جنگ کرنے کے ارادہ کے وقت لشکر کے امیر کی بیعت کرنے کے استح اور شجرہ کے نیچے بیعت رضوان کے بیان میں
و حَدَّثَنِي حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ قَالَا حَدَّثَنَا شَبَابَةُ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ أَبِيهِ قَالَ لَقَدْ رَأَيْتُ الشَّجَرَةَ ثُمَّ أَتَيْتُهَا بَعْدُ فَلَمْ أَعْرِفْهَا
حجاج بن شاعر، محمد بن رافع، شبابہ، شعبہ، قتادہ، حضرت سعید بن مسیب ؓ اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ ہم نے اس درخت کو دیکھا تھا پھر میں اس کے پاس آیا تو میں اسے پہچان نہ سکا۔
The tradition has been narrated on the authority of Said bin Musayyib who learnt it from his father. The latter said: I had seen the tree. When I came to the spot afterwards, I could not recognise it.
جنگ کرنے کے ارادہ کے وقت لشکر کے امیر کی بیعت کرنے کے استح اور شجرہ کے نیچے بیعت رضوان کے بیان میں
و حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا حَاتِمٌ يَعْنِي ابْنَ إِسْمَعِيلَ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ مَوْلَی سَلَمَةَ بْنِ الْأَکْوَعِ قَالَ قُلْتُ لِسَلَمَةَ عَلَی أَيِّ شَيْئٍ بَايَعْتُمْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ قَالَ عَلَی الْمَوْتِ
قتیبہ بن سعید، حاتم بن اسماعیل، یزید ابن ابی عبید مولیٰ سلمہ بن اکوع، حضرت یزید بن ابی عبید ؓ مولیٰ سلمہ بن اکوع ؓ سے روایت ہے کہ میں نے سلمہ سے کہا تم نے رسول اللہ ﷺ سے حدیبیہ کے دن کس بات پر بیعت کی تھی انہوں نے کہا موت پر۔
It has been narrated on the authority of Yazid bin Abu Ubaid (the freed slave of Salama bin al-Akwa) who said: 1 asked Salama as to what effect he had sworn fealty to the Messenger of Allah ﷺ on the Day of Hudaibiya. He said: To the effect that we will die fighting.
جنگ کرنے کے ارادہ کے وقت لشکر کے امیر کی بیعت کرنے کے استح اور شجرہ کے نیچے بیعت رضوان کے بیان میں
و حَدَّثَنَاه إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ مَسْعَدَةَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ عَنْ سَلَمَةَ بِمِثْلِهِ
اسحاق بن ابراہیم، حماد بن مسعدہ، یزید، سلمہ، اس سند سے بھی یہ حدیث مبارکہ اسی طرح مروی ہے۔
The above tradition has also been handed down through a different chain of transmitters.
جنگ کرنے کے ارادہ کے وقت لشکر کے امیر کی بیعت کرنے کے استح اور شجرہ کے نیچے بیعت رضوان کے بیان میں
و حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا الْمَخْزُومِيُّ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ يَحْيَی عَنْ عَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ قَالَ أَتَاهُ آتٍ فَقَالَ هَا ذَاکَ ابْنُ حَنْظَلَةَ يُبَايِعُ النَّاسَ فَقَالَ عَلَی مَاذَا قَالَ عَلَی الْمَوْتِ قَالَ لَا أُبَايِعُ عَلَی هَذَا أَحَدًا بَعْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
اسحاق بن ابراہیم، حماد بن مسعد ہ، یزید سلمہ، حضرت عبداللہ بن زید ؓ سے روایت ہے کہ اس کے پاس کوئی آنے والا آیا اور اس نے کہا کہ ابن حنظلہ لوگوں سے بیعت لے رہے ہیں عبداللہ نے کہا کس بات پر اس نے کہا موت پر فرمایا اس بات پر رسول اللہ ﷺ کے بعد میں کسی سے بیعت نہیں کروں گا۔
It has been narrated on the authority ofAbdullah bin Zaid (RA) who said: A person came to him and said: Here is Ibn Hanzala who is making people swear allegiance to him. He (Abdullah) asked: To what effect? He replied: To the effect that they will die for him. Abdullah said: I will never swear allegiance to this effect after the Messenger of Allah ﷺ .
