Sahih Muslim 4959

امارت اور خلافت کا بیان

4959Sahih Muslim

سفر میں جانوروں کی رعایت کرنے کے حکم اور راستہ میں اخیر شب کو پڑاؤ ڈالنے کی ممانعت کے بیان میں

حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ سُهَيْلٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا سَافَرْتُمْ فِي الْخِصْبِ فَأَعْطُوا الْإِبِلَ حَظَّهَا مِنْ الْأَرْضِ وَإِذَا سَافَرْتُمْ فِي السَّنَةِ فَأَسْرِعُوا عَلَيْهَا السَّيْرَ وَإِذَا عَرَّسْتُمْ بِاللَّيْلِ فَاجْتَنِبُوا الطَّرِيقَ فَإِنَّهَا مَأْوَی الْهَوَامِّ بِاللَّيْلِ

زہیر بن حرب، جریر، سہیل، ابوہریرہ، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جب تم سبزہ والی زمین میں سفر کرو تو اونٹوں کو انکا حصہ دو اور جب تم خشک سالی میں سفر کرو تو جلدی جلدی چلو اور جب تم اخیر رات میں پڑاؤ ڈالو تو راستہ میں سے پرہیز کرو کیونکہ رات کے وقت وہ جگہ کیڑوں مکوڑوں کا ٹھکانہ ہوتی ہے۔

It has been narrated on the authority of Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: When you journey through a fertile land, you should (go slow and) give the camels a chance to graze in the land. When you travel In an arid (land) where there is scarcity of vegetation, you should quicken their pace (lest your camels grow feeble and emaciated for lack of fodder). When you halt for the night, avoid (pitching your tent on) the road, for it is the abode of noxious little animals at night.