم میں سے کوئی مجھے نہیں مار سکتا۔ ان میں سے ایک آدمی کہنے لگا کہ ہاں لگتا تو ایسے ہی ہے پھر وہ سب وہاں سے لوٹ پڑے اور میں ابھی تک اپنی جگہ سے چلا ہی نہیں تھا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کے سواروں کو دیکھ لیا جو کہ درختوں میں گھس گئے حضرت سلمہ کہتے ہیں کہ ان میں سب سے آگے حضرت اخرم اسدی ؓ تھے اور ان کے پیچھے حضرت ابوقتادہ ؓ تھے اور ان کے پیچھے حضرت مقداد بن اسور کندی تھے حضرت سلمہ کہتے ہیں کہ میں نے جا کر اخرم کے گھوڑے کی لگام پکڑی وہ لٹیرے بھاگ پڑے میں نے کہا اے اخرم ان سے ذرا بچ کے رہنا ایسا نہ ہو کہ وہ تمہیں مار ڈالیں جب تک کہ رسول اللہ ﷺ اور آپ ﷺ کے صحابہ نہ آجائیں۔ اخرم کہنے لگے اے ابوسلمہ اگر تم اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتے ہو اور اس بات کا یقین رکھتے ہو کہ جنت حق ہے اور دوزخ حق ہے تو تم میرے اور میری شہادت کے درمیان رکاوٹ نہ ڈالو۔ حضرت سلمہ ؓ کہتے ہیں کہ میں نے ان کو چھوڑ دیا اور پھر اخرم کا مقابلہ عبدالرحمن فرازی سے ہوا۔ اخرم نے عبدالرحمن کے گھوڑے کو زخمی کردیا اور پھر عبدالرحمن نے اخرم کو برچھی مار کر شہید کردیا اور اخرم کے گھوڑے پر چڑھ کر بیٹھ گیا اسی دوران میں رسول اللہ ﷺ کے شہسوار حضرت ابوقتادہ آگئے (جب انہوں نے یہ منظر دیکھا) تو حضرت ابوقتادہ نے عبدالرحمن فرازی کو بھی برچھی مار کر قتل کردیا ( اور پھر فرمایا) قسم ہے اس ذات کی کہ جس نے حضرت محمد ﷺ کے چہرہ اقدس کو بزرگی عطا فرمائی ہے میں ان کے تعاقب میں لگا رہا اور میں اپنے پاؤں سے ایسے بھاگ رہا تھا کہ مجھے اپنے پیچھے حضرت محمد ﷺ کا کوئی صحابی بھی دکھائی نہیں دے رہا تھا اور نہ ہی ان کا گرد و غبار یہاں تک کہ وہ لیٹرے سورج غروب ہونے سے پہلے ایک گھاٹی کی طرف آئے جس میں پانی تھا جس گھاٹی کو ذی قرد کہا جاتا تھا تاکہ وہ لوگ اسی گھاٹی سے پانی پئیں کیونکہ وہ پیاسے تھے حضرت سلمہ کہتے ہیں کہ انہوں نے مجھے دیکھا اور میں ان کے پیچھے دوڑتا ہوا چلا آ رہا تھا بالآخر میں نے ان کو پانی سے ہٹایا وہ اس سے ایک قطرہ بھی نہ پی سکے۔ حضرت سلمہ ؓ کہتے ہیں کہ اب وہ کسی اور گھاٹٰ کی طرف نکلے میں بھی ان کے پیچھے بھاگا اور ان میں سے ایک آدمی کو پا کر میں نے اس کے شانے کی ہڈی میں ایک تیر مارا، میں نے کہا پکڑ اس کو اور میں اکوع کا بیٹا ہوں اور آج کا دن کمینوں کی بربادی کا دن ہے۔ وہ کہنے لگا اس کی ماں اس پر روئے کیا یہ وہی اکوع تو نہیں جو صبح کو میرے ساتھ تھا میں نے کہا ہاں اے اپنی جان کے دشمن جو صبح کے وقت تیرے ساتھ تھا۔ حضرت سلمہ ؓ فرماتے ہیں کہ انہوں نے دو گھوڑے ایک گھاٹی پر چھوڑ دیئے تو میں ان دونوں گھوڑوں کو ہنکا کر رسول اللہ ﷺ کی طرف لے آیا حضرت سلمہ ؓ کہتے ہیں کہ وہاں عامر سے میری ملاقات ہوئی ان کے پاس ایک چھاگل تھا جس میں دودھ تھا اور ایک مشکیزے میں پانی تھا۔ پانی سے میں نے وضو کیا اور دودھ پی لیا پھر میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں آیا اور آپ ﷺ اسی پانی والی جگہ پر تھے جہاں سے میں نے لیٹروں کو بھگا دیا تھا اور میں نے دیکھا کہ رسول اللہ ﷺ نے وہ اور تمام چیزیں جو میں نے مشرکوں سے چھین لی تھیں اور سب نیزے اور چادریں لے لیں اور حضرت بلال نے ان اونٹوں میں جو میں نے لٹیروں سے چھینے تھے ایک اونٹ کو ذبح کیا اور اس کی کلیجی اور کوہان کو رسول اللہ ﷺ کے لئے بھونا۔ حضرت سلمہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ مجھے اجازت مرحمت فرمائیں تاکہ میں لشکر میں سے سو آدمیوں کا انتخاب کروں اور پھر میں ان لیٹروں کا مقابلہ کروں اور جب تک میں ان کو قتل نہ کر ڈالوں اس وقت تک نہ چھوڑوں کہ وہ جا کر اپنی قوم کو خبر دیں حضرت سلمہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ہنس پڑے یہاں تک کہ آگ کی روشنی میں آپ ﷺ کی داڑھیں مبارک ظاہر ہوگئیں آپ ﷺ نے فرمایا اے سلمہ اب تو وہ غطفان کے علاقہ میں ہوں گے اسی دوران علاقہ غطفان سے ایک آدمی آیا اور وہ کہنے لگا کہ فلاں آدمی نے ان کے لئے ایک اونٹ ذبح کیا تھا اور ابھی اس اونٹ کی کھال ہی اتار پائے تھے کہ انہوں نے کچھ غبار دیکھا تو وہ کہنے لگے کہ لوگ آگئے وہ لوگ وہاں سے بھی بھاگ کھڑے ہوئے تو جب صبح ہوئی تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ آج کے دن ہمارے بہترین سواروں میں سے بہتر سوار حضرت قتادہ ہیں اور پیادوں میں سب سے بہتر حضرت سلمہ ہیں، پھر رسول اللہ ﷺ نے مجھے دو حصے عطا فرمائے اور ایک سوار کا حصہ اور ایک پیادہ کا حصہ اور دونوں حصے اکٹھے مجھے ہی عطا فرمائے پھر رسول اللہ ﷺ نے غضباء اونٹنی پر مجھے اپنے پیچھے بٹھایا اور ہم سب مدینہ منورہ واپس آگئے دوران سفر انصار کا ایک آدمی جس سے دوڑنے میں کوئی آگے نہیں بڑھ سکتا تھا وہ کہنے لگا کیا کوئی مدینہ تک میرے ساتھ دوڑ لگانے والا ہے اور وہ بار بار یہی کہتا رہا۔ حضرت سلمہ ؓ کہتے ہیں جب میں نے اس کا چیلنچ سنا تو میں نے کہا کیا تجھے کسی بزرگ کی بزرگی کا لحاظ نہیں اور کیا تو کسی بزرگ سے ڈرتا نہیں اس انصاری شخص نے کہا نہیں، سوائے رسول اللہ ﷺ کے۔ حضرت سلمہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ میرے ماں باپ آپ ﷺ پر قربان مجھے اجازت عطا فرمائیں تاکہ میں اس آدمی سے دوڑ لگاؤں آپ ﷺ نے فرمایا اگر تو چاہتا ہے تو حضرت سلمہ ؓ کہتے ہیں کہ میں نے اس انصاری سے کہا کہ میں تیری طرف آتا ہوں اور میں نے اپنا پاؤں ٹیڑھا کیا پھر میں کود پڑا اور دوڑنے لگا اور پھر جب ایک یا دو چڑھائی باقی رہ گئی تو میں نے سانس لیا پھر میں اس کے پیچھے دوڑا پھر جب ایک یا دو چڑھائی باقی رہ گئی تو پھر میں نے سانس لیا پھر میں دوڑا یہاں تک کہ میں نے اس کے دونوں شانوں کے درمیان میں ایک گھونسا مارا اور میں نے کہا اللہ کی قسم میں آگے بڑھ گیا اور پھر اس سے پہلے مدینہ منورہ پہنچ گیا حضرت سلمہ ؓ کہتے ہیں کہ اللہ کی قسم ابھی ہم مدینہ منورہ میں صرف تین راتیں ہی ٹھہرے تھے کہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ خیبر کی طرف نکل پڑے حضرت سلمہ کہتے ہیں کہ میرے چچا حضرت عامر ؓ نے رجزیہ اشعار پڑھنے شروع کردیے۔ اللہ کی قسم اگر اللہ کی مدد نہ ہوتی تو ہمیں ہدایت نہ ملتی اور نہ ہم صدقہ کرتے اور نہ ہی ہم نماز پڑھتے اور ہم تیرے فضل سے مستغنی نہیں ہیں اور تو ہمیں ثابت قدم رکھ جب ہم دشمن سے ملیں اور اے اللہ ہم پر سکینت نازل فرما۔ جب یہ رجزیہ اشعار سنے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا یہ کون ہے انہوں نے عرض کیا میں عامر ہوں آپ ﷺ نے فرمایا تیرا رب تیری مغفرت فرمائے۔ راوی کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب کسی انسان کے لئے خاص طور پر مغفرت کی دعا فرماتے تو وہ ضرور شہادت کا درجہ حاصل کرتا۔ حضرت سلمہ ؓ کہتے ہیں کہ حضرت عمر ؓ بن خطاب جب اپنے اونٹ پر تھے کہ بلند آواز سے پکارا اے اللہ کے نبی آپ ﷺ نے ہمیں عامر سے کیوں نہ فائدہ حاصل کرنے دیا آپ ﷺ نے فرمایا جب ہم خیبر آئے تو ان کا بادشاہ مرحب اپنی تلوار لہراتا ہوا نکلا اور کہتا ہے، خیبر جانتا ہے کہ میں مرحب ہوں اسلحہ سے مسلح، بہادر تجربہ کار ہوں جس وقت جنگ کی آگ بھڑکنے لگتی ہے۔ حضرت سلمہ کہتے ہیں کہ یہ میرے چچا عامر اس کے مقابلے کے لئے نکلے اور انہوں نے بھی یہ رجزیہ اشعار پڑھے خیبر جانتا ہے کہ میں عامر ہوں اسلحہ سے مسلح اور بےخوف جنگ میں گھسنے والا ہوں۔ حضرت سلمہ کہتے ہیں کہ عامر اور مرحب دونوں کی ضربیں مختلف طور پر پڑنے لگیں مرحب کی تلوار عامر کی ڈھال پر لگی اور عامر ؓ نے نیچے سے مرحب کو تلوار ماری تو حضرت عامر کی اپنی تلوار خود اپنے ہی لگ گئی جس سے ان کہ شہ رگ کٹ گئی اور اسی نتیجہ میں وہ شہید ہوگئے۔ حضرت سلمہ ؓ کہتے ہیں کہ میں نکلا تو میں نے نبی ﷺ کے چند صحابہ ؓ کو دیکھا وہ کہنے لگے حضرت عامر کا عمل ضائع ہوگیا انہوں نے اپنے آپ کو خود مار ڈالا ہے۔ حضرت سلمہ کہتے ہیں نبی ﷺ کی خدمت میں روتا ہوا آیا اور میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ عامر کا عمل ضائع ہوگیا؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا یہ کس نے کہا ہے۔ میں نے عرض کیا آپ ﷺ کے صحابہ میں سے کچھ لوگوں نے کہا ہے آپ ﷺ نے فرمایا جس نے بھی کہا ہے جھوٹ کہا ہے بلکہ عامر کے لئے دگنا اجر ہے پھر آپ ﷺ نے مجھے حضرت علی ؓ کی طرف بھیجا ان کی آنکھ دکھ رہی تھی آپ ﷺ نے فرمایا میں جھنڈا ایسے آدمی کو دوں گا کہ جو اللہ اور اس کے رسول سے محبت رکھتا ہو یا اللہ اور اس کا رسول اس سے محبت رکھتے ہوں حضرت سلمہ ؓ کہتے ہیں کہ میں نے علی کو پکڑ کر آپ ﷺ کی خدمت میں لے کر آیا کیونکہ علی ؓ کی آنکھیں دکھ رہی تھیں آپ ﷺ نے حضرت علی ؓ کی آنکھوں میں اپنا لعاب دہن لگایا تو ان کی آنکھیں اسی وقت ٹھیک ہوگئیں۔ آپ ﷺ نے ان کو جھنڈا عطا فرمایا اور مرحب یہ کہتا ہوا نکلا خیبر جانتا ہے کہ میں مرحب ہوں اسلحہ سے مسلح، بہادر تجربہ کار ہوں جب جنگ کی آگ بھڑکنے لگتی ہے۔ تو پھر حضرت علی ؓ نے بھی جواب میں کہا کہ میں وہ ہوں کہ میری ماں نے میرا نام حیدر رکھا ہے اس شیر کی طرح جو جنگلوں میں ڈراؤنی صورت ہوتا ہے۔ میں لوگوں کو ایک صاع کے بدلہ اس سے بڑا پیمانہ دیتا ہوں۔ حضرت سلمہ ؓ کہتے ہیں کہ پھر حضرت علی ؓ نے مرحب کے سر پر ایک ضرب لگائی تو وہ قتل ہوگیا پھر خیبر حضرت علی ؓ کے ہاتھوں پر فتح ہوگیا۔ ایک دوسری سند کے ساتھ حضرت عکرمہ بن عمار نے یہ حدیث اس حدیث سے بھی زیادہ لمبی نقل کی ہے دوسری سند کے ساتھ عکرمہ بن عمار سے اسی طرح روایت منقول ہے۔

