کھبنی کی فضلیت اور اس کے ذریعہ سے آنکھ کا علاج کروانے کے بیان میں
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ عُمَيْرٍ قَالَ سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ حُرَيْثٍ يَقُولُ قَالَ سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ زَيْدٍ يَقُولُا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْکَمْأَةُ مِنْ الْمَنِّ الَّذِي أَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَی بَنِي إِسْرَائِيلَ وَمَاؤُهَا شِفَائٌ لِلْعَيْنِ
ابن ابی عمر، سفیان، عبدالملک بن عمیر، عمرو بن حریث، حضرت سعید بن زید ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کھنبی اس من وسلوی میں سے ہے کہ جو اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل پر نازل فرمایا تھا اور اس کا پانی آنکھ کے لئے شفا ہے۔
Said bin Zaid reported Allahs Messenger ﷺ as saying: Truffles are Manna which Allah, the Exalted the Majestic, sent to the people of Israel, and its juice is a medicine for the eyes.
کھبنی کی فضلیت اور اس کے ذریعہ سے آنکھ کا علاج کروانے کے بیان میں
و حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ شَبِيبٍ قَالَ سَمِعْتُهُ مِنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ فَسَأَلْتُهُ فَقَالَ سَمِعْتُهُ مِنْ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ عُمَيْرٍ قَالَ فَلَقِيتُ عَبْدَ الْمَلِکِ فَحَدَّثَنِي عَنْ عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْکَمْأَةُ مِنْ الْمَنِّ وَمَاؤُهَا شِفَائٌ لِلْعَيْنِ
یحییٰ بن حبیب حارثی، حماد بن زید، محمد بن شبیب، شہر بن حوشب، عبدالملک بن عمیر، عبدالملک، عمرو بن حریث، سعید بن زید، حضرت سعید ؓ زید ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کھنبی من کی ایک قسم ہے اور اس کا پانی آنکھ کے لئے شفاء ہے۔
Said bin Zaid reported Allahs Messenger ﷺ as saying: Truffles are Manna and its juice is the medicine for the eyes.
پیلو کے سیاہ پھل کی فضلیت کے بیان میں
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ عَنْ يُونُسَ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ کُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَرِّ الظَّهْرَانِ وَنَحْنُ نَجْنِي الْکَبَاثَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيْکُمْ بِالْأَسْوَدِ مِنْهُ قَالَ فَقُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ کَأَنَّکَ رَعَيْتَ الْغَنَمَ قَالَ نَعَمْ وَهَلْ مِنْ نَبِيٍّ إِلَّا وَقَدْ رَعَاهَا أَوْ نَحْوَ هَذَا مِنْ الْقَوْلِ
ابوطاہر، عبداللہ بن وہب، یونس ابن شہاب ابوسلمہ بن عبدالرحمن، حضرت جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ ہم نبی ﷺ کے ساتھ ظہران کے مقام سے گزرے تو ہم پیلو چننے لگے تو نبی ﷺ نے فرمایا تم اس پیلو میں سے سیاہ تلاش کرو ہم نے عرض کیا اے اللہ کے رسول آپ ﷺ نے بکریاں چرائی ہیں آپ ﷺ نے فرمایا ہاں اور کوئی نبی ایسا نہیں گزرا کہ جس نے بکریاں نہ چرائی ہوں۔
Jabir binAbdullah (RA) reported: We were with the Apostle of Allah ﷺ at Marr az-Zahran, and we were plucking the fruit of the Arak tree, whereupon Allahs Messenger (may peace he upon him) said: Pluck only its black ones (for they are the most pleasant). We said: Allahs Messenger, it seems you shepherded the flock. He said: Yes. Has there been a prophet who did not shepherd it (or some words like it)?
سرکہ کی فضلیت اور اسے بطور سالن استعمال کرنے کے بیان میں
حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ حَسَّانَ أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ نِعْمَ الْأُدُمُ أَوْ الْإِدَامُ الْخَلُّ
عبداللہ بن عبدالرحمن دارمی، یحییٰ بن حسان، سلیمان بن بلال ہشام بن عروہ حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا بہترین سالن سرکہ کا ہے۔
Aisha reported Allahs Apostle ﷺ as saying: The best of condiments or condiment is vinegar.
سرکہ کی فضلیت اور اسے بطور سالن استعمال کرنے کے بیان میں
حَدَّثَنَاه مُوسَى بْنُ قُرَيْشِ بْنِ نَافِعٍ التَّمِيمِيُّ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ صَالِحٍ الْوُحَاظِيُّ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَقَالَ نِعْمَ الْأُدُمُ وَلَمْ يَشُكَّ
موسیٰ بن قریش بن نافع تمیمی یحییٰ بن صالح وحاظی حضرت سلیمان بن بلال ؓ سے اس سند کے ساتھ روایت منقول ہے اور صرف لفظی فرق ہے۔
This hadith has been reported on the authority of Sulaiman bin Bilal (RA) with the same chain of transmitters and he is reported to have said: "The best condiment." And he did not doubt (about this word).
سرکہ کی فضلیت اور اسے بطور سالن استعمال کرنے کے بیان میں
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ أَبِي بِشْرٍ عَنْ أَبِي سُفْيَانَ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَأَلَ أَهْلَهُ الْأُدُمَ فَقَالُوا مَا عِنْدَنَا إِلَّا خَلٌّ فَدَعَا بِهِ فَجَعَلَ يَأْکُلُ بِهِ وَيَقُولُ نِعْمَ الْأُدُمُ الْخَلُّ نِعْمَ الْأُدُمُ الْخَلُّ
یحییٰ بن یحیی، ابوعوانہ، ابی بشر ابوسفیان، حضرت جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے اپنے گھر والوں سے سالن طلب فرمایا تو انہوں نے عرض کیا ہمارے پاس سوائے سرکہ کے اور کچھ نہیں ہے تو آپ ﷺ نے سرکہ منگوایا اور اس سے آپ ﷺ نے روٹی کھانی شروع کردی پھر فرماتے ہیں بہترین سالن سرکہ ہے بہترین سالن سرکہ ہے۔
Jabir bin Abdullah reported that Allahs Apostle ﷺ asked his family for condiment. They (the members of his household) said: We have nothing with us but vinegar. He asked for it, he began to eat it, and then said: Vinegar is a good condiment, vinegar is a good condiment.
سرکہ کی فضلیت اور اسے بطور سالن استعمال کرنے کے بیان میں
حَدَّثَنِي يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ يَعْنِي ابْنَ عُلَيَّةَ عَنْ الْمُثَنَّی بْنِ سَعِيدٍ حَدَّثَنِي طَلْحَةُ بْنُ نَافِعٍ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُا أَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِي ذَاتَ يَوْمٍ إِلَی مَنْزِلِهِ فَأَخْرَجَ إِلَيْهِ فِلَقًا مِنْ خُبْزٍ فَقَالَ مَا مِنْ أُدُمٍ فَقَالُوا لَا إِلَّا شَيْئٌ مِنْ خَلٍّ قَالَ فَإِنَّ الْخَلَّ نِعْمَ الْأُدُمُ قَالَ جَابِرٌ فَمَا زِلْتُ أُحِبُّ الْخَلَّ مُنْذُ سَمِعْتُهَا مِنْ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ و قَالَ طَلْحَةُ مَا زِلْتُ أُحِبُّ الْخَلَّ مُنْذُ سَمِعْتُهَا مِنْ جَابِرٍ
یعقوب بن ابراہیم دورقی، اسماعیل بن علیہ، مثنی بن سعید، طلحہ بن نافع، حضرت جابر بن عبداللہ ؓ فرماتے ہیں کہ ایک دن رسول اللہ ﷺ میرا ہاتھ پکڑ کر اپنے گھر کی طرف تشریف لے گئے تو آپ ﷺ کی خدمت میں روٹی کے چند ٹکڑے پیش کئے گئے آپ ﷺ نے فرمایا کیا کوئی سالن ہے گھر والوں نے عرض کیا نہیں صرف کچھ سرکہ ہے آپ ﷺ نے فرمایا سرکہ بہترین سالن ہے حضرت جابر ؓ فرماتے ہیں کہ جس وقت سے میں نے نبی ﷺ سے سنا مجھے سرکہ سے محبت ہوگئی اور حضرت ابوطلحہ ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے بھی حضرت جابر ؓ سے جس وقت سے یہ حدیث سنی ہے مجھے بھی سرکہ سے محبت ہوگئی۔
Jabir bin Abdullah reported: Allahs Messenger ﷺ took hold of my hand one day (and led me) to his residence. There was presented to him some pieces of bread, whereupon he said: Is there no condiment? They (the members of his household) said: No, except some vinegar. He (the Holy Prophet) said: Vinegar is a good condiment. Jabir said: I have always loved vinegar since I heard it trom Allahs Apostle ﷺ . Talha said: I have always loved vinegar since I heard about it from Jabir.
