جہاد کا بیان

Sahih Muslim · Chapter 34 · 182 hadiths · Page 5 of 10

4599Sahih Muslim

عہد شکنی کرنے والے سے جنگ کرنے اور قلعہ والوں کو عادل بادشاہ کے حکم پر قلعہ سے نکالنے کے جواز کے بیان میں

و حَدَّثَنَا أَبُو کُرَيْبٍ حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا هِشَامٌ قَالَ قَالَ أَبِي فَأَخْبَرْتُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَقَدْ حَکَمْتَ فِيهِمْ بِحُکْمِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ

ابوکریب، ابن نمیر، حضرت ہشام ؓ کہتے ہیں کہ میرے باپ کہتے ہیں کہ مجھے خبر دی گئی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم نے ان کے بارے میں اللہ کے حکم کے مطابق فیصلہ کیا ہے۔

It has been narrated on the authority of Hisham (who learnt it from his father) that the Messenger of Allah ﷺ said (to Sad): You have adjudged their case with the judgment of God the Exalted and Glorified.

4600Sahih Muslim

عہد شکنی کرنے والے سے جنگ کرنے اور قلعہ والوں کو عادل بادشاہ کے حکم پر قلعہ سے نکالنے کے جواز کے بیان میں

حَدَّثَنَا أَبُو کُرَيْبٍ حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ عَنْ هِشَامٍ أَخْبَرَنِي أَبِي عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ سَعْدًا قَالَ وَتَحَجَّرَ کَلْمُهُ لِلْبُرْئِ فَقَالَ اللَّهُمَّ إِنَّکَ تَعْلَمُ أَنْ لَيْسَ أَحَدٌ أَحَبَّ إِلَيَّ أَنْ أُجَاهِدَ فِيکَ مِنْ قَوْمٍ کَذَّبُوا رَسُولَکَ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَخْرَجُوهُ اللَّهُمَّ فَإِنْ کَانَ بَقِيَ مِنْ حَرْبِ قُرَيْشٍ شَيْئٌ فَأَبْقِنِي أُجَاهِدْهُمْ فِيکَ اللَّهُمَّ فَإِنِّي أَظُنُّ أَنَّکَ قَدْ وَضَعْتَ الْحَرْبَ بَيْنَنَا وَبَيْنَهُمْ فَإِنْ کُنْتَ وَضَعْتَ الْحَرْبَ بَيْنَنَا وَبَيْنَهُمْ فَافْجُرْهَا وَاجْعَلْ مَوْتِي فِيهَا فَانْفَجَرَتْ مِنْ لَبَّتِهِ فَلَمْ يَرُعْهُمْ وَفِي الْمَسْجِدِ مَعَهُ خَيْمَةٌ مِنْ بَنِي غِفَارٍ إِلَّا وَالدَّمُ يَسِيلُ إِلَيْهِمْ فَقَالُوا يَا أَهْلَ الْخَيْمَةِ مَا هَذَا الَّذِي يَأْتِينَا مِنْ قِبَلِکُمْ فَإِذَا سَعْدٌ جُرْحُهُ يَغِذُّ دَمًا فَمَاتَ مِنْهَا

ابوکریب، ابن نمیر، ہشام، حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ حضرت سعد ؓ کا زخم اچھا ہونے کے بعد بھر چکا تھا انہوں نے یہ دعا کی اے اللہ! تو جانتا ہے میرے نزدیک تیرے راستہ میں اس قوم سے جہاد کرنے سے جس نے تیرے رسول اللہ ﷺ کی تکذیب کی اور انہیں (وطن سے) نکال دیا اور کوئی چیز محبوب نہیں اے اللہ! اگر قریش کے خلاف لڑائی کا کچھ حصہ باقی رہ گیا ہے تو تو مجھے باقی رکھ تاکہ میں ان کے ساتھ تیرے راستہ میں جہاد کروں اے اللہ! میرا گمان ہے کہ اگر تو نے ہمارے اور ان کے درمیان جنگ ختم کردی ہے پس اگر تو نے ہمارے اور ان کے درمیان جنگ ختم کردی ہے تو اس کو کھول دے اور اسی میں میری موت واقع کر دے پس وہ زخم ان کی ہنسلی سے بہنا شروع ہوگیا اور مسجد میں ان کے ساتھ بنی غفار کا خیمہ تھا تو وہ اس خون کو اپنے خیمے میں جانے سے روک نہ سکے تو انہوں نے کہا اے خیمہ والو یہ کیا چیز ہے جو تمہارے طرف سے ہمارے پاس آرہی ہے پس اچانک دیکھا تو حضرت سعد ؓ کے زخم سے خون بہہ رہا تھا اور اسی وجہ سے وہ فوت ہوگئے۔

It has been narrated on the authority of Aisha that Sads wound became dry and was going to heal when he prayed: O God, surely Thou knowest that nothing is dearer to me than that I should fight for Thy cause against the people who disbelieved Your Messenger ﷺ and turned him out (from his native place). If anything yet remains to be decided from the war against the Quraish, spare my life so that I may fight against them in Thy cause. O Lord, I think Thou hast ended the war between us and them. If Thou hast done so, open my wound (so that it may discharge) and cause my death thereby. So the wound began to bleed from the front part of his neck. The people were not scared except when the blood flowed towards them, and in the mosque along with Sads tent was the tent of Banu Ghifar. They said: O people of the tent, what is it that is coming to us from you? Lo! it was Sads wound that was bleeding and he died thereof.

4601Sahih Muslim

عہد شکنی کرنے والے سے جنگ کرنے اور قلعہ والوں کو عادل بادشاہ کے حکم پر قلعہ سے نکالنے کے جواز کے بیان میں

و حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ سُلَيْمَانَ الْکُوفِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدَةُ عَنْ هِشَامٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ فَانْفَجَرَ مِنْ لَيْلَتِهِ فَمَا زَالَ يَسِيلُ حَتَّی مَاتَ وَزَادَ فِي الْحَدِيثِ قَالَ فَذَاکَ حِينَ يَقُولُ الشَّاعِرُ أَلَا يَا سَعْدُ سَعْدَ بَنِي مُعَاذٍ فَمَا فَعَلَتْ قُرَيْظَةُ وَالنَّضِيرُ لَعَمْرُکَ إِنَّ سَعْدَ بَنِي مُعَاذٍ غَدَاةَ تَحَمَّلُوا لَهُوَ الصَّبُورُ تَرَکْتُمْ قِدْرَکُمْ لَا شَيْئَ فِيهَا وَقِدْرُ الْقَوْمِ حَامِيَةٌ تَفُورُ وَقَدْ قَالَ الْکَرِيمُ أَبُو حُبَابٍ أَقِيمُوا قَيْنُقَاعُ وَلَا تَسِيرُوا وَقَدْ کَانُوا بِبَلْدَتِهِمْ ثِقَالًا کَمَا ثَقُلَتْ بِمَيْطَانَ الصُّخُورُ

علی بن حسن بن سلیمان کوفی، عبدہ، حضرت ہشام ؓ سے اس سند کے ساتھ یہ روایت بھی اسی طرح ہے سوائے اس کے کہ اس روایت میں ہے کہ رات ہی سے زخم بہہ گیا اور مسلسل خون بہتا رہا یہاں تک کہ وہ انتقال کر گئے اور حدیث میں یہ زائد ہے کہ اس وقت شاعر نے کہا (جس کا ترجمہ یہ ہے) آگاہ رہو اے سعد! سعد بن معاذ قریظہ اور نضیر نے یہ کیا کیا اے سعد بن معاذ تیری عمر کی قسم جس صبح کو انہوں نے مصیبتوں کو برداشت کیا وہ بڑی صبر والی ہے تم نے اپنی ہانڈی ایسی چھوڑی کہ اس میں کچھ نہیں ہے اور قوم کی ہانڈی گرم ہے اور ابل رہی ہے کریم ابوحباب نے کہا ٹھہرو اے قینیقاع اور نہ چلو حال یہ ہے کہ وہ اپنے شہر میں بہت بوجھل تھے جیسے کہ مطان پہاڑی کے پتھر بھاری ہیں۔

This tradition has been narrated by Hisham through the same chain of transmitters with a little difference in the wording. He said: (His wound) began to bleed that very night and it continued to bleed until he died. He has made the addition that it was then that (a non-believing) poet said: Hark, O Sad, Sad of Banu Muadh, What have the Quraiaa and Nadir done? By thy life! Sad bin Muadh>br> Was steadfast on the morn they departed. You have left your cooking-pot empty, While the cooking-pot of the people is hot and boiling. Abu Hubab the nobleman has said, O Qainuqa, do not depart. They were weighty in their country just aa rocks are weighty in Maitan.

4602Sahih Muslim

جہاد میں جلد جانے اور دو متعار

و حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَائَ الضُّبَعِيُّ حَدَّثَنَا جُوَيْرِيَةُ بْنُ أَسْمَائَ عَنْ نَافِعٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ نَادَی فِينَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ انْصَرَفَ عَنْ الْأَحْزَابِ أَنْ لَا يُصَلِّيَنَّ أَحَدٌ الظُّهْرَ إِلَّا فِي بَنِي قُرَيْظَةَ فَتَخَوَّفَ نَاسٌ فَوْتَ الْوَقْتِ فَصَلَّوْا دُونَ بَنِي قُرَيْظَةَ وَقَالَ آخَرُونَ لَا نُصَلِّي إِلَّا حَيْثُ أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَإِنْ فَاتَنَا الْوَقْتُ قَالَ فَمَا عَنَّفَ وَاحِدًا مِنْ الْفَرِيقَيْنِ

عبداللہ بن محمد، اسما ضبعی، جویریہ بن اسماء، نافع، حضرت عبداللہ ؓ سے روایت ہے کہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں پکارا جس وقت کہ ہم غزوہ احزاب سے واپس لوٹے کہ بنوقریظہ میں پہنچنے سے پہلے کوئی ظہر کی نماز نہ پڑھے تو کچھ لوگوں نے وقت کو فوت ہونے کے ڈر سے بنو قریظہ میں پہنچنے سے پہلے نماز پڑھ لی اور دوسرے صحابہ ؓ نے کہا کہ ہم نماز نہیں پڑھیں گے سوائے اس جگہ کہ جہاں رسول اللہ ﷺ نے ہمیں نماز پڑھنے کا حکم فرمایا اگرچہ نماز کا وقت فوت ہوجائے حضرت ابن عمر ؓ فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ نے دونوں فریقوں میں سے کسی کی ملامت نہیں کی۔

It has been narrated on the authority ofAbdullah who said: On the day he returned from the Battle of Ahzab, the Messenger of Allah ﷺ made for us an announcement that nobody would say his Zuhr prayer but in the quarters of Banu Quraiza. (Some) people, being afraid that the time for prayer would expire, said their prayers before reaching the street of Banu Quraiza. The others said: We will not say our prayer except where the Messenger of Allah ﷺ has ordered us to say it even if the time expires. (When he learned of the difference in the view of the two groups of the people, the Messenger of Allah ﷺ did not blame anyone from the two groups.

