جسے اللہ کے راستہ میں قتل کیا جائے اس کے قرض کے سوا تمام گناہوں کے معاف ہونے کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی قَالَا حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا يَحْيَی يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ جَائَ رَجُلٌ إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَرَأَيْتَ إِنْ قُتِلْتُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ بِمَعْنَی حَدِيثِ اللَّيْثِ
ابوبکر بن ابی شیبہ، محمد بن مثنی، یزید بن ہارون، یحییٰ بن سعید، سعید بن ابوسعید مقبری، حضرت عبداللہ بن ابوقتادہ ؓ اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ ایک آدمی رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی مجھے بتائیں اگر میں اللہ کے راستہ میں قتل کیا جاؤں باقی حدیث مبارکہ گزر چکی ہے۔
The tradition has been narrated through a different chain of transmitters on the authority of Abu Qatadah (RA) who said: A man came to the Messenger of Allah ﷺ while he was on the pulpit and said: Do you think if I am killed in the way of Allah... (except this difference in its beginning, the rest of the tradition is the same as the previous one).
جسے اللہ کے راستہ میں قتل کیا جائے اس کے قرض کے سوا تمام گناہوں کے معاف ہونے کے بیان میں
و حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ قَيْسٍ ح قَالَ وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَجْلَانَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ قَيْسٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَزِيدُ أَحَدُهُمَا عَلَی صَاحِبِهِ أَنَّ رَجُلًا أَتَی النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عَلَی الْمِنْبَرِ فَقَالَ أَرَأَيْتَ إِنْ ضَرَبْتُ بِسَيْفِي بِمَعْنَی حَدِيثِ الْمَقْبُرِيِّ
سعید بن منصور، سفیان، عمرو بن دینار، محمد بن قیس، محمد بن عجلان، محمد بن قیس، حضرت عبداللہ بن ابوقتادہ ؓ اپنے باپ کے واسطہ سے نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ ایک آدمی نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ ﷺ منبر پر تھے اس نے عرض کیا اگر مجھے میری تلوار سے مارا جائے تو آپ ﷺ کیا فرماتے ہیں باقی حدیث مبارکہ گزر چکی ہے۔
Another version of the tradition differently transmitted begins with the words:" A man came to the Messenger of Allah ﷺ and he was sitting on the pulpit.... He said: What do you find if I strike with the sword?" (The rest of the tradition is the same as the previous one.)
جسے اللہ کے راستہ میں قتل کیا جائے اس کے قرض کے سوا تمام گناہوں کے معاف ہونے کے بیان میں
حَدَّثَنَا زَکَرِيَّائُ بْنُ يَحْيَی بْنِ صَالِحٍ الْمِصْرِيُّ حَدَّثَنَا الْمُفَضَّلُ يَعْنِي ابْنَ فَضَالَةَ عَنْ عَيَّاشٍ وَهُوَ ابْنُ عَبَّاسٍ الْقِتْبَانِيُّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يُغْفَرُ لِلشَّهِيدِ کُلُّ ذَنْبٍ إِلَّا الدَّيْنَ
زکریا بن یحییٰ بن صالح مصری، ابن فضالہ، ابن عباس قتبانی، عبداللہ بن یزید، ابی عبدالرحمن حبلی، حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے ارشاد فرمایا شہید سے سوائے قرض کے سب گناہ معاف کردیئے جاتے ہیں۔
It has been reported on the authority of Amr bin al-As that the Messenger of Allah ﷺ said: All the sins of a Shahid (martyr) are forgiven except debt.
جسے اللہ کے راستہ میں قتل کیا جائے اس کے قرض کے سوا تمام گناہوں کے معاف ہونے کے بیان میں
و حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ حَدَّثَنِي عَيَّاشُ بْنُ عَبَّاسٍ الْقِتْبَانِيُّ عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْقَتْلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ يُکَفِّرُ کُلَّ شَيْئٍ إِلَّا الدَّيْنَ
زہیر بن حرب، عبداللہ بن یزید مقری، سعید بن ابی ایوب، عیاش بن عباس قتبانی، ابی عبدالرحمن حبلی، حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا اللہ کے راستہ میں قتل ہونا سوائے قرض کے سب گناہوں کو ختم کردیتا ہے۔
It has been reported on the authority of Amr bin al-As through a different chain of transmitters that the Messenger of Allah ﷺ said: Death in the way of Allah blots out everything except debt.
