خلاف شرع امور میں حکام کے رد کرنے کے وجوب اور جب تک وہ نماز وغیر ادا کرتے ہوں ان سے جنگ نہ کرنے کے بیان میں
و حَدَّثَنِي أَبُو غَسَّانَ الْمِسْمَعِيُّ وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ جَمِيعًا عَنْ مُعَاذٍ وَاللَّفْظُ لِأَبِي غَسَّانَ حَدَّثَنَا مُعَاذٌ وَهُوَ ابْنُ هِشَامٍ الدَّسْتَوَائِيُّ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ قَتَادَةَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ عَنْ ضَبَّةَ بْنِ مِحْصَنٍ الْعَنَزِيِّ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ إِنَّهُ يُسْتَعْمَلُ عَلَيْکُمْ أُمَرَائُ فَتَعْرِفُونَ وَتُنْکِرُونَ فَمَنْ کَرِهَ فَقَدْ بَرِئَ وَمَنْ أَنْکَرَ فَقَدْ سَلِمَ وَلَکِنْ مَنْ رَضِيَ وَتَابَعَ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَا نُقَاتِلُهُمْ قَالَ لَا مَا صَلَّوْا أَيْ مَنْ کَرِهَ بِقَلْبِهِ وَأَنْکَرَ بِقَلْبِهِ
ابوغسان، مسمعی و محمد بن بشار، معاذ، ابی غسان، معاذ، ابن ہشام دستوائی، ابوقتادہ، حسن، ضبہ بن محصن عنزی، حضرت ام سلمہ ؓ زوجہ نبی ﷺ سے روایت ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا تم پر ایسے حاکم مقرر کئے جائیں گے جن کے اعمال بد تم پہچان لوگے اور بعض اعمال بد سے ناواقف رہوگے جس نے اعمال بد کو ناپسند کیا وہ بری ہوگیا اور جو ناواقف رہا وہ محفوظ رہا لیکن جو ان امور بد پر خوش ہوا اور اتباع کی (بری نہیں ہوگا اور نہ محفوظ رہے گا) صحابہ ؓ نے عرض کیا اے اللہ کے رسول کیا ہم ان سے جنگ نہ کریں آپ ﷺ نے فرمایا نہیں جب تک وہ نماز ادا کرتے رہیں۔
It has been narrated (through a different chain of tmnamitters) on the authority of Umm Salamah (wife of the Holy Prophet) that he said: Amirs will be appointed over you, and you will find them doing good as well as bad deeds. One who hates their bad deeds is absolved from blame. One who disapproves of their bad deeds is (also) safe (so far as Divine wrath is concerned). But one who approves of their bad deeds and imitates them (is doomed). People asked: Messenger of Allah, shouldnt we fight against them? He replied: No, as long as they say their prayer. (" Hating and disapproving" refers to liking and disliking from the heart.)
خلاف شرع امور میں حکام کے رد کرنے کے وجوب اور جب تک وہ نماز وغیر ادا کرتے ہوں ان سے جنگ نہ کرنے کے بیان میں
و حَدَّثَنِي أَبُو الرَّبِيعِ الْعَتَکِيُّ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ حَدَّثَنَا الْمُعَلَّی بْنُ زِيَادٍ وَهِشَامٌ عَنْ الْحَسَنِ عَنْ ضَبَّةَ بْنِ مِحْصَنٍ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنَحْوِ ذَلِکَ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ فَمَنْ أَنْکَرَ فَقَدْ بَرِئَ وَمَنْ کَرِهَ فَقَدْ سَلِمَ
ابوربیع عتکی، حماد بن زید، معلی بن زیاد، ہشام، حسن، ضبہ بن محصن، حضرت ام سلمہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا باقی حدیث اسی طرح ذکر کی لیکن اس حدیث مبارکہ میں یہ ہے کہ جس نے انکار کیا وہ بری ہوگیا اور جس نے ناپسند کیا وہ محفوظ رہا۔
Another version of the tradition narrated on the same authority attributes the same words to the Messenger of Allah ﷺ except that it replaces kariha with ankhara and vice versa.
