کھانا کھانے کے بعد انگلیاں اور برتن چانٹے کے استح کے بیان میں
و حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ حَدَّثَنَا سُهَيْلٌ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا أَکَلَ أَحَدُکُمْ فَلْيَلْعَقْ أَصَابِعَهُ فَإِنَّهُ لَا يَدْرِي فِي أَيَّتِهِنَّ الْبَرَکَةُ و
محمد بن حاتم، بہز، وہیب، سہیل، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا جب تم میں سے کوئی آدمی کھانا کھائے تو اسے چاہیے کہ وہ اپنی انگلیاں چاٹ لے کیونکہ وہ نہیں جانتا کہ برکت کس انگلی میں ہے۔
Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying: When any one of you eats food he should lick his fingers, for he does not know in what part of the food sticking to his fingers the blessing lies.
کھانا کھانے کے بعد انگلیاں اور برتن چانٹے کے استح کے بیان میں
حَدَّثَنِيهِ أَبُو بَکْرِ بْنُ نَافِعٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ يَعْنِي ابْنَ مَهْدِيٍّ قَالَا حَدَّثَنَا حَمَّادٌ بِهَذَا الْإِسْنَادِ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ وَلْيَسْلُتْ أَحَدُکُمْ الصَّحْفَةَ وَقَالَ فِي أَيِّ طَعَامِکُمْ الْبَرَکَةُ أَوْ يُبَارَکُ لَکُمْ
ابوبکر بن نافع، عبدالرحمن، ابن مہدی، حماد، حضرت حماد ؓ سے اس سند کے ساتھ اسی طرح حدیث منقول ہے سوائے اس کے کہ اس میں ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا تم میں ہر ایک آدمی پیالہ صاف کرلے اور آپ ﷺ نے فرمایا تمہارے کس کھانے میں برکت ہے یا تمہارے لئے برکت ہوتی ہے (یہ تم نہیں جانتے)۔
This hadith has been reported on the authority of Hammad with the same chain of transmitters, but with a slight variation of wording.
اگر مہمان کے ساتھ پر کچھ اور آدمی بھی آجائیں تو میزبان کیا کرے۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَتَقَارَبَا فِي اللَّفْظِ قَالَا حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي وَائِلٍ عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ کَانَ رَجُلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ يُقَالُ لَهُ أَبُو شُعَيْبٍ وَکَانَ لَهُ غُلَامٌ لَحَّامٌ فَرَأَی رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَرَفَ فِي وَجْهِهِ الْجُوعَ فَقَالَ لِغُلَامِهِ وَيْحَکَ اصْنَعْ لَنَا طَعَامًا لِخَمْسَةِ نَفَرٍ فَإِنِّي أُرِيدُ أَنْ أَدْعُوَ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَامِسَ خَمْسَةٍ قَالَ فَصَنَعَ ثُمَّ أَتَی النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَعَاهُ خَامِسَ خَمْسَةٍ وَاتَّبَعَهُمْ رَجُلٌ فَلَمَّا بَلَغَ الْبَابَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ هَذَا اتَّبَعَنَا فَإِنْ شِئْتَ أَنْ تَأْذَنَ لَهُ وَإِنْ شِئْتَ رَجَعَ قَالَ لَا بَلْ آذَنُ لَهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ
قتیبہ بن سعید، عثمان بن ابی شبیہ، جریر، اعمش، ابو وائل، حضرت ابومسعود انصاری سے روایت ہے کہ فرماتے ہیں کہ انصار کا ایک آدمی تھا جسے ابوشعیب کہا جاتا ہے اس کا ایک غلام تھا جو گوشت بیچا کرتا تھا اس نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا تو اس نے آپ ﷺ کے چہرہ انور میں بھوک کے آثار پہچان لئے ابوشعیب نے اپنے غلام سے کہا کہ ہمارے لئے پانچ آدمیوں کا کھانا تیار کرو کیونکہ میں نبی ﷺ کی دعوت کرنا چاہتا ہوں اور آپ ﷺ پانچوں میں پانچویں ہیں راوی کہتے ہیں کہ اس غلام نے حکم کے مطابق کھانا تیار کردیا پھر وہ نبی ﷺ کو بلانے کے لئے آپ کی خدمت میں آیا آپ ﷺ پانچوں میں سے پانچویں تھے اور آپ کے ساتھ ایک اور آدمی پیچھے چل پڑا جب آپ ﷺ دروازہ پر پہنچے تو نبی ﷺ نے فرمایا اگر تو چاہے تو اسے اجازت دے دے ورنہ یہ واپس لوٹ جائے ابوشعیب نے عرض کیا نہیں اے اللہ کے رسول میں اس کو اجازت دیتا ہوں۔
Abu Masud Ansari reported that a person from the Ansar who was called Abu Shuaib had a slave who was a butcher (by profession). He (Abu Masud) saw Allahs Messenger ﷺ and found signs of hunger on his face. He said to the servant: O ye, prepare for us food sufficient for five persons, for I intend to invite Allahs Apostle ﷺ who would be the fifth amongst the five. He (the narrator) reported that he then prepared the food and came to Allahs Apostle ﷺ and invited all the five (including him) who was the fifth amongst them to the feast. A man followed him and when Allahs Apostle ﷺ reached the door, he said: This man has followed us; if you like you may permit him (to join the meal) and if you like he can go back. Thereupon the person said: Allahs Messenger, I permit him.
اگر مہمان کے ساتھ پر کچھ اور آدمی بھی آجائیں تو میزبان کیا کرے۔
حَدَّثَنَاه أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ جَمِيعًا عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ ح و حَدَّثَنَاه نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ وَأَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ح و حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ح و حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ عَنْ سُفْيَانَ کُلُّهُمْ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي وَائِلٍ عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ بِهَذَا الْحَدِيثِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنَحْوِ حَدِيثِ جَرِيرٍ قَالَ نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ فِي رِوَايَتِهِ لِهَذَا الْحَدِيثِ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ حَدَّثَنَا شَقِيقُ بْنُ سَلَمَةَ حَدَّثَنَا أَبُو مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيُّ وَسَاقَ الْحَدِيثَ
ابوبکر بن ابی شیبہ، اسحاق بن ابرہیم، ابومعاویہ، نصر بن علی جہضمی، ابوسعید اشج، ابواسامہ، عبیداللہ بن معاذ، ابوشعبہ، عبداللہ بن عبدالرحمن دارمی، ان سندوں کے ساتھ حضرت ابومسعود ؓ نے نبی ﷺ سے یہ حدیث جریر کی حدیث کی طرح نقل کی ہے۔
This hadith has been reported on the authority of Abu Masud Ansari through another chain of transmitters.
اگر مہمان کے ساتھ پر کچھ اور آدمی بھی آجائیں تو میزبان کیا کرے۔
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ جَبَلَةَ بْنِ أَبِي رَوَّادٍ حَدَّثَنَا أَبُو الْجَوَّابِ حَدَّثَنَا عَمَّارٌ وَهُوَ ابْنُ رُزَيْقٍ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي سُفْيَانَ عَنْ جَابِرٍ ح و حَدَّثَنِي سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَعْيَنَ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ شَقِيقٍ عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي سُفْيَانَ عَنْ جَابِرٍ بِهَذَا الْحَدِيثِ
محمد بن عمرو بن جبلہ بن ابی رواد، ابوجواب، عمار ابن رزیق، اعمش، ابوسفیان، جابر، سلمہ بن شبیب، حسن بن اعین، زہیر، اعمش، شقیق، ابومسعود، اعمش، ابوسفیان، جابر، حضرت جابر سے یہ حدیث اسی طرح نقل کی گئی ہے۔
This hadith has been transmitted on the authority of Jabir also.