سرکہ کی فضلیت اور اسے بطور سالن استعمال کرنے کے بیان میں
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ حَدَّثَنِي أَبِي حَدَّثَنَا الْمُثَنَّی بْنُ سَعِيدٍ عَنْ طَلْحَةَ بْنِ نَافِعٍ حَدَّثَنَا جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخَذَ بِيَدِهِ إِلَی مَنْزِلِهِ بِمِثْلِ حَدِيثِ ابْنِ عُلَيَّةَ إِلَی قَوْلِهِ فَنِعْمَ الْأُدُمُ الْخَلُّ وَلَمْ يَذْکُرْ مَا بَعْدَهُ
نصر بن علی جہضمی، مثنی بن سعید، طلحہ بن نافع، حضرت جابر بن عبداللہ ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ میرا ہاتھ پکڑ کر اپنے گھر کی طرف تشریف لے گئے اور پھر آگے ابن علیہ کی طرح حدیث نقل کی گئی ہے مگر اس میں بعد کا حصہ یعنی حضرت جابر ؓ اور حضرت ابوطلحہ ؓ کے قول کا ذکر نہیں کیا گیا۔
This hadith is reported on the authority of Jabir bin Abdullah that Allahs Messenger ﷺ took hold of his hand and led him to his residence as narrated above up to the words: "Vinegar is a good condiment." But in the hadith transmitted through this chain of transmitters, there is no mention of the subsequent part.
سرکہ کی فضلیت اور اسے بطور سالن استعمال کرنے کے بیان میں
و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا حَجَّاجُ بْنُ أَبِي زَيْنَبَ حَدَّثَنِي أَبُو سُفْيَانَ طَلْحَةُ بْنُ نَافِعٍ قَالَ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ کُنْتُ جَالِسًا فِي دَارِي فَمَرَّ بِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَشَارَ إِلَيَّ فَقُمْتُ إِلَيْهِ فَأَخَذَ بِيَدِي فَانْطَلَقْنَا حَتَّی أَتَی بَعْضَ حُجَرِ نِسَائِهِ فَدَخَلَ ثُمَّ أَذِنَ لِي فَدَخَلْتُ الْحِجَابَ عَلَيْهَا فَقَالَ هَلْ مِنْ غَدَائٍ فَقَالُوا نَعَمْ فَأُتِيَ بِثَلَاثَةِ أَقْرِصَةٍ فَوُضِعْنَ عَلَی نَبِيٍّ فَأَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُرْصًا فَوَضَعَهُ بَيْنَ يَدَيْهِ وَأَخَذَ قُرْصًا آخَرَ فَوَضَعَهُ بَيْنَ يَدَيَّ ثُمَّ أَخَذَ الثَّالِثَ فَکَسَرَهُ بِاثْنَيْنِ فَجَعَلَ نِصْفَهُ بَيْنَ يَدَيْهِ وَنِصْفَهُ بَيْنَ يَدَيَّ ثُمَّ قَالَ هَلْ مِنْ أُدُمٍ قَالُوا لَا إِلَّا شَيْئٌ مِنْ خَلٍّ قَالَ هَاتُوهُ فَنِعْمَ الْأُدُمُ هُوَ
ابوبکر بن ابی شیبہ، یزید بن ہارون، حجاج بن ابی زینب، ابوسفیان طلحہ بن نافع، جابر بن عبداللہ ؓ فرماتے ہیں کہ میں اپنے گھر میں بیٹھا ہوا تھا کہ رسول اللہ ﷺ میرے پاس سے گزرے تو آپ ﷺ نے میری طرف اشارہ کیا تو میں آپ ﷺ کی طرف اٹھ کھڑا ہوا آپ ﷺ نے میرا ہاتھ پکڑا پھر ہم چل پڑے یہاں تک کہ آپ ﷺ اپنی ازواج مطہرات کے کسی جحرہ کی طرف تشریف لے آئے آپ ﷺ اندر تشریف لے گئے پھر آپ ﷺ نے مجھے بھی اجازت عطا فرمائی میں اندر داخل ہوا تو نبی ﷺ کی زوجہ مطہرہ نے پردہ کیا ہوا تھا آپ ﷺ نے فرمایا کیا کھانے کی کوئی چیز ہے گھر والوں نے کہا: ہاں! پھر (اس کے بعد) تین روٹیاں چھال کے دسترخوان پر رکھ کر آپ ﷺ کے سامنے لائی گئیں تو رسول اللہ ﷺ نے ایک روٹی اپنے سامنے رکھی اور پھر دوسری روٹی لے کر میرے سامنے رکھ دی، پھر آپ ﷺ نے تیسری روٹی پکڑ کر توڑی اور آدھی روٹی اپنے سامنے اور آدھی روٹی میرے سامنے رکھی پھر آپ ﷺ نے فرمایا کیا کوئی سالن ہے؟ گھر والوں نے کہا سرکہ کے سوا کچھ نہیں ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا سرکہ ہی لے آؤ سرکہ تو بہترین سالن ہے۔
Jabir bin Abdullah reported: While I was sitting in my house there happened to pass by me Allahs Messenger ﷺ . He made a gesture to me and I stood up for him. He took hold of my hand until we came to one of the apartments of his wives. He entered and then asked me to get in. So I entered and there was hanging a curtain beside her. He (the Holy Prophet) said: Is there any food (with you)? They (the members of the household) said: Yes. And then there were brought three loaves of bread for him (the Holy Prophet) and placed in the basket of palm leaves. Allahs Messenger ﷺ picked up one loaf and placed that before him, and then picked up another one and placed it before me. He then picked up the third one and broke it into two parts, and kept the one-half before him and the other half before me, and then said: Is there any condiment? They (the members of the household) said: There is nothing (in the form of condiment) but some vinegar only. He said: Bring that, for vinegar is a good condiment.
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَابْنُ بَشَّارٍ وَاللَّفْظُ لِابْنِ الْمُثَنَّی قَالَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ سِمَاکِ بْنِ حَرْبٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أُتِيَ بِطَعَامٍ أَکَلَ مِنْهُ وَبَعَثَ بِفَضْلِهِ إِلَيَّ وَإِنَّهُ بَعَثَ إِلَيَّ يَوْمًا بِفَضْلَةٍ لَمْ يَأْکُلْ مِنْهَا لِأَنَّ فِيهَا ثُومًا فَسَأَلْتُهُ أَحَرَامٌ هُوَ قَالَ لَا وَلَکِنِّي أَکْرَهُهُ مِنْ أَجْلِ رِيحِهِ قَالَ فَإِنِّي أَکْرَهُ مَا کَرِهْتَ
محمد بن مثنی، ابن بشار، محمد بن جعفر، شعبہ، سماک بن حرب، جابر بن سمرہ، حضرت ابوایوب انصاری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں جو کھانا بھی لایا جاتا تھا آپ ﷺ اس میں سے کھاتے اور اس میں سے جو کھانا بچ جاتا وہ مجھے بھیج دیتے ایک دن آپ ﷺ نے مجھے کھانا بھیجا آپ ﷺ نے اس میں سے نہیں کھایا کیونکہ اس میں لہسن تھا میں نے آپ ﷺ سے پوچھا کیا لہسن حرام ہے آپ ﷺ نے فرمایا حرام نہیں لیکن اس کی بو کی وجہ سے میں اسے ناپسند سمجھتا ہوں حضرت ابوایوب ؓ نے عرض کیا کہ مجھے بھی وہ چیز ناپسند ہے جو آپ ﷺ کو ناپسند ہے۔
Abu Ayyub Ansari reported that when food was brought to Allahs Messenger ﷺ he ate out of that, and sent the remaining part to me, and one day he sent to me the left-over; (I found that he) had not taken from it at all for it included garlic. I asked him whether that was forbidden, whereupon he said: No, but I do not like it because of its odour. He (Abu Ayyub Ansari) said: Then I also do not like what you do not like.
و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ عَنْ شُعْبَةَ فِي هَذَا الْإِسْنَادِ
محمد بن مثنی، یحییٰ بن سعید، شعبہ، حضرت شعبہ ؓ نے اسی سند کے ساتھ روایت نقل کی ہے۔
This Hadith is narrated on the authority of Shubah with the same chain of transmitters.
و حَدَّثَنِي حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ وَأَحْمَدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ صَخْرٍ وَاللَّفْظُ مِنْهُمَا قَرِيبٌ قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ حَدَّثَنَا ثَابِتٌ فِي رِوَايَةِ حَجَّاجِ بْنِ يَزِيدَ أَبُو زَيْدٍ الْأَحْوَلُ حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ عَنْ أَفْلَحَ مَوْلَی أَبِي أَيُّوبَ عَنْ أَبِي أَيُّوبَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَزَلَ عَلَيْهِ فَنَزَلَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي السُّفْلِ وَأَبُو أَيُّوبَ فِي الْعِلْوِ قَالَ فَانْتَبَهَ أَبُو أَيُّوبَ لَيْلَةً فَقَالَ نَمْشِي فَوْقَ رَأْسِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَنَحَّوْا فَبَاتُوا فِي جَانِبٍ ثُمَّ قَالَ لِلنَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ السُّفْلُ أَرْفَقُ فَقَالَ لَا أَعْلُو سَقِيفَةً أَنْتَ تَحْتَهَا فَتَحَوَّلَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْعُلُوِّ وَأَبُو أَيُّوبَ فِي السُّفْلِ فَکَانَ يَصْنَعُ لِلنَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَعَامًا فَإِذَا جِيئَ بِهِ إِلَيْهِ سَأَلَ عَنْ مَوْضِعِ أَصَابِعِهِ فَيَتَتَبَّعُ مَوْضِعَ أَصَابِعِهِ فَصَنَعَ لَهُ طَعَامًا فِيهِ ثُومٌ فَلَمَّا رُدَّ إِلَيْهِ سَأَلَ عَنْ مَوْضِعِ أَصَابِعِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقِيلَ لَهُ لَمْ يَأْکُلْ فَفَزِعَ وَصَعِدَ إِلَيْهِ فَقَالَ أَحَرَامٌ هُوَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا وَلَکِنِّي أَکْرَهُهُ قَالَ فَإِنِّي أَکْرَهُ مَا تَکْرَهُ أَوْ مَا کَرِهْتَ قَالَ وَکَانَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُؤْتَی
حجاج بن شاعر، احمد بن سعید بن صخر، ابونعمان، ثابت، حجاج بن یزیدابوزید احول، عاصم، عبداللہ بن حارث، افلح مولیٰ ابوایوب، حضرت ابوایوب ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ ان کے پاس تشریف لائے تو نبی ﷺ حضرت ابوایوب ؓ کے گھر کی نچلی منزل میں ٹھہرے اور حضرت ابوایوب ؓ اوپر والی منزل میں۔ حضرت ابوایوب ؓ کہتے ہیں کہ میں ایک رات بیدار ہوا اور کہنے لگا کہ ہم تو رسول اللہ ﷺ کے سر کے اوپر چلتے ہیں (جو کہ ادب کے خلاف ہے) تو ہم رات کو ہٹ کر ایک کونے کی طرف ہوگئے اور پھر نبی ﷺ سے عرض کیا (کہ آپ ﷺ گھر کے اوپر والے حصے میں قیام فرمائیں) نبی ﷺ نے فرمایا نیچے والے گھر میں زیادہ آسانی ہے۔ حضرت ابوایوب ؓ نے عرض کیا کہ میں تو اس چھت پر نہیں رہ سکتا کہ جس چھت کے نیچے آپ ﷺ ہوں۔ تو نبی ﷺ (حضرت ابو ایوب ؓ کی یہ عرض سن کر) اوپر والے حصے میں تشریف لے گئے اور حضرت ابوایوب ؓ نیچے والے گھر میں آگئے۔ حضرت ابو ایوب ؓ نبی ﷺ کے لئے کھانا تیار کرتے تھے تو جب وہ (بچا ہوا کھانا) واپس آتا اور حضرت ابوایوب ؓ کے سامنے رکھا جاتا تو حضرت ابوایوب ؓ اس جگہ کے بارے میں پوچھتے جس جگہ آپ ﷺ نے انگلیاں ڈال کر کھانا کھایا اور پھر اس جگہ سے حضرت ابوایوب ؓ خود کھاتے (ایک دن) حضرت ابوایوب ؓ نے آپ ﷺ کے لئے کھانا تیار کیا جس میں لہسن تھا تو جب یہ کھانا لوٹ کر واپس حضرت ابوایوب ؓ کی طرف لایا گیا تو انہوں نے معمول کے مطابق آپ ﷺ کی انگلیوں کے بارے میں پوچھا تو آپ ؓ سے کہا گیا کہ آپ ﷺ نے کھانا نہیں کھایا (یہ سنتے ہی) حضرت ابوایوب ؓ گھبرا گئے اور آپ ﷺ کی طرف اوپر چڑھ کر عرض کیا: کیا یہ حرام ہے؟ تو نبی ﷺ نے فرمایا: حرام تو نہیں ہے لیکن مجھے یہ ناپسند ہے۔ حضرت ابوایوب ؓ نے عرض کیا مجھے بھی وہ چیز ناپسند ہے جو آپ ﷺ کو ناپسند ہے۔ حضرت ابوایوب ؓ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ (کے پاس حضرت جبرائیل علیہ السلام) وحی لے کر آتے تھے۔
Aflah, the freed slave of Abu Ayyub Ansari, reported: Allahs Messnger ﷺ had alighted in his house (viz. of Abu Ayyub Ansari at the time of his emigration to Madinah) and he occupied the lower storey, whereas Abu Ayyub Ansari lived in the upper storey. One night, Abu Ayyub Ansari got up and said (to himself): (How unfortunate it is) that we walk above the head of Allahs Messenger ﷺ , so they went aside and spent the night in a nook and then told Allahs Apostle ﷺ about it whereupon Allahs Apostle ﷺ said: The lower storey is more comfortable (for me). But he (Abu Ayyub Ansari) said: We (would not live) over the roof under which you live. So Allahs Messenger ﷺ shifted to the upper storey, whereas Abu Ayyub Ansari shifted to the lower storey; and he (Abu Ayyub Ansari) used to prepare food for Allahs Apostle ﷺ ; and when it was brought (back) to him he asked (to locate) the part, where his fingers had touched (the food), and he followed his fingers on that part where his fingers (those of the Holy Prophet) had touched it. (One day) he prepared food which contained garlic, and when it was returned to him he asked (to locate) the part which the fingers of Allahs Apostle ﷺ had touched. It was said to him that he had not eaten (the food). He (Abd Ayyub Ansari) was distressed and went up to him (to the Holy Prophet) and said: Is it forbidden? But Allahs Messenger ﷺ said: No, (it is not forbidden), but I do not like it. and he (Abu Ayyub Ansari) said: I also do not like what you do not like or which you did not like. He (Abu Ayyub Ansari) said: (The Holy Prophet ﷺ did not eat garlic) as Allahs Apostle ﷺ was visited (by angels) and brought him the message of Allah.
مہمان کا اکرام اور ایثار کی فضیلت کے بیان میں
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ عَنْ فُضَيْلِ بْنِ غَزْوَانَ عَنْ أَبِي حَازِمٍ الْأَشْجَعِيِّ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ جَائَ رَجُلٌ إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنِّي مَجْهُودٌ فَأَرْسَلَ إِلَی بَعْضِ نِسَائِهِ فَقَالَتْ وَالَّذِي بَعَثَکَ بِالْحَقِّ مَا عِنْدِي إِلَّا مَائٌ ثُمَّ أَرْسَلَ إِلَی أُخْرَی فَقَالَتْ مِثْلَ ذَلِکَ حَتَّی قُلْنَ کُلُّهُنَّ مِثْلَ ذَلِکَ لَا وَالَّذِي بَعَثَکَ بِالْحَقِّ مَا عِنْدِي إِلَّا مَائٌ فَقَالَ مَنْ يُضِيفُ هَذَا اللَّيْلَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ فَقَامَ رَجُلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ فَقَالَ أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ فَانْطَلَقَ بِهِ إِلَی رَحْلِهِ فَقَالَ لِامْرَأَتِهِ هَلْ عِنْدَکِ شَيْئٌ قَالَتْ لَا إِلَّا قُوتُ صِبْيَانِي قَالَ فَعَلِّلِيهِمْ بِشَيْئٍ فَإِذَا دَخَلَ ضَيْفُنَا فَأَطْفِئْ السِّرَاجَ وَأَرِيهِ أَنَّا نَأْکُلُ فَإِذَا أَهْوَی لِيَأْکُلَ فَقُومِي إِلَی السِّرَاجِ حَتَّی تُطْفِئِيهِ قَالَ فَقَعَدُوا وَأَکَلَ الضَّيْفُ فَلَمَّا أَصْبَحَ غَدَا عَلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ قَدْ عَجِبَ اللَّهُ مِنْ صَنِيعِکُمَا بِضَيْفِکُمَا اللَّيْلَةَ
زہیر بن حرب، جریر بن عبدالحمید، فضیل بن غزوان، ابی حازم اشجعی، ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں ایک آدمی آیا اور اس نے عرض کیا کہ میں فاقہ سے ہوں آپ ﷺ نے اپنی ازواج مطہرات ؓ میں سے کسی کی طرف ایک آدمی بھیجا تو زوجہ مطہرہ نے عرض کیا اس ذات کی قسم جس نے آپ ﷺ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے میرے پاس سوائے پانی کے اور کچھ نہیں ہے پھر آپ ﷺ نے اسے دوسری زوجہ مطہرہ کی طرف بھیجا تو انہوں نے بھی اسی طرح کہا یہاں تک کہ آپ ﷺ کی سب ازواج مطہرات نے یہی کہا کہ اس ذات کی قسم جس نے آپ ﷺ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے میرے پاس سوائے پانی کے اور کچھ نہیں ہے تو آپ ﷺ نے فرمایا جو آدمی آج رات اس مہمان کی مہمان نوازی کرے گا اللہ تعالیٰ اس پر رحم فرمائے گا انصار میں سے ایک آدمی نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ میں حاضر ہوں پھر وہ انصاری آدمی اس مہمان کو لے کر اپنے گھر کی طرف چلے اور اپنی بیوی سے کہا کیا تیرے پاس کچھ ہے وہ کہنے لگی کہ سوائے میرے بچوں کے کھانے کے میرے پاس کھانے کو کچھ نہیں ہے انصاری نے کہا ان بچوں کو کسی چیز سے بہلا دو اور جب مہمان اندر آجائے تو چراغ بجھا دینا اور اس پر یہ ظاہر کرنا گویا کہ ہم بھی کھانا کھا رہے ہیں راوی کہتے ہیں کہ مہمان کے ساتھ سب گھر والے بیٹھ گئے اور کھانا صرف مہمان نے ہی کھایا پھر جب صبح ہوئی اور وہ دونوں نبی ﷺ کی خدمت میں آئے تو آپ ﷺ نے فرمایا تم نے آج رات اپنے مہمان کے ساتھ جو سلوک کیا ہے اس پر اللہ تعالیٰ نے تعجب کیا ہے۔
Abu Hurairah (RA) reported that a person came to Allahs Messenger ﷺ and said: I am hard pressed by hunger. He sent (message) to one of his wives (to procure food for him) but she said: By Him Who has sent you with Truth, thrre is nothing with me (to serve him) but only water. He (the Holy Prophet) then sent the (same) message to another, and she gave the same reply, until all of them gave the same reply: By Him Who has sent thee with the Truth, there is nothing with me but only water, whereupon he (the Holy Prophet) said: Allah would show mercy to him who will entertain this guest tonight. A person from the Ansar stood up and said: Messenger of Allah, I am ready to entertain. He took him to his house and said to his wife: Is there anything with you (to serve the guest)? She said: No, but only a subsistence for our children. He said: Distract their attention with something, and when the guest enters extinguish the lamp and give him the impression that we are eating. So they sat down and the guest had his meal. When it was morning he went to Allahs Apostle ﷺ who said: Allah was well pleased with what you both did for your guest this night.
