اللہ کے راستہ میں جہاد کرنے والے کی سواری وغیرہ سے مدد کرنے کے بیان میں
و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ حَدَّثَنَا ثَابِتٌ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ح و حَدَّثَنِي أَبُو بَکْرِ بْنُ نَافِعٍ وَاللَّفْظُ لَهُ حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ حَدَّثَنَا ثَابِتٌ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ أَنَّ فَتًی مِنْ أَسْلَمَ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أُرِيدُ الْغَزْوَ وَلَيْسَ مَعِي مَا أَتَجَهَّزُ قَالَ ائْتِ فُلَانًا فَإِنَّهُ قَدْ کَانَ تَجَهَّزَ فَمَرِضَ فَأَتَاهُ فَقَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقْرِئُکَ السَّلَامَ وَيَقُولُ أَعْطِنِي الَّذِي تَجَهَّزْتَ بِهِ قَالَ يَا فُلَانَةُ أَعْطِيهِ الَّذِي تَجَهَّزْتُ بِهِ وَلَا تَحْبِسِي عَنْهُ شَيْئًا فَوَاللَّهِ لَا تَحْبِسِي مِنْهُ شَيْئًا فَيُبَارَکَ لَکِ فِيهِ
ابوبکر بن ابی شیبہ، عفان، حماد بن سلمہ، ثابت، انس بن مالک، ابوبکر بن نافع، بہز، حماد بن سلمہ، ثابت، حضرت انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ بنی اسلام کے ایک نوجوان نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ میں جہاد کا ارادہ رکھتا ہوں لیکن میرے پاس سامان جہاد نہیں ہے آپ ﷺ نے فرمایا فلاں کے پاس جاؤ کیونکہ اس نے سامان جہاد تیار کیا تھا لیکن وہ بیمار ہوگیا ہے اس نے اس آدمی کے پاس جا کر کہا رسول اللہ ﷺ تجھے سلام کہتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ تم اپنا تیار شدہ سامان مجھے عطا کردو اس نے کہا اے فلانی اسے وہ سامان عطا کر دے جو میں نے تیار کیا تھا اور اس میں سے کسی چیز کو بھی نہ رکھنا اللہ کی قسم! اس میں سے کوئی چیز بچا کر نہ رکھنا کیونکہ اس میں تیرے لئے برکت نہ ہوگی۔
It has been narrated on the authority of Anas bin Malik (RA) that a young man from Aslam tribe said: Messenger of Allah, I wish to fight (in the way of Allah) but I dont have anything to equip myself with for fighting. He (the Holy Prophet) said: Go to so and so, for he had equipped himself (for fighting) but he fell ill. So, he (the young man) went to him and said: The Messenger of Allah ﷺ sends you his greetings and says that you should give me the equipage that you have provided yourself with. The man said (to his wife or maidservant): So and so, give him the equipage I have collected for myself and do not withhold anything from him. Do not withhold anything from him so that you may be blessed therein.
اللہ کے راستہ میں جہاد کرنے والے کی سواری وغیرہ سے مدد کرنے کے بیان میں
و حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ وَأَبُو الطَّاهِرِ قَالَ أَبُو الطَّاهِرِ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ و قَالَ سَعِيدٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ عَنْ بُکَيْرِ بْنِ الْأَشَجِّ عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ مَنْ جَهَّزَ غَازِيًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَقَدْ غَزَا وَمَنْ خَلَفَهُ فِي أَهْلِهِ بِخَيْرٍ فَقَدْ غَزَا
سعید بن منصور، ابوطاہر، ابن وہب، سعید، عبداللہ بن وہب، عمرو بن حارث، بکیر بن اشج، بسر بن سعید، حضرت زید بن خالد جہنی ؓ رسول اللہ ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا جس نے اللہ کے راستہ میں جہاد کرنے والے کو سامان تیار کرکے دیا تو اس نے بھی جہاد کیا اور جس نے اس مجاہد کے بعد اس کے اہل و عیال کے ساتھ بھلائی کی تو اس نے بھی جہاد کیا۔
It has been narrated on the authority of Zaid bin Kbalid al-Juhani that the Messenger of Allah ﷺ said: Anybody who equips a warrior (going to fight) in the way of Allah (is like one who actually) fights. And anybody who looks well after his family in his absence (is also like one who actually) fights.
اللہ کے راستہ میں جہاد کرنے والے کی سواری وغیرہ سے مدد کرنے کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ حَدَّثَنَا يَزِيدُ يَعْنِي ابْنَ زُرَيْعٍ حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ الْمُعَلِّمُ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ أَبِي کَثِيرٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ قَالَ قَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ جَهَّزَ غَازِيًا فَقَدْ غَزَا وَمَنْ خَلَفَ غَازِيًا فِي أَهْلِهِ فَقَدْ غَزَا
ابوربیع زہرانی، یزید بن زریع، حسین معلم، یحییٰ بن ابی کثیر، ابوسلمہ بن عبدالرحمن، بسر بن سعید، زید بن خالد جہنی، حضرت زید بن خالد ؓ سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا جس نے کسی مجاہد کے لئے سامان تیار کیا تو اس نے جہاد کیا اور جو شخص مجاہد کے پیچھے اس کے اہل و عیال میں رہا تو اس نے بھی جہاد کیا۔
The above tradition has been narrated on the authority of Khalid al- Juhani who said: The Prophet ﷺ of Allah ﷺ said: He who equips a warrior in the way of Allah (is like one who dctually fights) aud he who looks after the family of a warrior in the way of Allah in fact participated in the battle.
