جب کفار کے ہاتھوں گرفتار ہونے کا ڈر ہو تو قرآن مجید ساتھ لے کر کفار کی زمین کی طرف سفر کرنے کی ممانعت کے بیان میں
و حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الْعَتَکِيُّ وَأَبُو کَامِلٍ قَالَا حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تُسَافِرُوا بِالْقُرْآنِ فَإِنِّي لَا آمَنُ أَنْ يَنَالَهُ الْعَدُوُّ قَالَ أَيُّوبُ فَقَدْ نَالَهُ الْعَدُوُّ وَخَاصَمُوکُمْ بِهِ
ابوربیع عتکی، ابوکامل، حماد، ایوب، نافع، حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا قرآن مجید ساتھ لے کر سفر نہ کرو کیونکہ میں قرآن کے دشمنوں کے ہاتھ لگ جانے سے بےخوف نہیں ہوں راوی ایوب نے کہا اگر قرآن کو دشمنوں نے پا لیا تو اس کے ذریعہ تم سے مقابلہ کریں گے۔
It has been narrated on the authority of Ibn Umar that the Messenger of Allah ﷺ said: Do not take the Quran on a journey with you, for I am afraid lost it should fall into the hands of the enemy. Ayyub (one of the narrators in the chain of transmitters) said: The enemy may seize it and may quarrel with you over it.
جب کفار کے ہاتھوں گرفتار ہونے کا ڈر ہو تو قرآن مجید ساتھ لے کر کفار کی زمین کی طرف سفر کرنے کی ممانعت کے بیان میں
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ يَعْنِي ابْنَ عُلَيَّةَ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ وَالثَّقَفِيُّ کُلُّهُمْ عَنْ أَيُّوبَ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْکٍ أَخْبَرَنَا الضَّحَّاکُ يَعْنِي ابْنَ عُثْمَانَ جَمِيعًا عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَدِيثِ ابْنِ عُلَيَّةَ وَالثَّقَفِيِّ فَإِنِّي أَخَافُ وَفِي حَدِيثِ سُفْيَانَ وَحَدِيثِ الضَّحَّاکِ بْنِ عُثْمَانَ مَخَافَةَ أَنْ يَنَالَهُ الْعَدُوُّ
زہیر بن حرب، اسماعیل، ابن علیہ، ابن ابی عمر، سفیان ثقفی، ایوب ابن رافع، ابن ابی فدیک ضحاک ابن عثمان نافع، ابن عمر، ان اسناد سے بھی یہ حدیث اسی طرح مروی ہے ایک سند میں ہے کہ ابن عمر ؓ فرماتے ہیں نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا میں خوف کرتا ہوں اور دوسری روایت میں یہ الفاظ ہیں کہ دشمن کے ہاتھ لگ جانے کے خوف سے۔
The above hadith has been narrated through several other chains with slight differences of wording.
گھوڑوں کے مابین مقابلہ اور اس کی تیاری کے بیان میں
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی التَّمِيمِيُّ قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَالِکٍ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَابَقَ بِالْخَيْلِ الَّتِي قَدْ أُضْمِرَتْ مِنْ الْحَفْيَائِ وَکَانَ أَمَدُهَا ثَنِيَّةَ الْوَدَاعِ وَسَابَقَ بَيْنَ الْخَيْلِ الَّتِي لَمْ تُضْمَرْ مِنْ الثَّنِيَّةِ إِلَی مَسْجِدِ بَنِي زُرَيْقٍ وَکَانَ ابْنُ عُمَرَ فِيمَنْ سَابَقَ بِهَا
یحییٰ بن یحییٰ، تمیمی، مالک، نافع، حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے پریڈ کے قابل گھوڑوں میں حفیاء سے ثنیہ الوداع تک مقابلہ کرایا اور غیر قابل گھوڑوں میں ثنیہ سے مسجد بنی زریق تک مقابلہ کرایا اور ابن عمر ؓ بھی ان میں سے تھے جنہوں نے اس گھڑ دوڑ میں حصہ لیا۔
It has been narrated on the authority of Ibn Umar that the Messenger of Allah ﷺ had a race of the horses which had been especially prepared for the purpose from Hafya to Thaniyyat al-Wada (the latter being the winning post), and of those which had not been trained from Thaniyya to the mosque of Banu Zuraiq, and Ibn Umar (RA) was among those who took part in this race.
