جہاد کا بیان

Sahih Muslim · Chapter 34 · 182 hadiths · Page 7 of 10

4639Sahih Muslim

وعدوں کو پورا کرنے کے بیان میں

و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ الْوَلِيدِ بْنِ جُمَيْعٍ حَدَّثَنَا أَبُو الطُّفَيْلِ حَدَّثَنَا حُذَيْفَةُ بْنُ الْيَمَانِ قَالَ مَا مَنَعَنِي أَنْ أَشْهَدَ بَدْرًا إِلَّا أَنِّي خَرَجْتُ أَنَا وَأَبِي حُسَيْلٌ قَالَ فَأَخَذَنَا کُفَّارُ قُرَيْشٍ قَالُوا إِنَّکُمْ تُرِيدُونَ مُحَمَّدًا فَقُلْنَا مَا نُرِيدُهُ مَا نُرِيدُ إِلَّا الْمَدِينَةَ فَأَخَذُوا مِنَّا عَهْدَ اللَّهِ وَمِيثَاقَهُ لَنَنْصَرِفَنَّ إِلَی الْمَدِينَةِ وَلَا نُقَاتِلُ مَعَهُ فَأَتَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرْنَاهُ الْخَبَرَ فَقَالَ انْصَرِفَا نَفِي لَهُمْ بِعَهْدِهِمْ وَنَسْتَعِينُ اللَّهَ عَلَيْهِمْ

ابوبکر بن ابی شیبہ، ابواسامہ، ولید بن جمیع، ابوطفیل، حضرت حذیفہ بن یمان ؓ سے روایت ہے کہ مجھے جنگ بدر میں حاضر ہونے سے کسی بات نے نہیں روکا سوائے اس کے کہ میں اور میرا باپ حسیل باہر نکلے ہوئے تھے کہتے ہیں ہمیں کفار قریش نے گرفتار کرلیا انہوں نے کہا کہ تم محمد کے پاس جانا چاہتے ہو ہم نے کہا ہم آپ ﷺ کا ارادہ نہیں رکھتے بلکہ ہم تو مدینہ جانا چاہتے تھے تو انہوں نے ہم سے اللہ کا یہ وعدہ اور میثاق لیا کہ ہم مدینہ واپس چلے جائیں گے اور آپ کے ساتھ مل کر جنگ نہ کریں پھر ہم رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ ﷺ کو اس واقعہ و وعدہ کی خبر دی تو آپ ﷺ نے فرمایا تم دونوں واپس چلے جاؤ ہم ان کے معاہدہ کو پورا کریں گے اور اللہ سے ان کے خلاف مدد مانگیں گے۔

It has been reported on the authority of Hudbaifa bin al-Yaman who said: Nothing prevented me from being present at the Battle of Badr except this incident. I came out with my father Husail (to participate in the Battle), but we were caught by the disbelievers of Quraish. They said: (Do) you intend to go to Muhammad? We said: We do not intend to go to him, but we wish to go (back) to Madinah. So they took from us a covenant in the name of God that we would turn back to Madinah and would not fight on the side of Muhammad ﷺ . So, we came to the Messenger of Allah ﷺ and related the incident to him. He said: Both, of you proceed (to Madinah); we will fulfil the covenant made with them and seek Gods help against them.

4640Sahih Muslim

غزوئہ خندق کے بیان میں

حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ جَمِيعًا عَنْ جَرِيرٍ قَالَ زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ عَنْ أَبِيهِ قَالَ کُنَّا عِنْدَ حُذَيْفَةَ فَقَالَ رَجُلٌ لَوْ أَدْرَکْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَاتَلْتُ مَعَهُ وَأَبْلَيْتُ فَقَالَ حُذَيْفَةُ أَنْتَ کُنْتَ تَفْعَلُ ذَلِکَ لَقَدْ رَأَيْتُنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةَ الْأَحْزَابِ وَأَخَذَتْنَا رِيحٌ شَدِيدَةٌ وَقُرٌّ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَلَا رَجُلٌ يَأْتِينِي بِخَبَرِ الْقَوْمِ جَعَلَهُ اللَّهُ مَعِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَسَکَتْنَا فَلَمْ يُجِبْهُ مِنَّا أَحَدٌ ثُمَّ قَالَ أَلَا رَجُلٌ يَأْتِينَا بِخَبَرِ الْقَوْمِ جَعَلَهُ اللَّهُ مَعِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَسَکَتْنَا فَلَمْ يُجِبْهُ مِنَّا أَحَدٌ ثُمَّ قَالَ أَلَا رَجُلٌ يَأْتِينَا بِخَبَرِ الْقَوْمِ جَعَلَهُ اللَّهُ مَعِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَسَکَتْنَا فَلَمْ يُجِبْهُ مِنَّا أَحَدٌ فَقَالَ قُمْ يَا حُذَيْفَةُ فَأْتِنَا بِخَبَرِ الْقَوْمِ فَلَمْ أَجِدْ بُدًّا إِذْ دَعَانِي بِاسْمِي أَنْ أَقُومَ قَالَ اذْهَبْ فَأْتِنِي بِخَبَرِ الْقَوْمِ وَلَا تَذْعَرْهُمْ عَلَيَّ فَلَمَّا وَلَّيْتُ مِنْ عِنْدِهِ جَعَلْتُ کَأَنَّمَا أَمْشِي فِي حَمَّامٍ حَتَّی أَتَيْتُهُمْ فَرَأَيْتُ أَبَا سُفْيَانَ يَصْلِي ظَهْرَهُ بِالنَّارِ فَوَضَعْتُ سَهْمًا فِي کَبِدِ الْقَوْسِ فَأَرَدْتُ أَنْ أَرْمِيَهُ فَذَکَرْتُ قَوْلَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا تَذْعَرْهُمْ عَلَيَّ وَلَوْ رَمَيْتُهُ لَأَصَبْتُهُ فَرَجَعْتُ وَأَنَا أَمْشِي فِي مِثْلِ الْحَمَّامِ فَلَمَّا أَتَيْتُهُ فَأَخْبَرْتُهُ بِخَبَرِ الْقَوْمِ وَفَرَغْتُ قُرِرْتُ فَأَلْبَسَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ فَضْلِ عَبَائَةٍ کَانَتْ عَلَيْهِ يُصَلِّي فِيهَا فَلَمْ أَزَلْ نَائِمًا حَتَّی أَصْبَحْتُ فَلَمَّا أَصْبَحْتُ قَالَ قُمْ يَا نَوْمَانُ

