شوربہ کھانے کے جواز اور کدو کھانے کے استح کے بیان میں
حَدَّثَنِي حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ جَمِيعًا عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ وَعَاصِمٍ الْأَحْوَلِ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ أَنَّ رَجُلًا خَيَّاطًا دَعَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَزَادَ قَالَ ثَابِتٌ فَسَمِعْتُ أَنَسًا يَقُولُ فَمَا صُنِعَ لِي طَعَامٌ بَعْدُ أَقْدِرُ عَلَی أَنْ يُصْنَعَ فِيهِ دُبَّائٌ إِلَّا صُنِعَ
حجاج بن شاعر، عبد بن حمید، عبدالرزاق، معمر، ثابت بنانی، عاصم، احول، حضرت انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ ایک درزی آدمی نے رسول اللہ ﷺ کی دعوت کی حضرت ثابت کہتے ہیں کہ میں نے حضرت انس ؓ سے سنا وہ فرماتے ہیں کہ (پھر اس کے بعد) جو کھانا بھی میرے لئے تیار کیا گیا اور جتنا مجھ سے ہوسکا تو میں نے اس میں کدو کو ضرور شامل کروایا۔
Anas bin Malik (RA) rdported that a tailor invited Allahs Messenger ﷺ to a feast. There has been an addition to this that Thabit said: I heard Anas saying that any meal that was prepared for me after that I tried that it should contain pumpkin.
کھجور کھاتے وقت گٹھلیاں نکال کر رکھنے کے استح اور مہمان کا میزبان کے لئے دعا کرنا اور میزبان کا نیک مہمان سے دعا کروانے کے استح میں
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی الْعَنَزِيُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ يَزِيدَ بْنِ خُمَيْرٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُسْرٍ قَالَ نَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَی أَبِي قَالَ فَقَرَّبْنَا إِلَيْهِ طَعَامًا وَوَطْبَةً فَأَکَلَ مِنْهَا ثُمَّ أُتِيَ بِتَمْرٍ فَکَانَ يَأْکُلُهُ وَيُلْقِي النَّوَی بَيْنَ إِصْبَعَيْهِ وَيَجْمَعُ السَّبَّابَةَ وَالْوُسْطَی قَالَ شُعْبَةُ هُوَ ظَنِّي وَهُوَ فِيهِ إِنْ شَائَ اللَّهُ إِلْقَائُ النَّوَی بَيْنَ الْإِصْبَعَيْنِ ثُمَّ أُتِيَ بِشَرَابٍ فَشَرِبَهُ ثُمَّ نَاوَلَهُ الَّذِي عَنْ يَمِينِهِ قَالَ فَقَالَ أَبِي وَأَخَذَ بِلِجَامِ دَابَّتِهِ ادْعُ اللَّهَ لَنَا فَقَالَ اللَّهُمَّ بَارِکْ لَهُمْ فِي مَا رَزَقْتَهُمْ وَاغْفِرْ لَهُمْ وَارْحَمْهُمْ
محمد بن مثنی عنزی، محمد بن جعفر، شعبہ، یزید بن خمیر، عبداللہ بن بسر ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ میرے والد کی طرف تشریف لائے تو ہم نے آپ ﷺ کی خدمت میں کھانا اور وطبہ (کھجوروں سے بنا ہوا ایک قسم کا کھانا) پیش کیا تو آپ ﷺ نے اس میں سے کھایا پھر خشک کھجوریں لائی گئیں تو آپ نے وہ بھی کھائیں اور کھجوروں کی گٹھلیاں اپنی دونوں انگلیوں یعنی شہادت والی انگلی اور درمیانی انگلی کے بیچ میں ڈالنے لگے شعبہ کہتے ہیں کہ میرا بھی یہی گمان ہے کہ اس حدیث میں ہے کہ اگر اللہ نے چاہا کہ گٹھلیاں دونوں انگلیوں کے درمیان ڈالنا پھر (آپ کے سامنے) پینے کی چیز لائی گئی تو آپ ﷺ نے اسے پیا پھر آپ ﷺ نے اسے دیا جو آپ ﷺ کے دائیں طرف بیٹھا تھا حضرت عبداللہ کہتے ہیں کہ پھر میرے والد نے آپ ﷺ کے جانور کی لگام پکڑی اور عرض کرنے لگے (اے اللہ کے رسول ﷺ! ) ہمارے لئے دعا فرمائیں تو آپ ﷺ نے یہ دعا فرمائی اے اللہ! ان کے رزق میں برکت عطا فرما اور ان کی مغفرت فرما اور ان پر رحم فرما۔
Abdullah bin Busr reported: AUahs Messenger ﷺ came to my father and we brought to him a meal and a preparation from dates, cheese and butter. He ate out of that. He was then given dates which he ate but he placed their stones between his fingers, and he joined his forefinger and middle finger. Shubah reported: I think that this hadith Gods willing also contains (these words): Putting of date stones between two fingers. Then a drink was brought for him and he drank it, and then gave it to one who was on his right side. He (the narrator) said: My father took hold of the rein of his riding animal and requested him to supplicate for us. Thereupon he said: O Allah. bless them in what Thou hast provided them as a sustenance; and forgive them and have mercy upon them.
