و حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ يُونُسَ الْحَنَفِيُّ حَدَّثَنَا عِکْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ حَدَّثَنِي إِيَاسُ بْنُ سَلَمَةَ حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ غَزَوْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حُنَيْنًا فَلَمَّا وَاجَهْنَا الْعَدُوَّ تَقَدَّمْتُ فَأَعْلُو ثَنِيَّةً فَاسْتَقْبَلَنِي رَجُلٌ مِنْ الْعَدُوِّ فَأَرْمِيهِ بِسَهْمٍ فَتَوَارَی عَنِّي فَمَا دَرَيْتُ مَا صَنَعَ وَنَظَرْتُ إِلَی الْقَوْمِ فَإِذَا هُمْ قَدْ طَلَعُوا مِنْ ثَنِيَّةٍ أُخْرَی فَالْتَقَوْا هُمْ وَصَحَابَةُ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوَلَّی صَحَابَةُ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَرْجِعُ مُنْهَزِمًا وَعَلَيَّ بُرْدَتَانِ مُتَّزِرًا بِإِحْدَاهُمَا مُرْتَدِيًا بِالْأُخْرَی فَاسْتَطْلَقَ إِزَارِي فَجَمَعْتُهُمَا جَمِيعًا وَمَرَرْتُ عَلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُنْهَزِمًا وَهُوَ عَلَی بَغْلَتِهِ الشَّهْبَائِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَقَدْ رَأَی ابْنُ الْأَکْوَعِ فَزَعًا فَلَمَّا غَشُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَزَلَ عَنْ الْبَغْلَةِ ثُمَّ قَبَضَ قَبْضَةً مِنْ تُرَابٍ مِنْ الْأَرْضِ ثُمَّ اسْتَقْبَلَ بِهِ وُجُوهَهُمْ فَقَالَ شَاهَتْ الْوُجُوهُ فَمَا خَلَقَ اللَّهُ مِنْهُمْ إِنْسَانًا إِلَّا مَلَأَ عَيْنَيْهِ تُرَابًا بِتِلْکَ الْقَبْضَةِ فَوَلَّوْا مُدْبِرِينَ فَهَزَمَهُمْ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَقَسَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَنَائِمَهُمْ بَيْنَ الْمُسْلِمِينَ
زہیر بن حرب، عمر بن یونس، عکرمہ بن عمار، ایاس بن سلمہ، حضرت ایاس بن سلمہ ؓ سے روایت ہے کہ مجھے میرے والد نے حدیث بیان کی کہ ہم نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ غزوہ حنین میں شرکت کی جب ہمارا دشمن سے مقابلہ ہوا تو میں آگے بڑھ کر ایک گھاٹی پر چڑھ گیا سامنے سے دشمن کا ایک آدمی آیا میں نے اسے تیر مارا تو وہ مجھ سے چھپ گیا اور میں نہ جان سکا کہ اس نے کیا کیا ہے میں نے (دشمن) قوم کو دیکھا تو وہ دوسری گھاٹی سے چڑھ رہے تھے ان کا اور نبی ﷺ کا مقابلہ ہوا تو نبی ﷺ کے صحابہ ؓ نے پشت پھیری اور میں بھی شکست کھا کر لوٹا اور مجھ پر دو چادریں تھیں ایک کو میں نے باندھا ہوا تھا اور دوسری کو اوڑھا ہوا تھا میری تہ بند کھل گئی تو میں نے دونوں چادروں کو اکٹھا کرلیا اور میں رسول اللہ ﷺ کے پاس سے شکست خوردہ لوٹا اور آپ ﷺ اپنے شہباء خچر پر سوار تھے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ابن اکوع نے گھبرائے ہوئے دیکھا ہے۔ جب رسول اللہ ﷺ کو (دشمنوں نے) گھیر لیا تو آپ ﷺ خچر سے اترے پھر زمین سے ایک مٹھی مٹی کی بھری اور دشمن کے چہروں کی طرف پھینکتے ہوئے فرمایا چہرے برے ہوگئے اللہ نے ان میں سے ہر انسان کی آنکھوں کو اس مٹھی کی مٹی سے بھر دیا اور وہ پیٹھ پھیر کر بھاگ گئے پس اللہ رب العزت نے انہیں شکست سے دوچار کیا اور رسول اللہ ﷺ نے ان کا مال غنیمت مسلمانوں میں تقسیم کردیا۔
This tradition has been narrated on the authority of Salama who said: We fought by the side of the Messenger of Allah ﷺ at Hunain. When we encountered the enemy, I advanced and ascended a hillock. A man from the enemy side turned towards me and I shot him with an arrow. He (ducked and) hid himself from me. I could not understand what he did, but (all of a sudden) I saw that a group of people appeared from the other hillock. They and the Companions of the Prophet ﷺ met in combat, but the Companions of the Prophet ﷺ turned back and I too turned back defeated. I had two mantles, one of which I was wrapping round the waist (covering the lower part of my body) and the other I was putting around my shoulders. My waist-wrapper got loose and I held the two mantles together. (In this downcast condition) I passed by the Messenger of Allah ﷺ who was riding on his white mule. He said: The son of Akwa finds himself to be utterly perplexed. Where the Companions gathered round him from all sides. the Messenger of Allah ﷺ got down from his mule, picked up a handful of dust from the ground, threw it into their (enemy) faces and said: May these faces be deformed. There was no one among the enemy whose eyes were not filled with the dust from this handful. So they turned back fleeing and Allah the Exalted and Glorious defeated them, and the Messenger of Allah ﷺ distributed their booty among the Muslims.
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَابْنُ نُمَيْرٍ جَمِيعًا عَنْ سُفْيَانَ قَالَ زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ عَمْرٍو عَنْ أَبِي الْعَبَّاسِ الشَّاعِرِ الْأَعْمَی عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ حَاصَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَهْلَ الطَّائِفِ فَلَمْ يَنَلْ مِنْهُمْ شَيْئًا فَقَالَ إِنَّا قَافِلُونَ إِنْ شَائَ اللَّهُ قَالَ أَصْحَابُهُ نَرْجِعُ وَلَمْ نَفْتَتِحْهُ فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اغْدُوا عَلَی الْقِتَالِ فَغَدَوْا عَلَيْهِ فَأَصَابَهُمْ جِرَاحٌ فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّا قَافِلُونَ غَدًا قَالَ فَأَعْجَبَهُمْ ذَلِکَ فَضَحِکَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
س ابوبکر بن ابی شیبہ، زہیر بن حرب، ابن نمیر، سفیان، زہیر، سفیان بن عیینہ، عمرو، ابن عباس، شاعر اسعمی، حضرت عبداللہ بن عمرو ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے طائف والوں کا محاصرہ کیا لیکن کامیابی حاصل نہ ہوسکی تو فرمایا ہم انشاء اللہ لوٹ جائیں گے آپ ﷺ کے صحابہ ؓ نے عرض کیا ہم بغیر فتح کے لوٹیں گے تو رسول اللہ ﷺ نے انہیں فرمایا تم کل صبح جنگ کرنا چناچہ صبح ان پر حملہ کردیا اور زخمی ہوگئے تو رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا ہم کل صبح واپس چلے جائیں گے صحابہ ؓ نے اس بات کو پسند کیا تو رسول اللہ ﷺ مسکرا دیے۔
It has been narrated on the authority of Ibn Amr who said: The Messenger of Allah ﷺ besieged the people of Taif, but did get victory over them. He said: God willing, we shall return. His Companions said: Shall we depart without having conquered it? The Messenger of Allah ﷺ said: (All right) make a raid in the morning. They did so and were wounded (with the arrows showered upon them). So the Messenger of Allah ﷺ said: We shall depart tomorrow. (The narrator says): (Now) this (announcement) pleased them, and the Messenger of Allah ﷺ laughed at (their waywardness).