مہاجر کا اپنے وطن ہجرت کو دوبارہ وطن بنانے کی حرمت کے بیان میں
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا حَاتِمٌ يَعْنِي ابْنَ إِسْمَعِيلَ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْأَکْوَعِ أَنَّهُ دَخَلَ عَلَی الْحَجَّاجِ فَقَالَ يَا ابْنَ الْأَکْوَعِ ارْتَدَدْتَ عَلَی عَقِبَيْکَ تَعَرَّبْتَ قَالَ لَا وَلَکِنْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَذِنَ لِي فِي الْبَدْوِ
قتیبہ بن سعید، حاتم بن اسماعیل، یزید ابن ابی عبید، حضرت سلمہ بن اکوع ؓ حجاج کے پاس گئے تو اس نے کہا اے ابن اکوع تم ایڑیوں کے بل لوٹ کر صحرا میں بھاگ گئے تھے انہوں نے کہا نہیں بلکہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے صحرا میں واپس جانے کی اجازت دے دی تھی۔
It has been narrated by Salama bin al-Akwa that he visited al-Hajjaj who said to him: O son of al-Akwa, you have turned apostate and have come to live again in the desert with the Bedouins (after your migration). He said: No, but the Messenger of Allah ﷺ has permitted me to live in the desert.
فتح مکہ کے بعد اسلام جہاد اور بھلائی پر بیعت کرنے اور فتح مکہ کے بعد ہجرت نہیں ہے کی تاویل کے بیان میں
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ أَبُو جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ بْنُ زَکَرِيَّائَ عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ حَدَّثَنِي مُجَاشِعُ بْنُ مَسْعُودٍ السُّلَمِيُّ قَالَ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُبَايِعُهُ عَلَی الْهِجْرَةِ فَقَالَ إِنَّ الْهِجْرَةَ قَدْ مَضَتْ لِأَهْلِهَا وَلَکِنْ عَلَی الْإِسْلَامِ وَالْجِهَادِ وَالْخَيْرِ
محمد بن صباح، ابوجعفر، اسماعیل بن زکریا، عاصم، ابوعثمان نہدی، مجاشع بن مسعود سلمی، حضرت مجاشع بن مسعود ؓ سلمی سے روایت ہے کہ میں نبی ﷺ کی خدمت میں ہجرت پر بیعت کرنے کے لئے حاضر ہوا تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا اہل ہجرت کی ہجرت تو گزر چکی ہے لیکن اسلام جہاد اور بھلائی پر بیعت کرسکتے ہو۔
It has been reported on the authority of Mujashi bin Masud as-Sulami who said: I came to the Holy Prophet ﷺ to offer him my pledge of migration. He said: The period of migration has expired (and those who wereto get the reward for this great act of devotion have got it). You may now give your pledge to serve the cause of Islam, to strive in the way of Allah and to follow the path of virtue.
فتح مکہ کے بعد اسلام جہاد اور بھلائی پر بیعت کرنے اور فتح مکہ کے بعد ہجرت نہیں ہے کی تاویل کے بیان میں
و حَدَّثَنِي سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ عَنْ عَاصِمٍ عَنْ أَبِي عُثْمَانَ قَالَ أَخْبَرَنِي مُجَاشِعُ بْنُ مَسْعُودٍ السُّلَمِيُّ قَالَ جِئْتُ بِأَخِي أَبِي مَعْبَدٍ إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ الْفَتْحِ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ بَايِعْهُ عَلَی الْهِجْرَةِ قَالَ قَدْ مَضَتْ الْهِجْرَةُ بِأَهْلِهَا قُلْتُ فَبِأَيِّ شَيْئٍ تُبَايِعُهُ قَالَ عَلَی الْإِسْلَامِ وَالْجِهَادِ وَالْخَيْرِ قَالَ أَبُو عُثْمَانَ فَلَقِيتُ أَبَا مَعْبَدٍ فَأَخْبَرْتُهُ بِقَوْلِ مُجَاشِعٍ فَقَالَ صَدَقَ
سوید بن سعید، علی بن مسہر، عاصم، ابی عثمان، مجاشع بن مسعود سلمی، حضرت مجاشع بن مسعود سلمی ؓ سے روایت ہے کہ میں اپنے بھائی ابومعبد کو لے کر فتح مکہ کے بعد رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ اس سے ہجرت پر بیعت لیں آپ ﷺ نے فرمایا اہل ہجرت کی ہجرت گزر چکی ہے میں نے عرض کیا پھر اس سے کس بات پر بیعت لیں گے آپ ﷺ نے فرمایا اسلام جہاد اور بھلائی پر ابوعثمان نے کہا میں ابومعبد سے ملا تو اسے مجاشع کے اس قول کی خبر دی تو انہوں نے کہا مجاشع نے سچ کہا ہے۔
It has been reported on the authority of Mujashi bin Masud who said: I brought my brother Abu Mabad to the Messenger of Allah ﷺ after the conquest of Makkah and said: Messenger of Allah, allow him to swear his pledge of migration at your hand. He said: The period of migration is over with those who had to do it (and now nobody can get this meritorious distinctions) I said: For what actions will you allow him to bind himself in oath? He said: (He can do so) for serving the cause of Islam, for fighting in the way of Allah and for fighting in the cause of virtue. Abd Uthman said: I met Abd Mabad and told him what I had heard from Mujashi. He said: He has told the truth.
