نبی ﷺ کا فرمان ہمارا کوئی وارث نہیں ہوتا جو ہم چھوڑیں وہ صدقہ ہے کے بیان میں
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَالِکٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ إِنَّ أَزْوَاجَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرَدْنَ أَنْ يَبْعَثْنَ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ إِلَی أَبِي بَکْرٍ فَيَسْأَلْنَهُ مِيرَاثَهُنَّ مِنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ عَائِشَةُ لَهُنَّ أَلَيْسَ قَدْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا نُورَثُ مَا تَرَکْنَا فَهُوَ صَدَقَةٌ
یحییٰ بن یحیی، مالک، ابن شہاب، عروہ، حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ جس وقت رسول اللہ ﷺ نے وفات پائی تو نبی ﷺ کی ازواج مطہرات نے ارادہ کیا کہ حضرت عثمان بن عفان ؓ کو حضرت ابوبکر ؓ کی طرف بھجیں اور ان سے نبی ﷺ کی میراث میں سے اپنا حصہ مانگیں حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ کیا رسول اللہ ﷺ نے یہ نہیں فرمایا ہمارا کوئی وارث نہیں ہوتا اور جو ہم چھوڑیں وہ صدقہ ہے۔
It is narrated on the authority of Aisha who said: When the Messenger of Allah ﷺ passed away, his wives made up their minds to send Uthman bin Affan (as their spokesman) to Abu Bakr (RA) to demand from him their share from the legacy of the Holy Prophet ﷺ . (At this), Aisha said to them: Hasnt the Messenger of Allah ﷺ said: "We (Prophets) do not have any heirs; what we leave behind is (to be given in) charity"?
نبی ﷺ کا فرمان ہمارا کوئی وارث نہیں ہوتا جو ہم چھوڑیں وہ صدقہ ہے کے بیان میں
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ أَخْبَرَنَا حُجَيْنٌ حَدَّثَنَا لَيْثٌ عَنْ عُقَيْلٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا أَخْبَرَتْهُ أَنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْسَلَتْ إِلَی أَبِي بَکْرٍ الصِّدِّيقِ تَسْأَلُهُ مِيرَاثَهَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِمَّا أَفَائَ اللَّهُ عَلَيْهِ بِالْمَدِينَةِ وَفَدَکٍ وَمَا بَقِيَ مِنْ خُمْسِ خَيْبَرَ فَقَالَ أَبُو بَکْرٍ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا نُورَثُ مَا تَرَکْنَا صَدَقَةٌ إِنَّمَا يَأْکُلُ آلُ مُحَمَّدٍ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هَذَا الْمَالِ وَإِنِّي وَاللَّهِ لَا أُغَيِّرُ شَيْئًا مِنْ صَدَقَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ حَالِهَا الَّتِي کَانَتْ عَلَيْهَا فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَأَعْمَلَنَّ فِيهَا بِمَا عَمِلَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَبَی أَبُو بَکْرٍ أَنْ يَدْفَعَ إِلَی فَاطِمَةَ شَيْئًا فَوَجَدَتْ فَاطِمَةُ عَلَی أَبِي بَکْرٍ فِي ذَلِکَ قَالَ فَهَجَرَتْهُ فَلَمْ تُکَلِّمْهُ حَتَّی تُوُفِّيَتْ وَعَاشَتْ بَعْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سِتَّةَ أَشْهُرٍ فَلَمَّا تُوُفِّيَتْ دَفَنَهَا زَوْجُهَا عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ لَيْلًا وَلَمْ يُؤْذِنْ بِهَا أَبَا بَکْرٍ وَصَلَّی عَلَيْهَا عَلِيٌّ وَکَانَ لِعَلِيٍّ مِنْ النَّاسِ وِجْهَةٌ حَيَاةَ فَاطِمَةَ فَلَمَّا تُوُفِّيَتْ اسْتَنْکَرَ عَلِيٌّ وُجُوهَ النَّاسِ فَالْتَمَسَ مُصَالَحَةَ أَبِي بَکْرٍ وَمُبَايَعَتَهُ وَلَمْ يَکُنْ بَايَعَ تِلْکَ الْأَشْهُرَ فَأَرْسَلَ إِلَی أَبِي بَکْرٍ أَنْ ائْتِنَا وَلَا يَأْتِنَا مَعَکَ أَحَدٌ کَرَاهِيَةَ مَحْضَرِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فَقَالَ عُمَرُ لِأَبِي بَکْرٍ وَاللَّهِ لَا تَدْخُلْ عَلَيْهِمْ وَحْدَکَ فَقَالَ أَبُو بَکْرٍ وَمَا عَسَاهُمْ أَنْ يَفْعَلُوا بِي إِنِّي وَاللَّهِ لَآتِيَنَّهُمْ فَدَخَلَ عَلَيْهِمْ أَبُو بَکْرٍ فَتَشَهَّدَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ ثُمَّ قَالَ إِنَّا قَدْ عَرَفْنَا يَا أَبَا بَکْرٍ فَضِيلَتَکَ وَمَا أَعْطَاکَ اللَّهُ وَلَمْ نَنْفَسْ عَلَيْکَ خَيْرًا سَاقَهُ اللَّهُ إِلَيْکَ وَلَکِنَّکَ اسْتَبْدَدْتَ عَلَيْنَا بِالْأَمْرِ وَکُنَّا نَحْنُ نَرَی لَنَا حَقًّا لِقَرَابَتِنَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يَزَلْ يُکَلِّمُ أَبَا بَکْرٍ حَتَّی فَاضَتْ عَيْنَا أَبِي بَکْرٍ فَلَمَّا تَکَلَّمَ أَبُو بَکْرٍ قَالَ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَقَرَابَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحَبُّ إِلَيَّ أَنْ أَصِلَ مِنْ قَرَابَتِي وَأَمَّا الَّذِي شَجَرَ بَيْنِي وَبَيْنَکُمْ مِنْ هَذِهِ الْأَمْوَالِ فَإِنِّي لَمْ آلُ فِيهَا عَنْ الْحَقِّ وَلَمْ أَتْرُکْ أَمْرًا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْنَعُهُ فِيهَا إِلَّا صَنَعْتُهُ فَقَالَ عَلِيٌّ لِأَبِي بَکْرٍ مَوْعِدُکَ الْعَشِيَّةُ لِلْبَيْعَةِ فَلَمَّا صَلَّی أَبُو بَکْرٍ صَلَاةَ الظُّهْرِ رَقِيَ عَلَی الْمِنْبَرِ فَتَشَهَّدَ وَذَکَرَ شَأْنَ عَلِيٍّ وَتَخَلُّفَهُ عَنْ الْبَيْعَةِ وَعُذْرَهُ بِالَّذِي اعْتَذَرَ إِلَيْهِ ثُمَّ اسْتَغْفَرَ وَتَشَهَّدَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ فَعَظَّمَ حَقَّ أَبِي بَکْرٍ وَأَنَّهُ لَمْ يَحْمِلْهُ عَلَی الَّذِي صَنَعَ نَفَاسَةً عَلَی أَبِي بَکْرٍ وَلَا إِنْکَارًا لِلَّذِي فَضَّلَهُ اللَّهُ بِهِ وَلَکِنَّا کُنَّا نَرَی لَنَا فِي الْأَمْرِ نَصِيبًا فَاسْتُبِدَّ عَلَيْنَا بِهِ فَوَجَدْنَا فِي أَنْفُسِنَا فَسُرَّ بِذَلِکَ الْمُسْلِمُونَ وَقَالُوا أَصَبْتَ فَکَانَ الْمُسْلِمُونَ إِلَی عَلِيٍّ قَرِيبًا حِينَ رَاجَعَ الْأَمْرَ الْمَعْرُوفَ
محمد بن رافع، حجین، لیث، عقیل، ابن شہاب، عروہ بن زبیر، حضرت حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ سیدہ فاطمہ ؓ رسول اللہ ﷺ کی صاحبزادی نے رسول اللہ ﷺ سے اپنی میراث کے بارے میں پوچھنے کے لئے پیغام بھیجا جو آپ ﷺ کو مدینہ اور فدک کے فئی اور خبیر کے خمس سے حصہ میں ملا تھا حضرت ابوبکر ؓ نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہم کسی کو وارث نہیں چھوڑتے اور ہم جو چھوڑتے ہیں وہ صدقہ ہوتا ہے البتہ آل محمد ﷺ اس مال سے کھاتے رہیں گے اور میں اللہ کی قسم رسول اللہ ﷺ کے صدقہ میں کسی چیز کی بھی تبدیلی نہیں کرسکتا اس صورت سے جس میں وہ رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں تھی اور میں اس میں وہی معاملہ کروں گا جو رسول اللہ ﷺ اس کے بارے میں فرمایا کرتے تھے حضرت ابوبکر ؓ نے اس میں سے کوئی بھی چیز حضرت فاطمہ کو دینے سے انکار کردیا حضرت فاطمہ ؓ کو حضرت ابوبکر ؓ سے اس وجہ سے ناراضگی ہوئی پس انہوں نے حضرت ابوبکر ؓ سے بولنا ترک کردیا اور ان سے بات نہ کی یہاں تک کہ وہ فوت ہوگئیں اور وہ رسول اللہ ﷺ کے بعد چھ ماہ تک زندہ رہیں جب وہ فوت ہوگئیں تو انہیں ان کے خاوند حضرت علی ؓ بن ابوطالب نے رات کو ہی دفن کردیا اور ابوبکر ؓ کو اس کی اطلاع نہ دی اور ان کا جنازہ حضرت علی ؓ نے پڑھایا اور حضرت علی ؓ کے لئے لوگوں کا فاطمہ کی زندگی میں کچھ میلان تھا جب وہ فوت ہوگئیں تو علی ؓ نے لوگوں کے رویہ میں کچھ تبدیلی محسوس کی تو انہوں نے ابوبکر ؓ کے ساتھ صلح اور بیعت کا راستہ ہموار کرنا چاہا کیونکہ علی ؓ نے ان مہینوں تک بیعت نہ کی تھی اور انہوں نے ابوبکر ؓ کی طرف پیغام بھیجا کہ ہمارے پاس آؤ اور تمہارے سوا کوئی اور نہ آئے عمر ؓ بن خطاب کے آنے کا ناپسند کرنے کی وجہ سے حضرت عمر ؓ نے حضرت ابوبکر ؓ سے کہا اللہ کی قسم آپ ان کے پاس اکیلے نہ جائیں