امارت اور خلافت کا بیان

Sahih Muslim · Chapter 35 · 271 hadiths · Page 9 of 14

4861Sahih Muslim

جہاد اور اللہ کے راستہ میں نکلنے کی فضلیت کے بیان میں

و حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا الْمُغِيرَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحِزَامِيُّ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ تَکَفَّلَ اللَّهُ لِمَنْ جَاهَدَ فِي سَبِيلِهِ لَا يُخْرِجُهُ مِنْ بَيْتِهِ إِلَّا جِهَادٌ فِي سَبِيلِهِ وَتَصْدِيقُ کَلِمَتِهِ بِأَنْ يُدْخِلَهُ الْجَنَّةَ أَوْ يَرْجِعَهُ إِلَی مَسْکَنِهِ الَّذِي خَرَجَ مِنْهُ مَعَ مَا نَالَ مِنْ أَجْرٍ أَوْ غَنِيمَةٍ

یحییٰ بن یحیی، مغیرہ بن عبدالرحمن حزامی، ابی زناد، اعرج، ابوہریرہ، حضرت ابوہریرہ ؓ نبی کریم ﷺ سے روایت ہے کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا جو صرف اللہ کے راستہ میں جہاد کے لئے اس کے دین کی تصدیق کی خاطر اپنے گھر سے نکلتا ہے تو اللہ اس کے لئے اس بات کا ضامن ہوجاتا ہے کہ اسے جنت میں داخل کرے گا یا اسے اس کے گھر لوٹائے گا کہ اس کے ساتھ اجر وثواب یا مال غنیمت ہوگا۔

It has been narrated on the authority of Abu Hurairah (RA) who said: Allah has undertaken to provide for one who leaves his home (only) to fight for His cause and to affirm the truth of His word; Allah will either admit him to Paradise or will bring him back home from where he had come out, with his reward and booty.

4862Sahih Muslim

جہاد اور اللہ کے راستہ میں نکلنے کی فضلیت کے بیان میں

حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ قَالَا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يُکْلَمُ أَحَدٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِمَنْ يُکْلَمُ فِي سَبِيلِهِ إِلَّا جَائَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَجُرْحُهُ يَثْعَبُ اللَّوْنُ لَوْنُ دَمٍ وَالرِّيحُ رِيحُ مِسْکٍ

عمرو ناقد، زہیر بن حرب، سفیان بن عیینہ، ابی زناد، اعرج، حضرت ابوہریرہ ؓ نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا اللہ کے راستہ میں جو آدمی بھی زخمی ہوتا ہے تو اللہ جانتا ہے کہ کسے زخم دیا گیا ہے وہ قیامت کے دن اس حال میں آئے گا کہ اس کے زخم کا رنگ تو خون کی طرح ہوگا لیکن اس کی خوشبو مشک کی طرح ہوگی۔

It has been narrated on the authority of Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: One who is wounded in the way of Allah-and Allah knows better who is wounded in His way-will appear on the Day of Judgment with his wound bleediing. The colour (of its discharge) will be the colour of blood, (but) its smell will be the smell of musk.

4863Sahih Muslim

جہاد اور اللہ کے راستہ میں نکلنے کی فضلیت کے بیان میں

و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ قَالَ هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَکَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کُلُّ کَلْمٍ يُکْلَمُهُ الْمُسْلِمُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ثُمَّ تَکُونُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ کَهَيْئَتِهَا إِذَا طُعِنَتْ تَفَجَّرُ دَمًا اللَّوْنُ لَوْنُ دَمٍ وَالْعَرْفُ عَرْفُ الْمِسْکِ وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ فِي يَدِهِ لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلَی الْمُؤْمِنِينَ مَا قَعَدْتُ خَلْفَ سَرِيَّةٍ تَغْزُو فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَلَکِنْ لَا أَجِدُ سَعَةً فَأَحْمِلَهُمْ وَلَا يَجِدُونَ سَعَةً فَيَتَّبِعُونِي وَلَا تَطِيبُ أَنْفُسُهُمْ أَنْ يَقْعُدُوا بَعْدِي