اگر مہمان کے ساتھ پر کچھ اور آدمی بھی آجائیں تو میزبان کیا کرے۔
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ جَارًا لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَارِسِيًّا کَانَ طَيِّبَ الْمَرَقِ فَصَنَعَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ جَائَ يَدْعُوهُ فَقَالَ وَهَذِهِ لِعَائِشَةَ فَقَالَ لَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا فَعَادَ يَدْعُوهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهَذِهِ قَالَ لَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا ثُمَّ عَادَ يَدْعُوهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهَذِهِ قَالَ نَعَمْ فِي الثَّالِثَةِ فَقَامَا يَتَدَافَعَانِ حَتَّی أَتَيَا مَنْزِلَهُ
زہیر بن حرب، یزید بن ہارون، حماد بن سلمہ، ثابت بن انس، حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کا ایک ہمسایہ تھا جو کہ فارسی تھا وہ شوربہ بہت عمدہ بناتا تھا اس نے رسول اللہ ﷺ کے لئے کھانا بنایا پھر وہ آپ ﷺ کو بلانے کے لئے آپ ﷺ کی خدمت میں آیا تو آپ ﷺ نے فرمایا (حضرت عائشہ ؓ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے) اور ان کی دعوت بھی؟ تو اس نے کہا نہیں تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا نہیں (یعنی میں بھی دعوت میں نہیں آتا) وہ دوبارہ آپ ﷺ کو بلانے کے لئے حاضر ہوا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اور ان کی دعوت بھی؟ اس نے کہا نہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میں بھی نہیں آتا پھر وہ تیسری مرتبہ آپ ﷺ کے بلانے کے لئے حاضر ہوا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اور ان کی دعوت بھی؟ تو تیسری مرتبہ اس نے کہا ہاں ان کی دعوت بھی پھر وہ دونوں (حضرت عائشہ ؓ اور رسول اللہ ﷺ کھڑے ہوئے اور چلے یہاں تک کہ اس کے گھر میں آگئے۔
Anas reported that Allahs Messenger ﷺ had a neighbour who was Persian (by descent), and he was expert in the preparation of soup. He prepared (soup) for Allahs Messenger ﷺ and then came to him to invite him (to that feast). He (Allahs Messenger) said: Here is Aisha also (and you should also invite her to the food). He said: No. Thereupon Allahs Messenger ﷺ also said: No (then I cannot join the feast). He returned inviting him, and Allahs Messenger ﷺ said: She is also there (i. e. Aisha should also be invited). He said: No. Thereupon Allahs Messenger ﷺ also said: No (and declined his offer). He returned again to invite him and Allahs Messenger ﷺ again said: She is also there. He (the host) said: "Yes" for the third time. Then he accepted his invitation, and both of them set out until they came to his house.
بااعتماد میزبان کے ہاں اپنے ساتھ کسی اور آدمی کو لے جانے کے جواز میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ خَلِيفَةَ عَنْ يَزِيدَ بْنِ کَيْسَانَ عَنْ أَبِي حَازِمٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ أَوْ لَيْلَةٍ فَإِذَا هُوَ بِأَبِي بَکْرٍ وَعُمَرَ فَقَالَ مَا أَخْرَجَکُمَا مِنْ بُيُوتِکُمَا هَذِهِ السَّاعَةَ قَالَا الْجُوعُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ وَأَنَا وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَأَخْرَجَنِي الَّذِي أَخْرَجَکُمَا قُومُوا فَقَامُوا مَعَهُ فَأَتَی رَجُلًا مِنْ الْأَنْصَارِ فَإِذَا هُوَ لَيْسَ فِي بَيْتِهِ فَلَمَّا رَأَتْهُ الْمَرْأَةُ قَالَتْ مَرْحَبًا وَأَهْلًا فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيْنَ فُلَانٌ قَالَتْ ذَهَبَ يَسْتَعْذِبُ لَنَا مِنْ الْمَائِ إِذْ جَائَ الْأَنْصَارِيُّ فَنَظَرَ إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَصَاحِبَيْهِ ثُمَّ قَالَ الْحَمْدُ لِلَّهِ مَا أَحَدٌ الْيَوْمَ أَکْرَمَ أَضْيَافًا مِنِّي قَالَ فَانْطَلَقَ فَجَائَهُمْ بِعِذْقٍ فِيهِ بُسْرٌ وَتَمْرٌ وَرُطَبٌ فَقَالَ کُلُوا مِنْ هَذِهِ وَأَخَذَ الْمُدْيَةَ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِيَّاکَ وَالْحَلُوبَ فَذَبَحَ لَهُمْ فَأَکَلُوا مِنْ الشَّاةِ وَمِنْ ذَلِکَ الْعِذْقِ وَشَرِبُوا فَلَمَّا أَنْ شَبِعُوا وَرَوُوا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَبِي بَکْرٍ وَعُمَرَ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَتُسْأَلُنَّ عَنْ هَذَا النَّعِيمِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَخْرَجَکُمْ مِنْ بُيُوتِکُمْ الْجُوعُ ثُمَّ لَمْ تَرْجِعُوا حَتَّی أَصَابَکُمْ هَذَا النَّعِيمُ
ابوبکر بن ابی شیبہ، خلف بن خلیفہ، یزید بن کیسان، ابوحازم، ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ ایک دن یا ایک رات رسول اللہ ﷺ باہر نکلے حضرت ابوبکر اور حضرت عمر ؓ سے بھی ملاقات ہوگئی تو آپ ﷺ نے ان دونوں حضرات سے فرمایا اس وقت تمہارا اپنے گھروں سے نکلنے کا سبب کیا ہے ان دونوں حضرات نے عرض کیا بھوک اے اللہ کے رسول ﷺ آپ ﷺ نے فرمایا قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے میں بھی اسی وجہ سے نکلا ہوں جس وجہ سے تم دونوں نکلے ہوئے ہو اٹھو کھڑے ہوجاؤ دونوں حضرات کھڑے ہوگئے تو آپ ﷺ ایک انصاری کے گھر تشریف لائے کہ وہ انصاری اپنے گھر میں نہیں ہے انصاری کی بیوی نے دیکھا تو مرحبا اور خوش آمدید کہا تو رسول اللہ ﷺ نے اس انصاری کی بیوی سے فرمایا فلاں کہاں ہے اس نے عرض کیا وہ ہمارے لئے میٹھا پانی لینے گیا ہے اسی دروان انصاری بھی آگئے تو اس انصاری نے رسول اللہ ﷺ اور آپ ﷺ کے ساتھیوں کی طرف دیکھا اور پھر کہنے لگا اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ آج میرے مہمانوں سے زیادہ کسی کے مہمان معزز نہیں اور پھر چلے اور کھجوروں کا ایک خوشہ لے کر آئے جس میں کچی اور پکی اور خشک اور تازہ کھجوریں تھیں اور عرض کیا کہ ان میں سے کھائیں اور انہوں نے چھری پکڑی تو رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا دودھ والی بکری ذبح نہ کرنا پھر انہوں نے ایک بکری ذبح کی ان سب نے اس بکری کا گوشت کھایا اور کھجوریں کھائیں اور پانی پیا اور جب کھا پی کر سیراب ہوگئے تو رسول اللہ ﷺ نے حضرت ابوبکر اور حضرت عمر ؓ سے فرمایا قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ وقدرت میں میری جان ہے تم سے قیامت کے دن ان نعمتوں کے بارے میں ضرور پوچھا جائے گا تمہیں اپنے گھروں سے بھوک نکال کر لائی اور پھر تم واپس نہیں لوٹے یہاں تک کہ یہ نعمت تمہیں مل گئی۔
Abu Hurairah (RA) reported that Allahs Messenger ﷺ went out (of his house) one day or one night, and there he found Abu Bakr (RA) and Umar also. He said: What has brought you out of your houses at this hour? They said: Allahs Messenger, it is hunger. Thereupon he said: By Him in Whose Hand is my life, what has brought you out has brought me out too; get up. They got up along with him, and (all of them) came to the house of an Ansari, but he was not at home. When his wife saw him she said: Most welcome, and Allahs Messenger ﷺ said to her: Where is so and so? She said: He has gone to get some fresh water for us. When the Ansari came and he saw Allahs Messenger ﷺ and his two Companions, he said: Praise be to Allah, no one has more honourable guests today than I (have). He then went out and brought them a bunch of ripe dates, dry dates and fresh dates, and said: Eat some of them. He then took hold of his long knife (for slaughtering a goat or a sheep). Allahs Messenger ﷺ said to him: Beware of killing a milch animal. He slaughtered a sheep for them and after they had eaten of it and of the bunch and drank, and when they had taken their fill and had been fully satisfied with the drink, Allahs Messenger ﷺ said to Abu Bakr (RA) and Umar (RA) : By Him in Whose Hand is my life, you will certainly be questioned about this bounty on the Day of Judgment. Hunger brought you out of your house, then you did not return until this bounty came to you.