گھوڑوں کے مابین مقابلہ اور اس کی تیاری کے بیان میں
و حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی وَمُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ عَنْ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ ح و حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ هِشَامٍ وَأَبُو الرَّبِيعِ وَأَبُو کَامِلٍ قَالُوا حَدَّثَنَا حَمَّادٌ وَهُوَ ابْنُ زَيْدٍ عَنْ أَيُّوبَ ح و حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ عَنْ أَيُّوبَ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِي ح و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ قَالَا حَدَّثَنَا يَحْيَی وَهُوَ الْقَطَّانُ جَمِيعًا عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ح و حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ وَأَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ وَابْنُ أَبِي عُمَرَ قَالُوا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ إِسْمَعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ ح و حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي مُوسَی بْنُ عُقْبَةَ ح و حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي أُسَامَةُ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ کُلُّ هَؤُلَائِ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ بِمَعْنَی حَدِيثِ مَالِکٍ عَنْ نَافِعٍ وَزَادَ فِي حَدِيثِ أَيُّوبَ مِنْ رِوَايَةِ حَمَّادٍ وَابْنِ عُلَيَّةَ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ فَجِئْتُ سَابِقًا فَطَفَّفَ بِي الْفَرَسُ الْمَسْجِدَ
یحییٰ بن یحییٰ، محمد بن رمح، قتیبہ بن سعید، لیث، سعد، ح، خلف بن ہشام، ابوربیع، ابوکاملاں اسناد سے بھی یہ حدیث اسی طرح مروی ہے صرف ایک روایت میں ہے کہ حضرت عبداللہ ؓ فرماتے ہیں میں آگے بڑھ گیا اور گھوڑا مجھے لے کر مسجد میں جا پہنچا۔
This tradition has been handed down through another chain of transmitters with the addition of the following words fromAbdullah bin Umar (RA) :" I came first in the race and my horse jumped into the mosque with me."
گھوڑوں کی فضیلت اور ان کی پیشانیوں میں خیر کے باندھے ہونے کے بیان میں
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَالِکٍ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْخَيْلُ فِي نَوَاصِيهَا الْخَيْرُ إِلَی يَوْمِ الْقِيَامَةِ
یحییٰ بن یحیی، تمیمی، مالک، نافع، حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا گھوڑوں کی پیشانیوں میں خیر و برکت قیامت تک رکھی گئی ہے۔
It has been narrated on the authority of Ibn Umar (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: There will be great benefit in the forelock of the horses until the Day of Judgment.
گھوڑوں کی فضیلت اور ان کی پیشانیوں میں خیر کے باندھے ہونے کے بیان میں
و حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ وَابْنُ رُمْحٍ عَنْ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ ح و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِي ح و حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا يَحْيَی کُلُّهُمْ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ح و حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ حَدَّثَنِي أُسَامَةُ کُلُّهُمْ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِ حَدِيثِ مَالِکٍ عَنْ نَافِعٍ
قتیبہ، ابن رمح، لیث بن سعد، ابوبکر بن ابی شیبہ، علی بن مسہر، عبداللہ بن نمیر، عبیداللہ بن سعید، یحیی، عبیداللہ، ہارون بن سعید ایلی، ابن وہب، اسامہ، نافع، ابن عمران اسناد سے بھی یہ حدیث اسی طرح مروی ہے۔
The same tradition has been handed down through a different chain of transmitters.
