امارت اور خلافت کا بیان

Sahih Muslim · Chapter 35 · 271 hadiths · Page 12 of 14

4921Sahih Muslim

جو شخص اللہ کے دین کی سر بلندی کے لئے جہاد کرتا ہے وہ اللہ کے راستہ میں جہاد کرنے والا ہے

و حَدَّثَنَاه إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا عِيسَی بْنُ يُونُسَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ شَقِيقٍ عَنْ أَبِي مُوسَی قَالَ أَتَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ الرَّجُلُ يُقَاتِلُ مِنَّا شَجَاعَةً فَذَکَرَ مِثْلَهُ

اسحاق بن ابراہیم، عیسیٰ بن یونس، اعمش، شقیق، حضرت ابوموسی ؓ سے روایت ہے کہ ہم نے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ ہم میں سے ایک آدمی شجاعت دکھانے کے لئے لڑتا ہے پھر اسی طرح حدیث ذکر کی۔

It has been narrated (through yet another chain of transmitters) on the same authority, i. e. Abu Musa, who said: We, came to the Messenger of Allah ﷺ and said: Messenger of Allah, one of us hho fights to display his valour... (followed by the same words as we have in the previous tradition).

4922Sahih Muslim

جو شخص اللہ کے دین کی سر بلندی کے لئے جہاد کرتا ہے وہ اللہ کے راستہ میں جہاد کرنے والا ہے

و حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ أَبِي وَائِلٍ عَنْ أَبِي مُوسَی الْأَشْعَرِيِّ أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْقِتَالِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فَقَالَ الرَّجُلُ يُقَاتِلُ غَضَبًا وَيُقَاتِلُ حَمِيَّةً قَالَ فَرَفَعَ رَأْسَهُ إِلَيْهِ وَمَا رَفَعَ رَأْسَهُ إِلَيْهِ إِلَّا أَنَّهُ کَانَ قَائِمًا فَقَالَ مَنْ قَاتَلَ لِتَکُونَ کَلِمَةُ اللَّهِ هِيَ الْعُلْيَا فَهُوَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ

اسحاق بن ابراہیم، جریر، منصور، ابو وائل، ابوموسی اشعری ؓ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے رسول اللہ ﷺ سے اللہ کے راستہ میں جہاد و قتال کرنے کے بارے میں پوچھا تو عرض کیا ایک وہ آدمی ہے جو غصہ کی وجہ سے لڑتا ہے دوسرا تعصب کی بنا پر لڑتا ہے آپ ﷺ نے اس کی طرف سر اٹھایا اور سر مبارک اس وجہ سے اٹھایا کہ وہ کھڑا ہوا تھا اور ارشاد فرمایا جو شخص اللہ کے کلمہ کے بلندی کے لئے جہاد کرتا ہے وہی اللہ کے راستہ میں جہاد کرنے والا ہے۔

It has been narrated through a different chain of transmitters on the same authority, i. e. Abu Musa Ashari, that a man asked the Messenger of Allah ﷺ about fighting in the way of Allah, the Exalted and Majestic, a man who fights out of rage or out of family pride. He raised his head towards him-and he did so because the man was standing and said: Who fights that the word of Allah be exalted fights in the way of Allah.

4923Sahih Muslim

جو ریاکاری اور نمود نمائش کے لئے لڑتا ہے وہ جہنم کا مستحق ہوتا ہے۔

حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ حَدَّثَنِي يُونُسُ بْنُ يُوسُفَ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ قَالَ تَفَرَّقَ النَّاسُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ فَقَالَ لَهُ نَاتِلُ أَهْلِ الشَّامِ أَيُّهَا الشَّيْخُ حَدِّثْنَا حَدِيثًا سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ نَعَمْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ أَوَّلَ النَّاسِ يُقْضَی يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَيْهِ رَجُلٌ اسْتُشْهِدَ فَأُتِيَ بِهِ فَعَرَّفَهُ نِعَمَهُ فَعَرَفَهَا قَالَ فَمَا عَمِلْتَ فِيهَا قَالَ قَاتَلْتُ فِيکَ حَتَّی اسْتُشْهِدْتُ قَالَ کَذَبْتَ وَلَکِنَّکَ قَاتَلْتَ لِأَنْ يُقَالَ جَرِيئٌ فَقَدْ قِيلَ ثُمَّ أُمِرَ بِهِ فَسُحِبَ عَلَی وَجْهِهِ حَتَّی أُلْقِيَ فِي النَّارِ وَرَجُلٌ تَعَلَّمَ الْعِلْمَ وَعَلَّمَهُ وَقَرَأَ الْقُرْآنَ فَأُتِيَ بِهِ فَعَرَّفَهُ نِعَمَهُ فَعَرَفَهَا قَالَ فَمَا عَمِلْتَ فِيهَا قَالَ تَعَلَّمْتُ الْعِلْمَ وَعَلَّمْتُهُ وَقَرَأْتُ فِيکَ الْقُرْآنَ قَالَ کَذَبْتَ وَلَکِنَّکَ تَعَلَّمْتَ الْعِلْمَ لِيُقَالَ عَالِمٌ وَقَرَأْتَ الْقُرْآنَ لِيُقَالَ هُوَ قَارِئٌ فَقَدْ قِيلَ ثُمَّ أُمِرَ بِهِ فَسُحِبَ عَلَی وَجْهِهِ حَتَّی أُلْقِيَ فِي النَّارِ وَرَجُلٌ وَسَّعَ اللَّهُ عَلَيْهِ وَأَعْطَاهُ مِنْ أَصْنَافِ الْمَالِ کُلِّهِ فَأُتِيَ بِهِ فَعَرَّفَهُ نِعَمَهُ فَعَرَفَهَا قَالَ فَمَا عَمِلْتَ فِيهَا قَالَ مَا تَرَکْتُ مِنْ سَبِيلٍ تُحِبُّ أَنْ يُنْفَقَ فِيهَا إِلَّا أَنْفَقْتُ فِيهَا لَکَ قَالَ کَذَبْتَ وَلَکِنَّکَ فَعَلْتَ لِيُقَالَ هُوَ جَوَادٌ فَقَدْ قِيلَ ثُمَّ أُمِرَ بِهِ فَسُحِبَ عَلَی وَجْهِهِ ثُمَّ أُلْقِيَ فِي النَّارِ