محمد بن رافع، عبدالرزاق، معمر، ہمام بن منبہ، ابوہریرہ، حضرت ہمام بن منبہ ؓ سے روایت ہے کہ حضرت ابوہریرہ ؓ نے رسول اللہ ﷺ کی کئی احادیث ذکر کیں ان میں سے یہ حدیث بھی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہر وہ زخم جو کسی مسلمان کو اللہ کے راستے میں لگے پھر وہ قیامت کے دن اپنی اسی صورت پر ہوگا جس طرح وہ زخم لگائے جانے کے وقت تھا کہ اس سے خون نکل رہا ہوگا اس کا رنگ خون کا رنگ ہوگا اور خوشبو مشک کی خوشبو ہوگی اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں محمد ﷺ کی جان ہے اگر مومنوں پر دشوار نہ ہوتا تو میں اللہ کے راستہ میں لڑنے والے کسی لشکر سے پیچھے نہ رہتا لیکن میں اتنی وسعت نہیں رکھتا کہ ان سب کو سواریاں عطا کرسکوں اور نہ وہ وسعت رکھتے ہیں کہ وہ میرے ساتھ جاسکیں اور ان کے دل میرے سے پیچھے رہ جانے سے خوش نہیں ہیں۔

It has been narrated on the authority of Abu Haraira that the Messenger of Allah ﷺ said: Every wound received by a Muslim in the way of Allah will appear on the Day of Judgment in the same condition as it was when it was inflicted, and would be bleeding profusely. The colour (of its discharge) will be the colour of blood, but its smell will be the smell of musk. By the Being in Whose Hand is Muhammads life, if it were not hard upon the Muslims, I would not lag behind any expedition undertaken for Jihad, but I do not possess abundant means to provide the Mujahids with riding animals, nor do they (i. e. all of them) have abundant means (to provide themselves with all the means of Jihad) to follow me, nor would it please their hearts to stay behind me.

4864Sahih Muslim

جہاد اور اللہ کے راستہ میں نکلنے کی فضلیت کے بیان میں

و حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلَی الْمُؤْمِنِينَ مَا قَعَدْتُ خِلَافَ سَرِيَّةٍ بِمِثْلِ حَدِيثِهِمْ وَبِهَذَا الْإِسْنَادِ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوَدِدْتُ أَنِّي أُقْتَلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ثُمَّ أُحْيَا بِمِثْلِ حَدِيثِ أَبِي زُرْعَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ

ابن ابی عمر، سفیان، ابی زناد، اعرج، ابوہریرہ، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا آپ ﷺ فرماتے تھے اگر مومنین پر مشکل نہ ہوتی تو میں کسی لشکر سے پیچھے نہ رہتا باقی حدیث ان اسناد سے اسی طرح روایت کی ہے اضافہ یہ ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے مجھے یہ بات پسند ہے کہ مجھے اللہ کے راستہ میں شہید کیا جائے پھر زندہ کیا جائے باقی حدیث ابوزرعہ کی ابوہریرہ ؓ کی حدیث کی طرح ہے۔

It has been narrated on the authority of Abu Hurairah (RA) who said: I heard the Messenger of Allah ﷺ say: I would not stay behind (when) an expedition (for Jihad was being mobilised) if it were going to be too hard upon the believers.... This is followed by the same words as have appeared in the previous tradition, but this tradition has the same ending as the previous hadith with a slight difference in the wording:" By the Being in Whose Hand is my life, I love that I should be killed in the way of Allah; then I should be brought back to life and be killed again in His way...."

4865Sahih Muslim

جہاد اور اللہ کے راستہ میں نکلنے کی فضلیت کے بیان میں

و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ يَعْنِي الثَّقَفِيَّ ح و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ کُلُّهُمْ عَنْ يَحْيَی بْنِ سَعِيدٍ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلَی أُمَّتِي لَأَحْبَبْتُ أَنْ لَا أَتَخَلَّفَ خَلْفَ سَرِيَّةٍ نَحْوَ حَدِيثِهِمْ

محمد بن مثنی، عبدالوہاب ثقفی، ابوبکر بن ابی شیبہ، ابومعاویہ، ابن ابی عمر، مروان بن معاویہ، یحییٰ بن سعید، ابوصالح، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا اگر میری امت پر مشکل نہ ہوتا تو مجھے یہ بات پسند تھی کہ میں کسی بھی لشکر سے پیچھے نہ رہتا باقی حدیث گزر چکی ہے۔

It has been narrated on the authority of Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: If it were not hard upon my Umma (to follow my example), I would not lag behind any expedition-as in the traditions gone before.