گھوڑوں کی فضیلت اور ان کی پیشانیوں میں خیر کے باندھے ہونے کے بیان میں
و حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ وَصَالِحُ بْنُ حَاتِمِ بْنِ وَرْدَانَ جَمِيعًا عَنْ يَزِيدَ قَالَ الْجَهْضَمِيُّ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ سَعِيدٍ عَنْ أَبِي زُرْعَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَلْوِي نَاصِيَةَ فَرَسٍ بِإِصْبَعِهِ وَهُوَ يَقُولُ الْخَيْلُ مَعْقُودٌ بِنَوَاصِيهَا الْخَيْرُ إِلَی يَوْمِ الْقِيَامَةِ الْأَجْرُ وَالْغَنِيمَةُ
نصر بن علی جہضمی، صالح بن حاتم بن وردان، یزید جہضمی، یزید بن زریع، یونس بن عبید، عمرو بن سعید، ابوزرعہ، عمرو بن جریر، حضرت جریر ؓ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو اپنی انگلیوں کے ساتھ گھوڑے کی پیشانی کو ملتے دیکھا اور آپ ﷺ فرما رہے تھے گھوڑوں کی پیشانیوں میں خیروبرکت یعنی ثواب اور غنیمت قیامت کے دن تک باندھ دی گئی ہے۔
It has been narrated on the authority of Jarir binAbdullah who said: I saw that the Messenger of Allah ﷺ was twisting the forelock of a horse with his fingers and he was saying: (A great) benefit. i. e. reward (for rearing them for Jihad) and spoils of war, has been tied to the forelocks of horses until the Day of Judgment.
گھوڑوں کی فضیلت اور ان کی پیشانیوں میں خیر کے باندھے ہونے کے بیان میں
و حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ح و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا وَکِيعٌ عَنْ سُفْيَانَ کِلَاهُمَا عَنْ يُونُسَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ
زہیر بن حرب، اسماعیل بن ابراہیم، ابوبکر بن ابی شیبہ، وکیع، سفیان، یونس، ان دونوں اسناد سے بھی یہ حدیث مبارکہ اسی طرح مروی ہے۔
The above tradition has also been narrated on the authority of Yunus through a different chain of transmitters.
گھوڑوں کی فضیلت اور ان کی پیشانیوں میں خیر کے باندھے ہونے کے بیان میں
و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا زَکَرِيَّائُ عَنْ عَامِرٍ عَنْ عُرْوَةَ الْبَارِقِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْخَيْلُ مَعْقُودٌ فِي نَوَاصِيهَا الْخَيْرُ إِلَی يَوْمِ الْقِيَامَةِ الْأَجْرُ وَالْمَغْنَمُ
محمد بن عبداللہ بن نمیر، زکریا، عامر عروہ، بارقی، حضرت عروہ بارقی ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا گھوڑ روں کی پیشانیوں میں خیر و برکت یعنی اجر اور غنیمت قیامت کے دن تک باندھ دیئے گئے ہیں۔
The same tradition has been narrated on the authority of Urwat al-Bariqi who said that the Prophet ﷺ said: Great good is attached to the forelock of the horses until the Day of Judgment.
گھوڑوں کی فضیلت اور ان کی پیشانیوں میں خیر کے باندھے ہونے کے بیان میں
و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ وَابْنُ إِدْرِيسَ عَنْ حُصَيْنٍ عَنْ الشَّعْبِيِّ عَنْ عُرْوَةَ الْبَارِقِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْخَيْرُ مَعْقُوصٌ بِنَوَاصِي الْخَيْلِ قَالَ فَقِيلَ لَهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ بِمَ ذَاکَ قَالَ الْأَجْرُ وَالْمَغْنَمُ إِلَی يَوْمِ الْقِيَامَةِ
ابوبکر بن ابی شیبہ، ابن فضیل، ابن ادریس، حصین، شعبی، عروہ، بارقی، حضرت عروہ بارقی ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا گھوڑوں کی پیشانیوں میں خیر و بھلائی مرکوز ہے آپ ﷺ سے عرض کیا گیا اے اللہ کے رسول ﷺ کس وجہ سے؟ آپ ﷺ نے فرمایا قیامت کے دن تک ثواب اور غنیمت۔
Urwat al-Bariqi reported Allahs Messenger ﷺ having said this: Good is tied to the forelock of the horses. It Was said to him: Messenger of Allah, why is it so? He (the Holy Prophet ﷺ said): For reward and booty until the Day of Judgment.