حضرت ابوبکر ؓ نے کہا مجھے ان سے یہ امید نہیں کہ وہ میرے ساتھ کوئی ناروا سلوک کریں گے میں اللہ کی قسم ان کے پاس ضرور جاؤں گا پس حضرت ابوبکر ؓ ان کے پاس تشریف لے گئے تو علی بن ابوطالب ؓ نے کلمہ شہادت پڑھا پھر کہا اے ابوبکر تحقیق ہم آپ کی فضیلت پہچان چکے ہیں جو اللہ نے آپ کو عطا کی ہے ہم اسے جانتے ہیں اور جو بھلائی آپ کو عطا کی گئی ہے ہم اس کی رغبت نہیں کرتے اللہ نے آپ ہی کے سپرد کی ہے لیکن آپ نے خود ہی یہ خلافت حاصل کرلی اور ہم اپنے لئے رسول اللہ ﷺ کی قرابت داری کی وجہ سے (خلافت) کا حق سمجھتے تھے پس اسی طرح وہ (حضرت علی ؓ حضرت ابوبکر ؓ سے گفتگو کرتے رہے یہاں تک کہ ابوبکر ؓ کی آنکھوں میں آنسو جاری ہوگئے (جب حضرت علی ؓ حضرت ابوبکر ؓ نے گفتگو کی تو کہا قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے میرے نزدیک رسول اللہ ﷺ کی قرابت کے ساتھ حسن سلوک کرنا اپنی قرابت سے زیادہ محبوب ہے بہرحال ان اموال کا معاملہ جو میرے اور تمہارے درمیان واقعہ ہوا ہے اس میں بھی میں نے کسی کے حق کو ترک نہیں کیا اور میں نے رسول اللہ ﷺ کو جس معاملہ میں جس طرح کرتے دیکھا میں نے بھی اس معاملہ کو اسی طرح سر انجام دیا حضرت علی ؓ نے حضرت ابوبکر ؓ سے کہا آج سہ پہر کے وقت آپ سے بیعت کرنے کا وقت ہے حضرت ابوبکر نے ظہر کی نماز ادا کی منبر پر چڑھے اور کلمہ شہادت پڑھا اور حضرت علی ؓ کے معاملہ اور بیعت سے رہ جانے کا قصہ اور وہ عذر بیان کیا جو حضرت علی بن ابوطالب نے ان کے سامنے پیش کیا پھر علی ؓ نے استغفار کیا اور کلمہ شہادت پڑھا اور حضرت ابوبکر ؓ کے حق کی عظمت کا اقرار کیا اور بتایا کہ میں نے جو کچھ کیا وہ اس وجہ سے نہیں کیا کہ مجھے حضرت ابوبکر ؓ کی خلافت پر شک تھا اور نہ اس فضیلت سے انکار کی وجہ سے جو انہیں اللہ نے عطا کی ہے بلکہ ہم اس امر (خلافت) میں اپنا حصہ خیال کرتے تھے اور ہمارے مشورہ کے بغیر ہی حکومت بنا لی گئی جس کی وجہ سے ہمارے دلوں میں رنج پہنچا مسلمان یہ سن کو خوش ہوئے اور انہوں نے کہا آپ نے درست کیا ہے اور مسلمان پھر حضرت علی ؓ کے قریب ہونے لگے جب انہوں نے اس معروف راستہ کو اختیار کرلیا۔
It is narrated on the authority of Urwa bin Zubair who narrated from Aisha that she informed him that Fatima, daughter of the Messenger of Allah ﷺ , sent someone to Abu Bakr (RA) to demand from him her share of the legacy left by the Messenger of Allah ﷺ from what Allah had bestowed upon him at Madinah and Fadak and what was left from one-fifth of the income (annually received) from Khaibar. Abu Bakr (RA) said: The Messenger of Allah ﷺ said: "We (prophets) do not have any heirs; what we leave behind is (to be given in) charity." The household of the Messenger of Allah ﷺ will live on the income from these properties, but, by Allah, I will not change the charity of the Messenger of Allah ﷺ from the condition in which it was in his own time. I will do the same with it as the Messenger of Allah ﷺ himself used to do. So Abu Bakr (RA) refused to hand over anything from it to Fatima who got angry with Abu Bakr (RA) for this reason. She forsook him and did not talk to him until the end of her life. She lived for six months after the death of the Messenger of Allah ﷺ . When she died, her husband Ali bin Abu Talib, buried her at night. He did not inform Abu Bakr (RA) about her death and offered the funeral prayer over her himself. During the lifetime of Fatima, Ali received (special) regard from the people. After she had died, he felt estrangement in the faces of the people towards him. So he sought to make peace with Abu Bakr (RA) and offer his allegiance to him. He had not yet owed allegiance to him as Caliph during these months. He sent a person to Abu Bakr (RA) requesting him to visit him unaccompanied by anyone (disapproving the presence of Umar). Umar said to Abu Bakr (RA) : By Allah, you will not visit them alone. Abu Bakr (RA) said: What will they do to me? By Allah, I will visit them. And he did pay them a visit alone. Ali recited Tashahhud (as it is done in the beginning of a religious sermon); then said: We recognise your moral excellence and what Allah has bestowed upon you. We do not envy the favour (i. e. the Caliphate) which Allah nas conferred upon you; but you have done it (assumed the position of Caliph) alone (without consulting us), and we thought we had a right (to be consulted) on account of our kinship with the Messenger of Allah ﷺ . He continued to talk to Abu Bakr (RA) (in this vein) until the latters eyes welled up with tears. Then Abu Bakr (RA) spoke and said: By Allah, in Whose Hand is my life, the kinship of the Messenger of Allah ﷺ is dearer to me than the kinship of my own people. As regards the dispute that has arisen between you and me about these properties, I have not deviated from the right course and I have not given up doing about them what the Messenger of Allah ﷺ used to do. So Ali said to Abu Bakr (RA) : This afternoon is (fixed) for (swearing) allegiance (to you). So when Abu Bakr (RA) had finished his Zuhr prayer, he ascended the pulpit and recited Tashahhud, and described the status of Ali, his delay in swearing allegiance and the excuse which he had offered to him (for this delay). (After this) he asked for Gods forgiveness. Then Ali bin Abu Talib recited the Tashahhud, extolled the merits of Abu Bakr (RA) and said that his action was not prompted by any jealousy of Abu Bakr (RA) on his part or his refusal to accept the high position which Allah had conferred upon him, (adding:) But we were of the opinion that we should have a share in the government, but the matter had been decided without taking us into confidence, and this displeased us. (Hence the delay in offering allegiance. The Muslims were pleased with this (explanation) and they said: You have done the right thing. The Muslims were (again) favourably inclined to Ali since he adopted the proper course of action.
________
Book 019, Number 4353:
It has been narrated on the authority of Aisha that Fatima and Abbas approached Abu Bakr, soliciting transfer of the legacy of the Messenger of Allah ﷺ to them. At that time, they were demanding his (Holy Prophets) lands at Fadak and his share from Khaibar. Abu Bakr (RA) said to them: I have heard from the Messenger of Allah ﷺ . Then he quoted the hadith having nearly the same meaning as the one which has been narrated by Uqail on the authority of al-Zuhri (and which his gone before) except that in his version he said: Then Ali stood up, extolled the merits of Abu Bakr (RA) mentioned his superiority, and his earlier acceptance of Islam. Then he walked to Abu Bakr (RA) and swore allegiance to him. (At this) people turned towards Ali and said: you have done the right thing. And they became favourably inclined to Ali after he had adopted the proper course of action.
