و حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ سُهَيْلٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا تَعُدُّونَ الشَّهِيدَ فِيکُمْ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ مَنْ قُتِلَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَهُوَ شَهِيدٌ قَالَ إِنَّ شُهَدَائَ أُمَّتِي إِذًا لَقَلِيلٌ قَالُوا فَمَنْ هُمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ مَنْ قُتِلَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَهُوَ شَهِيدٌ وَمَنْ مَاتَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَهُوَ شَهِيدٌ وَمَنْ مَاتَ فِي الطَّاعُونِ فَهُوَ شَهِيدٌ وَمَنْ مَاتَ فِي الْبَطْنِ فَهُوَ شَهِيدٌ قَالَ ابْنُ مِقْسَمٍ أَشْهَدُ عَلَی أَبِيکَ فِي هَذَا الْحَدِيثِ أَنَّهُ قَالَ وَالْغَرِيقُ شَهِيدٌ
زہیر بن حرب، جریر، سہیل، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم اپنے میں سے شہید کسے شمار کرتے ہو صحابہ ؓ نے عرض کیا اے اللہ کے رسول جو اللہ کے راستہ میں قتل کیا جائے وہ شہید ہے آپ ﷺ نے فرمایا ایسی صورت میں تو میری امت کے شہید کم ہوں گے صحابہ ؓ نے عرض کیا پھر وہ کون ہوں گے آپ ﷺ نے فرمایا جو اللہ کے راستہ میں قتل کیا گیا وہ شہید ہے اور جو اللہ کے راستہ میں مرگیا وہ بھی شہید ہے اور جو طاعون میں مرا وہ بھی شہید ہے اور جو پیٹ کی بیماری میں مرگیا وہ بھی شہید ہے ابن مقسم نے اس حدیث میں یہ بھی کہا ڈوب کر مرجانے والا بھی شہید ہے۔
It has been narrated on the authority of Abu Hurairah (RA) (through another chain of transmitters) that the Messenger of Allah ﷺ said: Whom do you consider to be a martyr among you? They (the Companions) said: Messenger, of Allah, one who is slain in the way of Allah is a martyr. He said: Then (if this is the definition of a martyr) the martyrs of my Umma will be small in number. They asked: Messenger of Allah, who are they? He said: One who is slain in the way of Allah is a martyr; one who dies in the way of Allah, is a martyr; one who dies of plague is a martyr; one who dies of cholera is a martyr.
Ibn Miqsam said: I testify the truth of your fathers statement (with regard to this tradition) that the Holy Prophet ﷺ said: One who is drowned is a martyr.It has been narrated on the authority of Abu Hurairah (RA) (through another chain of transmitters) that the Messenger of Allah ﷺ said: Whom do you consider to be a martyr among you? They (the Companions) said: Messenger, of Allah, one who is slain in the way of Allah is a martyr. He said: Then (if this is the definition of a martyr) the martyrs of my Umma will be small in number. They asked: Messenger of Allah, who are they? He said: One who is slain in the way of Allah is a martyr; one who dies in the way of Allah, is a martyr; one who dies of plague is a martyr; one who dies of cholera is a martyr.
Ibn Miqsam said: I testify the truth of your fathers statement (with regard to this tradition) that the Holy Prophet ﷺ said: One who is drowned is a martyr.
و حَدَّثَنِي عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ بَيَانٍ الْوَاسِطِيُّ حَدَّثَنَا خَالِدٌ عَنْ سُهَيْلٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِهِ قَالَ سُهَيْلٌ قَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مِقْسَمٍ أَشْهَدُ عَلَی أَخِيکَ أَنَّهُ زَادَ فِي هَذَا الْحَدِيثِ وَمَنْ غَرِقَ فَهُوَ شَهِيدٌ
عبدالحمید بن بیان واسطی، خالد، سہیل، عبیداللہ بن مقسم، حضرت سہیل سے روایت ہے کہ عبیداللہ بن مقسم نے کہا میں تیرے بھائی کے بارے میں گواہی دیتا ہوں باقی حدیث اسی طرح ہے اس میں مزید اضافہ یہ ہے کہ جو ڈوب گیا وہ بھی شہید ہے۔
A version of the tradition narrated on the authority of Suhail contains the additional words:" And one who is drowned is a martyr."
و حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ حَدَّثَنَا سُهَيْلٌ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَفِي حَدِيثِهِ قَالَ أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مِقْسَمٍ عَنْ أَبِي صَالِحٍ وَزَادَ فِيهِ وَالْغَرِقُ شَهِيدٌ
محمد بن حاتم، بہز، وہیب، سہیل، عبیداللہ بن مقسم، ابوصالح، اس سند سے بھی یہ حدیث روایت کی گئی ہے اضافہ یہ ہے کہ غرق ہونے والا بھی شہید ہے۔
Another version of the tradition narrated on the authority of Suhail thouch a different chain of transmitters contains the additional words:" A drowned person is a martyr."
حَدَّثَنَا حَامِدُ بْنُ عُمَرَ الْبَکْرَاوِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ يَعْنِي ابْنَ زِيَادٍ حَدَّثَنَا عَاصِمٌ عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ سِيرِينَ قَالَتْ قَالَ لِي أَنَسُ بْنُ مَالِکٍ بِمَ مَاتَ يَحْيَی بْنُ أَبِي عَمْرَةَ قَالَتْ قُلْتُ بِالطَّاعُونِ قَالَتْ فَقَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الطَّاعُونُ شَهَادَةٌ لِکُلِّ مُسْلِمٍ
حامد بن عمر بکراوی، عبدالوحد بن زیاد، عاصم، حضرت حفصہ بنت سیرین رحمۃ اللہ علیہا، انس بن مالک، حضرت حفصہ بنت سیرین سے روایت ہے کہ حضرت انس بن مالک ؓ نے مجھ سے کہا یحییٰ بن ابی عمرہ کی موت کا کیا سبب بنا میں نے کہا: طاعون، تو انہوں نے کہا رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا طاعون ہر مسلمان کے لئے شہادت ہے۔
It has been narrated on the authority of Hafsa daughter of Sirin who said: Anas bin Malik (RA) asked me the cause of death of Yahya bin Abu Amra. I said: (He died) of plague. He said: The Messenger of Allah ﷺ said that death by plague is martyrdom for a Muslim.
و حَدَّثَنَاه الْوَلِيدُ بْنُ شُجَاعٍ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ عَنْ عَاصِمٍ فِي هَذَا الْإِسْنَادِ بِمِثْلِهِ
ولید بن شجاع، علی بن مسہر، عاصم، اس سند سے بھی یہ حدیث مبارکہ اسی طرح مروی ہے۔
This hadith has been narrated on the authority of Asim through the same chain of transmitters.
تیر اندازی کی فضلیت کے بیان میں
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ عَنْ أَبِي عَلِيٍّ ثُمَامَةَ بْنِ شُفَيٍّ أَنَّهُ سَمِعَ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ يَقُولُا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عَلَی الْمِنْبَرِ يَقُولُ وَأَعِدُّوا لَهُمْ مَا اسْتَطَعْتُمْ مِنْ قُوَّةٍ أَلَا إِنَّ الْقُوَّةَ الرَّمْيُ أَلَا إِنَّ الْقُوَّةَ الرَّمْيُ أَلَا إِنَّ الْقُوَّةَ الرَّمْيُ
ہارون بن معروف، ابن وہب، عمرو بن حارث، علی، ثمامہ بن شفی، عقبہ بن عامر، حضرت عقبہ بن عامر ؓ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو منبر پر یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ( وَأَعِدُّوا لَهُمْ مَا اسْتَطَعْتُمْ ) کفار کے خلاف اپنی استطاعت کے مطابق قوت حاصل کرو سنو قوت تیر اندازی ہے سنو قوت تیراندازی ہے سنو قوت تیر اندازی ہے۔
It has been narrated on the authority of Ibn Amir who said: I heard the Messenger of Allah ﷺ say-and he was delivering a sermon from the pulpit: Prepare to meet them with as much strength as you can afford. Beware, strength consists in archery. Beware, strength consists in archery. Beware, strength consists in archery.