4866Sahih Muslim

جہاد اور اللہ کے راستہ میں نکلنے کی فضلیت کے بیان میں

حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ سُهَيْلٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَضَمَّنَ اللَّهُ لِمَنْ خَرَجَ فِي سَبِيلِهِ إِلَی قَوْلِهِ مَا تَخَلَّفْتُ خِلَافَ سَرِيَّةٍ تَغْزُو فِي سَبِيلِ اللَّهِ تَعَالَی

زہیر بن حرب، جریر، سہیل، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ اس پر ضامن ہوتا ہے جو اس کے راستہ میں نکلا ہو آپ ﷺ کے قول میں اللہ کے راستہ میں کسی لڑنے والے لشکر سے کبھی پیچھے نہ رہتا تک۔

Another version of the tradition narrated through a different chain of transmitters on the authority of Abu Hurairah (RA) has the same wording as the previous tradition:" Allah takes care of one who goes out in the way of Allah" but ends in the words:" I would not lag behind any expedition which is undertaken to fight in the way of Allah, the Exalted."

4867Sahih Muslim

اللہ تعالیٰ کے راستہ میں شہادت کی فضلیت کے بیان میں

و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ قَتَادَةَ وَحُمَيْدٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَا مِنْ نَفْسٍ تَمُوتُ لَهَا عِنْدَ اللَّهِ خَيْرٌ يَسُرُّهَا أَنَّهَا تَرْجِعُ إِلَی الدُّنْيَا وَلَا أَنَّ لَهَا الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا إِلَّا الشَّهِيدُ فَإِنَّهُ يَتَمَنَّی أَنْ يَرْجِعَ فَيُقْتَلَ فِي الدُّنْيَا لِمَا يَرَی مِنْ فَضْلِ الشَّهَادَةِ

ابوبکر بن ابی شیبہ، ابوخالد احمر، شعبہ، قتادہ، حمید، حضرت انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا کوئی شخص ایسا نہیں جس کا اللہ کے ہاں اجر وثواب ہو اور وہ دنیا کی طرف لوٹنے کو بلکہ پسند کرتا ہو اور نہ اس بات کو پسند کرتا ہے کہ دنیا اور جو کچھ اس میں ہے اس کا ہوجائے سوائے شہید کے کہ وہ تمنا کرتا ہے کہ وہ دنیا میں واپس جائے پھر قتل کیا جائے بوجہ اس کے جو اس نے شہادت کی فضیلت دیکھی۔

It has been narrated on the authority of Anas bin Malik (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said:" Nobody who dies and has something good for him with Allah will (ever like to) return to this world even though he were offered the whole world and all that is in its (as an inducement), except the martyr who desires to return and be killed in the world for the (great) merit of martyrdom that he has seen.

4868Sahih Muslim

اللہ تعالیٰ کے راستہ میں شہادت کی فضلیت کے بیان میں

و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَابْنُ بَشَّارٍ قَالَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِکٍ يُحَدِّثُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَا مِنْ أَحَدٍ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ يُحِبُّ أَنْ يَرْجِعَ إِلَی الدُّنْيَا وَأَنَّ لَهُ مَا عَلَی الْأَرْضِ مِنْ شَيْئٍ غَيْرُ الشَّهِيدِ فَإِنَّهُ يَتَمَنَّی أَنْ يَرْجِعَ فَيُقْتَلَ عَشْرَ مَرَّاتٍ لِمَا يَرَی مِنْ الْکَرَامَةِ

محمد بن مثنی، ابن بشار، محمد بن جعفر، شعبہ، قتادہ، حضرت انس بن مالک ؓ نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا کوئی ایسا نہیں جسے جنت میں داخل کردیا جائے وہ اس بات کی پسند کرتا ہو کہ اسے دنیا میں لوٹا دیا جائے اور اس کے لئے روئے زمین کی تمام چیزیں ہوں سوائے شہید کے کہ وہ تمنا کرتا ہے کہ اسے لوٹایا جائے پھر اسے دس مرتبہ قتل کیا جائے بوجہ اس کے جو اس نے عزت و کر امت دیکھی۔

It has been narrated on the authority of Anas bin Malik (RA) (through a different chain of transmitters) that the Messenger of Allah ﷺ said: Nobody who enters Paradise will (ever like to) return to this world even if he were offered everything on the surface of the earth (as an inducement) except the martyr who will desire to return to this world and be killed ten times for the sake of the great honour that has been bestowed upon him.