گھوڑوں کی فضیلت اور ان کی پیشانیوں میں خیر کے باندھے ہونے کے بیان میں
و حَدَّثَنَاه إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ عَنْ حُصَيْنٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ عُرْوَةُ بْنُ الْجَعْدِ
اسحاق بن ابراہیم، جریر، حصین، عروہ بن جعد، اس سند سے بھی یہ حدیث اسی طرح مروی ہے لیکن اس میں عروہ بن جعد مذکور ہے۔
This hadith has been narrated with the same chain of transmitters with the difference that here instead of" Urwat al-Bariqi" there is" Urwa bin jad."
گھوڑوں کی فضیلت اور ان کی پیشانیوں میں خیر کے باندھے ہونے کے بیان میں
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی وَخَلَفُ بْنُ هِشَامٍ وَأَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ جَمِيعًا عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ ح و حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَابْنُ أَبِي عُمَرَ کِلَاهُمَا عَنْ سُفْيَانَ جَمِيعًا عَنْ شَبِيبِ بْنِ غَرْقَدَةَ عَنْ عُرْوَةَ الْبَارِقِيِّ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَمْ يَذْکُرْ الْأَجْرَ وَالْمَغْنَمَ وَفِي حَدِيثِ سُفْيَانَ سَمِعَ عُرْوَةَ الْبَارِقِيَّ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
یحییٰ بن یحیی، ہشام، ابوبکر بن ابی شیبہ، ابوالاحوص، اسحاق بن ابراہیم، ابن ابی عمر، سفیان، شبیب بن غرقدہ، عروہ بارقی، ان اسناد سے بھی عروہ باقی کی یہی حدیث نبی ﷺ سے اسی طرح مروی ہے۔
A version of the tradition narrated on the authority of Urwat al-Bariqi does not mention (the words):" reward and booty".
گھوڑوں کی فضیلت اور ان کی پیشانیوں میں خیر کے باندھے ہونے کے بیان میں
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ حَدَّثَنَا أَبِي ح و حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّی وَابْنُ بَشَّارٍ قَالَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ کِلَاهُمَا عَنْ شُعْبَةَ عَنْ أَبِي إِسْحَقَ عَنْ الْعَيْزَارِ بْنِ حُرَيْثٍ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الْجَعْدِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَذَا وَلَمْ يَذْکُرْ الْأَجْرَ وَالْمَغْنَمَ
عبیداللہ بن معاذ، محمد بن مثنی، ابن بشار، یحییٰ بن سعید، شعبہ، ابوتیاح، انس بن مالک، حضرت عروہ بن جعد ؓ سے اس سند سے بھی یہ حدیث اسی طرح مروی ہے لیکن اس حدیث میں اجر و غنیمت کا ذکر نہیں۔
A version of the tradition transmitted on the authority of Urwa bin al-jad does not mention" reward and booty".
گھوڑوں کی فضیلت اور ان کی پیشانیوں میں خیر کے باندھے ہونے کے بیان میں
و حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ حَدَّثَنَا أَبِي ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَابْنُ بَشَّارٍ قَالَا حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ کِلَاهُمَا عَنْ شُعْبَةَ عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْبَرَکَةُ فِي نَوَاصِي الْخَيْلِ
عبیداللہ بن معاذ، محمد بن مثنی، ابن بشار، یحییٰ بن سعید، شعبہ، ابوتیاح، انس بن مالک، حضرت انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ برکت گھوڑوں کی پیشانیوں میں ہے۔
It has been narrated on the authority of Anas bin Malik (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: There is a blessing in the forelocks of the war horses.
گھوڑوں کی فضیلت اور ان کی پیشانیوں میں خیر کے باندھے ہونے کے بیان میں
و حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ حَبِيبٍ حَدَّثَنَا خَالِدٌ يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ ح و حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَا حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ سَمِعَ أَنَسًا يُحَدِّثُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ
یحییٰ بن حبیب، ابن حارث، محمد بن ولید، محمد بن جعفر، شعبہ، ابوتیاح، اس سند کے ساتھ بھی حضرت انس ؓ سے یہ حدیث اسی طرح مروی ہے۔
A hadith like this has been narrated on the authority of Anas through another chain of transmitters.
