جہاد کا بیان

Sahih Muslim · Chapter 34 · 182 hadiths · Page 9 of 10

4679Sahih Muslim

غزوئہ احزاب کے بیان میں

حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدٍ النَّاقِدُ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ أَنَّ ثَمَانِينَ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ مَکَّةَ هَبَطُوا عَلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ جَبَلِ التَّنْعِيمِ مُتَسَلِّحِينَ يُرِيدُونَ غِرَّةَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابِهِ فَأَخَذَهُمْ سِلْمًا فَاسْتَحْيَاهُمْ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَهُوَ الَّذِي کَفَّ أَيْدِيَهُمْ عَنْکُمْ وَأَيْدِيَکُمْ عَنْهُمْ بِبَطْنِ مَکَّةَ مِنْ بَعْدِ أَنْ أَظْفَرَکُمْ عَلَيْهِمْ

عمرو بن محمد ناقد، یزید بن ہارون، حماد بن سلمہ، ثابت انس، حضرت انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ تنعیم کے پہاڑ سے مکہ والوں کے اسی آدمی جو کہ اسلحہ سے مسلح تھے رسول اللہ ﷺ پر اترے وہ لوگ نبی ﷺ اور آپ کے صحابہ ؓ کو غفلت میں رکھ کر آپ ﷺ پر حملہ کرنا چاہتے تھے آپ ﷺ نے ان لوگوں کو پکڑ کر پھر چھوڑ دیا تو اللہ تعالیٰ نے آیت کریمہ نازل فرمائی اور وہی ہے جس نے وادی مکہ میں ان کے ہاتھ تم سے اور تمہارے ہاتھ ان سے روک دیئے اس کے بعد کہ اس نے تمہیں ان پر غالب کردیا تھا۔

It has been narrated on the authority of Anas bin Malik (RA) that eighty Persons from the inhabitants of Makkah swooped down upon the Messenger of Allah ﷺ from the mountain of Tanim. They were armed and wanted to attack the Holy Prophet ﷺ and his Companions unawares. He (the Holy Prophet) captured them but spared their lives. So, God, the Exalted and Glorious, revealed the verses: "It is He Who restrained your hands from them and their hands from you in the valley of Makkah after He had given you a victory over them."

4680Sahih Muslim

عورتوں کا مردوں کے ساتھ جہاد کرنے کے بیان میں

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ أُمَّ سُلَيْمٍ اتَّخَذَتْ يَوْمَ حُنَيْنٍ خِنْجَرًا فَکَانَ مَعَهَا فَرَآهَا أَبُو طَلْحَةَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذِهِ أُمُّ سُلَيْمٍ مَعَهَا خِنْجَرٌ فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا هَذَا الْخِنْجَرُ قَالَتْ اتَّخَذْتُهُ إِنْ دَنَا مِنِّي أَحَدٌ مِنْ الْمُشْرِکِينَ بَقَرْتُ بِهِ بَطْنَهُ فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَضْحَکُ قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ اقْتُلْ مَنْ بَعْدَنَا مِنْ الطُّلَقَائِ انْهَزَمُوا بِکَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا أُمَّ سُلَيْمٍ إِنَّ اللَّهَ قَدْ کَفَی وَأَحْسَنَ

ابوبکر بن ابی شیبہ، یزید بن ہارون، حماد بن سلمہ، ثابت انس، حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ حضرت ام سلمہ ؓ نے غزوہ حنین کے دن ان کے پاس جو خنجر تھا وہ لیا۔ حضرت ابوطلحہ (ام سلیم کے ہاتھ میں خنجر) دیکھا تو عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ یہ ام سلیم ہیں جن کے پاس ایک خنجر ہے تو رسول اللہ ﷺ نے حضرت ام سلیم ؓ سے فرمایا یہ خنجر کیسا ہے حضرت ام سلیم ؓ نے عرض کیا اگر مشرکوں میں سے کوئی مشرک میرے پاس آئے گا تو میں اس کے ذریعہ سے اس کا پیٹ پھاڑ ڈالوں گی یہ سن کر رسول اللہ ﷺ ہنس پڑے ام سلیم ؓ نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ ہمارے طلقاء میں سے وہ لوگ کہ جنہوں نے آپ ﷺ سے شکست کھائی ہے کیا میں ان کو قتل کردوں یعنی جو فتح مکہ کے موقع پر مکہ والوں میں سے مسلمان ہوئے ان کے شکست کھا جانے کے وجہ سے ام سلیم نے ان کو منافق سمجھا اس لئے ان کو قتل کرنے کا عرض کیا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اے ام سلیم بیشک اللہ کافی ہے اور اللہ نے ہم پر احسان کیا ہے۔

It has been narrated on the authority of Anas that, on the Day of Hunain, Umm Sulaim took out a dagger she had in her possession. Abu Talha saw her and said: Messenger of Allah, this is Umm Sulaim. She is holding a dagger. The Messenger of Allah ﷺ asked (her): What for are you holding this dagger? She said: I took it up so that I may tear open the belly of a polytheist who comes near me. The Messenger of Allah ﷺ began to smile (at these words). She said: Messenger of Allah, kill all those people-other than us-whom thou hast declared to be free (on the day of the Conquest of Makkah). (They embraced Islam because) they were defeated at your hands (and as such their Islam is not dependable). The Messenger of Allah ﷺ said: Umm Sulaim. God is sufficient (against the mischief of the polytheists) and He will be kind to us (so you need not carry this dagger).