کھجور کھاتے وقت گٹھلیاں نکال کر رکھنے کے استح اور مہمان کا میزبان کے لئے دعا کرنا اور میزبان کا نیک مہمان سے دعا کروانے کے استح میں
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ح و حَدَّثَنِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ حَمَّادٍ کِلَاهُمَا عَنْ شُعْبَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَلَمْ يَشُکَّا فِي إِلْقَائِ النَّوَی بَيْنَ الْإِصْبَعَيْنِ
محمد بن بشار، ابن ابی عدی، محمد بن مثنی، یحییٰ بن حماد، حضرت شعبہ ؓ سے اس سند کے ساتھ روایت منقول ہے لیکن اس میں گٹھلیاں رکھنے کے بارے میں شک کا ذکر نہیں کیا۔
This hadith has been narrated on the authority of Shubah with the same chain of transmitters and they did not doubt about keeping the dates between his fingers (as is expressed in the previous hadith).
کھجور کے ساتھ ککڑی کھانے کے بیان میں
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی التَّمِيمِيُّ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَوْنٍ الْهِلَالِيُّ قَالَ يَحْيَی أَخْبَرَنَا و قَالَ ابْنُ عَوْنٍ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْکُلُ الْقِثَّائَ بِالرُّطَبِ
یحییٰ بن یحییٰ تمیمی، عبداللہ بن عون ہلالی، یحییٰ ابن عون، ابراہیم بن سعد، عبداللہ بن جعفر، حضرت عبداللہ بن معجز ؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ آپ ﷺ کھجوروں کے ساتھ ککڑی کھا رہے تھے۔
Abdullah bin Jafar reported: I saw Allahs Messenger ﷺ eating cucumber with fresh dates.
کھانے کے لئے عاجزی اختیار کرنے کے استح اور کھانا کھانے کے لئے بیٹھنے کے طریقہ کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ کِلَاهُمَا عَنْ حَفْصٍ قَالَ أَبُو بَکْرٍ حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سُلَيْمٍ حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِکٍ قَالَ رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُقْعِيًا يَأْکُلُ تَمْرًا
ابوبکر بن ابی شیبہ، ابوسعید اشج، حفص، ابوبکر، حفص بن غیاث، مصعب بن سلیم، حضرت انس بن مالک ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے نبی ﷺ کو اقعاء کے طریقہ پر (یعنی دونوں پنڈلیوں کھڑی کر کے سرین زمین پر لگائے ہوئے) کھجوریں کھاتے ہوئے دیکھا ہے۔
Anas bin Malik (RA) reported: I saw Allahs Apostle ﷺ squatting and eating dates.