4603Sahih Muslim

مہاجریں کا فتوحات سے غنی ہوجانے کے بعد انصار کے عطیات درخت پھل وغیرہ انہیں لوٹانے کے بیان میں

و حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ وَحَرْمَلَةُ قَالَا أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ لَمَّا قَدِمَ الْمُهَاجِرُونَ مِنْ مَکَّةَ الْمَدِينَةَ قَدِمُوا وَلَيْسَ بِأَيْدِيهِمْ شَيْئٌ وَکَانَ الْأَنْصَارُ أَهْلَ الْأَرْضِ وَالْعَقَارِ فَقَاسَمَهُمْ الْأَنْصَارُ عَلَی أَنْ أَعْطَوْهُمْ أَنْصَافَ ثِمَارِ أَمْوَالِهِمْ کُلَّ عَامٍ وَيَکْفُونَهُمْ الْعَمَلَ وَالْمَئُونَةَ وَکَانَتْ أُمُّ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ وَهِيَ تُدْعَی أُمَّ سُلَيْمٍ وَکَانَتْ أُمُّ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ کَانَ أَخًا لِأَنَسٍ لِأُمِّهِ وَکَانَتْ أَعْطَتْ أُمُّ أَنَسٍ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِذَاقًا لَهَا فَأَعْطَاهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُمَّ أَيْمَنَ مَوْلَاتَهُ أُمَّ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ فَأَخْبَرَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِکٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا فَرَغَ مِنْ قِتَالِ أَهْلِ خَيْبَرَ وَانْصَرَفَ إِلَی الْمَدِينَةِ رَدَّ الْمُهَاجِرُونَ إِلَی الْأَنْصَارِ مَنَائِحَهُمْ الَّتِي کَانُوا مَنَحُوهُمْ مِنْ ثِمَارِهِمْ قَالَ فَرَدَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَی أُمِّي عِذَاقَهَا وَأَعْطَی رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُمَّ أَيْمَنَ مَکَانَهُنَّ مِنْ حَائِطِهِ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ وَکَانَ مِنْ شَأْنِ أُمِّ أَيْمَنَ أُمِّ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ أَنَّهَا کَانَتْ وَصِيفَةً لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ وَکَانَتْ مِنْ الْحَبَشَةِ فَلَمَّا وَلَدَتْ آمِنَةُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ مَا تُوُفِّيَ أَبُوهُ فَکَانَتْ أُمُّ أَيْمَنَ تَحْضُنُهُ حَتَّی کَبِرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَعْتَقَهَا ثُمَّ أَنْکَحَهَا زَيْدَ بْنَ حَارِثَةَ ثُمَّ تُوُفِّيَتْ بَعْدَ مَا تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِخَمْسَةِ أَشْهُرٍ

ابوطاہر، حرملہ، ابن وہب، یونس، ابن شہاب، حضرت انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ جب مہاجرین مکہ سے مدینہ آئے تھے تو ان کے قبضہ میں کوئی چیز نہیں تھی اور انصار زمین و جائیداد والے تھے تو انصار نے اس شرط پر زمینیں ان کے سپرد کردیں کہ وہ ہر سال پیداوار کا نصف انہیں دیا کریں گے اور ان کی جگہ محنت اور مزدوری کریں گے اور ام انس بن مالک جسے ام سلیم کہا جاتا ہے جو عبداللہ بن ابی طلحہ کی والدہ بھی تھیں اور (عبداللہ) حضرت انس کی ماں کی طرف بھائی تھے ام انس ؓ نے رسول اللہ ﷺ کو اپنے کھجور کے درخت دے دیئے تھے رسول اللہ ﷺ نے وہ درخت اپنی آزاد کردہ باندی ام ایمن جو اسامہ بن زید کی والدہ تھیں کو عطا کردیئے ابن شہاب نے کہا مجھے انس بن مالک نے خبر دی کہ رسول اللہ ﷺ جب اہل خیبر کے ساتھ جہاد سے فارغ ہوئے اور مدینہ لوٹے تو مہاجرین نے انصار کو ان کے عطایا واپس کردیئے جو ان کی طرف پھلوں کی شکل میں تھے اور رسول اللہ ﷺ نے بھی میری والدہ کو ان کے کھجور کے درخت واپس کردیئے اور ام ایمن کو رسول اللہ ﷺ نے ان کی جگہ اپنے باغ میں درخت عطا کردیئے ابن شہاب نے ام ایمن کے حالات میں کہا کہ وہ اسامہ بن زید کی والدہ ملک حبشہ کی رہنے والی حضرت عبداللہ بن عبدالمطلب کی باندی تھیں جب حضرت آمنہ نے رسول اللہ کو آپ ﷺ کے والد کی وفات کے بعد جنم دیا تو ام ایمن نے آپ ﷺ کی پرورش کی تھی یہاں تک کہ رسول اللہ ﷺ نے بڑے ہو کر انہیں آزاد کردیا پھر حضرت زید بن حارثہ سے ان کا نکاح کردیا پھر رسول اللہ ﷺ کے وصال کے پانچ ماہ بعد وفات پا گئیں۔

It has been narrated on the authority of Anas bin Malik (RA) who said: When the Muhajirs migrated from Makkah to Madinah; they came (in a state that) they had not anything (i. e. money) in their hands, while the Ansar possessed lands and date palms. They divided their properties with the Muhajirs. The Ansar divided and gave them on the condition that they would give half the fruit from the orchards every year, and the Muhajirs would recompense them by working with them and putting in labour. The mother of Anas bin Malik (RA) was called Umm Sulaim and she was also the mother of Abdullah bin Talha who was a brother of Anas from his mothers side. The mother of Anas had given the Messenger of Allah ﷺ her date-palms. He bestowed them upon Umm Aiman, the slave-girl who had been freed by him and was the mother of Usama bin Zaid. When the Messenger of Allah ﷺ had finished the war with the people of Khaibar and returned to Madinah, the Muhajirs returned to the Ansar all the gifts which they had given them out of the fruits. (Anas bin Malik (RA) said:) The Messenger of Allah ﷺ returned to my mother her date-palms and gave to Umm Aiman instead of them date-palms from his orchard. Ibn Shihab says that Umm Aiman was the mother of Usama bin Zaid who was the slave-girl of Abdullah bin Abd-ul-Muttalib and hailed from Abyssinia. When Amina gave birth to the Messenger of Allah ﷺ after the death of his father, Umm Aiman used to nurse him until he grew up. He (later on) freed her and married her to Zaid bin Haritha. She died five months after the death of the Messenger of Allah ﷺ .

4604Sahih Muslim

مہاجریں کا فتوحات سے غنی ہوجانے کے بعد انصار کے عطیات درخت پھل وغیرہ انہیں لوٹانے کے بیان میں

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَحَامِدُ بْنُ عُمَرَ الْبَکْرَاوِيُّ وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَی الْقَيْسِيُّ کُلُّهُمْ عَنْ الْمُعْتَمِرِ وَاللَّفْظُ لِابْنِ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيُّ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَجُلًا وَقَالَ حَامِدٌ وَابْنُ عَبْدِ الْأَعْلَی أَنَّ الرَّجُلَ کَانَ يَجْعَلُ لِلنَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّخَلَاتِ مِنْ أَرْضِهِ حَتَّی فُتِحَتْ عَلَيْهِ قُرَيْظَةُ وَالنَّضِيرُ فَجَعَلَ بَعْدَ ذَلِکَ يَرُدُّ عَلَيْهِ مَا کَانَ أَعْطَاهُ قَالَ أَنَسٌ وَإِنَّ أَهْلِي أَمَرُونِي أَنْ آتِيَ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَسْأَلَهُ مَا کَانَ أَهْلُهُ أَعْطَوْهُ أَوْ بَعْضَهُ وَکَانَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ أَعْطَاهُ أُمَّ أَيْمَنَ فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَعْطَانِيهِنَّ فَجَائَتْ أُمُّ أَيْمَنَ فَجَعَلَتْ الثَّوْبَ فِي عُنُقِي وَقَالَتْ وَاللَّهِ لَا نُعْطِيکَاهُنَّ وَقَدْ أَعْطَانِيهِنَّ فَقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا أُمَّ أَيْمَنَ اتْرُکِيهِ وَلَکِ کَذَا وَکَذَا وَتَقُولُ کَلَّا وَالَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ فَجَعَلَ يَقُولُ کَذَا حَتَّی أَعْطَاهَا عَشْرَةَ أَمْثَالِهِ أَوْ قَرِيبًا مِنْ عَشْرَةِ أَمْثَالِهِ