یحییٰ بن حبیب، حارث، خالد بن حارث، ابن جریج، یونس بن یوسف، سلیمان بن یسار رحمۃ اللہ علیہ، ابوہریرہ، حضرت سلیمان بن یسار سے روایت ہے کہ جب حضرت ابوہریرہ ؓ سے لوگ دور ہوگئے تو ان سے اہل شام میں سے ناتل نامی آدمی نے کہا اے شیخ آپ ہمیں ایسی حدیث بیان فرمائیں جو آپ نے رسول اللہ ﷺ سے سنی ہو تو انہوں نے کہا میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ قیامت کے دن جس کا سب سے پہلے فیصلہ کیا جائے گا وہ شہید ہوگا اسے لایا جائے گا اور اسے اللہ کی نعمتیں جتوائی جائیں گی وہ انہیں پہچان لے گا تو اللہ فرمائے گا تو نے ان نعمتوں کے ہوتے ہوئے کیا عمل کیا وہ کہے گا میں نے تیرے راستہ میں جہاد کیا یہاں تک کہ شہید ہوگیا اللہ فرمائے گا تو نے جھوٹ کہا بلکہ تو تو اس لئے لڑتا رہا کہ تجھے بہادر کہا جائے تحقیق! وہ کہا جا چکا پھر حکم دیا جائے گا کہ اسے منہ کے بل گھسیٹ کر جہنم میں ڈال دو یہاں تک کہ اسے جہنم میں ڈال دیا جائے گا اور دوسرا شخص جس نے علم حاصل کیا اور اسے لوگوں کو سکھایا اور قرآن کریم پڑھا اسے لایا جائے گا اور اسے اللہ کی نعمتیں جتوائی جائیں گی وہ انہیں پہچان لے گا تو اللہ فرمائے گا تو نے ان نعمتوں کے ہوتے ہوئے کیا عمل کیا وہ کہے گا میں نے علم حاصل کیا پھر اسے دوسروں کو سکھایا اور تیری رضا کے لئے قرآن مجید پڑھا اللہ فرمائے گا تو نے جھوٹ کہا تو نے علم اس لئے حاصل کیا کہ تجھے عالم کہا جائے اور قرآن اس کے لئے پڑھا کہ تجھے قاری کہا جائے سو یہ کہا جا چکا پھر حکم دیا جائے گا کہ اسے منہ کے بل گھسیٹا جائے یہاں تک کہ اسے جہنم میں ڈال دیا جائے گا اور تیسرا وہ شخص ہوگا جس پر اللہ نے وسعت کی تھی اور اسے ہر قسم کا مال عطا کیا تھا اسے بھی لایا جائے گا اور اسے اللہ کی نعمتیں جتوائی جائیں گی وہ انہیں پہچان لے گا اللہ فرمائے گا تو نے ان نعمتوں کے ہوتے ہوئے کیا عمل کیا وہ کہے گا میں نے تیرے راستہ میں جس میں خرچ کرنا تجھے پسند ہو تیری رضا حاصل کرنے کے لئے مال خرچ کیا اللہ فرمائے گا تو نے جھوٹ کہا بلکہ تو نے ایسا اس لئے کیا کہ تجھے سخی کہا جائے تحقیق! وہ کہا جا چکا پھر حکم دیا جائے گا کہ اسے منہ کے بل گھسیٹا جائے یہاں تک کہ اسے جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔

It has been narrated on the authority of Sulaiman bin Yasar who said: People dispersed from around Abu Hurairah (RA) , and Natil, who was from the Syrians. said to him: O Shaikh, relate (to us) a tradition you have heard from the Messenger of Allah ﷺ . He said: Yes. I heard the Messenger of Allah ﷺ say: The first of men (whose case) will be decided on the Day of Judgment will be a man who died as a martyr. He shall be brought (before the Judgment Seat). Allah will make him recount His blessings (i. e. the blessings which He had bestowed upon him) and he will recount them (and admit having enjoyed them in his life). (Then) will Allah say: What did you do (to requite these blessings)? He will say: I fought for Thee until I died as a martyr. Allah will say: You have told a lie. You fought that you might be called a" brave warrior". And you were called so. (Then) orders will be passed against him and he will be dragged with his face downward and cast into Hell. Then will be brought forward a man who acquired knowledge and imparted it (to others) and recited the Quran. He will be brought And Allah will make him recount His blessings and he will recount them (and admit having enjoyed them in his lifetime). Then will Allah ask: What did you do (to requite these blessings)? He will say: I acquired knowledge and disseminated it and recited the Quran seeking Thy pleasure. Allah will say: You have told a lie. You acquired knowledge so that you might be called" a scholar," and you recited the Quran so that it might be said:" He is a Qari" and such has been said. Then orders will be passed against him and he shall be dragged with his face downward and cast into the Fire. Then will be brought a man whom Allah had made abundantly rich and had granted every kind of wealth. He will be brought and Allah will make him recount His blessings and he will recount them and (admit having enjoyed them in his lifetime). Allah will (then) ask: What have you done (to requite these blessings)? He will say: I spent money in every cause in which Thou wished that it should be spent. Allah will say: You are lying. You did (so) that it might be said about (You):" He is a generous fellow" and so it was said. Then will Allah pass orders and he will be dragged with his face downward and thrown into Hell.