تیر اندازی کی فضلیت کے بیان میں
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ عَنْ أَبِي عَلِيٍّ عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ سَتُفْتَحُ عَلَيْکُمْ أَرَضُونَ وَيَکْفِيکُمُ اللَّهُ فَلَا يَعْجِزُ أَحَدُکُمْ أَنْ يَلْهُوَ بِأَسْهُمِهِ
ہارون بن معروف، ابن وہب، عمرو بن حارث، علی، عقبہ بن عامر، حضرت عقبہ بن عامر ؓ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا آپ ﷺ فرماتے تھے عنقریب تم پر زمینوں کی فتوحات کھل جائیں گی اور تمہیں اللہ کافی ہوگیا پس تم میں سے کوئی شخص تیراندازی میں کمزوری نہ دکھائے۔
It has been narrated on the authority of Uqba bin Amir who said: I heard the Messenger of Allah ﷺ say: Lands shall be thrown open to you and Allah will suffice you (against your enemies), but none of you should give up playing with his arrows.
تیر اندازی کی فضلیت کے بیان میں
و حَدَّثَنَاه دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ عَنْ بَکْرِ بْنِ مُضَرَ عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ عَنْ أَبِي عَلِيٍّ الْهَمْدَانِيِّ قَالَ سَمِعْتُ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ
داؤد بن رشید، ولید، بکر بن مضر، عمرو بن حارث، علی ہمدانی، عقبہ بن عامر، اس سند سے بھی یہ حدیث اسی طرح مروی ہے۔
This tradition has also been narrated on the same authority through another chain of transmitters.
تیر اندازی کی فضلیت کے بیان میں
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحِ بْنِ الْمُهَاجِرِ أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ عَنْ الْحَارِثِ بْنِ يَعْقُوبَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ شِمَاسَةَ أَنَّ فُقَيْمًا اللَّخْمِيَّ قَالَ لِعُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ تَخْتَلِفُ بَيْنَ هَذَيْنِ الْغَرَضَيْنِ وَأَنْتَ کَبِيرٌ يَشُقُّ عَلَيْکَ قَالَ عُقْبَةُ لَوْلَا کَلَامٌ سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ أُعَانِيهِ قَالَ الْحَارِثُ فَقُلْتُ لِابْنِ شَمَاسَةَ وَمَا ذَاکَ قَالَ إِنَّهُ قَالَ مَنْ عَلِمَ الرَّمْيَ ثُمَّ تَرَکَهُ فَلَيْسَ مِنَّا أَوْ قَدْ عَصَی
محمد بن رمح بن مہاجر، لیث، حارث بن یعقوب، عبدالرحمن بن شماسہ، حضرت عبدالرحمن بن شماسہ ؓ سے روایت ہے کہ فقیم لخمی نے حضرت عقبہ بن عامر ؓ سے عرض کیا کہ آپ ان دو نشانیوں کے درمیان آتے جاتے ہیں حالانکہ آپ بوڑھے ہیں اس وجہ سے آپ پر یہ دشوار ہوتا ہوگا تو عقبہ نے کہا اگر میں رسول اللہ ﷺ سے اس بارے میں حدیث نہ سنی ہوتی تو میں کبھی دشواری برداشت نہ کرتا حارث نے کہا میں نے ابن شماسہ سے کہا وہ حدیث کیا ہے انہوں نے کہا حضرت عقبہ فرماتے تھے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس نے تیراندازی سیکھی پھر اسے چھوڑ دیا وہ ہم میں سے نہیں ہے یا اس نے نافرمانی کی۔
It has been reported by Abdul Rahman bin Shamasa that Fuqaim al- Lakhmi said to Uqba bin Amir: You frequent between these two targets and you are an old man, so you will be finding it very hard. Uqba said: But for a thing I heard from the Holy Prophet ﷺ , I would not strain myself. Harith (one of the narrators in the chain of transmitters) said: I asked Ibn Shamasa: What was that? He said that he (the Holy Prophet) said: Who learnt archery and then gave it up is not from us. or he has been guilty of disobedience (to Allahs Apostle) ﷺ .