زہیر بن حرب، اسحاق بن ابراہیم، جریر، زہیر، جریر، اعمش، حضرت ابراہیم تیمی اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ ہم حضرت حذیفہ کے پاس تھے ایک آدمی نے کہا اگر میں رسول اللہ ﷺ کا زمانہ پا لیتا تو میں آپ ﷺ کے ساتھ جہاد کرتا اور بہت کوشش کرتا حضرت حذیفہ ؓ نے کہا تم ایسے کرتے تحقیق! ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ غزوہ احزاب کی رات سخت ہوا اور سردی دیکھ چکے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کیا تم میں سے کوئی آدمی ایسا نہیں جو اس قوم کی خبر میرے پاس لائے اللہ اسے قیامت کے دن میرا ساتھ نصیب فرمائے گا ہم خاموش رہے اور ہم میں سے کسی نے بھی آپ ﷺ کو جواب نہ دیا پھر فرمایا کیا تم میں سے کوئی ایسا آدمی نہیں جو قوم کی ہمارے پاس خبر لائے اللہ اسے قیامت کے دن میرا ساتھ نصیب فرمائے گا ہم خاموش رہے اور ہم میں سے کسی نے بھی آپ ﷺ کو جواب نہ دیا پھر آپ ﷺ نے فرمایا کیا تم میں کوئی ایسا آدمی نہیں جو ان کافروں کی ہمارے پاس خبر لائے اللہ اسے قیامت کے دن میرا ساتھ نصیب فرمائے گا ہم خاموش رہے اور ہم میں سے کسی نے بھی آپ ﷺ کو جواب نہ دیا تو آپ ﷺ نے فرمایا اے حذیفہ کھڑے ہوجاؤ اور ہمارے پاس قوم کی خبر لے آؤ جب آپ ﷺ نے میرا نام لے کر پکارا تو میرے لئے سوائے اٹھنے کے کوئی چارہ نہ تھا آپ ﷺ نے فرمایا جاؤ اور قوم کی میرے پاس خبر لے کر آؤ مگر انہیں میرے خلاف بھڑکانا نہیں جب میں آپ ﷺ سے پشت پھیر کر چلنے لگا تو مجھے یوں محسوس ہونے لگا گویا کہ میں حمام میں چل رہا ہوں یہاں تک کہ میں ان کے پاس پہنچ گیا میں نے ابوسفیان کو اپنی پیٹھ آگ سے سینکتے دیکھا پس میں نے فورا کمان کے درمیان میں تیر رکھا اور اسے مارنے کا ارادہ کیا تو مجھے رسول اللہ ﷺ کا قول یاد آگیا کہ انہیں میرے خلاف بھڑکانا نہیں اگر میں تیر مار دیتا تو صحیح نشانہ پر ہی لگتا میں واپس لوٹا اور میں حمام ہی کی طرح میں چل رہا تھا جب میں آپ ﷺ کے پاس پہنچا آپ ﷺ کو قوم کی خبر دے کر فارغ ہوا تو مجھے سردی محسوس ہونے لگی تو رسول اللہ ﷺ نے مجھے اپنی بقیہ چادر اوڑھا دی جسے آپ ﷺ اوڑھ کر نماز ادا کر رہے تھے اور میں صبح تک نیند کرتا رہا۔ پس جب صبح ہوگئی تو آپ ﷺ نے فرمایا اے بہت سونے والے اٹھ جا۔

It has been narrated by Ibrahim al-Taimi on the authority of his father who said: We were sitting in the company of Hudhaifa. A man said: If I were in the time of the Messenger of Allah ﷺ , I would have fought by his side and would have striven hard for his causes. Hudhaifa said: You might have done that, (but you should not make a flourish of your enthusiasm). I was with the Messenger of Allah ﷺ on the night of the Battle of Abzab and we were gripped by a violent wind and severe cold. The Messenger of Allah ﷺ (may peace be him) said: Hark, the man who (goes reconnoitring and) brings me the news of the enemy shall be ranked with me on the Day of Judgment by Allah (the Glorious and Exalted). We all kept quiet and none of us responded to him. (Again) he said: Hark, a man who (goes reconnoitring and) brings me the news of the enemy shall be ranked with me on the Day of Judgment by Allah (the Glorious and Exalted). We kept quiet and none of us responded to him. He again said: Hark, a man who (goes reconnoitring and) brings me the news of the enemy shall be ranked with me on the Day of Judgtuent by Allah (the Glorious and Exalted) Then he said: Get up Hudhaifa, bring me the news of the enemy. When he called me by name I had no alternative but to get up. He said: Go and bring me information about the enemy, and do nothing that may provoke them against me. When I left him, I felt warm as if I were walking in a heated bath until I reached them. I saw Abu Sufyan (RA) warming his back against fire I put an arrow in the middle of the bow intending to shoot at him, when I recalled the words of the Messenger of Allah ﷺ "Do not provoke them against me." Had I shot at him, I would have hit him. But I returned and (felt warm as if) I were walking in a heated bath (hammam). Presenting myself before him, I gave him information about the enemy. When I had done so, I began to feel cold, so the Messenger of Allah ﷺ wrapped me in a blanket that he had in excess to his own requirement and with which he used to cover himself while saying his prayers. So I continued to sleep until it was morning. When it was morning he said: Get up, O heavy sleeper.

4641Sahih Muslim

غزوہ احد کے بیان میں

و حَدَّثَنَا هَدَّابُ بْنُ خَالِدٍ الْأَزْدِيُّ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ وَثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُفْرِدَ يَوْمَ أُحُدٍ فِي سَبْعَةٍ مِنْ الْأَنْصَارِ وَرَجُلَيْنِ مِنْ قُرَيْشٍ فَلَمَّا رَهِقُوهُ قَالَ مَنْ يَرُدُّهُمْ عَنَّا وَلَهُ الْجَنَّةُ أَوْ هُوَ رَفِيقِي فِي الْجَنَّةِ فَتَقَدَّمَ رَجُلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ فَقَاتَلَ حَتَّی قُتِلَ ثُمَّ رَهِقُوهُ أَيْضًا فَقَالَ مَنْ يَرُدُّهُمْ عَنَّا وَلَهُ الْجَنَّةُ أَوْ هُوَ رَفِيقِي فِي الْجَنَّةِ فَتَقَدَّمَ رَجُلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ فَقَاتَلَ حَتَّی قُتِلَ فَلَمْ يَزَلْ کَذَلِکَ حَتَّی قُتِلَ السَّبْعَةُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِصَاحِبَيْهِ مَا أَنْصَفْنَا أَصْحَابَنَا

ہداب بن خالد ازدی، حماد بن سلمہ، علی بن زید، ثابت بنانی، حضرت انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ غزوہ احد کے دن رسول اللہ ﷺ سات انصاریوں اور قریش کے دو آدمیوں کے ہمراہ اکیلے رہ گئے جب آپ ﷺ کو گھیر لیا تو آپ ﷺ نے فرمایا جو انہیں ہم سے ہٹائے گا اس کے لئے جنت ہے یا وہ جنت میں میرا رفیق ہوگا تو انصار میں سے ایک آدمی آگے بڑھا اور جنگ کی یہاں تک کہ شہید ہوگیا پھر بھی کافروں نے آپ ﷺ کو گھیرے رکھا تو آپ ﷺ نے فرمایا جو انہیں ہم سے دور کرے گا اس کے لئے جنت ہوگی یا وہ جنت میں میرا رفیق ہوگا پس انصار میں سے ایک آدمی آگے بڑھ کر لڑا یہاں تک کہ وہ شہید ہوگیا یہ سلسلہ برابر اسی طرح چلتا رہا یہاں تک کہ ساتوں انصاری شہید ہوگئے تو رسول اللہ ﷺ نے اپنے (قریشی) ساتھیوں سے فرمایا ہم نے اپنے ساتھیوں سے انصاف نہیں کیا۔

It has been reported on the authority of Anas bin Malik (RA) that (when the enemy got the upper hand) on the day of the Battle of Uhud, the Messenger of Allah ﷺ was left with only seven men from the Ansar and two men from the Quraish. When the enemy advanced towards him and overwhelmed him, he said: Whoso turns them away from us will attain Paradise or will be my Companion in Paradise. A man from the Ansar came forward and fought (the enemy) until he was killed. The enemy advanced and overwhelmed him again and he repeated the words: Whoso turns them away, from us will attain Paradise or will be my Companion in Paradise. A man from the Ansar came forward and fought until he was killed. This state continued until the seven Ansar were killed (one after the other). Now, the Messenger of Allah ﷺ said to his two Companions: We have not done justice to our Companions.