4869Sahih Muslim

اللہ تعالیٰ کے راستہ میں شہادت کی فضلیت کے بیان میں

حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْوَاسِطِيُّ عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قِيلَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا يَعْدِلُ الْجِهَادَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ قَالَ لَا تَسْتَطِيعُونَهُ قَالَ فَأَعَادُوا عَلَيْهِ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا كُلُّ ذَلِكَ يَقُولُ لَا تَسْتَطِيعُونَهُ وَقَالَ فِي الثَّالِثَةِ مَثَلُ الْمُجَاهِدِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ كَمَثَلِ الصَّائِمِ الْقَائِمِ الْقَانِتِ بِآيَاتِ اللَّهِ لَا يَفْتُرُ مِنْ صِيَامٍ وَلَا صَلَاةٍ حَتَّى يَرْجِعَ الْمُجَاهِدُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ تَعَالَى حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ح و حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ح و حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ كُلُّهُمْ عَنْ سُهَيْلٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ

سعید بن منصور، خالد بن عبداللہ واسطی، سہیل بن ابوصالح، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ سے عرض کیا گیا اللہ کے راستہ میں جہاد کرنے کے برابر بھی کوئی عبادت ہے آپ ﷺ نے فرمایا تم اس عبادت کرنے کی استطاعت نہیں رکھتے ابوہریرہ ﷺ کہتے ہیں کہ یہ سوال آپ ﷺ کے سامنے دو یا تین مرتبہ دہرایا گیا اور ہر مرتبہ کے جواب میں یہی فرمایا تم اس کی استطاعت نہیں رکھتے اور تیسری مرتبہ فرمایا اللہ کے راستہ میں جہاد کرنے والا جہاد سے واپسی تک اس شخص کی طرح جو روزہ ادار قیام کرنے والا اور اللہ کی آیات پر عمل کرنے والا ہو اور روزہ و نماز سے تھکنے والا نہ ہو۔

It has been narrated on the authority of Abu Hurairah (RA) who said: The Messenger of Allah ﷺ was asked: What deed could be an equivalent of Jihad in the way of Allah, the Almighty and Exalted? He answered: You do not have the strength to do that deed. The narrator said: They repeated the question twice or thrice. Every time he answered: You do not have the strength to do it. When the question was asked for the third time, he said: One who goes out for Jibad is like a person who keeps fasts, stands in prayer (constantly), (obeying) Allahs (behests contained in) the verses (of the Quran), and does not exhibit any lassitude in fasting and prayer until the Mujihid returns from Jihad in the way of Allah, the Exalted.

4870Sahih Muslim

اللہ تعالیٰ کے راستہ میں شہادت کی فضلیت کے بیان میں

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ح و حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ح و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ کُلُّهُمْ عَنْ سُهَيْلٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ

قتیبہ بن سعید، ابوعوانہ، زہیر بن حرب، جریر، ابوبکر بن ابی شیبہ، ابومعاویہ، سہیل، ان دو اسناد سے بھی یہی حدیث مبارکہ اسی طرح مروی ہے۔

This tradition has been handed down through a different chain of transmitters.