شہدا کی روحوں کے جنت میں ہونے اور شہدا کے زندہ ہونے اور اپنے رب سے رزق دیے جانے کے بیان میں
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی وَأَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ کِلَاهُمَا عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ ح و حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ وَعِيسَی بْنُ يُونُسَ جَمِيعًا عَنْ الْأَعْمَشِ ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ وَاللَّفْظُ لَهُ حَدَّثَنَا أَسْبَاطٌ وَأَبُو مُعَاوِيَةَ قَالَا حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ عَنْ مَسْرُوقٍ قَالَ سَأَلْنَا عَبْدَ اللَّهِ عَنْ هَذِهِ الْآيَةِ وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْوَاتًا بَلْ أَحْيَائٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ يُرْزَقُونَ قَالَ أَمَا إِنَّا قَدْ سَأَلْنَا عَنْ ذَلِکَ فَقَالَ أَرْوَاحُهُمْ فِي جَوْفِ طَيْرٍ خُضْرٍ لَهَا قَنَادِيلُ مُعَلَّقَةٌ بِالْعَرْشِ تَسْرَحُ مِنْ الْجَنَّةِ حَيْثُ شَائَتْ ثُمَّ تَأْوِي إِلَی تِلْکَ الْقَنَادِيلِ فَاطَّلَعَ إِلَيْهِمْ رَبُّهُمْ اطِّلَاعَةً فَقَالَ هَلْ تَشْتَهُونَ شَيْئًا قَالُوا أَيَّ شَيْئٍ نَشْتَهِي وَنَحْنُ نَسْرَحُ مِنْ الْجَنَّةِ حَيْثُ شِئْنَا فَفَعَلَ ذَلِکَ بِهِمْ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ فَلَمَّا رَأَوْا أَنَّهُمْ لَنْ يُتْرَکُوا مِنْ أَنْ يُسْأَلُوا قَالُوا يَا رَبِّ نُرِيدُ أَنْ تَرُدَّ أَرْوَاحَنَا فِي أَجْسَادِنَا حَتَّی نُقْتَلَ فِي سَبِيلِکَ مَرَّةً أُخْرَی فَلَمَّا رَأَی أَنْ لَيْسَ لَهُمْ حَاجَةٌ تُرِکُوا
یحییٰ بن یحیی، ابوبکر بن ابی شیبہ، ابی معاویہ، اسحاق بن ابراہیم، جریر، عیسیٰ بن یونس، اعمش، محمد بن عبداللہ بن نمیر حضرت مسروق سے روایت ہے کہ ہم نے حضرت عبداللہ سے اس آیت کے بارے میں سوال کیا جنہیں اللہ کے راستہ میں قتل کیا جائے انہیں مردہ گمان نہ کرو بلکہ وہ زندہ ہیں اپنے رب کے پاس سے رزق دیئے جاتے ہیں تو انہوں نے کہا ہم نے بھی رسول اللہ ﷺ سے اس بارے میں سوال کیا تھا تو آپ ﷺ نے فرمایا ان کی روحیں سبز پرندوں کے جوف میں ہوتی ہیں ان کے لئے ایسی قندیلیں ہیں جو عرش کے ساتھ لٹکی ہوئی ہیں اور وہ روحیں جنت میں پھرتی رہتی ہیں جہاں چاہیں پھر انہیں قندیلوں میں واپس آجاتی ہیں ان کا رب ان کی طرف مطلع ہو کر فرماتا ہے کیا تمہیں کسی چیز کی خواہش ہے وہ عرض کرتے ہیں ہم کس چیز کی خواہش کریں حالانکہ ہم جہاں چاہتے ہیں جنت میں پھرتے ہیں اللہ تعالیٰ ان سے اس طرح تین مرتبہ فرماتا ہے جب وہ دیکھتے ہیں کہ انہیں کوئی چیز مانگے بغیر نہیں چھوڑا جائے گا تو وہ عرض کرتے ہیں اے رب ہم چاہتے ہیں کہ آپ ہماری روحیں ہمارے جسموں میں لوٹا دیں یہاں تک کہ ہم تیرے راستہ میں دوسری مرتبہ قتل کئے جائیں جب اللہ دیکھتا ہے کہ انہیں اب کوئی ضرورت نہیں تو انہیں چھوڑ دیا جاتا ہے۔
It has been narrated on the authority of Masruq Who said: We asked Abdullah about the Quranic verse:" Think not of those who are slain in Allahs way as dead. Nay, they are alive, finding their sustenance in the presence of their Lord.." (iii. 169). He said: We asked the meaning of the verse (from the Holy Prophet) who said: The souls, of the martyrs live in the bodies of green birds who have their nests in chandeliers hung from the throne of the Almighty. They eat the fruits of Paradise from wherever they like and then nestle in these chandeliers. Once their Lord cast a glance at them and said: Do ye want anything? They said: What more shall we desire? We eat the fruit of Paradise from wherever we like. Their Lord asked them the same question thrice. When they saw that they will continue to be asked and not left (without answering the question). they said: O Lord, we wish that Thou mayest return our souls to our bodies so that we may be slain in Thy way once again. When He (Allah) saw that they had no need, they were left (to their joy in heaven).