اللہ کے راستہ میں جہاد کرنے والے کی سواری وغیرہ سے مدد کرنے کے بیان میں
و حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْمُبَارَکِ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ أَبِي کَثِيرٍ حَدَّثَنِي أَبُو سَعِيدٍ مَوْلَی الْمَهْرِيِّ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ بَعْثًا إِلَی بَنِي لَحْيَانَ مِنْ هُذَيْلٍ فَقَالَ لِيَنْبَعِثْ مِنْ کُلِّ رَجُلَيْنِ أَحَدُهُمَا وَالْأَجْرُ بَيْنَهُمَا
زہیر بن حرب، اسماعیل بن علیۃ، علی بن مبارک، یحییٰ بن ابی کثیر، ابوسعید مہری، ابوسعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک لشکر بنو لحیان کی طرف بھیجا (جو کہ ہذیل کا ایک قبیلہ ہے) تو فرمایا: ہر دو آدمیوں میں سے ایک آدمی جائے اور ثواب دونوں کے لئے برابر ہوگا۔
It has been narrated on the authority of Abu Said Khudri that the Messenger of Allah ﷺ sent a force to Banu Lihyan (who are from Banu Hudhail, and said: One man from every two and the reward (will be divided) between the two.
اللہ کے راستہ میں جہاد کرنے والے کی سواری وغیرہ سے مدد کرنے کے بیان میں
و حَدَّثَنِيهِ إِسْحَقُ بْنُ مَنْصُورٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الْوَارِثِ قَالَ سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ عَنْ يَحْيَی حَدَّثَنِي أَبُو سَعِيدٍ مَوْلَی الْمَهْرِيِّ حَدَّثَنِي أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ بَعَثَ بَعْثًا بِمَعْنَاهُ
اسحاق بن منصور، عبدالصمد بن عبدالوارث، ابی حسین، یحیی، ابوسعید مہری، حضرت ابوسعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک لشکر بھیجا باقی حدیث اسی طرح ہے۔
The above tradition has also been narrated through two different chains of transmitters on the authority of Abu Said Khudri and Yahya, respectively.
اللہ کے راستہ میں جہاد کرنے والے کی سواری وغیرہ سے مدد کرنے کے بیان میں
و حَدَّثَنِي إِسْحَقُ بْنُ مَنْصُورٍ أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ مُوسَی عَنْ شَيْبَانَ عَنْ يَحْيَی بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ
اسحاق بن منصور، عبیداللہ ابن موسی، شیبان، یحیی، اس سند سے بھی یہ حدیث اسی طرح روایت کی گئی ہے۔
Same as Hadees 4905
اللہ کے راستہ میں جہاد کرنے والے کی سواری وغیرہ سے مدد کرنے کے بیان میں
و حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ مَوْلَی الْمَهْرِيِّ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ إِلَی بَنِي لَحْيَانَ لِيَخْرُجْ مِنْ کُلِّ رَجُلَيْنِ رَجُلٌ ثُمَّ قَالَ لِلْقَاعِدِ أَيُّکُمْ خَلَفَ الْخَارِجَ فِي أَهْلِهِ وَمَالِهِ بِخَيْرٍ کَانَ لَهُ مِثْلُ نِصْفِ أَجْرِ الْخَارِجِ
سعید بن منصور، عبداللہ بن وہب، عمرو بن حارث، یزید بن ابی حبیب، یزید بن ابوسعید مولیٰ مہری، حضرت ابوسعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے بنو لحیان کی طرف ایک لشکر روانہ کیا تو فرمایا ہر دو آدمیوں میں سے ایک آدمی جائے پھر گھر پر رہنے والوں سے فرمایا تم میں سے جو شخص اللہ کے راستہ میں جانے والے کے اہل و عیال اور مال کی نگرانی کرے گا تو اس کے لئے جہاد میں جانے والے سے آدھا ثواب ہوگا۔
It has been narrated (through a still different chain of transmitters) on the authority of Abu Said Khudri that the Messenger of Allah ﷺ despatched a force to Banu Lihyan. (and said:) One man from every two should join the force. Then he said to those who stayed behind: Those of you who will look well after the family and wealth of those who are going on the expedition will be getting half the reward of the warriors.
مجاہدین کی عورتوں کے عزت اور جو ان میں خیانت کرے اس کے گناہ کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا وَکِيعٌ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حُرْمَةُ نِسَائِ الْمُجَاهِدِينَ عَلَی الْقَاعِدِينَ کَحُرْمَةِ أُمَّهَاتِهِمْ وَمَا مِنْ رَجُلٍ مِنْ الْقَاعِدِينَ يَخْلُفُ رَجُلًا مِنْ الْمُجَاهِدِينَ فِي أَهْلِهِ فَيَخُونُهُ فِيهِمْ إِلَّا وُقِفَ لَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَيَأْخُذُ مِنْ عَمَلِهِ مَا شَائَ فَمَا ظَنُّکُمْ
ابوبکر بن ابی شیبہ، وکیع، سفیان، علقمہ ابن مرثد، سلیمان بن بریدہ ؓ، حضرت بریدہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا مجاہدین کی عورتوں کی حرمت وعزت گھروں میں رہنے والوں کے لئے ایسی ہے جیسے ان کی ماؤں کی عزت ہے کوئی آدمی گھر میں رہنے والوں میں سے ایسا نہیں جو مجاہدین کے کسی آدمی کے گھر میں اس کے بعد نگرانی کرنے والا ہو پھر ان میں خیانت کا مرتکب ہو کہ اسے قیامت کے دن کھڑا نہ کیا جائے پھر وہ مجاہد اس کے اعمال میں سے جو چاہے گا لے لے گا اب تمہارا کیا خیال ہے (کہ وہ کونسی نیکی لے لے گا)؟
It has been narrated on the authority of Sulaiman bin Buraida who learnt the tradition from his father. The latter said that the Messenger of Allah ﷺ said: The sanctity of the wives of Mujahids is like the sanctity of their mothers for those who sit at home (i. e do not go out for Jihad). Anyone who stays behind looking after the family of a Mujahid and betrays his trust will be made to stand on the Day of Judgment before the Mujahid who will take away from his meritorious deeds whatever he likes. So what do you think (will he leave anything)?