مہمان کا اکرام اور ایثار کی فضیلت کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو کُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَائِ حَدَّثَنَا وَکِيعٌ عَنْ فُضَيْلِ بْنِ غَزْوَانَ عَنْ أَبِي حَازِمٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَجُلًا مِنْ الْأَنْصَارِ بَاتَ بِهِ ضَيْفٌ فَلَمْ يَکُنْ عِنْدَهُ إِلَّا قُوتُهُ وَقُوتُ صِبْيَانِهِ فَقَالَ لِامْرَأَتِهِ نَوِّمِي الصِّبْيَةَ وَأَطْفِئْ السِّرَاجَ وَقَرِّبِي لِلضَّيْفِ مَا عِنْدَکِ قَالَ فَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ وَيُؤْثِرُونَ عَلَی أَنْفُسِهِمْ وَلَوْ کَانَ بِهِمْ خَصَاصَةٌ
ابوکریب، محمد بن علاء، وکیع، فضیل بن غزوان، ابوحازم، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ ایک انصاری آدمی کے پاس ایک مہمان آیا تو اس انصاری کے پاس اپنے اور اپنے بچوں کے علاوہ کوئی چیز نہیں تھی انصاری نے اپنی بیوی سے کہا بچوں کو سلا دے اور چراغ کو بجھا دے اور جو کچھ تیرے پاس ہے وہ مہمان کے سامنے رکھ دے راوی کہتے ہیں یہ آیت کریمہ نازل ہوئی (وَيُؤْثِرُوْنَ عَلٰ ي اَنْفُسِهِمْ ) 59۔ الحشر: 9) یعنی وہ (صحابہ) اپنی جانوں پر دوسروں کو ترجیح دیتے ہیں اگرچہ ان پر فاقہ ہے۔
Abu Hurairah (RA) reported that a guest spent the night with a person from the Ansar who had nothing with him but food (sufficient) for his own self and his children. He said to his wife: (Lull) the children to sleep, and put out the lamp, and serve the guest with what you have with you. It was on this occasion that this verse was revealed: "Those who prefer the needy to their own selves in spite of the fact that they are themselves in pressing need" (Lix. 9).
مہمان کا اکرام اور ایثار کی فضیلت کے بیان میں
و حَدَّثَنَاه أَبُو کُرَيْبٍ حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي حَازِمٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ جَائَ رَجُلٌ إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيُضِيفَهُ فَلَمْ يَکُنْ عِنْدَهُ مَا يُضِيفُهُ فَقَالَ أَلَا رَجُلٌ يُضِيفُ هَذَا رَحِمَهُ اللَّهُ فَقَامَ رَجُلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ يُقَالُ لَهُ أَبُو طَلْحَةَ فَانْطَلَقَ بِهِ إِلَی رَحْلِهِ وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِنَحْوِ حَدِيثِ جَرِيرٍ وَذَکَرَ فِيهِ نُزُولَ الْآيَةِ کَمَا ذَکَرَهُ وَکِيعٌ
ابوکریب، ابن فضیل، ابی حازم، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں ایک آدمی آیا تو آپ ﷺ کے پاس اس کی مہمان نوازی کے لئے کچھ نہیں تھا آپ ﷺ نے فرمایا کیا کوئی آدمی ہے جو اس آدمی کی مہمان نوازی کرتا اللہ اس پر رحم فرمائے ایک انصاری آدمی کھڑا ہوا جسے حضرت ابوطلحہ ؓ کہا جاتا تھا پھر وہ اس مہمان کو اپنے گھر کی طرف لے چلے آگے روایت جویریہ کی حدیث کی طرح ہے اور اس میں آیت کریمہ کے نزول کا بھی ذکر ہے جیسا کہ وکیع نے اپنی روایت میں اسے ذکر کیا۔
Abu Hurairah (RA) reported that a man came to Allahs Messenger ﷺ so that he should entertain him as a guest, but he had nothing with which he could entertain him. He, therefore, asked if there was any person who would entertain him (assuring the audience) that Allah would show mercy to him. A person from the Ansar who was called Abu Talha stood up and he took him to his house. The rest of the hadith is the same and mention is (also) made in that about the revelation of the verse as narrated by Waki.
مہمان کا اکرام اور ایثار کی فضیلت کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا شَبَابَةُ بْنُ سَوَّارٍ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَی عَنْ الْمِقْدَادِ قَالَ أَقْبَلْتُ أَنَا وَصَاحِبَانِ لِي وَقَدْ ذَهَبَتْ أَسْمَاعُنَا وَأَبْصَارُنَا مِنْ الْجَهْدِ فَجَعَلْنَا نَعْرِضُ أَنْفُسَنَا عَلَی أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَيْسَ أَحَدٌ مِنْهُمْ يَقْبَلُنَا فَأَتَيْنَا النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَانْطَلَقَ بِنَا إِلَی أَهْلِهِ فَإِذَا ثَلَاثَةُ أَعْنُزٍ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ احْتَلِبُوا هَذَا اللَّبَنَ بَيْنَنَا قَالَ فَکُنَّا نَحْتَلِبُ فَيَشْرَبُ کُلُّ إِنْسَانٍ مِنَّا نَصِيبَهُ وَنَرْفَعُ لِلنَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَصِيبَهُ قَالَ فَيَجِيئُ مِنْ اللَّيْلِ فَيُسَلِّمُ تَسْلِيمًا لَا يُوقِظُ نَائِمًا وَيُسْمِعُ الْيَقْظَانَ قَالَ ثُمَّ يَأْتِي الْمَسْجِدَ فَيُصَلِّي ثُمَّ يَأْتِي شَرَابَهُ فَيَشْرَبُ فَأَتَانِي الشَّيْطَانُ ذَاتَ لَيْلَةٍ وَقَدْ شَرِبْتُ نَصِيبِي فَقَالَ مُحَمَّدٌ يَأْتِي الْأَنْصَارَ فَيُتْحِفُونَهُ وَيُصِيبُ عِنْدَهُمْ مَا بِهِ حَاجَةٌ إِلَی هَذِهِ الْجُرْعَةِ فَأَتَيْتُهَا فَشَرِبْتُهَا فَلَمَّا أَنْ وَغَلَتْ فِي بَطْنِي وَعَلِمْتُ أَنَّهُ لَيْسَ إِلَيْهَا سَبِيلٌ قَالَ نَدَّمَنِي الشَّيْطَانُ فَقَالَ وَيْحَکَ مَا صَنَعْتَ أَشَرِبْتَ شَرَابَ مُحَمَّدٍ فَيَجِيئُ فَلَا يَجِدُهُ فَيَدْعُو عَلَيْکَ فَتَهْلِکُ فَتَذْهَبُ دُنْيَاکَ وَآخِرَتُکَ وَعَلَيَّ شَمْلَةٌ إِذَا وَضَعْتُهَا عَلَی قَدَمَيَّ خَرَجَ رَأْسِي وَإِذَا وَضَعْتُهَا عَلَی رَأْسِي خَرَجَ قَدَمَايَ وَجَعَلَ لَا يَجِيئُنِي النَّوْمُ وَأَمَّا صَاحِبَايَ فَنَامَا وَلَمْ يَصْنَعَا مَا صَنَعْتُ قَالَ فَجَائَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَلَّمَ کَمَا کَانَ يُسَلِّمُ ثُمَّ أَتَی الْمَسْجِدَ فَصَلَّی ثُمَّ أَتَی شَرَابَهُ فَکَشَفَ عَنْهُ فَلَمْ يَجِدْ فِيهِ شَيْئًا فَرَفَعَ رَأْسَهُ إِلَی السَّمَائِ فَقُلْتُ الْآنَ يَدْعُو عَلَيَّ فَأَهْلِکُ فَقَالَ اللَّهُمَّ أَطْعِمْ مَنْ أَطْعَمَنِي وَأَسْقِ مَنْ أَسْقَانِي قَالَ فَعَمَدْتُ إِلَی الشَّمْلَةِ فَشَدَدْتُهَا عَلَيَّ وَأَخَذْتُ الشَّفْرَةَ فَانْطَلَقْتُ إِلَی الْأَعْنُزِ أَيُّهَا أَسْمَنُ فَأَذْبَحُهَا لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِذَا هِيَ حَافِلَةٌ وَإِذَا هُنَّ حُفَّلٌ کُلُّهُنَّ فَعَمَدْتُ إِلَی إِنَائٍ لِآلِ مُحَمَّدٍ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا کَانُوا يَطْمَعُونَ أَنْ يَحْتَلِبُوا فِيهِ قَالَ فَحَلَبْتُ فِيهِ حَتَّی عَلَتْهُ رَغْوَةٌ فَجِئْتُ إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَشَرِبْتُمْ شَرَابَکُمْ اللَّيْلَةَ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ اشْرَبْ فَشَرِبَ ثُمَّ نَاوَلَنِي فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ اشْرَبْ فَشَرِبَ ثُمَّ نَاوَلَنِي فَلَمَّا عَرَفْتُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ رَوِيَ وَأَصَبْتُ دَعْوَتَهُ ضَحِکْتُ حَتَّی أُلْقِيتُ إِلَی الْأَرْضِ قَالَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِحْدَی سَوْآتِکَ يَا مِقْدَادُ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ کَانَ مِنْ أَمْرِي کَذَا وَکَذَا وَفَعَلْتُ کَذَا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا هَذِهِ إِلَّا رَحْمَةٌ مِنْ اللَّهِ أَفَلَا کُنْتَ آذَنْتَنِي فَنُوقِظَ صَاحِبَيْنَا فَيُصِيبَانِ مِنْهَا قَالَ فَقُلْتُ وَالَّذِي بَعَثَکَ بِالْحَقِّ مَا أُبَالِي إِذَا أَصَبْتَهَا وَأَصَبْتُهَا مَعَکَ مَنْ أَصَابَهَا مِنْ النَّاسِ