جہاد کرنے اور پہرہ دینے کی فضلیت کے بیان میں
حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ أَبِي مُزَاحِمٍ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ حَمْزَةَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْوَلِيدِ الزُّبَيْدِيِّ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ عَطَائِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ رَجُلًا أَتَی النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَيُّ النَّاسِ أَفْضَلُ فَقَالَ رَجُلٌ يُجَاهِدُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ بِمَالِهِ وَنَفْسِهِ قَالَ ثُمَّ مَنْ قَالَ مُؤْمِنٌ فِي شِعْبٍ مِنْ الشِّعَابِ يَعْبُدُ اللَّهَ رَبَّهُ وَيَدَعُ النَّاسَ مِنْ شَرِّهِ
منصور بن ابی مزاحم، یحییٰ بن حمزہ، محمد بن ولید زبیدی، زہری، عطاء بن یزید لیثی، حضرت ابوسعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا لوگوں میں سے کونسا آدمی افضل ہے آپ ﷺ نے فرمایا وہ آدمی جو اللہ کے راستہ میں اپنی جان اور مال سے جہاد کرتا ہے اس نے عرض کیا پھر کون افضل ہے آپ ﷺ نے فرمایا وہ مومن جو پہاڑ کی گھاٹیوں میں سے کسی گھاٹی میں رہ کر اللہ کی عبادت کرتا ہو اور لوگوں کو اپنی برائی سے محفوظ رکھتا ہو۔
It has been narrated on the authority of Abu Said Khudri that a man came to the Holy Prophet ﷺ and said: Who is the best of men? He replied: A man who fights in the way of Allah spending his wealth and staking his life. The man then asked: Who is next to him (in excellence)? He said: Next to him is a believer who lives in a mountain gorge worshipping hid Lord and sparing men from his mischief.
جہاد کرنے اور پہرہ دینے کی فضلیت کے بیان میں
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ عَطَائِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ قَالَ رَجُلٌ أَيُّ النَّاسِ أَفْضَلُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ مُؤْمِنٌ يُجَاهِدُ بِنَفْسِهِ وَمَالِهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ قَالَ ثُمَّ مَنْ قَالَ ثُمَّ رَجُلٌ مُعْتَزِلٌ فِي شِعْبٍ مِنْ الشِّعَابِ يَعْبُدُ رَبَّهُ وَيَدَعُ النَّاسَ مِنْ شَرِّهِ
عبد بن حمید، عبدالرزاق، معمر، زہری، عطاء بن یزید، لیثی، حضرت ابوسعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ لوگوں میں سے کون سب سے افضل ہے آپ ﷺ نے فرمایا وہ مومن جو اپنی جان اور اپنے مال میں سے اللہ کے راستہ میں جہاد کرتا ہو اس نے عرض کیا پھر کون آپ ﷺ نے فرمایا جو شخص یکسو ہو کر پہاڑ کی گھاٹیوں میں کسی گھاٹی میں اپنے رب کی عبادت کرتا ہو اور لوگوں کو اپنی برائی سے محفوظ رکھتا ہو۔
It has been narrated (through a diferent chain of transmetters) on the same authority (i. e. Abu Said Khadri) who said: A man asked: Messenger of Allah, which of men is the best? He said: A believer who fights staking his life and spending his wealth in the way of Allah. He asked: Who is next to him (in excellence)? He said: Next to him is a man who lives an isolated life in a mountain gorge, worshipping his Lord and sparing men from his mischief.