مجاہدین کی عورتوں کے عزت اور جو ان میں خیانت کرے اس کے گناہ کے بیان میں
و حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ عَنْ ابْنِ بُرَيْدَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ قَالَ يَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَعْنَی حَدِيثِ الثَّوْرِيِّ
محمد بن رافع، یحییٰ بن آدم، مسعر، علقمہ ابن مرثد، ابن بریدہ، حضرت بریدہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا باقی حدیث اسی طرح ہے۔
This tradition has been narrated by the same authority through different chain of transmitters.
مجاہدین کی عورتوں کے عزت اور جو ان میں خیانت کرے اس کے گناہ کے بیان میں
و حَدَّثَنَاه سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ قَعْنَبٍ عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ فَقَالَ فَخُذْ مِنْ حَسَنَاتِهِ مَا شِئْتَ فَالْتَفَتَ إِلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ فَمَا ظَنُّکُمْ
سعید بن منصور، سفیان، قعنب، علقمہ بن مرثد، اس سند سے بھی یہ اسی طرح ہے اس میں اضافہ ہے کہ مجاہد ؓ سے کہا جائے گا اس کی نیکیوں میں سے جو تم چاہو لے لو پھر رسول اللہ ہماری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا تمہارا کیا خیال ہے۔
A version of the tradition narrated on the authority of Alqama bin Murthad has a differently worded end: It will be said to the Mujahid: Take from his noble deeds whatever you like. Then the Messenger of Allah ﷺ turned to us and asked: What do you think (will he leave anything)? - (i. e. he will take away everything).
معذوروں سے جہاد کی فرضیت کے ساقط ہونے کے بیان میں
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ وَاللَّفْظُ لِابْنِ الْمُثَنَّی قَالَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي إِسْحَقَ أَنَّهُ سَمِعَ الْبَرَائَ يَقُولُا فِي هَذِهِ الْآيَةِ لَا يَسْتَوِي الْقَاعِدُونَ مِنْ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُجَاهِدُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَيْدًا فَجَائَ بِکَتِفٍ يَکْتُبُهَا فَشَکَا إِلَيْهِ ابْنُ أُمِّ مَکْتُومٍ ضَرَارَتَهُ فَنَزَلَتْ لَا يَسْتَوِي الْقَاعِدُونَ مِنْ الْمُؤْمِنِينَ غَيْرُ أُولِي الضَّرَرِ قَالَ شُعْبَةُ وَأَخْبَرَنِي سَعْدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ عَنْ رَجُلٍ عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ فِي هَذِهِ الْآيَةِ لَا يَسْتَوِي الْقَاعِدُونَ مِنْ الْمُؤْمِنِينَ بِمِثْلِ حَدِيثِ الْبَرَائِ و قَالَ ابْنُ بَشَّارٍ فِي رِوَايَتِهِ سَعْدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ رَجُلٍ عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ
محمد بن مثنی، محمد بن بشار، ابن مثنی، محمد بن جعفر، شعبہ، حضرت ابواسحاق ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے حضرت براء ؓ کو فرماتے ہوئے سنا وہ اس آیت مبارکہ (لَا يَسْتَوِي الْقٰعِدُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ غَيْرُ اُولِي الضَّرَرِ وَالْمُجٰهِدُوْنَ ) 4۔ النساء: 95) فی سبیل اللہ کے بارے میں ارشاد فرما رہے تھے کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت زید ؓ کو حکم دیا تو وہ ایک شانہ کی ہڈی لے آئے اور اس پر یہ آیت مبارکہ لکھ دی تو حضرت ابن ام مکتوم ؓ نے آپ ﷺ سے اپنے نابینا ہونے کی شکایت کی تو (لَا يَسْتَوِي الْقٰعِدُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ غَيْرُ اُولِي الضَّرَرِ وَالْمُجٰهِدُوْنَ ) 4۔ النساء: 95) آیت نازل ہوئی آگے اسی حدیث کی دوسری اسناد ذکر کی ہیں۔
It has been narrated on the authority of Abu Ishaq, that he heard Bara talking about the Quranic verse:" Those who sit (at home) from among the believers and those who go out for Jihad in the way of Allah are not aqual" (iv. 95). (He said that) the Messenger of Allah ﷺ ordered Zaid (to write the verse). He brought a shoulder-blade (of a slaughtered camel) and inscribed it (the verse) thereon. The son of Umm Maktum complained of his blindness to the Holy Prophet ﷺ . (At this) descended the revelation:" Those of the believers who sit (at home) without any trouble (illness, incapacity, disability)" (iv. 95). The tradition has been handed down through two other chains of transmitters.
معذوروں سے جہاد کی فرضیت کے ساقط ہونے کے بیان میں
و حَدَّثَنَا أَبُو کُرَيْبٍ حَدَّثَنَا ابْنُ بِشْرٍ عَنْ مِسْعَرٍ حَدَّثَنِي أَبُو إِسْحَقَ عَنْ الْبَرَائِ قَالَ لَمَّا نَزَلَتْ لَا يَسْتَوِي الْقَاعِدُونَ مِنْ الْمُؤْمِنِينَ کَلَّمَهُ ابْنُ أُمِّ مَکْتُومٍ فَنَزَلَتْ غَيْرُ أُولِي الضَّرَرِ
ابوکریب، ابن بشار، مسعر، ابواسحاق، حضرت براء ؓ روایت ہے کہ جب آیت (لَا يَسْتَوِي الْقٰعِدُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ غَيْرُ اُولِي الضَّرَرِ وَالْمُجٰهِدُوْنَ ) 4۔ النساء: 95) نازل ہوئی تو آپ ﷺ سے ابن ام مکتوم نے کچھ گفتگو کی تو ( غَيْرُ أُولِي الضَّرَرِ ) نازل ہوئی
It has been narrated on the authority of Bara who said: When the Quranic verse:" Those who sit (at home) from among mumin" (iv. 94) was revealed, the son of Umm Maktum spoke to him (the Holy Prophet). (At this). the words:" other than those who have a trouble (illness)" were revealed.