4681Sahih Muslim

عورتوں کا مردوں کے ساتھ جہاد کرنے کے بیان میں

و حَدَّثَنِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ أَخْبَرَنَا إِسْحَقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ فِي قِصَّةِ أُمِّ سُلَيْمٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَ حَدِيثِ ثَابِتٍ

محمد بن حاتم، بہز، حماد بن سلمہ، اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ، انس بن مالک، اس سند کے ساتھ حضرت انس بن مالک ؓ نے ام سلیم ؓ کا یہ واقعہ نبی ﷺ سے روایت کیا ثابت کی حدیث کی طرح۔

Same as Hadees 4680

4682Sahih Muslim

عورتوں کا مردوں کے ساتھ جہاد کرنے کے بیان میں

حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَغْزُو بِأُمِّ سُلَيْمٍ وَنِسْوَةٍ مِنْ الْأَنْصَارِ مَعَهُ إِذَا غَزَا فَيَسْقِينَ الْمَائَ وَيُدَاوِينَ الْجَرْحَی

یحییٰ بن یحیی، جعفر بن سلیمان، ثابت، انس، حضرت انس بن مالک ؓ سے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جہاد کرتے تو ام سلیم اور انصار کی کچھ عورتیں آپ ﷺ کے ساتھ ہوتیں وہ پانی پلاتیں اور زخمیوں کو دوا دیتیں۔

It has been narrated on the authority of Anas bin Malik (RA) who said that the Messenger of Allah ﷺ allowed Umm Sulaim and some other women of the Ansar to accompany him when he went to war; they would give water (to the soldiers) and would treat the wounded.

4683Sahih Muslim

عورتوں کا مردوں کے ساتھ جہاد کرنے کے بیان میں

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو وَهُوَ أَبُو مَعْمَرٍ الْمِنْقَرِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ وَهُوَ ابْنُ صُهَيْبٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ لَمَّا کَانَ يَوْمُ أُحُدٍ انْهَزَمَ نَاسٌ مِنْ النَّاسِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو طَلْحَةَ بَيْنَ يَدَيْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُجَوِّبٌ عَلَيْهِ بِحَجَفَةٍ قَالَ وَکَانَ أَبُو طَلْحَةَ رَجُلًا رَامِيًا شَدِيدَ النَّزْعِ وَکَسَرَ يَوْمَئِذٍ قَوْسَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا قَالَ فَکَانَ الرَّجُلُ يَمُرُّ مَعَهُ الْجَعْبَةُ مِنْ النَّبْلِ فَيَقُولُ انْثُرْهَا لِأَبِي طَلْحَةَ قَالَ وَيُشْرِفُ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْظُرُ إِلَی الْقَوْمِ فَيَقُولُ أَبُو طَلْحَةَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي لَا تُشْرِفْ لَا يُصِبْکَ سَهْمٌ مِنْ سِهَامِ الْقَوْمِ نَحْرِي دُونَ نَحْرِکَ قَالَ وَلَقَدْ رَأَيْتُ عَائِشَةَ بِنْتَ أَبِي بَکْرٍ وَأُمَّ سُلَيْمٍ وَإِنَّهُمَا لَمُشَمِّرَتَانِ أَرَی خَدَمَ سُوقِهِمَا تَنْقُلَانِ الْقِرَبَ عَلَی مُتُونِهِمَا ثُمَّ تُفْرِغَانِهِ فِي أَفْوَاهِهِمْ ثُمَّ تَرْجِعَانِ فَتَمْلَآَنِهَا ثُمَّ تَجِيئَانِ تُفْرِغَانِهِ فِي أَفْوَاهِ الْقَوْمِ وَلَقَدْ وَقَعَ السَّيْفُ مِنْ يَدَيْ أَبِي طَلْحَةَ إِمَّا مَرَّتَيْنِ وَإِمَّا ثَلَاثًا مِنْ النُّعَاسِ

عبداللہ بن عبدالرحمن دار می، عبداللہ بن عمر، ابومعمر منقری، عبدالوارث، عبدالعزیز، ابن صہیب، انس، حضرت انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ غزوہ احد کے دن صحابہ ؓ میں سے بعض صحابہ ؓ شکست کھا کر نبی ﷺ کو چھوڑ کر بھاگ گئے اور ابوطلحہ ؓ نبی ﷺ کے سامنے ڈھال سے آپ ﷺ پر پردہ کئے ہوئے تھے اور ابوطلحہ بہت زبردست تیر انداز تھے اور اس دن انہوں نے دو یا تین کمانیں توڑیں تھیں اور جب کوئی آدمی آپ ﷺ کے پاس سے تیروں کا ترکش لئے گزرتا تو آپ ﷺ فرماتے انہیں ابوطلحہ کے لئے بکھیر دو اور اللہ کے نبی ﷺ گردن اٹھا اٹھا کر قوم کو دیکھ رہے تھے تو ابوطلحہ نے عرض کیا اے اللہ کے نبی ﷺ آپ ﷺ پر میرے ماں باپ قربان آپ ﷺ گردن نہ اٹھائیں کہیں دشمنوں کے تیروں میں سے کوئی آپ ﷺ کو نہ لگ جائے اور میرا سینہ آپ کے سینہ کے سامنے رہے انس ؓ کہتے ہیں تحقیق! میں نے حضرت عائشہ ؓ بنت ابوبکر ؓ اور ام سلیم ؓ کو دیکھا کہ وہ اپنے دامن اٹھائے تھیں کہ میں نے ان کی پنڈلیوں کی پازیبوں کو دیکھا اور وہ دونوں اپنی پشتوں پر مشکیزے بھر کر لا رہی تھیں اور صحابہ ؓ کے منہ میں ڈال کر لوٹ آتیں پھر بھرتیں پھر آتیں اور صحابہ ؓ کے منہ میں ڈال دیتی تھیں اور اس دن ابوطلحہ ؓ کے ہاتھ سے دو یا تین مرتبہ نیند کی وجہ سے تلوار گرگئی تھی۔

It has been narrated on the authority of Anas bin Malik (RA) who said: On the Day of Uhud some of the people, being defeated, left the Holy Prophet ﷺ (may peace he upon him), but Abu Talha stood before him covering him with a shield. Abu Talha was a powerful archer who broke two or three bows that day. When a man would pass by carrying a quiver containing arrows, he would say: Spare them for Abu Talha. Whenever the Holy Prophet ﷺ raised his head to look at the people, Abd Talba would say: Prophet ﷺ of Allah, may my father and my mother be thy ransom, do not raise your head lest you be struck by an arrow shot by the enemy. My neck is before your neck. The narrator said: I saw Aisha bint Abu Bakr (RA) and Umm Sulaim, both of them had tucked up their garments, so I could see the anklets on their feet. They were carrying water-skins on their backs and would pour water into the mouths of the people. They would then go back (to the well), would fill them again and would return to pour water into the mouths of the soldiers. (On this day) Abu Talhas sword dropped down from his hands twice or thrice because of drowsiness.