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَاوَرَ حِينَ بَلَغَهُ إِقْبَالُ أَبِي سُفْيَانَ قَالَ فَتَکَلَّمَ أَبُو بَکْرٍ فَأَعْرَضَ عَنْهُ ثُمَّ تَکَلَّمَ عُمَرُ فَأَعْرَضَ عَنْهُ فَقَامَ سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ فَقَالَ إِيَّانَا تُرِيدُ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوْ أَمَرْتَنَا أَنْ نُخِيضَهَا الْبَحْرَ لَأَخَضْنَاهَا وَلَوْ أَمَرْتَنَا أَنْ نَضْرِبَ أَکْبَادَهَا إِلَی بَرْکِ الْغِمَادِ لَفَعَلْنَا قَالَ فَنَدَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّاسَ فَانْطَلَقُوا حَتَّی نَزَلُوا بَدْرًا وَوَرَدَتْ عَلَيْهِمْ رَوَايَا قُرَيْشٍ وَفِيهِمْ غُلَامٌ أَسْوَدُ لِبَنِي الْحَجَّاجِ فَأَخَذُوهُ فَکَانَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْأَلُونَهُ عَنْ أَبِي سُفْيَانَ وَأَصْحَابِهِ فَيَقُولُ مَا لِي عِلْمٌ بِأَبِي سُفْيَانَ وَلَکِنْ هَذَا أَبُو جَهْلٍ وَعُتْبَةُ وَشَيْبَةُ وَأُمَيَّةُ بْنُ خَلَفٍ فَإِذَا قَالَ ذَلِکَ ضَرَبُوهُ فَقَالَ نَعَمْ أَنَا أُخْبِرُکُمْ هَذَا أَبُو سُفْيَانَ فَإِذَا تَرَکُوهُ فَسَأَلُوهُ فَقَالَ مَا لِي بِأَبِي سُفْيَانَ عِلْمٌ وَلَکِنْ هَذَا أَبُو جَهْلٍ وَعُتْبَةُ وَشَيْبَةُ وَأُمَيَّةُ بْنُ خَلَفٍ فِي النَّاسِ فَإِذَا قَالَ هَذَا أَيْضًا ضَرَبُوهُ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَائِمٌ يُصَلِّي فَلَمَّا رَأَی ذَلِکَ انْصَرَفَ قَالَ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَتَضْرِبُوهُ إِذَا صَدَقَکُمْ وَتَتْرُکُوهُ إِذَا کَذَبَکُمْ قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَذَا مَصْرَعُ فُلَانٍ قَالَ وَيَضَعُ يَدَهُ عَلَی الْأَرْضِ هَاهُنَا هَاهُنَا قَالَ فَمَا مَاطَ أَحَدُهُمْ عَنْ مَوْضِعِ يَدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
ابوبکر بن ابی شیبہ، عفان، حماد بن سلمہ، ثابت، حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مشورہ فرمایا جب ابوسفیان کے آنے کی خبر آپ ﷺ کو پہنچی حضرت ابوبکر ؓ نے گفتگو کی تو اس سے اعراض کیا پھر عمر نے گفتگو کی تو اس سے اعراض کیا پھر حضرت سعد بن عبادہ کھڑے ہوئے اور عرض کیا آپ ﷺ کی مراد ہم سے ہے اے اللہ کے رسول ﷺ اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے اگر آپ ﷺ ہمیں سمندر میں گھوڑے دوڑانے کا حکم دیں تو ہم انہیں ڈال دیں گے اگر آپ ﷺ ہمیں ان کے سینے برک الغماد سے ٹکرا دینے کا حکم دیں تو ہم کر گزریں گے پس رسول اللہ ﷺ نے صحابہ ؓ کو بلایا اور چلے یہاں تک کہ مقام بدر پر جا کر اترے اور ان پر قریش کے پانی پلانے والے گزرے اور ان میں بنو حجاج کا سیاہ فام غلام بھی تھا صحابہ نے اسے پکڑ لیا اور رسول اللہ ﷺ کے صحابہ اس سے ابوسفیان اور اس کے ساتھیوں کے بارے میں پوچھنے لگے تو اس نے کہا مجھے ابوسفیان کے بارے میں معلوم نہیں لیکن ابوجہل، عتبہ، شیبہ، امیہ بن خلف یہ سامنے ہیں جب اس نے یہ کہا تو صحابہ نے اسے مارا تو اس نے کہا ہاں میں تمہیں ابوسفیان کی خبر دیتا ہوں کہ ابوسفیان یہ ہے صحابہ نے اسے چھوڑ دیا پھر پوچھا تو اس نے کہا مجھے ابوسفیان کے بارے میں معلوم نہیں بلکہ ابوجہل، عتبہ، شیبہ اور امیہ بن خلف یہاں لوگوں میں ہیں اس نے جب یہ کہا تو صحابہ ؓ نے اسے پھر مارا اور رسول اللہ ﷺ کھڑے نماز پڑھ رہے تھے جب نبی ﷺ نے یہ کیفیت دیکھی تو نماز سے فارغ ہونے کے بعد فرمایا اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے جب یہ سچ کہتا ہے تو تم اسے مارتے ہو اور جب تم سے جھوٹ کہتا ہے تو چھوڑ دیتے ہو پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا یہ فلاں (کافر) کی قتل گاہ ہے اور رسول اللہ ﷺ زمین پر اس، اس جگہ اپنا ہاتھ مبارک رکھتے تھے انس کہتے ہیں ان میں سے کوئی بھی (کافر) رسول اللہ ﷺ کے ہاتھ رکھنے کی جگہ سے ادھر ادھر متجاوز نہ ہوا۔ (عین اسی جگہ جہنم رسید ہوا)
It has been narrated on the authority of Anas that when (the news of) the advance of Abu Sufyan (RA) (at the head of a force) reached him, the Messenger of Allah ﷺ held consultations with his Companions. The narrator said: Abu Bakr (RA) spoke (expressing his own views), but he (the Holy Prophet) did not pay heed to him. Then spoke Umar (expressing his views), but he (the Holy Prophet) did not pay heed to him (too). Then Sad bin Ubadah stood up and said: Messenger of Allah, you want us (to speak). By God in Whose control is my life, if you order us to plunge our horses into the sea, we would do so. If you order us to goad our horses to the most distant place like Bark al-Ghimad, we would do so. The narrator said: Now the Messenger of Allah ﷺ called upon the people (for the encounter). So they set out and encamped at Badr. (Soon) the water-carriers of the Quraish arrived. Among them was a black slave belonging to Banu al-Hajjaj. The Companions of the Messenger of Allah ﷺ caught him and interrogated him about Abu Sufyan (RA) and his companions. He said: I know nothing about Abu Sufyan (RA) , but Abu Jahl, Utba, Shaiba and Umayya bin Khalaf are there. When he said this, they beat him. Then he said: All right, I will tell you about Abu Sufyan (RA) . They would stop beating him and then ask him (again) about Abu Sufyan (RA) . He would again say, I know nothing about Abu Sufyan (RA) , but Abu Jahl, Utba, Shaiba and Umayya bin Khalaf are there. When he said this, they beat him likewise. The Messenger of Allah ﷺ was standing in prayer. When he saw this he finished his prayer and said: By Allah in Whose control is my life, you beat him when he is telling you the truth, and you let him go when he tells you a lie. The narrator said: Then the Messenger of Allah ﷺ said: This is the place where so and so would be killed. He placed his hand on the earth (saying) here and here; (and) none of them fell away from the place which the Messenger of Allah ﷺ had indicated by placing his hand on the earth.
حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ حَدَّثَنَا ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَبَاحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ وَفَدَتْ وُفُودٌ إِلَی مُعَاوِيَةَ وَذَلِکَ فِي رَمَضَانَ فَکَانَ يَصْنَعُ بَعْضُنَا لِبَعْضٍ الطَّعَامَ فَکَانَ أَبُو هُرَيْرَةَ مِمَّا يُکْثِرُ أَنْ يَدْعُوَنَا إِلَی رَحْلِهِ فَقُلْتُ أَلَا أَصْنَعُ طَعَامًا فَأَدْعُوَهُمْ إِلَی رَحْلِي فَأَمَرْتُ بِطَعَامٍ يُصْنَعُ ثُمَّ لَقِيتُ أَبَا هُرَيْرَةَ مِنْ الْعَشِيِّ فَقُلْتُ الدَّعْوَةُ عِنْدِي اللَّيْلَةَ فَقَالَ سَبَقْتَنِي قُلْتُ نَعَمْ فَدَعَوْتُهُمْ فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ أَلَا أُعْلِمُکُمْ بِحَدِيثٍ مِنْ حَدِيثِکُمْ يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ ثُمَّ ذَکَرَ فَتْحَ مَکَّةَ فَقَالَ أَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّی قَدِمَ مَکَّةَ فَبَعَثَ الزُّبَيْرَ عَلَی إِحْدَی الْمُجَنِّبَتَيْنِ وَبَعَثَ خَالِدًا عَلَی الْمُجَنِّبَةِ الْأُخْرَی وَبَعَثَ أَبَا عُبَيْدَةَ عَلَی الْحُسَّرِ فَأَخَذُوا بَطْنَ الْوَادِي وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي کَتِيبَةٍ قَالَ فَنَظَرَ فَرَآنِي فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ قُلْتُ لَبَّيْکَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ لَا يَأْتِينِي إِلَّا أَنْصَارِيٌّ زَادَ غَيْرُ شَيْبَانَ فَقَالَ اهْتِفْ لِي بِالْأَنْصَارِ قَالَ فَأَطَافُوا بِهِ وَوَبَّشَتْ قُرَيْشٌ أَوْبَاشًا لَهَا وَأَتْبَاعًا فَقَالُوا نُقَدِّمُ هَؤُلَائِ فَإِنْ کَانَ لَهُمْ شَيْئٌ کُنَّا مَعَهُمْ وَإِنْ أُصِيبُوا أَعْطَيْنَا الَّذِي سُئِلْنَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَرَوْنَ إِلَی أَوْبَاشِ قُرَيْشٍ وَأَتْبَاعِهِمْ ثُمَّ قَالَ بِيَدَيْهِ إِحْدَاهُمَا عَلَی الْأُخْرَی ثُمَّ قَالَ حَتَّی تُوَافُونِي بِالصَّفَا قَالَ فَانْطَلَقْنَا فَمَا شَائَ أَحَدٌ مِنَّا أَنْ يَقْتُلَ أَحَدًا إِلَّا قَتَلَهُ وَمَا أَحَدٌ مِنْهُمْ يُوَجِّهُ إِلَيْنَا شَيْئًا قَالَ فَجَائَ أَبُو سُفْيَانَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أُبِيحَتْ خَضْرَائُ قُرَيْشٍ لَا قُرَيْشَ بَعْدَ الْيَوْمِ ثُمَّ قَالَ مَنْ دَخَلَ دَارَ أَبِي سُفْيَانَ فَهُوَ آمِنٌ فَقَالَتْ الْأَنْصَارُ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ أَمَّا الرَّجُلُ فَأَدْرَکَتْهُ رَغْبَةٌ فِي قَرْيَتِهِ وَرَأْفَةٌ بِعَشِيرَتِهِ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ وَجَائَ الْوَحْيُ وَکَانَ إِذَا جَائَ الْوَحْيُ لَا يَخْفَی عَلَيْنَا فَإِذَا جَائَ فَلَيْسَ أَحَدٌ يَرْفَعُ طَرْفَهُ إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّی يَنْقَضِيَ الْوَحْيُ فَلَمَّا انْقَضَی الْوَحْيُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ قَالُوا لَبَّيْکَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ قُلْتُمْ أَمَّا الرَّجُلُ فَأَدْرَکَتْهُ رَغْبَةٌ فِي قَرْيَتِهِ قَالُوا قَدْ کَانَ ذَاکَ قَالَ کَلَّا إِنِّي عَبْدُ اللَّهِ وَرَسُولُهُ هَاجَرْتُ إِلَی اللَّهِ وَإِلَيْکُمْ وَالْمَحْيَا مَحْيَاکُمْ وَالْمَمَاتُ مَمَاتُکُمْ فَأَقْبَلُوا إِلَيْهِ يَبْکُونَ وَيَقُولُونَ وَاللَّهِ مَا قُلْنَا الَّذِي قُلْنَا إِلَّا الضِّنَّ بِاللَّهِ وَبِرَسُولِهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ يُصَدِّقَانِکُمْ وَيَعْذِرَانِکُمْ قَالَ فَأَقْبَلَ النَّاسُ إِلَی دَارِ أَبِي سُفْيَانَ وَأَغْلَقَ النَّاسُ أَبْوَابَهُمْ قَالَ وَأَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّی أَقْبَلَ إِلَی الْحَجَرِ فَاسْتَلَمَهُ ثُمَّ طَافَ بِالْبَيْتِ قَالَ فَأَتَی عَلَی صَنَمٍ إِلَی جَنْبِ الْبَيْتِ کَانُوا يَعْبُدُونَهُ قَالَ وَفِي يَدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَوْسٌ وَهُوَ آخِذٌ بِسِيَةِ الْقَوْسِ فَلَمَّا أَتَی عَلَی الصَّنَمِ جَعَلَ يَطْعُنُهُ فِي عَيْنِهِ وَيَقُولُ جَائَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ طَوَافِهِ أَتَی الصَّفَا فَعَلَا عَلَيْهِ حَتَّی نَظَرَ إِلَی الْبَيْتِ وَرَفَعَ يَدَيْهِ فَجَعَلَ يَحْمَدُ اللَّهَ وَيَدْعُو بِمَا شَائَ أَنْ يَدْعُوَ
شیبان بن فروخ، سلیمان بن مغیرہ، ثابت بنانی، عبداللہ بن رباح، ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رمضان المبارک میں کئی وفد حضرت معاویہ ؓ کے پاس پہنچے اور ہم ایک دوسرے کے لئے کھانا تیار کرتے تھے اور ابوہریرہ ؓ ہمیں اکثر اپنے ٹھکانے پر بلاتے تھے میں نے کہا کیا میں کھانا نہ پکاؤں اور پھر انہیں اپنے مکان پر آنے کی دعوت دوں تو میں نے کھانا تیار کرنے کا حکم دیا پھر شام کے وقت میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے ملا تو میں نے کہا آج رات میرے ہاں دعوت ہے انہوں نے کہا تم نے مجھ پر سبقت حاصل کرلی ہے میں نے کہا جی ہاں میں نے انہیں دعوت دی ہے حضرت ابوہریرہ ؓ نے کہا اے انصار کی جماعت کیا میں تمہیں تمہارے بارے میں حدیث کی خبر نہ دوں۔ پھر فتح مکہ کا ذکر کیا تو کہا رسول اللہ ﷺ (مدینہ سے) چل کر مکہ پہنچے اور دو اطراف میں سے ایک جانب آپ ﷺ نے زبیر کو اور دوسری جانب خالد کو بھیجا اور ابوعبیدہ کو بےزرہ لوگوں پر امیر بنا کر بھیجا۔ وہ وادی کے اندر سے گزرے اور رسول اللہ ﷺ الگ ایک فوجی دستہ میں رہ گئے۔ آپ ﷺ نے نظر اٹھا کر مجھے دیکھا تو فرمایا ابوہریرہ! (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول! میں حاضر ہوں آپ ﷺ نے فرمایا میرے پاس انصار کے علاوہ کوئی نہ آئے۔ دوسری روایت میں ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا انصار کو میرے پاس (آنے کی) آواز دو۔ پس وہ سب آپ ﷺ کے اردگرد جمع ہوگئے اور قریش نے بھی اپنے حماتیی اور متبعین کو اکٹھا کرلیا اور کہا: ہم ان کو آگے بھیج دیتے ہیں اگر انہیں کوئی فائدہ حاصل ہوا تو ہم بھی ان کے ساتھ شریک ہوجائیں گے اور اگر انہیں کچھ ہوگیا تو ہم سے جو کچھ مانگا جائے گا دے دیں گے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم قریش کے حمایتیوں اور متبعین کو دیکھ رہے ہو، تو اپنے ایک ہاتھ کو دوسرے ہاتھ پر مار کر فرمایا اور تم مجھ سے کوہ صفا پر ملاقات کرنا ہم چل دیئے اور ہم میں سے جو کسی کو قتل کرنا چاہتا تو کردیتا اور ان میں سے کوئی بھی ہمارا مقابلہ نہ کرسکتا پس ابوسفیان نے آکر عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ قریش کی سرداری ختم ہوگئی آج کے بعد کوئی قریشی نہ رہے گا پھر آپ ﷺ نے فرمایا جو ابوسفیان کے گھر میں داخل ہوجائے وہ امن میں رہے گا انصار نے ایک دوسرے سے کہا آپ ﷺ کو اپنے شہر کی محبت اور اپنے قرابت داروں کے ساتھ نرمی غالب آگئی ہے ابوہریرہ ؓ نے کہا آپ ﷺ پر وحی آئی اور جب آپ ﷺ پر وحی نازل ہوتی تھی تو کوئی بھی رسول اللہ کی طرف نظر اٹھا کر دیکھ نہ سکتا تھا یہاں تک کہ وحی ختم ہوجاتی پس جب وحی پوری ہوگئی تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اے انصار کی جماعت انہوں نے کہا لبیک اے اللہ کے رسول! آپ ﷺ نے فرمایا تم نے کہا ہے کہ اس شخص کو اپنے شہر کی محبت غالب آگئی ہے انہوں نے عرض کیا واقعہ تو یہی ہوا تھا آپ ﷺ نے فرمایا ہرگز نہیں میں اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ہوں میں نے اللہ اور تمہاری طرف ہجرت کی ہے اب میری زندگی تمہاری زندگی کے ساتھ اور موت تمہاری موت کے ساتھ ہے پس (انصار) روتے ہوئے آپ ﷺ کی طرف بڑھے اور عرض کرنے لگے اللہ کی قسم ہم نے جو کچھ کہا وہ صرف اور صرف اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی محبت کی حرص میں کہا تھا رسول اللہ ﷺ نے فرمایا بیشک اللہ اور اس کا رسول تمہاری تصدیق کرتے ہیں اور تمہارا عذر قبول کرتے ہیں پس لوگ ابوسفیان کے گھر کی طرف جانے لگے اور کچھ لوگوں نے اپنے دروازے بند کر لئے رسول اللہ ﷺ روانہ ہو کر حجر اسود تک پہنچے اور اسے بوسہ دیا پھر بیت اللہ کا طواف کیا کعبہ کے ایک کونے میں موجود ایک بت کے پاس آئے جس کی وہ پرستش کرتے تھے اور رسول اللہ ﷺ کے ہاتھ مبارک میں ایک کمان تھی جس کا کونا آپ ﷺ پکڑے ہوئے تھے جب بت کے پاس آئے تو آپ ﷺ نے اس کی آنکھوں میں اس کمان کا کونا چبھونا شروع کردیا اور فرماتے تھے حق آگیا اور باطل چلا گیا جب آپ ﷺ اپنے طواف سے فارغ ہوئے تو کوہ صفا کی طرف آئے اور اس پر چڑھ کر بیت اللہ کی طرف نظر دوڑائی اور آپ نے ہاتھوں کو بلند کیا اور اللہ کی حمد وثناء شروع کردی اور پھر جو چاہا اللہ سے مانگتے رہے۔
It has been narrated by Abdullah bin Rabah from Abu Hurairah (RA) , who said: Many deputations came to Muawiyah. This was in the month of Ramadan. We would prepare food for one another. Abu Hurairah (RA) was one of those who frequently invited us to his house. I said: Should I not prepare food and invite them to my place? So I ordered meals to be prepared Then I met Abu Hurairah (RA) in the evening and said: (You will have) your meals with me tonight. He said: You have forestalled me. I said: Yes, and invited them. (When they had finished with the meals) Abu Hurairah (RA) said: Should I not tell yon a tradition from your traditions, O ye assembly of the Ansar? He then gave an account of the Conquest of Makkah and said: The Messenger of Allah ﷺ advanced until he reached Makkah. He deputed Zubair on his right flank and Khalid on the left, and he despatched Abu Ubaida with the force that had no armour. They advanced to the interior of the valley. The Messenger of Allah ﷺ was in the midst of a large contingent of fighters. He saw me and said: Abu Hurairah (RA) . I said: I am here at your call, Messenger of Allah. He said: Let no one come to me except the Ansar, so call to me the Ansar (only). Abu Hurairah (RA) continued: So they gathered round him. The Quraish also gathered their ruffians and their (lowly) followers, and said: We send these forward. If they get anything, we shall be with them (to share it), and if misfortune befalls them, we shall pay (as compensation) whatever we are asked for. The Messenger of Allah ﷺ said (to the Ansar): You see the ruffians and the (lowly) followers of the Quraish. And he indicated by (striking) one of his hands over the other that they should be killed and said: Meet me at as-Safa. Then we went on (and) if any one of us wanted that a certain person should be killed, he was killed, and none could offer any resistance. Abu Hurairah (RA) continued: Then came Abu Sufyan (RA) and said: Messenger of Allah, the blood of the Quraish has become very cheap. There will be no Quraish from this day on.