گھوڑوں کی ناپسند یدہ صفات کے بیان میں
و حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی وَأَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَأَبُو کُرَيْبٍ قَالَ يَحْيَی أَخْبَرَنَا و قَالَ الْآخَرُونَ حَدَّثَنَا وَکِيعٌ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ سَلْمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِي زُرْعَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَکْرَهُ الشِّکَالَ مِنْ الْخَيْلِ
یحییٰ بن یحیی، ابوبکر بن ابی شیبہ زہیر بن حرب، ابوکریب یحییٰ وکیع سفیان سلم ابن عبدالرحمن ابی زرعہ، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ کو گھوڑوں میں سے شکال ناپسندیدہ تھے۔
It has been narrated on the authority of Abn Hurairah that the Messenger of Allah ﷺ used to dislike the Shikal horse.
گھوڑوں کی ناپسند یدہ صفات کے بیان میں
و حَدَّثَنَاه مُحَمَّدُ بْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِي ح و حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ جَمِيعًا عَنْ سُفْيَانَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ وَزَادَ فِي حَدِيثِ عَبْدِ الرَّزَّاقِ وَالشِّکَالُ أَنْ يَکُونَ الْفَرَسُ فِي رِجْلِهِ الْيُمْنَی بَيَاضٌ وَفِي يَدِهِ الْيُسْرَی أَوْ فِي يَدِهِ الْيُمْنَی وَرِجْلِهِ الْيُسْرَی
محمد بن نمیر، ابوعبدالرحمن بن بشر، عبدالرزاق، سفیان اس سند سے بھی یہ حدیث اسی طرح مروی ہے عبدالرزاق کی حدیث میں یہ اضافہ ہے کہ شکال یہ ہے کہ گھوڑے کے دائیں پاؤں اور بائیں ہاتھ میں سفیدی ہو یا دائیں ہاتھ اور بائیں پاؤں میں سفیدی ہو۔
This tradition has been narrated on the authority of Sufyan with the addition from Abd ar-Razzaq (one of the narrators) explaining the meaning of shikal as a bone whose right back foot and left front foot or left back foot and right front foot are white.
گھوڑوں کی ناپسند یدہ صفات کے بیان میں
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنِي وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ جَمِيعًا عَنْ شُعْبَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ النَّخَعِيِّ عَنْ أَبِي زُرْعَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِ حَدِيثِ وَکِيعٍ وَفِي رِوَايَةِ وَهْبٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ وَلَمْ يَذْکُرْ النَّخَعِيَّ
بن بشار محمد ابن جعفر محمد بن مثنی، وہب بن جریر، شعبہ، عبداللہ بن یزید نخعی، ابی زرعہ حضرت ابوہریرہ ؓ سے نبی ﷺ کی یہ حدیث اس سند سے بھی مروی ہے۔
The tradition has been handed down through a different chain of transmitters.