رسول اللہ ﷺ کے فرمان میری امت کی ایک جماعت ہمیشہ حق پر قائم رہے گی اور انہیں کسی کی مخالفت کوئی نقصان نہیں پہنچائے گی۔
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ وَأَبُو الرَّبِيعِ الْعَتَکِيُّ وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ قَالُوا حَدَّثَنَا حَمَّادٌ وَهُوَ ابْنُ زَيْدٍ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ عَنْ أَبِي أَسْمَائَ عَنْ ثَوْبَانَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تَزَالُ طَائِفَةٌ مِنْ أُمَّتِي ظَاهِرِينَ عَلَی الْحَقِّ لَا يَضُرُّهُمْ مَنْ خَذَلَهُمْ حَتَّی يَأْتِيَ أَمْرُ اللَّهِ وَهُمْ کَذَلِکَ وَلَيْسَ فِي حَدِيثِ قُتَيْبَةَ وَهُمْ کَذَلِکَ
سعید بن منصور، ابوربیع عتکی، قتبیہ بن سعید، حماد ابن زید، ایوب، ابی قلابہ، اسماء، ثوبان، حضرت ثوبان ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میری امت میں سے ایک جماعت ہمیشہ حق بات پر غالب رہے گی جو انہیں رسوا کرنا چاہے گا وہ ان کو کوئی نقصان نہ کرسکے گا یہاں تک کہ اللہ کے حکم آجائے گا اور وہ اسی حال پر ہوں گے۔
It has been narrated on the authority of Thauban that the Messenger of Allah ﷺ said: A group of people from mv Umma will always remain triumphant on the right path and continue to be triumphant (against their opponents). He who deserts them shall not be able to do them any harm. They will remain in this position until Allahs. Command is executed (i. e. Qayamah is established). In Qutaibas version of the tradition, we do not have the words:" They will remain in this position."
رسول اللہ ﷺ کے فرمان میری امت کی ایک جماعت ہمیشہ حق پر قائم رہے گی اور انہیں کسی کی مخالفت کوئی نقصان نہیں پہنچائے گی۔
و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا وَکِيعٌ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا وَکِيعٌ وَعَبْدَةُ کِلَاهُمَا عَنْ إِسْمَعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ وَاللَّفْظُ لَهُ حَدَّثَنَا مَرْوَانُ يَعْنِي الْفَزَارِيَّ عَنْ إِسْمَعِيلَ عَنْ قَيْسٍ عَنْ الْمُغِيرَةِ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَنْ يَزَالَ قَوْمٌ مِنْ أُمَّتِي ظَاهِرِينَ عَلَی النَّاسِ حَتَّی يَأْتِيَهُمْ أَمْرُ اللَّهِ وَهُمْ ظَاهِرُونَ
ابوبکر بن ابی شیبہ، وکیع، ابن نمیر، وکیع، عبدہ، اسماعیل بن ابی خالد ابن ابی عمرو، مروان، اسماعیل، قیس، مغیرہ، حضرت مغیرہ بن شعبہ ؓ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا میری امت میں سے ایک قوم ہمیشہ لوگوں پر غالب رہے گی یہاں تک کہ قیامت آجائے گی اور وہ غالب ہی ہوں گے۔
It has been narrated on the authority of Mughira who said: I heard the Messenger of Allah ﷺ say: A group of people from my Umma will continue to be triumphant over the people until the Command of Allah overtakes them while they are still triumphant.
رسول اللہ ﷺ کے فرمان میری امت کی ایک جماعت ہمیشہ حق پر قائم رہے گی اور انہیں کسی کی مخالفت کوئی نقصان نہیں پہنچائے گی۔
و حَدَّثَنِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ حَدَّثَنِي إِسْمَعِيلُ عَنْ قَيْسٍ قَالَ سَمِعْتُ الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ بِمِثْلِ حَدِيثِ مَرْوَانَ سَوَائً
محمد بن رافع، ابواسامہ، اسماعیل، قیس، مغیرہ بن شعبہ، اس سند سے بھی یہ حدیث مبارکہ اسی طرح مروی ہے۔
The same tradition has been narrated through another chain of transmitters on the same authority.