Then he (the Holy Prophet) said: Who enters the house of Abu Sufyan (RA) , he will be safe. Some of the Ansar whispered among themselves: (After all), love for his city and tenderness towards his relations have overpowered him. Abu Hurairah (RA) said: (At this moment) revelation came to the Holy Prophet ﷺ and when he was going to receive the Revelation, we understood it, and when he was (actually) receiving it, none of us would dare raise his eyes to the Messenger of Allah ﷺ until the revelation came to an end. When the revelation came to an end, the Messenger of Allah ﷺ said: O ye Assembly of the Ansar! They said: Here we are at your disposal, Messenger of Allah. He said: You were saying that love for his city and tenderness towards his people have overpowered this man. They said: So it was. He said: No, never. I am a bondman of God and His Messenger. I migrated towards God and towards you. I will live with you and will die with you. So, they (the Ansar) turned towards him in tears and they were saying: By Allah, we said what we said because of our tenacious attachment to Allah and His Messenger. The Messenger of Allah ﷺ said: Surely, Allah and His Messenger testify to your assertions and accept your apology. The narrator continued: People turned to the house of Abu Sufyan (RA) and people locked their doors. The Messenger of Allah ﷺ proceeded until he approached the (Black) Stone. He kissed it and circumambulated the Ka’bah. He reached near an idol by the side of the Ka’bah which was worshipped by the people. The Messenger of Allah ﷺ had a bow in his hand, and he was holding it from a corner. When he came near the idol, he began to pierce its eyes with the bow and (while doing so) was saying: Truth has been established and falsehood has perished. When he had finished the circumambulation, he came to Safa, ascended it to a height from where he could see the Ka’bah, raised his hands (in prayer) and began to praise Allah and prayed what he wanted to pray.
و حَدَّثَنِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هَاشِمٍ حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَزَادَ فِي الْحَدِيثِ ثُمَّ قَالَ بِيَدَيْهِ إِحْدَاهُمَا عَلَی الْأُخْرَی احْصُدُوهُمْ حَصْدًا وَقَالَ فِي الْحَدِيثِ قَالُوا قُلْنَا ذَاکَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ فَمَا اسْمِي إِذًا کَلَّا إِنِّي عَبْدُ اللَّهِ وَرَسُولُهُ
عبداللہ بن ہاشم، بہز، سلیمان بن مغیرہ اس سند بھی یہ حدیث مروی ہے اس میں مزید اضافہ یہ ہے کہ پھر آپ ﷺ نے اپنا ایک ہاتھ دوسرے ہاتھ پر رکھ کر فرمایا انصار نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ ہم نے اسی طرح کہا آپ ﷺ نے فرمایا اس وقت میرا نام کیا ہوگا ہرگز نہیں میں اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ﷺ ہوں۔
The tradition has been narrated by a different chain of transmitters with the following additions: Then he (the Messenger of Allah) ﷺ said with his hands one upon the other: Kill them (who stand in your way).... (ii) They (the Ansar) replied: We said so, Messenger of Allah! ﷺ He said: What is my name? I am but Allahs bondman and His Messenger.
حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ حَسَّانَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَبَاحٍ قَالَ وَفَدْنَا إِلَی مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ وَفِينَا أَبُو هُرَيْرَةَ فَکَانَ کُلُّ رَجُلٍ مِنَّا يَصْنَعُ طَعَامًا يَوْمًا لِأَصْحَابِهِ فَکَانَتْ نَوْبَتِي فَقُلْتُ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ الْيَوْمُ نَوْبَتِي فَجَائُوا إِلَی الْمَنْزِلِ وَلَمْ يُدْرِکْ طَعَامُنَا فَقُلْتُ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ لَوْ حَدَّثْتَنَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّی يُدْرِکَ طَعَامُنَا فَقَالَ کُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْفَتْحِ فَجَعَلَ خَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ عَلَی الْمُجَنِّبَةِ الْيُمْنَی وَجَعَلَ الزُّبَيْرَ عَلَی الْمُجَنِّبَةِ الْيُسْرَی وَجَعَلَ أَبَا عُبَيْدَةَ عَلَی الْبَيَاذِقَةِ وَبَطْنِ الْوَادِي فَقَالَ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ ادْعُ لِي الْأَنْصَارَ فَدَعَوْتُهُمْ فَجَائُوا يُهَرْوِلُونَ فَقَالَ يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ هَلْ تَرَوْنَ أَوْبَاشَ قُرَيْشٍ قَالُوا نَعَمْ قَالَ انْظُرُوا إِذَا لَقِيتُمُوهُمْ غَدًا أَنْ تَحْصُدُوهُمْ حَصْدًا وَأَخْفَی بِيَدِهِ وَوَضَعَ يَمِينَهُ عَلَی شِمَالِهِ وَقَالَ مَوْعِدُکُمْ الصَّفَا قَالَ فَمَا أَشْرَفَ يَوْمَئِذٍ لَهُمْ أَحَدٌ إِلَّا أَنَامُوهُ قَالَ وَصَعِدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّفَا وَجَائَتْ الْأَنْصَارُ فَأَطَافُوا بِالصَّفَا فَجَائَ أَبُو سُفْيَانَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أُبِيدَتْ خَضْرَائُ قُرَيْشٍ لَا قُرَيْشَ بَعْدَ الْيَوْمِ قَالَ أَبُو سُفْيَانَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ دَخَلَ دَارَ أَبِي سُفْيَانَ فَهُوَ آمِنٌ وَمَنْ أَلْقَی السِّلَاحَ فَهُوَ آمِنٌ وَمَنْ أَغْلَقَ بَابَهُ فَهُوَ آمِنٌ فَقَالَتْ الْأَنْصَارُ أَمَّا الرَّجُلُ فَقَدْ أَخَذَتْهُ رَأْفَةٌ بِعَشِيرَتِهِ وَرَغْبَةٌ فِي قَرْيَتِهِ وَنَزَلَ الْوَحْيُ عَلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ قُلْتُمْ أَمَّا الرَّجُلُ فَقَدْ أَخَذَتْهُ رَأْفَةٌ بِعَشِيرَتِهِ وَرَغْبَةٌ فِي قَرْيَتِهِ أَلَا فَمَا اسْمِي إِذًا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ أَنَا مُحَمَّدٌ عَبْدُ اللَّهِ وَرَسُولِهِ هَاجَرْتُ إِلَی اللَّهِ وَإِلَيْکُمْ فَالْمَحْيَا مَحْيَاکُمْ وَالْمَمَاتُ مَمَاتُکُمْ قَالُوا وَاللَّهِ مَا قُلْنَا إِلَّا ضِنًّا بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ قَالَ فَإِنَّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ يُصَدِّقَانِکُمْ وَيَعْذِرَانِکُمْ
عبداللہ بن عبدالرحمن دارمی، یحییٰ بن حسان، حماد بن سلمہ، ثابت بن عبداللہ بن رباح، حضرت عبدالرحمن بن رباح ؓ سے روایت ہے کہ ہم حضرت معاویہ بن ابوسفیان کے پاس گئے اور ہم میں حضرت ابوہریرہ ؓ بھی تھے اور ہم میں سے ایک آدمی ایک دن اپنے ساتھیوں کے لئے کھانا پکاتا تھا میری باری تھی تو میں نے کہا اے ابوہریرہ! (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) آج میری باری ہے۔ پس وہ (سب ساتھی) گھر آگئے لیکن کھانا ابھی تک تیار نہ ہوا تھا۔ تو میں نے کہا اے ابوہریرہ! کاش آپ ہمیں کھانا تیار ہونے تک رسول اللہ ﷺ کی کوئی حدیث بیان کردیتے۔ تو انہوں نے کہا فتح مکہ کے دن ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے۔ آپ ﷺ نے خالد بن ولید کو دائیں طرف لشکر پر اور زبیر کو بائیں طرف کے لشکر پر اور ابوعبیدہ کو پیدل لشکر پر امیر مقرر کر کے وادی کے اندر روانہ فرمایا۔ پھر آپ ﷺ نے فرمایا اے ابوہریرہ میرے پاس انصار کو بلاؤ میں نے انہیں بلایا تو وہ دوڑتے ہوئے حاضر ہوئے آپ ﷺ نے فرمایا اے انصار کی جماعت کیا تم قریش کے کمینے لوگوں کو دیکھ رہے ہو؟ انہوں نے عرض کیا جی ہاں آپ ﷺ نے فرمایا انہیں دیکھ لو جب کل تم ان سے مقابلہ کرو تو انہیں کھیتی کی طرح کاٹ دینا۔ آپ ﷺ نے اپنا دایاں ہاتھ بائیں پر رکھ کر اشارہ فرمایا اور فرمایا تمہارے ملنے کی جگہ صفا ہے اس دن ان کا جو شخص بھی انصار کو ملا اسے انصار نے سلا دیا اور رسول اللہ ﷺ کوہ صفا پر چڑھے اور انصار نے حاضر ہو کر صفا کو گھیر لیا۔ پس ابوسفیان نے حاضر ہو کر عرض کیا اے اللہ کے رسول قریش کی تمام جماعتیں ختم ہوگئیں آج کے بعد کوئی قریشی نہ ہوگا ابوسفیان نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے اعلان فرمایا جو ابوسفیان کے گھر میں داخل ہوجائے اسے امن ہوگا اور جو ہتھیار ڈال دے وہ بھی مامون ہوگا اور جو اپنا دروازہ بند کرلے وہ بھی بحفاظت رہے گا۔ انصار نے کہا (آپ ﷺ ایسے آدمی ہیں جنہیں اپنے خاندان کے ساتھ نرمی اور اپنے وطن کی محبت پیدا ہوگئی ہے اور اللہ کے رسول پر وحی نازل ہوئی۔ آپ ﷺ نے فرمایا تم نے یہ کہا تھا کہ اس آدمی ﷺ کو اپنے خاندان کے ساتھ نرمی کرنے اور اپنے وطن کی محبت پیدا ہوگئی ہے۔ کیا تم جانتے ہو اس وقت میرا نام کیا ہوگا؟ آپ ﷺ نے تین بار یہ فرمایا کہ میں محمد ﷺ ہوں، اللہ کا بندہ اور اس کا رسول۔ میں نے اللہ اور تمہاری طرف ہجرت کی ہے۔ میرا جینا تمہارے ساتھ اور میرا مرنا بھی تمہارے ساتھ ہوگا۔ انصار نے عرض کیا اللہ کی قسم ہم نے یہ بات صرف اور صرف اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے ساتھ محبت کی حرص میں ہی کی تھی۔ آپ ﷺ نے فرمایا بیشک اللہ اور اس کا رسول تمہاری تصدیق کرتے ہیں اور تمہارا عذر قبول کرتے ہیں۔