فتح مکہ کے بعد اسلام جہاد اور بھلائی پر بیعت کرنے اور فتح مکہ کے بعد ہجرت نہیں ہے کی تاویل کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ عَنْ عَاصِمٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ قَالَ فَلَقِيتُ أَخَاهُ فَقَالَ صَدَقَ مُجَاشِعٌ وَلَمْ يَذْکُرْ أَبَا مَعْبَدٍ
ابوبکر بن ابی شیبہ، محمد بن فضیل، عاصم، اس سند سے بھی یہ حدیث اسی طرح مروی ہے لیکن اس میں راوی کہتا ہے کہ میں نے اس کے بھائی سے ملاقات کی تو اس نے کہا مجاشع نے سچ کہا ہے ابومعبد کا نام ذکر نہیں کیا۔
Another version of the tradition transmitted on the authority of Asim has the same wording but does not mention the name of Abu Mabad.
فتح مکہ کے بعد اسلام جہاد اور بھلائی پر بیعت کرنے اور فتح مکہ کے بعد ہجرت نہیں ہے کی تاویل کے بیان میں
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَا أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنْ طَاوُسٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْفَتْحِ فَتْحِ مَکَّةَ لَا هِجْرَةَ وَلَکِنْ جِهَادٌ وَنِيَّةٌ وَإِذَا اسْتُنْفِرْتُمْ فَانْفِرُوا
یحییٰ بن یحیی، اسحاق بن ابراہیم، جریر، منصور، مجاہد، طاؤس، حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فتح یعنی فتح مکہ کے دن فرمایا اب ہجرت نہیں لیکن جہاد اور نیت ہے اور جب تمہیں جہاد کے لئے بلایا جائے تو چلے آؤ۔
It has been narrated on the authority of Ibn Abbas that the Messenger of Allah ﷺ said on the day of the Conquest of Makkah: There is no Hijra now, but (only) Jihad (fighting for the cause of Islam) and sincerity of purpose (have great reward) ; when you are asked to set out (on an expedition undertaken for the cause of Islam) you should (readily) do so.
فتح مکہ کے بعد اسلام جہاد اور بھلائی پر بیعت کرنے اور فتح مکہ کے بعد ہجرت نہیں ہے کی تاویل کے بیان میں
و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو کُرَيْبٍ قَالَا حَدَّثَنَا وَکِيعٌ عَنْ سُفْيَانَ ح و حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ مَنْصُورٍ وَابْنُ رَافِعٍ عَنْ يَحْيَی بْنِ آدَمَ حَدَّثَنَا مُفَضَّلٌ يَعْنِي ابْنَ مُهَلْهِلٍ ح و حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَی عَنْ إِسْرَائِيلَ کُلُّهُمْ عَنْ مَنْصُورٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ
ابوبکر بن ابی شیبہ، ابوکریب، وکیع، سفیان، اسحاق بن منصور، ابن رافع، یحییٰ بن آدم، مفضل، ابن مہلہل، عبد بن حمید، عبیداللہ بن موسی، اسرائیل، منصور، ان اسناد سے بھی یہ حدیث اسی طرح مروی ہے۔
The above tradition has been handed down through a different chain of transmitters.
