ام المؤمنین عائشہ ؓ نبی اکرم ﷺ سے روایت کرتی ہیں کہ آپ نے فرمایا: جو شخص قرآن پڑھتا ہو اور اس میں ماہر ہو تو وہ بڑی عزت والے فرشتوں اور پیغمبروں کے ساتھ ہوگا اور جو شخص اٹک اٹک کر پریشانی کے ساتھ پڑھے تو اسے دہرا ثواب ملے گا ۔
Aishah reported the Prophet ﷺ as saying: One who is skilled in the Quran is associated with the noble, upright recording angels, and he who falters when he recites the Quran and finds it difficult for him will have a double reward.
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/تفسیر القرآن ٧٩ (٤٩٣٧)، صحیح مسلم/المسافرین ٣٨ (٧٩٨)، سنن الترمذی/فضائل القرآن ١٣ (٢٩٠٤)، ن الکبری / فضائل القرآن (٨٠٤٥، ٨٠٤٦)، سنن ابن ماجہ/الأدب ٥٢ (٣٧٧٩)، (تحفة الأشراف: ١٦١٠٢)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٤٨، ٩٤، ٩٨، ١١٠، ١٧٠، ١٩٢، ٢٣٩، ٢٦٦)، سنن الدارمی/فضائل القرآن ١١ (٣٤١١) (صحیح )
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جو بھی قوم (جماعت) اللہ کے گھروں یعنی مساجد میں سے کسی گھر یعنی مسجد میں جمع ہو کر کتاب اللہ کی تلاوت کرتی اور باہم اسے پڑھتی پڑھاتی ہے اس پر سکینت نازل ہوتی ہے، اسے اللہ کی رحمت ڈھانپ لیتی ہے، فرشتے اسے گھیرے میں لے لیتے ہیں اور اللہ تعالیٰ اس کا ذکر ان لوگوں میں کرتا ہے، جو اس کے پاس رہتے ہیں یعنی مقربین ملائکہ میں ۔
Abu Hurairah reported the Prophet ﷺ as saying: No people get together in a house of the houses of Allah (i. e. a mosque), reciting the Book of Allah, and learning it together among themselves, but calmness (sakinah) comes down to them, (Divine) mercy covers them (from above), and the angels surround them, and Allah makes a mention of them among those who are with Him.
عقبہ بن عامر جہنی ؓ کہتے ہیں کہ ایک دن رسول اللہ ﷺ ہمارے پاس آئے ہم صفہ (چبوترے) پر تھے، آپ ﷺ نے فرمایا: تم میں سے کون یہ پسند کرتا ہے کہ صبح کو بطحان یا عقیق جائے، پھر بڑی کوہان والے موٹے تازے دو اونٹ بغیر کوئی گناہ یا قطع رحمی کئے لے کر آئے؟ ، صحابہ نے کہا: اللہ کے رسول! ہم میں سے سبھوں کی یہ خواہش ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: تو تم میں سے کوئی اگر روزانہ صبح کو مسجد جائے اور قرآن مجید کی دو آیتیں سیکھے تو یہ اس کے لیے ان دو اونٹنیوں سے بہتر ہے اور اسی طرح سے تین آیات سیکھے تو تین اونٹنیوں سے بہتر ہے ۔
Uqbah bin Amir al-Juhani said: When we were in the Suffah, the Messenger of Allah ﷺ asked: Which of you would like to go out every morning to Buthan or Al-Aqiq and bring two large humped and fat she-camels without being guilty of sin and severing ties of relationship ? They (the people) said: Messenger of Allah, we would all like that. He said: If any one of you goes out in the morning to the mosque and learns two verses of the Book of Allah, the Exalted, it is better for him than two she-camels, and three verses are better for him than three she-camels, and so on than their numbers in camels.