It has been narrated on the authority ofAbdullah bin Rabah who said: We came to Muawiyah bin Abu Sufyan (RA) as a deputation and Abu Hurairah (RA) was among us. Each of us would prepare food for his companions turn by turn for a day. (Accordingly) when it was my turn I said: Abu Hurairah (RA) , it is my turn today. So they came to my place. The food was not yet ready, so I said to Abu Hurairah (RA) : I wish you could narrate to us a tradition from the Messenger of Allah ﷺ until the food was ready. (Complying with my request) Abu Hurairah (RA) said: We were with the Messenger of Allah ﷺ on the day of the Conquest of Makkah. He appointed Khalid bin Walid as commander of the right flank, Zubair as commander of the left flank, and Abu Ubaida as commander of the foot-soldiers (who were to advance) to the interior of the valley. He (then) said: Abu Hurairah (RA) , call the Ansar to me. So I called out to them and they came hurriedly. He said: O ye Assembly of the Ansaar, do you see the ruffians of the Quraish? They said: Yes. He said: See, when you meet them tomorrow, wipe them out. He hinted at this with his hand, placing his right hand on his left and said: You will meet us at as-Safa. ( Abu Hurairah (RA) continued): Whoever was seen by them that day was put to death. The Messenger of Allah ﷺ ascended the mount of as-Safa. The Ansar also came there and surrounded the mount. Then came Abu Sufyan (RA) and said: Messenger ot Allah, the Quraish have perished. No member of the Quraish tribe will survive this day. The Messenger of Allah ﷺ said: Who enters the house of Abu Safyan will be safe, who lays down arms will be safe, who locks his door will be safe. (Some of) the Ansar said: (After all) the man has been swayed by tenderness towards his family and love for his city. At this, Divine inspiration descended upon the Messenger of Allah ﷺ . He said: You were saying that the man has been swayed by tenderness towards his family and love for his city. Do you know what my name is? I am Muhammad, the bondman of God and His Messenger. (He repeated this thrice.) I left my native place for the sake of Allah and joined you. So I will live with you and die with you. Now the Ansar said: By God, we said (that) only out of our greed for Allah and His Messenger. He said: Allah and His Apostle ﷺ testify to you and accept your apology.
کعبہ کے ارد گرد سے بتوں کو ہٹانے کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَعَمْرٌو النَّاقِدُ وَابْنُ أَبِي عُمَرَ وَاللَّفْظُ لِابْنِ أَبِي شَيْبَةَ قَالُوا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ دَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَکَّةَ وَحَوْلَ الْکَعْبَةِ ثَلَاثُ مِائَةٍ وَسِتُّونَ نُصُبًا فَجَعَلَ يَطْعُنُهَا بِعُودٍ کَانَ بِيَدِهِ وَيَقُولُ جَائَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ إِنَّ الْبَاطِلَ کَانَ زَهُوقًا جَائَ الْحَقُّ وَمَا يُبْدِئُ الْبَاطِلُ وَمَا يُعِيدُ زَادَ ابْنُ أَبِي عُمَرَ يَوْمَ الْفَتْحِ
ابوبکر بن ابی شیبہ، عمرو ناقد، ابن ابی عمر، ابن ابی شیبہ، سفیان بن عیینہ، ابن ابی نجیح، مجاہد ابومعمر، حضرت عبداللہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ مکہ میں داخل ہوئے اور کعبہ کے ارد گرد تین سو ساٹھ بت رکھے ہوئے تھے آپ ﷺ نے اپنے ہاتھ میں موجود لکڑی انہیں چبھونا شروع کردی اور فرما رہے تھے حق آگیا اور باطل چلا گیا بیشک باطل جانے ہی والا ہے حق آگیا اور باطل کسی چیز کو پیدا کرتا ہے اور نہ لوٹاتا ہے ابن ابی عمر ؓ نے فتح مکہ کے دن اضافہ کیا ہے۔
It has been narrated by IbnAbdullah who said: The Holy Prophet ﷺ entered Makkah. There were three hundred and sixty idols around the Ka’bah. He began to thrust them with the stick that was in his hand saying: "Truth has come and falsehood has vanished. Lo! falsehood was destined to vanish" (xvii. 8). Truth has arrived, and falsehood can neither create anything from the beginning nor can it restore to life
کعبہ کے ارد گرد سے بتوں کو ہٹانے کے بیان میں
و حَدَّثَنَاه حَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ کِلَاهُمَا عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا الثَّوْرِيُّ عَنْ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ إِلَی قَوْلِهِ زَهُوقًا وَلَمْ يَذْکُرْ الْآيَةَ الْأُخْرَی وَقَالَ بَدَلَ نُصُبًا صَنَمًا
حسن بن علی حلوانی، عبد بن حمید، عبدالرزاق، ثوری، ابن ابی نجیح، اس سند سے بھی یہ حدیث آپ ﷺ کے قول مبارک زَهُوقًا تک مروی ہے اور اس میں دوسری آیت مبارکہ مذکور نہیں اور انہوں نے نصب کی جگہ ضم کہا ہے۔
This tradition has been narrated by Ibn Abu Najah through a different chain of transmitters up to the word: Zahaqa, (This version) does not contain the second verse and substitutes Sanam for Nusub (both the words mean "idol" or "image" that is worshipped).
فتح کے بعد کسی قریشی کو باندھ کر قتل نہ کئے جانے کا بیان
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ وَوَکِيعٌ عَنْ زَکَرِيَّائَ عَنْ الشَّعْبِيِّ قَالَ أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُطِيعٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ يَوْمَ فَتْحِ مَکَّةَ لَا يُقْتَلُ قُرَشِيٌّ صَبْرًا بَعْدَ هَذَا الْيَوْمِ إِلَی يَوْمِ الْقِيَامَةِ
ابوبکر بن ابی شیبہ، علی بن مسہر، وکیع، زکریا، شعبی، حضرت عبداللہ بن مطیع اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فتح مکہ کے دن فرمایا آج کے بعد قیامت تک کسی قریشی کو باندھ کر قتل نہ کیا جائے گا۔
It has been narrated on the authority ofAbdullah bin Muti who heard from his father and said: I heard the Holy Prophet ﷺ say on the day of the Conquest of Makkah: No Quraishite will be killed hound hand and foot from this day until the Day of Judgment.
فتح کے بعد کسی قریشی کو باندھ کر قتل نہ کئے جانے کا بیان
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا زَکَرِيَّائُ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَزَادَ قَالَ وَلَمْ يَکُنْ أَسْلَمَ أَحَدٌ مِنْ عُصَاةِ قُرَيْشٍ غَيْرَ مُطِيعٍ کَانَ اسْمُهُ الْعَاصِي فَسَمَّاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُطِيعًا
ابن نمیر، ابوزکریا، اس سند سے بھی یہ حدیث مروی ہے اضافہ یہ ہے کہ قریش کے عاصی نام والوں میں سے کوئی بھی مسلمان نہ ہوا سوائے مطیع کے اور اس کا نام بھی عاصی تھا اور رسول اللہ ﷺ نے اس کا نام مطیع رکھا۔
The same tradition has been narrated on the authority of Zakriyya through the same chain of transmitters with the following addition: "No rebellious Quraishite with al-Asi as his name embraced Islam that day except Muti. His name-was al-Asi, but the Messenger of Allah ﷺ changed his name to Muti.
حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي إِسْحَقَ قَالَ سَمِعْتُ الْبَرَائَ بْنَ عَازِبٍ يَقُولُا کَتَبَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ الصُّلْحَ بَيْنَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبَيْنَ الْمُشْرِکِينَ يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ فَکَتَبَ هَذَا مَا کَاتَبَ عَلَيْهِ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ فَقَالُوا لَا تَکْتُبْ رَسُولُ اللَّهِ فَلَوْ نَعْلَمُ أَنَّکَ رَسُولُ اللَّهِ لَمْ نُقَاتِلْکَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعَلِيٍّ امْحُهُ فَقَالَ مَا أَنَا بِالَّذِي أَمْحَاهُ فَمَحَاهُ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ قَالَ وَکَانَ فِيمَا اشْتَرَطُوا أَنْ يَدْخُلُوا مَکَّةَ فَيُقِيمُوا بِهَا ثَلَاثًا وَلَا يَدْخُلُهَا بِسِلَاحٍ إِلَّا جُلُبَّانَ السِّلَاحِ قُلْتُ لِأَبِي إِسْحَقَ وَمَا جُلُبَّانُ السِّلَاحِ قَالَ الْقِرَابُ وَمَا فِيهِ
عبیداللہ بن معاذ عنبری، ابوشعبہ، ابواسحاق، حضرت براء بن عازب ؓ سے روایت ہے کہ علی بن ابی طالب ؓ نے صلح حدیبیہ کے دن نبی ﷺ اور مشرکین کے درمیان ہونے والا معاہدہ صلح لکھا تو اس میں یہ لکھا کہ وہ معاہدہ ہے جو محمد رسول اللہ ﷺ نے لکھا ہے تو مشرکین نے کہا آپ رسول اللہ ﷺ نہ لکھیں کیونکہ اگر ہم جانتے کہ آپ ﷺ اللہ کے رسول ہیں تو آپ ﷺ سے جنگ نہ کرتے۔ نبی ﷺ نے علی ؓ سے فرمایا اسے مٹا دو انہوں نے عرض کیا میں تو نہیں مٹاؤں گا پس نبی ﷺ نے خود اپنے ہاتھ مبارک سے مٹا دیا اس معاہدہ کی ایک شرط یہ تھی کہ مسلمان مکہ میں داخل ہوں تو صرف تین دن قیام کرسکیں گے اور مکہ میں اسلحہ کے بغیر آئیں گے ہاں اگر اسلحہ نیام میں ہو تو کوئی حرج نہیں۔
It has been narrated on the authority of al-Bara bin Azib (RA) who said: Ali bin Abu Talib penned the treaty between the Holy Prophet ﷺ and the polytheists on the Day of Hudaibiya. He wrote: This is what Muhammad, the Messenger of Allah, has settled. They (the polytheists) said: Do not write words "the Messenger of Allah". If we knew that you were the Messenger of Allah, we would not fight against you. The Prophet ﷺ said to Ali (RA) : Strike out these words. He (Ali) said: I am not going to strike them out. So the Prophet ﷺ struck them out with his own hand. The narrator said that the conditions upon which the two sides had agreed included that the Muslims would enter Makkah (next year) and would stay there for three days, and that they would not enter bearing arms except in their sheaths or bolsters
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَابْنُ بَشَّارٍ قَالَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي إِسْحَقَ قَالَ سَمِعْتُ الْبَرَائَ بْنَ عَازِبٍ يَقُولُا لَمَّا صَالَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَهْلَ الْحُدَيْبِيَةِ کَتَبَ عَلِيٌّ کِتَابًا بَيْنَهُمْ قَالَ فَکَتَبَ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ ثُمَّ ذَکَرَ بِنَحْوِ حَدِيثِ مُعَاذٍ غَيْرَ أَنَّهُ لَمْ يَذْکُرْ فِي الْحَدِيثِ هَذَا مَا کَاتَبَ عَلَيْهِ
محمد بن مثنی، ابن بشار، محمد بن جعفر، شعبہ، ابواسحاق، حضرت براء بن عازب ؓ سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ نے حدیبیہ والوں سے مصالحت کی تو علی ؓ نے ان کے درمیان ہونے والے معاہدہ کو تحریر کیا اور محمد رسول اللہ ﷺ لکھا باقی حدیث معاذ کی طرح ہے۔
It has been narrated on the authority of Abu Ishaq, who heard Bars bin Azib (RA) say: When the Messenger of Allah ﷺ made peace with the people of Hudaibiya, Ali drew up the agreement between them, and so he wrote: Muhammad, the Messenger of Allah. (This is followed by the same wording as we have in the previous tradition except the omission of the words: This is what he has settled.)
حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ وَأَحْمَدُ بْنُ جَنَابٍ الْمِصِّيصِيُّ جَمِيعًا عَنْ عِيسَی بْنِ يُونُسَ وَاللَّفْظُ لِإِسْحَقَ أَخْبَرَنَا عِيسَی بْنُ يُونُسَ أَخْبَرَنَا زَکَرِيَّائُ عَنْ أَبِي إِسْحَقَ عَنْ الْبَرَائِ قَالَ لَمَّا أُحْصِرَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ الْبَيْتِ صَالَحَهُ أَهْلُ مَکَّةَ عَلَی أَنْ يَدْخُلَهَا فَيُقِيمَ بِهَا ثَلَاثًا وَلَا يَدْخُلَهَا إِلَّا بِجُلُبَّانِ السِّلَاحِ السَّيْفِ وَقِرَابِهِ وَلَا يَخْرُجَ بِأَحَدٍ مَعَهُ مِنْ أَهْلِهَا وَلَا يَمْنَعَ أَحَدًا يَمْکُثُ بِهَا مِمَّنْ کَانَ مَعَهُ قَالَ لِعَلِيٍّ اکْتُبْ الشَّرْطَ بَيْنَنَا بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ هَذَا مَا قَاضَی عَلَيْهِ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ فَقَالَ لَهُ الْمُشْرِکُونَ لَوْ نَعْلَمُ أَنَّکَ رَسُولُ اللَّهِ تَابَعْنَاکَ وَلَکِنْ اکْتُبْ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ فَأَمَرَ عَلِيًّا أَنْ يَمْحَاهَا فَقَالَ عَلِيٌّ لَا وَاللَّهِ لَا أَمْحَاهَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرِنِي مَکَانَهَا فَأَرَاهُ مَکَانَهَا فَمَحَاهَا وَکَتَبَ ابْنُ عَبْدِ اللَّهِ فَأَقَامَ بِهَا ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ فَلَمَّا أَنْ کَانَ يَوْمُ الثَّالِثِ قَالُوا لِعَلِيٍّ هَذَا آخِرُ يَوْمٍ مِنْ شَرْطِ صَاحِبِکَ فَأْمُرْهُ فَلْيَخْرُجْ فَأَخْبَرَهُ بِذَلِکَ فَقَالَ نَعَمْ فَخَرَجَ و قَالَ ابْنُ جَنَابٍ فِي رِوَايَتِهِ مَکَانَ تَابَعْنَاکَ بَايَعْنَاکَ
اسحاق بن ابراہیم حنظلی، احمد بن جناب مصیصی، عیسیٰ بن یونس، اسحاق، زکریا، ابواسحاق، حضرت براء بن عازب ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ کو بیت اللہ کے نزدیک گھیر لیا گیا تو اہل مکہ نے آپ ﷺ سے ان باتوں پر صلح کرلی کہ آپ ﷺ مکہ میں داخل ہو کر صرف تین دن قیام کریں گے اور مکہ میں تلواریں نیاموں میں ہوں اور اہل مکہ میں سے کسی کو بھی آپ ﷺ لے کر نہ جائیں گے اور جو مکہ میں ٹھہرنا چاہے اسے منع بھی نہ کریں گے جو آپ ﷺ کے ساتھ آئے ہوں آپ ﷺ نے حضرت علی ؓ سے فرمایا ان شرائط کو ہمارے درمیان تحریر کردو بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ یہ وہ شرائط ہیں جن کا فیصلہ محمد رسول اللہ ﷺ نے کیا ہے۔ آپ سے مشرکین نے کہا اگر ہم آپ ﷺ کو رسول اللہ جانتے ہوتے تو آپ ﷺ کی اتباع کرلیتے بلکہ محمد بن عبداللہ لکھو۔ آپ ﷺ نے علی ؓ کو اسے مٹانے کا حکم دیا تو حضرت علی ؓ نے عرض کیا نہیں اللہ کی قسم میں تو اسے نہ مٹاؤں گا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اس (لفظ) کی جگہ مجھے دکھاؤ۔ حضرت علی ؓ نے آپ ﷺ کو اس لفظ کی جگہ دکھائی تو آپ ﷺ نے خود اسے مٹا دیا اور ابن عبداللہ لکھ دیا گیا۔
It has been narrated on the authority of Bara who said: When the Prophet ﷺ was checked from going to the Ka’bah, the people of Makkah made peace with him on the condition that he would (be allowed to) enter Makkah (next year) and stay there for three days, that he would not enter (the city) except with swords in their sheaths and arms encased in their covers, that he would not take away with him anyone from its dwellers, nor would he prevent anyone from those with him to stay on in Makkah (if he so desired). He said to Ali (RA) : Write down the terms settled between us. (So Ali wrote): In the name of Allah, most Gracious and most Merciful. This is what Muhammad, the Messenger of Allah, has settled (with the Makkahns), The polytheists said to him: If we knew that thou art the Messenger of Allah, we would follow you. But write: Muhammad bin Abdullah. So he told Ali to strike out these words. Ali said: No, by Allah, I will not strike them out. The Messenger of Allah ﷺ (may Peace be upon him) said: Show me their place (on the parchment). So he (Ali) showed him their place and he (the Holy Prophet) struck them out; and Ali wrote: Ibn Abdullah. (According to the terms of the treaty, next year) the Holy Prophet ﷺ stayed there for three days. When it was the third day, they said to Ali (RA) : This is the last day according to the terms of your companion, so tell him to leave. Ali informed the Prophet ﷺ accordingly. He said: Yes, and left (the city). Ibn Janab in his version of the tradition used: "we would swear allegiance to you" instead of "we would follow you".