شہید کے لئے جنت کے ثبوت کے بیان میں
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَمْرٍو الْأَشْعَثِيُّ وَسُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ وَاللَّفْظُ لِسَعِيدٍ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَمْرٍو سَمِعَ جَابِرًا يَقُولُا قَالَ رَجُلٌ أَيْنَ أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنْ قُتِلْتُ قَالَ فِي الْجَنَّةِ فَأَلْقَی تَمَرَاتٍ کُنَّ فِي يَدِهِ ثُمَّ قَاتَلَ حَتَّی قُتِلَ وَفِي حَدِيثِ سُوَيْدٍ قَالَ رَجُلٌ لِلنَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ أُحُدٍ
سعید بن عمرو اشعثی، سوید بن سعید، سفیان، عمرو، حضرت جابر ؓ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے عرض کیا اے اللہ کے رسول اگر میں قتل کردیا جاؤں تو میں کہاں ہوں گا آپ ﷺ نے فرمایا جنت میں تو اس نے اپنے ہاتھ میں موجود کھجور کو پھینکا پھر لڑنا شروع کیا یہاں تک کہ شہید کردیا گیا اور سوید کی روایت میں ہے کہ ایک آدمی نے نبی ﷺ سے احد کے دن یہ پوچھا تھا
It has been reported on the authority of Jabir that a man said: Messenger of Allah, where shall I be if I am killed? He replied: In Paradise. The man threw away the dates he had in his hand and fought until he was killed (i. e. he did not wait until he could finish the dates).
In the version of the tradition narrated by Suwaid we have the words:" A man said to the Holy Prophet ﷺ . on the day of Uhud......"
شہید کے لئے جنت کے ثبوت کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ زَکَرِيَّائَ عَنْ أَبِي إِسْحَقَ عَنْ الْبَرَائِ قَالَ جَائَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي النَّبِيتِ إِلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ح و حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ جَنَابٍ الْمِصِّيصِيُّ حَدَّثَنَا عِيسَی يَعْنِي ابْنَ يُونُسَ عَنْ زَکَرِيَّائَ عَنْ أَبِي إِسْحَقَ عَنْ الْبَرَائِ قَالَ جَائَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي النَّبِيتِ قَبِيلٍ مِنْ الْأَنْصَارِ فَقَالَ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّکَ عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ ثُمَّ تَقَدَّمَ فَقَاتَلَ حَتَّی قُتِلَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَمِلَ هَذَا يَسِيرًا وَأُجِرَ کَثِيرًا
ابوبکر بن ابی شیبہ، ابواسامہ، زکریا، ابواسحاق، حضرت براء ؓ سے روایت ہے کہ انصار کے قبیلہ بنونبیت کے آدمی نے نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اور بیشک آپ ﷺ اس کے بندے اور رسول ہیں پھر میدان میں بڑھا اور لڑنا شروع کردیا یہاں تک کہ شہید کردیا گیا تو نبی ﷺ نے فرمایا اس آدمی نے عمل کم کیا اور ثواب زیادہ دیا گیا۔
It has been reported on the authority of Bara! who stated: A man from Banu Nabit (one of the Ansar tribes) came to the Holy Prophet ﷺ and said: I testify that there is no god except Allah and that thou art His bondman and Messenger. Then he went forward and fought until he was killed. The Holy Prophet ﷺ said: He has done a little but shall be given a great reward.
شہید کے لئے جنت کے ثبوت کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ النَّضْرِ بْنِ أَبِي النَّضْرِ وَهَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ وَأَلْفَاظُهُمْ مُتَقَارِبَةٌ قَالُوا حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ وَهُوَ ابْنُ الْمُغِيرَةِ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بُسَيْسَةَ عَيْنًا يَنْظُرُ مَا صَنَعَتْ عِيرُ أَبِي سُفْيَانَ فَجَائَ وَمَا فِي الْبَيْتِ أَحَدٌ غَيْرِي وَغَيْرُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا أَدْرِي مَا اسْتَثْنَی بَعْضَ نِسَائِهِ قَالَ فَحَدَّثَهُ الْحَدِيثَ قَالَ فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَکَلَّمَ فَقَالَ إِنَّ لَنَا طَلِبَةً فَمَنْ کَانَ ظَهْرُهُ حَاضِرًا فَلْيَرْکَبْ مَعَنَا فَجَعَلَ رِجَالٌ يَسْتَأْذِنُونَهُ فِي ظُهْرَانِهِمْ فِي عُلْوِ الْمَدِينَةِ فَقَالَ لَا إِلَّا مَنْ کَانَ ظَهْرُهُ حَاضِرًا فَانْطَلَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ حَتَّی سَبَقُوا الْمُشْرِکِينَ إِلَی بَدْرٍ وَجَائَ الْمُشْرِکُونَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يُقَدِّمَنَّ أَحَدٌ مِنْکُمْ إِلَی شَيْئٍ حَتَّی أَکُونَ أَنَا دُونَهُ فَدَنَا الْمُشْرِکُونَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُومُوا إِلَی جَنَّةٍ عَرْضُهَا السَّمَوَاتُ وَالْأَرْضُ قَالَ يَقُولُ عُمَيْرُ بْنُ الْحُمَامِ الْأَنْصَارِيُّ يَا رَسُولَ اللَّهِ جَنَّةٌ عَرْضُهَا السَّمَوَاتُ وَالْأَرْضُ قَالَ نَعَمْ قَالَ بَخٍ بَخٍ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا يَحْمِلُکَ عَلَی قَوْلِکَ بَخٍ بَخٍ قَالَ لَا وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِلَّا رَجَائَةَ أَنْ أَکُونَ مِنْ أَهْلِهَا قَالَ فَإِنَّکَ مِنْ أَهْلِهَا فَأَخْرَجَ تَمَرَاتٍ مِنْ قَرَنِهِ فَجَعَلَ يَأْکُلُ مِنْهُنَّ ثُمَّ قَالَ لَئِنْ أَنَا حَيِيتُ حَتَّی آکُلَ تَمَرَاتِي هَذِهِ إِنَّهَا لَحَيَاةٌ طَوِيلَةٌ قَالَ فَرَمَی بِمَا کَانَ مَعَهُ مِنْ التَّمْرِ ثُمَّ قَاتَلَهُمْ حَتَّی قُتِلَ