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/المسافرین ٤١ (٨٠٣)، (تحفة الأشراف: ٩٩٤٢)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/١٥٤) (صحیح )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: الحمد لله رب العالمين ام القرآن اور ام الکتاب ہے اور سبع مثانی ١ ؎ ہے۔
Abu Hurairah reported the Messenger of Allah ﷺ as saying: All praise be to Allah, the Lord of the Universe (1) is the epitome or basis of the Quran, the epitome or basis of the Book, and the seven oft-repeated verses.
Notes · وضاحت
١ ؎: سبع اس لئے کہ اس میں سات آیتیں ہیں اور مثانی اس لئے کہ وہ ہر نماز میں دہرائی جاتی ہیں۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/تفسیر القرآن ٣ (٤٧٠٤)، سنن الترمذی/فضائل القرآن ١ (٢٨٢٥)، و تفسیر القرآن ١٦ (٣١٢٤)، (تحفة الأشراف: ١٣٠١٤)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/الافتتاح ٢٦ (٩١٥)، مسند احمد (٢/٤٤٨)، سنن الدارمی/فضائل القرآن ١٢ (٣٤١٧) (صحیح )
ابوسعید بن معلی ؓ سے کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کا گزر ان کے پاس سے ہوا وہ نماز پڑھ رہے تھے، تو آپ نے انہیں بلایا، میں (نماز پڑھ کر) آپ کے پاس آیا، تو آپ ﷺ نے پوچھا: تم نے مجھے جواب کیوں نہیں دیا؟ ، عرض کیا: میں نماز پڑھ رہا تھا، آپ ﷺ نے فرمایا: کیا اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا: اے مومنو! جواب دو اللہ اور اس کے رسول کو، جب رسول اللہ تمہیں ایسے کام کے لیے بلائیں، جس میں تمہاری زندگی ہے میں تمہیں قرآن کی سب سے بڑی سورة سکھاؤں گا اس سے پہلے کہ میں مسجد سے نکلوں ، (جب آپ ﷺ مسجد سے نکلنے لگے) تو میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ابھی آپ نے کیا فرمایا تھا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: وہ سورة الحمد لله رب العالمين ہے اور یہی سبع مثانی ہے جو مجھے دی گئی ہے اور قرآن عظیم ہے ۔
Abu Saeed bin al-Mualla said that when he was praying the Prophet ﷺ passed by him and he called him. He said: I prayed ant then I came to him. He asked: What prevented you from answering me ? He replied: I was praying. He said: Has not Allah said: O you who believe, respond to Allah and the Messenger when he calls you to that which gives you life ? (8: 24) Let me teach you the greatest surah from the Quran or in the Quran (the narrator Khalid doubted) before I leave the mosque. I said: (I shall memorize) your saying. He said: It is: Praise be to Allah, the Lord of the Universe which is the seven oft-repeated verses, and the mighty Quran.
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/تفسیر الفاتحة ١ (٤٤٧٤)، و تفسیر الأنفال ٣ (٤٦٤٨)، و تفسیر الحجر ٣ (٤٧٠٣)، و فضائل القرآن ٩ (٥٠٠٦)، سنن النسائی/الافتتاح ٢٦ (٩١٤)، سنن ابن ماجہ/الأدب ٥٢ (٣٧٨٥)، (تحفة الأشراف: ١٢٠٤٧)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الصلاة ٧ (٣٧)، مسند احمد (٣/٤٥٠، ٤/٢١١)، سنن الدارمی/الصلاةٔ ١٧٢ (١٥٣٣)، و فضائل القرآن ١٢ (٣٤١٤) (صحیح )
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کو سات لمبی سورتیں دی گئیں ہیں ١ ؎ اور موسیٰ (علیہ السلام) کو چھ دی گئی تھیں، جب انہوں نے تختیاں (جن پر تورات لکھی ہوئی تھی) زمین پر ڈال دیں تو دو آیتیں اٹھا لی گئیں اور چار باقی رہ گئیں۔
Narrated Abdullah ibn Abbas (RA) : The Messenger of Allah ﷺ was given seven repeated long surahs, while Moses was given six, When he threw the tablets, two of them were withdrawn and four remained.