رسول اللہ ﷺ کے فرمان میری امت کی ایک جماعت ہمیشہ حق پر قائم رہے گی اور انہیں کسی کی مخالفت کوئی نقصان نہیں پہنچائے گی۔
و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ قَالَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ سِمَاکِ بْنِ حَرْبٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ لَنْ يَبْرَحَ هَذَا الدِّينُ قَائِمًا يُقَاتِلُ عَلَيْهِ عِصَابَةٌ مِنْ الْمُسْلِمِينَ حَتَّی تَقُومَ السَّاعَةُ
محمد بن مثنی، محمد بن بشار، محمد بن جعفر، شعبہ، سماک بن حرب، جابر بن سمرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا یہ دین ہمیشہ قائم رہے گا اور اس کے قیام کے لئے مسلمانوں کی ایک جماعت روز قیامت تک جہاد کرتی رہے گی۔
It has been narrated on the authority of Jabir bin ahadeeth that the Holy Prophet ﷺ said: This religion will continue to exist, and a group of people from the Muslims will continue to fight for its protection until the Hour is established.
رسول اللہ ﷺ کے فرمان میری امت کی ایک جماعت ہمیشہ حق پر قائم رہے گی اور انہیں کسی کی مخالفت کوئی نقصان نہیں پہنچائے گی۔
حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ وَحَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ قَالَا حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَا تَزَالُ طَائِفَةٌ مِنْ أُمَّتِي يُقَاتِلُونَ عَلَی الْحَقِّ ظَاهِرِينَ إِلَی يَوْمِ الْقِيَامَةِ
ہارون بن عبداللہ، حجاج بن شاعر، حجاج بن محمد، ابن جریج، ابوزبیر، حضرت جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا میری امت میں سے ایک جماعت ہمیشہ حق بات پر قیامت تک غالب رہے گی اور جہاد کرتی رہے گی۔
It has been narrated on the authority of Jabir bin Abdullah who said: I heard the Messenger of Allah ﷺ say: A group of people from my Umma will continue to fight In defence of truth and remain triumphant until the Day of Judgment.
رسول اللہ ﷺ کے فرمان میری امت کی ایک جماعت ہمیشہ حق پر قائم رہے گی اور انہیں کسی کی مخالفت کوئی نقصان نہیں پہنچائے گی۔
حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ أَبِي مُزَاحِمٍ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ حَمْزَةَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ أَنَّ عُمَيْرَ بْنَ هَانِئٍ حَدَّثَهُ قَالَ سَمِعْتُ مُعَاوِيَةَ عَلَی الْمِنْبَرِ يَقُولُا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَا تَزَالُ طَائِفَةٌ مِنْ أُمَّتِي قَائِمَةً بِأَمْرِ اللَّهِ لَا يَضُرُّهُمْ مَنْ خَذَلَهُمْ أَوْ خَالَفَهُمْ حَتَّی يَأْتِيَ أَمْرُ اللَّهِ وَهُمْ ظَاهِرُونَ عَلَی النَّاسِ
منصور بن ابی مزاحم، یحییٰ بن حمزہ، عبدالرحمن بن یزید بن جابر، حضرت عمیر بن ہانی (رح) سے روایت ہے کہ میں نے حضرت معاویہ ؓ کو منبر پر یہ فرماتے ہوئے سنا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے کہ آپ ﷺ فرماتے تھے میری امت میں سے ایک جماعت ہمیشہ اللہ کے حکم کو قائم کرتی رہے گی جو ان کو رسواء کرنا چاہے گا یا مخالفت کرے گا تو ان کا کچھ بھی نقصان نہ کرسکے گا اور وہ لوگوں پر غالب رہیں گے۔
It his been narrated on the authority of Umair bin Umm Hani who said: I heard Muawiyah say (while delivering a sermon from the pulpit) that he heard the Messenger of Allah ﷺ say: A group of people from my Umma will continue to obey Allahs Command, and those who desert or oppose them shall not be able to do them any harm. They will be dominating the peeple until Allahs Command is executed (i. e. Resurrection is established).