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ قُرَيْشًا صَالَحُوا النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهِمْ سُهَيْلُ بْنُ عَمْرٍو فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعَلِيٍّ اکْتُبْ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ قَالَ سُهَيْلٌ أَمَّا بِاسْمِ اللَّهِ فَمَا نَدْرِي مَا بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ وَلَکِنْ اکْتُبْ مَا نَعْرِفُ بِاسْمِکَ اللَّهُمَّ فَقَالَ اکْتُبْ مِنْ مُحَمَّدٍ رَسُولِ اللَّهِ قَالُوا لَوْ عَلِمْنَا أَنَّکَ رَسُولُ اللَّهِ لَاتَّبَعْنَاکَ وَلَکِنْ اکْتُبْ اسْمَکَ وَاسْمَ أَبِيکَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اکْتُبْ مِنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ فَاشْتَرَطُوا عَلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ مَنْ جَائَ مِنْکُمْ لَمْ نَرُدَّهُ عَلَيْکُمْ وَمَنْ جَائَکُمْ مِنَّا رَدَدْتُمُوهُ عَلَيْنَا فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنَکْتُبُ هَذَا قَالَ نَعَمْ إِنَّهُ مَنْ ذَهَبَ مِنَّا إِلَيْهِمْ فَأَبْعَدَهُ اللَّهُ وَمَنْ جَائَنَا مِنْهُمْ سَيَجْعَلُ اللَّهُ لَهُ فَرَجًا وَمَخْرَجًا
ابوبکر بن ابی شیبہ، عفان، حماد بن سلمہ، ثابت، حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ جن قریشیوں نے نبی کریم ﷺ سے صلح کی ان میں سہیل بن عمرو بھی تھا نبی ﷺ نے حضرت علی ؓ سے فرمایا لکھو بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ سہیل نے کہا کہ بسم اللہ تو ہم نہیں جانتے بسم اللہ الرحمن الرحیم کیا ہے البتہ بِاسْمِکَ اللَّهُمَّ لکھو جسے ہم جانتے ہیں پھر آپ ﷺ نے فرمایا محمد رسول اللہ ﷺ کی طرف سے۔ (کفار) نے کہا اگر ہم آپ ﷺ کو اللہ کا رسول جانتے تو آپ ﷺ کی پیروی کرتے بلکہ آپ ﷺ اپنا اور اپنے باپ کا نام لکھیں نبی ﷺ نے فرمایا محمد بن عبداللہ کی طرف سے لکھو انہوں نے نبی ﷺ سے یہ شرط باندھی کہ تم میں سے جو ہمارے پاس آجائے گا ہم اسے واپس نہ کریں گے اور اگر تمہارے پاس ہم میں سے کوئی آئے گا تو تم اسے ہمارے پاس واپس کردو گے۔ صحابہ ؓ نے عرض کیا اے اللہ کے رسول! کیا ہم یہ بھی لکھ دیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا ہاں لیکن ہم میں سے جو ان کی طرف جائے گا اللہ اسے (اسلام سے) دور کر دے گا اور جو ان میں سے ہمارے پاس آئے گا اللہ عنقریب اس کے لئے کوئی راستہ اور کشائش پیدا فرما دیں گے۔
It has been narrated on the authority of Anas that the Quraish made peace with the Prophet ﷺ . Among them was Suhail bin Amr. The Prophet ﷺ said to Ali (RA) : Write "In the name of Allah, most Gracious and most Merciful." Suhail said: As for "Bismillah," we do not know what is meant by "Bismillah-ir-Rahman-ir-Rahim" (In the name of Allah most Gracious and most Merciful). But write what we understand, i. e. Bi ismika allahumma (in thy name. O Allah). Then, the Prophet ﷺ said: Write: "From Muhammad, the Messenger of Allah." They said: If we knew that thou were the Messenger of Allah, we would follow you. Therefore, write your name and the name of your father. So the Holy Prophet ﷺ said: Write "From Muhammad bin Abdullah." They laid the condition on the Prophet ﷺ that anyone who joined them from the Muslims, the Makkahns would not return him, and anyone who joined you (the Muslims) from them, you would send him back to them. The Companions said: Messenger of Allah, should we write this? He said: Yes. One who goes away from us to join them-may Allah keep him away! and one who comes to join us from them (and is sent back) Allah will provide him relief and a way of escape.
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ وَتَقَارَبَا فِي اللَّفْظِ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ سِيَاهٍ حَدَّثَنَا حَبِيبُ بْنُ أَبِي ثَابِتٍ عَنْ أَبِي وَائِلٍ قَالَ قَامَ سَهْلُ بْنُ حُنَيْفٍ يَوْمَ صِفِّينَ فَقَالَ أَيُّهَا النَّاسُ اتَّهِمُوا أَنْفُسَکُمْ لَقَدْ کُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ وَلَوْ نَرَی قِتَالًا لَقَاتَلْنَا وَذَلِکَ فِي الصُّلْحِ الَّذِي کَانَ بَيْنَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبَيْنَ الْمُشْرِکِينَ فَجَائَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ فَأَتَی رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَسْنَا عَلَی حَقٍّ وَهُمْ عَلَی بَاطِلٍ قَالَ بَلَی قَالَ أَلَيْسَ قَتْلَانَا فِي الْجَنَّةِ وَقَتْلَاهُمْ فِي النَّارِ قَالَ بَلَی قَالَ فَفِيمَ نُعْطِي الدَّنِيَّةَ فِي دِينِنَا وَنَرْجِعُ وَلَمَّا يَحْکُمِ اللَّهُ بَيْنَنَا وَبَيْنَهُمْ فَقَالَ يَا ابْنَ الْخَطَّابِ إِنِّي رَسُولُ اللَّهِ وَلَنْ يُضَيِّعَنِي اللَّهُ أَبَدًا قَالَ فَانْطَلَقَ عُمَرُ فَلَمْ يَصْبِرْ مُتَغَيِّظًا فَأَتَی أَبَا بَکْرٍ فَقَالَ يَا أَبَا بَکْرٍ أَلَسْنَا عَلَی حَقٍّ وَهُمْ عَلَی بَاطِلٍ قَالَ بَلَی قَالَ أَلَيْسَ قَتْلَانَا فِي الْجَنَّةِ وَقَتْلَاهُمْ فِي النَّارِ قَالَ بَلَی قَالَ فَعَلَامَ نُعْطِي الدَّنِيَّةَ فِي دِينِنَا وَنَرْجِعُ وَلَمَّا يَحْکُمِ اللَّهُ بَيْنَنَا وَبَيْنَهُمْ فَقَالَ يَا ابْنَ الْخَطَّابِ إِنَّهُ رَسُولُ اللَّهِ وَلَنْ يُضَيِّعَهُ اللَّهُ أَبَدًا قَالَ فَنَزَلَ الْقُرْآنُ عَلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْفَتْحِ فَأَرْسَلَ إِلَی عُمَرَ فَأَقْرَأَهُ إِيَّاهُ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَوْ فَتْحٌ هُوَ قَالَ نَعَمْ فَطَابَتْ نَفْسُهُ وَرَجَعَ
ابوبکر بن ابی شیبہ، عبداللہ بن نمیر، عبدالعزیز بن سیاہ، حبیب بن ابی ثابت حضرت ابو وائل سے روایت ہے کہ صفین کے دن حضرت سہل بن حنیف کھڑے ہوئے اور کہا اے لوگو! اپنے آپ کو غلط تصور کرو تحقیق! ہم حدیبیہ کے دن رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ تھے اگر ہم جنگ کرنا چاہتے تو ضرور کرتے اور یہ اس صلح کا واقعہ ہے جو رسول اللہ ﷺ اور مشرکین کے درمیان ہوئی حضرت عمر بن خطاب ؓ نے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ کیا ہم حق پر اور وہ باطل پر نہیں ہیں آپ ﷺ نے فرمایا کیوں نہیں عمر ؓ نے عرض کیا کیا ہمارے شہداء جنت میں اور ان کے مقتول جہنم میں نہیں ہیں آپ ﷺ نے فرمایا کیوں نہیں عمر ؓ نے عرض کیا پھر ہم اپنے دین میں جھکاؤ اور ذلت کیوں قبول کریں اور حالانکہ اللہ تعالیٰ نے ہمارے اور ان کے درمیان فیصلہ کا حکم نہیں دیا آپ ﷺ نے فرمایا: اے ابن خطاب میں اللہ کا رسول ہوں اللہ مجھے کبھی بھی ضائع نہیں فرمائے گا حضرت عمر ؓ سے صبر نہ ہوسکا اور غصہ ہی کی حالت میں حضرت ابوبکر ؓ کے پاس آئے اور کہا اے ابوبکر! کیا ہم حق پر اور وہ باطل پر نہیں ہیں؟ انہوں نے کہا کیوں نہیں۔ کہنے لگے کیا ہمارے شہداء جنت میں اور ان کے مقتول جہنم میں نہیں ہیں؟ انہوں نے کہا کیوں نہیں، عمر ؓ کہنے لگے پھر ہم کس وجہ سے اپنے دین میں کمزوری قبول کریں حالانکہ اللہ تعالیٰ نے ہمارا اور ان کے درمیان فیصلہ کا حکم نہیں دیا ابوبکر ؓ نے کہا اے ابن خطاب! آپ ﷺ اللہ کے رسول ہیں اللہ انہیں کبھی بھی ضائع نہیں کرے گا۔ پس رسول اللہ ﷺ پر سورت فتح نازل ہوئی تو آپ ﷺ نے عمر ؓ کو بلوایا اور انہیں سے وہ آیات پڑھوائیں تو انہوں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ کیا یہ فتح ہے آپ نے فرمایا جی ہاں حضرت عمر ؓ دلی طور پر خوش ہو کر لوٹ گئے۔
It has been narrated on the authority of Abu Wail who said: Sahal bin Hunaif stood up on the Day of Siffin and said: O ye people, blame yourselves (for want of discretion); we were with the Messenger of Allah ﷺ on the Day of Hudaibiya. If we had thought it fit to fight, we could fight. This was in the truce between the Messenger of Allah ﷺ and the polytheists. Umar bin Khattab came, approached the Messenger of Allah ﷺ and said: Messenger of Allah, arent we fighting for truth and they for falsehood? He replied: By all means. He asked: Are not those killed from our side in Paradise and those killed from their side in the Fire? He replied: Yes. He said: Then why should we put a blot upon our religion and return, while Allah has not decided the issue between them and ourselves? He said: Son of Khattab, I am the Messenger of Allah. Allah will never ruin me. (The narrator said): Umar went away, but he could not contain himself with rage. So he approached Abu Bakr (RA) and said: Abu Bakr, arent we fighting for truth and they for falsehood? He replied: Yes. He asked: Arent those killed from our side in Paradise and those killed from their side in the Fire? He replied: Why not? He (then) said: Why should we then disgrace our religion and return while God has not yet decided the issue between them and ourselves? Abu Bakr (RA) said: Son of Khattab, verily, he is the Messenger of Allah, and Allah will never ruin him. (The narrator continued): At this (a Sura of) the Quran (giving glad tidings of the victory) was revealed to the Messenger of Allah ﷺ . He sent for Umar and made him read it. He asked: Is (this truce) a victory? He (the Messenger of Allah) ﷺ replied: Yes. At this Umar was pleased, and returned.