Notes · وضاحت
١ ؎: معنی کے اعتبار سے لمبی ہیں ورنہ ان کے الفاظ مختصر ہیں۔
ابی بن کعب ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اے ابومنذر! ١ ؎ کتاب اللہ کی کون سی آیت تمہارے نزدیک سب سے باعظمت ٢ ؎ ہے؟ ، میں نے عرض کیا: اللہ اور اس کے رسول زیادہ جانتے ہیں، آپ ﷺ نے پھر فرمایا: ابومنذر! کتاب اللہ کی کون سی آیت تمہارے نزدیک سب سے بڑی ہے؟ ، میں نے عرض کیا: الله لا إله إلا هو الحي القيوم ، تو آپ ﷺ نے میرے سینے کو تھپتھپایا اور فرمایا: اے ابومنذر! تمہیں علم مبارک ہو ۔
Ubayy bin Kab said: The Messenger of Allah ﷺ said: Abu al-Mundhir, which verse of Allahs Book that you have is creates ? I replied: Allah and His Messenger know best. He said: Abu al-Mundhir, which verse of Allahs that you have is greatest ? I said: Allah, there is no god but He, the Living, the Eternal. Thereupon he struck me on the beast and said: May knowledge be pleasant for you, Abu al-Mundhir.
Notes · وضاحت
١ ؎: ابی بن کعب ؓ کی کنیت ہے۔ ٢ ؎: باعظمت سے مراد الفاظ کی کثرت ہے اور ایک قول یہ ہے کہ اس سے معانی کی عظمت مراد ہے یعنی اس آیت کے معنی بہت عظیم ہیں نیز ایک قول یہ بھی ہے کہ اس سے درجہ کی بڑائی مراد ہے یعنی اس آیت کا درجہ بڑا ہے کیونکہ اس میں اللہ کی عظمت، اس کی وحدانیت اور اس کی صفات کاملہ کا ذکر ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/المسافرین ٤٤ (٨١٠)، (تحفة الأشراف: ٣٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/١٤١) (صحیح )
ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے دوسرے شخص کو قل هو الله أحد باربار پڑھتے سنا، جب صبح ہوئی تو وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور آپ سے اس کا تذکرہ کیا، گویا وہ اس سورت کو کمتر سمجھ رہا تھا، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، یہ (سورۃ) ایک تہائی قرآن کے برابر ہے ۔
Abu Saeed al-Khudri said: A man heard another man reciting Say, He is Allah, One He was repeating it. When the next morning came, he went to the Messenger of Allah ﷺ and mentioned to him. The man tool it (this surah) as a small one. The Prophet ﷺ said: By Him in Whose Hand is my life, it is equivalent to a third of the Quran.
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/فضائل القرآن ١٣ (٥٠١٣)، والأیمان والنذور ٣ (٦٦٤٣)، والتوحید ١ (٧٣٧٤)، سنن النسائی/الافتتاح ٦٩ (٩٩٦)، وعمل الیوم واللیلة ٢٠٤ (٦٩٨)، (تحفة الأشراف: ٤١٠٤)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/القرآن ٦ (١٧)، مسند احمد (٣/٣٥، ٤٣) (صحیح )
عقبہ بن عامر ؓ کہتے ہیں کہ میں ایک سفر میں رسول اللہ ﷺ کے اونٹ کی نکیل پکڑ کر چل رہا تھا، آپ نے فرمایا: عقبہ! کیا میں تمہیں دو بہترین سورتیں نہ سکھاؤں؟ ، پھر آپ ﷺ نے مجھے قل أعوذ برب الفلق اور قل أعوذ برب الناس سکھائیں، لیکن آپ ﷺ نے مجھے ان دونوں (کے سیکھنے) سے بہت زیادہ خوش ہوتے نہ پایا، چناچہ جب آپ ﷺ فجر کے لیے (سواری سے) اترے تو لوگوں کو نماز پڑھائی اور یہی دونوں سورتیں پڑھیں، پھر جب نماز سے فارغ ہوئے تو میری طرف متوجہ ہو کر فرمایا: عقبہ! تم نے انہیں کیا سمجھا ہے ١ ؎۔
Narrated Uqbah ibn Amir: I was driving the she-camel of the Messenger of Allah ﷺ during a journey. He said to me: Uqbah, should I not teach you two best surahs ever recited? He then taught me: Say, I seek refuge in the Lord of the dawn, and Say, I seek refuge in the Lord of men. He did not see me much pleased (by these two surahs). When he alighted for prayer, he led the people in the morning prayer and recited them in prayer. When the Messenger of Allah ﷺ finished his prayer, he turned to me and said: O Uqbah, how did you see.