4871Sahih Muslim

اللہ تعالیٰ کے راستہ میں شہادت کی فضلیت کے بیان میں

حَدَّثَنِي حَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ حَدَّثَنَا أَبُو تَوْبَةَ حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ سَلَّامٍ عَنْ زَيْدِ بْنِ سَلَّامٍ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَلَّامٍ قَالَ حَدَّثَنِي النُّعْمَانُ بْنُ بَشِيرٍ قَالَ کُنْتُ عِنْدَ مِنْبَرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ رَجُلٌ مَا أُبَالِي أَنْ لَا أَعْمَلَ عَمَلًا بَعْدَ الْإِسْلَامِ إِلَّا أَنْ أُسْقِيَ الْحَاجَّ وَقَالَ آخَرُ مَا أُبَالِي أَنْ لَا أَعْمَلَ عَمَلًا بَعْدَ الْإِسْلَامِ إِلَّا أَنْ أَعْمُرَ الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ وَقَالَ آخَرُ الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَفْضَلُ مِمَّا قُلْتُمْ فَزَجَرَهُمْ عُمَرُ وَقَالَ لَا تَرْفَعُوا أَصْوَاتَکُمْ عِنْدَ مِنْبَرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَوْمُ الْجُمُعَةِ وَلَکِنْ إِذَا صَلَّيْتُ الْجُمُعَةَ دَخَلْتُ فَاسْتَفْتَيْتُهُ فِيمَا اخْتَلَفْتُمْ فِيهِ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ أَجَعَلْتُمْ سِقَايَةَ الْحَاجِّ وَعِمَارَةَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ کَمَنْ آمَنَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ الْآيَةَ إِلَی آخِرِهَا

حسن بن علی حلوانی، ابوتوبہ، معاویہ، زید بن سلام، ابوسلام، حضرت نعمان بن بشیر ؓ سے روایت ہے کہ میں رسول اللہ ﷺ کے منبر کے پاس تھا کہ ایک شخص نے کہا مجھے اس بات کی کوئی پرواہ نہیں کہ میں اسلام لانے کے بعد سوائے حاجیوں کو پانی پلانے کے کوئی عمل نہ کروں اور دوسرے نے کہا مجھے کوئی پرواہ نہیں کہ میں اسلام لانے کے بعد مسجد حرام کو آباد کرنے کے علاوہ کوئی عمل نہ کروں تیسرے نے کہا اللہ کے راستہ میں جہاد اس سے افضل ہے جو تم نے کہا۔ حضرت عمر ؓ نے ان سب کو ڈاٹنا اور کہا کہ اپنی آوازوں کو رسول اللہ ﷺ کے منبر کے پاس بلند نہ کرو یہ جمعہ کا دن تھا لیکن جمعہ کی نماز ادا کرنے کے بعد آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر میں نے آپ ﷺ سے اس کا فتوی طلب کیا جس میں انہوں نے اختلاف کیا تو اللہ عزوجل نے یہ آیت نازل فرمائی کیا تم حاجیوں کو پانی پلانے اور مسجد حرام کو آباد کرنے کو اس شخص کے عمل کے برابر قرا دیتے ہو جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان لایا ہو اور اس نے اللہ کی راہ میں جہاد کیا ہو۔

It has been narrated on the authority of Numan bin Bashir who said: As I was (sitting) near the pulpit of the Messenger of Allah ﷺ , a man said: I do not care if, after embracing Islam, I do not do any good deed (except) distributing drinking water among the pilgrims. Another said: I do not care if, after embracing Islam, I do not do any good deed beyond maintenance service to the Sacred Mosque. Another said: Jihad in the way of Allah is better than what you have said. Umar reprimanded them and said: Dont raise your voices near the pulpit of the Messenger of Allah ﷺ on Friday. When prayer was over, I entered (the apartment of the Holy Prophet) and asked his verdict about the matter in which they had differed. (It was upon this that) Allah, the Almighty and Exalted, revealed the Quranic verse:" Do you make the giving of drinking water to the pilgrims and the maintenance of the Sacred Mosque equal to (the service of those) who believe in Allah and the Last Day and strive hard in the cause of Allah. They are not equal in the sight of God. And Allah guides not the wrongdoing people" (ix. 20).

4872Sahih Muslim

اللہ تعالیٰ کے راستہ میں شہادت کی فضلیت کے بیان میں

و حَدَّثَنِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ حَسَّانَ حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ أَخْبَرَنِي زَيْدٌ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَلَّامٍ قَالَ حَدَّثَنِي النُّعْمَانُ بْنُ بَشِيرٍ قَالَ کُنْتُ عِنْدَ مِنْبَرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِ حَدِيثِ أَبِي تَوْبَةَ

عبداللہ بن عبدالرحمن دارمی، یحییٰ بن حسان، معاویہ، زید، حضرت نعمان بن بشیر ؓ سے روایت ہے کہ میں رسول اللہ ﷺ کے منبر کے پاس تھا باقی حدیث گزر چکی ہے۔

This tradition has been narrated on the authority of Numan bin Bashir through another chain of transmitters.