نبی ﷺ کا فرمان ہمارا کوئی وارث نہیں ہوتا جو ہم چھوڑیں وہ صدقہ ہے کے بیان میں
حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ قَالَ ابْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا و قَالَ الْآخَرَانِ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ فَاطِمَةَ وَالْعَبَّاسَ أَتَيَا أَبَا بَکْرٍ يَلْتَمِسَانِ مِيرَاثَهُمَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُمَا حِينَئِذٍ يَطْلُبَانِ أَرْضَهُ مِنْ فَدَکٍ وَسَهْمَهُ مِنْ خَيْبَرَ فَقَالَ لَهُمَا أَبُو بَکْرٍ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِمِثْلِ مَعْنَی حَدِيثِ عُقَيْلٍ عَنْ الزُّهْرِيِّ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ ثُمَّ قَامَ عَلِيٌّ فَعَظَّمَ مِنْ حَقِّ أَبِي بَکْرٍ وَذَکَرَ فَضِيلَتَهُ وَسَابِقَتَهُ ثُمَّ مَضَی إِلَی أَبِي بَکْرٍ فَبَايَعَهُ فَأَقْبَلَ النَّاسُ إِلَی عَلِيٍّ فَقَالُوا أَصَبْتَ وَأَحْسَنْتَ فَکَانَ النَّاسُ قَرِيبًا إِلَی عَلِيٍّ حِينَ قَارَبَ الْأَمْرَ الْمَعْرُوفَ
اسحاق بن ابراہیم، محمد بن رافع، عبد بن حمید، ابن رافع، عبدالرزاق، معمر، زہری، عروہ، حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ فاطمہ اور عباس ؓ دونوں حضرات ابوبکر ؓ کے پاس آئے اور انہوں نے ان سے رسول اللہ ﷺ کی میراث میں سے اپنے حصہ کا مطالبہ کیا اور وہ دونوں اس وقت فدک اور خبیر کے حصہ میں اپنے حصہ کا مطالبہ کر رہے تھے تو حضرت ابوبکر ؓ نے ان دونوں سے فرمایا میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا پھر مزکورہ حدیث کی طرح حدیث بیان کی اس حدیث میں یہ ہے کہ پھر حضرت علی ؓ کھڑے ہوئے اور انہوں نے حضرت ابوبکر ؓ کے حق پر ہونے کی عظمت اور ان کی فضیلت اور ان کی دین میں سبقت کا ذکر کیا پھر وہ حضرت ابوبکر ؓ کی طرف گئے اور ان کی بیعت کی پھر لوگ حضرت علی ؓ کی طرف متوجہ ہوئے اور کہنے لگے کہ آپ نے صحیح اور اچھا کام کیا ہے تو لوگ علی ؓ کے قریب ہوگئے جس وقت کہ انہوں نے یہ نیک کام کیا۔
It has been narrated on the authority of Aisha that Fatima and Abbas approached Abu Bakr, soliciting transfer of the legacy of the Messenger of Allah ﷺ to them. At that time, they were demanding his (Holy Prophets) lands at Fadak and his share from Khaibar. Abu Bakr (RA) said to them: I have heard from the Messenger of Allah ﷺ . Then he quoted the hadith having nearly the same meaning as the one which has been narrated by Uqail on the authority of al-Zuhri (and which his gone before) except that in his version he said: Then Ali stood up, extolled the merits of Abu Bakr (RA) mentioned his superiority, and his earlier acceptance of Islam. Then he walked to Abu Bakr (RA) and swore allegiance to him. (At this) people turned towards Ali and said: you have done the right thing. And they became favourably inclined to Ali after he had adopted the proper course of action.
نبی ﷺ کا فرمان ہمارا کوئی وارث نہیں ہوتا جو ہم چھوڑیں وہ صدقہ ہے کے بیان میں
و حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا أَبِي ح و حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَالْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ قَالَا حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ وَهُوَ ابْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ صَالِحٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَتْهُ أَنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَأَلَتْ أَبَا بَکْرٍ بَعْدَ وَفَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَقْسِمَ لَهَا مِيرَاثَهَا مِمَّا تَرَکَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِمَّا أَفَائَ اللَّهُ عَلَيْهِ فَقَالَ لَهَا أَبُو بَکْرٍ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا نُورَثُ مَا تَرَکْنَا صَدَقَةٌ قَالَ وَعَاشَتْ بَعْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سِتَّةَ أَشْهُرٍ وَکَانَتْ فَاطِمَةُ تَسْأَلُ أَبَا بَکْرٍ نَصِيبَهَا مِمَّا تَرَکَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ خَيْبَرَ وَفَدَکٍ وَصَدَقَتِهِ بِالْمَدِينَةِ فَأَبَی أَبُو بَکْرٍ عَلَيْهَا ذَلِکَ وَقَالَ لَسْتُ تَارِکًا شَيْئًا کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعْمَلُ بِهِ إِلَّا عَمِلْتُ بِهِ إِنِّي أَخْشَی إِنْ تَرَکْتُ شَيْئًا مِنْ أَمْرِهِ أَنْ أَزِيغَ فَأَمَّا صَدَقَتُهُ بِالْمَدِينَةِ فَدَفَعَهَا عُمَرُ إِلَی عَلِيٍّ وَعَبَّاسٍ فَغَلَبَهُ عَلَيْهَا عَلِيٌّ وَأَمَّا خَيْبَرُ وَفَدَکُ فَأَمْسَکَهُمَا عُمَرُ وَقَالَ هُمَا صَدَقَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَانَتَا لِحُقُوقِهِ الَّتِي تَعْرُوهُ وَنَوَائِبِهِ وَأَمْرُهُمَا إِلَی مَنْ وَلِيَ الْأَمْرَ قَالَ فَهُمَا عَلَی ذَلِکَ إِلَی الْيَوْمِ
ابن نمیر، یعقوب بن ابراہیم، زہیر بن حرب، حسن بن علی حلوانی، یعقوب بن ابراہیم، صالح، ابن شہاب، عروہ بن زبیر، حضرت عائشہ ؓ نبی ﷺ کی زوجہ مطہرہ خبر دیتی ہیں کہ حضرت فاطمہ ؓ رسول اللہ ﷺ کی بیٹی نے رسول اللہ ﷺ کی وفات کے بعد حضرت ابوبکر ؓ سے پوچھا کہ کیا رسول اللہ ﷺ کے ترکہ میں سے جو اللہ نے آپ ﷺ کو بطور فئی دیا تھا اس میراث کو آپ نے تقسیم کیا تو حضرت ابوبکر نے حضرت فاطمہ سے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے کہ ہم (نبیوں اور رسولوں) کا کوئی وارث نہیں ہوتا ہم جو کچھ چھوڑتے ہیں وہ صدقہ ہوتا ہے راوی کہتا ہے کہ حضرت فاطمہ ؓ رسول اللہ ﷺ کی وفات کے بعد چھ ماہ زندہ رہیں اور حضرت فاطمہ نے رسول اللہ ﷺ کے اس ترکہ میں سے جو آپ ﷺ نے خبیر فدک اور مدینہ کے صدقہ میں سے چھوڑا تھا اس میں سے اپنے حصہ کا حضرت ابوبکر ؓ سے سوال کرتی رہیں تو حضرت ابوبکر ؓ نے ان کو یہ دینے سے انکار کیا اور حضرت ابوبکر ؓ نے فرمایا کہ میں کوئی وہ عمل نہیں چھوڑوں گا کہ جو رسول اللہ ﷺ نے کیا تھا سوائے اس کے کہ میں اسی پر عمل کروں گا کیونکہ میں ڈرتا ہوں کہ اگر میں نے آپ ﷺ کے کئے ہوئے کسی عمل کو چھوڑا تو میں گمراہ ہوجاؤں گا اور جو مدینہ کے صدقات ہیں تو انہیں حضرت عمر ؓ نے حضرت علی ؓ اور حضرت عباس ؓ کو دیئے دیئے ہیں اور ان پر حضرت علی ؓ کا غلبہ ہے اور خبیر اور فدک کے مال کو حضرت عمر ؓ نے اپنے پاس رکھا اور فرمایا کہ یہ رسول اللہ ﷺ کے صدقات ہیں جن کو آپ ﷺ اپنے حقوق اور ملکی ضروریات میں خرچ کرتے تھے اور یہ اس کی تولیت (یعنی نگرانی) میں رہیں گے کہ جو مسلمانوں کا خلیفہ ہوگا تو آج تک ان کے ساتھ یہی معاملہ ہے۔
It has been narrated by Urwa b Zubair on the authority of Aisha, wife of the Holy Prophet ﷺ , that Fatima, daughter of the Messenger of Allah ﷺ , requested Abu Bakr, after the death of the Messenger of Allah ﷺ (may peace he upon him), that he should set apart her share from what the Messenger of Allah ﷺ had left from the properties that God had bestowed upon him. Abu Bakr (RA) said to her: The Messenger of Allah ﷺ (may peace be npon him) said: "We do not have any heirs; what we leave behind is Sadaqa (charity)." The narrator said: She (Fatima) lived six months after the death of the Messenger of Allah ﷺ and she used to demand from Abu Bakr (RA) her share from the legacy of the Messenger of Allah ﷺ from Khaibar, Fadak and his charitable endowments at Madinah. Abu Bakr (RA) refused to give her this, and said: I am not going to give up doing anything which the Messenger of Allah ﷺ used to do. I am afraid that if I go against his instructions in any matter I shall deviate from the right course. So far as the charitable endowments at Madinah were concerned, Umar handed them over to Ali and Abbas, but Ali got the better of him (and kept the property under his exclusive possession). And as far as Khaibar and Fadak were concerned Umar kept them with him, and said: These are the endowments of the Messenger of Allah ﷺ to the Umma. Their income was spent on the discharge of the responsibilities that devolved upon him on the emergencies he had to meet. And their management was to be in the hands of one who managed the affairs (of the Islamic State). The narrator said: They have been managed as such up to this day.
نبی ﷺ کا فرمان ہمارا کوئی وارث نہیں ہوتا جو ہم چھوڑیں وہ صدقہ ہے کے بیان میں
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَالِکٍ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يَقْتَسِمُ وَرَثَتِي دِينَارًا مَا تَرَکْتُ بَعْدَ نَفَقَةِ نِسَائِي وَمَئُونَةِ عَامِلِي فَهُوَ صَدَقَةٌ
یحییٰ بن یحیی، مالک، ابی زناد، اعرج، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میری وراثت میں سے ایک دینار بھی کسی کو نہیں دے سکتے اور میری ازواج مطہرات اور میرے عامل کے اخراجات کے بعد میرے مال میں سے جو کچھ بچے گا تو وہ صدقہ ہوگا۔
It has been narrated on the authority of Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: My heirs cannot share even a dinar (from my legacy); what I leave behind after paying maintenance allowance to my wives and remuneration to my manager is (to go in) charity
نبی ﷺ کا فرمان ہمارا کوئی وارث نہیں ہوتا جو ہم چھوڑیں وہ صدقہ ہے کے بیان میں
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَی بْنِ أَبِي عُمَرَ الْمَکِّيُّ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ
محمد بن یحیی، ابن ابی عمر مکی، سفیان، ابوالزناد سے ان سندوں کے ساتھ اسی طرح روایت ہے۔
A similar hadith has been narrated on the authority of Abu Zinad through a different chain of transmitters.