کھانے کے لئے عاجزی اختیار کرنے کے استح اور کھانا کھانے کے لئے بیٹھنے کے طریقہ کے بیان میں
و حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَابْنُ أَبِي عُمَرَ جَمِيعًا عَنْ سُفْيَانَ قَالَ ابْنُ أَبِي عُمَرَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سُلَيْمٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِتَمْرٍ فَجَعَلَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْسِمُهُ وَهُوَ مُحْتَفِزٌ يَأْکُلُ مِنْهُ أَکْلًا ذَرِيعًا وَفِي رِوَايَةِ زُهَيْرٍ أَکْلًا حَثِيثًا
زہیر بن حرب، ابن ابی عمر، سفیان بن عیینہ، مصعب بن سلیم، حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں کھجوریں لائی گئیں تو نبی ﷺ ان کھجوروں کو تقسیم فرمانے لگے اور آپ ﷺ اس طرح بیٹھے ہوئے تھے جس طرح کہ کوئی جلدی میں بیٹھتا ہے اور آپ ﷺ اس میں سے کھا بھی رہے تھے۔
Anas reported that there were brought to Allahs Messenger ﷺ dates. He distributed them in the state that he had been sitting upright (in an easy posture) and he had also been eating them a (bit) quickly.
اجتماعی کھانے میں دو دو کھجوریں یا دو دو کھانے کے لقمے کھانے کی ممانعت میں۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ سَمِعْتُ جَبَلَةَ بْنَ سُحَيْمٍ قَالَ کَانَ ابْنُ الزُّبَيْرِ يَرْزُقُنَا التَّمْرَ قَالَ وَقَدْ کَانَ أَصَابَ النَّاسَ يَوْمَئِذٍ جَهْدٌ وَکُنَّا نَأْکُلُ فَيَمُرُّ عَلَيْنَا ابْنُ عُمَرَ وَنَحْنُ نَأْکُلُ فَيَقُولُ لَا تُقَارِنُوا فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَی عَنْ الْإِقْرَانِ إِلَّا أَنْ يَسْتَأْذِنَ الرَّجُلُ أَخَاهُ قَالَ شُعْبَةُ لَا أُرَی هَذِهِ الْکَلِمَةَ إِلَّا مِنْ کَلِمَةِ ابْنِ عُمَرَ يَعْنِي الِاسْتِئْذَانَ
محمد بن مثنی، محمد بن جعفر، شعبہ، جبلہ بن سحیم، ابن زبیر، حضرت جبلہ بن سحیم ؓ فرماتے ہیں کہ حضرت ابن زبیر ؓ ہمیں کھجوریں کھلاتے تھے جبکہ لوگ ان دنوں میں قحط سالی میں مبتلا تھے اور ہم کھا رہے تھے تو حضرت ابن عمر ؓ ہمارے پاس سے گزرے اور ہم کھا رہے تھے تو وہ فرمانے لگے کہ تم اس طرح دو دو کھجوریں ملا کر نہ کھاؤ کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے اس طرح ملا کر کھانے سے منع فرمایا سوائے اس کے کہ اپنے ساتھی سے اجازت لے لو حضرت شعبہ کہتے ہیں کہ میرا خیال ہے کہ یہ کلمہ یعنی اپنے بھائی سے اجازت طلب کرنا یہ حضرت ابن عمر ؓ کا قول ہے۔
Jabala bin Suhaim reported: Ibn Zubair used to provide us with dates during the time that the people were hard pressed because of famine (Once) as we were busy in eating there happened to appear before us Ibn Umar. He said: Dont eat two dates together, for Allahs Messenger ﷺ forbade eating them together but only after seeking permission from his brother (partner). Shubah said: I do not think these words pertaining to seeking permission but from the words of Ibn Urnar.
اجتماعی کھانے میں دو دو کھجوریں یا دو دو کھانے کے لقمے کھانے کی ممانعت میں۔
و حَدَّثَنَاه عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ حَدَّثَنَا أَبِي ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ کِلَاهُمَا عَنْ شُعْبَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَلَيْسَ فِي حَدِيثِهِمَا قَوْلُ شُعْبَةَ وَلَا قَوْلُهُ وَقَدْ کَانَ أَصَابَ النَّاسَ يَوْمَئِذٍ جَهْدٌ
عبیداللہ بن معاذ، محمد بن بشار، عبدالرحمن بن مہدی، حضرت شعبہ ؓ سے اس سند کے ساتھ روایت منقول ہے اور ان دونوں روایتوں میں شعبہ کے قول کا ذکر نہیں کیا گیا اور نہ ہی ان دونوں میں لوگوں کی قحط سالی میں مبتلا ہونے کا ذکر ہے۔
This hadith has been reported on the authority of Shubah with the same chain of transmitters but these words of his (are not found): "The people were hard pressed because of the famine during those days."