4684Sahih Muslim

جہاد کرنے والی عورتوں کو بطور عطیہ دینے اور غنیمت میں حصہ مقرر نہ کرنے کا حکم اور اہل حرب کے بچوں کو قتل کرنے کی ممانعت کے بیان میں

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ يَعْنِي ابْنَ بِلَالٍ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ يَزِيدَ بْنِ هُرْمُزَ أَنَّ نَجْدَةَ کَتَبَ إِلَی ابْنِ عَبَّاسٍ يَسْأَلُهُ عَنْ خَمْسِ خِلَالٍ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ لَوْلَا أَنْ أَکْتُمَ عِلْمًا مَا کَتَبْتُ إِلَيْهِ کَتَبَ إِلَيْهِ نَجْدَةُ أَمَّا بَعْدُ فَأَخْبِرْنِي هَلْ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَغْزُو بِالنِّسَائِ وَهَلْ کَانَ يَضْرِبُ لَهُنَّ بِسَهْمٍ وَهَلْ کَانَ يَقْتُلُ الصِّبْيَانَ وَمَتَی يَنْقَضِي يُتْمُ الْيَتِيمِ وَعَنْ الْخُمْسِ لِمَنْ هُوَ فَکَتَبَ إِلَيْهِ ابْنُ عَبَّاسٍ کَتَبْتَ تَسْأَلُنِي هَلْ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَغْزُو بِالنِّسَائِ وَقَدْ کَانَ يَغْزُو بِهِنَّ فَيُدَاوِينَ الْجَرْحَی وَيُحْذَيْنَ مِنْ الْغَنِيمَةِ وَأَمَّا بِسَهْمٍ فَلَمْ يَضْرِبْ لَهُنَّ وَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَکُنْ يَقْتُلُ الصِّبْيَانَ فَلَا تَقْتُلْ الصِّبْيَانَ وَکَتَبْتَ تَسْأَلُنِي مَتَی يَنْقَضِي يُتْمُ الْيَتِيمِ فَلَعَمْرِي إِنَّ الرَّجُلَ لَتَنْبُتُ لِحْيَتُهُ وَإِنَّهُ لَضَعِيفُ الْأَخْذِ لِنَفْسِهِ ضَعِيفُ الْعَطَائِ مِنْهَا فَإِذَا أَخَذَ لِنَفْسِهِ مِنْ صَالِحِ مَا يَأْخُذُ النَّاسُ فَقَدْ ذَهَبَ عَنْهُ الْيُتْمُ وَکَتَبْتَ تَسْأَلُنِي عَنْ الْخُمْسِ لِمَنْ هُوَ وَإِنَّا کُنَّا نَقُولُ هُوَ لَنَا فَأَبَی عَلَيْنَا قَوْمُنَا ذَاکَ

عبداللہ بن مسلمہ بن قعنب، سلیمان بن بلال، جعفر بن محمد، یزید بن ہرمز، حضرت یزید بن ہرمز ؓ سے روایت ہے کہ نجدہ نے حضرت ابن عباس ؓ سے پانچ باتوں کے بارے میں پوچھنے کے لئے لکھا تو ابن عباس ؓ نے کہا اگر مجھے علم چھپانے کا اندیشہ نہ ہوتا تو میں نہ لکھتا، ان کی طرف نجدہ نے لکھا کہ آپ مجھے خبر دیں کیا رسول اللہ ﷺ عورتوں کو جہاد میں شریک کرتے تھے اور کیا آپ ﷺ ان کے لئے حصہ مقرر فرماتے تھے اور کیا آپ بچوں کو قتل کرتے تھے اور یتیم کی یتیمی کب ختم ہوتی ہے اور مال غنیمت کا پانچواں حصہ کس کا حق ہے۔ ابن عباس ؓ نے اس کی طرف (جواباً ) تحریر فرمایا تو نے مجھ سے پوچھنے کے لئے لکھا، کیا رسول اللہ ﷺ عورتوں کو جہاد میں شریک کرتے تھے، رسول اللہ ﷺ عورتوں کو جہاد میں شریک کرتے تھے۔ رسول اللہ ﷺ انہیں جہاد میں ساتھ لے جاتے تھے اور وہ زخمیوں کی مرہم پٹی کرتی تھیں اور انہیں مال غنیمت میں سے کچھ عطا بھی کیا جاتا تھا بہرحال مال غنیمت میں سے ان کے لئے حصہ مقرر نہ کیا جاتا تھا اور رسول اللہ ﷺ بچوں کو قتل نہ کرتے تھے پس تو بھی بچوں کو قتل نہ کرنا اور تو نے مجھ سے پوچھنے کے لئے لکھا ہے کہ یتیم کی یتیمی کب ختم ہوجاتی ہے، تو میری عمر کی قسم بعض لوگ ایسے ہوتے ہیں کہ ان کی داڑھی نکل آتی ہے لیکن وہ اپنے لینے اور دینے میں کمزور ہوتے ہیں پس جب وہ باسلیقہ لوگوں کی طرح اپنا فائدہ حاصل کرنے کے قابل ہوجائیں تو اس کی مدت یتیمی ختم ہوجائے گی اور تو نے مجھ سے مال غنیمت میں پانچواں حصہ کے بارے میں پوچھنے کے لئے لکھا ہے کہ اس کا حقدار کون ہے ہم کہا کرتے تھے کہ وہ ہمارا حق ہے لیکن قوم نے ہمیں یہ حق دینے سے انکار کردیا۔