ابوبکر بن ابی شیبہ، شبابہ بن سوار، سلیمان بن مغیرہ، ثابت، عبدالرحمن بن ابی لیلی، حضرت مقداد ؓ سے روایت ہے کہ میں اور میرے دو ساتھی آئے اور تکلیف کی وجہ سے ہماری قوت سماعت اور قوت بصارت چلی گئی تھی ہم نے اپنے آپ کو رسول اللہ ﷺ کے صحابہ ؓ پر پیش کیا تو اس میں سے کسی نے بھی ہمیں قبول نہیں کیا پھر ہم نبی ﷺ کی خدمت میں آئے آپ ﷺ ہمیں اپنے گھر کی طرف لے گئے تین بکریاں تھیں نبی ﷺ نے فرمایا ان بکریوں کا دودھ نکالو پھر ہم ان کا دودھ نکالتے تھے اور ہم میں سے ہر ایک آدمی اپنے حصے کا دودھ پیتا اور ہم نبی ﷺ کا حصہ اٹھا کر رکھ دیتے راوی کہتے ہیں کہ آپ ﷺ رات کے وقت تشریف لاتے سلام کرتے کہ سونے والا بیدار نہ ہوتا اور جاگنے والا سن لیتا پھر آپ ﷺ مسجد میں تشریف لاتے اور نماز پڑھتے پھر آپ اپنے دودھ کے پاس آئے اور اسے پیتے ایک رات شیطان آیا جبکہ میں اپنے حصے کا دودھ پی چکا تھا شیطان کہنے لگا کہ محمد ﷺ انصار کے پاس آتے ہیں اور آپ ﷺ کو تحفے دتیے ہیں اور آپ ﷺ کو جس چیز کی ضرورت ہوتی ہے وہ مل جاتی ہے آپ ﷺ کو اس ایک گھونٹ دودھ کی کیا ضرورت ہوگی پھر میں آیا اور میں نے وہ دودھ پی لیا جب وہ دودھ میرے پیٹ میں چلا گیا اور مجھے اس بات کا یقین ہوگیا کہ اب آپ ﷺ کو دودھ ملنے کا کوئی راستہ نہیں ہے تو شیطان نے مجھے ندامت دلائی اور کہنے لگا تیری خرابی ہو تو نے یہ کیا کیا تو نے محمد ﷺ کے حصے کا دودھ بھی پی لیا آپ آئیں گے اور وہ دودھ نہیں پائیں گے تو تجھے بددعا دیں گے تو تو ہلاک ہوجائے گا اور تیری دنیا وآخرت برباد ہوجائے گی میرے پاس ایک چادر تھی جب میں اسے اپنے پاؤں پر ڈالتا تو میرا سر کھل جاتا اور جب میں اسے اپنے سر پر ڈالتا تو میرے پاؤں کھل جاتے اور مجھے نیند بھی نہیں آرہی تھی جبکہ میرے دونوں ساتھی سو رہے تھے انہوں نے وہ کام نہیں کیا جو میں نے کیا تھا بالآخر نبی ﷺ تشریف لائے اور نماز پڑھی پھر آپ ﷺ اپنے دودھ کی طرف آئے برتن کھولا تو اس میں آپ ﷺ نے کچھ نہ پایا تو آپ نے اپنا سر مبارک آسمان کی طرف اٹھایا میں نے دل میں کہا اب آپ ﷺ میرے لئے بددعا فرمائیں گے پھر میں ہلاک ہوجاؤں گا تو آپ ﷺ نے فرمایا اے اللہ! تو اسے کھلا جو مجھے کھلائے اور تو اسے پلا جو مجھے پلائے (میں نے یہ سن کر) اپنی چادر مضبوط کر کے باندھ لی پھر میں چھری پکڑ کر بکریوں کی طرف چل پڑا کہ ان بکریوں میں سے جو موٹی بکری ہو اسے رسول اللہ ﷺ کے لئے ذبح کر ڈالوں میں نے دیکھا کہ اس میں ایک تھن دودھ سے بھرا پڑا ہے بلکہ سب بکریوں کے تھن دودھ سے بھرے پڑے تھے پھر میں نے اس گھر کے برتنوں میں سے وہ برتن لیا کہ جس میں دودھ نہیں دوہا جاتا تھا پھر میں نے اس برتن میں دودھ نکالا یہاں تک کہ دودھ کی جھاگ اوپر تک آگئی پھر میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا آپ ﷺ نے فرمایا کیا تم نے رات کو اپنے حصہ کا دودھ پی لیا تھا میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول! آپ ﷺ دودھ پئیں آپ نے وہ دودھ پیا پھر آپ ﷺ نے مجھے دیا پھر جب مجھے معلوم ہوگیا کہ آپ ﷺ سیر ہوگئے ہیں اور آپ ﷺ کی دعا میں نے لے لی ہے تو میں ہنس پڑا یہاں تک کہ مارے خوشی کے میں زمین پر لوٹ پوٹ ہونے لگا نبی ﷺ نے فرمایا اے مقداد یہ تیری ایک بری عادت ہے میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول! میرے ساتھ تو اس طرح کا معاملہ ہوا ہے اور میں نے اس طرح کرلیا ہے تو نبی ﷺ نے فرمایا اس وقت کا دودھ سوائے اللہ کی رحمت کے اور کچھ نہ تھا تو نے مجھے پہلے ہی کیوں نہ بتادیا تاکہ ہم اپنے ساتھیوں کو بھی جگا دیتے وہ بھی اس میں سے دودھ پی لیتے میں نے عرض کیا اس ذات کی قسم جس نے آپ ﷺ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے جب آپ ﷺ نے یہ دودھ پی لیا ہے اور میں نے بھی یہ دودھ پی لیا ہے تو اب مجھے اور کوئی پرواہ نہیں (یعنی میں نے اللہ کی رحمت حاصل کرلی ہے تو اب مجھے کیا پرواہ (بوجہ خوشی) کہ لوگوں میں سے کوئی اور بھی یہ رحمت حاصل کرے یا نہ کرے)۔
Miqdad reported: I and two of my companions were so much afflicted by hunger that we had lost our power of seeing and hearing. We presented ourselves (as guests) to the Companions of the Holy Prophet ﷺ , but none amongst them would entertain us. So we came to Allahs Apostle ﷺ , and he took us to his residence and there were three goats. Allahs Apostle ﷺ said: Milk these for us. So we milked them and every person amongst us drank his share and we set aside the share of Allahs Apostle ﷺ . (It was his habit) to come during the night and greet (the people present there) in a manner that would not wake up one in sleep but make one who was awake hear it. He would then go to the mosque and say prayer, then go to the milk and drink it. Miqdad added: One night the Satan came to me when I had taken my share, and he said: Muhammad has gone to the Ansar, who would offer him hospitality and he would get what is with them, and he has no need for this draught (of milk). So I took (that milk) and drank it, and when it had penetrated deeply in my stomach and I was certain that there was no way out (but to digest it), the Satan aroused (my sense of) remorse and said: Woe be to thee! what have you done? You have taken the drink reserved for Muhammad ﷺ ! When he would come and he would not find it, he would curse you, and you would be ruined, and thus there would go (waste) this world and the Hereafter (for) you. There was a sheet over me; as I placed (pulled) it upon my feet, my head was uncovered and as I placed it upon my head, my feet were uncovered, and I could not sleep, but my two companions had gone to sleep for they had not done what I had done. There came Allahs Apostle ﷺ , and he greeted as he used to greet (by saying as-Salamu Alaikum). He then came to the mosque and observed prayer and then came to his drink (milk) and uncovered it, but did not find anything in it. He raised his head towards the sky, and I said (to myself) that he (the Holy Prophet) was going to invoke curse upon me and I would be thus ruined; but he (the Holy Prophet) said: Allah, feed him who fed me and give drink to him who provided me drink. I held tight the sheet upon myself (and when he had supplicated), I took hold of the knife and went to the goats (possessed by the Holy Prophet) so that I may slauhter one for Allahs Messenger ﷺ which was the fattest amongst them, and in fact all of them were milch goats; then I took hold of the vessel which belonged to the family of Allahs Messenger ﷺ in which they used to milk and drink therefrom, and milked them in that until it swelled up with foam. I came to Allahs Messenger ﷺ and he said: Have you taken your share of the milk during the night? I said: Drink it. and he drank it; he then handed over (the vessel) to me and I said: Allahs Messenger, drink it, and he drank it and handed over (the vessel) to me again, I then perceived that Allahs Apostle ﷺ had been satiated and I had got his blessings. I burst into laughter (so much) so that I fell upon the ground, whereupon Allahs Messenger ﷺ said: Miqdad, it must be one of your mischiefs. I said: Allahs Messenger, this affair of mine is like this and this, and I have done so. Thereupon Allahs Apostle ﷺ said: This is nothing but a mercy from Allah. Why is it that you did not give me an opportunity so that we should have awakened our two friends and they would have got their share (of the milk)? I said: By Him Who has sent you with Truth. I do not mind whatever you give (to them), and whatever the (other) people happen to get, when I had got it along with you from among the people.