اجتماعی کھانے میں دو دو کھجوریں یا دو دو کھانے کے لقمے کھانے کی ممانعت میں۔
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی قَالَا حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ جَبَلَةَ بْنِ سُحَيْمٍ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ يَقُولُا نَهَی رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَقْرِنَ الرَّجُلُ بَيْنَ التَّمْرَتَيْنِ حَتَّی يَسْتَأْذِنَ أَصْحَابَهُ
زہیر بن حرب، محمد بن مثنی، عبدالرحمن، سفیان، جبلہ بن سحیم، حضرت ابن عمر ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اس سے منع فرمایا کہ کوئی آدمی دو دو کھجوریں ملا کر کھائے جب تک کہ وہ اپنے ساتھیوں سے اجازت نہ لے لے۔
Jabala bin Suhaim reported: I heard Ibn Umar as saying that Allahs Messenger ﷺ forbade anyone taking two dates together without seeking the consent of his companions.
کھجور اور کوئی غلہ وغیرہ اپنے بال بچوں کے لئے جمع کر کے رکھنے کے بیان میں
حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ أَخْبَرَنَا يَحْيَی بْنُ حَسَّانَ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يَجُوعُ أَهْلُ بَيْتٍ عِنْدَهُمْ التَّمْرُ
عبداللہ بن عبدالرحمن دارمی، یحییٰ بن حسان، سلیمان بن بلال، ہشام بن عروہ، عروہ، حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا اے عائشہ! وہ گھر والے بھوکے نہیں ہوتے کہ جن کے پاس کھجوریں ہوں۔
Aisha reported Allahs Messenger ﷺ as saying: A family which has dates will not be hungry.
مدینہ منورہ میں کھجوروں کی فضلیت کے بیان میں
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ طَحْلَائَ عَنْ أَبِي الرِّجَالِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أُمِّهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا عَائِشَةُ بَيْتٌ لَا تَمْرَ فِيهِ جِيَاعٌ أَهْلُهُ يَا عَائِشَةُ بَيْتٌ لَا تَمْرَ فِيهِ جِيَاعٌ أَهْلُهُ أَوْ جَاعَ أَهْلُهُ قَالَهَا مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا
عبداللہ بن مسلمہ بن قعنب، یعقوب بن محمد بن طحلاء، ابورجال محمد بن عبدالرحمن، حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا اے عائشہ! جس گھر میں کھجوریں نہ ہوں اس گھر والے بھوکے ہیں اے عائشہ! جس گھر میں کھجور نہیں اس گھر والے بھوکے ہیں آپ ﷺ نے گویا دو یا تین مرتبہ یہی فرمایا۔
Aisha reported Allahs Messenger ﷺ as saying: Aisha! a family which has no dates (in their house) its members will be hungry; (or) Aisha! the family which has no dates its members may be hungry. He said this twice or thrice.
مدینہ منورہ میں کھجوروں کی فضلیت کے بیان میں
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ يَعْنِي ابْنَ بِلَالٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ أَکَلَ سَبْعَ تَمَرَاتٍ مِمَّا بَيْنَ لَابَتَيْهَا حِينَ يُصْبِحُ لَمْ يَضُرَّهُ سُمٌّ حَتَّی يُمْسِيَ
عبداللہ بن مسلمہ بن قعنب، سلیمان بن بلال، عبداللہ بن عبدالرحمن، عامر بن سعد بن ابی وقاص، حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو آدمی صبح کے وقت مدینہ منورہ کے دونوں پتھریلے کناروں کے درمیان سات کھجوریں کھائے گا تو شام تک اسے کوئی نقصان نہیں پہنچائے گا۔
Amir bin Sad bin Abu Waqqas, on the authority of his father, reported Allahs Messenger ﷺ having said: He who ate seven dates of the land situated between these two lava plains in the morning, no poison will harm him until it is evening.