نبی ﷺ کا فرمان ہمارا کوئی وارث نہیں ہوتا جو ہم چھوڑیں وہ صدقہ ہے کے بیان میں
و حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي خَلَفٍ حَدَّثَنَا زَکَرِيَّائُ بْنُ عَدِيٍّ أَخْبَرَنَا ابْنُ الْمُبَارَکِ عَنْ يُونُسَ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا نُورَثُ مَا تَرَکْنَا صَدَقَةٌ
ابن ابی خلف زکریا، ابن عدی، ابن المبارک، یونس، زہری، اعرج، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا ہمارا کوئی وارث نہیں ہوتا اور جو کچھ ہم چھوڑتے ہیں وہ صدقہ ہوتا ہے۔
It his been narrated on the authority of Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: "We do not have any heirs; what we leave behind is a charitable endowment."
حاضرین کے درمیان مال غنیمت کو تقسیم کرنے کے طریقہ کے بیان میں
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی وَأَبُو کَامِلٍ فُضَيْلُ بْنُ حُسَيْنٍ کِلَاهُمَا عَنْ سُلَيْمٍ قَالَ يَحْيَی أَخْبَرَنَا سُلَيْمُ بْنُ أَخْضَرَ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ حَدَّثَنَا نَافِعٌ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَسَمَ فِي النَّفَلِ لِلْفَرَسِ سَهْمَيْنِ وَلِلرَّجُلِ سَهْمًا
یحییٰ بن یحیی، ابوکامل، فضیل بن حسین، سلیم، یحیی، سلیم بن اخضر، عبیداللہ بن عمر، نافع، حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مال غنیمت میں سے گھوڑے کے لئے دو حصے اور آدمی کے لئے ایک حصہ تقسیم فرمایا۔
It has been narrated on the authority of Ibn Umar (RA) that the Messenger of Allah ﷺ allowed two shares from the spoils to the horseman and one share to the footman.
حاضرین کے درمیان مال غنیمت کو تقسیم کرنے کے طریقہ کے بیان میں
و حَدَّثَنَاه ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ وَلَمْ يَذْکُرْ فِي النَّفَلِ
ابن نمیر، حضرت عبیداللہ ؓ نے اسی سند کے ساتھ اسی طرح روایت نقل کی ہے اور اس روایت میں " نفل " یعنی مال غنیمت کا ذکر نہیں۔
The same tradition has been narrated on the authority of Ubaidullah by a different chain of transmitters who do not mention the words: "from the booty".
غزوئہ بدر میں فرشتوں کے ذریعہ امداد اور غنیمت کے مال کے مباح ہونے کے بیان میں
حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَکِ عَنْ عِکْرِمَةَ بْنِ عَمَّارٍ حَدَّثَنِي سِمَاکٌ الْحَنَفِيُّ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ قَالَ لَمَّا کَانَ يَوْمُ بَدْرٍ ح و حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَاللَّفْظُ لَهُ حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ يُونُسَ الْحَنَفِيُّ حَدَّثَنَا عِکْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ حَدَّثَنِي أَبُو زُمَيْلٍ هُوَ سِمَاکٌ الْحَنَفِيُّ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ قَالَ حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ قَالَ لَمَّا کَانَ يَوْمُ بَدْرٍ نَظَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَی الْمُشْرِکِينَ وَهُمْ أَلْفٌ وَأَصْحَابُهُ ثَلَاثُ مِائَةٍ وَتِسْعَةَ عَشَرَ رَجُلًا فَاسْتَقْبَلَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْقِبْلَةَ ثُمَّ مَدَّ يَدَيْهِ فَجَعَلَ يَهْتِفُ بِرَبِّهِ اللَّهُمَّ أَنْجِزْ لِي مَا وَعَدْتَنِي اللَّهُمَّ آتِ مَا وَعَدْتَنِي اللَّهُمَّ إِنْ تُهْلِکْ هَذِهِ الْعِصَابَةَ مِنْ أَهْلِ الْإِسْلَامِ لَا تُعْبَدْ فِي الْأَرْضِ فَمَا زَالَ يَهْتِفُ بِرَبِّهِ مَادًّا يَدَيْهِ مُسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةِ حَتَّی سَقَطَ رِدَاؤُهُ عَنْ مَنْکِبَيْهِ فَأَتَاهُ أَبُو بَکْرٍ فَأَخَذَ رِدَائَهُ فَأَلْقَاهُ عَلَی مَنْکِبَيْهِ ثُمَّ الْتَزَمَهُ مِنْ وَرَائِهِ وَقَالَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ کَفَاکَ مُنَاشَدَتُکَ رَبَّکَ فَإِنَّهُ سَيُنْجِزُ لَکَ مَا وَعَدَکَ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِذْ تَسْتَغِيثُونَ رَبَّکُمْ فَاسْتَجَابَ لَکُمْ أَنِّي مُمِدُّکُمْ بِأَلْفٍ مِنْ الْمَلَائِکَةِ مُرْدِفِينَ فَأَمَدَّهُ اللَّهُ بِالْمَلَائِکَةِ قَالَ أَبُو زُمَيْلٍ فَحَدَّثَنِي ابْنُ عَبَّاسٍ قَالَ بَيْنَمَا رَجُلٌ مِنْ الْمُسْلِمِينَ يَوْمَئِذٍ يَشْتَدُّ فِي أَثَرِ رَجُلٍ مِنْ الْمُشْرِکِينَ أَمَامَهُ إِذْ سَمِعَ ضَرْبَةً بِالسَّوْطِ فَوْقَهُ وَصَوْتَ الْفَارِسِ يَقُولُ أَقْدِمْ حَيْزُومُ فَنَظَرَ إِلَی الْمُشْرِکِ أَمَامَهُ فَخَرَّ مُسْتَلْقِيًا فَنَظَرَ إِلَيْهِ فَإِذَا هُوَ قَدْ خُطِمَ أَنْفُهُ وَشُقَّ وَجْهُهُ کَضَرْبَةِ السَّوْطِ فَاخْضَرَّ ذَلِکَ أَجْمَعُ فَجَائَ الْأَنْصَارِيُّ فَحَدَّثَ بِذَلِکَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ صَدَقْتَ ذَلِکَ مِنْ مَدَدِ السَّمَائِ الثَّالِثَةِ فَقَتَلُوا يَوْمَئِذٍ سَبْعِينَ وَأَسَرُوا سَبْعِينَ قَالَ أَبُو زُمَيْلٍ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ فَلَمَّا أَسَرُوا الْأُسَارَی قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَبِي بَکْرٍ وَعُمَرَ مَا تَرَوْنَ فِي هَؤُلَائِ الْأُسَارَی فَقَالَ أَبُو بَکْرٍ يَا نَبِيَّ اللَّهِ هُمْ بَنُو الْعَمِّ وَالْعَشِيرَةِ أَرَی أَنْ تَأْخُذَ مِنْهُمْ فِدْيَةً فَتَکُونُ لَنَا قُوَّةً عَلَی الْکُفَّارِ فَعَسَی اللَّهُ أَنْ يَهْدِيَهُمْ لِلْإِسْلَامِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا تَرَی يَا ابْنَ الْخَطَّابِ قُلْتُ لَا وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا أَرَی الَّذِي رَأَی أَبُو بَکْرٍ وَلَکِنِّي أَرَی أَنْ تُمَکِّنَّا فَنَضْرِبَ أَعْنَاقَهُمْ فَتُمَکِّنَ عَلِيًّا مِنْ عَقِيلٍ فَيَضْرِبَ عُنُقَهُ وَتُمَکِّنِّي مِنْ فُلَانٍ نَسِيبًا لِعُمَرَ فَأَضْرِبَ عُنُقَهُ فَإِنَّ هَؤُلَائِ أَئِمَّةُ الْکُفْرِ وَصَنَادِيدُهَا فَهَوِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا قَالَ أَبُو بَکْرٍ وَلَمْ يَهْوَ مَا قُلْتُ فَلَمَّا کَانَ مِنْ الْغَدِ جِئْتُ فَإِذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو بَکْرٍ قَاعِدَيْنِ يَبْکِيَانِ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَخْبِرْنِي مِنْ أَيِّ شَيْئٍ تَبْکِي أَنْتَ وَصَاحِبُکَ فَإِنْ وَجَدْتُ بُکَائً بَکَيْتُ وَإِنْ لَمْ أَجِدْ بُکَائً تَبَاکَيْتُ لِبُکَائِکُمَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبْکِي لِلَّذِي عَرَضَ عَلَيَّ أَصْحَابُکَ مِنْ أَخْذِهِمْ الْفِدَائَ لَقَدْ عُرِضَ عَلَيَّ عَذَابُهُمْ أَدْنَی مِنْ هَذِهِ الشَّجَرَةِ شَجَرَةٍ قَرِيبَةٍ مِنْ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مَا کَانَ لِنَبِيٍّ أَنْ يَکُونَ لَهُ أَسْرَی حَتَّی يُثْخِنَ فِي الْأَرْضِ إِلَی قَوْلِهِ فَکُلُوا مِمَّا غَنِمْتُمْ حَلَالًا طَيِّبًا فَأَحَلَّ اللَّهُ الْغَنِيمَةَ لَهُمْ