ابوبکر بن ابی شیبہ، حامد بن عمر بکراوی، محمد بن عبدالاعلی قیسی، ابن ابی شیبہ، معتمر بن سلیمان تیمی، حضرت انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ لوگ اپنی زمین میں سے باغات نبی کریم ﷺ کی خدمت میں پیش کرتے تھے یہاں تک کہ آپ ﷺ کو بنوقریظہ و بنو نضیر پر فتح دی گئی تو آپ ﷺ نے وہ درخت انہیں واپس کرنا شروع کر دئیے جنہوں نے آپ ﷺ کو دیئے تھے انس کہتے ہیں کہ مجھے میرے گھر والوں نے کہا کہ میں نبی اقدس ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر آپ ﷺ سے اپنے اہل و عیال کے عطا کردہ درختوں کے بارے میں سوال کروں کہ وہ سارے یا ان میں سے کچھ آپ ﷺ واپس کردیں اور اللہ کے نبی ﷺ نے وہ درخت ام ایمن کو عطا کر رکھے تھے میں نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ ﷺ نے وہ درخت مجھے عطا کردیئے اور ام ایمن آئی اور انہوں نے میری گردن میں کپڑا ڈالنا شروع کردیا اور کہا اللہ کی قسم میں وہ درخت نہیں دوں گی جو مجھے دیئے گئے تھے اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا اے ام ایمن اسے چھوڑ دے اور تیرے لئے اتنے اتنے درخت ہیں انہوں نے کہا ہرگز نہیں اس ذات کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں اور آپ ﷺ فرماتے تھے تیرے لئے اتنے اتنے یہاں تک کہ اسے ان درختوں سے دس گنا یا دس گنا کے قریب عطا کردیے۔

It has been narrated by Anas that (after his migration to Madinah) a person placed at the Prophets ﷺ disposal some date-palms growing on his land until the lands of Quraiza and Nadir were conquered. Then he began to return to him whatever he had received. (In this connection) my people told me to approach the Messenger of Allah ﷺ and ask from him what his people had given him or a portion thereof, but the Messenger of Allah ﷺ had bestowed those trees upon Umm Aiman. So I came to the Prophet ﷺ and he gave them (back) to me. Umm Aiman (also) came (at this time). She put the cloth round my neck and said: No, by Allah, we will not give to you what he has granted to me. The Holy Prophet ﷺ said: Umm Aiman, let him have them and for you are such and such trees instead. But she said: By Allah, there is no god besides Him. No, never! The Holy Prophet ﷺ continued saying: (You will get) such and such until he had granted her ten times or nearly ten times more (than the original gift).

4605Sahih Muslim

دارالحرب میں مال غنیمت کے کھانے کو جواز کے بیان میں

حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ يَعْنِي ابْنَ الْمُغِيرَةِ حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ هِلَالٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ قَالَ أَصَبْتُ جِرَابًا مِنْ شَحْمٍ يَوْمَ خَيْبَرَ قَالَ فَالْتَزَمْتُهُ فَقُلْتُ لَا أُعْطِي الْيَوْمَ أَحَدًا مِنْ هَذَا شَيْئًا قَالَ فَالْتَفَتُّ فَإِذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُتَبَسِّمًا

شیبان بن فروح، سلیمان، ابن مغیرہ، حمید بن ہلال، حضرت عبداللہ بن مغفل ؓ سے روایت ہے کہ فرماتے ہیں کہ خیبر کے دن مجھے چربی کی ایک تھیلی ملی تو میں نے اسے سنبھال لیا اور میں نے کہا کہ میں آج کے دن اس میں سے کسی کو کچھ نہیں دوں گا حضرت عبداللہ کہتے ہیں کہ میں نے پیچھے کی طرف مڑ کر دیکھا تو رسول اللہ ﷺ مسکرا رہے تھے۔

It has been narrated on the authority ofAbdullah bin Mughaffal who said I found a bag containing fat on the day of the Battle of Khaibar. I caught hold of it and said: I will not give anything today from it to anybody. Then I turned round and saw that the Messenger of Allah ﷺ was smiling (at my words).

4606Sahih Muslim

دارالحرب میں مال غنیمت کے کھانے کو جواز کے بیان میں

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ الْعَبْدِيُّ حَدَّثَنَا بَهْزُ بْنُ أَسَدٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ حَدَّثَنِي حُمَيْدُ بْنُ هِلَالٍ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مُغَفَّلٍ يَقُولُا رُمِيَ إِلَيْنَا جِرَابٌ فِيهِ طَعَامٌ وَشَحْمٌ يَوْمَ خَيْبَرَ فَوَثَبْتُ لِآخُذَهُ قَالَ فَالْتَفَتُّ فَإِذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاسْتَحْيَيْتُ مِنْهُ و حَدَّثَنَاه مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ بِهَذَا الْإِسْنَادِ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ جِرَابٌ مِنْ شَحْمٍ وَلَمْ يَذْکُرْ الطَّعَامَ

محمد بن بشار عبدی، بہز بن اسد، شعبہ، حمید بن ہلال، حضرت عبداللہ بن مغفل ؓ فرماتے ہیں کہ خیبر کے دن ہماری طرف ایک تھیلی پھینکی گئی جس میں کھانا اور چربی تھی میں اسے اٹھانے کے لئے دوڑا حضرت عبداللہ کہتے ہیں کہ میں پیچھے کی طرف متوجہ ہوا تو رسول اللہ ﷺ تھے تو مجھے شرم محسوس ہوئی شعبہ نے ان سندوں کے ساتھ بیان کیا سوائے اس کے کہ اس روایت میں تھیلی میں چربی کا ذکر ہے اور طعام کا ذکر نہیں ہے۔

This tradition has been transmitted by a different chain of narrators with a different wording, the last in the chain being the same narrator, (i.e. Abdullah bin Mughaffal), who said: A bag containing food and fat was thrown to us. I lept forward to catch it. Then I turned round and saw (to my surprise) the Messenger of Allah ﷺ and I felt ashamed of my act in his presence.This hadith has been transmitted on the authority of Shubah with a slight variation of words.