جہاد کرنے اور پہرہ دینے کی فضلیت کے بیان میں
و حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ فَقَالَ وَرَجُلٌ فِي شِعْبٍ وَلَمْ يَقُلْ ثُمَّ رَجُلٌ
عبداللہ بن عبدالرحمن دارمی، محمد بن یوسف اوزاعی، ابن شہاب، اس سند سے بھی یہ حدیث مروی ہے لیکن اس میں (رَجُلٌ فِي شِعْبٍ ) ہے ثم رجل نہیں کہا۔
A version of the tradition narrated on the authority of Ibn Shihab has a little differently worded ending. i. e." A man in a mountain valley." but did not mention" next to him a man who...."
جہاد کرنے اور پہرہ دینے کی فضلیت کے بیان میں
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی التَّمِيمِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ بَعْجَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ مِنْ خَيْرِ مَعَاشِ النَّاسِ لَهُمْ رَجُلٌ مُمْسِکٌ عِنَانَ فَرَسِهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ يَطِيرُ عَلَی مَتْنِهِ کُلَّمَا سَمِعَ هَيْعَةً أَوْ فَزْعَةً طَارَ عَلَيْهِ يَبْتَغِي الْقَتْلَ وَالْمَوْتَ مَظَانَّهُ أَوْ رَجُلٌ فِي غُنَيْمَةٍ فِي رَأْسِ شَعَفَةٍ مِنْ هَذِهِ الشَّعَفِ أَوْ بَطْنِ وَادٍ مِنْ هَذِهِ الْأَوْدِيَةِ يُقِيمُ الصَّلَاةَ وَيُؤْتِي الزَّکَاةَ وَيَعْبُدُ رَبَّهُ حَتَّی يَأْتِيَهُ الْيَقِينُ لَيْسَ مِنْ النَّاسِ إِلَّا فِي خَيْرٍ
یحییٰ بن یحیی، تمیمی عبدالعزیز بن ابی حازم بعجہ، حضرت ابوہریرہ ؓ رسول اللہ ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا لوگوں میں بہترین زندگی اس شخص کی ہے جو اپنے گھوڑے کی لگام تھامے اس کی پشت پر اللہ کے راستہ میں اڑا جا رہا ہو جب وہ دشمن کی آواز سنے یا خوف محسوس کرے تو اسی طرح اڑ جائے قتل اور موت کو تلاش کرتے ہوئے یا اس شخص کی زندگی بہتر ہے جو چند بکریاں لے کر پہاڑ کی ان چوٹیوں میں سے کسی چوٹی پر یا ان وادیوں میں سے کسی وادی میں رہتا ہو نماز قائم کرتا ہوں زکوٰۃ ادا کرتا ہو اور اپنے رب کی عبادت کرتا ہو یہاں تک کہ اسے اسی حال میں موت آجائے اور سوائے خیر کے لوگوں کے کسی معاملہ میں نہ پڑتا ہو۔
It has been narrated on the authority of Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: Of the men he lives the best life who holds the reins of his horse (ever ready to march) in the way of Allah, flies on its back whenever he hears a fearful shriek, or a call for help, flies to it seeking death at places where it can be expected. (Next to him) is a man who lives with his sheep at a hill-top or in a valley, says his prayers regularly, gives Zakat and worships his Lord until death comes to him. There is no better person among men except these two.