It has been narrated on the authority of Yazid bin Hurmuz that Najda wrote to Ibn Abbas (RA) inquiring of him five things. Ibn Abbas (RA) said: If I had not the fear of committing (sin) for concealing the knowledge I would not have written to him. Najda wrote to him saying (after praising the Almighty and invoking blessings on the Prophet): Tell me whether the Messenger of Allah ﷺ took women to participate with him in Jihad; (if he did), whether he allotted them a regular share from the booty; whether he killed the children of (the enemy in the war how long an orphan would be entitled to consideration as such and for whom the Kbums (fifth part of the booty) was booty. Ibn Abbas (RA) wrote to him: You have written asking me whether the Messenger of Allah ﷺ took women with him to participate in Jihad. He did take them to the battle and sometimes he fought along with them. They would treat the wounded and were given a reward from the booty, but he did not assign any regular share for them. And the Messenger of Allah ﷺ did not kill the children of the enemy, so thou shouldst not kill the children. Also you have written to me asking me when the orphanhood of an orphan comes to an end. By my life, if a man has become bearded but is still incapable of getting his due from others as well as meeting his obligation towards them, (he is yet an orphan to be treated you such), but when he can look after his interests like grown-up people, he is no longer an orphan. And you have written to me inquiring about Khums as to whom it is meant for. (In this connection) we (the kinsmen of the Messenger of Allah) ﷺ used to say: It is for us, but those people (i. e. Banu Umayya) have denied it to us.

4685Sahih Muslim

جہاد کرنے والی عورتوں کو بطور عطیہ دینے اور غنیمت میں حصہ مقرر نہ کرنے کا حکم اور اہل حرب کے بچوں کو قتل کرنے کی ممانعت کے بیان میں

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ کِلَاهُمَا عَنْ حَاتِمِ بْنِ إِسْمَعِيلَ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ يَزِيدَ بْنِ هُرْمُزَ أَنَّ نَجْدَةَ کَتَبَ إِلَی ابْنِ عَبَّاسٍ يَسْأَلُهُ عَنْ خِلَالٍ بِمِثْلِ حَدِيثِ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلَالٍ غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِ حَاتِمٍ وَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَکُنْ يَقْتُلُ الصِّبْيَانَ فَلَا تَقْتُلْ الصِّبْيَانَ إِلَّا أَنْ تَکُونَ تَعْلَمُ مَا عَلِمَ الْخَضِرُ مِنْ الصَّبِيِّ الَّذِي قَتَلَ وَزَادَ إِسْحَقُ فِي حَدِيثِهِ عَنْ حَاتِمٍ وَتُمَيِّزَ الْمُؤْمِنَ فَتَقْتُلَ الْکَافِرَ وَتَدَعَ الْمُؤْمِنَ

ابوبکر بن ابی شیبہ، اسحاق بن ابراہیم، حاتم بن اسماعیل، جعفر بن محمد، یزید بن ہرمز، اس سند سے یہ حدیث مروی ہے حضرت یزید بن ہرمز سے ہے کہ نجدہ نے ابن عباس ؓ کی طرف لکھا اور اس نے چند باتوں کے بارے میں پوچھا باقی حدیث اسی طرح ہے اس میں یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ بچوں کو قتل نہ کیا کرتے تھے پس تو بھی بچوں کو قتل نہ کر سوائے اس کے کہ تجھے بھی وہ علم حاصل ہوجائے جو حضرت خضر (علیہ السلام) کو اس بچے کے بارے میں عطا ہوا تھا جسے انہوں نے قتل کردیا دوسری روایت میں یہ اضافہ بھی ہے کہ تو مومن کی تمیز کر کافر کو قتل کر دے اور جو مومن ہو اسے چھوڑ دے۔

This tradition has been narrated by the game authority (Yazid bin Hurmus) through a different chain of transmitters with the following difference in the elucidation of one of the points raised by Najda in his letter to Ibn Abbas (RA) : The Messenger of Allah ﷺ used not to kill the children, so thou shouldst not kill them unless you could know what Khadir had known about the child he killed, or you could distinguish between a child who would grow up to be a believer (and a child who would grow up to be a non-believer), so that you killed the (prospective) non-believer and left the (prospective) believer aside.

4686Sahih Muslim

جہاد کرنے والی عورتوں کو بطور عطیہ دینے اور غنیمت میں حصہ مقرر نہ کرنے کا حکم اور اہل حرب کے بچوں کو قتل کرنے کی ممانعت کے بیان میں

و حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ إِسْمَعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ عَنْ يَزِيدَ بْنِ هُرْمُزَ قَالَ کَتَبَ نَجْدَةُ بْنُ عَامِرٍ الْحَرُورِيُّ إِلَی ابْنِ عَبَّاسٍ يَسْأَلُهُ عَنْ الْعَبْدِ وَالْمَرْأَةِ يَحْضُرَانِ الْمَغْنَمَ هَلْ يُقْسَمُ لَهُمَا وَعَنْ قَتْلِ الْوِلْدَانِ وَعَنْ الْيَتِيمِ مَتَی يَنْقَطِعُ عَنْهُ الْيُتْمُ وَعَنْ ذَوِي الْقُرْبَی مَنْ هُمْ فَقَالَ لِيَزِيدَ اکْتُبْ إِلَيْهِ فَلَوْلَا أَنْ يَقَعَ فِي أُحْمُوقَةٍ مَا کَتَبْتُ إِلَيْهِ اکْتُبْ إِنَّکَ کَتَبْتَ تَسْأَلُنِي عَنْ الْمَرْأَةِ وَالْعَبْدِ يَحْضُرَانِ الْمَغْنَمَ هَلْ يُقْسَمُ لَهُمَا شَيْئٌ وَإِنَّهُ لَيْسَ لَهُمَا شَيْئٌ إِلَّا أَنْ يُحْذَيَا وَکَتَبْتَ تَسْأَلُنِي عَنْ قَتْلِ الْوِلْدَانِ وَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَقْتُلْهُمْ وَأَنْتَ فَلَا تَقْتُلْهُمْ إِلَّا أَنْ تَعْلَمَ مِنْهُمْ مَا عَلِمَ صَاحِبُ مُوسَی مِنْ الْغُلَامِ الَّذِي قَتَلَهُ وَکَتَبْتَ تَسْأَلُنِي عَنْ الْيَتِيمِ مَتَی يَنْقَطِعُ عَنْهُ اسْمُ الْيُتْمِ وَإِنَّهُ لَا يَنْقَطِعُ عَنْهُ اسْمُ الْيُتْمِ حَتَّی يَبْلُغَ وَيُؤْنَسَ مِنْهُ رُشْدٌ وَکَتَبْتَ تَسْأَلُنِي عَنْ ذَوِي الْقُرْبَی مَنْ هُمْ وَإِنَّا زَعَمْنَا أَنَّا هُمْ فَأَبَی ذَلِکَ عَلَيْنَا قَوْمُنَا