4924Sahih Muslim

جو ریاکاری اور نمود نمائش کے لئے لڑتا ہے وہ جہنم کا مستحق ہوتا ہے۔

و حَدَّثَنَاه عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ أَخْبَرَنَا الْحَجَّاجُ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ حَدَّثَنِي يُونُسُ بْنُ يُوسُفَ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ قَالَ تَفَرَّجَ النَّاسُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ فَقَالَ لَهُ نَاتِلٌ الشَّامِیُّ وَاقْتَصَّ الْحَدِيثَ بِمِثْلِ حَدِيثِ خَالِدِ بْنِ الْحَارِثِ

علی بن خشرم، حجاج بن محمد بن جریج، یونس بن یوسف، سلمان بن یسار، حضرت سلیمان بن یسار (رح) سے روایت ہے کہ ابوہریرہ ؓ سے جب لوگ جدا ہوگئے تو ان سے ناتل نامی شامی نے کہا باقی حدیث اسی طرح ہے۔

This tradition has been handed down through a different chain of transmitters.

4925Sahih Muslim

لڑنے والوں میں سے جسے غنیمت ملی اور جسے نہ ملی دونوں کے مقدار ثواب کے بیان میں

حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنَا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ عَنْ أَبِي هَانِئٍ عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَا مِنْ غَازِيَةٍ تَغْزُو فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَيُصِيبُونَ الْغَنِيمَةَ إِلَّا تَعَجَّلُوا ثُلُثَيْ أَجْرِهِمْ مِنْ الْآخِرَةِ وَيَبْقَی لَهُمْ الثُّلُثُ وَإِنْ لَمْ يُصِيبُوا غَنِيمَةً تَمَّ لَهُمْ أَجْرُهُمْ

عبد بن حمید، عبداللہ بن یزید، ابوعبدالرحمن، حیوہ بن شریح، ابوہانی، حضرت عبداللہ بن عمرو ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو لشکر اللہ کے راستہ میں لڑنے کے لئے جائے پھر انہیں غنیمت مل جائے تو اسے آخرت کے ثواب میں سے دوتہائی اسی وقت مل جاتا ہے اور ایک تہائی باقی رہ جاتا ہے اور اگر انہیں غنیمت نہ ملے تو ان کے لئے ان کا ثواب پورا پورا باقی رہ جاتا ہے

It has been narrated on the authority of Abdullah bin Amr that the Messenger of Allah ﷺ said: A troop of soldiers who fight in tile way of Allah and get their share of the booty receive in advance two-thirds of their reward in the Hereafter and only one-third will remain (to their credit). If they do not receive any booty, they will get their full reward.

4926Sahih Muslim

لڑنے والوں میں سے جسے غنیمت ملی اور جسے نہ ملی دونوں کے مقدار ثواب کے بیان میں

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ سَهْلٍ التَّمِيمِيُّ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ أَخْبَرَنَا نَافِعُ بْنُ يَزِيدَ حَدَّثَنِي أَبُو هَانِئٍ حَدَّثَنِي أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيُّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا مِنْ غَازِيَةٍ أَوْ سَرِيَّةٍ تَغْزُو فَتَغْنَمُ وَتَسْلَمُ إِلَّا کَانُوا قَدْ تَعَجَّلُوا ثُلُثَيْ أُجُورِهِمْ وَمَا مِنْ غَازِيَةٍ أَوْ سَرِيَّةٍ تُخْفِقُ وَتُصَابُ إِلَّا تَمَّ أُجُورُهُمْ

محمد بن سہل تمیمی، ابن ابی مریم، نافع بن یزید، ابوہانی، ابوعبدالرحمن حبلی، حضرت عبداللہ بن عمرو ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس غزوہ یا لشکر کے لوگ جہاد کریں پھر وہ مال غنیمت حاصل کر کے سلامتی سے واپس آجائیں تو انہیں ثواب کا دو تہائی حصہ اسی وقت مل جاتا ہے اور جس غزوہ یا لشکر کے لوگ خالی واپس آئیں اور نقصان اٹھائیں تو ان کا اجر وثواب پورا پورا باقی رہ جاتا ہے۔

It has been narrated on the authority ofAbdullah bin Amr (RA) (through a different chain of transmitters) that the Messenger of Allah ﷺ said: A troop of soldiers, large or small, who fight (in the way of Allah), get their share of the booty and return safe and sound, receive in advance two-thirds of their reward (only one-third remaining to their credit to be received in the Hereafter) ; and a troop of soldiers, large or small, who return empty-handed and are afflicted or wounded, will receive their full reward (in the Hereafter).