4873Sahih Muslim

اللہ عز وجل کے راستہ میں صبح یا شام کو نکلنے کی فضلیت کے بیان میں

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَغَدْوَةٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَوْ رَوْحَةٌ خَيْرٌ مِنْ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا

عبداللہ بن مسلمہ بن قعنب، حماد بن سلمہ، ثابت، انس بن مالک، حضرت انس ؓ بن مالک سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ کے راستہ میں ایک صبح یا شام نکلنا دنیا اور جو کچھ اس میں ہے سے بہتر ہے۔

It has been narrated on the authority of Anas bin Malik (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: Leaving (for Jihad) in the way of Allah in the morning or in the evening (will merit a reward) better than the world and all that is in it.

4874Sahih Muslim

اللہ عز وجل کے راستہ میں صبح یا شام کو نکلنے کی فضلیت کے بیان میں

حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ وَالْغَدْوَةَ يَغْدُوهَا الْعَبْدُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ خَيْرٌ مِنْ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا

یحییٰ بن یحیی، عبدالعزیز بن ابی حازم، حضرت سہل بن سعد ساعدی ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا وہ صبح جسے بندہ اللہ کے راستہ میں طلوع کرے دنیا اور جو کچھ اس میں ہے سے بہتر ہے۔

It has been narrated on the authority of Sahl bin Sad as-Saidi that the Messenger of Allah ﷺ said: The journey undertaken by a person in the morning (for Jihad) in the way of Allah (will merit a reward) better than the world and all that is in it.

4875Sahih Muslim

اللہ عز وجل کے راستہ میں صبح یا شام کو نکلنے کی فضلیت کے بیان میں

و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ قَالَا حَدَّثَنَا وَکِيعٌ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ أَبِي حَازِمٍ عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ غَدْوَةٌ أَوْ رَوْحَةٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ خَيْرٌ مِنْ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا

ابوبکر بن ابی شیبہ، زہیر بن حرب، وکیع، سفیان، ابی حازم، حضرت سہل بن سعد ساعدی ؓ نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا ایک صبح یا شام اللہ کے راستہ میں جانا الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا سے افضل ہے۔

It has been narrated on the authority of Sahl bin Sad as-Saidi that the Messenger of Allah ﷺ said: A journey undertaken in the morning or evening (fond Jihad) in the way of Allah (will merit a reward) better than the world and all that is in it.

4876Sahih Muslim

اللہ عز وجل کے راستہ میں صبح یا شام کو نکلنے کی فضلیت کے بیان میں

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ عَنْ يَحْيَی بْنِ سَعِيدٍ عَنْ ذَکْوَانَ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَوْلَا أَنَّ رِجَالًا مِنْ أُمَّتِي وَسَاقَ الْحَدِيثَ وَقَالَ فِيهِ وَلَرَوْحَةٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَوْ غَدْوَةٌ خَيْرٌ مِنْ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا

ابن ابی عمر، مروان بن معاویہ، یحییٰ بن سعید، ذکوان، ابوصالح، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اگر میری امت میں ایسے لوگ نہ ہوتے باقی حدیث گزر چکی ہے اور اس میں یہ اضافہ ہے اللہ کے راستہ میں شام یا صبح کرنا الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا سے افضل ہے۔

It has been narrated on the authority of Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: If some persons of my Umma (were not to undertake the hardships of Jihad), and he ( Abu Hurairah (RA) ) then narrated the rest of the hadith and then said: A journey undertaken for jihad in the evening or morning merits a reward better than the world and all that is in it.