ابوبکر بن نضر بن ابی نضر، ہارون بن عبداللہ بن محمد بن رافع، عبد بن حمید، ہاشم بن قاسم، سلیمان بن مغیر ہ، ثابت، حضرت انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے بسیہ کو جاسوس بنا کر بھیجا تاکہ وہ دیکھے کہ ابوسفیان کا قافلہ کیا کرتا ہے۔ پس جب وہ واپس آیا تو میرے اور رسول اللہ ﷺ کے سوا کوئی بھی گھر میں نہ تھا۔ راوی کہتے ہیں کہ میں نہیں جانتا کہ حضرت انس ؓ نے آپ ﷺ کی ازواج میں سے بعض کا استثنی کیا تھا یا نہیں۔ پس اس نے آکر ساری بات آپ ﷺ سے بیان کی تو رسول اللہ ﷺ باہر تشریف لائے اور ارشاد فرمایا بیشک ہمیں ایک چیز کی ضرورت ہے پس جس کے پاس اپنی سواری ہو تو وہ ہمارے ساتھ سوار ہو کر چلے۔ پس لوگ مدینہ کی بلندی سے ہی آپ ﷺ سے اپنی سواریوں کو پیش کرنے کی اجازت طلب کرنے لگے تو آپ ﷺ نے فرمایا نہیں، صرف وہی ساتھ چلیں جن کے پاس سواریاں موجود ہوں۔ پس رسول اللہ ﷺ کے صحابہ ؓ چلے یہاں تک کہ مشرکین سے پہلے ہی مقام بدر پر پہنچ گئے جب مشرک آئے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم میں سے کوئی آدمی اس وقت تک پیش قدمی نہ کرے جب تک میں نہ آگے بڑھوں پس جب مشرکین قریب آگئے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اس جنت کی طرف بڑھو جس کی چوڑائی آسمان و زمین کے برابر ہے عمیر بن حمام انصاری نے عرض کیا اے اللہ کے رسول! ﷺ جنت کی چوڑائی آسمان و زمین کی چوڑائی کے برابر ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا ہاں۔ اس نے کہا واہ واہ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تجھے اس کلمہ تحسین کہنے پر کس چیز نے ابھارا ہے، اس نے عرض کیا اے اللہ کے رسول میں نے کلمہ صرف جنت والوں میں ہونے کی امید میں کہا ہے تو آپ ﷺ نے فرمایا تو اہل جنت میں سے ہے تو عمیر نے اپنے تھیلے سے کچھ کھجوریں نکال کر انہیں کھانا شروع کیا پھر کہا اگر میں ان کھجوروں کے کھانے تک زندہ رہا تو یہ بہت لمبی زندگی ہوگی پھر انہوں نے اپنے پاس موجود کھجوروں کو پھینک دیا پھر کافروں سے لڑتے ہوئے شہید کردیئے گئے۔
It has been reported on the authority of Anas bin Malik (RA) who said: The Messenger of Allah ﷺ sent Busaisah as a scout to see what the caravan of Abu Sufyan (RA) was doing. He came (back and met the Holy Prophet ﷺ in his house) where there was nobody except myself and the Messenger of Allah. I do not remember whether he (Hadrat Anas) made an exception of some wives of the Holy Prophet ﷺ or not and told him the news of the caravan. (Having heard the news), the Messenger of Allah ﷺ came out (hurriedly), spoke to the people and said: We are in need (of men) ; whoever has an animal to ride upon ready with him should ride with us. People began to ask him permission for bringing their riding animals which were grazing on the hillocks near Madinah. He said: No. (I want) only those who have their riding animals ready. So the Messenger of Allah ﷺ and his Companions proceeded towards Badr and reached there forestalling the polytheists (of Makkah). When the polytheists (also) reached there, the Messenger of Allah ﷺ said: None of you should step forward to (do) anything unless I am ahead of him. The polytheists (now) advanced (towards us), and the Messenger of Allah ﷺ said. Get up to enter Paradise which is equal in width to the heavens and the earth. Umair bin al- Humam al-Ansari said: Messenger of Allah, is Paradise equal in extent to the heavens and the earth? He said: Yes. Umair said: My goodness! The Messenger of Allah ﷺ asked him: What prompted you to utter these words (i. e. my goodness! )? He said: Messenger of Allah, nothing but the desire that I be among its residents. He said: Thou art (surely) amona its residents. He took out dates from his bag and began to eat them. Then he said: If I were to live until I have eaten all these dates of mine, it would be a long life. (The narrator said): He threw away all the dates he had with him. Then he fought the enemies until he was killed.