4607Sahih Muslim

نبی کریم ﷺ کا ہرقل کی طرف اسلام کی دعوت کے لئے مکتوب کے بیان میں

حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ وَابْنُ أَبِي عُمَرَ وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ وَاللَّفْظُ لِابْنِ رَافِعٍ قَالَ ابْنُ رَافِعٍ وَابْنُ أَبِي عُمَرَ حَدَّثَنَا و قَالَ الْآخَرَانِ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ أَبَا سُفْيَانَ أَخْبَرَهُ مِنْ فِيهِ إِلَی فِيهِ قَالَ انْطَلَقْتُ فِي الْمُدَّةِ الَّتِي کَانَتْ بَيْنِي وَبَيْنَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَبَيْنَا أَنَا بِالشَّأْمِ إِذْ جِيئَ بِکِتَابٍ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَی هِرَقْلَ يَعْنِي عَظِيمَ الرُّومِ قَالَ وَکَانَ دَحْيَةُ الْکَلْبِيُّ جَائَ بِهِ فَدَفَعَهُ إِلَی عَظِيمِ بُصْرَی فَدَفَعَهُ عَظِيمُ بُصْرَی إِلَی هِرَقْلَ فَقَالَ هِرَقْلُ هَلْ هَاهُنَا أَحَدٌ مِنْ قَوْمِ هَذَا الرَّجُلِ الَّذِي يَزْعُمُ أَنَّهُ نَبِيٌّ قَالُوا نَعَمْ قَالَ فَدُعِيتُ فِي نَفَرٍ مِنْ قُرَيْشٍ فَدَخَلْنَا عَلَی هِرَقْلَ فَأَجْلَسَنَا بَيْنَ يَدَيْهِ فَقَالَ أَيُّکُمْ أَقْرَبُ نَسَبًا مِنْ هَذَا الرَّجُلِ الَّذِي يَزْعُمُ أَنَّهُ نَبِيٌّ فَقَالَ أَبُو سُفْيَانَ فَقُلْتُ أَنَا فَأَجْلَسُونِي بَيْنَ يَدَيْهِ وَأَجْلَسُوا أَصْحَابِي خَلْفِي ثُمَّ دَعَا بِتَرْجُمَانِهِ فَقَالَ لَهُ قُلْ لَهُمْ إِنِّي سَائِلٌ هَذَا عَنْ الرَّجُلِ الَّذِي يَزْعُمُ أَنَّهُ نَبِيٌّ فَإِنْ کَذَبَنِي فَکَذِّبُوهُ قَالَ فَقَالَ أَبُو سُفْيَانَ وَايْمُ اللَّهِ لَوْلَا مَخَافَةُ أَنْ يُؤْثَرَ عَلَيَّ الْکَذِبُ لَکَذَبْتُ ثُمَّ قَالَ لِتَرْجُمَانِهِ سَلْهُ کَيْفَ حَسَبُهُ فِيکُمْ قَالَ قُلْتُ هُوَ فِينَا ذُو حَسَبٍ قَالَ فَهَلْ کَانَ مِنْ آبَائِهِ مَلِکٌ قُلْتُ لَا قَالَ فَهَلْ کُنْتُمْ تَتَّهِمُونَهُ بِالْکَذِبِ قَبْلَ أَنْ يَقُولَ مَا قَالَ قُلْتُ لَا قَالَ وَمَنْ يَتَّبِعُهُ أَشْرَافُ النَّاسِ أَمْ ضُعَفَاؤُهُمْ قَالَ قُلْتُ بَلْ ضُعَفَاؤُهُمْ قَالَ أَيَزِيدُونَ أَمْ يَنْقُصُونَ قَالَ قُلْتُ لَا بَلْ يَزِيدُونَ قَالَ هَلْ يَرْتَدُّ أَحَدٌ مِنْهُمْ عَنْ دِينِهِ بَعْدَ أَنْ يَدْخُلَ فِيهِ سَخْطَةً لَهُ قَالَ قُلْتُ لَا قَالَ فَهَلْ قَاتَلْتُمُوهُ قُلْتُ نَعَمْ قَالَ فَکَيْفَ کَانَ قِتَالُکُمْ إِيَّاهُ قَالَ قُلْتُ تَکُونُ الْحَرْبُ بَيْنَنَا وَبَيْنَهُ سِجَالًا يُصِيبُ مِنَّا وَنُصِيبُ مِنْهُ قَالَ فَهَلْ يَغْدِرُ قُلْتُ لَا وَنَحْنُ مِنْهُ فِي مُدَّةٍ لَا نَدْرِي مَا هُوَ صَانِعٌ فِيهَا قَالَ فَوَاللَّهِ مَا أَمْکَنَنِي مِنْ کَلِمَةٍ أُدْخِلُ فِيهَا شَيْئًا غَيْرَ هَذِهِ قَالَ فَهَلْ قَالَ هَذَا الْقَوْلَ أَحَدٌ قَبْلَهُ قَالَ قُلْتُ لَا قَالَ لِتَرْجُمَانِهِ قُلْ لَهُ إِنِّي سَأَلْتُکَ عَنْ حَسَبِهِ فَزَعَمْتَ أَنَّهُ فِيکُمْ ذُو حَسَبٍ وَکَذَلِکَ الرُّسُلُ تُبْعَثُ فِي أَحْسَابِ قَوْمِهَا وَسَأَلْتُکَ هَلْ کَانَ فِي آبَائِهِ مَلِکٌ فَزَعَمْتَ أَنْ لَا فَقُلْتُ لَوْ کَانَ مِنْ آبَائِهِ مَلِکٌ قُلْتُ رَجُلٌ يَطْلُبُ مُلْکَ آبَائِهِ وَسَأَلْتُکَ عَنْ أَتْبَاعِهِ أَضُعَفَاؤُهُمْ أَمْ أَشْرَافُهُمْ فَقُلْتَ بَلْ ضُعَفَاؤُهُمْ وَهُمْ أَتْبَاعُ الرُّسُلِ وَسَأَلْتُکَ هَلْ کُنْتُمْ تَتَّهِمُونَهُ بِالْکَذِبِ قَبْلَ أَنْ يَقُولَ مَا قَالَ فَزَعَمْتَ أَنْ لَا فَقَدْ عَرَفْتُ أَنَّهُ لَمْ يَکُنْ لِيَدَعَ الْکَذِبَ عَلَی النَّاسِ ثُمَّ يَذْهَبَ فَيَکْذِبَ عَلَی اللَّهِ وَسَأَلْتُکَ هَلْ يَرْتَدُّ أَحَدٌ مِنْهُمْ عَنْ دِينِهِ بَعْدَ أَنْ يَدْخُلَهُ سَخْطَةً لَهُ فَزَعَمْتَ أَنْ لَا وَکَذَلِکَ الْإِيمَانُ إِذَا خَالَطَ بَشَاشَةَ الْقُلُوبِ وَسَأَلْتُکَ هَلْ يَزِيدُونَ أَوْ يَنْقُصُونَ فَزَعَمْتَ أَنَّهُمْ يَزِيدُونَ وَکَذَلِکَ الْإِيمَانُ حَتَّی يَتِمَّ وَسَأَلْتُکَ هَلْ قَاتَلْتُمُوهُ فَزَعَمْتَ أَنَّکُمْ قَدْ قَاتَلْتُمُوهُ فَتَکُونُ الْحَرْبُ بَيْنَکُمْ وَبَيْنَهُ سِجَالًا يَنَالُ مِنْکُمْ وَتَنَالُونَ مِنْهُ وَکَذَلِکَ الرُّسُلُ تُبْتَلَی ثُمَّ تَکُونُ لَهُمْ الْعَاقِبَةُ وَسَأَلْتُکَ هَلْ يَغْدِرُ فَزَعَمْتَ أَنَّهُ لَا يَغْدِرُ وَکَذَلِکَ الرُّسُلُ لَا تَغْدِرُ وَسَأَلْتُکَ هَلْ قَالَ هَذَا الْقَوْلَ أَحَدٌ قَبْلَهُ فَزَعَمْتَ أَنْ لَا فَقُلْتُ لَوْ قَالَ هَذَا الْقَوْلَ أَحَدٌ قَبْلَهُ قُلْتُ رَجُلٌ ائْتَمَّ بِقَوْلٍ قِيلَ قَبْلَهُ قَالَ ثُمَّ قَالَ بِمَ يَأْمُرُکُمْ قُلْتُ يَأْمُرُنَا بِالصَّلَاةِ وَالزَّکَاةِ وَالصِّلَةِ وَالْعَفَافِ قَالَ إِنْ يَکُنْ مَا تَقُولُ فِيهِ حَقًّا فَإِنَّهُ نَبِيٌّ وَقَدْ کُنْتُ أَعْلَمُ أَنَّهُ خَارِجٌ وَلَمْ أَکُنْ أَظُنُّهُ مِنْکُمْ وَلَوْ أَنِّي أَعْلَمُ أَنِّي أَخْلُصُ إِلَيْهِ لَأَحْبَبْتُ لِقَائَهُ وَلَوْ کُنْتُ عِنْدَهُ لَغَسَلْتُ عَنْ قَدَمَيْهِ وَلَيَبْلُغَنَّ مُلْکُهُ مَا تَحْتَ قَدَمَيَّ قَالَ ثُمَّ دَعَا بِکِتَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَرَأَهُ فَإِذَا فِيهِ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ مِنْ مُحَمَّدٍ رَسُولِ اللَّهِ إِلَی هِرَقْلَ عَظِيمِ الرُّومِ سَلَامٌ عَلَی مَنْ اتَّبَعَ الْهُدَی أَمَّا بَعْدُ فَإِنِّي أَدْعُوکَ بِدِعَايَةِ الْإِسْلَامِ أَسْلِمْ تَسْلَمْ وَأَسْلِمْ يُؤْتِکَ اللَّهُ أَجْرَکَ مَرَّتَيْنِ وَإِنْ تَوَلَّيْتَ فَإِنَّ عَلَيْکَ إِثْمَ الْأَرِيسِيِّينَ وَ يَا أَهْلَ الْکِتَابِ تَعَالَوْا إِلَی کَلِمَةٍ سَوَائٍ بَيْنَنَا وَبَيْنَکُمْ أَنْ لَا نَعْبُدَ إِلَّا اللَّهَ وَلَا نُشْرِکَ بِهِ شَيْئًا وَلَا يَتَّخِذَ بَعْضُنَا بَعْضًا أَرْبَابًا مِنْ دُونِ اللَّهِ فَإِنْ تَوَلَّوْا فَقُولُوا اشْهَدُوا بِأَنَّا مُسْلِمُونَ فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ قِرَائَةِ الْکِتَابِ ارْتَفَعَتْ الْأَصْوَاتُ عِنْدَهُ وَکَثُرَ اللَّغْطُ وَأَمَرَ بِنَا فَأُخْرِجْنَا قَالَ فَقُلْتُ لِأَصْحَابِي حِينَ خَرَجْنَا لَقَدْ أَمِرَ أَمْرُ ابْنِ أَبِي کَبْشَةَ إِنَّهُ لَيَخَافُهُ مَلِکُ بَنِي الْأَصْفَرِ قَالَ فَمَا زِلْتُ مُوقِنًا بِأَمْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ سَيَظْهَرُ حَتَّی أَدْخَلَ اللَّهُ عَلَيَّ الْإِسْلَامَ