Notes · وضاحت
١ ؎: انہیں معمولی اور حقیر سمجھ رہے ہو، حالانکہ یہ بڑے کام کی ہیں، نبی اکرم ﷺ بلاؤں اور جادو سے نجات پانے کے لئے یہ سورتیں پڑھتے تھے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابوداود، (تحفة الأشراف: ٩٩٤٦)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/المسافرین ٤٦ (٨١٤)، سنن الترمذی/فضائل القرآن ١٢ (٢٩٠٢)، قیام اللیل (١٣٣٧)، ن الکبری/الاستعاذة (٧٨٤٨)، مسند احمد (٤/١٤٤، ١٤٩، ١٥١، ١٥٣)، سنن الدارمی/فضائل القرآن ٢٤ (٣٤٨٢) (صحیح )
عقبہ بن عامر ؓ کہتے ہیں کہ میں حجفہ اور ابواء کے درمیان رسول اللہ ﷺ کے ساتھ چل رہا تھا کہ اسی دوران اچانک ہمیں تیز آندھی اور شدید تاریکی نے ڈھانپ لیا تو رسول اللہ ﷺ قل أعوذ برب الفلق اور قل أعوذ برب الناس پڑھنے لگے، آپ ﷺ فرما رہے تھے: اے عقبہ! تم بھی ان دونوں کو پڑھ کر پناہ مانگو، اس لیے کہ ان جیسی سورتوں کے ذریعہ پناہ مانگنے والے کی طرح کسی پناہ مانگنے والے نے پناہ نہیں مانگی ۔ عقبہ کہتے ہیں: میں نے آپ ﷺ کو سنا آپ انہیں دونوں کے ذریعہ ہماری امامت فرما رہے تھے۔
Narrated Uqbah ibn Amir: White I was travelling with the Messenger of Allah ﷺ between al-Juhfah and al-Abwa, a wind and intense darkness enveloped us, whereupon the Messenger of Allah ﷺ began to seek refuge in Allah, reciting: I seek refuge in the Lord of the dawn, and I seek refuge in the Lord of men. He then said: Uqbah, use them when seeking refuge in Allah, for no one can use anything to compare with them for the purpose. Uqbah added: I heard him reciting them when he led the people in prayer.
عبداللہ بن عمرو ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: صاحب قرآن (حافظ قرآن یا ناظرہ خواں) سے کہا جائے گا: پڑھتے جاؤ اور چڑھتے جاؤ اور عمدگی کے ساتھ ٹھہر ٹھہر کر پڑھو جیسا کہ تم دنیا میں عمدگی سے پڑھتے تھے، تمہاری منزل وہاں ہے، جہاں تم آخری آیت پڑھ کر قرآت ختم کرو گے ٢ ؎۔
Narrated Abdullah ibn Amr ibn al-As: The Messenger of Allah ﷺ said: One who was devoted to the Quran will be told to recite, ascend and recite carefully as he recited carefully when he was in the world, for he will reach his abode when he comes to the last verse he recites.