4877Sahih Muslim

اللہ عز وجل کے راستہ میں صبح یا شام کو نکلنے کی فضلیت کے بیان میں

و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَاللَّفْظُ لِأَبِي بَکْرٍ وَإِسْحَقَ قَالَ إِسْحَقُ أَخْبَرَنَا و قَالَ الْآخَرَانِ حَدَّثَنَا الْمُقْرِئُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي أَيُّوبَ حَدَّثَنِي شُرَحْبِيلُ بْنُ شَرِيکٍ الْمَعَافِرِيُّ عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا أَيُّوبَ يَقُولُا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَدْوَةٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَوْ رَوْحَةٌ خَيْرٌ مِمَّا طَلَعَتْ عَلَيْهِ الشَّمْسُ وَغَرَبَتْ

ابوبکر بن ابی شیبہ، اسحاق بن ابراہیم، زہیر بن حرب، ابوبکر اسحاق، مقری، عبداللہ بن یزید، سعید بن ابی ایوب، شرحبیل بن شریک معافری، ابوعبدالرحمن حبلی حضرت ابوایوب سے روایت ہے کہ اللہ کے راستہ میں صبح یا شام کرنا بہتر ہے ہر اس چیز سے جس پر سورج طلوع اور غروب ہوتا ہے۔

It has been narrated on the authority of Abu Ayyub that the Messenger of Allah ﷺ said: A journey undertaken in the morning or evening (for Jihad) in the way of Allah is better than (anything) on which the sun rises or sets.

4878Sahih Muslim

اللہ عز وجل کے راستہ میں صبح یا شام کو نکلنے کی فضلیت کے بیان میں

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قُهْزَاذَ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَکِ أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ وَحَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ قَالَ کُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا حَدَّثَنِي شُرَحْبِيلُ بْنُ شَرِيکٍ عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيَّ يَقُولُا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ سَوَائً

محمد بن عبداللہ بن قہزاذ، علی بن حسن، عبداللہ بن مبارک، سعید بن ایوب بن شریح، شرحبیل بن شریک، ابوعبدالرحمن حبلی، ابوایوب انصاری، اس سند سے بھی یہ حدیث بالکل من وعن مروی ہے۔

This tradition has been narrated on the authority of Abu Ayyub through a different chain of transmitters having the same wording.

4879Sahih Muslim

جنت میں مجاہد کے لئے اللہ تعالیٰ کے تیار کردہ درجات کے بیان میں

حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ حَدَّثَنِي أَبُو هَانِئٍ الْخَوْلَانِيُّ عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَا أَبَا سَعِيدٍ مَنْ رَضِيَ بِاللَّهِ رَبًّا وَبِالْإِسْلَامِ دِينًا وَبِمُحَمَّدٍ نَبِيًّا وَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ فَعَجِبَ لَهَا أَبُو سَعِيدٍ فَقَالَ أَعِدْهَا عَلَيَّ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَفَعَلَ ثُمَّ قَالَ وَأُخْرَی يُرْفَعُ بِهَا الْعَبْدُ مِائَةَ دَرَجَةٍ فِي الْجَنَّةِ مَا بَيْنَ کُلِّ دَرَجَتَيْنِ کَمَا بَيْنَ السَّمَائِ وَالْأَرْضِ قَالَ وَمَا هِيَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ

سعید بن منصور، عبداللہ بن وہب ابوہانی خولانی، ابوعبدالرحمن حبلی، حضرت ابوسعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اے ابوسعید جو اللہ کے رب ہونے پر اسلام کے دین ہونے پر اور محمد ﷺ کے نبی ہونے پر راضی ہوا اس کے لئے جنت واجب ہوگئی ابوسعید نے اس بات پر تعجب کیا تو عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ ان کو دوبارہ شمار فرمائیں آپ نے ایسا (دوبارہ) کیا پھر فرمایا ایک اور بات بھی ہے کہ اس کی وجہ سے بندے کے جنت میں سو درجات بلند ہوتے ہیں اور ہر دو درجات کے درمیان اتنا فاصلہ ہے جتنا آسمان اور زمین کے درمیان ہے عرض کیا اے اللہ کے رسول وہ کیا ہے آپ ﷺ نے فرمایا اللہ کے راستہ میں جہاد اللہ کے راستہ میں جہاد۔

It has been narrated on the authority of Abu Said Khudri that the Messenger of Allah ﷺ said (to him): Abu Said, whoever cheerfully accepts Allah as his Lord, Islam as his religion and Mubammad as his Apostle ﷺ is necessarily entitled to enter Paradise. He (Abu Said) wondered at it and said: Messenger of Allah, repeat it for me. He (the Messenger of Allah) ﷺ did that and said: There is another act which elevates the position of a man in Paradise to a grade one hundred (higher), and the elevation between one grade and the other is equal to the height of the heaven from the earth. He (Abu Said) said: What is that act? He replied: Jihad in the way of Allah! Jihad in the way of Allah!