4642Sahih Muslim

غزوہ احد کے بیان میں

حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی التَّمِيمِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ سَمِعَ سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ يَسْأَلُ عَنْ جُرْحِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ أُحُدٍ فَقَالَ جُرِحَ وَجْهُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَکُسِرَتْ رَبَاعِيَتُهُ وَهُشِمَتْ الْبَيْضَةُ عَلَی رَأْسِهِ فَکَانَتْ فَاطِمَةُ بِنْتُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَغْسِلُ الدَّمَ وَکَانَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ يَسْکُبُ عَلَيْهَا بِالْمِجَنِّ فَلَمَّا رَأَتْ فَاطِمَةُ أَنَّ الْمَائَ لَا يَزِيدُ الدَّمَ إِلَّا کَثْرَةً أَخَذَتْ قِطْعَةَ حَصِيرٍ فَأَحْرَقَتْهُ حَتَّی صَارَ رَمَادًا ثُمَّ أَلْصَقَتْهُ بِالْجُرْحِ فَاسْتَمْسَکَ الدَّمُ

یحییٰ بن یحییٰ تمیمی، عبدالعزیز بن ابی حازم، حضرت عبدالعزیز بن ابوحازم ؓ کی اپنے باپ سے روایت ہے کہ سہل بن سعد ؓ سے رسول اللہ ﷺ کے غزوہ احد کے دن زخمی ہونے کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے کہا رسول اللہ کا چہرہ اقدس زخمی کیا گیا اور آگے سے ایک دانت ٹوٹ گیا اور خود آپ ﷺ کے سر مبارک میں ٹوٹ گئی تھی فاطمہ ؓ بنت رسول اللہ ﷺ خون دھوتی تھیں اور حضرت علی ؓ بن ابوطالب ڈھال میں پانی لا کر ڈال رہے تھے جب حضرت فاطمہ ؓ نے دیکھا کہ پانی سے خون میں کمی نہیں بلکہ زیادتی ہو رہی ہے انہوں نے چٹائی کا ایک ٹکڑا لے کر جلایا یہاں تک کہ راکھ بن گئی پھر اسے زخم پر لگا دیا جس سے خون رک گیا۔

It has been narrated on the authority of Abd-ul-Aziz bin Abu Hazim, who learnt from his father (Abu Hazim). The latter heard it from Sahl bin Sad who was asked about the injury which the Messenger of Allah ﷺ got on the day of the Battle of Uhud. He said: The face of the Messenger of Allah ﷺ was injured, his front teeth were damaged and his helmet was crushed. Fatima, the daughter of the Messenger of Allah ﷺ , was washing the blood (from his head), and Ali bin Abu Talib was pouring water on it from a shield. When Fatima saw that the bleeding had increased on account of (pouring) water (on the wound), she took a piece of mat and burnt it until it was reduced to ashes. She put the ashes on the wound and the bleeding stopped.

4643Sahih Muslim

غزوہ احد کے بیان میں

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْقَارِيَّ عَنْ أَبِي حَازِمٍ أَنَّهُ سَمِعَ سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ وَهُوَ يَسْأَلُ عَنْ جُرْحِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَمَ وَاللَّهِ إِنِّي لَأَعْرِفُ مَنْ کَانَ يَغْسِلُ جُرْحَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَنْ کَانَ يَسْکُبُ الْمَائَ وَبِمَاذَا دُووِيَ جُرْحُهُ ثُمَّ ذَکَرَ نَحْوَ حَدِيثِ عَبْدِ الْعَزِيزِ غَيْرَ أَنَّهُ زَادَ وَجُرِحَ وَجْهُهُ وَقَالَ مَکَانَ هُشِمَتْ کُسِرَتْ

قتیبہ بن سعید، یعقوب، ابن عبدالرحمن قاری، حضرت ابوحازم سے روایت ہے کہ حضرت سہل بن سعد ؓ سے رسول اللہ ﷺ کے زخم کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا سنو اللہ کی قسم! مجھے معلوم ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے زخم کو کس نے دھویا اور کس نے پانی ڈالا اور کس چیز سے آپ ﷺ کے زخم کا علاج کیا گیا باقی حدیث اسی طرح ذکر کی اس میں اضافہ ہے کہ آپ ﷺ کا چہرہ اقدس زخمی کیا گیا اور هُشِمَتْ کی جگہ کُسِرَتْ بیان کیا۔

It has been reported on the authority of Abu Hazim who heard from Sahl bin Sad. The latter was asked about the injury of the Messenger of Allah ﷺ . He said: By God, I know the person who washed the wound of the Messenger of Allah ﷺ , who poured water on it and with what the wound was treated. Then Sahl narrated the same tradition as has been narrated by Abdul Aziz except that he added the words: "And his face was injured" and replaced the word "Hushimat" by "Kusirat" (i. e. it was broken).

4644Sahih Muslim

غزوہ احد کے بیان میں

و حَدَّثَنَاه أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَابْنُ أَبِي عُمَرَ جَمِيعًا عَنْ ابْنِ عُيَيْنَةَ ح و حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ سَوَّادٍ الْعَامِرِيُّ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ ح و حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ سَهْلٍ التَّمِيمِيُّ حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ مُطَرِّفٍ کُلُّهُمْ عَنْ أَبِي حَازِمٍ عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ بِهَذَا الْحَدِيثِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَدِيثِ ابْنِ أَبِي هِلَالٍ أُصِيبَ وَجْهُهُ وَفِي حَدِيثِ ابْنِ مُطَرِّفٍ جُرِحَ وَجْهُهُ

ابوبکر بن ابی شیبہ، زہیر بن حرب، اسحاق بن ابراہیم، ابن ابی عمر، ابن عیینہ، عمرو بن سواد عامری، عبداللہ بن وہب، عمرو بن حارث، سعید بن ابی ہلال، محمد بن سہل تمیمی، ابن ابی مریم، محمد یعنی ابن مطرف، ابی حازم، سہل بن سعد، ان اسناد سے بھی یہ حدیث معمولی فرق سے اسی طرح روایت کی گئی ہے۔

The same tradition has been narrated on the authority of Sahl bin Sad through a different chain of transmitters with a slight difference in the wording.