بااعتماد میزبان کے ہاں اپنے ساتھ کسی اور آدمی کو لے جانے کے جواز میں
حَدَّثَنِي إِسْحَقُ بْنُ مَنْصُورٍ أَخْبَرَنَا أَبُو هِشَامٍ يَعْنِي المُغِيرَةَ بْنَ سَلَمَةَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ حَدَّثَنَا يَزِيدُ حَدَّثَنَا أَبُو حَازِمٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُا بَيْنَا أَبُو بَکْرٍ قَاعِدٌ وَعُمَرُ مَعَهُ إِذْ أَتَاهُمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ مَا أَقْعَدَکُمَا هَاهُنَا قَالَا أَخْرَجَنَا الْجُوعُ مِنْ بُيُوتِنَا وَالَّذِي بَعَثَکَ بِالْحَقِّ ثُمَّ ذَکَرَ نَحْوَ حَدِيثِ خَلَفِ بْنِ خَلِيفَةَ
اسحاق بن منصور، ابوہشام مغیرہ بن سلمہ، عبدالواحد بن زیاد، ابوحازم، ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ ہمارے درمیان میں حضرت ابوبکر ؓ تشریف فرما تھے اور ان کے ساتھ حضرت عمر ؓ تشریف فرما تھے کہ اسی دوران رسول اللہ ﷺ تشریف لائے آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا تم یہاں کیوں بیٹھے ہو دونوں حضرات نے عرض کیا قسم ہے اس ذات کی کہ جس نے آپ ﷺ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے ہمیں اپنے گھروں سے بھوک نے نکالا ہے پھر خلف بن خلیفہ کی طرح حدیث ذکر کی۔
Abu Hurairah (RA) reported: One day while Abu Bakr (RA) was sitting and there was with him Umar also there came to them Allahs Messenger ﷺ and he said: What makes you stay here? They said: It is hunger that has brought us out from our houses. By Him Who has sent you with Truth; the rest of the hadith is the same.
بااعتماد میزبان کے ہاں اپنے ساتھ کسی اور آدمی کو لے جانے کے جواز میں
حَدَّثَنِي حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ حَدَّثَنِي الضَّحَّاکُ بْنُ مَخْلَدٍ مِنْ رُقْعَةٍ عَارَضَ لِي بِهَا ثُمَّ قَرَأَهُ عَلَيَّ قَالَ أَخْبَرَنَاهُ حَنْظَلَةُ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مِينَائَ قَالَ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُا لَمَّا حُفِرَ الْخَنْدَقُ رَأَيْتُ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَمَصًا فَانْکَفَأْتُ إِلَی امْرَأَتِي فَقُلْتُ لَهَا هَلْ عِنْدَکِ شَيْئٌ فَإِنِّي رَأَيْتُ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَمَصًا شَدِيدًا فَأَخْرَجَتْ لِي جِرَابًا فِيهِ صَاعٌ مِنْ شَعِيرٍ وَلَنَا بُهَيْمَةٌ دَاجِنٌ قَالَ فَذَبَحْتُهَا وَطَحَنَتْ فَفَرَغَتْ إِلَی فَرَاغِي فَقَطَّعْتُهَا فِي بُرْمَتِهَا ثُمَّ وَلَّيْتُ إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ لَا تَفْضَحْنِي بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَنْ مَعَهُ قَالَ فَجِئْتُهُ فَسَارَرْتُهُ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا قَدْ ذَبَحْنَا بُهَيْمَةً لَنَا وَطَحَنَتْ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ کَانَ عِنْدَنَا فَتَعَالَ أَنْتَ فِي نَفَرٍ مَعَکَ فَصَاحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ يَا أَهْلَ الْخَنْدَقِ إِنَّ جَابِرًا قَدْ صَنَعَ لَکُمْ سُورًا فَحَيَّ هَلًا بِکُمْ وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تُنْزِلُنَّ بُرْمَتَکُمْ وَلَا تَخْبِزُنَّ عَجِينَتَکُمْ حَتَّی أَجِيئَ فَجِئْتُ وَجَائَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْدَمُ النَّاسَ حَتَّی جِئْتُ امْرَأَتِي فَقَالَتْ بِکَ وَبِکَ فَقُلْتُ قَدْ فَعَلْتُ الَّذِي قُلْتِ لِي فَأَخْرَجْتُ لَهُ عَجِينَتَنَا فَبَصَقَ فِيهَا وَبَارَکَ ثُمَّ عَمَدَ إِلَی بُرْمَتِنَا فَبَصَقَ فِيهَا وَبَارَکَ ثُمَّ قَالَ ادْعِي خَابِزَةً فَلْتَخْبِزْ مَعَکِ وَاقْدَحِي مِنْ بُرْمَتِکُمْ وَلَا تُنْزِلُوهَا وَهُمْ أَلْفٌ فَأُقْسِمُ بِاللَّهِ لَأَکَلُوا حَتَّی تَرَکُوهُ وَانْحَرَفُوا وَإِنَّ بُرْمَتَنَا لَتَغِطُّ کَمَا هِيَ وَإِنَّ عَجِينَتَنَا أَوْ کَمَا قَالَ الضَّحَّاکُ لَتُخْبَزُ کَمَا هُوَ
حجاج بن شاعر، ضحاک، حنظلہ بن ابی سفیان، سعید بن میناء، حضرت جابر ؓ فرماتے ہیں کہ جب خندق کھودی گئی تو میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ آپ کو بھوک لگی ہوئی ہے تو میں اپنی بیوی کی طرف آیا اور اس سے کہا کیا تیرے پاس کوئی چیز ہے کیونکہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ آپ ﷺ کو بہت سخت بھوک لگی ہوئی ہے تو میری بیوی نے ایک تھیلہ مجھے نکال کردیا جس میں ایک صاع جَو تھے اور ہمارا ایک بکری کا بچہ تھا جو کہ پلا ہوا تھا میں نے اسے ذبح کردیا اور میری بیوی نے آٹا پیسا میری بیوی بھی میرے فارغ ہونے کے ساتھ ہی فارغ ہوئی پھر میں نے بکری کا گوشت کاٹ کر ہانڈی میں ڈال دیا پھر میں رسول اللہ ﷺ کی طرف گیا کہنے لگی کہ مجھے رسول اللہ اور آپ ﷺ کے صحابہ کرام ؓ کے سامنے ذلیل و رسوا نہ کرنا حضرت جابر ؓ فرماتے ہیں کہ جب میں آپ ﷺ کی خدمت میں آیا تو میں نے سرگوشی کے انداز میں عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ ہم نے ایک بکری کا بچہ ذبح کیا ہے اور ہمارے پاس ایک صاع جَو تھے آپ ﷺ چند آدمیوں کو اپنے ساتھ لے کر ہماری طرف تشریف لائیں رسول اللہ ﷺ نے پکارا اور فرمایا اے خندق والو! جابر نے تمہارے دعوت کی ہے لہذا تم سب چلو رسول اللہ ﷺ نے حضرت جابر ؓ سے فرمایا میرے آنے تک اپنی ہانڈی چولہے سے نہ اتارنا اور نہ ہی گندھے ہوئے آٹے کی روٹی پکانا۔ (حضرت جابر ؓ فرماتے ہیں کہ) میں وہاں سے آیا اور رسول اللہ ﷺ بھی تشریف لے آئے اور آپ ﷺ کے ساتھ سب لوگ بھی آگئے تھے حضرت جابر ؓ اپنی بیوی کے پاس آئے تو ان کی بیوی نے کہا تیری ہی رسوائی ہوگی (یعنی کھانا کم ہے اور آدمی ذیادہ آگئے ہیں) حضرت جابر ؓ نے کہا میں نے تو اسی طرح کہا تھا جس طرح تو نے مجھے کہا تھا پھر میں گندھا ہوا آٹا آپ ﷺ کے سامنے نکال کرلے آیا تو آپ ﷺ نے اس میں اپنا لعاب دہن ڈالا اور اس میں برکت کی دعا فرمائی پھر آپ ﷺ ہماری ہانڈیوں کی طرف تشریف لائے اور اس ہانڈی میں آپ ﷺ نے اپنا لعاب دہن ڈالا اور برکت کی دعا فرمائی پھر آپ ﷺ نے فرمایا ایک روٹیاں پکانے والی اور بلا لو جو تمہارے ساتھ مل کر روٹیاں پکائے اور ہانڈی میں سے سالن نہ نکالنا اور نہ ہی اسے چولہے سے اتارنا اور ایک ہزار کی تعداد میں صحابہ موجود تھے اللہ کی قسم ان سب نے کھانا کھایا یہاں تک کہ بچا کر چھوڑ دیا اور واپس اسی طرح تھا اور اس کی روٹیاں بھی اسی طرح پک رہی تھیں۔
Jabir bin Abdullah reported: When the ditch was dug, I saw Allahs Messenger (may peace he upon him) feeling very hungry. I came to my wife and said to her: Is there anything with you? I have seen Allahs Messenger ﷺ feeling extremely hungry. She brought out a bag of provisions which contained a sa of barley. We had also with us a lamb. I slaughtered it. She ground the flour. She finished (this work) along with me. I cut it into pieces and put it in the earthen pot and then returned to Allahs Apostle ﷺ (for inviting him). She said: Do not humiliate me in the presence of Allahs Messenger ﷺ and those who are with him. When I came to him I whispered to him saying: Allahs Messenger, we have slaughtered a lamb for you and she has ground a sa of barley which we had with us. So you come along with a group of people with you. Thereupon Allahs Messenger ﷺ said loudly: O people of the ditch, Jabir has arranged a feast for you, so (come along). Allahs Messenger ﷺ said: Do not remove your earthen pot from the hearth and do not bake the bread from the kneaded flour until I come. So I came and Allahs Messenger ﷺ came and he was ahead of the people; and I came to my wife and she said (to me): You will be humbled. I said: I did what you had asked me to do. She (his wife) said: I brought out the kneaded flour and Allahs Messenger ﷺ put some saliva of his in that and blessed It. He then put saliva in the earthen pot and blessed it and then said. Call another baker who can bake with you. and bring out the soup from it, but do not remove it from the hearth, and the guests were one thousand. (Jabir said): I take an oath by Allah that all of them ate (the food to their fill) until they left it and went away and our earthen pot was brimming over as before, and so was the case with our flour, or as Dahhak (another narrator) said: It (the flour) was in the same condition and loaves had been prepared from that.
بااعتماد میزبان کے ہاں اپنے ساتھ کسی اور آدمی کو لے جانے کے جواز میں
و حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَالِکِ بْنِ أَنَسٍ عَنْ إِسْحَقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِکٍ يَقُولُا قَالَ أَبُو طَلْحَةَ لِأُمِّ سُلَيْمٍ قَدْ سَمِعْتُ صَوْتَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَعِيفًا أَعْرِفُ فِيهِ الْجُوعَ فَهَلْ عِنْدَکِ مِنْ شَيْئٍ فَقَالَتْ نَعَمْ فَأَخْرَجَتْ أَقْرَاصًا مِنْ شَعِيرٍ ثُمَّ أَخَذَتْ خِمَارًا لَهَا فَلَفَّتْ الْخُبْزَ بِبَعْضِهِ ثُمَّ دَسَّتْهُ تَحْتَ ثَوْبِي وَرَدَّتْنِي بِبَعْضِهِ ثُمَّ أَرْسَلَتْنِي إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَذَهَبْتُ بِهِ فَوَجَدْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسًا فِي الْمَسْجِدِ وَمَعَهُ النَّاسُ فَقُمْتُ عَلَيْهِمْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْسَلَکَ أَبُو طَلْحَةَ قَالَ فَقُلْتُ نَعَمْ فَقَالَ أَلِطَعَامٍ فَقُلْتُ نَعَمْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِمَنْ مَعَهُ قُومُوا قَالَ فَانْطَلَقَ وَانْطَلَقْتُ بَيْنَ أَيْدِيهِمْ حَتَّی جِئْتُ أَبَا طَلْحَةَ فَأَخْبَرْتُهُ فَقَالَ أَبُو طَلْحَةَ يَا أُمَّ سُلَيْمٍ قَدْ جَائَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالنَّاسِ وَلَيْسَ عِنْدَنَا مَا نُطْعِمُهُمْ فَقَالَتْ اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ قَالَ فَانْطَلَقَ أَبُو طَلْحَةَ حَتَّی لَقِيَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَهُ حَتَّی دَخَلَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَلُمِّي مَا عِنْدَکِ يَا أُمَّ سُلَيْمٍ فَأَتَتْ بِذَلِکَ الْخُبْزِ فَأَمَرَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَفُتَّ وَعَصَرَتْ عَلَيْهِ أُمُّ سُلَيْمٍ عُکَّةً لَهَا فَأَدَمَتْهُ ثُمَّ قَالَ فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا شَائَ اللَّهُ أَنْ يَقُولَ ثُمَّ قَالَ ائْذَنْ لِعَشَرَةٍ فَأَذِنَ لَهُمْ فَأَکَلُوا حَتَّی شَبِعُوا ثُمَّ خَرَجُوا ثُمَّ قَالَ ائْذَنْ لِعَشَرَةٍ فَأَذِنَ لَهُمْ فَأَکَلُوا حَتَّی شَبِعُوا ثُمَّ خَرَجُوا ثُمَّ قَالَ ائْذَنْ لِعَشَرَةٍ حَتَّی أَکَلَ الْقَوْمُ کُلُّهُمْ وَشَبِعُوا وَالْقَوْمُ سَبْعُونَ رَجُلًا أَوْ ثَمَانُونَ