4927Sahih Muslim

رسول اللہ ﷺ کے قول اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے ان اعمال میں جہاد کے شامل ہونے کے بیان میں

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ حَدَّثَنَا مَالِکٌ عَنْ يَحْيَی بْنِ سَعِيدٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَقَّاصٍ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالنِّيَّةِ وَإِنَّمَا لِامْرِئٍ مَا نَوَی فَمَنْ کَانَتْ هِجْرَتُهُ إِلَی اللَّهِ وَرَسُولِهِ فَهِجْرَتُهُ إِلَی اللَّهِ وَرَسُولِهِ وَمَنْ کَانَتْ هِجْرَتُهُ لِدُنْيَا يُصِيبُهَا أَوْ امْرَأَةٍ يَتَزَوَّجُهَا فَهِجْرَتُهُ إِلَی مَا هَاجَرَ إِلَيْهِ

عبداللہ بن مسلمہ بن قعنب، مالک، یحییٰ بن سعید، محمد بن ابرہیم، علقمہ بن وقاص، عمر بن خطاب، حضرت عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اعمال کا دارومدار نیت پر ہے ہر شخص کو وہی ملے گا جس کی اس نے نیت کی پس جس شخص نے ہجرت اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے لئے ہے اور جس کی ہجرت دنیا کے لئے ہوئی تو وہ اسے حاصل کرے گا یا عورت کی طرف ہوئی اس سے نکاح کرنے کے لئے ہوئی تو وہ اس سے نکاح کرلے گا پس اس کی ہجرت اسی طرف ہوگی جس طرف ہجرت کرنے کی اس نے نیت کی ہوگی۔

It has been narrated on the authority of Umar bin al-Khattab that the Messenger of Allah ﷺ said: (The value of) an action depends on the intention behind it. A man will be rewarded only for what he intended. The emigration of one who emigrates for the sake of Allah and His Messenger ﷺ is for the sake of Allah and His Messenger ﷺ ; and the emigration of one who emigrates for gaining a worldly advantage or for marrying a woman is for what he has emigrated.

4928Sahih Muslim

رسول اللہ ﷺ کے قول اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے ان اعمال میں جہاد کے شامل ہونے کے بیان میں

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحِ بْنِ الْمُهَاجِرِ أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ ح و حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الْعَتَکِيُّ حَدَّثَنَا حَمَّادُ ابْنُ زَيْدٍ ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ يَعْنِي الثَّقَفِيَّ ح و حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ سُلَيْمَانُ بْنُ حَيَّانَ ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا حَفْصٌ يَعْنِي ابْنَ غِيَاثٍ وَيَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَائِ الْهَمْدَانِيُّ حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَکِ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ کُلُّهُمْ عَنْ يَحْيَی بْنِ سَعِيدٍ بِإِسْنَادِ مَالِکٍ وَمَعْنَی حَدِيثِهِ وَفِي حَدِيثِ سُفْيَانَ سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ عَلَی الْمِنْبَرِ يُخْبِرُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

محمد بن رمح بن مہاجر، لیث، ابوربیع عتکی، حماد بن زید، محمد بن مثنی، عبدالوہاب ثقفی، اسحاق بن ابراہیم، ابوخالد احمر، سلیمان بن حیان، محمد بن عبداللہ بن نمیر، حفص بن غیاث، یزید بن ہارون، محمد بن علاء ہمدانی، ابن سفیان، یحییٰ بن سعید، سفیان، عمر بن خطاب ؓ، ان مختلف اسناد سے بھی یہ حدیث اسی طرح مروی ہے لیکن بعض اسانید میں یہ ہے کہ حضرت عمر بن خطاب ؓ نے یہ حدیث منبر پر کھڑے ہو کر نبی ﷺ سے روایت کی۔

It has been narrated through a different chain of transmitters on the authority of Sufyan who said that he heard Umar bin al-Khattab relate (this tradition) from the Holy Prophet ﷺ while he was delivering a sermon from the pulpit.

4929Sahih Muslim

رسول اللہ ﷺ کے قول اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے ان اعمال میں جہاد کے شامل ہونے کے بیان میں

حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ حَدَّثَنَا ثَابِتٌ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ طَلَبَ الشَّهَادَةَ صَادِقًا أُعْطِيَهَا وَلَوْ لَمْ تُصِبْهُ

شیبان بن فروخ، حماد بن سلمہ، ثابت، حضرت انس ؓ بن مالک سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس شخص نے صدق دل سے شہادت طلب کی اسے شہادت کا رتبہ دے دیا جاتا ہے اگرچہ وہ شہید نہ بھی ہو۔

It has been narrated on the authority of Anas bin Malik (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: Who seeks martyrdom with sincerity shall get its reward, though he may not achieve it.

4930Sahih Muslim

رسول اللہ ﷺ کے قول اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے ان اعمال میں جہاد کے شامل ہونے کے بیان میں

حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَی وَاللَّفْظُ لِحَرْمَلَةَ قَالَ أَبُو الطَّاهِرِ أَخْبَرَنَا و قَالَ حَرْمَلَةُ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ حَدَّثَنِي أَبُو شُرَيْحٍ أَنَّ سَهْلَ بْنَ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ حَدَّثَهُ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ سَأَلَ اللَّهَ الشَّهَادَةَ بِصِدْقٍ بَلَّغَهُ اللَّهُ مَنَازِلَ الشُّهَدَائِ وَإِنْ مَاتَ عَلَی فِرَاشِهِ وَلَمْ يَذْکُرْ أَبُو الطَّاهِرِ فِي حَدِيثِهِ بِصِدْقٍ

ابوطاہر، حرملہ بن یحیی، عبداللہ بن وہب، ابوشریح، سہل بن ابی امامہ، حضرت سہل بن حنیف ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا جس نے اللہ سے صدق دل سے شہادت مانگی تو اللہ اسے شہداء کے مرتبہ تک پہنچا دیں گے اگرچہ وہ اپنے بستر پر ہی مرجائے ابوالطاہر نے روایت میں بصدق کے لفظ کا ذکر نہیں کیا۔

It has been reported on the authority of Sahl bin Aba Umama bin Sahl bin Hunaif who learned the tradition from his father who (in turn) learned it from his grandfather-that the Messenger of Allah ﷺ said: Who sought martyrdom with sincerity will be ranked by Allah among the martyrs even if he died on his bed. In his version of the tradition Abd Tahir did not mention the words:" with sincerity".