ہناد بن سری، ابن مبارک، عکرمہ بن عمار، سماک حنفی، ابن عباس، حضرت عمر بن خطاب ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے غزوہ بدر کے دن مشرکین کی طرف دیکھا تو وہ ایک ہزار تھے اور آپ ﷺ کے صحابہ تین سو انیس تھے اللہ کے نبی ﷺ نے قبلہ کی طرف منہ فرما کر اپنے ہاتھوں کو اٹھایا اور اپنے رب سے پکار پکار کر دعا مانگنا شروع کردی اے اللہ! میرے لئے اپنے کئے ہوئے وعدہ کو پورا فرمایا اے اللہ! اپنے وعدہ کے مطابق عطا فرما اے اللہ! اگر اہل اسلام کی یہ جماعت ہلاک ہوگئی تو زمین پر تیری عبادت نہ کی جائے گی آپ ﷺ برابر اپنے رب سے ہاتھ دراز کئے قبلہ کی طرف منہ کر کے دعا مانگتے رہے یہاں تک کہ آپ ﷺ کی چادر مبارک آپ ﷺ کے شانہ سے گر پڑی پس حضرت ابوبکر ؓ آئے آپ ﷺ کی چادر کو اٹھایا اور اسے آپ ﷺ کے کندھے پر ڈالا پھر آپ ﷺ کے پیچھے سے آپ ﷺ سے لپٹ گئے اور عرض کیا اے اللہ کے نبی آپ کی اپنے رب سے دعا کافی ہوچکی عنقریب وہ آپ ﷺ سے اپنے کئے ہوئے وعدے کو پورا کرے گا اللہ رب العزت نے یہ آیت نازل فرمائی (اِذْ تَسْتَغِيْثُوْنَ رَبَّكُمْ فَاسْتَجَابَ لَكُمْ اَنِّىْ مُمِدُّكُمْ بِاَلْفٍ مِّنَ الْمَلٰ ى ِكَةِ مُرْدِفِيْنَ ) 8۔ الانفال: 9) جب تم اپنے رب سے فریاد کر رہے تھے تو اس نے تمہاری دعا قبول کی کہ میں تمہاری مدد ایک ہزار لگاتار فرشتوں سے کروں گا پس اللہ نے آپ ﷺ کی فرشتوں کے ذریعہ امداد فرمائی حضرت ابوزمیل نے کہا حضرت ابن عباس ؓ نے یہ حدیث اس دن بیان کی جب مسلمانوں میں ایک آدمی مشرکین میں سے آدمی کے پیچھے دوڑ رہا تھا جو اس سے آگے تھا اچانک اس نے اوپر سے ایک کوڑے کی ضرب لگنے کی آواز سنی اور یہ بھی سنا کہ کوئی گھوڑ سوار یہ کہہ رہا ہے، اے حیزوم! آگے بڑھ پس اس نے اپنے آگے مشرک کی طرف دیکھا کہ وہ چت گرا پڑا ہے جب اس کی طرف غور سے دیکھا تو اس کا ناک زخم زدہ تھا اور اس کا چہرہچہرہ پھٹ چکا تھا، کوڑے کی ضرب کی طرح اور اس کا پورا جسم بند ہوچکا تھا۔ پس اس پھٹ چکا تھا پس اس انصاری نے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر آپ ﷺ یہ واقعہ بیان کیا آپ ﷺ نے فرمایا تو نے سچ کہا یہ مدد تیسرے آسمان سے آئی تھی پس اس دن ستر آدمی مارے گئے اور ستر قید ہوئے ابوزمیل نے کہا کہ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا جب قیدیوں کو گرفتار کرلیا تو رسول اللہ ﷺ نے حضرت ابوبکر و عمر ؓ سے فرمایا تم ان قیدیوں کے بارے میں کیا رائے رکھتے ہو حضرت ابوبکر نے عرض کیا اے اللہ کے نبی ﷺ وہ ہمارے چچا زاد اور خاندان کے لوگ ہیں میری رائے یہ ہے کہ آپ ﷺ ان سے فدیہ وصول کرلیں اس سے ہمیں کفار کے خلاف طاقت حاصل ہوجائے گی اور ہوسکتا ہے کہ اللہ انہیں اسلام لانے کی ہدایت عطا فرما دیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اے ابن خطاب آپ کی کیا رائے ہے؟ میں نے عرض کیا نہیں! اللہ کی قسم اے اللہ کے رسول میری وہ رائے نہیں جو حضرت ابوبکر کی رائے ہے بلکہ میری رائے یہ ہے کہ آپ ﷺ انہیں ہمارے سپرد کردیں تاکہ ہم ان کی گردنیں اڑا دیں عقیل کو حضرت علی ؓ کے سپرد کریں، وہ اس کی گردن اڑائیں اور فلاں آدمی میرے سپرد کردیں۔ اپنے رشتہ داروں میں سے ایک کا نام لیا تاکہ میں اس کی گردن مار دوں کیونکہ یہ کفر کے پیشوا اور سردار ہیں پس رسول اللہ ﷺ حضرت ابوبکر ؓ کی رائے کی طرف مائل ہوئے اور میری رائے کی طرف مائل نہ ہوئے جب آئندہ روز میں آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو رسول اللہ ﷺ اور ابوبکر ؓ دونوں بیٹھے ہوئے تھے میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول مجھے بتائیں تو سہی کس چیز نے آپ ﷺ کو اور آپ ﷺ کے دوست کو رلا دیا پس اگر میں رو سکا تو میں بھی رؤں گا اور اگر مجھے رونا نہ آیا تو میں آپ ﷺ دونوں کے رونے کی وجہ سے رونے کی صورت ہی اختیار کرلوں گا رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میں اس وجہ سے رو رہا ہوں جو مجھے تمہارے ساتھیوں سے فدیہ لینے کی وجہ سے پیش آیا ہے تحقیق مجھ پر ان کا عذاب پیش کیا گیا جو اس درخت سے بھی زیادہ قریب تھا اللہ کے نبی ﷺ کے قربیی درخت سے بھی اور اللہ رب العزت نے یہ آیت نازل فرمائی (مَا کَانَ لِنَبِيٍّ أَنْ يَکُونَ لَهُ ) " یہ بات نبی کی شان کے مناسب نہیں ہے کہ اس کے قبضے میں قیدی رہیں (کافروں کو قتل کر کے) زمین میں کثرت سے خون (نہ) بہائے "۔ سے اللہ عزوجل کے قول " پس کھاؤ جو مال غنیمت تمہیں ملا ہے (کہ وہ تمہارے لئے) حلال طیب (ہے)۔ " پس اللہ نے صحابہ ؓ کے لئے غنیمت حلال کردی۔
It has been narrated on the authority of Umar bin al-Khattab who said: When it was the day on which the Battle of Badr was fought, the Messenger of Allah ﷺ cast a glance at the infidels, and they were one thousand while his own Companions were three hundred and nineteen. The Holy Prophet ﷺ turned (his face) towards the Qibla, then he stretched his hands and began his supplication to his Lord: "O Allah, accomplish for me what Thou hast promised to me. O Allah, bring about what Thou hast promised to me. O Allah, if this small band of Muslims is destroyed, Thou will not be worshipped on this earth." He continued his supplication to his Lord, stretching his hands, facing the Qibla, until his mantle slipped down from his shoulders. So Abu Bakr (RA) came to him, picked up his mantle and put it on his shoulders. Then he embraced him from behind and said:. Prophet ﷺ of Allah, this prayer of yours to your Lord will suffice you, and He will fulfil for you what He has promised you. So Allah, the Glorious and Exalted, revealed (the Quranic verse): "When ye appealed to your Lord for help, He responded to your call (saying): I will help you with one thousand angels coming in succession." So Allah helped him with angels.
Abu Zumail said that the hadith was narrated to him by Ibn Abbas who said: While on that day a Muslim was chasing a disbeliever who was going ahead of him, he heard over him the swishing of the whip and the voice of the rider saying: Go ahead, Haizim! He glanced at the polytheist who had (now) fallen down on his back. When he looked at him (carefully he found that) there was a scar on his nose and his face was torn as if it had been lashed with a whip, and had turned green with its poison. An Ansari came to the Messenger of Allah ﷺ and related this (event) to him. He said: You have told the truth. This was the help from the third heaven. The Muslims that day (i. e. the day of the Battle of Badr) killed seventy persons and captured seventy. The Messenger of Allah ﷺ said to Abu Bakr (RA) and Umar (RA) : What is your opinion about these captives? Abu Bakr (RA) said: They are our kith and kin. I think you should release them after getting from them a ransom. This will be a source of strength to us against the infidels. It is quite possible that Allah may guide them to Islam. Then the Messenger of Allah ﷺ said: What is your opinion. Ibn Khattab? He said: Messenger of Allah. I do not hold the same opinion as Abu Bakr. I am of the opinion that you should hand them over to us so that we may cut off their heads. Hand over Aqil to Ali that he may cut off his head, and hand over such and such relative to me that I may cut off his head. They are leaders of the disbelievers and veterans among them. The Messenger of Allah ﷺ approved the opinion of Abu Bakr (RA) and did not approve what I said. The next day when I came to the Messenger of Allah ﷺ , I found that both he and Abu Bakr (RA) were sitting shedding tears. I said: Messenger of Allah, why are you and your Companion shedding tears? Tell me the reason. For I will weep too, if not, I will at least pretend to weep in sympathy with you. The Messenger of Allah ﷺ said: I weep for what has happened to your companions for taking ransom (from the prisoners). I was shown the torture to which they were subjected. It was brought to me as close as this tree. (He pointed to a tree close to him.) Then God revealed the verse: "It is not befitting for a prophet that he should take prisoners until the force of the disbelievers has been crushed..." to the end of the verse: "so eat ye the spoils of war, (it is) lawful and pure. So Allah made booty lawful for them."