4645Sahih Muslim

غزوہ احد کے بیان میں

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کُسِرَتْ رَبَاعِيَتُهُ يَوْمَ أُحُدٍ وَشُجَّ فِي رَأْسِهِ فَجَعَلَ يَسْلُتُ الدَّمَ عَنْهُ وَيَقُولُ کَيْفَ يُفْلِحُ قَوْمٌ شَجُّوا نَبِيَّهُمْ وَکَسَرُوا رَبَاعِيَتَهُ وَهُوَ يَدْعُوهُمْ إِلَی اللَّهِ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَيْسَ لَکَ مِنْ الْأَمْرِ شَيْئٌ

عبداللہ بن مسلمہ بن قعنب، حماد بن سلمہ، ثابت بن انس، حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ غزوہ احد کے دن رسول اللہ ﷺ کے سامنے کا دانت ٹوٹ گیا اور سر مبارک میں زخم ہوگیا اور آپ ﷺ اس زخم سے خون پونچھتے ہوئے فرما رہے تھے وہ قوم کیسے کامیابی حاصل کرسکتی ہے جو اپنے نبی ﷺ کو زخمی کرتی ہے اور انہوں نے اس کے سامنے کے دانت کو توڑا ہے اور وہ انہیں اللہ کی طرف دعوت دیتا ہے تو اللہ رب العزت نے ( لَيْسَ لَکَ مِنْ الْأَمْرِ شَيْئٌ) نازل فرمائی۔

It has been narrated on the authority of Anas that the Messenger of Allah ﷺ had his front teeth damaged on the day of the Battle of Uhud, and got a wound on his head. He was wiping the blood (from his face) and was saying: How will these people attain salvation who have wounded their Prophet ﷺ and broken his tooth while he called them towards God? At this time, God, the Exalted and Glorious, revealed the Verse: "Thou hast no authority" (iii. 127).

4646Sahih Muslim

غزوہ احد کے بیان میں

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا وَکِيعٌ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ شَقِيقٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ کَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَحْکِي نَبِيًّا مِنْ الْأَنْبِيَائِ ضَرَبَهُ قَوْمُهُ وَهُوَ يَمْسَحُ الدَّمَ عَنْ وَجْهِهِ وَيَقُولُ رَبِّ اغْفِرْ لِقَوْمِي فَإِنَّهُمْ لَا يَعْلَمُونَ

محمد بن عبداللہ بن نمیر، وکیع، اعمش، شقیق، حضرت عبداللہ ؓ سے روایت ہے کہ گویا کہ میں رسول اللہ ﷺ کی طرف دیکھ رہا ہوں کہ آپ ﷺ انبیاء (علیہم السلام) میں سے کسی نبی کا قصہ بیان فرما رہے تھے کہ انہیں ان کی قوم نے مارا اور وہ اپنے چہرہ سے خون پونچھتے جا رہے تھے اور فرماتے تھے اے میرے پروردگار میری قوم کی بخشش فرمانا وہ جانتے نہیں۔

It has been narrated on the authority of Abdullah who said: It appeared to me as if I saw the Messenger of Allah ﷺ (and heard him) relate the story of a Prophet ﷺ who had been beaten by his people, was wiping the blood from his face and was saying. My Lord, forgive my people, for they do not know.

4647Sahih Muslim

غزوہ احد کے بیان میں

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا وَکِيعٌ وَمُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ عَنْ الْأَعْمَشِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ فَهُوَ يَنْضِحُ الدَّمَ عَنْ جَبِينِهِ

ابوبکر بن ابی شیبہ، وکیع، محمد بن بشر، اعمش، اس سند سے بھی یہ حدیث مروی ہے اس میں یہ بھی ہے کہ آپ ﷺ اپنی پیشانی مبارک سے خون پونچھتے جاتے تھے۔

A version of the tradition with a slightly different wording has been narrated by another chain of transmitters.

4648Sahih Muslim

غزوہ احد کے بیان میں

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ قَالَ هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَکَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اشْتَدَّ غَضَبُ اللَّهِ عَلَی قَوْمٍ فَعَلُوا هَذَا بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ حِينَئِذٍ يُشِيرُ إِلَی رَبَاعِيَتِهِ وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اشْتَدَّ غَضَبُ اللَّهِ عَلَی رَجُلٍ يَقْتُلُهُ رَسُولُ اللَّهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ

محمد بن رافع، عبدالرزاق، معمر، ہمام بن منبہ، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ کی ناراضگی اس قوم پر زیادہ ہوگی جس نے اللہ کے رسول کے ساتھ یہ معاملہ کیا اور آپ ﷺ اس وقت اپنے دانت کی طرف اشارہ فرما رہے تھے اور رسول ﷺ نے فرمایا اس آدمی پر بھی اللہ کا غصہ زیادہ ہوگا جسے اللہ کا رسول اللہ رب العزت کے راستہ میں قتل کرے

It has been narrated by Hammam bin Munabbih who said: This is what has been related to us by Abu Hurairah (RA) from the Messenger of Allah ﷺ . (With this introduction) he narrated a number of traditions. One of these was that the Messenger of Allah ﷺ said: Great is the wrath of Allah upon a people who have done this to the Messenger of Allah ﷺ , and he was at that time pointing to his front teeth. The Messenger of Allah ﷺ also said: Great is the wrath of Allah upon a person who has been killed by the Messenger of Allah ﷺ in the way of Allah, the Exalted and Glorious.

4649Sahih Muslim

نبی کریم ﷺ کی ان تکالیف کے بیان میں جو آپ ﷺ کو مشرکین اور منافقین کی طرف سے دی گئیں

و حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ أَبَانَ الْجُعْفِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ يَعْنِي ابْنَ سُلَيْمَانَ عَنْ زَکَرِيَّائَ عَنْ أَبِي إِسْحَقَ عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ الْأَوْدِيِّ عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ بَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي عِنْدَ الْبَيْتِ وَأَبُو جَهْلٍ وَأَصْحَابٌ لَهُ جُلُوسٌ وَقَدْ نُحِرَتْ جَزُورٌ بِالْأَمْسِ فَقَالَ أَبُو جَهْلٍ أَيُّکُمْ يَقُومُ إِلَی سَلَا جَزُورِ بَنِي فُلَانٍ فَيَأْخُذُهُ فَيَضَعُهُ فِي کَتِفَيْ مُحَمَّدٍ إِذَا سَجَدَ فَانْبَعَثَ أَشْقَی الْقَوْمِ فَأَخَذَهُ فَلَمَّا سَجَدَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَضَعَهُ بَيْنَ کَتِفَيْهِ قَالَ فَاسْتَضْحَکُوا وَجَعَلَ بَعْضُهُمْ يَمِيلُ عَلَی بَعْضٍ وَأَنَا قَائِمٌ أَنْظُرُ لَوْ کَانَتْ لِي مَنَعَةٌ طَرَحْتُهُ عَنْ ظَهْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالنَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَاجِدٌ مَا يَرْفَعُ رَأْسَهُ حَتَّی انْطَلَقَ إِنْسَانٌ فَأَخْبَرَ فَاطِمَةَ فَجَائَتْ وَهِيَ جُوَيْرِيَةٌ فَطَرَحَتْهُ عَنْهُ ثُمَّ أَقْبَلَتْ عَلَيْهِمْ تَشْتِمُهُمْ فَلَمَّا قَضَی النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاتَهُ رَفَعَ صَوْتَهُ ثُمَّ دَعَا عَلَيْهِمْ وَکَانَ إِذَا دَعَا دَعَا ثَلَاثًا وَإِذَا سَأَلَ سَأَلَ ثَلَاثًا ثُمَّ قَالَ اللَّهُمَّ عَلَيْکَ بِقُرَيْشٍ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ فَلَمَّا سَمِعُوا صَوْتَهُ ذَهَبَ عَنْهُمْ الضِّحْکُ وَخَافُوا دَعْوَتَهُ ثُمَّ قَالَ اللَّهُمَّ عَلَيْکَ بِأَبِي جَهْلِ بْنِ هِشَامٍ وَعُتْبَةَ بْنِ رَبِيعَةَ وَشَيْبَةَ بْنِ رَبِيعَةَ وَالْوَلِيدِ بْنِ عُقْبَةَ وَأُمَيَّةَ بْنِ خَلَفٍ وَعُقْبَةَ بْنِ أَبِي مُعَيْطٍ وَذَکَرَ السَّابِعَ وَلَمْ أَحْفَظْهُ فَوَالَّذِي بَعَثَ مُحَمَّدًا صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْحَقِّ لَقَدْ رَأَيْتُ الَّذِينَ سَمَّی صَرْعَی يَوْمَ بَدْرٍ ثُمَّ سُحِبُوا إِلَی الْقَلِيبِ قَلِيبِ بَدْرٍ قَالَ أَبُو إِسْحَقَ الْوَلِيدُ بْنُ عُقْبَةَ غَلَطٌ فِي هَذَا الْحَدِيثِ

ابن عمر بن محمد بن ابان جعفی، عبدالرحیم ابن سلیمان، زکریا، ابواسحاق، عمرو بن میمون، حضرت ابن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ بیت اللہ کے پاس نماز ادا کر رہے تھے ابوجہل اور اس کے ساتھی بیٹھے ہوئے تھے اور گزشتہ کل ایک اونٹنی کو ذبح کیا گیا تھا ابوجہل نے کہا تم میں سے کون ہے جو بنی فلاں کی اونٹنی کی اوجھڑی کو اٹھا لائے اور اسے محمد ﷺ کے دونوں کندھوں پر رکھ دے جب وہ سجدہ کریں پس قوم میں سے سب سے بدبخت اٹھا اور اوجھڑی کو اٹھا لایا اور جب نبی کریم ﷺ نے سجدہ فرمایا تو اس نے آپ ﷺ کے کندھوں کے درمیان رکھ دی پھر انہوں نے ہنسنا شروع کردیا اور اتنا ہنسے کہ ایک دوسرے پر گرنے لگے اور میں کھڑا دیکھ رہا تھا کاش میرے پاس اتنی طاقت ہوتی کہ میں اسے رسول اللہ ﷺ کی پشت مبارک سے دور کردیتا اور نبی ﷺ سجدہ میں تھے کہ اپنے سر مبارک کو اٹھا نہ سکتے تھے یہاں تک کہ ایک شخص نے جا کر حضرت فاطمہ ؓ کو اطلاع دی پس وہ آئیں اور کم سن تھیں انہوں نے (اوجھڑی کو) آپ ﷺ سے دور کیا پھر کافروں کی طرف متوجہ ہو کر انہیں برا بھلا کہا جب نبی کریم ﷺ نے اپنی نماز کو پورا کرلیا تو آپ ﷺ نے باآواز بلند ان کے لئے بد دعا کی اور آپ ﷺ کی عادت شریفہ تھی کہ جب آپ ﷺ دعا فرماتے تو تین مرتبہ کرتے پھر آپ ﷺ نے تین مرتبہ فرمایا اے اللہ قریش کی گرفت فرما جب انہوں نے آپ ﷺ کی آواز سنی تو ان کی ہنسی ختم ہوگئی اور آپ ﷺ کی دعا سے ڈرنے لگے پھر آپ ﷺ نے فرمایا اے اللہ ابوجہل بن ہشام اور عتبہ بن ربیعہ اور شیبہ بن ربیعہ اور ولید بن عقبہ اور امیہ بن خلف اور عقبہ بن ابی معیط پر گرفت فرما اور ساتویں کا ذکر کیا جسے میں یاد نہ رکھ سکا اس ذات کی قسم جس نے محمد ﷺ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے تحقیق! میں نے ان لوگوں کو جن کا آپ ﷺ نے نام لیا تھا بدر کے دن مردہ دیکھا پھر انہیں کنویں میں ڈال دیا گیا ابواسحاق نے کہا اس حدیث میں ولید بن عقبہ غلط ہے۔ (صحیح ولید بن عتبہ ہے)۔

It has been narrated on the authority of Ibn Masud who said: While the Messenger of Allah ﷺ was saying his prayer near the Ka’bah and Abu Jahl with his companions was sitting (near by), Abu Jahl said, referring to the she-camel that had been slaughtered the previous day: Who will rise to fetch the foetus of the she-camel of so and so, and place it between the shoulders of Muhammad when he goes down in prostration (a posture in prayer). The one most accursed among the people got up, brought the foetus and, when the Prophet ﷺ went down in prostration, placed it between his shoulders. Then they laughed at him and some of them leaned upon the others with laughter. And I stood looking. If I had the power, I would have thrown it away from the back of the Messenger of Allah ﷺ . The Prophet ﷺ had bent down his head in prostration and did not raise it, until a man went (to his house) and informed (his daughter) Fatima, who was a young girl (at that time) (about this ugly incident). She came and removed (the filthy thing) from him. Then she turned towards them rebuking them (the mischief-mongers). When the Prophet ﷺ had finished his prayer, he invoked Gods imprecations upon them in a loud voice. When he prayed, he prayed thrice, and when he asked for Gods blessings, he asked thrice. Then he said thrice: O Allah, it is for Thee to deal with the Quraish. When they heard his voice, laughter vanished from them and they feared his malediction. Then he said: O God, it is for Thee to deal with Abu Jahl bin Hisham, Utba bin Rabiah, Shaiba bin Rabiah. Walid bin Uqba, Umayya bin Khalaf, Uqba bin Abu Muait (and he mentioned the name of the seventh person. which I did not remember). By One Who sent Muhammad with truth, I saw (all) those he had named lying slain on the Day of Badr. Their dead bodies were dragged to be thrown into a pit near the battlefield.Abu Ishiq had said that the name of Walid bin Uqba has been wrongly mentioned in this tradition.