ابن ابی عمر، سفیان، اسماعیل بن امیہ، سعید مقبری، یزید بن ہرمز، حضرت یزید بن ہرمز ؓ سے روایت ہے کہ نجدہ بن عامر حروری نے حضرت ابن عباس ؓ سے غلام اور عورت کے بارے میں پوچھنے کے لئے لکھا کہ اگر وہ دونوں مال غنیمت کی تقسیم کے وقت موجود ہوں تو کیا انہیں حصہ دیا جائے گا اور بچوں کے قتل کے بارے میں اور یتیم کے بارے میں پوچھا کہ اس کی یتیمی کب ختم ہوتی ہے اور ذوی القربی کے بارے میں کہ وہ کون ہے تو ابن عباس ؓ نے یزید سے کہا اس کی طرف لکھو اگر مجھے یہ خیال نہ ہوتا کہ وہ حماقت میں واقع ہوجائے گا تو اس کا جواب نہ لکھتا لکھو تو نے عورت اور غلام کے بارے میں مجھ سے پوچھنے کے لئے لکھا کہ اگر وہ مال غنیمت کی تقسیم کے وقت موجود ہوں تو کیا انہیں بھی کچھ ملے گا ان کے لئے سوائے عطیہ کے کوئی حصہ نہیں ہے اور تو نے مجھ سے بچوں کے قتل کے بارے میں پوچھنے کے لئے لکھا تو رسول اللہ ﷺ نے انہیں قتل نہیں کیا اور تو بھی انہیں قتل نہ کر سوائے اس کے کہ تجھے وہ علم ہوجائے جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھی (حضرت خضر (علیہ السلام) کو اس بچے کے بارے میں علم ہوگیا تھا جنہیں انہوں نے قتل کیا اور تو نے مجھ سے یتیم کے بارے میں پوچھنے کے لئے لکھا کہ یتیم سے یتیمی کب ختم ہوتی ہے یتیم سے یتیمی کا نام اس کے بالغ ہونے تک ختم نہیں ہوتا اور سمجھ کے آثار کے نمودار ہونے تک اور تو نے مجھ سے ذوالقربی کے بارے میں پوچھنے کے لئے لکھا کہ وہ کون ہیں ہمارا خیال تھا کہ وہ ہم ہیں لیکن ہماری قوم نے ہمارے بارے میں اس بات کا انکار کردیا۔

It has been narrated on the authority of Yazid bin Hurmuz who said: Najda bin Amir al-Haruri wrote to Ibn Abbas (RA) asking him about the slave and the woman as to whether they would get a share from the booty (it they participated in Jihad); about the killing of (enemy) children (in war); about the orphan as to when his orphanhood comes to an end; about kinsmen (of the Holy Prophet) as to who they are. He said to Yazid: Write to him. (If he were not likely to fall into folly, I would not have written to him.) Write: You have written asking about the woman and the slave whether they would get a share of the booty if they participated in Jihad. (You should know that) there is nothing of the sort for them except that they will be given a prize. And you have written asking me about the killing of the enemy children in war. (You should understand that) the Messenger of Allah ﷺ (may peare be upon him) did not kill them. and thou shouldst not kill them unless thou knew what the companion of Moses (علیہ السلام) (i. e. Khadir) knew about the boy he had killed. And you have written asking me about the orphan as to when the period of his orphanhood comes to an end, so that the sobriquet of "orphan" is dropped from him. (In this regard, you should know that) the sobriquet "orphan" will not be dropped from him until he attains maturity of body and mind. And you have written asking me about the close relatives (of the Holy Prophet) as to who they are. We think that it is we, but our people have denied us this (position and its concomitant privileges).

4687Sahih Muslim

جہاد کرنے والی عورتوں کو بطور عطیہ دینے اور غنیمت میں حصہ مقرر نہ کرنے کا حکم اور اہل حرب کے بچوں کو قتل کرنے کی ممانعت کے بیان میں

و حَدَّثَنَاه عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرٍ الْعَبْدِيُّ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ بْنُ أُمَيَّةَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ عَنْ يَزِيدَ بْنِ هُرْمُزَ قَالَ کَتَبَ نَجْدَةُ إِلَی ابْنِ عَبَّاسٍ وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِمِثْلِهِ قَالَ أَبُو إِسْحَقَ حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بِهَذَا الْحَدِيثِ بِطُولِهِ

عبدالرحمن بن بشر عبدی، سفیان، اسماعیل بن امیہ، سعید بن ابوسعید، یزید بن ہرمز، یزید بن ہرمز سے روایت ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ نجدہ نے حضرت ابن عباس کو لکھا اور پھر آگے اسی طرح حدیث بیان کی۔

This hadith has been narrated on the authority of Yazid bin Hurmuz through another chain of transmitters.

4688Sahih Muslim

جہاد کرنے والی عورتوں کو بطور عطیہ دینے اور غنیمت میں حصہ مقرر نہ کرنے کا حکم اور اہل حرب کے بچوں کو قتل کرنے کی ممانعت کے بیان میں

حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرِ بْنِ حَازِمٍ حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ سَمِعْتُ قَيْسًا يُحَدِّثُ عَنْ يَزِيدَ بْنِ هُرْمُزَ ح و حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ وَاللَّفْظُ لَهُ قَالَ حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ حَدَّثَنِي قَيْسُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ يَزِيدَ بْنِ هُرْمُزَ قَالَ کَتَبَ نَجْدَةُ بْنُ عَامِرٍ إِلَی ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ فَشَهِدْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ حِينَ قَرَأَ کِتَابَهُ وَحِينَ کَتَبَ جَوَابَهُ وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ وَاللَّهِ لَوْلَا أَنْ أَرُدَّهُ عَنْ نَتْنٍ يَقَعُ فِيهِ مَا کَتَبْتُ إِلَيْهِ وَلَا نُعْمَةَ عَيْنٍ قَالَ فَکَتَبَ إِلَيْهِ إِنَّکَ سَأَلْتَ عَنْ سَهْمِ ذِي الْقُرْبَی الَّذِي ذَکَرَ اللَّهُ مَنْ هُمْ وَإِنَّا کُنَّا نَرَی أَنَّ قَرَابَةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هُمْ نَحْنُ فَأَبَی ذَلِکَ عَلَيْنَا قَوْمُنَا وَسَأَلْتَ عَنْ الْيَتِيمِ مَتَی يَنْقَضِي يُتْمُهُ وَإِنَّهُ إِذَا بَلَغَ النِّکَاحَ وَأُونِسَ مِنْهُ رُشْدٌ وَدُفِعَ إِلَيْهِ مَالُهُ فَقَدْ انْقَضَی يُتْمُهُ وَسَأَلْتَ هَلْ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْتُلُ مِنْ صِبْيَانِ الْمُشْرِکِينَ أَحَدًا فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَکُنْ يَقْتُلُ مِنْهُمْ أَحَدًا وَأَنْتَ فَلَا تَقْتُلْ مِنْهُمْ أَحَدًا إِلَّا أَنْ تَکُونَ تَعْلَمُ مِنْهُمْ مَا عَلِمَ الْخَضِرُ مِنْ الْغُلَامِ حِينَ قَتَلَهُ وَسَأَلْتَ عَنْ الْمَرْأَةِ وَالْعَبْدِ هَلْ کَانَ لَهُمَا سَهْمٌ مَعْلُومٌ إِذَا حَضَرُوا الْبَأْسَ فَإِنَّهُمْ لَمْ يَکُنْ لَهُمْ سَهْمٌ مَعْلُومٌ إِلَّا أَنْ يُحْذَيَا مِنْ غَنَائِمِ الْقَوْمِ

اسحاق بن ابراہیم، وہب، ابن جریر، ابن حازم، یزید بن ہرمز، حضرت یزید بن ہرمز سے روایت ہے کہ نجدہ بن عامر ؓ نے ابن عباس ؓ کی طرف لکھا اور اس میں حضرت ابن عباس ؓ کی خدمت میں حاضر تھا جب انہوں نے اس کے خط کو پڑھا اور اس کا جواب لکھا ابن عباس ؓ نے کہا اللہ کی قسم اگر مجھے یہ خیال نہ ہوتا کہ وہ بدبو یعنی کسی برے کام میں پڑجائے گا تو میں اس کی طرف جواب نہ لکھتا اور نہ اس کی آنکھیں خوش ہوتیں پس ابن عباس نے نجدہ کی طرف لکھا کہ تو نے ان ذوی القربی کے حصہ کے بارے میں پوچھا (جن کا اللہ نے ذکر فرمایا) کہ وہ کون ہیں ہم نے خیال کیا تھا کہ رسول اللہ ﷺ کے قرابت داروں سے ہم لوگ ہی مراد ہیں لیکن ہماری قوم نے ہمارے اس خیال کو ماننے سے انکار کردیا اور تو نے یتیم کے بارے میں پوچھا ہے کہ اس کی مدت یتیمی کب ختم ہوتی ہے؟ جب وہ نکاح کے قابل ہوجائے اور اس سے سمجھداری محسوس ہونے لگے تو اس کا مال اس کے حوالے کردیا جائے تو اس کی مدت یتیمی ختم ہوجاتی ہے اور تو نے پوچھا ہے کیا رسول اللہ ﷺ نے ان میں سے کسی کو بھی قتل نہیں کیا اور تو بھی ان میں سے کسی کو بھی قتل نہ کر سوائے اس کے کہ تجھے ان کے بارے میں وہی علم ہوجائے جو خضر (علیہ السلام) کو بچے کے بارے میں اس کے قتل کے وقت ہوا تھا اور تو نے عورت اور غلام کے بارے میں پوچھا کیا ان کا حصہ مقرر شدہ ہے جب وہ جنگ میں شریک ہوں تو ان کے لئے کوئی مقرر شدہ حصہ مال غنیمت میں سے نہیں سوائے اس کے کہ لوگوں کے مال غنیمت میں سے انہیں کچھ بطور ہدیہ وعطیہ دید یا جائے۔

It has been narrated on the anthority of Yazid bin Hurmuz who said: Najda wrote to Ibn Abbas (RA) . I was sitting in the company of Ibn Abbas when he read his letter and wrote its reply. Ibn Abbas (RA) said: Were it not for preventing him from falling into wickedness, I would not have replied to his letter, may he never be joyful. He wrote in reply to him referring to the share of the close relatives (of the Holy Prophet) (from the booty) whom God has mentioned. (I have to tell you that) we thought we were the close relatives of the Messenger of Allah ﷺ , but our people have refused to recognise us as such. You have asked about the orphan as to when his orphanhood comes to an end. (I have to say that) when he reaches the age of marriage, attains maturity of mind, and his property is returned to him, then he is no longer an orphan. You have inquired whether the Messenger of Allah ﷺ (may peace be upo him) used to kill anyone from the children of the polytheists in the war. (You should know that) the Messenger of Allah ﷺ used not to kill any one of their children, and you (too) should not kill any one of them, except when you knew about them what Khadir had known about the boy whom he killed. And you have inquired whether there is a fixed share of the booty for women and slaves when they participate in a battle. (I have to tell you that) there is no fixed share for them except that they will be given some reward from the spoils of war.