جہاد کرنے اور پہرہ دینے کی فضلیت کے بیان میں
و حَدَّثَنَاه قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ وَيَعْقُوبُ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْقَارِيَّ کِلَاهُمَا عَنْ أَبِي حَازِمٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ وَقَالَ عَنْ بَعْجَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَدْرٍ وَقَالَ فِي شِعْبَةٍ مِنْ هَذِهِ الشِّعَابِ خِلَافَ رِوَايَةِ يَحْيَی
قتیبہ بن سعید، عبدالعزیزبن ابی حازم، یعقوب ابن عبدالرحمن قاری، ابوحازم، اس سند سے بھی یہ حدیث مبارکہ اسی طرح مروی ہے اور ایک روایت میں (مِنْ هَذِهِ الشِّعَابِ ) کے الفاظ مروی ہے۔
This hadith has been transmitted on the authority of Abu Hurairah (RA) with a slight variation of wording.
جہاد کرنے اور پہرہ دینے کی فضلیت کے بیان میں
و حَدَّثَنَاه أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَأَبُو کُرَيْبٍ قَالُوا حَدَّثَنَا وَکِيعٌ عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ عَنْ بَعْجَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْجُهَنِيِّ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَعْنَی حَدِيثِ أَبِي حَازِمٍ عَنْ بَعْجَةَ وَقَالَ فِي شِعْبٍ مِنْ الشِّعَابِ
ابوبکر بن ابی شیبہ، زہیر بن حرب، ابوکریب، وکیع، اسامہ بن زید، بعجہ بن عبداللہ جہنی، حضرت ابوہریرہ ؓ نبی ﷺ سے اسی طرح حدیث روایت کرتے ہیں لیکن اس میں ( فِي شِعْبٍ مِنْ الشِّعَابِ ) کے الفاظ ہیں۔
Two more versions of the tradition narrated by Abdullah bin Badr and Abu Hurairah (RA) , respectively, have been handed down through different chains of transmitters with negligible difference in the wording.
ان دو آدمیوں کے بیان میں جن میں سے ایک دوسرے کو قتل کرے لیکن دونوں جنت میں داخل ہوں گے
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عُمَرَ الْمَکِّيُّ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَضْحَکُ اللَّهُ إِلَی رَجُلَيْنِ يَقْتُلُ أَحَدُهُمَا الْآخَرَ کِلَاهُمَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ فَقَالُوا کَيْفَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ يُقَاتِلُ هَذَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فَيُسْتَشْهَدُ ثُمَّ يَتُوبُ اللَّهُ عَلَی الْقَاتِلِ فَيُسْلِمُ فَيُقَاتِلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فَيُسْتَشْهَدُ
محمد بن ابی عمر مکی، سفیان، ابوزناد، اعرج، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ دو آدمیوں کی طرف دیکھ کر ہنستا ہے کہ ان میں سے ایک آدمی دوسرے کو قتل کرے اور دونوں جنت میں داخل ہوجائیں صحابہ ؓ نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ یہ کیسے ہوسکتا ہے آپ ﷺ نے فرمایا یہ آدمی اللہ کے راستہ میں جہاد کرتا ہوا شہید ہوجائے پھر اللہ تعالیٰ قاتل کی طرف رجوع کرے اور وہ اسلام قبول کرکے اللہ تعالیٰ کے راستہ میں جہاد کرتا ہوا شہید ہوجائے (جیسے، حضرت حمزہ اور وحشی ؓ۔
It has been narrated on the authority of Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: God laughs at the two men both of whom will enter Paradise (though) one of them kills the other. They said: Messenger of Allah, how is it? He said: One of them fights in the way of Allah, the Almighty and Exalted. and dies a martyr. Then God turns in mercy to the murderer who embraces Islam, fights in the way of Allah, the Almighty and Exalted, and dies a martyr.
ان دو آدمیوں کے بیان میں جن میں سے ایک دوسرے کو قتل کرے لیکن دونوں جنت میں داخل ہوں گے
و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَأَبُو کُرَيْبٍ قَالُوا حَدَّثَنَا وَکِيعٌ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ
ابوبکر بن ابی شیبہ، زہیر بن حرب، ابوکریب، وکیع، سفیان، ابی زناد، اس سند سے بھی یہ حدیث اسی طرح مروی ہے۔
The same tradition has been narrated on the authority of Abu Zinad (with the same chain of transmitters).