It has been narrated on the authority of Ibn Salama. He heard the tradition from his father who said: We arrived at Hudaibiya with the Messenger of Allah ﷺ and we were fourteen hundred in number. There were fifty goats for them which could not be watered (by the small quantity of water in the local well). So, the Messenger of Allah ﷺ sat on the brink of the well. Either he prayed or spat into the well The water welled up. We drank and watered (the beasts as well). Then the Messenger of Allah ﷺ called us to take the vow of allegiance, as he was sitting at the base of a tree. I was the first man to take the vow. Then other people took the vow. When half the number of people had done so, he said to me: You take the vow, Salama. I said: I was one of those who took the vow in the first instance. He said: (You may do) again. Then the Messenger of Allah ﷺ saw that I was without weapons. He gave me a big or a small shield. Then he continued to administer vows to the people until it was the last batch of them. He said (to me): Wont you swear allegiance, Salama? I said: Messenger of Allah, I took the oath with the first batch of the people and then again when you were in the middle of the people. He said: (Doesnt matter), you may (do so) again. So I took the oath of allegiance thrice. Then he said to me: Salama, where is the shield which I gave to thee? I said: Messenger of Allah, my uncle Amir met me and he was without any weapons. So I gave the shield to him. The Messenger of Allah ﷺ laughed and said: You are like a person of the days gone by who said: O God. I seek a friend who is dearer to me than myself. (When all Companions had sworn allegiance to the Holy Prophet), the polytheists sent messages of peace, until people could move from our camp to that of the Makkahns and vice versa. Finally, the peace treaty was concluded. I was a dependant of Talha bin Ubaidullah (RA) . I watered his horse, rubbed its back. I served Talha (doing odd jobs for him) and partook from his food. I had left my family and my property as an emigrant in the cause of Allah and His Messenger (may peace be uron him). When we and the people of Makkah had concluded a peace treaty and the people of one side began to mix with those of the other, I came to a tree, swept away its thorns and lay down (for rest) at its base; (while I lay there), four of the polytheists from the Makkahns came to me and began to talk ill of the Messenger of Allah ﷺ . I got enraged with them and moved to another tree. They hung their weapons (to the branches of the tree) and lay down (for rest). (While they lay there), somebody from the lower part of the valley cried out: Run up, O Muhajirs! Ibn Zunaim has been murdered. I drew my sword and attacked these four while they were asleep. I seized their arms and collected them up in my hand, and said: By the Being Who has conferred honour upon Muhammad, none of you shall raise his head, else I will smite his face. (Then) I came driving them along to the Holy Prophet ﷺ . (At the same time) my uncle Amir came (to him) with a man from Abalat called Mikraz. Amir was dragging him on a horse with a thick covering on its back along with seventy polytheists. The Messenger of Allah ﷺ cast a glance at them and said: Let them go (so that) they may prove guilty of breach of trust more than once (before we take action against them). So the Messenger of Allah ﷺ forgave them. On this occasion. God revealed the Quranic verse: "It is He Who restrained their hands from you and your hands from them in the valley of Makkah after He had granted you a victory over them" (xlviii. 