مہمان کا اکرام اور ایثار کی فضیلت کے بیان میں
و حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ
اسحاق بن ابراہیم، نضر بن شمیل، سلیمان بن مغیرہ، حضرت سلیمان بن مغیرہ ؓ سے اس سند کے ساتھ روایت نقل کی گئی ہے۔
This hadith has been reported on the authority of Mughira with the same chain of transmitters.
مہمان کا اکرام اور ایثار کی فضیلت کے بیان میں
و حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ وَحَامِدُ بْنُ عُمَرَ الْبَکْرَاوِيُّ وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَی جَمِيعًا عَنْ الْمُعْتَمِرِ بْنِ سُلَيْمَانَ وَاللَّفْظُ لِابْنِ مُعَاذٍ حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ أَبِي عُثْمَانَ وَحَدَّثَ أَيْضًا عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَکْرٍ قَالَ کُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثِينَ وَمِائَةً فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَلْ مَعَ أَحَدٍ مِنْکُمْ طَعَامٌ فَإِذَا مَعَ رَجُلٍ صَاعٌ مِنْ طَعَامٍ أَوْ نَحْوُهُ فَعُجِنَ ثُمَّ جَائَ رَجُلٌ مُشْرِکٌ مُشْعَانٌّ طَوِيلٌ بِغَنَمٍ يَسُوقُهَا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبَيْعٌ أَمْ عَطِيَّةٌ أَوْ قَالَ أَمْ هِبَةٌ فَقَالَ لَا بَلْ بَيْعٌ فَاشْتَرَی مِنْهُ شَاةً فَصُنِعَتْ وَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسَوَادِ الْبَطْنِ أَنْ يُشْوَی قَالَ وَايْمُ اللَّهِ مَا مِنْ الثَّلَاثِينَ وَمِائَةٍ إِلَّا حَزَّ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حُزَّةً حُزَّةً مِنْ سَوَادِ بَطْنِهَا إِنْ کَانَ شَاهِدًا أَعْطَاهُ وَإِنْ کَانَ غَائِبًا خَبَأَ لَهُ قَالَ وَجَعَلَ قَصْعَتَيْنِ فَأَکَلْنَا مِنْهُمَا أَجْمَعُونَ وَشَبِعْنَا وَفَضَلَ فِي الْقَصْعَتَيْنِ فَحَمَلْتُهُ عَلَی الْبَعِيرِ أَوْ کَمَا قَالَ
عبیداللہ بن معاذ عنبری، حامد بن عمر بکراوی، محمد بن عبدالاعلی، معتمر بن سلیمان، معتمر، ابوعثمان، حضرت عبدالرحمن بن ابی بکر ؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ ہم نبی ﷺ کے ساتھ ایک سو تیس آدمی تھے نبی ﷺ نے فرمایا کیا تم میں سے کسی کے پاس کھانے کی کوئی چیز ہے ہمارے ساتھ ایک آدمی تھا اس کے پاس ایک صاع یا اس کے بقدر کھانا (آٹا) تھا اس آٹے کو گوندھا گیا پھر اس کے بعد پراگندہ بالوں والا لمبے قد کا ایک مشرک آدمی اپنی بکریوں کو چراتا ہوا آیا نبی ﷺ نے اس چرواہے سے فرمایا کیا تم بیچو گے یا ایسے ہی دے دو گے؟ یا آپ ﷺ نے فرمایا یا ہبہ کردو گے؟ اس نے کہا نہیں بلکہ میں بیچوں گا پھر آپ ﷺ نے اس سے ایک بکری خریدی اور اس کا گوشت تیار کیا گیا اور رسول اللہ ﷺ نے اس کی کلیجی بھوننے کا حکم فرمایا روای کہتے ہیں اللہ کی قسم ایک سو تیس آدمیوں میں سے کوئی آدمی بھی ایسا نہیں بچا کہ جسے رسول اللہ ﷺ نے کلیجی کا ٹکڑا کاٹ کر نہ دیا ہو جو آدمی اس وقت موجود تھا اسے اسی وقت دے دیا اور جو موجود نہیں تھا اس کے لئے حصہ رکھ دیا راوی کہتے ہیں کہ آپ ﷺ نے دو پیالوں میں (گوشت) نکالا پھر ہم سب نے اس میں سے کھایا اور خوب سیر ہوگئے اور پیالوں میں (پھر بھی) بچ گیا تو میں نے اسے اونٹ پر رکھ دیا یا جیسا کہ راوی نے کہا۔
Abdul Rahman bin Abu Bakr (RA) reported: We were one hundred and thirty (persons) with Allahs Apostle ﷺ . Allahs Apostle ﷺ said: Does any one of you possess food? There was a person with (us) who had a sa of flour or something about that, and it was kneaded. Then a tall polytheist with dishevelled hair came driving his flock of sheep. Thereupon Allahs Apostle ﷺ said: Would you like to sell it (any one of these goats) or offer it as a gift or a present? He said: No, (I am not prepared to offer as a gift), but I would sell it. He (the Holy Prophet) bought a sheep from him, and it was slaughtered and its meat was prepared, and Allahs Messenger ﷺ commanded that its liver should be roasted. He (the narrator) said: By Allah, none among one hundred and thirty persons was left whom Allahs Messenger ﷺ had not given a part out of her liver; if anyone was present he gave it to him. but if he was absent it was set aside for him. And he (the Holy Prophet) filled two bowls (one with soup and the other with mutton) and we all ate out of them to our hearts content, but (still) some part was (left) in (those) two bowls, and I placed it on the camel- (or words to the same effect).