ان دو آدمیوں کے بیان میں جن میں سے ایک دوسرے کو قتل کرے لیکن دونوں جنت میں داخل ہوں گے
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ قَالَ هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَکَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَضْحَکُ اللَّهُ لِرَجُلَيْنِ يَقْتُلُ أَحَدُهُمَا الْآخَرَ کِلَاهُمَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ قَالُوا کَيْفَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ يُقْتَلُ هَذَا فَيَلِجُ الْجَنَّةَ ثُمَّ يَتُوبُ اللَّهُ عَلَی الْآخَرِ فَيَهْدِيهِ إِلَی الْإِسْلَامِ ثُمَّ يُجَاهِدُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَيُسْتَشْهَدُ
محمد بن رافع، عبدالرزاق، معمر، ہمام بن منبہ، حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی احادیث میں سے ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ دو آدمیوں کی وجہ سے ہنستا ہے کہ ان میں سے ایک دوسرے کو قتل کر دے اور دونوں جنت میں داخل ہوجائیں صحابہ نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ یہ کیسے ممکن ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا یہ شہید کیا گیا اس لئے جنت میں داخل ہوگا پھر اللہ دوسرے پر رحمت فرمائے گا اور اسے اسلام کی ہدایت عطا فرمائے گا پھر وہ اللہ کے راستہ میں جہاد کرتا ہوا شہید کردیا جائے۔
It has been reported on the authority of Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: God laughs at the two men one of whom kills the other; both of them will enter Paradise. They (the Companions) said: How, Messenger of Allah? ﷺ He said: One is slain (in the way of Allah) and enters Paradise. Then God forgives the other and guides him to Islam; then he fights in the way of Allah and dies a martyr.
جس نے کافر کو قتل کیا اسے جہنم سے روک دیے جانے کے بیان میں
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ أَيُّوبَ وَقُتَيْبَةُ وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ قَالُوا حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ يَعْنُونَ ابْنَ جَعْفَرٍ عَنْ الْعَلَائِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يَجْتَمِعُ کَافِرٌ وَقَاتِلُهُ فِي النَّارِ أَبَدًا
یحییٰ بن ایوب، قتیبہ، علی بن حجر، اسماعیل یعنون ابن جعفر، علاء، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کافر اور اسے قتل کرنے والا مسلمان کبھی جہنم میں اکٹھے نہ ہوں گے۔
It has been narrated on the authority of Abu Hurairah (RA) that the Messenger Allah ﷺ said: A disbeliever and a believer who killed him will never be gathered together in Hell.
جس نے کافر کو قتل کیا اسے جہنم سے روک دیے جانے کے بیان میں
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَوْنٍ الْهِلَالِيُّ حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَقَ الْفَزَارِيُّ إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَجْتَمِعَانِ فِي النَّارِ اجْتِمَاعًا يَضُرُّ أَحَدُهُمَا الْآخَرَ قِيلَ مَنْ هُمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ مُؤْمِنٌ قَتَلَ کَافِرًا ثُمَّ سَدَّدَ
عبداللہ بن عون ہلالی، ابواسحاق فزاری، ابراہیم بن محمد، سہیل، ابوصالح، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا دوزخ میں دو آدمیوں کا اجتماع اس طرح نہ ہوگا کہ ان میں سے ایک دوسرے کو کوئی نقصان پہنچا سکے عرض کیا گیا اے اللہ کے رسول ﷺ! وہ کون لوگ ہوں گے؟ فرمایا وہ مومن جس نے کافر کو قتل کیا پھر اعمال خیر پر کار بند رہا۔
It has been narrated on the authority of Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: No two such persons shall be together in Hell as if one of them is such that his presence hurts the other. It was asked: Messenger of Allah, who are they? He said: A believer who killed a disbeliever and (then) kept to the right path."