فتح مکہ کے بعد اسلام جہاد اور بھلائی پر بیعت کرنے اور فتح مکہ کے بعد ہجرت نہیں ہے کی تاویل کے بیان میں
و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي حُسَيْنٍ عَنْ عَطَائٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْهِجْرَةِ فَقَالَ لَا هِجْرَةَ بَعْدَ الْفَتْحِ وَلَکِنْ جِهَادٌ وَنِيَّةٌ وَإِذَا اسْتُنْفِرْتُمْ فَانْفِرُوا
محمد بن عبداللہ بن نمیر، ابی عبداللہ بن حبیب بن ابی ثابت، عبداللہ بن عبدالرحمن بن ابی حسین، عطاء، حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے ہجرت کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا فتح مکہ کے بعد ہجرت نہیں ہے لیکن جہاد اور نیت اور جب تمہیں جہاد کے لئے بلایا جائے تو فورا نکل پڑو۔
Aisha reported that the Messenger of Allah ﷺ was asked about migration, whereupon he said: There is no migration after the Conquest (of Makkah), but Jihad and sincere intention. When you are asked to set out (for the cause of Islam), you should set out,
فتح مکہ کے بعد اسلام جہاد اور بھلائی پر بیعت کرنے اور فتح مکہ کے بعد ہجرت نہیں ہے کی تاویل کے بیان میں
و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ خَلَّادٍ الْبَاهِلِيُّ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَمْرٍو الْأَوْزَاعِيُّ حَدَّثَنِي ابْنُ شِهَابٍ الزُّهْرِيِّ حَدَّثَنِي عَطَائُ بْنُ يَزِيدَ اللَّيْثِيُّ أَنَّهُ حَدَّثَهُمْ قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ أَنَّ أَعْرَابِيًّا سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْهِجْرَةِ فَقَالَ وَيْحَکَ إِنَّ شَأْنَ الْهِجْرَةِ لَشَدِيدٌ فَهَلْ لَکَ مِنْ إِبِلٍ قَالَ نَعَمْ قَالَ فَهَلْ تُؤْتِي صَدَقَتَهَا قَالَ نَعَمْ قَالَ فَاعْمَلْ مِنْ وَرَائِ الْبِحَارِ فَإِنَّ اللَّهَ لَنْ يَتِرَکَ مِنْ عَمَلِکَ شَيْئًا
ابوبکر بن خلاد باہلی، ولید بن مسلم، عبدالرحمن بن عمرو اوزاعی، ابن شہاب، زہری، عطاء بن یزید لیثی، حضرت ابوسعیدخدری ؓ سے روایت ہے کہ ایک اعرابی نے رسول اللہ ﷺ سے ہجرت کے بارے میں سوال کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا ارے ہجرت کا معاملہ تو بہت سخت ہے کیا تیرے پاس اونٹ ہیں اس نے عرض کیا جی ہاں آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کیا تو ان کی زکوٰۃ ادا کرتا ہے اس نے عرض کیا جی ہاں آپ ﷺ نے فرمایا تو سمندر پار عمل کرتا رہ بیشک اللہ تیرے اعمال میں سے کچھ بھی ضائع نہیں فرمائے گا۔
It has been narrated on the authority of Abu Said al-Khudari that a Bedouin asked the Messenger of Allah ﷺ about Migration. He replied: Do you talk of Hijra? The affair of Hijra is very difficult. But have you got camels? The bedouin said: Yes. He asked: Do you pay the poor-rate payable on their account? He replied: Yes. He (the Holy Prophet) said: Go on doing good deeds (across the seas), for surely God will not leave any of your deeds unrewarded.
فتح مکہ کے بعد اسلام جہاد اور بھلائی پر بیعت کرنے اور فتح مکہ کے بعد ہجرت نہیں ہے کی تاویل کے بیان میں
و حَدَّثَنَاه عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ إِنَّ اللَّهَ لَنْ يَتِرَکَ مِنْ عَمَلِکَ شَيْئًا وَزَادَ فِي الْحَدِيثِ قَالَ فَهَلْ تَحْلُبُهَا يَوْمَ وِرْدِهَا قَالَ نَعَمْ
عبداللہ بن عبدالرحمن دارمی، محمد بن یوسف اوزاعی، اس سند سے بھی یہ حدیث اسی طرح مروی ہے اس میں ہے کہ اللہ تیرے کسی عمل کو ضائع نہیں کرے گا اور مزید یہ ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا کیا تم اونٹنیوں کے پانی کے دن ان کا دودھ دوہنے کی اجازت دیتے ہو تو اس نے کہا جی ہاں۔
This tradition has been handed down through a different chain of transmitter with the addition of the following words at the end:" Do you milk them on the day they arrive at the water? He replied: Yes."