مہمان کا اکرام اور ایثار کی فضیلت کے بیان میں
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ وَحَامِدُ بْنُ عُمَرَ الْبَکْرَاوِيُّ وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَی الْقَيْسِيُّ کُلُّهُمْ عَنْ الْمُعْتَمِرِ وَاللَّفْظُ لِابْنِ مُعَاذٍ حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ قَالَ قَالَ أَبِي حَدَّثَنَا أَبُو عُثْمَانَ أَنَّهُ حَدَّثَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي بَکْرٍ أَنَّ أَصْحَابَ الصُّفَّةِ کَانُوا نَاسًا فُقَرَائَ وَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَرَّةً مَنْ کَانَ عِنْدَهُ طَعَامُ اثْنَيْنِ فَلْيَذْهَبْ بِثَلَاثَةٍ وَمَنْ کَانَ عِنْدَهُ طَعَامُ أَرْبَعَةٍ فَلْيَذْهَبْ بِخَامِسٍ بِسَادِسٍ أَوْ کَمَا قَالَ وَإِنَّ أَبَا بَکْرٍ جَائَ بِثَلَاثَةٍ وَانْطَلَقَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَشَرَةٍ وَأَبُو بَکْرٍ بِثَلَاثَةٍ قَالَ فَهُوَ وَأَنَا وَأَبِي وَأُمِّي وَلَا أَدْرِي هَلْ قَالَ وَامْرَأَتِي وَخَادِمٌ بَيْنَ بَيْتِنَا وَبَيْتِ أَبِي بَکْرٍ قَالَ وَإِنَّ أَبَا بَکْرٍ تَعَشَّی عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ لَبِثَ حَتَّی صُلِّيَتْ الْعِشَائُ ثُمَّ رَجَعَ فَلَبِثَ حَتَّی نَعَسَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَائَ بَعْدَمَا مَضَی مِنْ اللَّيْلِ مَا شَائَ اللَّهُ قَالَتْ لَهُ امْرَأَتُهُ مَا حَبَسَکَ عَنْ أَضْيَافِکَ أَوْ قَالَتْ ضَيْفِکَ قَالَ أَوَ مَا عَشَّيْتِهِمْ قَالَتْ أَبَوْا حَتَّی تَجِيئَ قَدْ عَرَضُوا عَلَيْهِمْ فَغَلَبُوهُمْ قَالَ فَذَهَبْتُ أَنَا فَاخْتَبَأْتُ وَقَالَ يَا غُنْثَرُ فَجَدَّعَ وَسَبَّ وَقَالَ کُلُوا لَا هَنِيئًا وَقَالَ وَاللَّهِ لَا أَطْعَمُهُ أَبَدًا قَالَ فَايْمُ اللَّهِ مَا کُنَّا نَأْخُذُ مِنْ لُقْمَةٍ إِلَّا رَبَا مِنْ أَسْفَلِهَا أَکْثَرَ مِنْهَا قَالَ حَتَّی شَبِعْنَا وَصَارَتْ أَکْثَرَ مِمَّا کَانَتْ قَبْلَ ذَلِکَ فَنَظَرَ إِلَيْهَا أَبُو بَکْرٍ فَإِذَا هِيَ کَمَا هِيَ أَوْ أَکْثَرُ قَالَ لِامْرَأَتِهِ يَا أُخْتَ بَنِي فِرَاسٍ مَا هَذَا قَالَتْ لَا وَقُرَّةِ عَيْنِي لَهِيَ الْآنَ أَکْثَرُ مِنْهَا قَبْلَ ذَلِکَ بِثَلَاثِ مِرَارٍ قَالَ فَأَکَلَ مِنْهَا أَبُو بَکْرٍ وَقَالَ إِنَّمَا کَانَ ذَلِکَ مِنْ الشَّيْطَانِ يَعْنِي يَمِينَهُ ثُمَّ أَکَلَ مِنْهَا لُقْمَةً ثُمَّ حَمَلَهَا إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَصْبَحَتْ عِنْدَهُ قَالَ وَکَانَ بَيْنَنَا وَبَيْنَ قَوْمٍ عَقْدٌ فَمَضَی الْأَجَلُ فَعَرَّفْنَا اثْنَا عَشَرَ رَجُلًا مَعَ کُلِّ رَجُلٍ مِنْهُمْ أُنَاسٌ اللَّهُ أَعْلَمُ کَمْ مَعَ کُلِّ رَجُلٍ إِلَّا أَنَّهُ بَعَثَ مَعَهُمْ فَأَکَلُوا مِنْهَا أَجْمَعُونَ أَوْ کَمَا قَالَ
عبیداللہ بن معاذ عنبری، حامد بن عمر بکراوی، محمد بن عبدالاعلی قیسی، معتمر، معتمربن سلیمان، ابوعثمان، حضرت عبدالرحمن بن ابی بکر ؓ بیان کرتے ہیں کہ صفہ والے لوگ محتاج تھے اور رسول اللہ ﷺ نے ایک مرتبہ فرمایا کہ جس آدمی کے پاس دو آدمیوں کا کھانا (موجود) ہو تو وہ تین (صفہ کے ساتھیوں کو کھانا کھلانے کے لئے) لے جائے اور جس آدمی کے پاس چار آدمیوں کا کھانا ہو تو وہ پانچواں یا چھٹے کو بھی (کھانا کھلانے کے لئے ساتھ) لے جائے یا جیسا کہ آپ ﷺ نے فرمایا حضرت ابوبکر ؓ تین کو لئے آئے اور اللہ کے نبی ﷺ دس ساتھیوں کو لے گئے اور حضرت ابوبکر ؓ تین ساتھیوں کو ساتھ لائے تھے راوی کہتے ہیں کہ وہ میں اور میرے ماں باپ تھے کہ میں نہیں جانتا کہ شاید کہ انہوں نے اپنے بیوی کو بھی کہا ہو اور ایک خادم جو میرے اور حضرت ابوبکر ؓ دونوں کے گھر میں تھا راوی حضرت عبدالرحمن کہتے ہیں کہ حضرت ابوبکر ؓ نے شام کا کھانا نبی ﷺ کے ساتھ کھایا پھر وہیں ٹھہرے رہے یہاں تک کہ عشاء کی نماز ادا کی گئی ( اور پھر نماز سے فارغ ہو کر) واپس آگئے پھر ٹھہرے یہاں تک کہ رسول اللہ ﷺ سو گئے الغرض رات کا کچھ حصہ گزرنے کے بعد جتنا اللہ تعالیٰ کو منظور تھا حضرت ابوبکر ؓ (اپنے گھر آئے) کو ان کی بیوی نے کہا کہ آپ ﷺ اپنے مہمانوں کو چھوڑ کر کہاں چلے گئے تھے حضرت ابوبکر ؓ نے فرمایا کیا تم نے مہمانوں کو کھانا نہیں کھلایا وہ کہنے لگیں کہ آپ کے آنے تک مہمانوں نے کھانا کھانے سے انکار کردیا ان کے سامنے کھانا پیش کیا گیا مگر انہوں نے پھر بھی نہیں کھایا حضرت عبدالرحمن کہتے ہیں کہ میں بھاگ کر (ڈر کی وجہ سے) چھپ گیا حضرت ابوبکر ؓ نے فرمایا او جاہل اور انہوں نے مجھے برا بھلا کہا اور فرمایا مہمانوں کے ساتھ کھانا کھاؤ اور پھر حضرت ابوبکر ؓ نے فرمایا اللہ کی قسم! میں تو یہ کھانا نہیں کھاؤں گا حضرت عبدالرحمن کہتے ہیں اللہ کی قسم ہم کھانے کا جو لقمہ بھی اٹھاتے تھے اس کے نیچے سے اتنا ہی کھانا اور زیادہ ہوجاتا تھا یہاں تک کہ ہم خوب سیر ہوگئے اور جتنا کھانا پہلے تھا اس سے بھی زیادہ ہوگیا حضرت ابوبکر ؓ نے وہ کھانا دیکھا تو وہ کھانا اتنا ہی تھا یا اس سے بھی زیادہ ہوگیا حضرت ابوبکر ؓ نے اپنی بیوی سے فرمایا اے بنی خراس کی بہن یہ کیا ماجرا ہے؟ حضرت ابوبکر ؓ کی بیوی نے کہا میری آنکھوں کی ٹھنڈک کی قسم کھانا تو پہلے سے بھی تین گنا زیادہ ہوگیا ہے پھر حضرت ابوبکر ؓ نے اس کھانے میں سے کھایا اور فرمایا کہ میں نے جو (غصہ کی حالت میں) قسم کھائی تھی وہ صرف شیطانی فعل تھا پھر ایک لقمہ اس کھانے میں سے کھایا پھر اس کھانے کو اٹھا کر رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں لے گئے وہ کھانا صبح تک آپ ﷺ کے پاس رہا حضرت ابوبکر ؓ نے فرمایا کہ (اس زمانے میں) ہمارے اور ایک قوم کے درمیان صلح کا معاہدہ تھا اور معاہدہ کی مدت ختم ہوچکی تھی تو آپ ﷺ بارہ افراد مقرر فرما دیئے اور ہر افسر کے ساتھ ایک خاص جماعت تھی اللہ جانتا ہے کہ اس جماعت کی کتنی تعداد تھی اور آپ نے وہ کھانا ان کے پاس بھیج دیا اور پھر ان سب نے خوب سیر ہو کر کھانا کھایا۔
Abdul Rabman bin Abu Bakr (RA) reported that the people of Suffa were very poor. Once the Messenger of Allah ﷺ said (to his Companions): He who amongst you has food for two persons should take three (guests with him), and he who has with him food for four persons should take five or six (guests with him for entertaining them). It was (in accordance with these instructions of the Holy Prophet) that Abu Bakr (RA) brought three persons, and the Apostle of Allah ﷺ brought ten persons (as guests to their respective houses). Abu Bakr (RA) had brought three persons (he himself, and myself), my father and my mother (along with therm). He (the narrator) said: I do not know whether he also said: My wife and one servant who was common between our house and that of Abu Bakr. Abu Bakr (RA) had had his evening meal with Allahs Apostle ﷺ . He stayed here until night prayer had been offered. He then came back (to the house of Allahs Apostle) ﷺ and stayed there until Allahs Messenger ﷺ felt drowsy and (Abu Bakr) then came (back to his own house) when (a considerable) part of the night had been over, as Allah had desired. His wife said to him: What held you back from your guests? He said: Oh! have you not served them the evening meal (by this time)? She said: It was in fact served to them. but they refused to eat until you came. He (Abdul Rahman) said: I slunk away and bid myself. He (Abu Bakr) said: O, you stupid fellow, and he reprimanded me, and said to the guests: Eat, though it may not be pleasant now. He said: By Allah. I will never eat it. He (Abdul Rahman) said: By Allah! we did not take a morsel when from beneath that (there appeared) more until they had eaten to their fill, and lo! it was more than what it was before. Abu Bakr (RA) saw that and found that it was so or more than that. He said to his wife: Sister of Band Firis, what is this? She said: By the coolness of my eyes. it is in excess by three times over the previous one. Then Abu Bakr (RA) ate saying: That was from the Satan (viz. his vow for not eating the food). He then took a morsel out of that and then took it (the rest) to the Messenger of Allah ﷺ , and it was kept there until morning, and during (those days) there was a covenant between us and some other people, and the period of covenant was over, and we had appointed twelve officials with every person amongst them. It is Allah only Who knows as to how many people were there with each of them. He sent (this food to them) and all of them ate out of it.