اللہ کے راستہ میں صدقہ کرنے کی فضلیت کے بیان میں
حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي عَمْرٍو الشَّيْبَانِيِّ عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ جَائَ رَجُلٌ بِنَاقَةٍ مَخْطُومَةٍ فَقَالَ هَذِهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَکَ بِهَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ سَبْعُ مِائَةِ نَاقَةٍ کُلُّهَا مَخْطُومَةٌ
اسحاق بن ابراہیم حنظلی، جریر، اعمش، ابوعمرو، حضرت ابومسعود انصاری سے روایت ہے کہ ایک آدمی ایک اونٹنی لے کر آیا جس کو مہار ڈالی ہوئی تھی عرض کیا یہ اس کے راستہ (صدقہ) میں ہے تو اسے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تیرے پاس قیامت کے دن اس کے بدلہ سات سو اونٹیناں ہوں گی جن کی مہار ڈالی ہوئی ہوگی۔
It has been narrated on the authority of Abu Masud al-Ansari who said A man brought a muzzled she-camel and said: It is (offered) in the way of Allah. The Messenger of Allah ﷺ said: For this you will have seven hundred she-camels on the Day of Judgment all of which will be muzzled.
اللہ کے راستہ میں صدقہ کرنے کی فضلیت کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ زَائِدَةَ ح و حَدَّثَنِي بِشْرُ بْنُ خَالِدٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ کِلَاهُمَا عَنْ الْأَعْمَشِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ
ابوبکر بن ابی شیبہ، ابواسامہ، زائدہ، بشر بن خالد بن جعفر، شعبہ، اعمش، اس سند سے بھی یہ حدیث روایت کی گئی ہے۔
A similar tradition has been narrated on the authority of al-Amash.
اللہ کے راستہ میں جہاد کرنے والے کی سواری وغیرہ سے مدد کرنے کے بیان میں
و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو کُرَيْبٍ وَابْنُ أَبِي عُمَرَ وَاللَّفْظُ لِأَبِي کُرَيْبٍ قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي عَمْرٍو الشَّيْبَانِيِّ عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ جَائَ رَجُلٌ إِلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنِّي أُبْدِعَ بِي فَاحْمِلْنِي فَقَالَ مَا عِنْدِي فَقَالَ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنَا أَدُلُّهُ عَلَی مَنْ يَحْمِلُهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ دَلَّ عَلَی خَيْرٍ فَلَهُ مِثْلُ أَجْرِ فَاعِلِهِ
ابوبکر بن ابی شیبہ، ابوکریب، ابن ابی عمر، ابومعاویہ، اعمش، ابوعمرو شیبانی، حضرت ابومسعود انصاری سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے نبی ﷺ کے پاس آ کر عرض کیا، میری سواری ہلاک ہوگئی ہے آپ ﷺ مجھے سوار کردیں آپ ﷺ نے فرمایا میرے پاس تو کوئی سواری نہیں ہے ایک آدمی نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ میں اس کی اس آدمی کی طرف راہنمائی کرتا ہوں جو اسے سواری دے دے گا رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس آدمی نے کسی کی نیکی پر راہنمائی کی تو اس کے لئے اس عمل کرنے والے کی مثل اجر وثواب ہوگا۔
It has been narrated on the authority of Abu Masud al-Ansari who said: A man came to the Messenger of Allah ﷺ and said: My riding beast has been killed, so give me some animal to ride upon. He (the Holy Prophet) said: I have none with me. A man said: Messenger of Allah, I can guide him to one who will provide him with a riding beast. The Messenger of Allah ﷺ said: One who guides to something good has a reward similar to that of its doer.
اللہ کے راستہ میں جہاد کرنے والے کی سواری وغیرہ سے مدد کرنے کے بیان میں
و حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا عِيسَی بْنُ يُونُسَ ح و حَدَّثَنِي بِشْرُ بْنُ خَالِدٍ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ عَنْ شُعْبَةَ ح و حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ کُلُّهُمْ عَنْ الْأَعْمَشِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ
اسحاق بن ابراہیم، عیسیٰ بن یونس، بشر بن خالد، محمد بن جعفر، شعبہ، محمد بن رافع، عبدالرزاق، سفیان، اعمش، ان دونوں اسناد سے بھی یہ حدیث مبارکہ روایت کی گئی ہے۔
The above tradition has been handed down through a different chain of transmitters.