یحییٰ بن یحیی، مالک بن انس، اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ، انس بن مالک، حضرت انس بن مالک ؓ فرماتے ہیں کہ حضرت طلحہ ؓ نے ام سلیم ؓ کی والدہ سے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کی آواز میں کچھ کمزوری محسوس کی ہے میں سمجھتا ہوں کہ آپ ﷺ کو بھوک لگی ہوئی ہے تو کیا تیرے پاس کوئی چیز ہے حضرت ام سلیم ؓ نے کہا ہاں پھر ام سلیم نے جو کی روٹیاں لیں اور چادر لے کر اس میں ان روٹیوں کو لپیٹا اور پھر ان کو میرے کپڑوں کے نیچے چھپا دیا اور کپڑے کا کچھ حصہ مجھے اوڑھا دیا پھر انہوں نے مجھے رسول اللہ ﷺ کی طرف بھیج دیا حضرت انس فرماتے ہیں کہ میں آپ ﷺ کی خدمت میں گیا تو میں نے رسول اللہ ﷺ کو مسجد میں تشریف فرما پایا اور آپ ﷺ کے پاس کچھ اور لوگ بھی تھے میں کھڑا رہا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کیا تجھے ابوطلحہ نے بھیجا ہے؟ میں نے عرض کیا جی ہاں آپ ﷺ نے فرمایا کیا کھانے کے لئے؟ میں نے عرض کیا جی ہاں تو رسول اللہ ﷺ نے اپنے ساتھیوں سے فرمایا اٹھو آپ ﷺ چلے اور میں ان سب سے آگے آگے چلا یہاں تک کہ میں نے حضرت ابوطلحہ کو آکر اس کی خبر دی تو حضرت ابوطلحہ کہنے لگے اے ام سلیم! رسول اللہ ﷺ تو اپنے ساتھیوں کو لے کر آگئے ہیں اور ہمارے پاس تو ان سب کو کھلانے کے لئے کچھ نہیں ہے حضرت ام سلیم ؓ فرمانے لگیں کہ اللہ اور اس کا رسول ہی زیادہ بہتر جانتے ہیں پھر حضرت ابوطلحہ چلے یہاں تک کہ آگے بڑھ کر رسول اللہ ﷺ سے ملاقات کی اور رسول اللہ ﷺ کے ساتھ (ام سلیم ؓ کے گھر) تشریف لائے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اے ام سلیم! تیرے پاس جو کچھ بھی ہے وہ لے آ ام سلیم وہی روٹیاں لے کر آگئیں پھر رسول اللہ ﷺ کے حکم فرمانے پر ان روٹیوں کو ٹکڑے کیا گیا حضرت ام سلیم نے تھوڑا سا گھی جو ان کے پاس موجود تھا وہ ان روٹیوں پر نچوڑ دیا پھر رسول اللہ ﷺ نے جو اللہ تعالیٰ کو منظور تھا اس میں برکت کی دعا فرمائی پھر آپ ﷺ نے فرمایا دس آدمیوں کو بلاؤ دس کو بلایا گیا تو انہوں نے کھانا کھایا یہاں تک کہ وہ خوب سیر ہوگئے پھر وہ چلے گئے پھر آپ ﷺ نے فرمایا دس آدمیوں کو بلاؤ دس آدمیوں کو بلایا گیا یہاں تک کہ ان سب لوگوں نے کھانا کھایا اور خوب سیر ہوگئے اور سب آدمی تقریبا ستر یا اسی کی تعداد میں تھے۔
Anas bin Malik (RA) reported that Abu Talha said to Umm Sulaim: I felt some feebleness in the voice of Allahs Messenger ﷺ and perceived that it was due to hunger; so have you anything with you? She said: Yes. She brought out barley loaves, then took out a head-covering of hers, in a part of which she wrapped those loaves and then put them beneath my mantle and covered me with a part of it. She then sent me to Allahs Messenger ﷺ . I set forth and found Allahs Messenger ﷺ sitting in the mosque in the company of some persons. I stood near them, whereupon Allahs Messenger ﷺ said: Has Abu Talha sent you? I said, Yes. He said: Is it for a feast? I said. Yes. Thereupon Allahs messenger ﷺ said to those who were with him to get up. He went forth and so I did before them, until I came to Abu Talha and informed him. Abu Talba said: Umm Sulaim, here comes Allahs Messenger ﷺ along with people and we do not have enough (food) to feed them. She said: Allah and His Messenger know best. Abu Talha went out (to receive him) until he met Allahs Messenger ﷺ and Allahs Apostle ﷺ came forward along with him until they both (Allahs Messenger, along with Abu Talha) came in. Then Allahs Messenger ﷺ said: Umm Sulaim, bring forth that which you have with you. She brought the bread. Allahs Messenger ﷺ commanded that the bread be broken into small pieces, and when Umm Sulaim had squeezed a small waterskin and put seasoning on it, Allahs Messenger ﷺ recited something regarding it what Allah wished him to say. He then said: Allow ten (guests to come in and have their meals). He permitted them; they ate until they had their fill. They then went out. He (the Holy Prophet) again said: Permit ten (more) and he (the host gave permission to them. They ate until they had enough. Then they went out. he again said: Permit ten (more) until all the people had eaten to their fill, and they were seventy or eighty persons.