رسول اللہ ﷺ کے فرمان میری امت کی ایک جماعت ہمیشہ حق پر قائم رہے گی اور انہیں کسی کی مخالفت کوئی نقصان نہیں پہنچائے گی۔
و حَدَّثَنِي إِسْحَقُ بْنُ مَنْصُورٍ أَخْبَرَنَا کَثِيرُ بْنُ هِشَامٍ حَدَّثَنَا جَعْفَرٌ وَهُوَ ابْنُ بُرْقَانَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ الْأَصَمِّ قَالَ سَمِعْتُ مُعَاوِيَةَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ ذَکَرَ حَدِيثًا رَوَاهُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ أَسْمَعْهُ رَوَی عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَی مِنْبَرِهِ حَدِيثًا غَيْرَهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ يُرِدْ اللَّهُ بِهِ خَيْرًا يُفَقِّهْهُ فِي الدِّينِ وَلَا تَزَالُ عِصَابَةٌ مِنْ الْمُسْلِمِينَ يُقَاتِلُونَ عَلَی الْحَقِّ ظَاهِرِينَ عَلَی مَنْ نَاوَأَهُمْ إِلَی يَوْمِ الْقِيَامَةِ
اسحاق بن منصور، کثیر بن ہشام، جعفر ابن برقان، یزید بن اصم، معاویہ بن ابی سفیان، حضرت یزید بن اصم (رح) سے روایت ہے کہ میں نے حضرت معاویہ ؓ بن ابوسفیاں سے ایک حدیث سنی جسے انہوں نے نبی ﷺ سے یہ حدیث منبر پر روایت کرتے نہیں سنا نبی ﷺ نے فرمایا اللہ جس کے ساتھ بھلائی کا ارادہ فرماتا ہے تو اسے دین میں سمجھ عطا کرتا ہے اور مسلمانوں میں سے ایک جماعت ہمیشہ حق بات پر جہاد کرتی رہے گی اور اپنے مخالفین پر قیامت تک غالب رہے گی۔
It has been related by, Yazid bin al-Asamm that he heard Muawiyah bin Abu Sfyan quote a tradition from the Holy Prophet ﷺ which he related from the Prophet ﷺ (mail peace be upon him) -and he did not hear him quote from the Holy Prophet ﷺ (masy peace be upon him) any tradition other than this in the course of his sermon from the pulpit-that whom Allah wants to do a favour, He grants him an understanding of religion. A group of people from the Muslims will remain on the Right Path and continue until the Day of Judgment to triumph over those who oppose them.
رسول اللہ ﷺ کے فرمان میری امت کی ایک جماعت ہمیشہ حق پر قائم رہے گی اور انہیں کسی کی مخالفت کوئی نقصان نہیں پہنچائے گی۔
حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ وَهْبٍ حَدَّثَنَا عَمِّي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ شِمَاسَةَ الْمَهْرِيُّ قَالَ کُنْتُ عِنْدَ مَسْلَمَةَ بْنِ مُخَلَّدٍ وَعِنْدَهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ لَا تَقُومُ السَّاعَةُ إِلَّا عَلَی شِرَارِ الْخَلْقِ هُمْ شَرٌّ مِنْ أَهْلِ الْجَاهِلِيَّةِ لَا يَدْعُونَ اللَّهَ بِشَيْئٍ إِلَّا رَدَّهُ عَلَيْهِمْ فَبَيْنَمَا هُمْ عَلَی ذَلِکَ أَقْبَلَ عُقْبَةُ بْنُ عَامِرٍ فَقَالَ لَهُ مَسْلَمَةُ يَا عُقْبَةُ اسْمَعْ مَا يَقُولُ عَبْدُ اللَّهِ فَقَالَ عُقْبَةُ هُوَ أَعْلَمُ وَأَمَّا أَنَا فَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَا تَزَالُ عِصَابَةٌ مِنْ أُمَّتِي يُقَاتِلُونَ عَلَی أَمْرِ اللَّهِ قَاهِرِينَ لِعَدُوِّهِمْ لَا يَضُرُّهُمْ مَنْ خَالَفَهُمْ حَتَّی تَأْتِيَهُمْ السَّاعَةُ وَهُمْ عَلَی ذَلِکَ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ أَجَلْ ثُمَّ يَبْعَثُ اللَّهُ رِيحًا کَرِيحِ الْمِسْکِ مَسُّهَا مَسُّ الْحَرِيرِ فَلَا تَتْرُکُ نَفْسًا فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ حَبَّةٍ مِنْ الْإِيمَانِ إِلَّا قَبَضَتْهُ ثُمَّ يَبْقَی شِرَارُ النَّاسِ عَلَيْهِمْ تَقُومُ السَّاعَةُ