4650Sahih Muslim

نبی کریم ﷺ کی ان تکالیف کے بیان میں جو آپ ﷺ کو مشرکین اور منافقین کی طرف سے دی گئیں

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ وَاللَّفْظُ لِابْنِ الْمُثَنَّی قَالَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا إِسْحَقَ يُحَدِّثُ عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ بَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَاجِدٌ وَحَوْلَهُ نَاسٌ مِنْ قُرَيْشٍ إِذْ جَائَ عُقْبَةُ بْنُ أَبِي مُعَيْطٍ بِسَلَا جَزُورٍ فَقَذَفَهُ عَلَی ظَهْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يَرْفَعْ رَأْسَهُ فَجَائَتْ فَاطِمَةُ فَأَخَذَتْهُ عَنْ ظَهْرِهِ وَدَعَتْ عَلَی مَنْ صَنَعَ ذَلِکَ فَقَالَ اللَّهُمَّ عَلَيْکَ الْمَلَأَ مِنْ قُرَيْشٍ أَبَا جَهْلِ بْنَ هِشَامٍ وَعُتْبَةَ بْنَ رَبِيعَةَ وَعُقْبَةَ بْنَ أَبِي مُعَيْطٍ وَشَيْبَةَ بْنَ رَبِيعَةَ وَأُمَيَّةَ بْنَ خَلَفٍ أَوْ أُبَيَّ بْنَ خَلَفٍ شُعْبَةُ الشَّاکُّ قَالَ فَلَقَدْ رَأَيْتُهُمْ قُتِلُوا يَوْمَ بَدْرٍ فَأُلْقُوا فِي بِئْرٍ غَيْرَ أَنَّ أُمَيَّةَ أَوْ أُبَيًّا تَقَطَّعَتْ أَوْصَالُهُ فَلَمْ يُلْقَ فِي الْبِئْرِ

محمد بن مثنی، محمد بن بشار، ابن مثنی، محمد بن جعفر، شعبہ، ابواسحاق، عمرو بن میمون، حضرت عبداللہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ سجدہ کرنے والے تھے اور قریش آپ ﷺ کے ارد گرد تھے کہ عقبہ بن ابی معیط اونٹنی کی اوجھڑی لے کر آیا اور اسے رسول اللہ ﷺ کی پیٹھ مبارک پر پھینک دیا جس سے آپ ﷺ سر مبارک نہ اٹھا سکتے تھے پس حضرت فاطمہ ؓ آئیں اور اسے (اوجھڑی) آپ ﷺ کی پشت مبارک سے اٹھایا اور ایسی بیہودہ حرکت کرنے والوں کے لئے بددعا کی آپ ﷺ نے فرمایا اے اللہ قریش کے سردار ابوجہل بن ہشام، عتبہ بن ربیعہ، عقبہ بن ابی معیط، شیبہ بن ربیعہ، امیہ بن خلف یا ابی بن خلف پر گرفت فرما عبداللہ کہتے ہیں تحقیق میں نے انہیں دیکھا کہ بدر کے دن قتل کئے گئے اور سوائے امیہ یا ابی کے سب کو کنوئیں میں ڈال دیا گیا (اس لئے) کہ اس کا جوڑ جوڑ ٹکڑے ٹکڑے ہوچکا تھا۔

It has been narrated byAbdullah (b. Masud) who said: When the Messenger of Allah ﷺ was lying postrate in prayer and around him were some people from the Quraish, Uqba bin Abu Muait brought the foetus of a she-camel and threw it on the back of the Messenger of Allah ﷺ . He did not raise his head until Fatima arrived, removed it from his back and cursed him who had done that (ugly act). He said: O Allah, it is for Thee to deal with the chiefs of the Quraish. Abu Jahl bin Hisham, Utba bin Rabiah. Uqba bin Abu Muait, Shaiba bin Rabiah, Umayya bin Khalaf or Ubayy bin Khalaf (Shubah, one of the narrator of this tradition is in doubt about the exact person). I saw that all were slain in the Battle of Badr and their dead bodies were thrown into a well, except that of Umayya or Ubayy which was cut into pieces and was thrown into the well.

4651Sahih Muslim

نبی کریم ﷺ کی ان تکالیف کے بیان میں جو آپ ﷺ کو مشرکین اور منافقین کی طرف سے دی گئیں

و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي إِسْحَقَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ وَزَادَ وَکَانَ يَسْتَحِبُّ ثَلَاثًا يَقُولُ اللَّهُمَّ عَلَيْکَ بِقُرَيْشٍ اللَّهُمَّ عَلَيْکَ بِقُرَيْشٍ اللَّهُمَّ عَلَيْکَ بِقُرَيْشٍ ثَلَاثًا وَذَکَرَ فِيهِمْ الْوَلِيدَ بْنَ عُتْبَةَ وَأُمَيَّةَ بْنَ خَلَفٍ وَلَمْ يَشُکَّ قَالَ أَبُو إِسْحَقَ وَنَسِيتُ السَّابِعَ

ابوبکر بن ابی شیبہ، جعفر بن عون، سفیان، ابواسحاق، اس سند سے بھی یہ حدیث مروی ہے اضافہ یہ ہے کہ آپ ﷺ تین مرتبہ (دعا فرمانے) کو پسند فرماتے تھے فرمایا اے اللہ قریش پر گرفت فرما اے اللہ قریش پر گرفت فرما اے اللہ قریش پر گرفت فرما اور اس میں ولید بن عتبہ اور امیہ بن خلف کا بھی فرمایا اور شک مذکور نہیں ابواسحاق نے کہا سا تو اں میں بھول گیا ہوں۔

Abu Ishiq has narrated a similar tradition through a different chain of transmitters and has added: He (the Messenger of Allah) ﷺ loved to repeat the supplication thrice. He was saying: O Allah, it is for Thee to deal with the Quraish (repeating these words thrice). And among the Quraish, he mentioned (the names of) al-Walid bin Utba and Umayya bin Khalaf. (The narrator says there is no doubt about the names of these persons but he has forgotten the name of the seventh man)

4652Sahih Muslim

نبی کریم ﷺ کی ان تکالیف کے بیان میں جو آپ ﷺ کو مشرکین اور منافقین کی طرف سے دی گئیں

و حَدَّثَنِي سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَعْيَنَ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَقَ عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ اسْتَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْبَيْتَ فَدَعَا عَلَی سِتَّةِ نَفَرٍ مِنْ قُرَيْشٍ فِيهِمْ أَبُو جَهْلٍ وَأُمَيَّةُ بْنُ خَلَفٍ وَعُتْبَةُ بْنُ رَبِيعَةَ وَشَيْبَةُ بْنُ رَبِيعَةَ وَعُقْبَةُ بْنُ أَبِي مُعَيْطٍ فَأُقْسِمُ بِاللَّهِ لَقَدْ رَأَيْتُهُمْ صَرْعَی عَلَی بَدْرٍ قَدْ غَيَّرَتْهُمْ الشَّمْسُ وَکَانَ يَوْمًا حَارًّا

سلمہ بن شبیب، حسن بن اعین، زہیر، ابواسحاق، عمرو بن میمون، حضرت عبداللہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے بیت اللہ کی طرف رخ فرما کر قریش کے چھ آدمیوں کے لئے بد دعا کی جن میں ابوجہل، امیہ بن خلف، عتبہ بن ربیعہ، شیبہ بن ربیعہ اور عقبہ بن ابی معیط تھے میں اللہ کی قسم اٹھا کر کہتا ہوں کہ میں نے انہیں مقام بدر پر مرے ہوئے دیکھا اور سورج نے ان کا حلیہ بدل دیا تھا اور یہ دن سخت گرمی کا دن تھا۔

It has been narrated on the authority of Abdullah that, the Messenger of Allah ﷺ turned his face towards the Ka’bah and invoked Gods imprecations upon six men of the Quraish, among whom were Abu Jahl, Umayya bin Khalaf, Utba bin Rabiah, Shaiba bin Rabiah and Uqba bin Abu Muait I swear by God that I saw them lying slain in the battlefield of Badr. It being a hot day, their complexion had changed (showing signs of decay).