بااعتماد میزبان کے ہاں اپنے ساتھ کسی اور آدمی کو لے جانے کے جواز میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ وَاللَّفْظُ لَهُ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا سَعْدُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِکٍ قَالَ بَعَثَنِي أَبُو طَلْحَةَ إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَدْعُوَهُ وَقَدْ جَعَلَ طَعَامًا قَالَ فَأَقْبَلْتُ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَ النَّاسِ فَنَظَرَ إِلَيَّ فَاسْتَحْيَيْتُ فَقُلْتُ أَجِبْ أَبَا طَلْحَةَ فَقَالَ لِلنَّاسِ قُومُوا فَقَالَ أَبُو طَلْحَةَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّمَا صَنَعْتُ لَکَ شَيْئًا قَالَ فَمَسَّهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَدَعَا فِيهَا بِالْبَرَکَةِ ثُمَّ قَالَ أَدْخِلْ نَفَرًا مِنْ أَصْحَابِي عَشَرَةً وَقَالَ کُلُوا وَأَخْرَجَ لَهُمْ شَيْئًا مِنْ بَيْنِ أَصَابِعِهِ فَأَکَلُوا حَتَّی شَبِعُوا فَخَرَجُوا فَقَالَ أَدْخِلْ عَشَرَةً فَأَکَلُوا حَتَّی شَبِعُوا فَمَا زَالَ يُدْخِلُ عَشَرَةً وَيُخْرِجُ عَشَرَةً حَتَّی لَمْ يَبْقَ مِنْهُمْ أَحَدٌ إِلَّا دَخَلَ فَأَکَلَ حَتَّی شَبِعَ ثُمَّ هَيَّأَهَا فَإِذَا هِيَ مِثْلُهَا حِينَ أَکَلُوا مِنْهَا
ابوبکر بن ابی شیبہ، عبداللہ بن نمیر، ابوسعد بن سعید، انس بن مالک، حضرت انس بن مالک ؓ فرماتے ہیں کہ حضرت ابوطلحہ نے مجھے رسول اللہ ﷺ کی طرف بھیجا تاکہ میں آپ ﷺ کو بلا کر لاؤں اور حضرت ابوطلحہ نے کھانا تیار کر کے رکھا تھا حضرت انس کہتے ہیں کہ میں آیا تو رسول اللہ ﷺ لوگوں کے پاس تشریف فرما تھے آپ ﷺ نے میری طرف دیکھا تو مجھے شرم آئی میں نے عرض کیا ابوطلحہ کی دعوت قبول فرمائیں آپ نے لوگوں سے فرمایا اٹھو چلو حضرت ابوطلحہ نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ میں نے تو آپ ﷺ کے لئے تھوڑا سا کھانا تیار کیا ہے حضرت ابوطلحہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اس کھانے کو چھوا اور اس میں برکت کی دعا فرمائی پھر آپ ﷺ نے فرمایا میرے ساتھیوں میں سے دس آدمیوں کو بلاؤ اور آپ ﷺ نے فرمایا کھاؤ اور آپ نے اپنی انگلیوں کے درمیان میں سے کچھ نکالا چناچہ ان دس آدمیوں نے کھانا کھایا یہاں تک کہ وہ سیر ہو کر چلے گئے پھر آپ ﷺ نے فرمایا دس آدمیوں کو بلاؤ آپ ﷺ اسی طرح دس دس آدمیوں کو بلاتے رہے اور دس دس آدمیوں کو کھلا کر بھیجتے رہے یہاں تک کہ ان میں سے کوئی بھی اب کھانا کھانے والا نہیں بچا اور وہ کھا کر سیر نہ ہوا ہو پھر آپ ﷺ نے بچا ہوا کھانا جمع فرمایا تو وہ کھانا انتا ہی تھا جتنا کہ کھانا شروع کرتے وقت تھا۔
Anas bin Malik (RA) reported: Abu Talha sent me to Allahs Messenger ﷺ in order to invite him (for meal). She had prepared a meal. So I came and found Allahs Messenger ﷺ along with some people. He looked at me, and I felt shy and said: Accept the invitation of Abu Talha. He (the Holy Prophet) asked the people to get up. Thereupon Abu Talha said: Allahs Messenger, I have prepared something for you. Allahs Messenger ﷺ touched (the food) and invoked blessings upon it, and then said: Let ten persons from my Companions enter (the house). He then said: Eat, and (in the meanwhile) brought out something from between his fingers for them. They then began to eat until they had their fill and then went out. He then asked ten more men (to have the meal) and they ate to their fill, and the ten persons went on getting in (and eating the food) and then getting out until none was left amongst them who had not got in and eaten to his fill. He then collected (the remaining part of the food) and it (the quantity of the food) was the same (as it had been prior to the serving of guests).
بااعتماد میزبان کے ہاں اپنے ساتھ کسی اور آدمی کو لے جانے کے جواز میں
حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ يَحْيَی الْأُمَوِيُّ حَدَّثَنِي أَبِي حَدَّثَنَا سَعْدُ بْنُ سَعِيدٍ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِکٍ قَالَ بَعَثَنِي أَبُو طَلْحَةَ إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِنَحْوِ حَدِيثِ ابْنِ نُمَيْرٍ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ فِي آخِرِهِ ثُمَّ أَخَذَ مَا بَقِيَ فَجَمَعَهُ ثُمَّ دَعَا فِيهِ بِالْبَرَکَةِ قَالَ فَعَادَ کَمَا کَانَ فَقَالَ دُونَکُمْ هَذَا
سعید بن یحییٰ اموی، ابوسعد بن سعید، حضرت انس ؓ بن مالک ؓ فرماتے ہیں کہ حضرت ابوطلحہ ؓ نے مجھے رسول اللہ ﷺ کی طرف بھیجا اور پھر ابن نمیر کی روایت کی طرح حدیث نقل کی اس کے لئے آخر میں کہ آپ ﷺ نے بچا ہوا کھانا جمع فرمایا پھر آپ ﷺ نے اس میں برکت کی دعا فرمائی راوی کہتے ہیں کہ وہ کھانا جتنا تھا پھر اتنا ہی ہوگیا پھر آپ ﷺ نے فرمایا یہ لے لو۔
Anas b Malik reported: Abu Talha sent me to Allahs Messenger ﷺ ; the rest of the hadith is the same, but there is a slight variation of wording that he said at the end (The Holy Prophet) took what was left (of the food) and collected it and then invoked blessings upon it and it returned to its original state. He (the Holy Prophet) then said: Take this.
بااعتماد میزبان کے ہاں اپنے ساتھ کسی اور آدمی کو لے جانے کے جواز میں
حَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ الرَّقِّيُّ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ عُمَيْرٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَی عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ أَمَرَ أَبُو طَلْحَةَ أُمَّ سُلَيْمٍ أَنْ تَصْنَعَ لِلنَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَعَامًا لِنَفْسِهِ خَاصَّةً ثُمَّ أَرْسَلَنِي إِلَيْهِ وَسَاقَ الْحَدِيثَ وَقَالَ فِيهِ فَوَضَعَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ وَسَمَّی عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ ائْذَنْ لِعَشَرَةٍ فَأَذِنَ لَهُمْ فَدَخَلُوا فَقَالَ کُلُوا وَسَمُّوا اللَّهَ فَأَکَلُوا حَتَّی فَعَلَ ذَلِکَ بِثَمَانِينَ رَجُلًا ثُمَّ أَکَلَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ ذَلِکَ وَأَهْلُ الْبَيْتِ وَتَرَکُوا سُؤْرًا
عمرو ناقد، عبداللہ بن جعفر رقی، عبیداللہ بن عمرو، عبدالملک بن عمیر، عبدالرحمن بن ابی لیلی، حضرت انس ؓ بن مالک ؓ فرماتے ہیں کہ حضرت ابوطلحہ ؓ نے حضرت ام سلیم ؓ کو حکم فرمایا کہ وہ نبی ﷺ کے لئے ایسا کھانا تیار کرے کہ جو خاص طور پر صرف آپ ﷺ کے لئے ہو اور انہوں نے مجھے آپ ﷺ کی طرف بھیجا (باقی حدیث مذکورہ حدیث کی طرح ہے اور اس میں صرف یہ زائد ہے) کہ نبی ﷺ نے اپنا دست مبارک اس کھانے میں رکھا اور اس پر اللہ تعالیٰ کا نام لیا پھر آپ ﷺ نے فرمایا دس آدمیوں کو اجازت دو حضرت ابوطلحہ نے ان کو اجازت دی وہ اندر آئے تو آپ ﷺ نے فرمایا: اللہ کا نام لے کر کھاو انہوں نے کھانا کھایا یہاں تک کہ اسی طرح اسی آدمیوں نے کھایا پھر نبی ﷺ نے اس کے بعد کھانا کھایا اور گھر والوں نے کھانا کھایا اور پھر بھی بچ گیا۔
Anas bin Malik (RA) reported: Abu Talha ordered Umm Sulaim to prepare a meal specially for Allahs Apostle ﷺ . He then sent me to him (to the Holy Prophet); the rest of the hadith is the same (but there is a slight variation of wording): "Allahs Messenger ﷺ placed his hand and mentioned the name of Allah upon that, and then said: Admit ten men. He (Abu Talha) admitted them and they got in. He (the Holy Prophet) said: Eat while mentioning the name of Allah upon it (the meal). They ate until eighty persons had taken the food. Then Allahs Apostle ﷺ had his meal and so the members of the household, and still they left some food."