خلاف شرع امور میں حکام کے رد کرنے کے وجوب اور جب تک وہ نماز وغیر ادا کرتے ہوں ان سے جنگ نہ کرنے کے بیان میں
و حَدَّثَنَاه حَسَنُ بْنُ الرَّبِيعِ الْبَجَلِيُّ حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَکِ عَنْ هِشَامٍ عَنْ الْحَسَنِ عَنْ ضَبَّةَ بْنِ مِحْصَنٍ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَکَرَ مِثْلَهُ إِلَّا قَوْلَهُ وَلَکِنْ مَنْ رَضِيَ وَتَابَعَ لَمْ يَذْکُرْهُ
حسن بن ربیع بجلی، ابن مبارک، ہشام، حسن ضبہ بن محصن، حضرت ام سلمہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا باقی حدیث اسی طرح ذکر کی لیکن اس حدیث میں ولٰکِنْ رَضِيَ وَتَابَعَ ) کے الفاظ مذکور نہیں ہیں۔
Another version omits a portion at the end of the tradition-a portion which begins with man radiya wa taba and ends with the last word of the tradition.
اچھے اور برے حاکموں کے بیان میں
حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ أَخْبَرَنَا عِيسَی بْنُ يُونُسَ حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ عَنْ يَزِيدَ بْنِ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ عَنْ رُزَيْقِ بْنِ حَيَّانَ عَنْ مُسْلِمِ بْنِ قَرَظَةَ عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِکٍ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ خِيَارُ أَئِمَّتِکُمْ الَّذِينَ تُحِبُّونَهُمْ وَيُحِبُّونَکُمْ وَيُصَلُّونَ عَلَيْکُمْ وَتُصَلُّونَ عَلَيْهِمْ وَشِرَارُ أَئِمَّتِکُمْ الَّذِينَ تُبْغِضُونَهُمْ وَيُبْغِضُونَکُمْ وَتَلْعَنُونَهُمْ وَيَلْعَنُونَکُمْ قِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَفَلَا نُنَابِذُهُمْ بِالسَّيْفِ فَقَالَ لَا مَا أَقَامُوا فِيکُمْ الصَّلَاةَ وَإِذَا رَأَيْتُمْ مِنْ وُلَاتِکُمْ شَيْئًا تَکْرَهُونَهُ فَاکْرَهُوا عَمَلَهُ وَلَا تَنْزِعُوا يَدًا مِنْ طَاعَةٍ
اسحاق بن ابرہیم حنظلی، عیسیٰ بن یونس، اوزاعی، یزید بن یزید بن جابر، رزیق بن حبان، مسلم بن قرظہ، حضرت عوف بن مالک ؓ کی نبی ﷺ سے روایت ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا تمہارے حاکموں میں سے بہتر وہ ہیں جن سے تم محبت کرتے ہو اور وہ تم سے محبت کرتے ہیں اور وہ تمہارے لئے دعائے مغفرت کرتے ہیں اور تم ان کے لئے دعائے مغفرت کرتے ہو اور تمہارے حاکموں میں سے برے حاکم وہ ہیں جن سے تم دشمنی رکھتے ہو اور وہ تم سے بغض رکھتے ہوں اور تم انہیں لعنت کرو اور وہ تمہیں لعنت کریں عرض کیا گیا اے اللہ کے رسول ﷺ کیا ہم انہیں تلوار کے ساتھ قتل نہ کردیں آپ ﷺ نے فرمایا نہیں جب تک وہ تم میں نماز قائم کرتے رہیں اور جب تک اپنے حاکموں میں کوئی ایسی چیز دیکھو جسے تم ناپسند کرتے ہو تو اس کے اس عمل کو ناپسند کرو اور اطاعت و فرمانبرداری سے ہاتھ مت کھینچو۔
It has been narrated on the authority of Auf bin Malik (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: The best of your rulers are those whom you love and who love you, who invoke Gods blessings upon you and you invoke His blessings upon them. And the worst of your rulers are those whom you hate and who hate you and whom you curse and who curse you. It was asked (by those present): Shouldnt we overthrow them with the help of the sword? He said: No, as long as they establish prayer among you. If you then find anything detestable in them. You should hate their administration, but do not withdraw yourselves from their obedience.