4653Sahih Muslim

نبی کریم ﷺ کی ان تکالیف کے بیان میں جو آپ ﷺ کو مشرکین اور منافقین کی طرف سے دی گئیں

و حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ سَرْحٍ وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَی وَعَمْرُو بْنُ سَوَّادٍ الْعَامِرِيُّ وَأَلْفَاظُهُمْ مُتَقَارِبَةٌ قَالُوا حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ قَالَ أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ حَدَّثَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدَّثَتْهُ أَنَّهَا قَالَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلْ أَتَی عَلَيْکَ يَوْمٌ کَانَ أَشَدَّ مِنْ يَوْمِ أُحُدٍ فَقَالَ لَقَدْ لَقِيتُ مِنْ قَوْمِکِ وَکَانَ أَشَدَّ مَا لَقِيتُ مِنْهُمْ يَوْمَ الْعَقَبَةِ إِذْ عَرَضْتُ نَفْسِي عَلَی ابْنِ عَبْدِ يَالِيلَ بْنِ عَبْدِ کُلَالٍ فَلَمْ يُجِبْنِي إِلَی مَا أَرَدْتُ فَانْطَلَقْتُ وَأَنَا مَهْمُومٌ عَلَی وَجْهِي فَلَمْ أَسْتَفِقْ إِلَّا بِقَرْنِ الثَّعَالِبِ فَرَفَعْتُ رَأْسِي فَإِذَا أَنَا بِسَحَابَةٍ قَدْ أَظَلَّتْنِي فَنَظَرْتُ فَإِذَا فِيهَا جِبْرِيلُ فَنَادَانِي فَقَالَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ سَمِعَ قَوْلَ قَوْمِکَ لَکَ وَمَا رُدُّوا عَلَيْکَ وَقَدْ بَعَثَ إِلَيْکَ مَلَکَ الْجِبَالِ لِتَأْمُرَهُ بِمَا شِئْتَ فِيهِمْ قَالَ فَنَادَانِي مَلَکُ الْجِبَالِ وَسَلَّمَ عَلَيَّ ثُمَّ قَالَ يَا مُحَمَّدُ إِنَّ اللَّهَ قَدْ سَمِعَ قَوْلَ قَوْمِکَ لَکَ وَأَنَا مَلَکُ الْجِبَالِ وَقَدْ بَعَثَنِي رَبُّکَ إِلَيْکَ لِتَأْمُرَنِي بِأَمْرِکَ فَمَا شِئْتَ إِنْ شِئْتَ أَنْ أُطْبِقَ عَلَيْهِمْ الْأَخْشَبَيْنِ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَلْ أَرْجُو أَنْ يُخْرِجَ اللَّهُ مِنْ أَصْلَابِهِمْ مَنْ يَعْبُدُ اللَّهَ وَحْدَهُ لَا يُشْرِکُ بِهِ شَيْئًا

ابوطاہر، احمد بن عمرو بن سرح، حرملہ بن یحیی، عمرو بن سواد عامری، ابن وہب، یونس، ابن شہاب، عروہ بن زبیر، زوجہ نبی ﷺ سیدہ عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی ﷺ سے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول! کیا آپ ﷺ پر کوئی دن احد کے دن سے بھی سخت آیا ہے آپ ﷺ نے فرمایا میں تیری قوم سے عقبہ کے دن کی سختی سے بھی زیادہ تکلیف اٹھا چکا ہوں جب میں نے اپنے آپ ﷺ کو عبد یا لیل بن عبد کلاں کے سامنے پیش کیا تو اس نے میری مرضی کے مطابق میری بات کا جواب نہ دیا میں اپنے رخ پر غم زدہ ہو کر چلا اور قرآن الثعالب پہنچ کر کچھ افاقہ ہوا میں نے اپنا سر اٹھایا تو میں نے ایک بادل دیکھا جو مجھ پر سایہ کئے ہوئے تھا پس اس میں سے جبرائیل نے مجھے آواز دی اس نے کہا اللہ رب العزت نے آپ کی قوم کی بات اور ان کا آپ ﷺ کو جواب دینا سن لیا اور آپ ﷺ کے پاس پہاڑوں پر مامور فرشتے کو بھیجا ہے تاکہ آپ ﷺ اسے ان کے بارے میں جو چاہیں حکم دیں پس مجھے پہاڑوں کے فرشتے نے آواز دی اور مجھے سلام کہا پھر کہا اے محمد! ﷺ تحقیق! اللہ نے آپ ﷺ کی قوم کی گفتگو سنی اور میں پہاڑوں پر مامور فرشتہ ہوں اور مجھے آپ ﷺ کے رب نے آپ ﷺ کی طرف بھیجا ہے تاکہ آپ ﷺ اپنے معاملہ میں جو چاہیں مجھے حکم دیں اگر آپ ﷺ چاہیں تو میں ان دو پہاڑوں کو ان پر بچھا دوں رسول اللہ ﷺ نے اسے فرمایا نہیں بلکہ میں امید کرتا ہوں کہ اللہ ان کی اولاد میں سے ایسی قوم کو پیدا کرے گا جو اکیلے اللہ کی عبادت کریں گے اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں گے۔

It has been narrated on the authority of Aisha, the wife of the Prophet ﷺ , who said to the Messenger of Allah ﷺ (may peace he upon him): Messenger of Allah, has there come upon you a day more terrible than the day of Uhud. He said: I have experienced from thy people and the hardest treatment I met from them was what I received from them on the day of Aqabah. I betook myself to Ibn Abd Yalil bin Abd Kulal with the purpose of inviting him to Islam, but he did not respond to me as I desired. So I departed with signs of (deep) distress on my face. I did not recover until I reached Qarn al-Thaalib. Where I raised my head, lo! near me was a cloud which had cast its shadow on me. I looked and lo! there was in it the angel Jibril who called out to me and said.: God the Honoured and Glorious, has heard what thy people have said to thee, and how they have reacted to thy call. And He has sent to thee the angel in charge of the mountains so that thou mayest order him what thou wishest (him to do) with, regard to them. The angel in charge of the mountains (then) called out to me, greeted me and said: Muhammad, God has listened to what thy people have said to thee. I am the angel in charge of the mountains, and thy Lord has sent me to thee so that thou mayest order me what thou wishest. If thou wishest that I should bring together the two mountains that stand opposite to each other at the extremities of Makkah to crush them in between, (I would do that). But the Messenger of Allah ﷺ (may peace he upon him) said to him: I rather hope that God will produce from their descendants such persons as will worship Allah, the One, and will not ascribe partners to Him.