4880Sahih Muslim

جسے اللہ کے راستہ میں قتل کیا جائے اس کے قرض کے سوا تمام گناہوں کے معاف ہونے کے بیان میں

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا لَيْثٌ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ عَنْ أَبِي قَتَادَةَ أَنَّهُ سَمِعَهُ يُحَدِّثُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَامَ فِيهِمْ فَذَكَرَ لَهُمْ أَنَّ الْجِهَادَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَالْإِيمَانَ بِاللَّهِ أَفْضَلُ الْأَعْمَالِ فَقَامَ رَجُلٌ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ إِنْ قُتِلْتُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ تُكَفَّرُ عَنِّي خَطَايَايَ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَعَمْ إِنْ قُتِلْتَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَأَنْتَ صَابِرٌ مُحْتَسِبٌ مُقْبِلٌ غَيْرُ مُدْبِرٍ ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَيْفَ قُلْتَ قَالَ أَرَأَيْتَ إِنْ قُتِلْتُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَتُكَفَّرُ عَنِّي خَطَايَايَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَعَمْ وَأَنْتَ صَابِرٌ مُحْتَسِبٌ مُقْبِلٌ غَيْرُ مُدْبِرٍ إِلَّا الدَّيْنَ فَإِنَّ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَام قَالَ لِي ذَلِكَ

قتیبہ بن سعید، لیث، سعید بن ابوسعید، عبداللہ حضرت ابوقتادہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے صحابہ کرام ؓ کے درمیان کھڑے ہو کر ارشاد فرمایا اللہ کے راستہ میں جہاد اور اللہ پر ایمان لانا افضل الاعمال ہیں ایک آدمی نے کھڑا ہو کر عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ اگر میں اللہ کے راستہ میں قتل کیا جاؤں تو میرے گناہوں کا کفارہ ہوجائے گا اس بارے میں آپ ﷺ کیا فرماتے ہیں تو رسول اللہ ﷺ نے اسے فرمایا ہاں اگر تو اللہ کے راستہ میں قتل کیا جائے اور تو صبر کرنے والا (ثابت قدم)، ثواب کی نیت رکھنے والا اور پیٹھ پھیرے بغیر دشمن کی طرف متوجہ رہنے والا ہو پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم نے کیا کہا تھا اس نے کہا میں نے کہا تھا کہ اگر میں اللہ کے راستہ میں قتل کیا جاؤں تو کیا میرے گناہ مجھ سے دور ہوجائیں گے تو نبی ﷺ نے فرمایا ہاں اس صورت میں کہ تو صبر کرنے والا ثواب کی نیت رکھنے والا اور پیٹھ پھیرے بغیر دشمن کی طرف متوجہ رہنے والا ہو تو سوائے قرض کے (سب گناہ معاف ہوجائیں گے) کیونکہ جبرائیل نے مجھے یہی کہا ہے۔

It has been narrated on the authority of Abu Qatadah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ stood up among them (his Companions) to deliver his sermon in which he told them that Jihad in the way of Allah and belief in Allah (with all His Attributes) are the most meritorious of acts. A man stood up and said: Messenger of Allah, do you think that if I am killed in the way of Allah, my sins will be blotted out from me? The Messenger of Allah ﷺ said: Yes, in case you are killed in the way of Allah and you were patient and sincere and you always fought facing the enemy, never turming your back upon him. Then he added: What have you said (now)? (Wishing to have further assurance from him for his satisfaction), he asked (again): Do you think if I am killed in the way of Allah, all my sins will be obliterated from me? The Messenger of Allah ﷺ said: Yes, it you were patient and sincere and always fought facing the enemy and never turning your back upon him, (all your lapses would be forgiven) except debt. Gabriel (علیہ السلام) has told me this.