4689Sahih Muslim

جہاد کرنے والی عورتوں کو بطور عطیہ دینے اور غنیمت میں حصہ مقرر نہ کرنے کا حکم اور اہل حرب کے بچوں کو قتل کرنے کی ممانعت کے بیان میں

و حَدَّثَنِي أَبُو کُرَيْبٍ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ حَدَّثَنَا زَائِدَةُ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ الْأَعْمَشُ عَنْ الْمُخْتَارِ بْنِ صَيْفِيٍّ عَنْ يَزِيدَ بْنِ هُرْمُزَ قَالَ کَتَبَ نَجْدَةُ إِلَی ابْنِ عَبَّاسٍ فَذَکَرَ بَعْضَ الْحَدِيثِ وَلَمْ يُتِمَّ الْقِصَّةَ کَإِتْمَامِ مَنْ ذَکَرْنَا حَدِيثَهُمْ

ابوکریب، ابواسامہ، زائدہ، سلیمان، اعمش، مختار بن صیفی، یزید بن ہرمز، یزید بن ہرمز سے روایت ہے کہ نجدہ نے حضرت ابن عباس ؓ کو لکھا اور پھر کچھ حدیث ذکر کی اور پورا قصہ ذکر نہیں کیا جیسا کہ دوسری حدیثوں میں ذکر کیا گیا۔

This hadith has been transmitted on the authority of Yazid bin Hurmuz. but not complete (as we find in the above mentioned ahadith).

4690Sahih Muslim

جہاد کرنے والی عورتوں کو بطور عطیہ دینے اور غنیمت میں حصہ مقرر نہ کرنے کا حکم اور اہل حرب کے بچوں کو قتل کرنے کی ممانعت کے بیان میں

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ عَنْ هِشَامٍ عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ سِيرِينَ عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ الْأَنْصَارِيَّةِ قَالَتْ غَزَوْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبْعَ غَزَوَاتٍ أَخْلُفُهُمْ فِي رِحَالِهِمْ فَأَصْنَعُ لَهُمْ الطَّعَامَ وَأُدَاوِي الْجَرْحَی وَأَقُومُ عَلَی الْمَرْضَی

ابوبکر بن ابی شیبہ، عبدالرحیم بن سلیمان، ہشام، حفصہ بنت سیرین، حضرت ام عطیہ انصاریہ ؓ فرماتی ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ سات غزوات میں گئی میں مجاہدین کے پیچھے والے خیموں میں رہتی تھی اور ان کے لئے کھانا بناتی اور زخمیوں کو دوا دیتی اور بیماروں کی عیادت کرتی تھی۔

It has been narrated on the authority of Umm Atiyya, the Ansarite, who said: I took part with the Messenger of Allah ﷺ in seven battles. I would stay behind in the camp of men, cook their food, treat the wounded and nurse the sick.

4691Sahih Muslim

جہاد کرنے والی عورتوں کو بطور عطیہ دینے اور غنیمت میں حصہ مقرر نہ کرنے کا حکم اور اہل حرب کے بچوں کو قتل کرنے کی ممانعت کے بیان میں

و حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ

عمرو ناقد، یزید بن ہارون، ہشام بن حسان، حضرت ہشام بن حسان نے اس سند کے ساتھ اسی طرح روایت نقل کی ہے۔

A similar tradition has been narrated on the authority of Hisham bin Hassan through a different chain of transmitters.

4692Sahih Muslim

نبی ﷺ کے غزوات کی تعداد کے بیان میں

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَابْنُ بَشَّارٍ وَاللَّفْظُ لِابْنِ الْمُثَنَّی قَالَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي إِسْحَقَ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ يَزِيدَ خَرَجَ يَسْتَسْقِي بِالنَّاسِ فَصَلَّی رَکْعَتَيْنِ ثُمَّ اسْتَسْقَی قَالَ فَلَقِيتُ يَوْمَئِذٍ زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ وَقَالَ لَيْسَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ غَيْرُ رَجُلٍ أَوْ بَيْنِي وَبَيْنَهُ رَجُلٌ قَالَ فَقُلْتُ لَهُ کَمْ غَزَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ تِسْعَ عَشْرَةَ فَقُلْتُ کَمْ غَزَوْتَ أَنْتَ مَعَهُ قَالَ سَبْعَ عَشْرَةَ غَزْوَةً قَالَ فَقُلْتُ فَمَا أَوَّلُ غَزْوَةٍ غَزَاهَا قَالَ ذَاتُ الْعُسَيْرِ أَوْ الْعُشَيْرِ

محمد بن مثنی، ابن بشار، ابن مثنی، محمد بن جعفر، شعبہ، ابواسحاق، عبداللہ بن یزید، حضرت ابواسحاق ؓ سے روایت ہے کہ عبداللہ بن یزید ؓ لوگوں کو استسقاء کی نماز پڑھانے نکلے تو انہوں نے دو رکعتیں پڑھائیں پھر بارش کی دعا مانگی راوی کہتے ہیں کہ اس دن میری ملاقات حضرت زید بن ارقم ؓ سے ہوئی اور میرے اور ان کے درمیان ایک آدمی کے علاوہ اور کوئی نہیں تھا تو میں نے ان سے پوچھا کہ رسول اللہ ﷺ نے کتنے غزوات میں شرکت کی انہوں نے کہا انیس غزوات میں آپ ﷺ شریک ہوئے تو میں نے ان سے پوچھا کہ آپ کتنے غزوات میں ان کے ساتھ تھے تو انہوں نے کہا سترہ غزوات میں، میں نے پوچھا کہ آپ ﷺ کا سب سے پہلا غزوہ کونسا تھا انہوں نے کہا ذَاتُ الْعُسَيْرِ یا انہوں نے کہا ذَاتُ الْعُشَيْرِ۔

It has been narrated on the authority of Abu Ishaq that Abdullah bin Yazid went (out of the city) with people for offering "Istisqa" prayer (for rainfall). He offered two rakahs. Then he prayed for rain. That day I met Zaid bin Arqam. There was only one man between me and him (at that time). I asked him: How many military expeditions did the Messenger of Allah ﷺ undertake? He said: Nineteen expeditions. I asked him: On how many expeditions did you accompany him? He said: On seventeen expeditions. I asked: Which was the first expedition he led? He answered: Dhat-ul-Usair or Ushair.

4693Sahih Muslim

نبی ﷺ کے غزوات کی تعداد کے بیان میں

و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ عَنْ أَبِي إِسْحَقَ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ سَمِعَهُ مِنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَزَا تِسْعَ عَشْرَةَ غَزْوَةً وَحَجَّ بَعْدَ مَا هَاجَرَ حَجَّةً لَمْ يَحُجَّ غَيْرَهَا حَجَّةَ الْوَدَاعِ

ابوبکر بن ابی شیبہ، یحییٰ بن آدم، زہیر، ابواسحاق، زید بن ارقم، حضرت زید بن ارقم ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے تیئس غزوات میں شرکت کی اور آپ ﷺ نے ہجرت کے بعد ایک حج کیا حجہ الوداع کے علاوہ آپ ﷺ نے اور کوئی حج نہیں کیا۔

It has been narrated on the authority of Zaid bin Arqam that the Messenger of Allah ﷺ fought nineteen battles and after the Migration performed only one Pilgrimage called Hajjat-ul-Wada.