حَدَّثَنَا أَبُو کُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَائِ وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ شَقِيقٍ قَالَ سَمِعْتُ سَهْلَ بْنَ حُنَيْفٍ يَقُولُا بِصِفِّينَ أَيُّهَا النَّاسُ اتَّهِمُوا رَأْيَکُمْ وَاللَّهِ لَقَدْ رَأَيْتُنِي يَوْمَ أَبِي جَنْدَلٍ وَلَوْ أَنِّي أَسْتَطِيعُ أَنْ أَرُدَّ أَمْرَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَرَدَدْتُهُ وَاللَّهِ مَا وَضَعْنَا سُيُوفَنَا عَلَی عَوَاتِقِنَا إِلَی أَمْرٍ قَطُّ إِلَّا أَسْهَلْنَ بِنَا إِلَی أَمْرٍ نَعْرِفُهُ إِلَّا أَمْرَکُمْ هَذَا لَمْ يَذْکُرْ ابْنُ نُمَيْرٍ إِلَی أَمْرٍ قَطُّ
ابوکریب، محمد بن علاء، محمد بن عبداللہ بن نمیر، ابومعاویہ، اعمش، حضرت شقیق ؓ سے روایت ہے کہ میں نے حضرت سہل بن حنیف سے جنگ صفین میں سنا انہوں نے کہا اے لوگو! اپنی رائے کو غلط سمجھو اللہ کی قسم ابوجندل کے دن (صلح حدیبیہ) کا واقعہ میرے سامنے ہے اگر مجھ میں رسول اللہ ﷺ کو اس امر سے لوٹا دینے کی طاقت ہوتی تو میں آپ ﷺ کو لوٹا دیتا اللہ کی قسم ہم نے اپنی تلواریں کسی کام کے لئے اپنے کندھوں پر کبھی نہیں رکھیں مگر یہ کہ ان تلواروں نے ہمارے کام کو ہمارے لئے آسان بنادیا البتہ یہ معاملہ (آسان) نہیں ہوتا۔
It has been narrated on the authority of Shaqiq who said: I heard Sahl bin Hunaif say at Siffin: O ye people, find fault with your (own) discretion. By Allah, on the Day of Abu Jandal (i. e. the day of Hudaibiya), I thought to myself that, if I could, I would reverse the order of the Messenger of Allah ﷺ (the terms of the truce being unpalatable). By Allah, we have never hung our swords on our shoulders in any situation whatsoever except when they made easy for us to realise the goal envisaged by us, but this battle of yours (seems to be an exception). Ibn Numair (in his version) did not mention the words: "In any situation whatsoever".
و حَدَّثَنَاه عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَإِسْحَقُ جَمِيعًا عَنْ جَرِيرٍ ح و حَدَّثَنِي أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ حَدَّثَنَا وَکِيعٌ کِلَاهُمَا عَنْ الْأَعْمَشِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَفِي حَدِيثِهِمَا إِلَی أَمْرٍ يُفْظِعُنَا
عثمان بن ابی شیبہ، اسحاق، جریر، ابوسعید اشج، وکیع، اعمش، یہی حدیث مبارکہ اس سند سے بھی مروی ہے اس میں اضافہ یہ ہے کہ کوئی دشوار کام بھی اس طرح نہیں ہوا۔
The same tradition has been narrated through a different chain of transmitters on the authority of Amash. This version contains the words: Ila amrin yofziuna instead of Ila amrin narifuhu.
و حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعِيدٍ الْجَوْهَرِيُّ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ مَالِکِ بْنِ مِغْوَلٍ عَنْ أَبِي حَصِينٍ عَنْ أَبِي وَائِلٍ قَالَ سَمِعْتُ سَهْلَ بْنَ حُنَيْفٍ بِصِفِّينَ يَقُولُا اتَّهِمُوا رَأْيَکُمْ عَلَی دِينِکُمْ فَلَقَدْ رَأَيْتُنِي يَوْمَ أَبِي جَنْدَلٍ وَلَوْ أَسْتَطِيعُ أَنْ أَرُدَّ أَمْرَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا فَتَحْنَا مِنْهُ فِي خُصْمٍ إِلَّا انْفَجَرَ عَلَيْنَا مِنْهُ خُصْمٌ
ابراہیم بن سعید جوہری، ابواسامہ، مالک بن مغول، ابی حصین حضرت ابو وائل ؓ سے روایت ہے کہ میں نے حضرت سہل بن حنیف سے جنگ میں سنا اپنی رائے کو اپنے دین کے معاملہ میں غلط تسلیم کرو تحقیق! میں نے ابوجندل کے دن دیکھا اگر میں رسول اللہ ﷺ کے فیصلہ کو رد کرنے کی طاقت رکھتا تو ضرور رد کردیتا ہم اس کی ایک گرہ کھول نہیں پاتے کہ دوسری گرہ ہم پر خود بخود کھل جاتی ہے۔
It has been narrated through a different chain of transmitters on the authority of Abu Wail who said: I heard Sahl bin Hunaif say at Siffin: Blame (the hollowness) of your views about your religion. I thought to myself on the day of Abu Jandal that if I could turn down the order of the Messenger of Allah ﷺ , I would. The situation was so difficult that if we mended it at one place, it was rent at another.
و حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ عَنْ قَتَادَةَ أَنَّ أَنَسَ بْنَ مَالِکٍ حَدَّثَهُمْ قَالَ لَمَّا نَزَلَتْ إِنَّا فَتَحْنَا لَکَ فَتْحًا مُبِينًا لِيَغْفِرَ لَکَ اللَّهُ إِلَی قَوْلِهِ فَوْزًا عَظِيمًا مَرْجِعَهُ مِنْ الْحُدَيْبِيَةِ وَهُمْ يُخَالِطُهُمْ الْحُزْنُ وَالْکَآبَةُ وَقَدْ نَحَرَ الْهَدْيَ بِالْحُدَيْبِيَةِ فَقَالَ لَقَدْ أُنْزِلَتْ عَلَيَّ آيَةٌ هِيَ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ الدُّنْيَا جَمِيعًا
نصر بن علی جہضمی، خلاد بن حارث، سعید بن ابی عروبہ، قتادہ، حضرت انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ جب (اِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُّبِيْنًا لِّيَغْفِرَ لَكَ اللّٰهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْ بِكَ وَمَا تَاَخَّرَ وَيُتِمَّ نِعْمَتَه عَلَيْكَ وَيَهْدِيَكَ صِرَاطًا مُّسْتَ قِيْمًا۔ وَّيَنْصُرَكَ اللّٰهُ نَ صْرًا عَزِيْزًا۔ هُوَ الَّذِيْ اَنْزَلَ السَّكِيْنَةَ فِيْ قُلُوْبِ الْمُؤْمِنِيْنَ لِيَزْدَادُوْ ا اِيْمَانًا مَّعَ اِيْمَانِهِمْ وَلِلّٰهِ جُنُوْدُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَكَانَ اللّٰهُ عَلِ يْمًا حَكِ يْمًا۔ لِّيُدْخِلَ الْمُؤْمِنِيْنَ وَالْمُؤْمِنٰتِ جَنّٰتٍ تَجْرِيْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِيْنَ فِيْهَا وَيُكَفِّرَ عَنْهُمْ سَيِّاٰتِهِمْ وَكَانَ ذٰلِكَ عِنْدَ اللّٰهِ فَوْزًا عَظِيْمًا) 48۔ الفتح) تک نازل ہوئی تو آپ ﷺ واپس آرہے تھے اور صحابہ غم اور دکھ سے پریشان ہو رہے تھے اور تحقیق آپ ﷺ نے حدیبیہ میں ایک اونٹ ذبح کیا پھر ارشاد فرمایا مجھ پر ایک ایسی آیت نازل کی گئی ہے جو مجھے تمام دنیا سے زیادہ محبوب ہے۔
It has been narrated on the authority of Anas bin Malik (RA) who said: When they (Companions of the Holy Prophet) were overwhelmed with grief and distress on his return from Hudaibiya where he had slaughtered his sacrificial beasts (not being allowed to proceed to Makkah), the Quranic verse: Inna fatahna... laka fathan mobinan to fauzan aziman, was revealed to him. (At this) he said: On me has descended a verse that is dearer to me than the whole world.
و حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ النَّضْرِ التَّيْمِيُّ حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ قَالَ سَمِعْتُ أَبِي حَدَّثَنَا قَتَادَةُ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِکٍ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ح و حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا شَيْبَانُ جَمِيعًا عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ نَحْوَ حَدِيثِ ابْنِ أَبِي عَرُوبَةَ
عاصم بن نضر تیمی، معتمر، ابوقتادہ، انس بن مالک، ابن مثنی، ابوداؤد، ہمام، عبد بن حمید، یونس، ابن محمد، شیبان، قتادہ، انس، ان اسناد سے بھی یہ حدیث مبارکہ اسی طرح مروی ہے۔
This tradition has been narrated through a different chain of transmitters.