اچھے اور برے حاکموں کے بیان میں
حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ يَعْنِي ابْنَ مُسْلِمٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ أَخْبَرَنِي مَوْلَی بَنِي فَزَارَةَ وَهُوَ رُزَيْقُ بْنُ حَيَّانَ أَنَّهُ سَمِعَ مُسْلِمَ بْنَ قَرَظَةَ ابْنَ عَمِّ عَوْفِ بْنِ مَالِکٍ الْأَشْجَعِيِّ يَقُولُ سَمِعْتُ عَوْفَ بْنَ مَالِکٍ الْأَشْجَعِيَّ يَقُولُا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ خِيَارُ أَئِمَّتِکُمْ الَّذِينَ تُحِبُّونَهُمْ وَيُحِبُّونَکُمْ وَتُصَلُّونَ عَلَيْهِمْ وَيُصَلُّونَ عَلَيْکُمْ وَشِرَارُ أَئِمَّتِکُمْ الَّذِينَ تُبْغِضُونَهُمْ وَيُبْغِضُونَکُمْ وَتَلْعَنُونَهُمْ وَيَلْعَنُونَکُمْ قَالُوا قُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ أَفَلَا نُنَابِذُهُمْ عِنْدَ ذَلِکَ قَالَ لَا مَا أَقَامُوا فِيکُمْ الصَّلَاةَ لَا مَا أَقَامُوا فِيکُمْ الصَّلَاةَ أَلَا مَنْ وَلِيَ عَلَيْهِ وَالٍ فَرَآهُ يَأْتِي شَيْئًا مِنْ مَعْصِيَةِ اللَّهِ فَلْيَکْرَهْ مَا يَأْتِي مِنْ مَعْصِيَةِ اللَّهِ وَلَا يَنْزِعَنَّ يَدًا مِنْ طَاعَةٍ قَالَ ابْنُ جَابِرٍ فَقُلْتُ يَعْنِي لِرُزَيْقٍ حِينَ حَدَّثَنِي بِهَذَا الْحَدِيثِ آللَّهِ يَا أَبَا الْمِقْدَامِ لَحَدَّثَکَ بِهَذَا أَوْ سَمِعْتَ هَذَا مِنْ مُسْلِمِ بْنِ قَرَظَةَ يَقُولُ سَمِعْتُ عَوْفًا يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَجَثَا عَلَی رُکْبَتَيْهِ وَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ فَقَالَ إِي وَاللَّهِ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ لَسَمِعْتُهُ مِنْ مُسْلِمِ بْنِ قَرَظَةَ يَقُولُ سَمِعْتُ عَوْفَ بْنَ مَالِکٍ يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
داؤد بن رشید، ولید ابن مسلم، عبدالرحمن بن یزید بن جابر مولیٰ بنی فرارہ، رزیق بن حیان، حضرت عوف بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا آپ ﷺ نے فرمایا تمہارے بہترین حکمران وہ ہیں جنہیں تم پسند کرتے ہو اور وہ تمہیں پسند کرتے ہوں اور تم ان کے جنازے میں شرکت کرتے ہو اور وہ تمہارے جنازوں میں شرکت کریں اور تمہارے بدترین حکمرانوں میں سے وہ ہیں جن سے تم بغض رکھتے ہو اور وہ تم سے بغض رکھتے ہوں تم ان پر لعنت کرنے والے ہو اور وہ تم پر لعنت کرتے ہوں ہم نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ کیا ہم اس وقت انہیں معزول نہ کردیں آپ ﷺ نے فرمایا نہیں جب تک وہ تمہارے درمیان نماز قائم کرتے رہیں آگاہ رہو جس شخص کو کسی پر حاکم بنایا گیا پر انہوں نے اس میں ایسی چیز دیکھی جو اللہ کی نافرمانی ہو تو وہ اللہ کی معصیت و نافرمانی والے عمل کو ناپسند کریں اور اس کی فرمانبرداری سے اپنا ہاتھ نہ کھینچیں ابن جابر نے کہا کہ میں نے رزیق سے کہا جب اس نے یہ مجھ سے بیان کیا، اے ابومقدام تم کو اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں کیا تجھ سے یہ حدیث کسی نے بیان کی ہے یا تم نے خود اسے مسلم بن قزعہ سے سنا ہے جنہوں نے عوف سے سنا اور عوف نے رسول اللہ ﷺ سے سنا تو ابومقدام نے گھٹنوں کے بل گر کر قبلہ کی طرف رخ کرتے ہوئے کہا اللہ کی قسم جس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں میں نے اسے مسلم بن قرظہ سے سنا وہ فرماتے تھے میں نے عوف بن مالک سے سنا وہ فرماتے تھے میں نے رسول اللہ ﷺ سے یہ حدیث سماعت کی۔