مدینہ منورہ میں کھجوروں کی فضلیت کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ هَاشِمِ بْنِ هَاشِمٍ قَالَ سَمِعْتُ عَامِرَ بْنَ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ يَقُولُ سَمِعْتُ سَعْدًا يَقُولُا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ تَصَبَّحَ بِسَبْعِ تَمَرَاتٍ عَجْوَةً لَمْ يَضُرَّهُ ذَلِكَ الْيَوْمَ سُمٌّ وَلَا سِحْرٌ
ابوبکر بن ابی شیبہ، ابواسامہ، ہاشم بن ہاشم، عامر بن سعد بن ابی وقاص ؓ، حضرت سعد ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا آپ ﷺ فرماتے تھے کہ جو آدمی صبح کے وقت مدینہ منورہ کی سات عدد کھجوریں کھائے گا تو اس آدمی کو اس دن نہ کوئی زہر نقصان پہنچائے گا اور نہ ہی کوئی جادو۔
Amir bin Sad bin Abu Waqqas reported Allahs Messenger ﷺ as saying: He who ate seven ajwa dates in the morning, poison and magic will not harm him on that day.
مدینہ منورہ میں کھجوروں کی فضلیت کے بیان میں
و حَدَّثَنَاه ابْنُ أَبِي عُمَرَ حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْفَزَارِيُّ ح و حَدَّثَنَاه إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا أَبُو بَدْرٍ شُجَاعُ بْنُ الْوَلِيدِ کِلَاهُمَا عَنْ هَاشِمِ بْنِ هَاشِمٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ وَلَا يَقُولَانِ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
ابن ابی عمر، مروان بن معاویہ فزاری، اسحاق بن ابراہیم، ابو بدر شجاع بن ولید، ہاشم بن ہاشم ؓ سے اس سند کے ساتھ نبی ﷺ سے مذکورہ حدیث کی طرح روایت منقول ہے اور انہوں نے ان دونوں روایتوں میں سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کا ذکر نہیں ہے۔
This hadith has been reported on the authority of Ibn Hashim with the same chain of transmitters but with a slight variation of wording.
مدینہ منورہ میں کھجوروں کی فضلیت کے بیان میں
و حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی وَيَحْيَی بْنُ أَيُّوبَ وَابْنُ حُجْرٍ قَالَ يَحْيَی بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا و قَالَ الْآخَرَانِ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ وَهُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ عَنْ شَرِيکٍ وَهُوَ ابْنُ أَبِي نَمِرٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي عَتِيقٍ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ فِي عَجْوَةِ الْعَالِيَةِ شِفَائً أَوْ إِنَّهَا تِرْيَاقٌ أَوَّلَ الْبُکْرَةِ
یحییٰ بن یحیی، یحییٰ بن ایوب، ابن حجر، اسماعیل ابن جعفر، شریک ابن ابی نمیر، عبداللہ بن ابی عتیق، حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا عجوہ عالیہ ہے شفاء ہے یا صبح کے وقت عجوہ کھجور کا استعمال کرنا تریاق ہے عالیہ مدینہ منورہ کے بالائی حصہ کی عجوہ قسم کی کھجور کو کہا جاتا ہے۔
Aisha reported Allahs Messenger ﷺ as saying: The ajwa dates of Aliya contain heating effects and these are antidote in the early morning.
کھبنی کی فضلیت اور اس کے ذریعہ سے آنکھ کا علاج کروانے کے بیان میں
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ح و حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ وَعَمْرُ بْنُ عُبَيْدٍ عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ عُمَيْرٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ نُفَيْلٍ قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ الْکَمْأَةُ مِنْ الْمَنِّ وَمَاؤُهَا شِفَائٌ لِلْعَيْنِ
قتیبہ بن سعید، جریر، اسحاق بن ابراہیم، جریر، عمر بن عبید، عبدالملک بن عمیر، عمرو بن حریث، سعید بن زید بن عمرو بن نفیل، حضرت سعید بن زید بن عمرو بن نفیل ؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا آپ ﷺ فرماتے ہیں کہ کھنبی کھجور کی ایک قسم ہے اور اس کا پانی آنکھ کے لئے شفا ہے۔
Said bin Zaid bin Amr bin Nufail reported: I heard Allahs Apostle ﷺ as saying: Truffles are a kind of Manna and their juice is a medicine for the eyes.