شہید کے لئے جنت کے ثبوت کے بیان میں
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی التَّمِيمِيُّ وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ وَاللَّفْظُ لِيَحْيَی قَالَ قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا و قَالَ يَحْيَی أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ عَنْ أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ عَنْ أَبِي بَکْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قَيْسٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ سَمِعْتُ أَبِي وَهُوَ بِحَضْرَةِ الْعَدُوِّ يَقُولُا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ أَبْوَابَ الْجَنَّةِ تَحْتَ ظِلَالِ السُّيُوفِ فَقَامَ رَجُلٌ رَثُّ الْهَيْئَةِ فَقَالَ يَا أَبَا مُوسَی آنْتَ سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ هَذَا قَالَ نَعَمْ قَالَ فَرَجَعَ إِلَی أَصْحَابِهِ فَقَالَ أَقْرَأُ عَلَيْکُمْ السَّلَامَ ثُمَّ کَسَرَ جَفْنَ سَيْفِهِ فَأَلْقَاهُ ثُمَّ مَشَی بِسَيْفِهِ إِلَی الْعَدُوِّ فَضَرَبَ بِهِ حَتَّی قُتِلَ
یحییٰ بن یحییٰ تمیمی، قتیبہ بن سعید، جعفر بن سلیمان، ابوعمرجونی، ابوبکر، حضرت عبداللہ بن قیس ؓ سے روایت ہے کہ میں نے اپنے باپ سے دشمن کے مقابلہ کے وقت سنا وہ فرما رہے تھے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا بیشک جنت کے دروازے تلواروں کے سائے کے نیچے ہیں یہ سن کر ایک خستہ حال آدمی نے کھڑے ہو کر کہا اے ابوموسی! کیا تم نے خود رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے انہوں نے کہا ہاں تو وہ آدمی اپنے ساتھیوں کے پاس لوٹا اور انہیں کہا میں تم کو سلام کرتا ہوں پھر اس نے اپنی تلوار کی میان کو توڑ کر پھینک دیا پھر اپنی تلوار لے کر دشمن کی طرف چلا اور لڑتے لڑتے شہید ہوگیا۔
The tradition has been narrated on the authority of Abdullah bin Qais (RA) . He heard it from his father who, while facing the enemy, reported that the Messenger of Allah ﷺ said: Surely, the gates of Paradise are under the shadows of the swords. A man in a shabby condition got up and said; Abu Musa, did you hear the Messenger of Allah ﷺ say this? He said: Yes. (The narrator said): He returned to his friends and said: I greet you (a farewell greeting). Then he broke the sheath of his sword, threw it away, advanced with his (naked) sword towards the enemy and fought (them) with it until he was slain.
شہید کے لئے جنت کے ثبوت کے بیان میں
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ جَائَ نَاسٌ إِلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا أَنْ ابْعَثْ مَعَنَا رِجَالًا يُعَلِّمُونَا الْقُرْآنَ وَالسُّنَّةَ فَبَعَثَ إِلَيْهِمْ سَبْعِينَ رَجُلًا مِنْ الْأَنْصَارِ يُقَالُ لَهُمْ الْقُرَّائُ فِيهِمْ خَالِي حَرَامٌ يَقْرَئُونَ الْقُرْآنَ وَيَتَدَارَسُونَ بِاللَّيْلِ يَتَعَلَّمُونَ وَکَانُوا بِالنَّهَارِ يَجِيئُونَ بِالْمَائِ فَيَضَعُونَهُ فِي الْمَسْجِدِ وَيَحْتَطِبُونَ فَيَبِيعُونَهُ وَيَشْتَرُونَ بِهِ الطَّعَامَ لِأَهْلِ الصُّفَّةِ وَلِلْفُقَرَائِ فَبَعَثَهُمْ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْهِمْ فَعَرَضُوا لَهُمْ فَقَتَلُوهُمْ قَبْلَ أَنْ يَبْلُغُوا الْمَکَانَ فَقَالُوا اللَّهُمَّ بَلِّغْ عَنَّا نَبِيَّنَا أَنَّا قَدْ لَقِينَاکَ فَرَضِينَا عَنْکَ وَرَضِيتَ عَنَّا قَالَ وَأَتَی رَجُلٌ حَرَامًا خَالَ أَنَسٍ مِنْ خَلْفِهِ فَطَعَنَهُ بِرُمْحٍ حَتَّی أَنْفَذَهُ فَقَالَ حَرَامٌ فُزْتُ وَرَبِّ الْکَعْبَةِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَصْحَابِهِ إِنَّ إِخْوَانَکُمْ قَدْ قُتِلُوا وَإِنَّهُمْ قَالُوا اللَّهُمَّ بَلِّغْ عَنَّا نَبِيَّنَا أَنَّا قَدْ لَقِينَاکَ فَرَضِينَا عَنْکَ وَرَضِيتَ عَنَّا
محمد بن حاتم، عفان، حماد، ثابت، حضرت انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ کچھ لوگوں نے نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا آپ ﷺ ہمارے ساتھ کچھ آدمی بھیج دیں جو ہمیں قرآن وسنت کی تعلیم دیں تو آپ ﷺ نے ان کے ساتھ انصار میں سے ستر آدمی بھیج دیئے جنہیں قراء کہا جاتا تھا اور ان میں میرے ماموں حضرت حرام ؓ بھی تھے قرآن پڑھتے تھے اور رات کو درس و تدریس اور تعلیم و تعلم میں مشغول رہتے تھے اور دن کے وقت پانی لا کر مسجد میں ڈالتے تھے اور جنگل سے لکڑیاں لا کر انہیں فروخت کردیتے اور اس سے اہل صفہ اور فقراء کے لئے کھانے کی چیزیں خریدتے تھے تو نبی ﷺ نے انہیں کفار کی طرف بھیج دیا اور انہیں منزل مقصور تک پہنچنے سے پہلے ہی کفار نے حملہ کرکے شہید کردیا تو انہوں نے کہا اے اللہ ہمارا یہ پیغام ہمارے پیغمبر ﷺ تک پہنچا دے کہ ہم تجھ سے ملاقات کرچکے ہیں اور ہم تجھ سے راضی ہیں اور تو ہم سے راضی ہوچکا ہے اسی دوران ایک آدمی نے آکر حضرت انس ؓ کے ماموں حضرت حرام ؓ کے پیچھے سے اس طرح نیزہ مارا کہ وہ آرپار ہوگیا تو حرام ؓ نے کہا رب کعبہ کی قسم میں کامیاب ہوگیا اس وقت رسول اللہ ﷺ نے اپنے صحابہ سے فرمایا بیشک تمہارے بھائیوں کو قتل کردیا گیا ہے اور بیشک انہوں نے یہ کہا ہے اے اللہ ہماری طرف سے یہ پیغام ہمارے پیغمبر ﷺ تک پہنچا دے کہ ہم تجھ سے ملاقات کرچکے ہیں اور ہم تجھ سے راضی ہوچکے ہیں اور تو ہم سے راضی ہوچکا ہے۔