4931Sahih Muslim

جو شخص جہاد کی بغیر اور جہاد کی دلیں تمنا کئے بغیر مر گیا اس کی مذمت کے بیان میں

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَهْمٍ الْأَنْطَاکِيُّ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَکِ عَنْ وُهَيْبٍ الْمَکِّيِّ عَنْ عُمَرَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْکَدِرِ عَنْ سُمَيٍّ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ مَاتَ وَلَمْ يَغْزُ وَلَمْ يُحَدِّثْ بِهِ نَفْسَهُ مَاتَ عَلَی شُعْبَةٍ مِنْ نِفَاقٍ قَالَ ابْنُ سَهْمٍ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَکِ فَنُرَی أَنَّ ذَلِکَ کَانَ عَلَی عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

محمد بن عبدالرحمن بن سہم انطا کی، عبداللہ بن مبارک، وہیب مکی، عمر بن محمد بن منکدر، ابوصالح، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس کی موت واقع ہوگئی اور اس نے جہاد کیا اور نہ اس کے دل میں اس کی تمنا ہوئی تو وہ نفاق کے شعبہ پر مرا عبداللہ بن مبارک ؓ فرماتے ہیں کہ ہم اسے خیال کرتے ہیں کہ یہ حکم رسول اللہ ﷺ کے زمانہ مبارک کے ساتھ خاص تھا۔

It has been narrated on the authority of Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: One who died but did not fight in the way of Allah nor did he express any desire (or determination) for Jihad, died the death of a hypocrite. Abdullah bin Mubarak said: We think the hadith pertained to the time of the Messenger of Allah ﷺ . rted on the authority of Sahl bin Aba Umama bin Sahl bin Hunaif who learned the tradition from his father who (in turn) learned it from his grandfather-that the Messenger of Allah ﷺ said: Who sought martyrdom with sincerity will be ranked by Allah among the martyrs even if he died on his bed. In his version of the tradition Abd Tahir did not mention the words:" with sincerity".

4932Sahih Muslim

جو شخص جہاد کی بغیر اور جہاد کی دلیں تمنا کئے بغیر مر گیا اس کی مذمت کے بیان میں

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي سُفْيَانَ عَنْ جَابِرٍ قَالَ کُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزَاةٍ فَقَالَ إِنَّ بِالْمَدِينَةِ لَرِجَالًا مَا سِرْتُمْ مَسِيرًا وَلَا قَطَعْتُمْ وَادِيًا إِلَّا کَانُوا مَعَکُمْ حَبَسَهُمْ الْمَرَضُ

عثمان بن ابی شیبہ، جریر، اعمش، ابی سفیان، جابر، حضرت جابر ؓ سے روایت ہے کہ ہم کسی غزوہ میں نبی ﷺ کے ساتھ تھے تو آپ ﷺ نے فرمایا مدینہ میں کچھ لوگ ہیں جنہیں بیماری نے روک رکھا ہے لیکن جس جگہ سے تم گزرتے ہو یا کسی وادی کو طے کرتے ہو تو وہ تمہارے ساتھ ہوتے ہیں۔

It has been narrated on the authority of Jabir who said: We were with the Holy Prophet ﷺ on an expedition. He said: There are some people in Madinah. They are with you whenever you cover a distance or cross a valley. They have been detained by illness.

4933Sahih Muslim

جو شخص جہاد کی بغیر اور جہاد کی دلیں تمنا کئے بغیر مر گیا اس کی مذمت کے بیان میں

و حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ح و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ قَالَا حَدَّثَنَا وَکِيعٌ ح و حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا عِيسَی بْنُ يُونُسَ کُلُّهُمْ عَنْ الْأَعْمَشِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِ وَکِيعٍ إِلَّا شَرِکُوکُمْ فِي الْأَجْرِ

یحییٰ بن یحیی، ابومعاویہ، ابوبکر بن ابی شیبہ، ابوسعید اشج، وکیع، اسحاق بن ابراہیم، عیسیٰ بن یونس، اعمش، وکیع، اس سند سے بھی یہ حدیث اسی طرح روایت کی گئی ہے لیکن حضرت وکیع کی حدیث میں ہے کہ وہ اجر وثواب میں تمہارے شریک ہوتے ہیں۔

In a version of the tradition narrated on the authority of Amash, we have the words:" They will share with you the reward (for Jihad)."