اسحاق بن ابراہیم حنظلی، ابن ابی عمر، محمد بن رافع، عبداللہ بن حمید، ابن رافع، ابن ابی عمر، عبدالرزاق، معمر، زہری، عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ، ابوسفیان، حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ حضرت ابوسفیان ؓ نے اسے روبرو خبر دی کہ میں اپنے اور رسول اللہ ﷺ کے درمیان مدت معاہدہ کے دوران شام کی طرف چلا ہم شام میں قیام پذیر تھے کہ اسی دوران شام کی طرف رسول اللہ ﷺ کا خط لایا گیا جسے حضرت دحیہ کلبی لائے تھے پس انہوں نے یہ بصریٰ کے گورنر کے سپرد کیا اور بصریٰ کے گورنر نے وہ خط ہرقل کو پیش کیا تو ہرقل نے کہا کیا یہاں کوئی آدمی اس کی قوم کا آیا ہوا ہے جس نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ نبی ہے لوگوں نے کہا جی ہاں چناچہ مجھے قریش کے چند آدمیوں کے ساتھ بلایا گیا ہم ہرقل کے پاس پہنچے تو اس نے ہمیں اپنے سامنے بٹھایا پھر کہا تم میں کون نسب کے اعتبار سے اس آدمی کے قریب ہے جو یہ دعویٰ کرتا ہے کہ وہ نبی ہے؟ ابوسفیان کہتے ہیں میں نے کہا میں ہوں تو اس نے مجھے اپنے سامنے اور میرے ساتھیوں کو میرے پیچھے بٹھا دیا پھر اپنے ترجمان کو بلایا پھر اس سے کہا ان سے کہو میں اس آدمی کے بارے میں پوچھنے والا ہوں جس کا گمان ہے کہ وہ نبی ہے پس اگر یہ مجھ سے جھوٹ بولے تو تم اس کی تکذیب کرنا ابوسفیان ؓ نے کہا اللہ کی قسم اگر مجھے اس بات کا خوف نہ ہوتا کہ یہ مجھے جھوٹا کہیں گے تو میں ضرور جھوٹ بولتا پھر ہرقل نے اپنے ترجمان سے کہا کہ اس سے پوچھو کہ اس کا خاندان تم میں کیسا ہے؟ میں نے کہا وہ ہم میں نہایت شریف النسب ہے کیا اس کے آباؤ اجداد میں سے کوئی بادشاہ بھی تھا؟ میں نے کہا نہیں ہرقل نے کہا کیا تم اسے اس بات کا دعوی کرنے سے پہلے جھوٹ سے متہم کرتے تھے؟ میں نے کہا نہیں ہرقل نے کہا اس کی اتباع کرنے والے بڑے بڑے لوگ ہیں یا کمزور و غریب؟ میں نے کہا بلکہ وہ کمزور لوگ ہیں۔ اس نے کہا وہ بڑھ رہے ہیں یا کم ہو رہے ہیں؟ میں نے کہا: نہیں بلکہ وہ بڑھ رہے ہیں۔ اس نے کہا کیا ان میں سے کوئی اپنے دین سے اس کے دین میں داخل ہونے کے بعد آپ ﷺ سے ناراضگی کی وجہ سے پھر بھی گیا ہے؟ میں نے کہا نہیں اس نے کہا کیا تم نے اس سے کوئی جنگ بھی کی؟ میں نے کہا جی ہاں ہرقل نے کہا اس سے تمہاری جنگ کا نتیجہ کیا رہا؟ میں نے کہا جنگ ہمارے اور ان کے درمیان ایک ڈول رہی کبھی انہوں نے ہم سے کھینچ اور کبھی ہم نے ان سے کھینچ لیا اس نے کہا کیا وہ معاہدہ کی خلاف ورزی بھی کرتا ہے؟ میں نے کہا نہیں اور ہم اس سے ایک معاہدہ میں ہیں ہم نہیں جانتے وہ اس بارے میں کیا کرنے والے ہیں ابوسفیان کہنے لگے اللہ کی قسم اس نے مجھے اس ایک کلمہ کے سوا کوئی بات اپنی طرف سے شامل کرنے کی گنجائش ہی نہیں دی ہرقل نے کہا کیا اس سے پہلے کسی اور نے بھی اس کے خاندان سے اس بات کا دعوی کیا ہے؟ میں نے کہا نہیں اس نے اپنے ترجمان سے کہا اس سے کہو میں نے تجھ سے اس کے خاندان کے بارے میں پوچھا اور تیرا گمان ہے کہ وہ تم میں سے اچھے خاندان والا ہے اور رسولوں کو اسی طرح اپنی قوم کے اچھے خاندانوں سے بھیجا جاتا ہے اور میں نے تجھ سے پوچھا کیا اس کے آباؤ اجداد میں کوئی بادشاہ گزرا ہے اور تیرا خیال ہے کہ نہیں تو میں کہتا ہوں اگر اس کے آباو اجداد میں کوئی بادشاہ ہوتا تو میں کہتا کہ وہ ایسا آدمی ہے جو اپنے آباؤ اجداد کی بادشاہت کا طالب ہے اور میں نے تجھ سے اس کی پیروی کرنے والوں کے بارے میں پوچھا کیا وہ ضعیف طبقہ کے لوگ ہیں یا بڑے آدمی ہیں تو نے کہا بلکہ وہ کمزور ہیں اور یہی لوگ رسولوں کے پیروگار ہوتے ہیں اور میں نے تجھ سے پوچھا کیا تم اسے اس دعوی سے قبل جھوٹ سے بھی متہم کرتے تھے اور تو نے کہا نہیں تو میں نے پہچان لیا جو لوگوں پر جھوٹ نہیں باندھتا وہ اللہ پر جھوٹ باندھنے کا ارتکاب کیسے کرسکتا ہے اور میں نے تجھ سے پوچھا کیا ان لوگوں میں سے کوئی دین میں داخل ہونے کے بعد ان سے ناراضگی کی وجہ سے پھر بھی گیا ہے تو نے کہا نہیں اور اسی طرح ایمان کی حلاوت ہوتی ہے جب دل اس سے لطف اندوز ہوجائیں اور میں نے تجھ سے پوچھا کیا وہ بڑھ رہے ہیں یا کم ہو رہے ہیں تو نے کہا کہ وہ بڑھ رہے ہیں تو حقیقت میں ایمان کے درجہ تکمیل تک پہنچنے میں یہی کیفیت ہوتی ہے میں نے تجھ سے پوچھا کیا تم نے اس سے کوئی جنگ بھی کی اور تو نے کہا ہم اس سے جنگ کرچکے ہیں اور جنگ تمہارے اور اس کے درمیان ڈول کی طرح ہے کبھی وہ تم پر غالب اور کبھی تم اس پر غالب رہے اور رسولوں کو اسی طرح مبتلا رکھا جاتا ہے پھر آخر انجام فتح انہی کی ہوتی ہے اور میں نے تجھ سے پوچھا کیا اس نے معاہدہ کی خلاف ورزی بھی کی؟ تو نے کہا: نہیں اور رسل (علیہم السلام) اسی طرح عہد شکنی نہیں کرتے اور میں نے تجھ سے پوچھا کیا یہ دعوی اس سے پہلے بھی کسی نے کیا تو تم نے کہا نہیں تو میں کہتا ہوں اگر یہ دعوی اس سے پہلے کیا جاتا تو کہتا ہے یہ ایسا آدمی ہے جو اپنے سے پہلے کئے گئے دعوی کی تکمیل کر رہا ہے ابوسفیان نے کہا پھر ہرقل نے کہا وہ تمہیں کس بات کا حکم دیتے ہیں میں نے کہا وہ ہمیں نماز، زکوۃ، صلہ رحمی اور پاک دامنی کا حکم دیتے ہیں ہرقل نے کہا جو کچھ تم کہہ رہے ہو اگر یہ سچ ہے تو وہ واقعتا نبی ہے اس نے کہا میں جانتا تھا کہ اس کا ظہور تم میں سے ہوگا اور اگر مجھے معلوم ہوتا کہ میں ان تک پہنچ جاؤں گا تو میں ان کی ملاقات کو پسند کرتا اور اگر میں ان کے پاس ہوتا تو میں ان کے پاؤں مبارک دھوتا اور ان کی بادشاہت ضرور بالضرور میرے قدموں کے نیچے پہنچ جائے گی پھر اس نے رسول اللہ ﷺ کا خط مبارک منگوا کر پڑھا تو اس میں یہ تھا بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ اللہ کے رسول محمد ﷺ کی طرف سے (یہ خط) بادشاہ روم ہرقل کی طرف۔ اس پر سلامتی ہو جس نے ہدایت کا اتباع کیا۔ اما بعد میں تجھے اسلام کی دعوت دیتا ہوں اسلام قبول کرلو سلامت رہو گے اور اسلام قبول کرلے اللہ تجھے دوہرا ثواب عطا کرے گا اور اگر تم نے اعراض کیا تو رعایا کا گناہ بھی تجھ پر ہوگا اور اے اہل کتاب آؤ اس بات کی طرف جو تمہارے اور ہمارے درمیان برابر (مطفق) ہے کہ ہم اللہ کے سوا کسی کی عبادت کریں اور نہ اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک کریں گے اور نہ ہمارے بعض دوسرے بعض کو اللہ کے سوا رب بنائیں گے پس اگر وہ اعراض کریں تو تم کہہ دو گواہ ہوجاؤ کہ ہم مسلمان ہیں۔ جب خط کے پڑھنے سے فارغ ہوا تو اس کے سامنے چیخ و پکار ہونے لگی اور بکثرت آوازیں آنا شروع ہوگئیں اور اس نے ہمیں باہر لے جانے کا حکم دیا میں نے اپنے ساتھیوں سے اس وقت کہا جب کہ ہمیں نکالا گیا کہ اب تو ابن ابی کبشہ رسول اللہ ﷺ کی بات بہت بڑھ گئی ہے کہ اس سے تو شاہ روم بھی خوف کرتا ہے اور اسی وقت سے مجھے ہمیشہ یہ یقین رہا کہ رسول اللہ ﷺ عنقریب غالب ہوں گے حتی کہ رب العزت نے اپنی رحمت سے مجھے اسلام میں داخل کردیا۔

It has been narrated on the authority of Ibn Abbas (RA) who learnt the tradition personally from Abu Safyan. The latter said: I went out (on a mercantile venture) during the period (of truce) between me and the Messenger of Allah ﷺ . While I was in Syria, the letter of the Messenger of Allah ﷺ was handed over to Hiraql (Ceasar), the Emperor of Rome (who was on a visit to Jerusalem at that time). The letter was brought by Dihya Kalbi who delivered it to the governor of Busra. The governor passed it on to Hiraql, (On receiving the letter), he said: Is there anyone from the people of this man who thinks that he is a prophet. People said: Yes. So, I was called along with a few others from the Quraish. We were admitted to Hiraql and he seated us before him. He asked: Which of you has closer kinship with the man who thinks that he is a prophet? Abu Sufyan (RA) said: I. So they seated me in front of him and stated my companions behind me. Then, he called his interpreter and said to him: Tell them that I am going to ask this fellow (i. e. Abu Sufyan (RA) ) about the man who thinks that he is a prophet. It he tells me a lie, then refute him. Abu Sufyan (RA) told (the narrator): By God, if there was not the fear that falsehood would be imputed to me I would have lied. (Then) Hiraqi said to his interpreter: Inquire from him about his ancestry, I said: He is of good ancestry among us. He asked: Has there been a king among his ancestors? I said: No. He asked: Did you accuse him of falsehood before he proclaimed his prophethood? I said: No. He asked: Who are his follower people of high status or low status? I said: (They are) of low status. He asked: Are they increasing in number or decreasing? I said. No they are rather increasing. He asked: Does anyone give up his religion, being dissatisfied with it, after having embraced it? I said: No. He asked: Have you been at war with him? I said: Yes. He asked: How did you fare in that war? I said: The war between us and him has been wavering like a bucket, up at one turn and down at the other (i. e. the victory has been shared between us and him by turns). Sometimes he suffered loss at our hands and sometimes we suffered loss at his (hand). He asked: Has he (ever) violated his covenant? I said: No. but we have recently concluded a peace treaty with him for a period and we do not know what he is going to do about it. ( Abu Sufyan (RA) said on oath that he could not interpolate in this dialogue anything from himself more than these words). He asked: Did anyone make the proclamation (Of prophethood) before him? I said: No. He (now) said to his interpreter: Tell him, I asked him about his ancestry and he had replied that he had the best ancestry. This is the case with Prophets; they are the descendants of the noblest among their people (Addressing Abu Sufyan (RA) ), he continued: I asked you if there had been a king among his ancestors. You said that there had been none. If there had been a king among his ancestors, I would have said that he was a man demanding his ancestral kingdom. I asked you about his followers whether they were people of high or low status, and you said that they were of rather low status. Such are the followers of the Prophets. I asked you whether you used to accuse him of falsehood before he proclaimed his prophethood, and you said that you did not. So I have understood that when he did not allow himself to tell a lie about the poeple, he would never go to the length of forging a falsehood about Allah. I asked you whether anyone renounced his religion being dissatisfied with it after he had embraced it, and you replied in the negative. Faith is like this when it enters the depth of the heart (it perpetuates them). I asked you whether his followers were increasing or decreasing. You said they were increasing. Faith is like this until it reaches its consummation. I asked you whether you had been at war with him, and you replied that you had been and that the victory between you and him had been shared by turns, sometimes he suffering loss at your hand and sometimes you suffering lost at his. This is how the Prophets are tried before the final victory is theirs. I asked you whether he (ever) violated his covenant, and you said that he did not. This is how the Prophets behave. They never violate (their covenants). I asked you whether anyone before him had proclaimed the same thing, and you replied in the negative. I said: If anyone had made the same proclamation before, I would have thought that he was a man following what had been proclaimed before. (Then) he asked: What does he enjoin upon you? I said: He exhorts us to offer Salat, to pay Zakat, to show due regard to kinship and to practise chastity. He said: If what you have told about him is true, he is certainly a Prophet. I knew that he was to appear but I did not think that he would be from among you. If I knew that I would be able to reach him, I would love to meet him; and if I had been with him. I would have washed his feet (out of reverence). His dominion would certainly extend to this place which is under my feet. Then he called for the letter of the Messenger of Allah ﷺ and read it. The letter ran as follows: "In the name of Allah, Most Gracious and Most Merciful. From Muhammad, the Messenger of Allah, to Hiraql, the Emperor of the Romans. Peace be upon him who follows the guidance. After this, I extend to you the invitation to accept Islam. Embrace Islam and you will be safe. Accept Islam, God will give you double the reward. And if you turn away, upon you will be the sin of your subjects." O People of the Book, come to the word that is common between us that we should worship none other than Allah, should not ascribe any partner to Him and some of us should not take their fellows as Lords other than Allah. If they turn away, you should say that we testify to our being Muslims [iii. 64]." When he had finished reading the letter, noise and confused clamour was raise around him, and he ordered us to leave. Accordingly, we left. (Addressing my companions) while we were coming out (of the place). I said: Ibn Abu Kabsha (referring sarcastically to the Holy Prophet) has come to wield a great power. Lo! (even) the king of the Romans is afraid of him. I continued to believe that the authority of the Messenger of Allah ﷺ would triumph until God imbued me with (the spirit of) Islam.