It has been reported on the authority of Anas bin Malik (RA) that some people came to the Messenger of Allah ﷺ and said to him: Send with us some men who may teach us the Quran and the Sunnah. Accordingjy, he sent seventy men from the Ansar. They were called the Reciters and among them was my maternal uncle. Haram. They used to recite the Quran, discuss and ponder over its meaning at night. In the day they brought water and poured it (in pitchers) in the mosque, collected wood and sold it, and with the sale proceeds bought food for the people of the Suffa and the needy. The Holy Prophet ﷺ sent the Reciters with these people, but these (treacherous people) fell upon them and killed thern before they reached their destination (While dying), they said: O Allah, convey from us the news to our Prophet ﷺ that we have met Thee (in a way) that we are pleased with Thee and Thou art pleased with us. (The narrator said): A man attacked Haram (maternal uncle of Anas)) from behind and smote him with a spear which pierced him. (While dying), Haram said: By the Lord of the Ka’bah, I have met with success. The Messenger of Allah ﷺ said to his Companions: Your brethren have been slain grid they were saying: O Allah, convey from us to our Prophet ﷺ the news that we have met Thee in a way that we are pleased with Thee and Thou art pleased with us.
شہید کے لئے جنت کے ثبوت کے بیان میں
و حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ عَنْ ثَابِتٍ قَالَ قَالَ أَنَسٌ عَمِّيَ الَّذِي سُمِّيتُ بِهِ لَمْ يَشْهَدْ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَدْرًا قَالَ فَشَقَّ عَلَيْهِ قَالَ أَوَّلُ مَشْهَدٍ شَهِدَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غُيِّبْتُ عَنْهُ وَإِنْ أَرَانِيَ اللَّهُ مَشْهَدًا فِيمَا بَعْدُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيَرَانِي اللَّهُ مَا أَصْنَعُ قَالَ فَهَابَ أَنْ يَقُولَ غَيْرَهَا قَالَ فَشَهِدَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ أُحُدٍ قَالَ فَاسْتَقْبَلَ سَعْدُ بْنُ مُعَاذٍ فَقَالَ لَهُ أَنَسٌ يَا أَبَا عَمْرٍو أَيْنَ فَقَالَ وَاهًا لِرِيحِ الْجَنَّةِ أَجِدُهُ دُونَ أُحُدٍ قَالَ فَقَاتَلَهُمْ حَتَّی قُتِلَ قَالَ فَوُجِدَ فِي جَسَدِهِ بِضْعٌ وَثَمَانُونَ مِنْ بَيْنِ ضَرْبَةٍ وَطَعْنَةٍ وَرَمْيَةٍ قَالَ فَقَالَتْ أُخْتُهُ عَمَّتِيَ الرُّبَيِّعُ بِنْتُ النَّضْرِ فَمَا عَرَفْتُ أَخِي إِلَّا بِبَنَانِهِ وَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ رِجَالٌ صَدَقُوا مَا عَاهَدُوا اللَّهَ عَلَيْهِ فَمِنْهُمْ مَنْ قَضَی نَحْبَهُ وَمِنْهُمْ مَنْ يَنْتَظِرُ وَمَا بَدَّلُوا تَبْدِيلًا قَالَ فَکَانُوا يُرَوْنَ أَنَّهَا نَزَلَتْ فِيهِ وَفِي أَصْحَابِهِ
محمد بن حاتم، بہز، سلیمان بن مغیرہ، ثابت، انس، حضرت ثابت ؓ سے روایت ہے کہ حضرت انس ؓ نے کہا میرے اس چچا نے کہا جن کے نام پر میرا نام رکھا گیا اور وہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ غزوہ بدر میں شریک نہ ہو سکے تھے جس کا انہیں بہت افسوس تھا کہ یہ وہ معرکہ تھا جس میں رسول اللہ ﷺ تو شریک تھے لیکن میں غیرحاضر تھا ہاں اگر اللہ نے مجھے اس کے بعد رسول اللہ ﷺ کے ہمراہی میں کوئی معرکہ دکھایا تو اللہ دیکھ لے گا کہ میں کیا کرتا ہوں تو وہ اس کے علاوہ کوئی کلمات کہنے سے ڈرے پس وہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ غزوہ احد میں شریک ہوئے تو حضرت انس ؓ نے حضرت سعد بن معاذ ؓ سے کہا اے ابوعمرو کہاں جا رہے ہو مجھے تو احد کی طرف سے جنت کی خوشبو آرہی ہے پھر وہ کفار سے لڑے یہاں تک کہ شہید ہوگئے اور ان کے جسم میں نیزوں اور تیروں کے اسی سے زیادہ زخم پائے گئے اور ان کی بہن میری پھوپھی ربیع بنت نضر نے کہا کہ میں اپنے بھائی کو صرف ان کے پوروں سے ہی پہچان سکی اس موقعہ پر یہ آیت نازل ہوئی مسلمانوں میں سے بعض وہ آدمی ہیں جنہوں نے اللہ سے کیا ہوا وعدہ سچا کر دکھایا ان میں سے بعض وہ ہیں جنہوں نے اپنی نذر کو پورا کیا اور بعض وہ ہیں جو انتظار کر رہے ہیں اور انہوں نے اپنے وعدہ میں کوئی رد وبدل نہ کیا صحابہ کرام گمان کرتے تھے کہ یہ آیت حضرت انس ؓ اور ان کے ساتھیوں کے متعلق نازل ہوئی تھی۔