مہمان کا اکرام اور ایثار کی فضیلت کے بیان میں
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا سَالِمُ بْنُ نُوحٍ الْعَطَّارُ عَنْ الْجُرَيْرِيِّ عَنْ أَبِي عُثْمَانَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَکْرٍ قَالَ نَزَلَ عَلَيْنَا أَضْيَافٌ لَنَا قَالَ وَکَانَ أَبِي يَتَحَدَّثُ إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ اللَّيْلِ قَالَ فَانْطَلَقَ وَقَالَ يَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ افْرُغْ مِنْ أَضْيَافِکَ قَالَ فَلَمَّا أَمْسَيْتُ جِئْنَا بِقِرَاهُمْ قَالَ فَأَبَوْا فَقَالُوا حَتَّی يَجِيئَ أَبُو مَنْزِلِنَا فَيَطْعَمَ مَعَنَا قَالَ فَقُلْتُ لَهُمْ إِنَّهُ رَجُلٌ حَدِيدٌ وَإِنَّکُمْ إِنْ لَمْ تَفْعَلُوا خِفْتُ أَنْ يُصِيبَنِي مِنْهُ أَذًی قَالَ فَأَبَوْا فَلَمَّا جَائَ لَمْ يَبْدَأْ بِشَيْئٍ أَوَّلَ مِنْهُمْ فَقَالَ أَفَرَغْتُمْ مِنْ أَضْيَافِکُمْ قَالَ قَالُوا لَا وَاللَّهِ مَا فَرَغْنَا قَالَ أَلَمْ آمُرْ عَبْدَ الرَّحْمَنِ قَالَ وَتَنَحَّيْتُ عَنْهُ فَقَالَ يَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ قَالَ فَتَنَحَّيْتُ قَالَ فَقَالَ يَا غُنْثَرُ أَقْسَمْتُ عَلَيْکَ إِنْ کُنْتَ تَسْمَعُ صَوْتِي إِلَّا جِئْتَ قَالَ فَجِئْتُ فَقُلْتُ وَاللَّهِ مَا لِي ذَنْبٌ هَؤُلَائِ أَضْيَافُکَ فَسَلْهُمْ قَدْ أَتَيْتُهُمْ بِقِرَاهُمْ فَأَبَوْا أَنْ يَطْعَمُوا حَتَّی تَجِيئَ قَالَ فَقَالَ مَا لَکُمْ أَنْ لَا تَقْبَلُوا عَنَّا قِرَاکُمْ قَالَ فَقَالَ أَبُو بَکْرٍ فَوَاللَّهِ لَا أَطْعَمُهُ اللَّيْلَةَ قَالَ فَقَالُوا فَوَاللَّهِ لَا نَطْعَمُهُ حَتَّی تَطْعَمَهُ قَالَ فَمَا رَأَيْتُ کَالشَّرِّ کَاللَّيْلَةِ قَطُّ وَيْلَکُمْ مَا لَکُمْ أَنْ لَا تَقْبَلُوا عَنَّا قِرَاکُمْ قَالَ ثُمَّ قَالَ أَمَّا الْأُولَی فَمِنْ الشَّيْطَانِ هَلُمُّوا قِرَاکُمْ قَالَ فَجِيئَ بِالطَّعَامِ فَسَمَّی فَأَکَلَ وَأَکَلُوا قَالَ فَلَمَّا أَصْبَحَ غَدَا عَلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ بَرُّوا وَحَنِثْتُ قَالَ فَأَخْبَرَهُ فَقَالَ بَلْ أَنْتَ أَبَرُّهُمْ وَأَخْيَرُهُمْ قَالَ وَلَمْ تَبْلُغْنِي کَفَّارَةٌ
محمد بن مثنی، سالم بن نوح عطار جریری، ابوعثمان، عبدالرحمن بن ابوبکر، حضرت عبدالرحمن بن ابی ابکر ؓ فرماتے ہیں کہ ہمارے پاس کچھ مہمان آئے اور میرے والد رات کے وقت رسول اللہ ﷺ کے ساتھ باتیں کیا کرتے تھے۔ حضرت عبدالرحمن ؓ کہتے ہیں کہ وہ یہ کہتے ہوئے چلے گئے کہ اے عبدالرحمن! مہمانوں کی خبرگیری کرنا۔ راوی کہتے ہیں کہ جب شام ہوئی تو ہم مہمانوں کے سامنے کھانا لے کر آئے تو انہوں نے کھانے سے انکار کردیا اور کہنے لگے کہ جب تک گھر والے ہمارے ساتھ کھانا نہیں کھائیں گے اس وقت تک ہم کھانا نہیں کھائیں گے۔ میں نے کہا میرے والد سخت مزاج آدمی ہیں اگر تم کھانا نہیں کھاؤں گے تو مجھے خطرہ ہے کہ کہیں مجھے ان سے کوئی تکلیف نہ اٹھانی پڑجائے (لیکن اس کے باوجود) مہمانوں نے کھانا کھانے سے انکار کردیا تو جب حضرت ابوبکر ؓ آئے تو انہوں نے سب سے پہلے مہمانوں ہی کے بارے میں پوچھا اور فرمایا کیا تم اپنے مہمانوں سے فارغ ہوگئے ہو؟ راوی کہتے ہیں انہوں نے عرض کیا نہیں اللہ کی قسم! ابھی ہم فارغ نہیں ہوئے حضرت عبدالرحمن کہتے ہیں کہ میں ایک طرف ہوگیا (یعنی چھپ گیا) انہوں نے (آواز دے کر) کہا اے عبدالرحمن میں اس طرف سے ہٹ گیا (یعنی چھپ گیا) پھر انہوں نے فرمایا او نالائق! میں تجھے قسم دیتا ہوں کہ اگر تو میری آواز سن رہا ہے تو آجا۔ حضرت عبدالرحمن کہتے ہیں کہ پھر میں آگیا اور میں نے عرض کیا اللہ کی قسم! میرا کوئی گناہ نہیں یہ آپ کے مہمان موجود ہیں آپ ان سے (خود) پوچھ لیں میں نے ان کے سامنے کھانا لا کر رکھ دیا تھا انہوں نے آپ کے بغیر کھانا کھانے سے انکار کردیا تھا حضرت ابوبکر نے ان مہمانوں سے فرمایا تمہیں کیا ہوا کہ تم نے ہمارا کھانا قبول نہیں کیا۔ راوی کہتے ہیں کہ حضرت ابوبکر ؓ (یہ کہہ کر) فرمانے لگے اللہ کی قسم! میں آج رات کھانا نہیں کھاؤں گا۔ مہمانوں نے کہا اللہ کی قسم! ہم بھی اس وقت تک کھانا نہیں کھائیں گے جب تک کہ آپ کھانا نہیں کھائیں گے۔ حضرت ابوبکر ؓ نے فرمایا میں نے آج کی رات کی طرح بدترین رات کبھی نہیں دیکھی تم پر افسوس ہے کہ تم لوگ ہماری مہمان نوازی کیوں نہیں قبول کرتے۔ (پھر کچھ دیر بعد) حضرت ابوبکر ؓ نے فرمایا میرا قسم کھانا شیطانی فعل تھا چلو لاؤ کھانا لاؤ۔ چناچہ کھانا لایا گیا آپ نے اللہ کا نام لے کر (یعنی بسم اللہ پڑھ کر) کھانا کھایا اور مہمانوں نے بھی کھانا کھایا پھر جب صبح ہوئی تو حضرت ابوبکر ؓ نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا اے اللہ کے رسول! مہمانوں کی قسم پوری ہوگئی اور میری جھوٹی اور یہ کہ سارے واقعہ کی آپ ﷺ کو خبر دی تو آپ ﷺ نے فرمایا: نہیں بلکہ تمہاری قسم تو سب سے زیادہ پوری ہوئی ہے اور تم سب سے زیادہ سچے ہو۔ حضرت عبدالرحمن کہتے ہیں کہ مجھے یہ بات نہیں پہنچی کہ انہوں نے (قسم کا کفارہ ادا کیا تھا یا نہیں)۔
Abdul Rahman bin Abu Bakr (RA) reported: There came to our house some guests. It was a common practice with my father to (go) and talk to Allahs Messenger ﷺ during the night. While going he said: Abdul Rahman, entertain the guests. When it was evening we served the food to them, but they refused saying: So long as the owner of the house does not come and join us, we would not take the meal. I said to them: He (Abu Bakr) is a stern person, and if you would not do that (if you do not take the food), I fear, I may be harmed by him, but they refused. As he (my father) came, the first thing he asked was: Have you served the guests? They (the people of the household) said: We have not served them so far. He said: Did I not command Abdul Rahman (to do this)? He (Abdul Rahman) said: I sunk away and kept myself away by that time. He again said: O stupid fellow, I ask you on oath that in case you hear my voice you come to me. I came and said: By Allah, there is no fault of mine. These are your guests; you may ask them. I provided them with food but they refused to eat until you came. He said to them: Why is it that you did not accept our food? By Allah, I shall not even take food tonight (as you have not taken). They said: By Allah, we would not take until you join us. Thereupon he Abu Bakr (RA) said: I have never seen a more unfortunate night than this. Woe be to thee! that you do not accept from us food prepared for you. He again said: What I did first (that is the taking of vow for not eating the food) was prompted by the Satan. Bring the food. The food was brought, and he ate by reciting the name of Allah and they also ate, and when it was morning he came to Allahs Apostle ﷺ and said: Allahs Messenger, their oath (that of the guests) came to be true, but mine was not true, and after that he informed him of the whole incident. He said: Your oath came to be the most true and you are the best of them. He (the narrator) said. I do not know whether he made an atonement for it.