عورتوں کی بیعت کے طریقہ کے بیان میں
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ سَرْحٍ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ قَالَ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ كَانَتْ الْمُؤْمِنَاتُ إِذَا هَاجَرْنَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُمْتَحَنَّ بِقَوْلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ إِذَا جَاءَكَ الْمُؤْمِنَاتُ يُبَايِعْنَكَ عَلَى أَنْ لَا يُشْرِكْنَ بِاللَّهِ شَيْئًا وَلَا يَسْرِقْنَ وَلَا يَزْنِينَ إِلَى آخِرِ الْآيَةِ قَالَتْ عَائِشَةُ فَمَنْ أَقَرَّ بِهَذَا مِنْ الْمُؤْمِنَاتِ فَقَدْ أَقَرَّ بِالْمِحْنَةِ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَقْرَرْنَ بِذَلِكَ مِنْ قَوْلِهِنَّ قَالَ لَهُنَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ انْطَلِقْنَ فَقَدْ بَايَعْتُكُنَّ وَلَا وَاللَّهِ مَا مَسَّتْ يَدُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَ امْرَأَةٍ قَطُّ غَيْرَ أَنَّهُ يُبَايِعُهُنَّ بِالْكَلَامِ قَالَتْ عَائِشَةُ وَاللَّهِ مَا أَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى النِّسَاءِ قَطُّ إِلَّا بِمَا أَمَرَهُ اللَّهُ تَعَالَى وَمَا مَسَّتْ كَفُّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَفَّ امْرَأَةٍ قَطُّ وَكَانَ يَقُولُ لَهُنَّ إِذَا أَخَذَ عَلَيْهِنَّ قَدْ بَايَعْتُكُنَّ كَلَامًا
ابوطاہر، احمد بن عمرو بن سرح، ابن وہب، یونس بن یزید، ابن شہاب، عروہ بن زبیر، حضرت عائشہ ؓ، سیدہ عائشہ ؓ زوجہ نبی ﷺ سے روایت ہے کہ جب مومن عورتیں رسول اللہ ﷺ کے پاس ہجرت کرکے آتیں تو آپ ﷺ اللہ کے اس قول کی بناء پر ان کا امتحان لیتے (یَاَیُّھَا النَّبِیُ اِذَا جَاءَکَ المُومِنٰتُ ) اے نبی جب آپ کے پاس عورتیں اس بات پر بیعت کرنے کے لئے حاضر ہوں کہ وہ اللہ کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہیں کریں گیں اور نہ چوری کریں گیں اور نہ زنا کریں گیں "۔ سیدہ عائشہ ؓ نے کہا کہ مومن عورتوں میں سے جو ان باتوں کا اقرار کرلیتی تو اس کا امتحان منعقد ہوجاتا اور جب وہ ان باتوں کا اقرار کرلیتیں تو رسول اللہ ﷺ ان سے فرماتے جاؤ تحقیق! میں تمہیں بیعت کرچکا ہوں اللہ کی قسم رسول اللہ ﷺ کے ہاتھ نے کسی عورت کے ہاتھ کو نہ چھوا ہاں آپ ﷺ ان سے گفتگو کے ذریعہ بیعت لیتے تھے عائشہ ؓ نے کہا اللہ کی قسم رسول اللہ ﷺ نے عورتوں سے اللہ کے حکم کے علاوہ کسی بات پر بیعت نہیں لی اور نہ رسول اللہ ﷺ کی ہتھیلی نے کسی عورت کی ہتھیلی کو کبھی مس کیا اور آپ ﷺ جب ان سے بیعت لیتے تو انہیں زبان سے فرما دیتے کہ میں نے تمہاری بیعت کرلی۔
It has been narrated on the authority of Aisha, the wife of the Holy Prophet ﷺ . She said: When the believing women migrated (to Madinah) and came to the Messenger of Allah ﷺ , they would be tested in accordance with the following words of Allah. the Almighty and Exalted:" O Prophet, when believing women come to thee to take the oath of fealty to thee that they will not associate in worship anything with God, that they will not steal. that, they will not commit adultery..." to the end of the verse (lx. 62).