It has been narrated on the authority of Auf bin Malik al-Ashja (RA) i who said that he heard the Messenger of Allah ﷺ say: The best of your rulers are those whom you love and who love you, upon whom you invoke Gods blessings and who invoke His blessing upon you. And the worst of your rulers are those whom you hate and who hate you, who curse you and whom you curse. (Those present) said: Shouldnt we overthrow them at this? He said: No, as long as they establish prayer among you. No, as long as they establish prayer among you. Mind you! One who has a governor appointed over him and he finds that the governor indulges in an act of disobedience to God, he should condemn the governors act, in disobedience to God, but should not withdraw himself from his obedience. Ibn Jabir said: Ruzaiq narrated to me this hadith. I asked him: Abu Miqdam, have you heard it from Muslim bin Qaraza or did he describe it to you and he heard it from Auf (b. Malik) and he transmitted this tradition of Allahs Messenger ﷺ ? Upon this Ruzaiq sat upon his knees and facing the Qibla said: By Allah, besides Whom there is no other God, I heard it from Muslim bin Qaraza and he said that te had heard it from Auf (b. Malik) and he said that he had heard it from the Messenger of Allah ﷺ .
اچھے اور برے حاکموں کے بیان میں
و حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ مُوسَی الْأَنْصَارِيُّ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ حَدَّثَنَا ابْنُ جَابِرٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَقَالَ رُزَيْقٌ مَوْلَی بَنِي فَزَارَةَ قَالَ مُسْلِم وَرَوَاهُ مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ يَزِيدَ عَنْ مُسْلِمِ بْنِ قَرَظَةَ عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِکٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ
اسحاق بن موسیٰ انصاری، ولید بن مسلم، ابن جابر، رزیق مولیٰ بنی فزارہ، اس سند کے ساتھ بھی یہ حدیث اسی طرح روایت کی گئی ہے۔
The above tradition has been narrated through a different chain of transmitters.
جنگ کرنے کے ارادہ کے وقت لشکر کے امیر کی بیعت کرنے کے استح اور شجرہ کے نیچے بیعت رضوان کے بیان میں
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ کُنَّا يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ أَلْفًا وَأَرْبَعَ مِائَةً فَبَايَعْنَاهُ وَعُمَرُ آخِذٌ بِيَدِهِ تَحْتَ الشَّجَرَةِ وَهِيَ سَمُرَةٌ وَقَالَ بَايَعْنَاهُ عَلَی أَنْ لَا نَفِرَّ وَلَمْ نُبَايِعْهُ عَلَی الْمَوْتِ
قتیبہ بن سعید، لیث بن سعد، محمد بن رمح، لیث، ابی زبیر، جابر، حضرت جابر ؓ سے روایت ہے کہ ہم صلح حدیبیہ کے دن چودہ سو تھے ہم نے آپ ﷺ سے بیعت کی اور حضرت عمر ؓ ایک درخت کے نیچے آپ ﷺ کا ہاتھ پکڑے بیٹھے تھے اور یہ درخت کیکر کا تھا اور ہم نے اس بات پر بیعت کی تھی کہ ہم فرار نہ ہوں اور موت پر بیعت نہیں کی تھی۔
It has been narrated on the authority of Jabir who said: We were one thousand and four hundred on the Day of Hudaibiya. We swore fealty to hiin (the Holy Prophet) and Umar was holding the latters hand (when he was sitting) under the tree (called) ahadeeth (to administer the oath to the Companions). The narrator added: We took oath to the effect that we would not flee (from the battlefield if there was an encounter with the Makkahns), but we did not take oath to fight to death.
جنگ کرنے کے ارادہ کے وقت لشکر کے امیر کی بیعت کرنے کے استح اور شجرہ کے نیچے بیعت رضوان کے بیان میں
و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ لَمْ نُبَايِعْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَی الْمَوْتِ إِنَّمَا بَايَعْنَاهُ عَلَی أَنْ لَا نَفِرَّ
ابوبکر بن ابی شیبہ، ابن عیینہ، ابن نمیر، سفیان، ابی زبیر، جابر، حضرت جابر ؓ سے روایت ہے کہ ہم نے رسول اللہ ﷺ سے موت پر بیعت نہیں کی تھی بلکہ ہم نے اس بات پر بیعت کی تھی کہ ہم بھاگیں گے نہیں۔
It has been narrated (through a different chain of transmitters) on the authority of Jabir who said: While swearing fealty to the Holy Prophet ﷺ we did not take the oath to death but that we would not run away (from the battlefield).