4654Sahih Muslim

نبی کریم ﷺ کی ان تکالیف کے بیان میں جو آپ ﷺ کو مشرکین اور منافقین کی طرف سے دی گئیں

حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ کِلَاهُمَا عَنْ أَبِي عَوَانَةَ قَالَ يَحْيَی أَخْبَرَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ عَنْ جُنْدُبِ بْنِ سُفْيَانَ قَالَ دَمِيَتْ إِصْبَعُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ تِلْکَ الْمَشَاهِدِ فَقَالَ هَلْ أَنْتِ إِلَّا إِصْبَعٌ دَمِيتِ وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ مَا لَقِيتِ

یحییٰ بن یحیی، قتیبہ بن سعید، یحیی، ابوعوانہ، اسود بن قیس، حضرت جندب بن سفیان ؓ سے روایت ہے کہ ان جنگوں میں سے کسی جنگ میں رسول اللہ ﷺ کی انگلی مبارک خون آلود ہوگئی تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا تو تو ایک انگلی ہے جو خون آلود ہوگئی ہے اور تو نے جو شدت اٹھائی ہے وہ اللہ کی راہ میں اٹھائی ہے۔

It has been narrated on the authority of Jundub bin Sufyan who said: A finger of the Messenger of Allah ﷺ was wounded in one of the encounters. He said: Thou art just a little finger which has bled, and what thou hast experienced is in the cause of Allah.

4655Sahih Muslim

نبی کریم ﷺ کی ان تکالیف کے بیان میں جو آپ ﷺ کو مشرکین اور منافقین کی طرف سے دی گئیں

و حَدَّثَنَاه أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ جَمِيعًا عَنْ ابْنِ عُيَيْنَةَ عَنْ الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَقَالَ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَارٍ فَنُکِبَتْ إِصْبَعُهُ

ابوبکر بن ابی شیبہ، اسحاق بن ابراہیم، ابن عیینہ، اسود بن قیس، اس سند سے بھی حدیث روایت کی گئی ہے اس میں یہ بھی ہے کہ رسول اللہ ایک لشکر میں تھے اور آپ ﷺ کی انگلی مبارک زخمی ہوگئی تھی۔

It has been narrated on the authority of Aswad bin Qais who said: The Messenger of Allah ﷺ was in a cave (or raid) when his finger was hurt.

4656Sahih Muslim

نبی کریم ﷺ کی ان تکالیف کے بیان میں جو آپ ﷺ کو مشرکین اور منافقین کی طرف سے دی گئیں

حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنْ الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ أَنَّهُ سَمِعَ جُنْدُبًا يَقُولُا أَبْطَأَ جِبْرِيلُ عَلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ الْمُشْرِکُونَ قَدْ وُدِّعَ مُحَمَّدٌ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَالضُّحَی وَاللَّيْلِ إِذَا سَجَی مَا وَدَّعَکَ رَبُّکَ وَمَا قَلَی

اسحاق بن ابراہیم، سفیان، اسود بن قیس، حضرت جندب ؓ سے روایت ہے کہ ایک دفعہ جبرائیل (علیہ السلام) کو (وحی لانے میں) تاخیر ہوگئی (کچھ عرسہ کے لئے وحی منقطع ہوگئی) تو مشرکین نے کہا محمد ﷺ کو چھوڑ دیا گیا تو اللہ رب العزت نے یہ آیات نازل فرمائیں: " چاشت کے وقت کی قسم اور رات کے وقت کی قسم جب وہ پھیل جائے، آپ ﷺ کو آپ کے پروردگار نے نہ چھوڑا اور نہ ناراض ہوا ہے "۔

It has been narrated on the authority of Aswad bin Qais who heard Jundub saying that Gabriel (علیہ السلام) delayed his visit to the Messenger of Allah ﷺ The polytheists began to say that Muhammad has been forsaken. At this Allah, the Glorious and Exalted, revealed: "Wadduha wal-laili iza saja, ma waddaka Rabbuka wa ma qala" [By the glorious morning light, and by the night when it is still: thy Lord has not forsaken thee, nor is He displeased].

4657Sahih Muslim

نبی کریم ﷺ کی ان تکالیف کے بیان میں جو آپ ﷺ کو مشرکین اور منافقین کی طرف سے دی گئیں

حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ وَاللَّفْظُ لِابْنِ رَافِعٍ قَالَ إِسْحَقُ أَخْبَرَنَا و قَالَ ابْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ عَنْ الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ قَالَ سَمِعْتُ جُنْدُبَ بْنَ سُفْيَانَ يَقُولُا اشْتَکَی رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يَقُمْ لَيْلَتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا فَجَائَتْهُ امْرَأَةٌ فَقَالَتْ يَا مُحَمَّدُ إِنِّي لَأَرْجُو أَنْ يَکُونَ شَيْطَانُکَ قَدْ تَرَکَکَ لَمْ أَرَهُ قَرِبَکَ مُنْذُ لَيْلَتَيْنِ أَوْ ثَلَاثٍ قَالَ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَالضُّحَی وَاللَّيْلِ إِذَا سَجَی مَا وَدَّعَکَ رَبُّکَ وَمَا قَلَی

اسحاق بن ابراہیم، محمد بن رافع، اسحاق، یحییٰ بن آدم، زہیر، اسود بن قیس، حضرت جندب بن ابوسفیان سے روایت ہے کہ رسول اللہ بیمار ہوگئے اور دو یا تین راتیں اٹھ نہ سکے۔ ایک عورت آپ ﷺ کے پاس آئی اور اس نے کہا اے محمد! میں امید کرتی ہوں کہ آپ ﷺ کے شیطان نے آپ ﷺ کو چھوڑ دیا ہے کیونکہ میں نے اسے دو یا تین راتوں سے آپ ﷺ کے پاس نہیں دیکھا تو اللہ رب العزت نے یہ آیات نازل فرمائیں " چاشت کے وقت کی قسم اور رات کی جب وہ چھا جائے آپ ﷺ کے پروردگار نے نہ آپ ﷺ کو چھوڑا اور نہ ناراض ہوا۔

It has been narrated on the authority of Aswad bin Qais who said: I heard Jundub bin Sufyan say: The Messenger of Allah ﷺ fell ill and did not wake up for two or three nights (for prayers). A woman came to him and said: Muhammad, I hope that your satan has left you. I havent seen him approach you for two or three nights. The narrator says: At this, Allah, the Glorious and Exalted, revealed: "By the Glorious......"

4658Sahih Muslim

نبی کریم ﷺ کی ان تکالیف کے بیان میں جو آپ ﷺ کو مشرکین اور منافقین کی طرف سے دی گئیں

و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَابْنُ بَشَّارٍ قَالُوا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ عَنْ شُعْبَةَ ح و حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا الْمُلَائِيُّ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ کِلَاهُمَا عَنْ الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَ حَدِيثِهِمَا

ابوبکر بن ابی شیبہ، محمد بن مثنی، ابن بشار، محمد بن جعفر، شعبہ، اسحاق بن ابراہیم، سفیان، ان اسناد سے بھی یہ حدیث مبارکہ اسی طرح روایت کی گئی ہے۔

This hadith has been narrated on the authority of Aswad bin Qais with the same chain of transmitters.