Whoso from the believing women accepted these conditions and agreed to abide by them were considered to have offered themselves for swearing fealty. When they had (formally) declared their resolve to do so, the Messenger of Allah ﷺ would say to them: You may go. I have confirmed your fealty. By God, the hand of the Messenger of Allah ﷺ never touched the hand of a woman. He would take the oath of fealty from them by oral declaration. By God, the Messenger of Allah ﷺ never took any vow from women except that which God had ordered him to take, and his palm never touched the palm of a woman. When he had taken their vow, he would tell them that he had taken the oath from them orally.
عورتوں کی بیعت کے طریقہ کے بیان میں
و حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ وَأَبُو الطَّاهِرِ قَالَ أَبُو الطَّاهِرِ أَخْبَرَنَا و قَالَ هَارُونُ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ حَدَّثَنِي مَالِکٌ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عُرْوَةَ أَنَّ عَائِشَةَ أَخْبَرَتْهُ عَنْ بَيْعَةِ النِّسَائِ قَالَتْ مَا مَسَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ امْرَأَةً قَطُّ إِلَّا أَنْ يَأْخُذَ عَلَيْهَا فَإِذَا أَخَذَ عَلَيْهَا فَأَعْطَتْهُ قَالَ اذْهَبِي فَقَدْ بَايَعْتُکِ
ہارون بن سعید ایلی، ابوطاہر، ابن وہب، مالک، ابن شہاب، حضرت عروہ ؓ سے روایت ہے کہ سیدہ عائشہ ؓ نے اسے عورتوں کی بیعت کی کیفیت کی خبر دی کہا رسول اللہ ﷺ نے کبھی کسی عورت کو اپنے ہاتھ سے نہیں چھوا ہاں جس وقت آپ ﷺ بیعت لیتے اور عورت (زبانی) عہد کرلیتی تو آپ ﷺ (زبان سے) فرما دیتے جاؤ میں نے تجھے بیعت کرلیا۔
It has been narrated on the authority of Urwa that Aisha described to him the way the Holy Prophet ﷺ took the oath of fealty from women. She said: The Messenger of Allah ﷺ never touched a woman with his hand. He would only take a vow from her and when he had taken the (verbal) vow, he would say: You may go. I have accepted your fealty.
حسب طاقت احکام سننے اور اطاعت کرنے کی بیعت کرنے کے بیان میں
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ أَيُّوبَ وَقُتَيْبَةُ وَابْنُ حُجْرٍ وَاللَّفْظُ لِابْنِ أَيُّوبَ قَالُوا حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ وَهُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ يَقُولُا کُنَّا نُبَايِعُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَی السَّمْعِ وَالطَّاعَةِ يَقُولُ لَنَا فِيمَا اسْتَطَعْتَ
یحییٰ بن ایوب، قتیبہ، ابن حجر، اسماعیل ابن جعفر، عبداللہ بن دینار، حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ ﷺ سے احکام سننے اور اطاعت کرنے پر بیعت کرتے تھے اور آپ ﷺ ہمیں ارشاد فرماتے تھے جہاں تک تمہاری طاقت ہو۔
It has been narrated on the authority ofAbdullah bin Umar who said: We used to take oath to the Messenger of Allah ﷺ that we would listen to and obey his orders. He would tell us (to say in the oath): As far as it lies in my power.