4608Sahih Muslim

نبی کریم ﷺ کا ہرقل کی طرف اسلام کی دعوت کے لئے مکتوب کے بیان میں

و حَدَّثَنَاه حَسَنٌ الْحُلْوَانِيُّ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ قَالَا حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ وَهُوَ ابْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ صَالِحٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَزَادَ فِي الْحَدِيثِ وَکَانَ قَيْصَرُ لَمَّا کَشَفَ اللَّهُ عَنْهُ جُنُودَ فَارِسَ مَشَی مِنْ حِمْصَ إِلَی إِيلِيَائَ شُکْرًا لِمَا أَبْلَاهُ اللَّهُ وَقَالَ فِي الْحَدِيثِ مِنْ مُحَمَّدٍ عَبْدِ اللَّهِ وَرَسُولِهِ وَقَالَ إِثْمَ الْيَرِيسِيِّينَ وَقَالَ بِدَاعِيَةِ الْإِسْلَامِ

حسن حلوانی، عبد بن حمید، یعقوب ابن ابراہیم، ابن سعد، ابوصالح، ابن شہاب سے ان سندوں کے ساتھ روایت ہے اور اس حدیث میں یہ زائد ہے کہ قیصر نے جب فارس کے لشکر کو شکست دی تو وہ حمص سے ایلیاء کی طرف چلا تاکہ وہ اس آزمائش میں کامیاب ہونے پر اللہ کا شکر ادا کرے۔

This hadith has been narrated on the authority of Ibn Shihab with the same chain of transmitters but with the addition: "When Allah inflicted defeat on the armies of Persia, Caesar moved from Hims to Aelia (Bait al-Maqdis) for thanking Allah as He granted him victory." In this hadith these words occur: "From Muhammad, servant of Allah and His Messenger," and said: "The sin of your followers," and also said the words: "to the call of Islam".

4609Sahih Muslim

نبی ﷺ کے لکھے گئے کافر بادشاہوں کی طرف اور ان ہیں اسلام کی طرف بلانے کے بیان میں

حَدَّثَنِي يُوسُفُ بْنُ حَمَّادٍ الْمَعْنِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَی عَنْ سَعِيدٍ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَتَبَ إِلَی کِسْرَی وَإِلَی قَيْصَرَ وَإِلَی النَّجَاشِيِّ وَإِلَی کُلِّ جَبَّارٍ يَدْعُوهُمْ إِلَی اللَّهِ تَعَالَی وَلَيْسَ بِالنَّجَاشِيِّ الَّذِي صَلَّی عَلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ و

یوسف بن حماد، عبدالاعلی، سعید بن قتادہ، حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی ﷺ نے کسری اور قیصر کی طرف اور نجاشی اور ہر (کافر) حاکم کی طرف خط لکھے جن میں ان کو اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دی گئی اور نجاشی یہ وہ نہیں ہے کہ جس پر نبی ﷺ نے نماز جنازہ پڑھائی تھی۔

It has been narrated on the authority of Anas that the Prophet ﷺ of Allah ﷺ wrote to Chosroes (King of Persia), Caesar (Emperor of Rome), Negus (King of Abyssinia) and every (other) despot inviting them to Allah, the Exalted. And this Negus was not the one for whom the Messenger of Allah ﷺ had said the funeral prayers.

4610Sahih Muslim

نبی ﷺ کے لکھے گئے کافر بادشاہوں کی طرف اور ان ہیں اسلام کی طرف بلانے کے بیان میں

حَدَّثَنَاه مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الرُّزِّيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَائٍ عَنْ سَعِيدٍ عَنْ قَتَادَةَ حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِکٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ وَلَمْ يَقُلْ وَلَيْسَ بِالنَّجَاشِيِّ الَّذِي صَلَّی عَلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

محمد بن عبداللہ، عبدالوہاب بن عطاء، سعید، قتادہ، حضرت انس ؓ نے نبی ﷺ سے اسی حدیث کی طرح حدیث نقل کی اس حدیث میں یہ نہیں کہا کہ یہ نجاشی وہ نہیں ہے کہ جس پر نبی ﷺ نے نماز جنازہ پڑھائی۔

The tradition has been narrated on the authority of Anas bin Malik (RA) (the same narrator) through a different chain of transmitters, but this version does not mention: "And he was not the Negus for whom the Prophet ﷺ had said the funeral prayers."

4611Sahih Muslim

نبی ﷺ کے لکھے گئے کافر بادشاہوں کی طرف اور ان ہیں اسلام کی طرف بلانے کے بیان میں

و حَدَّثَنِيهِ نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ أَخْبَرَنِي أَبِي حَدَّثَنِي خَالِدُ بْنُ قَيْسٍ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ وَلَمْ يَذْکُرْ وَلَيْسَ بِالنَّجَاشِيِّ الَّذِي صَلَّی عَلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

نصر بن علی جہضمی، خالد بن قیس، قتادہ، انس، اسی طرح دوسری سند سے جو روایت ہے اس میں بھی یہ الفاظ مذکور نہیں کہ یہ نجاشی وہ نہیں کہ جس پر نبی ﷺ نے نماز جنازہ پڑھائی۔

It has been narrated on the authority of the same narrator through another chain of transmitters with the same difference in the wording.

4612Sahih Muslim

غزوئہ حنین کے بیان میں

و حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ سَرْحٍ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ حَدَّثَنِي کَثِيرُ بْنُ عَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ قَالَ قَالَ عَبَّاسٌ شَهِدْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ حُنَيْنٍ فَلَزِمْتُ أَنَا وَأَبُو سُفْيَانَ بْنُ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ نُفَارِقْهُ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَی بَغْلَةٍ لَهُ بَيْضَائَ أَهْدَاهَا لَهُ فَرْوَةُ بْنُ نُفَاثَةَ الْجُذَامِيُّ فَلَمَّا الْتَقَی الْمُسْلِمُونَ وَالْکُفَّارُ وَلَّی الْمُسْلِمُونَ مُدْبِرِينَ فَطَفِقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْکُضُ بَغْلَتَهُ قِبَلَ الْکُفَّارِ قَالَ عَبَّاسٌ وَأَنَا آخِذٌ بِلِجَامِ بَغْلَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَکُفُّهَا إِرَادَةَ أَنْ لَا تُسْرِعَ وَأَبُو سُفْيَانَ آخِذٌ بِرِکَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيْ عَبَّاسُ نَادِ أَصْحَابَ السَّمُرَةِ فَقَالَ عَبَّاسٌ وَکَانَ رَجُلًا صَيِّتًا فَقُلْتُ بِأَعْلَی صَوْتِي أَيْنَ أَصْحَابُ السَّمُرَةِ قَالَ فَوَاللَّهِ لَکَأَنَّ عَطْفَتَهُمْ حِينَ سَمِعُوا صَوْتِي عَطْفَةُ الْبَقَرِ عَلَی أَوْلَادِهَا فَقَالُوا يَا لَبَّيْکَ يَا لَبَّيْکَ قَالَ فَاقْتَتَلُوا وَالْکُفَّارَ وَالدَّعْوَةُ فِي الْأَنْصَارِ يَقُولُونَ يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ قَالَ ثُمَّ قُصِرَتْ الدَّعْوَةُ عَلَی بَنِي الْحَارِثِ بْنِ الْخَزْرَجِ فَقَالُوا يَا بَنِي الْحَارِثِ بْنِ الْخَزْرَجِ يَا بَنِي الْحَارِثِ بْنِ الْخَزْرَجِ فَنَظَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عَلَی بَغْلَتِهِ کَالْمُتَطَاوِلِ عَلَيْهَا إِلَی قِتَالِهِمْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَذَا حِينَ حَمِيَ الْوَطِيسُ قَالَ ثُمَّ أَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَصَيَاتٍ فَرَمَی بِهِنَّ وُجُوهَ الْکُفَّارِ ثُمَّ قَالَ انْهَزَمُوا وَرَبِّ مُحَمَّدٍ قَالَ فَذَهَبْتُ أَنْظُرُ فَإِذَا الْقِتَالُ عَلَی هَيْئَتِهِ فِيمَا أَرَی قَالَ فَوَاللَّهِ مَا هُوَ إِلَّا أَنْ رَمَاهُمْ بِحَصَيَاتِهِ فَمَا زِلْتُ أَرَی حَدَّهُمْ کَلِيلًا وَأَمْرَهُمْ مُدْبِرًا