24). Then we moved returning to Madinah, and halted at a place where there was a mountain between us and Banu Lihyan who were polytheists. The Messenger of Allah ﷺ asked Gods forgiveness for one who ascended the mountain at night to act as a scout for the Messenger of Allah ﷺ and his Companions. I ascended (that mountain) twice or thrice that night. (At last) we reached Madinah. The Messenger of Allah ﷺ sent his camels with his slave, Rabah, and I was with him. I (also) went to the pasture with the horse of Talha along with the camels. When the day dawned, Abdul Rahman al-Fazari made a raid and drove away all the camels of the Messenger of Allah ﷺ , and killed the man who looked after them. I said: Rabah, ride this horse, take it to Talha bin Ubaidullah and inform the Messenger of Allah ﷺ that the polytheists have made away with his camels. Then I stood upon a hillock and turning my face to Madinah, shouted thrice: Come to our help. Then I set out in pursuit of the raiders, shooting at them with arrows and chanting a (self-eulogatory) verse in the Iambic metre: I am the son of al-Akwa And today is the day of defeat for the mean. I would overtake a man from them, shoot at him an arrow which, piercing through the saddle, would reach his shoulder. and I would say: Take it, chanting at the same time the verse And I am the son of al-Akwa And tody is the day of defeat for the mean. By God, I continued shooting at them and hamstringing their animals. Whenever a horseman turned upon me, I would come to a tree and (hide myself) sitting at its base. Then I would shoot at him and hamstring his horse. (At last) they entered a narrow mountain gorge. I ascended that mountain and held them at bay throwing stones at them. I continued to chase them in this way until I got all the camels of the Messenger of Allah ﷺ released and no camel was left with them. They left me; then I followed them shooting at them (continually) until they dropped more than thirty mantles and thirty lances, lightening their burden. On everything they dropped, I put a mark with the help of (a piece of) stone so that the Messenger of Allah ﷺ and his Companions might recognise them (that it was booty left by the enemy). (They went on) until they came to a narrow valley when so and so, son of Badr al-Fazari joined them. They (now) sat down to take their breakfast and I sat on the top of a tapering rock. Al-Fazari said: Who is that fellow I am seeing? They said: This fellow has harassed us. By God, he has not left us since dusk and has been (continually) shooting at us until he has snatched everything from our hands. He said: Four of you should make a dash at him (and kill him). (Accordingly), four of them ascended the mountain coming towards me. When it became possible for me to talk to them, I said: Do you recognise me? They said: No. Who are thou? I said: I am Salama, son of al-Akwa. By the Being Who has honoured the countenance of Muhammad ﷺ I can kill any of you I like but none of you will be able to kill me. One of them said: I think (he is right). So they returned. I did not move from my place until I saw the horsemen of the Messenger of Allah ﷺ , who came riding through the trees. Lo! the foremost among them was Akhram