بااعتماد میزبان کے ہاں اپنے ساتھ کسی اور آدمی کو لے جانے کے جواز میں
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَی عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ بِهَذِهِ الْقِصَّةِ فِي طَعَامِ أَبِي طَلْحَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ فِيهِ فَقَامَ أَبُو طَلْحَةَ عَلَی الْبَابِ حَتَّی أَتَی رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّمَا کَانَ شَيْئٌ يَسِيرٌ قَالَ هَلُمَّهُ فَإِنَّ اللَّهَ سَيَجْعَلُ فِيهِ الْبَرَکَةَ
عبد بن حمید، عبداللہ بن مسلمہ، عبدالعزیز بن محمد، عمرو بن یحیی، انس بن مالک، حضرت انس بن مالک ؓ سے یہی قصہ منقول ہے اور اس روایت میں ہے کہ حضرت ابوطلحہ ؓ دروازے پر کھڑے ہوئے گئے یہاں تک کہ رسول اللہ ﷺ تشریف لے آئے تو حضرت ابوطلحہ نے آپ ﷺ سے عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ تھوڑا سا کھانا ہے آپ ﷺ نے فرمایا وہی لے آؤ کیونکہ اللہ اسی کھانے میں برکت ڈال دے گا۔
Anas bin Malik (RA) reported this incident pertaining to the feast given by Abu Talha to Allahs Apostle ﷺ with the addition of these words: "Abu Talha stood at the door (to welcome the honourable guest) until Allahs Messenger ﷺ came there. He (Abu Talha) said to him: Allahs Messenger, the thing (we intend to offer you as a meal) is small in quantity. Thereupon he (the Holy Prophet) said: Bring that, for Allah will soon bless it (and increase it).
بااعتماد میزبان کے ہاں اپنے ساتھ کسی اور آدمی کو لے جانے کے جواز میں
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ الْبَجَلِيُّ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَی حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَذَا الْحَدِيثِ وَقَالَ فِيهِ ثُمَّ أَکَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَکَلَ أَهْلُ الْبَيْتِ وَأَفْضَلُوا مَا أَبْلَغُوا جِيرَانَهُمْ
عبد بن حمید، خالد بن مخلد بجلی، محمد بن موسی، عبداللہ بن عبداللہ بن ابی طلحہ، انس بن مالک ؓ کی نبی ﷺ سے یہی حدیث منقول ہے اس میں ہے کہ پھر رسول اللہ ﷺ نے کھانا کھایا اور گھر والوں نے بھی کھانا کھایا ( اور اس کے باوجود اتنا کھانا) جو بچ گیا وہ ہم نے اپنے ہمسایوں کو بھیج دیا۔
Anas bin Malik (RA) reported this hadith (with a slight variation of wording) Then AlIahs Messenger ﷺ ate and the people of his house also ate, but (still) there was left a surplus, which they sent to their neighbours.
بااعتماد میزبان کے ہاں اپنے ساتھ کسی اور آدمی کو لے جانے کے جواز میں
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ حَدَّثَنَا أَبِي قَالَ سَمِعْتُ جَرِيرَ بْنَ زَيْدٍ يُحَدِّثُ عَنْ عَمْرِو بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ رَأَی أَبُو طَلْحَةَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُضْطَجِعًا فِي الْمَسْجِدِ يَتَقَلَّبُ ظَهْرًا لِبَطْنٍ فَأَتَی أُمَّ سُلَيْمٍ فَقَالَ إِنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُضْطَجِعًا فِي الْمَسْجِدِ يَتَقَلَّبُ ظَهْرًا لِبَطْنٍ وَأَظُنُّهُ جَائِعًا وَسَاقَ الْحَدِيثَ وَقَالَ فِيهِ ثُمَّ أَکَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو طَلْحَةَ وَأُمُّ سُلَيْمٍ وَأَنَسُ بْنُ مَالِکٍ وَفَضَلَتْ فَضْلَةٌ فَأَهْدَيْنَاهُ لِجِيرَانِنَا
حسن بن علی حلوانی، وہب بن جریر بن زید، عمرو بن عبداللہ بن ابی طلحہ، انس بن مالک ؓ فرماتے ہیں کہ حضرت ابوطلحہ ؓ نے رسول اللہ ﷺ کو مسجد میں لیٹے ہوئے دیکھا آپ ﷺ کا پیٹ پشت سے لگا ہوا تھا حضرت ابوطلحہ ؓ نے ام سلیم ؓ سے آکر فرمایا میں نے رسول اللہ ﷺ کو مسجد میں لیٹے ہوئے دیکھا ہے اور آپ ﷺ کا پیٹ پشت سے لگ رہا ہے میرا خیال ہے کہ آپ ﷺ کو بھوک لگی ہوئی ہے اور پھر مذکورہ حدیث کی طرح حدیث بیان کی اور اس میں ہے کہ پھر سب سے آخر میں رسول اللہ ﷺ اور حضرت ابوطلحہ، ام سلیم، انس بن مالک ؓ نے کھانا کھایا اور کھانا پھر بھی بچ گیا تو ہم نے اپنے ہمسایوں کو ہدیہ کے طور پر بھیج دیا۔
Anas bin Malik (RA) reported: Abu Talha saw Allahs Messenger ﷺ lying down upon his belly in the mosque. He came to Umm Sulaim and said: I saw Allahs Messenger ﷺ lying down upon the belly in the mosque, and I think he is hungry. The rest of the hadith is the same (but with the addition of these words) that Allahs messenger ﷺ ate (the food) and so did Abu Talha, Umm Sulaim and Anas bin Malik (RA), but there was left something which we presented to our neighbours.