4934Sahih Muslim

سمندر میں جہاد کرنے کی فضلیت کے بیان میں

حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَالِکٍ عَنْ إِسْحَقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَانَ يَدْخُلُ عَلَی أُمِّ حَرَامٍ بِنْتِ مِلْحَانَ فَتُطْعِمُهُ وَکَانَتْ أُمُّ حَرَامٍ تَحْتَ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ فَدَخَلَ عَلَيْهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا فَأَطْعَمَتْهُ ثُمَّ جَلَسَتْ تَفْلِي رَأْسَهُ فَنَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ اسْتَيْقَظَ وَهُوَ يَضْحَکُ قَالَتْ فَقُلْتُ مَا يُضْحِکُکَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ نَاسٌ مِنْ أُمَّتِي عُرِضُوا عَلَيَّ غُزَاةً فِي سَبِيلِ اللَّهِ يَرْکَبُونَ ثَبَجَ هَذَا الْبَحْرِ مُلُوکًا عَلَی الْأَسِرَّةِ أَوْ مِثْلَ الْمُلُوکِ عَلَی الْأَسِرَّةِ يَشُکُّ أَيَّهُمَا قَالَ قَالَتْ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ فَدَعَا لَهَا ثُمَّ وَضَعَ رَأْسَهُ فَنَامَ ثُمَّ اسْتَيْقَظَ وَهُوَ يَضْحَکُ قَالَتْ فَقُلْتُ مَا يُضْحِکُکَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ نَاسٌ مِنْ أُمَّتِي عُرِضُوا عَلَيَّ غُزَاةً فِي سَبِيلِ اللَّهِ کَمَا قَالَ فِي الْأُولَی قَالَتْ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ قَالَ أَنْتِ مِنْ الْأَوَّلِينَ فَرَکِبَتْ أُمُّ حَرَامٍ بِنْتُ مِلْحَانَ الْبَحْرَ فِي زَمَنِ مُعَاوِيَةَ فَصُرِعَتْ عَنْ دَابَّتِهَا حِينَ خَرَجَتْ مِنْ الْبَحْرِ فَهَلَکَتْ

یحییٰ بن یحیی، مالک، اسحاق، عبداللہ بن ابی طلحہ، حضرت انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ ام حرام بنت ملحان کے پاس تشریف لے جاتے تھے اور وہ آپ ﷺ کو کھانا پیش کرتی تھیں اور ام حرام ؓ حضرت عبادہ ؓ بن صامت کے نکاح میں تھیں ایک دن رسول اللہ اس کے پاس تشریف لے گئے تو اس نے کھانا پیش کیا پھر آپ ﷺ کے سر مبارک میں مالش کرنے بیٹھ گئیں تو رسول اللہ ﷺ سو گئے پھر آپ ﷺ ہنستے ہوئے بیدار ہوئے وہ کہتی ہیں میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول آپ ﷺ کو کس بات نے ہنسایا ہے آپ ﷺ نے فرمایا میری امت میں سے کچھ لوگ مجھ پر سمندر میں بادشاہوں کے تختوں کی مثال سواریوں پر سوار ہو کر اللہ کے راستہ میں جہاد کرتے ہوئے دکھائے گئے یا کہا بادشاہوں کے تختوں پر سوار ہو کر۔ کہتی ہیں میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ! اللہ سے دعا کریں کہ وہ مجھے ان میں سے کر دے تو آپ ﷺ نے اس کے لئے دعا کی پھر آپ ﷺ نے اپنا سر مبارک رکھا اور سو گئے پھر ہنستے ہوئے بیدار ہوئے۔ کہتی ہیں میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول آپ ﷺ کو کس بات نے ہنسایا ہے آپ ﷺ نے فرمایا میری امت کے کچھ لوگ مجھے اللہ کے راستہ میں جہاد کرتے ہوئے دکھائے گئے جیسا کہ پہلی دفعہ فرمایا تھا۔ کہتی ہیں میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ! اللہ سے دعا کریں کہ وہ مجھے بھی ان میں سے کر دے آپ ﷺ نے فرمایا تو ان کے پہلے گروہ سے ہوگی پس ام حرام بنت ملحان حضرت معاویہ ؓ کے زمانہ میں سمندر میں سوار ہوگئیں جب وہ سمندر سے نکلیں تو اپنے جانور سے گر کر انتقال گئیں۔

It has been reported on the authority of Anas bin Malik (RA) that the Messenger of Allah ﷺ used to visit Umm Haram daughter of Milhan (who was the sister of his foster-mother or his fathers aunt). She was the wife of Ubadah bin Samit, One day the Messenger of Allah ﷺ paid her a visit. She entertained him with food and then sat down to rub his head. The Messenger of Allah ﷺ dozed off and when he woke up (after a while), he was laughing. She asked: What made you laugh. Messenger of Allah? ﷺ He said: Some people from my Umma were presented to me who were fighters in the way of Allah and were sailing in this sea. (Gliding smoothly on the water), they appeared to be kings or like kings (sitting) on thrones (the narrator has a doubt about the actual expression used by the Holy Prophet). She said: Messenger of Allah, pray to Allah that He may include me among these warriors. He prayed for her. Then he placed his head (down) and dozed off (again). He woke up laughing, as before. (She said) I said: Messenger of Allah, what makes you laugh? He replied: A people from my Umma were presented to me. They were fighters in Allahs way. (He described them in the same words as he had described the first warriors.) She said: Messenger of Allah, pray to God that He may include me among these warriors. He said: You are among the first ones. Umm Haram daughter of Milhan sailed in the aea in the time of Muawiyah. When she came out of the sea and (was going to mount a riding animal) she fell down and died.

4935Sahih Muslim

سمندر میں جہاد کرنے کی فضلیت کے بیان میں

حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ هِشَامٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ يَحْيَی بْنِ سَعِيدٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَی بْنِ حَبَّانَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ عَنْ أُمِّ حَرَامٍ وَهِيَ خَالَةُ أَنَسٍ قَالَتْ أَتَانَا النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا فَقَالَ عِنْدَنَا فَاسْتَيْقَظَ وَهُوَ يَضْحَکُ فَقُلْتُ مَا يُضْحِکُکَ يَا رَسُولَ اللَّهِ بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي قَالَ أُرِيتُ قَوْمًا مِنْ أُمَّتِي يَرْکَبُونَ ظَهْرَ الْبَحْرِ کَالْمُلُوکِ عَلَی الْأَسِرَّةِ فَقُلْتُ ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ قَالَ فَإِنَّکِ مِنْهُمْ قَالَتْ ثُمَّ نَامَ فَاسْتَيْقَظَ أَيْضًا وَهُوَ يَضْحَکُ فَسَأَلْتُهُ فَقَالَ مِثْلَ مَقَالَتِهِ فَقُلْتُ ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ قَالَ أَنْتِ مِنْ الْأَوَّلِينَ قَالَ فَتَزَوَّجَهَا عُبَادَةُ بْنُ الصَّامِتِ بَعْدُ فَغَزَا فِي الْبَحْرِ فَحَمَلَهَا مَعَهُ فَلَمَّا أَنْ جَائَتْ قُرِّبَتْ لَهَا بَغْلَةٌ فَرَکِبَتْهَا فَصَرَعَتْهَا فَانْدَقَّتْ عُنُقُهَا