کھبنی کی فضلیت اور اس کے ذریعہ سے آنکھ کا علاج کروانے کے بیان میں
و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ عُمَيْرٍ قَالَ سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ حُرَيْثٍ قَالَ سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ زَيْدٍ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ الْکَمْأَةُ مِنْ الْمَنِّ وَمَاؤُهَا شِفَائٌ لِلْعَيْنِ
محمد بن مثنی، محمد بن جعفر، شعبہ، عبدالملک بن عمیر، عمرو بن حریث، حضرت سعید بن زید ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا آپ فرماتے ہیں کہ کھنبی کھجور کی ایک قسم ہے اور اس کا پانی آنکھ کے لئے شفاء کا باعث ہے
Said bin Zaid reported: I heard Allahs Messenger ﷺ as saying: Truffles are a kind of blessing and their juice is a medicine for the eyes.
کھبنی کی فضلیت اور اس کے ذریعہ سے آنکھ کا علاج کروانے کے بیان میں
و حَدَّثَنَاه مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ وَأَخْبَرَنِي الْحَکَمُ بْنُ عُتَيْبَةَ عَنْ الْحَسَنِ الْعُرَنِيِّ عَنْ عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ شُعْبَةُ لَمَّا حَدَّثَنِي بِهِ الْحَکَمُ لَمْ أُنْکِرْهُ مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ الْمَلِکِ
محمد بن مثنی، محمد بن جعفر، شعبہ، حکم بن عیینہ، حسن عرنی، عمرو بن حریث، حضرت سعید بن زید ؓ نبی ﷺ سے مذکورہ حدیث کی طرح روایت کرتے ہیں کہ شعبہ کہتے ہیں کہ حکم نے جب مجھ سے یہ حدیث بیان کی تو میں نے عبدالملک کی حدیث کی طرح اس کا منکر نہیں سمجھا۔
Shubah said: When Hakam narrated this hadith to me, I did not deem it as a Munkar hadith because of the narration of Abdul Malik.
کھبنی کی فضلیت اور اس کے ذریعہ سے آنکھ کا علاج کروانے کے بیان میں
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَمْرٍو الْأَشْعَثِيُّ أَخْبَرَنَا عَبْثَرٌ عَنْ مُطَرِّفٍ عَنْ الْحَکَمِ عَنْ الْحَسَنِ عَنْ عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ نُفَيْلٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْکَمْأَةُ مِنْ الْمَنِّ الَّذِي أَنْزَلَ اللَّهُ تَبَارَکَ وَتَعَالَی عَلَی بَنِي إِسْرَائِيلَ وَمَاؤُهَا شِفَائٌ لِلْعَيْنِ
سعید بن عمرو اشعثی، عبثر، مطرف، حکم، حسن، عمرو بن حریث، سعید بن زید بن عمر بن نفیل، حضرت سعید بن زید بن عمرو بن نفیل ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: کھنبی اس من میں سے ہے جو اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل پر نازل فرمایا تھا اور اس کا پانی آنکھ کے لئے شفاء ہے۔
Said bin Zaid bin Amr bin Nufail reported Allahs Messenger ﷺ as saying: Truffles are a kind of Manna which Allah the Glorious and Exalted, sent down upon the people of Israel, and its juice is a medicine for the eyes.
کھبنی کی فضلیت اور اس کے ذریعہ سے آنکھ کا علاج کروانے کے بیان میں
و حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ عَنْ مُطَرِّفٍ عَنْ الْحَکَمِ بْنِ عُتَيْبَةَ عَنْ الْحَسَنِ الْعُرَنِيِّ عَنْ عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْکَمْأَةُ مِنْ الْمَنِّ الَّذِي أَنْزَلَ اللَّهُ عَلَی مُوسَی وَمَاؤُهَا شِفَائٌ لِلْعَيْنِ
اسحاق بن ابراہیم، جریر، مطرف، حکم، ابن عیینہ، حسن عرنی، عمرو بن حریث، حضرت سعید بن زید ؓ نبی ﷺ سے روایت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ کھنبی اس قسم سے ہے کہ جو اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل پر نازل فرمایا تھا اور اس کا پانی آنکھوں کے لئے شفا ہے۔
Said bin Zaid reported Allahs Messenger ﷺ as saying: Truffles are a kind of Manna which Allah sent down upon Moses (علیہ السلام) and their juice is a medicine for the eyes.