احمد بن عبدالرحمن، ابن وہب، عبداللہ بن وہب، عمرو بن حارث، یزید بن ابی حبیب، عبدالرحمن بن شماسہ مہری، مسلمہ، مخلد، عبداللہ بن عمرو بن عاص، عبداللہ، حضرت عبدالرحمن بن شماسہ مہری (رح) سے روایت ہے کہ میں مسلمہ بن مخلد کے پاس تھا اور ان کے پاس عبداللہ بن عمرو بن عاص تشریف فرما تھے تو عبداللہ نے کہا قیامت مخلوق میں ان برے لوگوں پر قائم ہوگی جو اہل جاہلیت سے زیادہ برے ہوں گے وہ اللہ سے جس چیز کا بھی سوال کریں گے تو ان کی دعا رد کردی جائے گی اسی دوران ان کے پاس حضرت عقبہ بن عامر بھی تشریف لے آئے تو مسلمہ نے کہا اے عقبہ سنو عبداللہ کیا کہتے ہیں تو عقبہ نے کہا وہ بہتر جاننے والے ہیں اور بہرحال میں نے تو رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا میری امت میں سے ایک جماعت ہمیشہ اللہ کے حکم کی خاطر لڑتی رہے گی اور اپنے دشمنوں پر غلبہ حاصل رکھے گی جو ان کی مخالفت کرے گا وہ انہیں کچھ نقصان نہ پہنچا سکے گا یہاں تک کہ اسی حالت میں قیامت واقع ہوجائے گی تو عبداللہ نے کہا اسی طرح ہی ہے پھر اللہ تعالیٰ مشک کی خوشبو کی طرح کی ہوا بھیجے گا اور اس کا چھونا ریشم کے چھونے کی طرح ہوگا تو یہ ہوا قبض کئے بغیر کسی ایسی روح کو نہ چھوڑے جس کے دل میں رائی کے دانہ کے برابر ایمان ہوگا پھر بدترین لوگ باقی رہ جائیں گے جن پر قیامت قائم ہوگی۔
It has bIt has been narrated on the authority of Abdul Rahman bin Shamasa al- Mahri who said: I was in the company of Maslama bin Mukhallad, and Abdullah bin Amr bin As was with him. Abdullah said: The Hour shall some oniy when the worst type of people are left on the earth. They will be worse than the people of pre-Islamic days. They will get whatever they ask of Allah. While we were yet sitting when Uqba bin Amir came, and Maslama said to him: Uqba, listen to what Abdullah says. Uqba said: He knows better; so far as I am concerned, I heard the Messenger of Allah ﷺ say: A group of people from my Umma will continue to fight in obedience to the Command of Allah, remaining dominant over their enemies. Those who will oppose them shall not do them any harm. They will remain ill this condition until the Hour overtakes them. (At this) Abdullah said: Yes. Then Allah will raise a wild which will be fragrant like musk and whose touch will be like the touch of silk; (but) it will cause the death of all (faithful) persons, not leaving behind a single person with an iota of faith in his heart. Then only the worst of men will remain to be overwhelmed by the Hour.een related by, Yazid bin al-Asamm that he heard Muawiyah bin Abu Sfyan quote a tradition from the Holy Prophet ﷺ which he related from the Prophet ﷺ (mail peace be upon him) -and he did not hear him quote from the Holy Prophet ﷺ (masy peace be upon him) any tradition other than this in the course of his sermon from the pulpit-that whom Allah wants to do a favour, He grants him an understanding of religion. A group of people from the Muslims will remain on the Right Path and continue until the Day of Judgment to triumph over those who oppose them.