ابوطاہر، احمد بن عمرو بن سرح، ابن وہب، یونس، ابن شہاب، حضرت کثیر بن عباس بن عبدالمطلب بیان کرتے ہیں کہ حضرت عباس ؓ فرماتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ حنین کے دن موجود تھا میں اور ابوسفیان بن حارث بن عبدالمطلب ساتھ ساتھ رہے اور رسول اللہ ﷺ بالکل علیحدہ نہیں ہوئے اور رسول اللہ ﷺ سفید رنگ کے خچر پر سوار تھے وہ خچر آپ ﷺ کو فروہ بن نفاثہ جذامی نے ہدیہ کیا تھا تو جب مسلمانوں اور کافروں کا مقابلہ ہوا تو مسلمان پیٹھ پھیر کر بھاگے اور رسول اللہ ﷺ کافروں کی طرف اپنے خچر کو دوڑا رہے تھے حضرت عباس ؓ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے خچر کی لگام کو پکڑ کر اسے تیز بھاگنے سے روک رہا تھا اور ابوسفیان رسول اللہ ﷺ کی رکاب پکڑے ہوئے تھے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اے عباس اصحاب سمرہ کو بلاؤ۔ حضرت عباس بلند آواز آدمی تھے۔ (حضرت عباس ؓ کہتے ہیں کہ) میں نے اپنی پوری آواز سے پکارا کہ اصحاب سمرہ کہاں ہیں؟ حضرت عباس ؓ کہتے ہیں اللہ کی قسم جس وقت انہوں نے یہ آواز سنی تو وہ اس طرح پلٹے جس طرح کہ گائے اپنے بچوں کی طرف پلٹتی ہے وہ لوگ يَا لَبَّيْکَ يَا لَبَّيْکَ کہتے ہوئے آئے اور انہوں نے کافروں سے جنگ شروع کردی اور انہوں نے انصار کو بھی بلایا اور کہنے لگے اے انصار کی جماعت پھر انہوں نے بنو حارث بن خزرج کو بلایا اور کہا اے بنو حارث بن خزرج! اے بنو حارث بن خزرج! تو رسول اللہ ﷺ اپنے خچر پر سوار ان کی طرف ان کی جنگ کا منظر دیکھ رہے تھے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اس وقت تنور گرم ہے راوی کہتے ہیں کہ پھر رسول اللہ ﷺ نے چند کنکریاں اٹھائیں اور انہیں کافروں کے چہروں کی طرف پھینکا پھر فرمایا محمد ﷺ کے رب کی قسم یہ شکست کھا گئے حضرت عباس ؓ فرماتے ہیں کہ میں دیکھ رہا تھا کہ جنگ بڑی تیزی کے ساتھ جاری تھی میں اس طرح دیکھ رہا تھا کہ آپ ﷺ نے اچانک کنکریاں پھینکیں۔ حضرت عباس ؓ کہتے ہیں اللہ کی قسم میں نے دیکھا کہ ان کا زور ٹوٹ گیا اور وہ پشت پھیر کر بھاگنے لگے۔

It has been narrated on the authority of Abbas who said: I was in the company of the Messenger of Allah ﷺ on the Day of Hunain. I and Abd Sufyan bin Harith bin Abdul Muttalib stuck to the Messenger of Allah ﷺ and we did not separate from him. And the Messenger of Allah ﷺ was riding on his white mule which had been presented to him by Farwa bin Nufitha al-Judhami. When the Muslims had an encounter with the disbelievers, the Muslims fled, falling back, but the Messenger of Allah ﷺ began to spur his mule towards the disbelievers. I was holding the bridle of the mule of the Messenger of Allah ﷺ checking it from going very fast, and Abu Sufyan (RA) was holding the stirrup of the (mule of the) Messenger of Allah ﷺ , who said: Abbas, call out to the people of al-ahadeeth. Abbas (who was a man with a loud voice) called out at the top of the voice: Where are the people of ahadeeth? (Abbas said:) And by God, when they heard my voice, they came back (to us) as cows come back to their calves, and said: We are present, we are present! Abbas said: They began to fight the infidels. Then there was a call to The Ansar. Those (who called out to them) shouted: O ye party of the Ansar! O party of the Ansar! Banu al-Harith bin al-Khazraj were the last to be called. Those (who called out to them) shouted: O Banu Al-Harith bin al-Khazraj! O Banu Harith bin al-Khazraj! And the Messenger of Allah ﷺ who was riding on his mule looked at their fight with his neck stretched forward and he said: This is the time when the fight is raging hot. Then the Messenger of Allah ﷺ took (some) pebbles and threw them in the face of the infidels. Then he said: By the Lord of Muhammad, the infidels are defeated. Abbas said: I went round and saw that the battle was in the same condition in which I had seen it. By Allah, it remained in the same condition until he threw the pebbles. I continued to watch until I found that their force had been spent out and they began to retreat.

4613Sahih Muslim

غزوئہ حنین کے بیان میں

و حَدَّثَنَاه إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ جَمِيعًا عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ فَرْوَةُ بْنُ نُعَامَةَ الْجُذَامِيُّ وَقَالَ انْهَزَمُوا وَرَبِّ الْکَعْبَةِ انْهَزَمُوا وَرَبِّ الْکَعْبَةِ وَزَادَ فِي الْحَدِيثِ حَتَّی هَزَمَهُمْ اللَّهُ قَالَ وَکَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْکُضُ خَلْفَهُمْ عَلَی بَغْلَتِهِ

اسحاق بن ابراہیم، محمد بن رافع، عبد بن حمید، عبدالرزاق، معمر، حضرت زہری ؓ سے ان سندوں کے ساتھ اسی طرح یہ حدیث نقل کی گئی ہے سوائے اس کے کہ اس میں ہے فروہ بن نعامہ جذامی کہتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا رب کعبہ کی قسم یہ شکست کھا گئے رب کعبہ کی قسم یہ شکست کھا گئے اور حدیث میں یہ زائد ہے کہ یہاں تک کہ اللہ نے ان کو شکست دے دی اور گویا کہ میں نبی ﷺ کی طرف دیکھ رہا ہوں کہ آپ ﷺ ان کے پیچھے اپنے خچر کو بھگا رہے ہیں۔

A version of the tradition has been transmitted through another chain of narrators. In this version the words uttered by the Holy Prophet ﷺ (after he had thrown the pebbles in the face of the enemy) are reported as: "By the Lord of the Ka’bah, they have been defeated." And there is at the end the addition of the words: "Until Allah defeated them" (and I imagine) as if I saw the Prophet ﷺ of Allah ﷺ chasing them on his mule.

4614Sahih Muslim

غزوئہ حنین کے بیان میں

و حَدَّثَنَاه ابْنُ أَبِي عُمَرَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ الزُّهْرِيِّ قَالَ أَخْبَرَنِي کَثِيرُ بْنُ الْعَبَّاسِ عَنْ أَبِيهِ قَالَ کُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ حُنَيْنٍ وَسَاقَ الْحَدِيثَ غَيْرَ أَنَّ حَدِيثَ يُونُسَ وَحَدِيثَ مَعْمَرٍ أَکْثَرُ مِنْهُ وَأَتَمُّ

ابن ابی عمر، سفیان بن عیینہ، زہری، حضرت کثیر بن عباس ؓ اپنے باپ سے روایت کرتے ہوئے خبر دیتے ہیں کہ میں حنین کے دن نبی ﷺ کے ساتھ تھا پھر آگے مذکورہ حدیث کی طرح حدیث نقل کی۔

Abbas reported: I was with Allahs Apostle ﷺ on the Day of Hunain. The rest of the hadith is the same but with this variation that the hadith transmitted by Yonus and Mamar is more detailed and complete.

4615Sahih Muslim

غزوئہ حنین کے بیان میں

حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ عَنْ أَبِي إِسْحَقَ قَالَ قَالَ رَجُلٌ لِلْبَرَائِ يَا أَبَا عُمَارَةَ أَفَرَرْتُمْ يَوْمَ حُنَيْنٍ قَالَ لَا وَاللَّهِ مَا وَلَّی رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَکِنَّهُ خَرَجَ شُبَّانُ أَصْحَابِهِ وَأَخِفَّاؤُهُمْ حُسَّرًا لَيْسَ عَلَيْهِمْ سِلَاحٌ أَوْ کَثِيرُ سِلَاحٍ فَلَقُوا قَوْمًا رُمَاةً لَا يَکَادُ يَسْقُطُ لَهُمْ سَهْمٌ جَمْعَ هَوَازِنَ وَبَنِي نَصْرٍ فَرَشَقُوهُمْ رَشْقًا مَا يَکَادُونَ يُخْطِئُونَ فَأَقْبَلُوا هُنَاکَ إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَی بَغْلَتِهِ الْبَيْضَائِ وَأَبُو سُفْيَانَ بْنُ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ يَقُودُ بِهِ فَنَزَلَ فَاسْتَنْصَرَ وَقَالَ أَنَا النَّبِيُّ لَا کَذِبْ أَنَا ابْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبْ ثُمَّ صَفَّهُمْ