It has been Deported on the authority of Anas who said: My uncle and I have been named after him was not present with the Messenger of Allah ﷺ (mav peace be upon him) on the Day of Badr. He felt distressed about it. He would say: I have missed the first battle fought by the Messenger of Allah ﷺ , and if God now gives me an opportunity to see a battlefield with the Messenger of Allah ﷺ , God will see what I do therein. He was afraid to say more than this (lest he be unable to keep his word with God). He was present with the Messenger of Allah ﷺ on the Day of Uhud. He met Sad bin Muadh (who was retreating). Anas said to him: O Abu Amr, where (are you going)? Woe (to thee)! I find the smell of Paradise beside the Uhud mountain. (Reprimanding Sad in these words) he went forward and fought thein (the enemy) until he was killed. (The narrator says). More than eighty wounds inflicted with swords, spears and arrows were found on his body. His sister, my aunt, ar-Rubayyi, daughter of Nadr, said: I could not recognise my brothers body (it was so badly mutilated) except from his finger-tips. (It was on this occasion that) the Quranic verse:" Among the Believers are men who have been true to their covenant with God. Of them some have completed their vow (to the extreme), and some still wait: but they have never changed (their determination) in the least" (xxxiii. 23).
The narrator said that the verse had been revealed about him (Anas bin Nadr) and his Companions.
جو شخص اللہ کے دین کی سر بلندی کے لئے جہاد کرتا ہے وہ اللہ کے راستہ میں جہاد کرنے والا ہے
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَابْنُ بَشَّارٍ وَاللَّفْظُ لِابْنِ الْمُثَنَّی قَالَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا وَائِلٍ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو مُوسَی الْأَشْعَرِيُّ أَنَّ رَجُلًا أَعْرَابِيًّا أَتَی النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ الرَّجُلُ يُقَاتِلُ لِلْمَغْنَمِ وَالرَّجُلُ يُقَاتِلُ لِيُذْکَرَ وَالرَّجُلُ يُقَاتِلُ لِيُرَی مَکَانُهُ فَمَنْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ قَاتَلَ لِتَکُونَ کَلِمَةُ اللَّهِ أَعْلَی فَهُوَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ
محمد بن مثنی، ابن بشار، محمد بن جعفر، شعبہ، عمرو بن مرہ، حضرت ابوموسی ؓ سے روایت ہے کہ ایک اعرابی نے نبی ﷺ کی خدمت حاضر ہو کر عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ ایک آدمی غنیمت حاصل کرنے کے لئے لڑتا ہے دوسرا آدمی ناموری اور شہرت کے لئے لڑتا ہے تیسرا آدمی جو اپنی شجاعت دکھانے کے لئے لڑتا ہے ان میں سے کون ہے جو اللہ کے راستے میں لڑنے والا ہے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو اللہ کے دین کو بلند کرنے کے لئے لڑتا ہے وہی اللہ کے راستہ میں جہاد کرنے والا ہے۔
It has been narrated on the authority of Abu Musa Ashari that a desert Arab came to the Holy Prophet ﷺ and said: Messenger of Allah, one man fights fgr the spoils of war; another fights that he may be remembered, and another fights that he may see his (high) position (achieved as a result of his valour in fighting). Which of these is fighting in the cause of God? The Messenger of Allah ﷺ said: Who fights so that the word of Allah is exalted is fighting in the way of Allah.
جو شخص اللہ کے دین کی سر بلندی کے لئے جہاد کرتا ہے وہ اللہ کے راستہ میں جہاد کرنے والا ہے
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَابْنُ نُمَيْرٍ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَائِ قَالَ إِسْحَقُ أَخْبَرَنَا و قَالَ الْآخَرُونَ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ شَقِيقٍ عَنْ أَبِي مُوسَی قَالَ سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الرَّجُلِ يُقَاتِلُ شَجَاعَةً وَيُقَاتِلُ حَمِيَّةً وَيُقَاتِلُ رِيَائً أَيُّ ذَلِکَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ قَاتَلَ لِتَکُونَ کَلِمَةُ اللَّهِ هِيَ الْعُلْيَا فَهُوَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ
ابوبکر بن ابوشیبہ، ابن نمیر، اسحاق بن ابراہیم، محمد بن علاء، اسحاق، ابومعاویہ، اعمش، شقیق، حضرت ابوموسی اشعری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے اس آدمی کے بارے میں پوچھا گیا جو شجاعت کے لئے لڑتا ہے اور دوسرا تعصب کی بنا پر لڑتا ہے اور تیسرا ریاکاری کے لئے لڑتا ہے ان میں سے کون اللہ کے راستہ میں جہاد کرنے والا ہے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو اللہ کے دین اور کلمہ کی بلندی و عظمت کے لئے لڑتا ہے حقیقتا وہ اللہ کے راستہ میں لڑنے والا ہے۔
It has been narrated (through another chain of transmitters) on the authority of Abu Musa who said. The Messenger of Allah ﷺ was asked which of the men fights in the way of Allah: (one who fights) for displaying his valour; (a man who) fights out of his family pride and (a man who) fights for the sake of show, who amongst these fights in the way of Allah? The Messenger of Allah ﷺ said: Who fights that the word of Allah be exalted fights in the way of Allah.