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ عَرَضَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ أُحُدٍ فِي الْقِتَالِ وَأَنَا ابْنُ أَرْبَعَ عَشْرَةَ سَنَةً فَلَمْ يُجِزْنِي وَعَرَضَنِي يَوْمَ الْخَنْدَقِ وَأَنَا ابْنُ خَمْسَ عَشْرَةَ سَنَةً فَأَجَازَنِي قَالَ نَافِعٌ فَقَدِمْتُ عَلَی عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ وَهُوَ يَوْمَئِذٍ خَلِيفَةٌ فَحَدَّثْتُهُ هَذَا الْحَدِيثَ فَقَالَ إِنَّ هَذَا لَحَدٌّ بَيْنَ الصَّغِيرِ وَالْکَبِيرِ فَکَتَبَ إِلَی عُمَّالِهِ أَنْ يَفْرِضُوا لِمَنْ کَانَ ابْنَ خَمْسَ عَشْرَةَ سَنَةً وَمَنْ کَانَ دُونَ ذَلِکَ فَاجْعَلُوهُ فِي الْعِيَالِ
محمد بن عبداللہ بن نمیر، ابی عبیداللہ، نافع، حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ میں نے چودہ سال کی عمر میں اپنے آپ کو غزوہ احد کے دن جہاد کے لئے رسول اللہ ﷺ پر پیش کیا آپ ﷺ نے مجھے اجازت مرحمت نہ فرمائی پھر میں نے اپنے آپ کو پندرہ سال کی عمر میں خندق کے دن پیش کیا تو آپ ﷺ نے اجازت مرحمت فرما دی نافع نے کہا کہ عمر بن عبدا لعزیز کے پاس ان دنوں میں آیا جب وہ خلیفہ تھے اور انہیں یہ حدیث بیان کی تو انہوں نے کہا یہ چھوٹے اور بڑے کے درمیان حد ہے انہوں نے اپنے عاملوں کو لکھا کہ جو پندرہ سال کا ہو اس کا حصہ مقرر کریں اور جو اس سے کم عمر کا ہو اسے بچوں میں شمار کریں۔
It has been narrated on the authority of Ibn Umar who said: The Messenger of Allah ﷺ inspected me on the battlefield on the Day of Uhud, and I was fourteen years old. He did not allow me (to take part in the fight). He inspected me on the Day of Khandaq-and I was fifteen yearsold, and he permitted me (to fight), Nafi said: I came to Umar bin Abdul Aziz (RA) who was then Caliph, and narrated this tradition to him. He said: Surely, this is the demarcation between a minor and a major. So he wrote to his governors that they should pay subsistence allowance to one who was fifteen years old, but should treat those of lesser age among children.
و حَدَّثَنَاه أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ وَعَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ يَعْنِي الثَّقَفِيَّ جَمِيعًا عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِهِمْ وَأَنَا ابْنُ أَرْبَعَ عَشْرَةَ سَنَةً فَاسْتَصْغَرَنِي
ابوبکر بن ابی شیبہ، عبداللہ بن ادریس، عبدالرحیم بن سلیمان، محمد بن مثنی، عبدالوہاب ثقفی، عبیداللہ، اس سند کے ساتھ بھی یہ حدیث اسی طرح مروی ہے لیکن اس میں الفاظ ہیں کہ ابن عمر ؓ فرماتے ہیں میں چودہ سال کا تھا تو آپ ﷺ نے مجھے چھوٹا تصور فرمایا۔
This tradition has been handed down through a different chain Of transmitters with the following change in the wording:" I was fourteen years old and he thought me too young (to participate in the fight)."
جب کفار کے ہاتھوں گرفتار ہونے کا ڈر ہو تو قرآن مجید ساتھ لے کر کفار کی زمین کی طرف سفر کرنے کی ممانعت کے بیان میں
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَالِکٍ عَنْ نَافِعٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ نَهَی رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُسَافَرَ بِالْقُرْآنِ إِلَی أَرْضِ الْعَدُوِّ
یحییٰ بن یحیی، مالک، نافع، حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے دشمنوں کے ملک کی طرف قرآن مجید ساتھ لے کر سفر کرنے سے منع فرمایا۔
It has been narrated on the authority of Ibn Umar who said: The Messenger of Allah ﷺ forbade that one should travel to the land of the enemy taking the Quran with him.
جب کفار کے ہاتھوں گرفتار ہونے کا ڈر ہو تو قرآن مجید ساتھ لے کر کفار کی زمین کی طرف سفر کرنے کی ممانعت کے بیان میں
و حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا لَيْثٌ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ رُمْحٍ أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ عَنْ نَافِعٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ کَانَ يَنْهَی أَنْ يُسَافَرَ بِالْقُرْآنِ إِلَی أَرْضِ الْعَدُوِّ مَخَافَةَ أَنْ يَنَالَهُ الْعَدُوُّ
قتیبہ، لیث، ابن رمح، لیث، نافع، حضرت عبداللہ ؓ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ دشمنوں کے ملک کی طرف اس ڈر کی وجہ سے قرآن ساتھ لے کر سفر کرنے سے منع کرتے تھے کہ کہیں قرآن دشمنوں کے ہاتھ نہ لگ جائے۔
It has been narrated on the authority ofAbdullah bin Umar (RA) that the Messenger of Allah ﷺ used to forbid that one should travel to the land of the enemy taking the Quran (with him) lest it should fall into the hands of the enemy.