بااعتماد میزبان کے ہاں اپنے ساتھ کسی اور آدمی کو لے جانے کے جواز میں
حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَی التُّجِيبِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي أُسَامَةُ أَنَّ يَعْقُوبَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ الْأَنْصَارِيَّ حَدَّثَهُ أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِکٍ يَقُولُا جِئْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا فَوَجَدْتُهُ جَالِسًا مَعَ أَصْحَابِهِ يُحَدِّثُهُمْ وَقَدْ عَصَّبَ بَطْنَهُ بِعِصَابَةٍ قَالَ أُسَامَةُ وَأَنَا أَشُکُّ عَلَی حَجَرٍ فَقُلْتُ لِبَعْضِ أَصْحَابِهِ لِمَ عَصَّبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَطْنَهُ فَقَالُوا مِنْ الْجُوعِ فَذَهَبْتُ إِلَی أَبِي طَلْحَةَ وَهُوَ زَوْجُ أُمِّ سُلَيْمٍ بِنْتِ مِلْحَانَ فَقُلْتُ يَا أَبَتَاهُ قَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ عَصَّبَ بَطْنَهُ بِعِصَابَةٍ فَسَأَلْتُ بَعْضَ أَصْحَابِهِ فَقَالُوا مِنْ الْجُوعِ فَدَخَلَ أَبُو طَلْحَةَ عَلَی أُمِّي فَقَالَ هَلْ مِنْ شَيْئٍ فَقَالَتْ نَعَمْ عِنْدِي کِسَرٌ مِنْ خُبْزٍ وَتَمَرَاتٌ فَإِنْ جَائَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَحْدَهُ أَشْبَعْنَاهُ وَإِنْ جَائَ آخَرُ مَعَهُ قَلَّ عَنْهُمْ ثُمَّ ذَکَرَ سَائِرَ الْحَدِيثِ بِقِصَّتِهِ
حرملہ بن یحییٰ تجیبی، عبداللہ بن وہب، اسامہ، یعقوب بن عبداللہ بن ابی طلحہ انصاری، حضرت انس بن مالک ؓ فرماتے ہیں کہ میں ایک دن رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں آیا تو میں نے آپ ﷺ کو صحابہ کرام ؓ کے ساتھ تشریف فرما پایا اور آپ ﷺ ان سے باتیں فرما رہے تھے اور آپ ﷺ کے پیٹ پر ایک پٹی بندھی ہوئی تھی میں نے بعض صحابہ ؓ سے پوچھا کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے پیٹ پر پٹی کیوں باندھی ہوئی ہے تو وہ کہنے لگے کہ بھوک کی وجہ سے میں حضرت ابوطلحہ ؓ کی طرف گیا جو کہ حضرت ام سلیم ؓ بنت ملحان کے شوہر تھے میں نے ان سے عرض کیا اے ابا جان میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ آپ ﷺ نے اپنے پیٹ پر پٹی باندھی ہوئی ہے میں نے بعض صحابہ ؓ سے اس پٹی کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا کہ آپ ﷺ نے اپنی بھوک کی وجہ سے ایسا کیا ہوا ہے حضرت ابوطلحہ ؓ میری والدہ کے پاس تشریف لائے اور ان سے فرمایا کیا تیرے پاس کوئی چیز ہے ام سلیم نے کہا جی ہاں میرے پاس چند ٹکڑے روٹی کے اور چند کھجوریں ہیں اگر رسول اللہ ﷺ اکیلے تشریف لے آئیں تو یہ کھانا آپ ﷺ کے پیٹ بھرنے کے لئے کافی ہوگا اور اگر اور کوئی بھی آپ ﷺ کے ساتھ آئے گا تو ان سے کم ہوجائے گا مذکورہ واقعہ کی طرح حدیث ذکر کی۔
Anas bin Malik (RA) reported: I visited Allahs Messenger ﷺ one day and found him sitting in the company of his Companions and talking to them, and he had tied his belly with a bandage. Usama said: I am in doubt whether there was stone on that (his belly) or not. I asked some of his Companions why Allahs Messenger ﷺ had bandaged his belly. They said: (He has done that to relieve) his hunger. I went to Abu Talha, the husband of Umm Sulaim, the daughter of Milhan, and said to him: Father, I saw Allahs Messenger ﷺ having bandaged his belly. I asked some of his Companions (the reason of it) and they said that it was due to hunger. Abu Talha came to my mother and said: Is there anything? She said: Yes, I have some pieces of bread with me and some dates. If Allahs Messenger ﷺ comes to us alone we can feed him to his fill, but if someone comes along with him this would be insufficient for them. The rest of the hadith is the same.
بااعتماد میزبان کے ہاں اپنے ساتھ کسی اور آدمی کو لے جانے کے جواز میں
حَدَّثَنِي حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا حَرْبُ بْنُ مَيْمُونٍ عَنْ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي طَعَامِ أَبِي طَلْحَةَ نَحْوَ حَدِيثِهِمْ
حجاج بن شاعر، یونس بن محمد، حرب بن میمون، نضر بن انس، حضرت انس بن مالک ؓ حضرت ابوطلحہ ؓ کے کھانے کے بارے میں مذکورہ حدیث مبارکہ کی طرح حدیث نقل کرتے ہیں۔
Anas bin Malik (RA) reported this hadith pertaining to the entertainment of Allahs Messenger ﷺ by Abu Talha through another chain of transmitters.
شوربہ کھانے کے جواز اور کدو کھانے کے استح کے بیان میں
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ عَنْ مَالِکِ بْنِ أَنَسٍ فِيمَا قُرِئَ عَلَيْهِ عَنْ إِسْحَقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِکٍ يَقُولُا إِنَّ خَيَّاطًا دَعَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِطَعَامٍ صَنَعَهُ قَالَ أَنَسُ بْنُ مَالِکٍ فَذَهَبْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَی ذَلِکَ الطَّعَامِ فَقَرَّبَ إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خُبْزًا مِنْ شَعِيرٍ وَمَرَقًا فِيهِ دُبَّائٌ وَقَدِيدٌ قَالَ أَنَسٌ فَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَتَبَّعُ الدُّبَّائَ مِنْ حَوَالَيْ الصَّحْفَةِ قَالَ فَلَمْ أَزَلْ أُحِبُّ الدُّبَّائَ مُنْذُ يَوْمَئِذٍ
قتیبہ بن سعید، مالک بن انس، اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ، حضرت انس بن مالک ؓ فرماتے ہیں کہ درزی (کپڑے سینے والا) نے رسول اللہ ﷺ کی دعوت کی آپ ﷺ کے لئے کھانا تیار کیا حضرت انس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ اس کھانے کی دعوت میں میں بھی گیا تو رسول اللہ ﷺ کے سامنے جو کی روٹی اور شوربہ جس میں کدو پڑا ہوا تھا اور بھنا ہوا گوشت رکھا گیا حضرت انس کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ آپ ﷺ پیالے کے چاروں طرف کدو تلاش کر کے کھا رہے ہیں حضرت انس فرماتے ہیں کہ اسی دن سے مجھے کدو سے محبت ہوگئی۔
Anas bin Malik (RA) reported: A tailor invited Allahs Messenger ﷺ to a meal which he had prepared. Anas bin Malik (RA) said: I went along with Allahs Messenger ﷺ to that feast. He presented to Allahs Messenger ﷺ barley bread and soup containing pumpkin, and sliced pieces of meat. Anas said: I saw Allahs Messenger ﷺ going after the pumpkin round the dish, so I have always liked the pumpkin since that day.
شوربہ کھانے کے جواز اور کدو کھانے کے استح کے بیان میں
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَائِ أَبُو کُرَيْبٍ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ دَعَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ فَانْطَلَقْتُ مَعَهُ فَجِيئَ بِمَرَقَةٍ فِيهَا دُبَّائٌ فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْکُلُ مِنْ ذَلِکَ الدُّبَّائِ وَيُعْجِبُهُ قَالَ فَلَمَّا رَأَيْتُ ذَلِکَ جَعَلْتُ أُلْقِيهِ إِلَيْهِ وَلَا أَطْعَمُهُ قَالَ فَقَالَ أَنَسٌ فَمَا زِلْتُ بَعْدُ يُعْجِبُنِي الدُّبَّائُ
محمد بن علاء، ابوکریب، ابواسامہ، سلیمان بن مغیرہ، ثابت، حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے رسول اللہ ﷺ کی دعوت کی میں بھی آپ ﷺ کے ساتھ چل پڑا آپ ﷺ کے سامنے شوربہ رکھا گیا جس میں کدو پڑا ہوا تھا رسول اللہ ﷺ اس کدو کو کھانے لگے آپ ﷺ کو کدو بہت پسند تھا حضرت انس کہتے ہیں کہ جب میں نے یہ دیکھا تو میں آپ ﷺ کے سامنے کدو کرنے لگا اور میں خود نہ کھاتا حضرت انس فرماتے ہیں کہ اس کے بعد میں کدو بہت پسند کرنے لگا۔
Anas bin Malik (RA) reported that a person invited Allahs Messenger ﷺ to a meal. I also went along with him. He brought soup containing pumpkin. Allahs messenger ﷺ ate that pumpkin with relish. He (Anas) said: When I saw that I began to place it before him, and did not eat it (myself). Anas said: It was since then that pumpkin was always my favourite (food).