جنگ کرنے کے ارادہ کے وقت لشکر کے امیر کی بیعت کرنے کے استح اور شجرہ کے نیچے بیعت رضوان کے بیان میں
و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ سَمِعَ جَابِرًا يَسْأَلُ کَمْ کَانُوا يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ قَالَ کُنَّا أَرْبَعَ عَشْرَةَ مِائَةً فَبَايَعْنَاهُ وَعُمَرُ آخِذٌ بِيَدِهِ تَحْتَ الشَّجَرَةِ وَهِيَ سَمُرَةٌ فَبَايَعْنَاهُ غَيْرَ جَدِّ بْنِ قَيْسٍ الْأَنْصَارِيِّ اخْتَبَأَ تَحْتَ بَطْنِ بَعِيرِهِ
محمد بن حاتم، حجاج، ابن جریج، ابوزبیر، جابر، حضرت ابوزبیر ؓ سے روایت ہے کہ حضرت جابر ؓ سے پوچھا گیا کہ وہ صلح حدیبیہ کے دن کتنے تھے تو انہوں نے کہا ہم چودہ سو تھے ہم نے آپ ﷺ سے بیعت کی اور حضرت عمر ؓ ایک درخت کے نیچے جو کہ کیکر کا تھا آپ ﷺ کا ہاتھ پکڑے ہوئے تھے سوائے جد بن قیس انصاری کے وہ اونٹ کے پیٹ کے نیچے چھپ گیا۔
It has been narrated on the authority of Abu Zubair who heard Jabir being questioned as to how many people were there on the Day of Hudaibiya He replied: We wore fourteen hundred. We swore fealty to him, and Umar was holding his hand while he was sitting Under the tree (to administer the oath). The tree was ahadeeth (a wild tree found in desers). All of as took tha oath of fealty at his hands except Jadd bin Qais al-Ansari who hid himself under the belly of his camel.
جنگ کرنے کے ارادہ کے وقت لشکر کے امیر کی بیعت کرنے کے استح اور شجرہ کے نیچے بیعت رضوان کے بیان میں
و حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ دِينَارٍ حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَعْوَرُ مَوْلَی سُلَيْمَانَ بْنِ مُجَالِدٍ قَالَ قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ وَأَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرًا يَسْأَلُ هَلْ بَايَعَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِذِي الْحُلَيْفَةِ فَقَالَ لَا وَلَکِنْ صَلَّی بِهَا وَلَمْ يُبَايِعْ عِنْدَ شَجَرَةٍ إِلَّا الشَّجَرَةَ الَّتِي بِالْحُدَيْبِيَةِ قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ وَأَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُا دَعَا النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَی بِئْرِ الْحُدَيْبِيَةِ
ابراہیم بن دینار، حجاج بن محمد اعور مولیٰ سلیمان بن مجالد، ابن جریج، ابوزبیر، جابر، حضرت ابوزبیر ؓ سے روایت ہے کہ حضرت جابر ؓ سے پوچھا گیا کہ نبی ﷺ نے ذوالحلیفہ میں بیعت کی تھی انہوں نے کہا نہیں بلکہ اس جگہ آپ ﷺ نے نماز ادا فرمائی تھی سوائے حدیبیہ کے درخت کے کسی جگہ کے درخت کے پاس بیعت نہیں لی ابوزبیر کہتے ہیں حضرت جابر ؓ نے فرمایا کہ نبی ﷺ نے حدبیہ کے کنوئیں پر دعا فرمائی تھی۔
It has been narrated (through a different chain of transmitters) on the authority of Abu Zubair who heard Jabir being questioned as to whether the Holy Prophet ﷺ took the oath of fealty at Dhul-Hulaifa. He said: No! But he offered his prayers at that place, and he administered the oath of fealty nowhere except near the tree in (the plain of Hudaibiya. Ibn Juraij said that he was informed by Abu Zabair who heard Jabir binAbdullah (RA) say: The Holy Prophet ﷺ prayed over the well at Hudaibiya (as a result of which its scanty water rose up and increased so as to be sufficient for the 140O or 150O men who had encamped at the place).