خلف بن ہشام، حماد بن زید، یحییٰ بن سعید، محمد بن یحییٰ بن حبان، حضرت انس ؓ کی خالہ حضرت ام حرام ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ ہمارے پاس تشریف لائے تو ہمارے پاس قیلولہ فرمایا اور آپ ﷺ ہنستے ہوئے بیدار ہوئے تو میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ میرے ماں باپ آپ ﷺ پر قربان ہوں آپ ﷺ کو کس بات نے ہنسایا ہے آپ ﷺ نے فرمایا مجھے تیری امت میں سے ایک قوم دکھائی گئی جو بادشاہوں کے تختوں جیسے تختوں پر سمندر میں سواری کر رہے تھے میں نے عرض کیا اللہ سے دعا مانگیں کہ وہ مجھے بھی ان میں سے کر دے آپ ﷺ نے فرمایا تو انہیں میں سے ہے۔ کہتی ہیں آپ ﷺ پھر سو گئے اور اسی طرح بیدار ہوئے کہ آپ ﷺ ہنس رہے تھے میں نے آپ ﷺ سے پوچھا تو پہلی بات جیسی بات فرمائی میں نے عرض کیا آپ ﷺ اللہ سے دعا مانگیں کہ وہ مجھے بھی ان میں سے کر دے آپ نے فرمایا تو پہلے گروہ میں سے ہوگی پھر اس کے بعد ام حرام سے حضرت عبادہ بن صامت نے نکاح کرلیا پس جب انہوں نے سمندری جہاد شروع کیا تو ام حرام کو بھی اپنے ساتھ سوار کر کے لے گئے جب وہ آئیں اور ایک خچر ان کے قریب کیا گیا تو آپ اس پر سوار ہوگئیں تو اس نے انہیں گرا دیا اور اس سے ان کی گردن ٹوٹ گئی۔

It has been narrated on the authority of Umm Haram (and she was the aunt of Anas) who said: The Holy Prophet ﷺ came to us one day and had a nap in our house. When he woke up, he was laughing. I said: Messenger of Allah, what made you laugh? He said: I saw a people from my followers sailing on the surface of the sea (looking) like kings (sitting) on their thrones. I said: Pray to Allah that He may include me among them. He said: You will hip among them. He had a (second) ntip, woke up and was laughing. I asked him (the reason for his laughter). He gave the same reply. I said: Pray to Allah that He may include me among them. He said: You are among the first ones. Anas said: Ubadah bin Samit married her. He joined a naval expedition and took her along with him. When she returned, a mule was brought for her. While mounting it she fell down, broke her neck (and died).

4936Sahih Muslim

سمندر میں جہاد کرنے کی فضلیت کے بیان میں

و حَدَّثَنَاه مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحِ بْنِ الْمُهَاجِرِ وَيَحْيَی بْنُ يَحْيَی قَالَا أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ عَنْ يَحْيَی بْنِ سَعِيدٍ عَنْ ابْنِ حَبَّانَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ عَنْ خَالَتِهِ أُمِّ حَرَامٍ بِنْتِ مِلْحَانَ أَنَّهَا قَالَتْ نَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا قَرِيبًا مِنِّي ثُمَّ اسْتَيْقَظَ يَتَبَسَّمُ قَالَتْ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا أَضْحَکَکَ قَالَ نَاسٌ مِنْ أُمَّتِي عُرِضُوا عَلَيَّ يَرْکَبُونَ ظَهْرَ هَذَا الْبَحْرِ الْأَخْضَرِ ثُمَّ ذَکَرَ نَحْوَ حَدِيثِ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ

محمد بن رمح بن مہاجر، یحییٰ بن یحیی، لیث، یحییٰ بن سعید ابن حبان، حضرت انس ؓ کی خالہ حضرت ام حرام بنت ملحان ؓ سے روایت ہے کہ ایک دن رسول اللہ ﷺ میرے قریب سو گئے پھر مسکراتے ہوئے بیدار ہوئے تو میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول آپ ﷺ کو کس بات نے ہنسایا آپ ﷺ نے فرمایا مجھے میری امت کے کچھ لوگ دکھائے گئے جو اس سبز سمندر کی پیٹھ پر سوار ہو رہے تھے باقی حدیث اسی طرح بیان کی۔

It has been reported on the authority of Umm Haram daughter of Milhan (through another chain of transmitters). She said: One day the Messenger of Allah ﷺ slept (at a place) near me. He woke up smiling. She said: Messenger of Allah. what made thee laugh? He said: A people from my followers were presented to me. They were sailing on the surface of this green sea... (here follows the tradition that has gone before).