رسول اللہ ﷺ کے فرمان میری امت کی ایک جماعت ہمیشہ حق پر قائم رہے گی اور انہیں کسی کی مخالفت کوئی نقصان نہیں پہنچائے گی۔
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ عَنْ أَبِي عُثْمَانَ عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَزَالُ أَهْلُ الْغَرْبِ ظَاهِرِينَ عَلَی الْحَقِّ حَتَّی تَقُومَ السَّاعَةُ
یحییٰ بن یحیی، ہشیم، داؤد بن ابی ہند، ابی عثمان، سعد بن ابی وقاص، حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اہل غرب ہمیشہ حق پر غالب رہیں گے یہاں تک کہ قیامت قائم ہوجائے گی۔
It has been narrated by Sad bin Abu Waqqas that the Messenger of Allah ﷺ said: The people of the West will continue to triumphantly follow the truth until the Hour is established.
سفر میں جانوروں کی رعایت کرنے کے حکم اور راستہ میں اخیر شب کو پڑاؤ ڈالنے کی ممانعت کے بیان میں
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ سُهَيْلٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا سَافَرْتُمْ فِي الْخِصْبِ فَأَعْطُوا الْإِبِلَ حَظَّهَا مِنْ الْأَرْضِ وَإِذَا سَافَرْتُمْ فِي السَّنَةِ فَأَسْرِعُوا عَلَيْهَا السَّيْرَ وَإِذَا عَرَّسْتُمْ بِاللَّيْلِ فَاجْتَنِبُوا الطَّرِيقَ فَإِنَّهَا مَأْوَی الْهَوَامِّ بِاللَّيْلِ
زہیر بن حرب، جریر، سہیل، ابوہریرہ، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جب تم سبزہ والی زمین میں سفر کرو تو اونٹوں کو انکا حصہ دو اور جب تم خشک سالی میں سفر کرو تو جلدی جلدی چلو اور جب تم اخیر رات میں پڑاؤ ڈالو تو راستہ میں سے پرہیز کرو کیونکہ رات کے وقت وہ جگہ کیڑوں مکوڑوں کا ٹھکانہ ہوتی ہے۔
It has been narrated on the authority of Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: When you journey through a fertile land, you should (go slow and) give the camels a chance to graze in the land. When you travel In an arid (land) where there is scarcity of vegetation, you should quicken their pace (lest your camels grow feeble and emaciated for lack of fodder). When you halt for the night, avoid (pitching your tent on) the road, for it is the abode of noxious little animals at night.
سفر میں جانوروں کی رعایت کرنے کے حکم اور راستہ میں اخیر شب کو پڑاؤ ڈالنے کی ممانعت کے بیان میں
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ عَنْ سُهَيْلٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا سَافَرْتُمْ فِي الْخِصْبِ فَأَعْطُوا الْإِبِلَ حَظَّهَا مِنْ الْأَرْضِ وَإِذَا سَافَرْتُمْ فِي السَّنَةِ فَبَادِرُوا بِهَا نِقْيَهَا وَإِذَا عَرَّسْتُمْ فَاجْتَنِبُوا الطَّرِيقَ فَإِنَّهَا طُرُقُ الدَّوَابِّ وَمَأْوَی الْهَوَامِّ بِاللَّيْلِ
قتیبہ بن سعید، عبدالعزیز ابن محمد، سہیل، ابوہریرہ، حضرت ابوہریرہ ؓ روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب تم سبزہ والی زمین میں سفر کرو تو اونٹوں کو ان کا حصہ دو اور جب تم خشک سالی میں سفر کرو تو جلدی جلدی چلو اونٹوں کے کمزور ہوجانے کی وجہ سے اور جب تم رات کے اخیر میں پڑاؤ ڈالو تو راستہ سے ہٹ کر رکو کیونکہ وہ رات کے وقت جانوروں کے راستے اور کیڑوں مکوڑوں کے ٹھہرنے کی جگہ ہوتی ہے۔
It has been narrated (through another chain of transmitters) on the authority of Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: When you travel (through a land) where there is plenty of vegetation, you should (go slow and) give the camels a chance to enjoy the benefit of the earth. When you travel (through a land) where there is scarcity of vegetation, you should hasten with them (so that you may be able to cross that land while your animals ore still in a good condition of health). When you make a halt for the night, avoid (doing so on) the road, for the tracks are the pathways of wild beasts or the abode of noxious little animals.