جنگ کرنے کے ارادہ کے وقت لشکر کے امیر کی بیعت کرنے کے استح اور شجرہ کے نیچے بیعت رضوان کے بیان میں
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَمْرٍو الْأَشْعَثِيُّ وَسُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَأَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ وَاللَّفْظُ لِسَعِيدٍ قَالَ سَعِيدٌ وَإِسْحَقُ أَخْبَرَنَا و قَالَ الْآخَرَانِ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَمْرٍو عَنْ جَابِرٍ قَالَ کُنَّا يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ أَلْفًا وَأَرْبَعَ مِائَةٍ فَقَالَ لَنَا النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْتُمْ الْيَوْمَ خَيْرُ أَهْلِ الْأَرْضِ و قَالَ جَابِرٌ لَوْ کُنْتُ أُبْصِرُ لَأَرَيْتُکُمْ مَوْضِعَ الشَّجَرَةِ
سعید بن عمرو اشعثی، سوید بن سعید اسحاق بن ابراہیم، احمد بن عبدہ، سعید، عمرو، جابر، حضرت جابر ؓ سے روایت ہے کہ ہم حدیبیہ کے دن ایک ہزار چار سو کی تعداد میں تھے تو نبی ﷺ نے ہمیں ارشاد فرمایا آج کے دن تم اہل زمین میں سب سے افضل ہو حضرت جابر ؓ نے کہا اگر میری بینائی ہوتی تو میں تمہیں اس درخت کی جگہ دکھاتا۔
It has been narrated (through a different chain of transmitters) on the authority of Jabir who said: We were one thousand and four hundred on the Day of Hudaibiya when the Holy Prophet ﷺ said to us: Today you are the best people on the earth. And Jabir said: If I had the eyesight, I could show you the place of the tree.
جنگ کرنے کے ارادہ کے وقت لشکر کے امیر کی بیعت کرنے کے استح اور شجرہ کے نیچے بیعت رضوان کے بیان میں
و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَابْنُ بَشَّارٍ قَالَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ قَالَ سَأَلْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أَصْحَابِ الشَّجَرَةِ فَقَالَ لَوْ کُنَّا مِائَةَ أَلْفٍ لَکَفَانَا کُنَّا أَلْفًا وَخَمْسَ مِائَةٍ
محمد بن مثنی، ابن بشار، محمد بن جعفر، شعبہ، عمرو بن مرہ، سالم بن ابی جعد، جابر بن عبداللہ، حضرت سالم بن ابی الجعد ؓ سے روایت ہے کہ میں نے حضرت جابر بن عبداللہ ؓ سے اصحاب شجرہ کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا ہم ایک ہزار پانچ سو تھے اگر ہم ایک لاکھ ہوتے تو (بھی وہ پانی) ہمیں کافی ہوجاتا۔
It has been narrated on the authority of Salim bin Abu al-Jad who said: I asked Jabir bin Abdullah about the number of the Companions (of the Holy Prophet ﷺ who took the oath of fealty under) the tree. He said: If we were a hundred thousand, it (i. e. the water in the well at Hudaibiya) would have sufficed us, but actually we were one thousand and five hundred.
جنگ کرنے کے ارادہ کے وقت لشکر کے امیر کی بیعت کرنے کے استح اور شجرہ کے نیچے بیعت رضوان کے بیان میں
و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَابْنُ نُمَيْرٍ قَالَا حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ ح و حَدَّثَنَا رِفَاعَةُ بْنُ الْهَيْثَمِ حَدَّثَنَا خَالِدٌ يَعْنِي الطَّحَّانَ کِلَاهُمَا يَقُولُ عَنْ حُصَيْنٍ عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ لَوْ کُنَّا مِائَةَ أَلْفٍ لَکَفَانَا کُنَّا خَمْسَ عَشْرَةَ مِائَةً
ابوبکر بن ابی شیبہ، ابن نمیر، عبداللہ بن ادریس، رفاعہ بن ہیثم، خالد طحان، حصین سالم ابن ابی جعد، جابر، حضرت جابر ؓ سے روایت ہے کہ ہم پندرہ سو تھے اگر ہم ایک لاکھ بھی ہوتے تو (وہ پانی) ہمیں کافی ہوجاتا۔
It has been narrated on the authority of Salim bin Abu al-Jad who said: I asked Jabir bin Abdullah about the number of the Companions (of the Holy Prophet ﷺ who took the oath of fealty under) the tree. He said: If we were a hundred thousand, it (i. e. the water in the well at Hudaibiya) would have sufficed us, but actually we were one thousand and five hundred.