قیدیوں کو باندھنے گرفتار کرنے اور ان پر احسان کرنے کے جواز کے بیان میں
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا لَيْثٌ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُا بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْلًا قِبَلَ نَجْدٍ فَجَائَتْ بِرَجُلٍ مِنْ بَنِي حَنِيفَةَ يُقَالُ لَهُ ثُمَامَةُ بْنُ أُثَالٍ سَيِّدُ أَهْلِ الْيَمَامَةِ فَرَبَطُوهُ بِسَارِيَةٍ مِنْ سَوَارِي الْمَسْجِدِ فَخَرَجَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ مَاذَا عِنْدَکَ يَا ثُمَامَةُ فَقَالَ عِنْدِي يَا مُحَمَّدُ خَيْرٌ إِنْ تَقْتُلْ تَقْتُلْ ذَا دَمٍ وَإِنْ تُنْعِمْ تُنْعِمْ عَلَی شَاکِرٍ وَإِنْ کُنْتَ تُرِيدُ الْمَالَ فَسَلْ تُعْطَ مِنْهُ مَا شِئْتَ فَتَرَکَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّی کَانَ بَعْدَ الْغَدِ فَقَالَ مَا عِنْدَکَ يَا ثُمَامَةُ قَالَ مَا قُلْتُ لَکَ إِنْ تُنْعِمْ تُنْعِمْ عَلَی شَاکِرٍ وَإِنْ تَقْتُلْ تَقْتُلْ ذَا دَمٍ وَإِنْ کُنْتَ تُرِيدُ الْمَالَ فَسَلْ تُعْطَ مِنْهُ مَا شِئْتَ فَتَرَکَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّی کَانَ مِنْ الْغَدِ فَقَالَ مَاذَا عِنْدَکَ يَا ثُمَامَةُ فَقَالَ عِنْدِي مَا قُلْتُ لَکَ إِنْ تُنْعِمْ تُنْعِمْ عَلَی شَاکِرٍ وَإِنْ تَقْتُلْ تَقْتُلْ ذَا دَمٍ وَإِنْ کُنْتَ تُرِيدُ الْمَالَ فَسَلْ تُعْطَ مِنْهُ مَا شِئْتَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَطْلِقُوا ثُمَامَةَ فَانْطَلَقَ إِلَی نَخْلٍ قَرِيبٍ مِنْ الْمَسْجِدِ فَاغْتَسَلَ ثُمَّ دَخَلَ الْمَسْجِدَ فَقَالَ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ يَا مُحَمَّدُ وَاللَّهِ مَا کَانَ عَلَی الْأَرْضِ وَجْهٌ أَبْغَضَ إِلَيَّ مِنْ وَجْهِکَ فَقَدْ أَصْبَحَ وَجْهُکَ أَحَبَّ الْوُجُوهِ کُلِّهَا إِلَيَّ وَاللَّهِ مَا کَانَ مِنْ دِينٍ أَبْغَضَ إِلَيَّ مِنْ دِينِکَ فَأَصْبَحَ دِينُکَ أَحَبَّ الدِّينِ کُلِّهِ إِلَيَّ وَاللَّهِ مَا کَانَ مِنْ بَلَدٍ أَبْغَضَ إِلَيَّ مِنْ بَلَدِکَ فَأَصْبَحَ بَلَدُکَ أَحَبَّ الْبِلَادِ کُلِّهَا إِلَيَّ وَإِنَّ خَيْلَکَ أَخَذَتْنِي وَأَنَا أُرِيدُ الْعُمْرَةَ فَمَاذَا تَرَی فَبَشَّرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَمَرَهُ أَنْ يَعْتَمِرَ فَلَمَّا قَدِمَ مَکَّةَ قَالَ لَهُ قَائِلٌ أَصَبَوْتَ فَقَالَ لَا وَلَکِنِّي أَسْلَمْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا وَاللَّهِ لَا يَأْتِيکُمْ مِنْ الْيَمَامَةِ حَبَّةُ حِنْطَةٍ حَتَّی يَأْذَنَ فِيهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
قتبیہ بن سعید، لیث بن سعید بن ابوسعید، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک لشکر نجد کی طرف بھیجا تو وہ بنو حنیفہ کے ایک آدمی کو لائے جسے ثمامہ بن اثال اہل یمامہ کا سردار کہا جاتا تھا صحابہ نے اسے مسجد کے ستونوں میں سے ایک ستون کے ساتھ باندھ دیا رسول اللہ ﷺ اس کے پاس تشریف لائے اور ارشاد فرمایا اے ثمامہ کیا خبر ہے؟ اس نے عرض کیا اے محمد ﷺ خیر ہے اگر آپ ﷺ قتل کریں تو ایک خونی آدمی کو قتل کریں گے اور اگر آپ ﷺ احسان فرمائیں تو شکر گزار آدمی پر احسان کریں گے اور اگر مال کا ارادہ فرماتے ہیں تو مانگئے آپ ﷺ کو آپ ﷺ کی چاہت کے مطابق عطا کیا جائے گا آپ ﷺ اسے ویسے ہی چھوڑ کر تشریف لے گئے یہاں تک کہ اگلے دن آپ ﷺ نے فرمایا اے ثمامہ تیرا کیا حال ہے اس نے کہا میں نے آپ ﷺ سے عرض کیا تھا کہ اگر آپ ﷺ احسان کریں تو ایک شکر گزار پر احسان کریں گے اور اگر آپ ﷺ قتل کریں تو ایک خونی آدمی کو ہی قتل کریں گے اور اگر آپ ﷺ مال کا ارادہ رکھتے ہیں تو مانگئے آپ ﷺ کے مطالبہ کے مطابق آپ ﷺ کو عطا کیا جائے گا رسول اللہ ﷺ نے اسے اسی طرح چھوڑ دیا یہاں تک کہ اگلے روز آئے تو فرمایا اے ثمامہ تیرا کیا حال ہے اس نے کہا میری وہی بات ہے جو عرض کرچکا ہوں اگر آپ ﷺ احسان فرمائیں تو ایک شکر گزار پر احسان کریں گے اور اگر آپ ﷺ قتل کریں تو ایک طاقتور آدمی کو ہی قتل کریں گے اور آپ ﷺ مال کا ارادہ کرتے ہیں تو مانگئے آپ ﷺ کے مطالبہ کے مطابق آپ ﷺ کو دے دیا جائے گا رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ثمامہ کو چھوڑ دو وہ مسجد کے قریب ہی ایک باغ کی طرف چلا غسل کیا پھر مسجد میں داخل ہوا اور کہا میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد رسول ﷺ اللہ کے بندے اور رسول ہیں اے محمد ﷺ! اللہ کی قسم زمین پر کوئی ایسا چہرہ نہ تھا جو مجھے آپ ﷺ کے چہرے سے زیادہ مبغوض ہو پس اب آپ ﷺ کا چہرہ اقدس مجھے تمام چہروں سے زیادہ محبوب ہوگیا ہے اور اللہ کی قسم آپ ﷺ کے شہر سے زیادہ ناپسندیدہ شہر میرے نزدیک کوئی نہ تھا پس آپ ﷺ کا شہر میرے نزدیک تمام شہروں سے زیادہ پسندیدہ ہوگیا ہے اور آپ ﷺ کے لشکر نے مجھے اس حال میں گرفتار کیا کہ میں عمرہ کا ارادہ رکھتا تھا آپ ﷺ کا کیا مشورہ ہے آپ ﷺ نے اسے بشارت دی اور حکم دیا کہ وہ عمرہ کرے جب وہ مکہ آیا تو اسے کسی کہنے والے نے کہا کیا تم صحابی یعنی بےدین ہوگئے اس نے کہا نہیں بلکہ میں رسول اللہ ﷺ پر ایمان لے آیا ہوں اللہ کی قسم تمہارے پاس یمامہ سے گندم کا ایک دانہ بھی نہ آئے گا یہاں تک کہ اس بارے میں رسول اللہ ﷺ اجازت مرحمت نہ فرما دیں۔
It has been narrated on the authority of Abu Hurairah (RA) who said: The Messenger of Allah ﷺ sent some horsemen to Najd. They captured a man. He was from the tribe of Banu Hanifa and was called Thumama bin Uthal. He was the chief of the people of Yamama. People bound him with one of the pillars of the mosque. The Messenger of Allah ﷺ came out to (see) him. He said: O Thumama, what do you think? He replied: Muhammad, I have good opinion of you. If you kill me, you will kill a person who has spilt blood. If you do me a favour, you will do a favour to a grateful person. If you want wealth, ask and you will get what you will demand. The Messenger of Allah ﷺ (may peace be pon him) left him (in this condition) for two days, (and came to him again) and said: What do you think, O Thumama? He replied: What I have already told you. If you do a favour, you will do a favour to a grateful person. If you kill me, you will kill a person who has spilt blood. If you want wealth, ask and you will get what you will demand. The Messenger of Allah ﷺ left him until the next day when he (came to him again) and said: What do you think, O Thumama? He replied: What I have already told you. If you do me a favour, you will do a favour to a grateful person. If you kill me, you will kill a person who has spilt blood. If you want wealth ask and you will get what you will demand. The Messenger of Allah ﷺ said: Set Thumama free. He went to a palm-grove near the mosque and took a bath. Then he entered the mosque and said: I bear testimony (to the truth) that there is no god but Allah and I testify that Muhammad is His bondman and His messenger. O Muhammad ﷺ , by Allah, there was no face on the earth more hateful to me than your face, but (now) your face has become to me the dearest of all faces. By Allah, there was no religion more hateful to me than your religion, but (now) your religion has become the dearest of all religions to me. By Allah, there was no city more hateful to me than your city, but (now) your city has become the dearest of all cities to me. Your horsemen captured me when I intended going for Umrah. Now what is your opinion (in the matter)? The Messenger of Allah ﷺ announced good tidings to him and told him to go on Umrah. When he reached Makkah, somebody said to him: Have you changed your religion? He said: No! I have rather embraced Islam with the Messenger of Allah ﷺ . By Allah, you will not get a single grain of wheat from Yamama until it is permitted by the Messenger of Allah ﷺ .