Notes · وضاحت
وضاحت: قواعد تجوید کی رعایت کرتے ہوئے قرآن مجید کو ٹھہر ٹھہر کر پڑھنے کا نام ترتیل ہے۔ ٢ ؎: یعنی ایک آیت پڑھ کر ایک درجہ طے کرو گے پھر دوسری آیت سے دوسرا درجہ، اسی طرح جتنی آیتیں پڑھتے جاؤ گے اتنے درجے اور مراتب اوپر اٹھتے چلے جاؤ گے جہاں آخری آیت پڑھو گے وہیں تمہارا مقام ہوگا۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/فضائل القرآن ١٨ (٢٩١٤)، ن الکبری / فضائل القرآن (٨٠٥٦)، (تحفة الأشراف: ٨٦٢٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/١٩٢) (حسن صحیح )
یعلیٰ بن مملک سے روایت ہے کہ انہوں نے ام سلمہ ؓ سے رسول اللہ ﷺ کی قرآت اور نماز کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: تم کہاں اور آپ ﷺ کی نماز کہاں؟ آپ نماز پڑھتے اور جتنی دیر پڑھتے اتنا ہی سوتے، پھر جتنا سو لیتے اتنی دیر نماز پڑھتے، پھر جتنی دیر نماز پڑھتے اتنی دیر سوتے یہاں تک کہ صبح ہوجاتی، پھر ام سلمہ نے آپ ﷺ کی قرآت بیان کی تو دیکھا کہ وہ ایک ایک حرف الگ الگ پڑھ رہی تھیں۔
Narrated Umm Salamah, Ummul Muminin (RA) : Yala ibn Mumallak said that he asked Umm Salamah about the recitation and prayer of the Messenger of Allah ﷺ . She said: What have you to do with his prayer? He would pray, then sleep as long as he had prayed, till morning. She then described his recitation and did so with an exposition word by word.
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/فضائل القرآن ٢٣ (٢٩٢٣)، سنن النسائی/الافتتاح ٨٣(١٠٢٣)، (تحفة الأشراف: ١٨٢٢٦)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٢٩٤، ٢٩٧، ٣٠٠، ٣٠٨) (ضعیف) (اس کے راوی یعلی لین الحدیث ہیں )
عبداللہ بن مغفل ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فتح مکہ کے روز ایک اونٹنی پر سوار دیکھا، آپ سورة الفتح پڑھ رہے تھے اور (ایک ایک آیت) کئی بار دہرا رہے تھے۔
Abdullah bin Mughaffal said: On the day of the Conquest of Makkah I saw the Messenger of Allah ﷺ riding his she-camel reciting Surah al-Fath repeating each verse several times.
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/المغازي ٤٨ (٤٢٨١)، صحیح مسلم/المسافرین ٣٥ (٧٩٤)، ت الشمائل (٣٩١)، ن الکبری/فضائل القرآن (٨٠٥٥)، (تحفة الأشراف: ٩٦٦٦)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٨٥) (صحیح )
براء بن عازب ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: قرآن کو اپنی آواز سے زینت دو ١ ؎۔
Narrated Al-Bara ibn Azib: The Prophet ﷺ said: Beautify the Quran with your voices.
Notes · وضاحت
١ ؎: خطابی وغیرہ نے اس کا ایک مفہوم یہ بتایا ہے کہ قرآن کے ذریعہ اپنی آواز کو زینت دو، یعنی اپنی آوازوں کو قرآن کی تلاوت میں مشغول رکھو، اس مفہوم کی تائید اس روایت سے ہوتی ہے جس میں زينوا أصواتکم بالقرآن کے الفاظ ہیں۔
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الافتتاح ٨٣ (١٠١٦)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ١٧٦ (١٣٤٢)، (تحفة الأشراف: ١٧٧٥)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/التوحید ٥٢، تعلیقاً، مسند احمد (٤/٢٨٣، ٢٨٥، ٢٩٦، ٣٠٤)، سنن الدارمی/فضائل القرآن ٣٤ (٣٥٤٤) (صحیح )
سعد بن ابی وقاص ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص قرآن خوش الحانی سے نہ پڑھے، وہ ہم میں سے نہیں ١ ؎۔
Narrated Saad ibn Abu Waqqas (RA) : (The narrator Qutaibah said: This tradition has been narrated by Saeed bin Abu Saeed in my collection): The Messenger of Allah ﷺ said: He who does not chant the Quran is not one of us.