جنگ کرنے کے ارادہ کے وقت لشکر کے امیر کی بیعت کرنے کے استح اور شجرہ کے نیچے بیعت رضوان کے بیان میں
و حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ إِسْحَقُ أَخْبَرَنَا و قَالَ عُثْمَانُ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ الْأَعْمَشِ حَدَّثَنِي سَالِمُ بْنُ أَبِي الْجَعْدِ قَالَ قُلْتُ لِجَابِرٍ کَمْ کُنْتُمْ يَوْمَئِذٍ قَالَ أَلْفًا وَأَرْبَعَ مِائَةٍ
عثمان بن ابی شیبہ، اسحاق بن ابراہیم، اسحاق، عثمان، جریر، اعمش، حضرت سالم بن ابی جعد ؓ سے روایت ہے کہ میں نے حضرت جابر ؓ سے کہا تم اس دن کتنی تعداد میں تھے انہوں نے کہا ایک ہزار چار سو۔
It has been narrated (through a different chain of transmitters) on the authority of Salim bin al-Jad who said: I asked Jabir: How many were you on the Day of Hudaibiya? He said: One thousand and four hundred.
جنگ کرنے کے ارادہ کے وقت لشکر کے امیر کی بیعت کرنے کے استح اور شجرہ کے نیچے بیعت رضوان کے بیان میں
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَمْرٍو يَعْنِي ابْنَ مُرَّةَ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي أَوْفَی قَالَ کَانَ أَصْحَابُ الشَّجَرَةِ أَلْفًا وَثَلَاثَ مِائَةٍ وَکَانَتْ أَسْلَمُ ثُمْنَ الْمُهَاجِرِينَ
عبیداللہ بن معاذ، شعبہ، عمرو بن مرہ، حضرت عبداللہ بن ابی اوفیٰ ؓ سے روایت ہے کہ ہم اصحاب شجرہ ایک ہزار تین سو تھے اور قبیلہ اسلم کے لوگ مہاجرین کا آٹھواں حصہ تھے۔
It has been narrated on the authority of Abdullah bin Abu Aufa who said: The Companions of the Tree (i e. those who swore fealty under the tree) were one thousand and three hundred, and the people of Aslam tribe were one-eighth of the Muhajirs.
جنگ کرنے کے ارادہ کے وقت لشکر کے امیر کی بیعت کرنے کے استح اور شجرہ کے نیچے بیعت رضوان کے بیان میں
و حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ ح و حَدَّثَنَاه إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ جَمِيعًا عَنْ شُعْبَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ
ابن مثنی، ابوداؤد، اسحاق بن ابراہیم، نضر بن شمیل، شعبہ، اس سند کے ساتھ بھی یہ حدیث مبارکہ اسی طرح مروی ہے۔
The same tradition has been handed down through a different chain of transmitters.
جنگ کرنے کے ارادہ کے وقت لشکر کے امیر کی بیعت کرنے کے استح اور شجرہ کے نیچے بیعت رضوان کے بیان میں
و حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ عَنْ خَالِدٍ عَنْ الْحَکَمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَعْرَجِ عَنْ مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ قَالَ لَقَدْ رَأَيْتُنِي يَوْمَ الشَّجَرَةِ وَالنَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُبَايِعُ النَّاسَ وَأَنَا رَافِعٌ غُصْنًا مِنْ أَغْصَانِهَا عَنْ رَأْسِهِ وَنَحْنُ أَرْبَعَ عَشْرَةَ مِائَةً قَالَ لَمْ نُبَايِعْهُ عَلَی الْمَوْتِ وَلَکِنْ بَايَعْنَاهُ عَلَی أَنْ لَا نَفِرَّ
یحییٰ بن یحیی، یزید بن زریع، خالد، حکم بن عبداللہ بن اعرج، حضرت معقل بن یسار ؓ سے روایت ہے کہ مجھے بیعت رضوان کا واقعہ یاد ہے کہ نبی ﷺ صحابہ ؓ سے بیعت لے رہے تھے اور اس درخت کی شاخوں میں سے ایک ٹہنی کو میں آپ ﷺ کے سر اقدس سے ہٹا رہا تھا ہم چودہ سو تھے ہم نے موت پر بیعت نہیں کی لیکن ہماری بیعت اس پر تھی کہ ہم فرار نہیں ہوں گے۔
It has been narrated on the authority of Maqil bin Yasar who aaid: I remember being present on the Day of the Tree, and the Holy Prophet ﷺ was taking the oath of the people and I was holding a twig of the tree over his head. We were fourteen hundred (in number). We did not take oath to the death, but to the effect that we would not run away from the battlefield.