قیدیوں کو باندھنے گرفتار کرنے اور ان پر احسان کرنے کے جواز کے بیان میں
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ الْحَنَفِيُّ حَدَّثَنِي عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيُّ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُا بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْلًا لَهُ نَحْوَ أَرْضِ نَجْدٍ فَجَائَتْ بِرَجُلٍ يُقَالُ لَهُ ثُمَامَةُ بْنُ أُثَالٍ الْحَنَفِيُّ سَيِّدُ أَهْلِ الْيَمَامَةِ وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِمِثْلِ حَدِيثِ اللَّيْثِ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ إِنْ تَقْتُلْنِي تَقْتُلْ ذَا دَمٍ
محمد بن مثنی، ابوبکر حنفی، عبدالحمید بن جعفر، سعید بن ابوسعید مقبری، حضرت ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے نجد کے علاقہ کی طرف گھڑ سواری کی ایک جماعت بھیجی تو وہ ایک آدمی کو لے کر آئے جسے ثمامہ بن اثال حنفی کہا جاتا تھا یہ یمامہ والوں کا سردار تھا باقی حدیث مذکورہ حدیث کی طرح ہے سوائے اس کے کہ اس میں ہے کہ اس نے کہا اگر تم مجھے قتل کرو گے تو تم ایک طاقتور آدمی کو قتل کرو گے۔
The same tradition has been narrated by a different chain of transmitters with a slight difference in the wording.
یہود کو حجاز مقدس سے جلا وطن کردینے کے بیان میں
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا لَيْثٌ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهُ قَالَ بَيْنَا نَحْنُ فِي الْمَسْجِدِ إِذْ خَرَجَ إِلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ انْطَلِقُوا إِلَی يَهُودَ فَخَرَجْنَا مَعَهُ حَتَّی جِئْنَاهُمْ فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَادَاهُمْ فَقَالَ يَا مَعْشَرَ يَهُودَ أَسْلِمُوا تَسْلَمُوا فَقَالُوا قَدْ بَلَّغْتَ يَا أَبَا الْقَاسِمِ فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَلِکَ أُرِيدُ أَسْلِمُوا تَسْلَمُوا فَقَالُوا قَدْ بَلَّغْتَ يَا أَبَا الْقَاسِمِ فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَلِکَ أُرِيدُ فَقَالَ لَهُمْ الثَّالِثَةَ فَقَالَ اعْلَمُوا أَنَّمَا الْأَرْضُ لِلَّهِ وَرَسُولِهِ وَأَنِّي أُرِيدُ أَنْ أُجْلِيَکُمْ مِنْ هَذِهِ الْأَرْضِ فَمَنْ وَجَدَ مِنْکُمْ بِمَالِهِ شَيْئًا فَلْيَبِعْهُ وَإِلَّا فَاعْلَمُوا أَنَّ الْأَرْضَ لِلَّهِ وَرَسُولِهِ
قتبیہ بن سعید، لیث بن سعید بن ابوسعید، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ ہم مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے کہ رسول اللہ ﷺ ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا یہود کی طرف چلو پس ہم آپ ﷺ کے ساتھ نکلے یہاں تک کہ ہم ان کے پاس پہنچے رسول اللہ ﷺ کھڑے ہوئے اور انہیں پکارا تو فرمایا اے یہود کی جماعت اسلام لے آؤ سلامت رہو گے انہوں نے کہا اے ابوالقاسم آپ ﷺ تبلیغ کرچکے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا میں یہی چاہتا ہوں۔ تیسری مرتبہ فرمایا جان رکھو زمین اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی ہے اور میں تمہیں اس زمین سے نکالنے کا ارادہ رکھتا ہوں پس تم میں سے جس کے پاس اپنا کوئی مال ہو تو چاہیے کہ وہ بیچ دے ورنہ جان لے زمین اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی ہے۔
It has been narrated on the authority of Abu Hurairah (RA) who said: We were (sitting) in the mosque when the Messenger of Allah ﷺ came to us and said: (Let us) go to the Jews. We went out with him until we came to them. The Messenger of Allah ﷺ stood up and called out to them (saying): O ye assembly of Jews, accept Islam (and) you will be safe. They said: Abul-Qasim, you have communicated (Gods Message to us). The Messenger of Allah ﷺ said: I want this (i. e. you should admit that Gods Message has been communicated to you), accept Islam and you would be safe. They said: Abul-Qisim, you have communicated (Allahs Message). The Messenger of Allah ﷺ said: I want this... - He said to them (the same words) the third time (and on getting the same reply) he added: You should know that the earth belongs to Allah and His Apostle, and I wish that I should expel you from this land. Those of you who have any property with them should sell it, otherwise they should know that the earth belongs to Allah and His Apostle ﷺ (and they may have to go away leaving everything behind).
یہود کو حجاز مقدس سے جلا وطن کردینے کے بیان میں
و حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ وَإِسْحَقُ بْنُ مَنْصُورٍ قَالَ ابْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا و قَالَ إِسْحَقُ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ عَنْ مُوسَی بْنِ عُقْبَةَ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ يَهُودَ بَنِي النَّضِيرِ وَقُرَيْظَةَ حَارَبُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَجْلَی رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَنِي النَّضِيرِ وَأَقَرَّ قُرَيْظَةَ وَمَنَّ عَلَيْهِمْ حَتَّی حَارَبَتْ قُرَيْظَةُ بَعْدَ ذَلِکَ فَقَتَلَ رِجَالَهُمْ وَقَسَمَ نِسَائَهُمْ وَأَوْلَادَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ بَيْنَ الْمُسْلِمِينَ إِلَّا أَنَّ بَعْضَهُمْ لَحِقُوا بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَآمَنَهُمْ وَأَسْلَمُوا وَأَجْلَی رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَهُودَ الْمَدِينَةِ کُلَّهُمْ بَنِي قَيْنُقَاعَ وَهُمْ قَوْمُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ وَيَهُودَ بَنِي حَارِثَةَ وَکُلَّ يَهُودِيٍّ کَانَ بِالْمَدِينَةِ
محمد بن رافع، اسحاق بن منصور، ابن رافع، اسحاق، عبدالرزاق، ابن جریج، موسیٰ بن عقبہ، نافع، حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ بنو نضیر اور بنو قریظہ نے رسول اللہ ﷺ سے جنگ کی تو رسول اللہ ﷺ نے بنو نضیر کو تو جلا وطن کردیا اور بنو قریظہ پر احسان فرماتے ہوئے رہنے دیا یہاں تک کہ اس کے بعد بنو قریظہ نے بھی جنگ کی تو آپ ﷺ نے ان کے مردوں کو قتل کرا دیا اور ان کی عورتوں، اولاد اور اموال کو مسلمانوں کے درمیان تقسیم کردیا سوائے ان چند ایک کے جو رسول اللہ ﷺ سے آ ملے تو آپ ﷺ نے انہیں امن دیا اور وہ اسلام لے آئے اور رسول اللہ ﷺ نے مدینہ کے تمام یہودیوں کو جلا وطن کردیا یعنی بنو قینقاع جو حضرت عبداللہ بن سلام کی قوم اور بنو حارثہ کے یہود اور ہر اس یہودی کو جو مدینہ میں رہتا تھا۔
It has been narrated on the authority of Ibn Umar (RA) that the Jews of Banu Nadir and Banu Quraizi fought against the Messenger of Allah ﷺ who expelled Banu Nadir, and allowed Quraiza to stay on, and granted favour to them until they too fought against him. Then he killed their men, and distributed their women, children and properties among the Muslims, except that some of them had joined the Messenger of Allah ﷺ who granted them security. They embraced Islam. The Messenger of Allah ﷺ turned out all the Jews of Medlina. Banu Qainuqa (the tribe of Abdullah bin Salim) and the Jews of Banu Haritha and every other Jew who was in Madinah.
یہود کو حجاز مقدس سے جلا وطن کردینے کے بیان میں
و حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي حَفْصُ بْنُ مَيْسَرَةَ عَنْ مُوسَی بِهَذَا الْإِسْنَادِ هَذَا الْحَدِيثَ وَحَدِيثُ ابْنِ جُرَيْجٍ أَکْثَرُ وَأَتَمُّ
ابوطاہر، عبداللہ بن وہب، حفص، میسرہ، موسی، حضرت موسیٰ نے ان سندوں کے ساتھ یہ حدیث بیان کی۔
A similar hadith has been transmitted by a different chain of narrators, but the hadith narrated by Ibn Juraij is more detailed and complete.
یہود ونصاری کو جزیرہ العرب سے نکالنے کے بیان میں
و حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا الضَّحَّاکُ بْنُ مَخْلَدٍ عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ ح و حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ وَاللَّفْظُ لَهُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ أَخْبَرَنِي عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَأُخْرِجَنَّ الْيَهُودَ وَالنَّصَارَی مِنْ جَزِيرَةِ الْعَرَبِ حَتَّی لَا أَدَعَ إِلَّا مُسْلِمًا
زہیر بن حرب، ضحاک بن مخلد، ابن جریج، محمد بن رافع، عبدالرزاق، ابن جریج، ابولزبیر، حضرت جابر بن عبداللہ ؓ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب ؓ نے مجھے خبر دی انہوں نے سنا کہ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں کہ یہود و نصاری کو جزیرہ عرب سے ضرور نکالوں گا یہاں تک کہ میں وہاں مسلمانوں کے علاوہ کسی کو نہیں چھوڑوں گا۔
It has been narrated by Umar bin al-Khattib that he heard the Messenger of Allah ﷺ say: I will expel the Jews and Christians from the Arabian Peninsula and will not leave any but Muslim.