جہاد اور اللہ کے راستہ میں نکلنے کی فضلیت کے بیان میں
و حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ عُمَارَةَ وَهُوَ ابْنُ الْقَعْقَاعِ عَنْ أَبِي زُرْعَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَضَمَّنَ اللَّهُ لِمَنْ خَرَجَ فِي سَبِيلِهِ لَا يُخْرِجُهُ إِلَّا جِهَادًا فِي سَبِيلِي وَإِيمَانًا بِي وَتَصْدِيقًا بِرُسُلِي فَهُوَ عَلَيَّ ضَامِنٌ أَنْ أُدْخِلَهُ الْجَنَّةَ أَوْ أَرْجِعَهُ إِلَی مَسْکَنِهِ الَّذِي خَرَجَ مِنْهُ نَائِلًا مَا نَالَ مِنْ أَجْرٍ أَوْ غَنِيمَةٍ وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ مَا مِنْ کَلْمٍ يُکْلَمُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ إِلَّا جَائَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ کَهَيْئَتِهِ حِينَ کُلِمَ لَوْنُهُ لَوْنُ دَمٍ وَرِيحُهُ مِسْکٌ وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَوْلَا أَنْ يَشُقَّ عَلَی الْمُسْلِمِينَ مَا قَعَدْتُ خِلَافَ سَرِيَّةٍ تَغْزُو فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَبَدًا وَلَکِنْ لَا أَجِدُ سَعَةً فَأَحْمِلَهُمْ وَلَا يَجِدُونَ سَعَةً وَيَشُقُّ عَلَيْهِمْ أَنْ يَتَخَلَّفُوا عَنِّي وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَوَدِدْتُ أَنِّي أَغْزُو فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَأُقْتَلُ ثُمَّ أَغْزُو فَأُقْتَلُ ثُمَّ أَغْزُو فَأُقْتَلُ
زہیر بن حرب، جریر، عمارہ ابن قعقاع، ابی زوعہ، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ اس کا ضامن ہوجاتا ہے جو اس کے راستہ میں نکلتا ہے۔ اللہ سبحانہ وتعالٰی فرماتا ہے:" جو شخص صرف میرے راستہ میں جہاد اور مجھ پر ایمان اور میرے رسول کی تصدیق کرتے ہوئے نکلتا ہے تو اس کی مجھ پر ذمہ داری ہے کہ اس کو جنت میں داخل کروں گا یا اس کو اس کے اس گھر کی طرف اجر وثواب اور غنیمت۔ رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے " جس کے قبضہ قدرت میں مجھ محمد کی جان ہے اللہ کے راستہ میں جو بھی زخم لگتا ہے وہ زخم لگنے کے وقت تھا اس کا رنگ خون کا رنگ ہوگا اور اس کی خوشبو مشک کی ہوگی اور اس ذات کی قسم جس کے قبضہ وقدرت میں میں محمد ﷺ کی جان ہے اگر مسلمانوں پر دشوار نہ ہوتا تو میں اللہ کے راستہ میں جنگ کرنے والے لشکر کا ساتھ کبھی نہ چھوڑتا لیکن میں اتنی وسعت نہیں پاتا کہ ان سب لشکر والوں کو سواریاں دوں اور نہ وہ اتنی وسعت پاتے ہیں اور ان پر مشکل ہوتا ہے کہ وہ مجھ سے پیچھے رہ جائیں اور اس ذات کی قسم جس کے قبضہ وقدرت میں محمد ﷺ کی جان ہے مجھے یہ بات پسند ہے کہ میں اللہ کے راستہ میں جہاد کروں پھر مجھے قتل کیا جائے پھر جہاد کروں تو مجھے قتل کیا جائے پھر جہاد کروں تو مجھے قتل کیا جائے۔
It has been narrated on the authority of Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ (may peace upon him) said: Allah has undertaken to look after the affairs of one who goes out to fight in His way believing in Him and affirming the truth of His Apostles. He is committed to His care that Re will either admit him to Paradise or bring him back to his home from where he set out with a reward or (his share of) booty. By the Being in Whose Hand is the life of Muhammad. If a person gets wounded in the way of Allah, he will come on the Day of Judgment with his wound in the same condition as it was when it was first inflicted; its colour being the colour of blood but its smell will be the smell of musk. By, the Being in Whose Hand is Muhammads life, if it were not to be too hard upon the Muslime. I would not lag behind any expedition which is going to fight in the cause of Allah. But I do not have abundant means to provide them (the Mujahids) with riding beasts, nor have they (i. e. all of them) abundant means (to provide themselves with all the means of Jihad) so that they could he left behind. By the Being in Whose Hand is Mubammgls lac, I love to fight in the way of Allah and be killed, to fight and again be killed and to fight again and be killed.
جہاد اور اللہ کے راستہ میں نکلنے کی فضلیت کے بیان میں
و حَدَّثَنَاه أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو کُرَيْبٍ قَالَا حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ عَنْ عُمَارَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ
ابوبکر بن ابی شیبہ، ابوکریب، ابن فضیل، عمارہ، اس سند سے بھی یہ حدیث مبارکہ اسی طرح مروی ہے۔
The same tradition has been melted through another chain of transmitters.