4937Sahih Muslim

سمندر میں جہاد کرنے کی فضلیت کے بیان میں

و حَدَّثَنِي يَحْيَی بْنُ أَيُّوبَ وَقُتَيْبَةُ وَابْنُ حُجْرٍ قَالُوا حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ وَهُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِکٍ يَقُولُا أَتَی رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ابْنَةَ مِلْحَانَ خَالَةَ أَنَسٍ فَوَضَعَ رَأْسَهُ عِنْدَهَا وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِمَعْنَی حَدِيثِ إِسْحَقَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ وَمُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَی بْنِ حَبَّانَ

یحییٰ بن ایوب، قتیبہ بن حجر، اسماعیل ابن جعفر، عبداللہ بن عبدالرحمن، حضرت انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ انس کی خالہ بنت ملحان ؓ کے پاس تشریف لائے اور ان کے پاس سر رکھ کر سو گئے باقی حدیث مبارکہ گزر چکی ہے۔

It has been reported by Abdullah bin Abdul Rahman that he heard Anas bin Malik (RA) say: The Messenger of Allah ﷺ paid a visit to Milhans daughter, maternal aunt of Anas (and the sister of the Holy Prophets foster-mother). He placed his head near her (from this point onward, the narrator carried on the previous tradition to its end).

4938Sahih Muslim

اللہ کے راستہ میں پہرہ دینے کی فضلیت کے بیان میں

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ بَهْرَامٍ الدَّارِمِيُّ حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ حَدَّثَنَا لَيْثٌ يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ عَنْ أَيُّوبَ بْنِ مُوسَی عَنْ مَکْحُولٍ عَنْ شُرَحْبِيلَ بْنِ السِّمْطِ عَنْ سَلْمَانَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ رِبَاطُ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ خَيْرٌ مِنْ صِيَامِ شَهْرٍ وَقِيَامِهِ وَإِنْ مَاتَ جَرَی عَلَيْهِ عَمَلُهُ الَّذِي کَانَ يَعْمَلُهُ وَأُجْرِيَ عَلَيْهِ رِزْقُهُ وَأَمِنَ الْفَتَّانَ

عبداللہ بن عبدالرحمن بن بہرام دارمی، ابو ولید طیالسی، لیث، ابن سعد، ایوب بن موسی، مکحول، شرحبیل بن سمط، حضرت سلمان ؓ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ایک دن رات کی چوکیداری کا ثواب ایک ماہ کے روزوں اور قیام سے افضل ہے اور اگر وہ مرگیا تو اس کا وہ عمل جاری رہے گا جو وہ کر رہا تھا اور اس کا رزق بھی جاری کیا جائے گا اور اس کی قبر کو فتنوں سے محفوظ رکھا جائے گا۔

It has been narrated on the authority of Salman who said: I heard the Messenger of Allah ﷺ say: Keeping watch for a day and a night is better (in point of reward) than fasting for a whole month and standing in prayer every night. If a person dies (while, performing this duty), his (meritorious) activity will continue and he will go on receiving his reward for it perpetually and will be saved from the torture of the grave.

4939Sahih Muslim

اللہ کے راستہ میں پہرہ دینے کی فضلیت کے بیان میں

حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ شُرَيْحٍ عَنْ عَبْدِ الْکَرِيمِ بْنِ الْحَارِثِ عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ عُقْبَةَ عَنْ شُرَحْبِيلَ بْنِ السِّمْطِ عَنْ سَلْمَانَ الْخَيْرِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَعْنَی حَدِيثِ اللَّيْثِ عَنْ أَيُّوبَ بْنِ مُوسَی

ابوطاہر، ابن وہب، عبدالرحمن بن شریح، عبدالکریم بن حارث، ابوعبیدہ بن عقبہ، شرحبیل بن سمط، سلمان خیر، اس سے بھی یہ حدیث اسی طرح مروی ہے اس میں حضرت سلمان خیر کا نام مذکور ہے۔

This tradition has been handed down on the authority of Salman al-Khair through another chain of transmitters.

4940Sahih Muslim

شہدا کے بیان میں

حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَالِکٍ عَنْ سُمَيٍّ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ بَيْنَمَا رَجُلٌ يَمْشِي بِطَرِيقٍ وَجَدَ غُصْنَ شَوْکٍ عَلَی الطَّرِيقِ فَأَخَّرَهُ فَشَکَرَ اللَّهُ لَهُ فَغَفَرَ لَهُ وَقَالَ الشُّهَدَائُ خَمْسَةٌ الْمَطْعُونُ وَالْمَبْطُونُ وَالْغَرِقُ وَصَاحِبُ الْهَدْمِ وَالشَّهِيدُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ

یحییٰ بن یحیی، مالک، ابوصالح، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ایک آدمی کسی راستہ میں چل رہا تھا کہ اس نے راستہ پر کانٹوں والی ایک ٹہنی پڑی ہوئی پائی تو اسے راستہ سے ہٹا دیا تو اللہ نے اس کے اس عمل کو قبول کرتے ہوئے اسے معاف کردیا پھر آپ ﷺ نے فرمایا شہداء کی پانچ اقسام یہ ہیں طاعون میں مرنے والا، پیٹ کی بیماری میں مرنے والا، ڈوبنے والا، کسی چیز کے نیچے آ کر مرنے والا اور اللہ کے راستہ میں شہید ہونے والا۔

It has been narrated on the authority of Abu Hurairah (RA) that the, Messenger of Allah ﷺ said: While a man walks along a path, finds a thorny twig lying on the way and puts it aside, Allah would appreciate it and forgive him The Holy Prophet ﷺ said: The martyrs are of five kinds: one who dies of plague; one who dies of diarrhoea (or cholera) ; one who is drowned; one who is buried under debris and one who dies fighting in the way of Allah.