4694Sahih Muslim

نبی ﷺ کے غزوات کی تعداد کے بیان میں

حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ حَدَّثَنَا زَکَرِيَّائُ أَخْبَرَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُا غَزَوْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تِسْعَ عَشْرَةَ غَزْوَةً قَالَ جَابِرٌ لَمْ أَشْهَدْ بَدْرًا وَلَا أُحُدًا مَنَعَنِي أَبِي فَلَمَّا قُتِلَ عَبْدُ اللَّهِ يَوْمَ أُحُدٍ لَمْ أَتَخَلَّفْ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةٍ قَطُّ

زہیر بن حرب، روح بن عبادہ، زکریا، ابوزبیر، جابر بن عبداللہ، حضرت جابر بن عبداللہ ؓ فرماتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ انیس غزوات میں شریک تھا حضرت جابر ؓ فرماتے ہیں کہ میں بدر اور احد کے غزو وں میں شریک نہیں ہوا کیونکہ مجھے میرے باپ نے روک دیا تھا تو جب حضرت عبداللہ ؓ غزوہ احد میں شہید ہوگئے تو پھر میں کسی بھی غزوہ میں رسول اللہ ﷺ سے پیچھے نہیں رہا۔

It has been reported on the authority of Abu Zubair who heard Jabir binAbdullah (RA) say: I fought in the company of the Messenger of Allah ﷺ nineteen battles. Jabir said: I did not participate in the Battle of Badr and the Battle of Uhud. My father prevented me (from participating in these battles as my age was tender). After Abdullah (my father) was killed on the Day of Ubud, I never lagged behind the Messenger of Allah ﷺ and joined every battle (he fought).

4695Sahih Muslim

نبی ﷺ کے غزوات کی تعداد کے بیان میں

و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ح و حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجَرْمِيُّ حَدَّثَنَا أَبُو تُمَيْلَةَ قَالَا جَمِيعًا حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ وَاقِدٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ غَزَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تِسْعَ عَشْرَةَ غَزْوَةً قَاتَلَ فِي ثَمَانٍ مِنْهُنَّ وَلَمْ يَقُلْ أَبُو بَکْرٍ مِنْهُنَّ وَقَالَ فِي حَدِيثِهِ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ

ابوبکر بن ابی شیبہ، زید بن حباب، سعید بن محمد حرمی، ابوتمیلہ، حسین بن واقد، حضرت عبداللہ بن بریدہ ؓ اپنے باپ سے روایت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ انیس غزوات میں شریک ہوئے آپ ﷺ نے ان انیس غزوات میں سے آٹھ غزوات میں قتال کیا ابوبکر نے مِنْهُنَّ کا لفظ نہیں کہا اور انہوں نے اپنی حدیث میں عن کی جگہ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ کہا۔

It has been narrated on the authority of Buraida (who heard the tradition from his father) that the Messenger of Allah ﷺ conducted nineteen military campaigns and he (actually) fought in eight of them.

4696Sahih Muslim

نبی ﷺ کے غزوات کی تعداد کے بیان میں

و حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ عَنْ کَهْمَسٍ عَنْ ابْنِ بُرَيْدَةَ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ قَالَ غَزَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سِتَّ عَشْرَةَ غَزْوَةً

احمد بن حنبل، معتمر، ابن سلیمان، کہمس، ابن بریدہ، حضرت ابن بریرہ ؓ اپنے باپ سے روایت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ سولہ غزوات میں شرکت کی۔

It has been narrated by Buraida who heard it from his father that he joined the Messenger of Allah ﷺ in sixteen military campaigns

4697Sahih Muslim

نبی ﷺ کے غزوات کی تعداد کے بیان میں

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ حَدَّثَنَا حَاتِمٌ يَعْنِي ابْنَ إِسْمَعِيلَ عَنْ يَزِيدَ وَهُوَ ابْنُ أَبِي عُبَيْدٍ قَالَ سَمِعْتُ سَلَمَةَ يَقُولُا غَزَوْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبْعَ غَزَوَاتٍ وَخَرَجْتُ فِيمَا يَبْعَثُ مِنْ الْبُعُوثِ تِسْعَ غَزَوَاتٍ مَرَّةً عَلَيْنَا أَبُو بَکْرٍ وَمَرَّةً عَلَيْنَا أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ

محمد بن عباد، حاتم بن اسماعیل، یزید بن ابی عبید، حضرت سلمہ ؓ فرماتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ سات غزوات میں شریک ہوا اور جو لشکر آپ ﷺ بھیجتے ان میں میں نو مرتبہ نکلا ایک مرتبہ ہمارے سپہ سالار حضرت ابوبکر ؓ تھے اور ایک مرتبہ ہمارے سپہ سالار حضرت اسامہ بن زید ؓ تھے۔

It has been narrated on the authority of Salama who said: I joined seven military expeditions led by the Messenger of Allah ﷺ himself ﷺ , and nine expeditions which he sent out once under Abu Bakr (RA) and once under Usama bin Zaid.

4698Sahih Muslim

نبی ﷺ کے غزوات کی تعداد کے بیان میں

و حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا حَاتِمٌ بِهَذَا الْإِسْنَادِ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ فِي کِلْتَيْهِمَا سَبْعَ غَزَوَاتٍ

قتیبہ بن سعید، حاتم، اس سند کے ساتھ بھی یہ حدیث اسی طرح نقل کی گئی ہے سوائے اس کے کہ ان دونوں حدیثوں میں بھی غزوات کا ذکر ہے۔

The (foregoing) tradition has also been narrated on the authority of Hatim through the same chain of transmitters with the difference that according to this version both these types of expeditions were seven in number.