جنگ کرنے کے ارادہ کے وقت لشکر کے امیر کی بیعت کرنے کے استح اور شجرہ کے نیچے بیعت رضوان کے بیان میں
و حَدَّثَنَاه يَحْيَی بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ يُونُسَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ
یحییٰ بن یحیی، خالد بن عبداللہ، یونس، اس سند سے بھی یہ حدیث مبارکہ روایت کی گئی ہے۔
This hadith has been narrated on the authority of Yunus with the same chain of transmitters.
جنگ کرنے کے ارادہ کے وقت لشکر کے امیر کی بیعت کرنے کے استح اور شجرہ کے نیچے بیعت رضوان کے بیان میں
و حَدَّثَنَاه حَامِدُ بْنُ عُمَرَ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ طَارِقٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ قَالَ کَانَ أَبِي مِمَّنْ بَايَعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ الشَّجَرَةِ قَالَ فَانْطَلَقْنَا فِي قَابِلٍ حَاجِّينَ فَخَفِيَ عَلَيْنَا مَکَانُهَا فَإِنْ کَانَتْ تَبَيَّنَتْ لَکُمْ فَأَنْتُمْ أَعْلَمُ
حامد بن عمرو، ابوعوانہ، طارق، حضرت سعید بن مسیب ؓ سے روایت ہے کہ میرے والد بھی ان صحابہ ؓ میں سے ہیں جنہوں نے رسول اللہ ﷺ سے درخت کے پاس بیعت کی تھی انہوں نے کہا ہم اگلے سال حج کے لئے گئے تو اس درخت کی جگہ ہم سے پوشیدہ ہوگئی پس اگر وہ جگہ تمہارے لئے ظاہر ہوجائے تو تم زیادہ جانتے ہو۔
It has been narrated on the authority of Said bin Musayyab who said: My father was one of those who swore fealty to the Messenger of Allah ﷺ near the tree. When we passed that way next year intending to perform the Hajj, the place of the tree was hidden to us. If you could point out clearly, you would (certainly) be knowing better.
It has also been narrated on the authority of Said bin Musayyib who learnt from his father that they were with the Messenger of Allah ﷺ in the year of the Tree (i. e. in the year of the fealty of Gods pleasure sworn under the tree at Hudaibiya), but next year they forgot the spot of the tree.
جنگ کرنے کے ارادہ کے وقت لشکر کے امیر کی بیعت کرنے کے استح اور شجرہ کے نیچے بیعت رضوان کے بیان میں
و حَدَّثَنِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ قَالَ وَقَرَأْتُهُ عَلَی نَصْرِ بْنِ عَلِيٍّ عَنْ أَبِي أَحْمَدَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ طَارِقِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُمْ کَانُوا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ الشَّجَرَةِ قَالَ فَنَسُوهَا مِنْ الْعَامِ الْمُقْبِلِ
محمد بن رافع، ابواحمد، نصر بن علی، ابواحمد، سفیان، طارق بن عبدالرحمن، سعید بن مسیب، حضرت سعید بن مسیب ؓ اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ وہ بیعت شجرہ والے سال رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے یہ فرماتے ہیں کہ وہ اگلے سال اس درخت کو بھول گئے۔
It has also been narrated on the authority of Said bin Musayyib who learnt from his father that they were with the Messenger of Allah ﷺ in the year of the Tree (i. e. in the year of the fealty of Gods pleasure sworn under the tree at Hudaibiya), but next year they forgot the spot of the tree.