یحییٰ بن یحیی، ابوخیثمہ، حضرت ابواسحاق ؓ سے روایت ہے کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے حضرت براء ؓ سے کہا اے ابوعمارہ کیا تم حنین کے دن بھاگ گئے تھے انہوں نے کہا نہیں اللہ کی قسم رسول اللہ ﷺ نے پیٹھ نہیں پھیری بلکہ آپ ﷺ کے صحابہ میں سے چند نوجوان جلد باز اور بغیر ہتھیار میدان میں نکل آئے اور انہوں نے ایسے تیراندازوں سے مقابلہ کیا جو ہوازن اور بنو نضیر کے ایسے نوجوان تھے جن کا تیر خطا نہ ہوتا تھا انہوں نے اس انداز میں تیراندازی کی کہ ان کا کوئی تیر خطا نہ گیا پھر یہ نوجوان رسول اللہ ﷺ کی طرف متوجہ ہوئے اور رسول اللہ اپنے سفید خچر پر سوار تھے اور ابوسفیان بن حارث بن عبدالمطلب اس کی لگام تھامے ہوئے تھے آپ ﷺ اترے اور اللہ سے مدد طلب کی اور ارشاد فرمایا میں نبی ﷺ ہوں یہ جھوٹ نہیں ہے میں عبدالمطلب کا بیٹا ہوں پھر آپ ﷺ نے صف بندی کی۔

It has been narratedon the authority of Abu Ishaq who said: A man asked Bara (b. Azib): Did you run away on the Day of Hunain. O, Abu Umira? He said: No, by Allah, The Messenger of Allah ﷺ did not turn his back; (what actually happened was that) some young men from among his companions, who were hasty and who were either without any arms or did not have abundant arms, advanced and met a party of archers (who were so good shots) that their arrows never missed the mark. This party (of archers) belonged to Banu Hawazin and Banu Nadir. They shot at the advancing young men and their arrows were not likely to miss their targets. So these young men turned to the Messenger of Allah ﷺ while he was riding on his white mule and Abu Sufyan (RA) bin al-Harith bin Abdul Muttalib was leading him. (At this) he got down from his mule, invoked Gods help, and called out: I am the Prophet. This is no untruth. I am the son of Abdul Muttalib. Then he deployed his men into battle array.

4616Sahih Muslim

غزوئہ حنین کے بیان میں

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ جَنَابٍ الْمِصِّيصِيُّ حَدَّثَنَا عِيسَی بْنُ يُونُسَ عَنْ زَکَرِيَّائَ عَنْ أَبِي إِسْحَقَ قَالَ جَائَ رَجُلٌ إِلَی الْبَرَائِ فَقَالَ أَکُنْتُمْ وَلَّيْتُمْ يَوْمَ حُنَيْنٍ يَا أَبَا عُمَارَةَ فَقَالَ أَشْهَدُ عَلَی نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا وَلَّی وَلَکِنَّهُ انْطَلَقَ أَخِفَّائُ مِنْ النَّاسِ وَحُسَّرٌ إِلَی هَذَا الْحَيِّ مِنْ هَوَازِنَ وَهُمْ قَوْمٌ رُمَاةٌ فَرَمَوْهُمْ بِرِشْقٍ مِنْ نَبْلٍ کَأَنَّهَا رِجْلٌ مِنْ جَرَادٍ فَانْکَشَفُوا فَأَقْبَلَ الْقَوْمُ إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو سُفْيَانَ بْنُ الْحَارِثِ يَقُودُ بِهِ بَغْلَتَهُ فَنَزَلَ وَدَعَا وَاسْتَنْصَرَ وَهُوَ يَقُولُ أَنَا النَّبِيُّ لَا کَذِبْ أَنَا ابْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبْ اللَّهُمَّ نَزِّلْ نَصْرَکَ قَالَ الْبَرَائُ کُنَّا وَاللَّهِ إِذَا احْمَرَّ الْبَأْسُ نَتَّقِي بِهِ وَإِنَّ الشُّجَاعَ مِنَّا لَلَّذِي يُحَاذِي بِهِ يَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

احمد بن جناب مصیصی، عیسیٰ بن یونس، زکریا، حضرت ابواسحاق ؓ سے روایت ہے کہ حضرت براء کے پاس ایک آدمی نے آ کر کہا اے ابوعمارہ کیا تم غزوہ حنین کے دن بھاگ گئے تھے انہوں نے کہا میں نبی ﷺ کی اس بات پر گواہی دیتا ہوں کہ آپ ﷺ نے پیٹھ نہ پھیری بلکہ لوگوں میں سے چند کمزور اور نہتے نوجوان بنو ہوازن کے اس قبیلہ کی طرف بڑھے اور وہ تیر انداز قوم تھی پس انہوں نے تیروں کی اس طرح بوچھاڑ کردی جیسے ٹڈی دل ہو صحابہ ؓ منتشر ہوگئے تو یہ قوم رسول اللہ ﷺ کی طرف بڑھنے لگی اس وقت ابوسفیان بن حارث آپ ﷺ کے خچر کی لگام تھامے ہوئے تھے آپ ﷺ اترے دعا مانگی اور مدد طلب کی اور آپ ﷺ فرماتے تھے میں نبی ﷺ ہوں یہ جھوٹ نہیں ہے میں عبدالمطلب کا بیٹا ہوں اے اللہ اپنی مدد نازل فرما براء نے کہا ہم جنگ کی شدت میں اپنے آپ کو آپ ﷺ کی پناہ میں بچاتے تھے اور ہم میں سے بہادر آپ ﷺ کے ساتھ یعنی نبی ﷺ کے ساتھ رہتا۔

It has been narrated (through a different chain of transmitters) by Abu Ishiq that a person said to Bara (b. Azib): Abu Umara, did you flee on the Day of Hunain? He replied: The Messenger of Allah ﷺ did not retreat. (What actually happened was that some hasty young men who were either inadequately armed or were unarmed met a group of men from Banu Hawazin and Banu Nadir who happened to be (excellent) archers. The latter shot at them a volley of arrows that did not miss. The people turned to the Messenger of Allah ﷺ . Abu Sufyan (RA) bin Harith was leading his mule. So he got down, prayed and invoked Gods help. He said: I am the Prophet. This is no untruth. I am the son of Abdul Muttalib. O God, descend Thy help. Bara continued: When the battle grew fierce, we, by God. would seek protection by his side, and the bravest among us was he who confronted the onslaught and it was the Holy Prophet ﷺ .

4617Sahih Muslim

غزوئہ حنین کے بیان میں

و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَابْنُ بَشَّارٍ وَاللَّفْظُ لِابْنِ الْمُثَنَّی قَالَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي إِسْحَقَ قَالَ سَمِعْتُ الْبَرَائَ وَسَأَلَهُ رَجُلٌ مِنْ قَيْسٍ أَفَرَرْتُمْ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ حُنَيْنٍ فَقَالَ الْبَرَائُ وَلَکِنْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَفِرَّ وَکَانَتْ هَوَازِنُ يَوْمَئِذٍ رُمَاةً وَإِنَّا لَمَّا حَمَلْنَا عَلَيْهِمْ انْکَشَفُوا فَأَکْبَبْنَا عَلَی الْغَنَائِمِ فَاسْتَقْبَلُونَا بِالسِّهَامِ وَلَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَی بَغْلَتِهِ الْبَيْضَائِ وَإِنَّ أَبَا سُفْيَانَ بْنَ الْحَارِثِ آخِذٌ بِلِجَامِهَا وَهُوَ يَقُولُ أَنَا النَّبِيُّ لَا کَذِبْ أَنَا ابْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبْ

محمد بن مثنی، ابن بشار، ابن مثنی، محمد بن جعفر، شعبہ، ابواسحاق سے روایت ہے کہ میں نے براء سے سنا اور ان سے قیس کے ایک آدمی نے پوچھا کیا تم غزوہ حنین کے دن رسول اللہ ﷺ کے پاس سے بھاگ گئے تھے براء ؓ نے کہا لیکن رسول اللہ ﷺ نہیں بھاگے اور ان دنوں ہوازن تیرانداز تھے جب ہم نے ان پر حملہ کیا تو وہ بھاگ گئے ہم مال غنیمت پر ٹوٹ پڑے اور انہوں نے تیروں سے ہمارا مقابلہ کیا اور میں نے رسول اللہ ﷺ کو اپنے سفید خچر پر سوار دیکھا اور ابوسفیان بن حارث اس کی لگام پکڑے ہوئے تھے اور آپ ﷺ فرما رہے تھے میں نبی ہوں یہ جھوٹ نہیں ہے میں عبدالمطلب کا بیٹا ہوں۔

It has been narrated through a still different chain of transmitters by the same narrator (i. e. Abu Ishaq) who said: I heard from Bara who was asked by a man from the Qais tribe: Did you run away from the Messenger of Allah ﷺ on the Day of Hunain? Bara said: But the Messenger of Allah ﷺ did not run away. On that day Banu Hawzzin took part in the battle as archers (on the side of the disbelievers). When we attacked them, they retreated and we fell upon the booty; (they rallied) and advanced towards us with arrows. (At that time) I saw the Messenger of Allah ﷺ riding on his white mule and Abu Sufyan (RA) bin al-Harith was holding its bridle. He (the Messenger of Allah ﷺ was saying: I am the Prophet. This is no untruth. I am a descendant of Abdul Muttalib.

4618Sahih Muslim

غزوئہ حنین کے بیان میں

و حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَأَبُو بَکْرِ بْنُ خَلَّادٍ قَالُوا حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ عَنْ سُفْيَانَ قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو إِسْحَقَ عَنْ الْبَرَائِ قَالَ قَالَ لَهُ رَجُلٌ يَا أَبَا عُمَارَةَ فَذَکَرَ الْحَدِيثَ وَهُوَ أَقَلُّ مِنْ حَدِيثِهِمْ وَهَؤُلَائِ أَتَمُّ حَدِيثًا

زہیر بن حرب، محمد بن مثنی، ابوبکر بن خلاد، یحییٰ بن سعید، سفیان، ابواسحاق حضرت براء ؓ سے روایت ہے کہ ان سے ایک آدمی نے کہا اے ابوعمارہ باقی حدیث مبارکہ اسی طرح ہے۔

This hadith has been narrated on the authority of Bara with another chain of transmitters, but this hadith is short as compared with other ahadith which are more detailed.