Notes · وضاحت
١ ؎: امام خطابی نے اس کے تین معانی بیان کئے ہیں: ایک یہی ترتیل اور حسن آواز، دوسرے: قرآن کے ذریعہ دیگر کتب سے استغناء (دیکھئے نمبر: ١٤٧٢)، تیسرے: عربوں میں رائج سواری پر حدی خوانی کے بدلے قرآن کی تلاوت۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ٣٩٠٥، ١٨٦٩٠)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/١٧٢، ١٧٥، ١٧٩)، سنن الدارمی/فضائل القرآن ٣٤ (٣٥٣١) (صحیح )
عبیداللہ بن ابی یزید کہتے ہیں ہمارے پاس سے ابولبابہ ؓ کا گزر ہوا تو ہم ان کے پیچھے ہو لیے یہاں تک کہ وہ اپنے گھر کے اندر داخل ہوگئے تو ہم بھی داخل ہوگئے تو دیکھا کہ ایک شخص بیٹھا ہوا ہے۔ بوسیدہ سا گھر ہے اور وہ بھی خستہ حال ہے، میں نے سنا: وہ کہہ رہا تھا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو کہتے ہوئے سنا ہے: جو قرآن کو خوش الحانی سے نہ پڑھے وہ ہم میں سے نہیں ہے ۔ عبدالجبار کہتے ہیں: میں نے ابن ابی ملیکہ سے کہا: اے ابو محمد! اگر کسی کی آواز اچھی نہ ہو تو کیا کرے؟ انہوں نے جواب دیا: جہاں تک ہو سکے اسے اچھی بنائے۔
Narrated AbuLubabah (RA) : Ubaydullah ibn Yazid said: AbuLubabah passed by us and we followed him till he entered his house, and we also entered it. There was a man in a rusty house and in shabby condition. I heard him say: I heard the Messenger of Allah ﷺ say: He is not one of us who does not chant the Quran. I (the narrator AbdulJabbar) said to Ibn Abu Mulaykah (RA) : Abu Muhammad, what do you think if a person does not have pleasant voice? He said: He should recite with pleasant voice as much as possible.
محمد بن سلیمان انباری کا بیان ہے، وہ کہتے ہیں وکیع اور ابن عیینہ نے کہا ہے کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ قرآن کے ذریعہ (دیگر کتب یا ادیان سے) بےنیاز ہوجائے۔
Waki and Ibn Uyainah said (explaining the meaning of taghanni): This means that the Quran makes a man neglect all other things, and be content with it.
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کسی کی اتنی نہیں سنتا جتنی ایک خوش الحان رسول کی سنتا ہے جب کہ وہ قرآن کو خوش الحانی سے بلند آواز سے پڑھ رہا ہو ۔
Abu Hurairah reported the Messenger of Allah ﷺ as saying: Allah has not listened to anything as He does to a Prophet chanting the Quran with a loud voice.
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/فضائل القرآن ١٩ (٥٠٢٤)، والتوحید ٣٢ (٧٤٨٢)، ٥٢ (٧٥٤٤)، صحیح مسلم/المسافرین ٣٤ (٧٩٢)، سنن النسائی/الافتتاح ٨٣ (١٠١٨)، (تحفة الأشراف: ١٤٩٩٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٢٧١، ٢٨٥، ٤٥٠)، سنن الدارمی/الصلاة ١٧١ (١٥٢٩)، و فضائل القرآن ٣٣ (٣٥٤٠) (صحیح )