al-Asadi. Behind him was Abu Qatadah (RA) al-Ansari and behind him was al-Miqdad bin al-Aswad al-Kindi. I caught hold of the rein of Akhrams horse. Seeing this they (the raiders) fled. I said (to Akhram): Akhram, guard yourself against them until Allahs Messenger ﷺ and his Companions join you. He said: O Salama, if you believe In Allah and the Day of Judgment and (if) you kaow that Paradise is a reality and Hell is a reality, you should not stand between me and martyrdom, so I let him go. Akhram and Abdul Rahman (Fazari) met in combat. Akhram hamstrung Abdul Rahmans horse and the latter struck him with his lance and killed him. Abdul Rabman turned about riding Akhrams horse. Abu Qatadah (RA), a horse-man of the Messenger of Allah ﷺ , met Abdul Rahman (in combat), smote him with his lance and killed him. By the Being Who honoured the countenance of Muhammad ﷺ , I followed them running on my feet (so fast) that I couldnt see behind me the Companions of Muhammad ﷺ , nor any dust raised by their horses. (I followed them) until before sunset they reached a valley which had a spring of water, which was called Dhu Qarad, so that they could have a drink, for they were thirsty. They saw me running towards them. I turned them out of the valley before they could drink a drop of its water. They left the valley and ran down a slope. I ran (behind them), overtook a man from them, shot him with an arrow through the shoulder blade and said: Take this. I am the son of al-Akwa; and today is the day of annihilation for the people who are mean. The fellow (who was wounded) said: May his mother weep over him! Are you the Akwa who has been chasing us since morning? I said: Yes, O enemy of thyself, the same Akwa. They left two horses dead tired on the hillock and I came dragging them along to the Messenger of Allah ﷺ . I met Amir who had with him a container having milk diluted with water and a container having water. I performed ablution with the water and drank the milk. Then I came to the Messenger of Allah ﷺ while he was at (the spring of) water from which I had driven them away. The Messenger of Allah ﷺ had captured those camels and everything else I had captured and all the lances and mantles I had snatched from the polytheists and Bilal (RA) had slaughtered a she-camel from the camels I had seized from the people, and was roasting its liver and hump for the Messenger of Allah ﷺ . I said: Messenger of Allah, let me select from our people one hundred men and I will follow the marauders and I will finish them all so that nobody is left to convey the news (of their destruction to their people). (At these words of mine), the Messenger of Allah ﷺ laughed so much that his molar teeth could be seen in the light of the fire, and he said: Salama, do you think you can do this? I said: Yes, by the Being Who has honoured you. He said: Now they have reached the land of Ghatafan where they are being feted. (At this time) a man from the Ghatafan came along and said: So and so slaughtered a camel for them. When they were exposing its skin, they saw dust (being raised far off). They said: They (Akwa and his companions) have come. So they went away fleeing. When it was morning, the Messenger of Allah ﷺ said: Our best horseman today is Abu Qatadah (RA) and our best footman today is Salama. Then he gave me two shares of the booty-the share meant for the horseman and the share meant for the footman, and combined both of them for me. Intending to return to Madinah, he made me mount behind him on his she-camel named al-Adba. While we were travelling, a man from the Ansar who could not be beaten in a race said: Is there anyone who could compete (with me) in race to Madinah? Is there any competitor? He continued repeating this. When I heard his talk, I said: Dont you show consideration to a dignified person and dont you have awe for a noble man? He said: No, unless he be the Messenger of Allah ﷺ . I said: Messenger of Allah, may my father and mother be thy ransom, let me get down so that I may beat this man (in the race). He said: It you wish, (you may). I said (to the man): I am coming to thee, I then turned my feet. sprang up and ran and gasped (for a while) when one or two elevated places were left and again followed his heel and again gasped (for a while) when one or two elevated places were left and again dashed until I joined him and gave a blow between his shoulders. I said: You have been overtaken, by God. He said: I think so. Thus, I reached Madinah ahead of him. By God, we had stayed there only three nights when we set out to Khaibar with the Messenger of Allah ﷺ . (On the way) my uncle, Amir, began to recite the following rajaz verses for the people: By God, if Thou hadst not guided us aright, We would have neither practised charity nor offered prayers. (O God!) We cannot do without Thy favours; Keep us steadfast when we encounter the enemy, And descend tranquillity upon us. The Messenger of Allah ﷺ said: Who is this? Amir said: it is Amir. He said: May thy God forgive thee! The narrator said: Whenever the Messenger of Allah ﷺ asked forgiveness for a particular person, he was sure to embrace martyrdom. Umar bin Khattab who was riding on his camel called out: Prophet ﷺ of Allah, I wish you had allowed us to benefit from Amir. Salama continued: When we reached Khaibar, its king named Marhab advanced brandishing his sword and chanting: Khaibar knows that I am Marhab (who behaves like) A fully armed, and well-tried warrior. When the war comes spreading its flames. My uncle, Amir, came out to combat with him, saying: Khaibar certainly knows that I am Amir, A fully armed veteran who plunges into battles. They exchanged blows. Marbabs sword struck the shield of Amir who bent forward to attack his opponent from below, but his sword recoiled upon him and cut the main artery in his forearm which caused his death. Salama said: I came out and heard some people among the Companions of the Holy Prophet ﷺ as saying: Amirs deed has gone waste; he has killed himself. So I came to the Holy Prophet ﷺ weeping and I said: Messenger of Allah. Amirs deed has gone waste. The Messenger ﷺ said: Who passed this remark? I said: Some of your Companions. He said: He who has passed that remark has told a lie, for Amir there is a double reward. Then he sent me to Ali who had sore eyes, and said: I will give the banner to a man who loves Allah and His Messenger or whom Allah and His Messenger love. So I went to Ali, brought him leading him along and he had sore eyes, and I took him to the Messenger of Allah ﷺ , who applied his saliva to his eyes and he got well. The Messenger of Allah ﷺ gave him the banner (and Ali went to meet Marhab in a single combat). The latter advanced chanting: Khaibar knows certainly that I am Marhab, A fully armed and well-tried valorous warrior (hero) When war comes spreading its flames. Ali chanted in reply: I am the one whose mother named him Haidar, (And am) like a lion of the forest with a terror-striking countenance. I give my opponents the measure of sandara in exchange for sa (i. e. return thir attack with one that is much more fierce). The narrator said: Ali struck at the head of Mirhab and killed him, so the victory (capture of Khaibar) was due to him. This long tradition has also been handed down through a different chain of transmitters.