یہود ونصاری کو جزیرہ العرب سے نکالنے کے بیان میں
و حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ح و حَدَّثَنِي سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَعْيَنَ حَدَّثَنَا مَعْقِلٌ وَهُوَ ابْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ کِلَاهُمَا عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ
زہیر بن حرب، روح بن عبادہ، سفیان ثوری، سلمہ بن شبیب، حسن بن اعین، معقل ابن عبیداللہ، حضرت ابوالزبیر ؓ سے اس سند کے ساتھ اسی طرح حدیث منقول ہے۔
This hadith has been narrated on the authority of Zubair with the same chain of transmitters.
عہد شکنی کرنے والے سے جنگ کرنے اور قلعہ والوں کو عادل بادشاہ کے حکم پر قلعہ سے نکالنے کے جواز کے بیان میں
و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَابْنُ بَشَّارٍ وَأَلْفَاظُهُمْ مُتَقَارِبَةٌ قَالَ أَبُو بَکْرٍ حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ عَنْ شُعْبَةَ و قَالَ الْآخَرَانِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا أُمَامَةَ بْنَ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ قَالَ نَزَلَ أَهْلُ قُرَيْظَةَ عَلَی حُکْمِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ فَأَرْسَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَی سَعْدٍ فَأَتَاهُ عَلَی حِمَارٍ فَلَمَّا دَنَا قَرِيبًا مِنْ الْمَسْجِدِ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْأَنْصَارِ قُومُوا إِلَی سَيِّدِکُمْ أَوْ خَيْرِکُمْ ثُمَّ قَالَ إِنَّ هَؤُلَائِ نَزَلُوا عَلَی حُکْمِکَ قَالَ تَقْتُلُ مُقَاتِلَتَهُمْ وَتَسْبِي ذُرِّيَّتَهُمْ قَالَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضَيْتَ بِحُکْمِ اللَّهِ وَرُبَّمَا قَالَ قَضَيْتَ بِحُکْمِ الْمَلِکِ وَلَمْ يَذْکُرْ ابْنُ الْمُثَنَّی وَرُبَّمَا قَالَ قَضَيْتَ بِحُکْمِ الْمَلِکِ
ابوبکر بن ابی شیبہ، محمد بن مثنی، ابن بشار، ابوبکر، غندر، شعبہ، سعد بن ابراہیم ابوامامہ، سہل بن حنیف، حضرت ابوسعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ بنو قریظہ والوں نے حضرت سعد بن معاذ ؓ کے فیصلہ پر اتر آنے کی رضا مندی کا اظہار کیا رسول اللہ ﷺ نے حضرت سعد ؓ کی طرف پیغام بھیجا تو وہ گدھے پر حاضر ہوئے جب وہ مسجد کے قریب پہنچے تو رسول اللہ ﷺ نے انصار سے فرمایا اپنے سردار یا اپنے افضل ترین کی طرف اٹھو پھر فرمایا یہ لوگ تمہارے فیصلہ پر اترے ہیں سعد نے کہا ان میں سے لڑائی کرنے والے کو قتل کردیں اور ان کی اولاد کو قیدی بنالیں تو نبی ﷺ نے فرمایا تم نے اللہ کے حکم کے مطابق ہی فیصلہ کیا ہے اور کبھی فرمایا تم نے بادشاہ کے فیصلہ کے مطابق فیصلہ کیا ہے ابن مثنی نے بادشاہ کے حکم کے مطابق فیصلہ کرنے کو ذکر نہیں کیا۔
It has been narrated on the authority of Abu Said al-Khudri who said: The people of Quraiza surrendered accepting the decision of Sad bin Muadh about them. Accordingly, the Messenger of Allah ﷺ sent for Sad who came to him riding a donkey. When he approached the mosque, the Messenger of Allah ﷺ said to the Ansar: Stand up to receive your chieftain. Then he said (to Sad): These people have surrendered accepting your decision. He (Sad) said: You will kill their fighters and capture their women and children. (Hearing this), the Propbet (may peace he upon him) said: You have adjudged by the command of God. The narrator is reported to have said: Perhaps he said: You have adjuged by the decision of a king.
Ibn Muthanna (in his version of the tradition) has not mentioned the alternative words.
عہد شکنی کرنے والے سے جنگ کرنے اور قلعہ والوں کو عادل بادشاہ کے حکم پر قلعہ سے نکالنے کے جواز کے بیان میں
و حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ عَنْ شُعْبَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَقَالَ فِي حَدِيثِهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَقَدْ حَکَمْتَ فِيهِمْ بِحُکْمِ اللَّهِ وَقَالَ مَرَّةً لَقَدْ حَکَمْتَ بِحُکْمِ الْمَلِکِ
زہیر بن حرب، عبدالرحمن بن مہدی، شعبہ ؓ سے ان سندوں کے ساتھ روایت ہے اور انہوں نے اپنی حدیث میں کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم نے ان کے بارے میں اللہ کے حکم کے مطابق فیصلہ کیا ہے اور ایک مرتبہ فرمایا کہ تم نے بادشاہ کے حکم کے مطابق فیصلہ کیا ہے۔
Through the same chain of transmitters Shubah has narrated the same tradition in which he says that the Messenger of Allah ﷺ said (to Sad): You have adjudged according to the command of God. And once he said: you have adjudged by the decision of a king.
عہد شکنی کرنے والے سے جنگ کرنے اور قلعہ والوں کو عادل بادشاہ کے حکم پر قلعہ سے نکالنے کے جواز کے بیان میں
و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَائِ الْهَمْدَانِيُّ کِلَاهُمَا عَنْ ابْنِ نُمَيْرٍ قَالَ ابْنُ الْعَلَائِ حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ أُصِيبَ سَعْدٌ يَوْمَ الْخَنْدَقِ رَمَاهُ رَجُلٌ مِنْ قُرَيْشٍ يُقَالُ لَهُ ابْنُ الْعَرِقَةِ رَمَاهُ فِي الْأَکْحَلِ فَضَرَبَ عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْمَةً فِي الْمَسْجِدِ يَعُودُهُ مِنْ قَرِيبٍ فَلَمَّا رَجَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ الْخَنْدَقِ وَضَعَ السِّلَاحَ فَاغْتَسَلَ فَأَتَاهُ جِبْرِيلُ وَهُوَ يَنْفُضُ رَأْسَهُ مِنْ الْغُبَارِ فَقَالَ وَضَعْتَ السِّلَاحَ وَاللَّهِ مَا وَضَعْنَاهُ اخْرُجْ إِلَيْهِمْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَيْنَ فَأَشَارَ إِلَی بَنِي قُرَيْظَةَ فَقَاتَلَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَزَلُوا عَلَی حُکْمِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَدَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْحُکْمَ فِيهِمْ إِلَی سَعْدٍ قَالَ فَإِنِّي أَحْکُمُ فِيهِمْ أَنْ تُقْتَلَ الْمُقَاتِلَةُ وَأَنْ تُسْبَی الذُّرِّيَّةُ وَالنِّسَائُ وَتُقْسَمَ أَمْوَالُهُمْ
ابوبکر بن ابی شبیہ، محمد بن علاء ہمدانی، ابن نمیر، ہشام، حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ حضرت سعد ؓ کو غزوہ خندق کے دن قریش کے ایک آدمی کا تیر لگا جسے ابن عرقہ کہا جاتا تھا اس کا وہ تیر بازو کی ایک رگ میں لگا رسول اللہ ﷺ نے مسجد میں اس کے لئے ایک خیمہ نصب کروا دیا تاکہ پاس ہی ان کی عیادت کرسکیں پس جب رسول اللہ ﷺ خندق سے واپس آئے اور ہتھیار اتارے غسل فرمایا تو جبرائیل (علیہ السلام) آپ ﷺ کے پاس اس حال میں آئے کہ وہ اپنے سر سے غبار جھاڑ رہے تھے اس نے کہا آپ ﷺ نے ہتھیار اتار دیئے ہیں، اللہ کی قسم آپ ﷺ اسے نہ اتارئیے بلکہ ان کی طرف نکلیے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہاں، جبرائیل (علیہ السلام) نے بنو قریظہ کی طرف اشارہ کیا پس رسول اللہ ﷺ نے ان سے جنگ کی انہوں نے رسول اللہ ﷺ کے حکم پر (قلعہ سے) اترنے پر رضا مندی ظاہر کی لیکن رسول اللہ ﷺ نے اس بارے میں فیصلہ کو سعد کی طرف بدل دیا تو انہوں نے کہا کہ میں ان کے بارے میں یہ فیصلہ کرتا ہوں کہ ان میں سے لڑائی کرنے والے کو قتل کردیں اور عورتوں اور بچوں کو قیدی بنالیں اور ان کے مال کو تقسیم کرلیں۔
It has been narrated on the authority of Aisha who said: Sad was wounded on the day of the Battle of the Ditch. A man from the Quraish called Ibn al-Ariqah shot at him an arrow which pierced the artery in the middle of his forearm. The Messenger of Allah ﷺ pitched a tent for him in the mosque and would inquire after him being in close proximity. When he returned from the Ditch and laid down his arms and took a bath, the angel Gabriel (علیہ السلام) appeared to him and he was removing dust from his hair (as if he had just returned from the battle). The latter said: You have laid down arms. By God, we havent (yet) laid them down. So march against them. The Messenger of Allah ﷺ asked: Where? He pointad to Banu Quraiza. So the Messenger of Allah ﷺ (may peace he upon him) fought against them. They surrendered at the command of the Messenger of Allah ﷺ , but he referred the decision about them to Sad who said: I decide about them that those of them who can fight be killed, their women and children taken prisoners and their properties distributed (among the Muslims).