Sunan Abu Dawood 1471

نماز کا بیان

1471Sunan Abu Dawood

قرائت میں کس طرح سے ترتیل کرنا مستحب ہے

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْوَرْدِ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ أَبِي مُلَيْكَةَ، يَقُولُ: قَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي يَزِيدَ: مَرَّ بِنَا أَبُو لُبَابَةَ فَاتَّبَعْنَاهُ حَتَّى دَخَلَ بَيْتَهُ، فَدَخَلْنَا عَلَيْهِ، فَإِذَا رَجُلٌ رَثُّ الْبَيْتِ رَثُّ الْهَيْئَةِ، فَسَمِعْتُهُ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: لَيْسَ مِنَّا مَنْ لَمْ يَتَغَنَّ بِالْقُرْآنِ، قَالَ: فَقُلْتُ لِابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ: يَا أَبَا مُحَمَّدٍ، أَرَأَيْتَ إِذَا لَمْ يَكُنْ حَسَنَ الصَّوْتِ ؟ قَالَ: يُحَسِّنُهُ مَا اسْتَطَاعَ.

عبیداللہ بن ابی یزید کہتے ہیں ہمارے پاس سے ابولبابہ ؓ کا گزر ہوا تو ہم ان کے پیچھے ہو لیے یہاں تک کہ وہ اپنے گھر کے اندر داخل ہوگئے تو ہم بھی داخل ہوگئے تو دیکھا کہ ایک شخص بیٹھا ہوا ہے۔ بوسیدہ سا گھر ہے اور وہ بھی خستہ حال ہے، میں نے سنا: وہ کہہ رہا تھا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو کہتے ہوئے سنا ہے: جو قرآن کو خوش الحانی سے نہ پڑھے وہ ہم میں سے نہیں ہے ۔ عبدالجبار کہتے ہیں: میں نے ابن ابی ملیکہ سے کہا: اے ابو محمد! اگر کسی کی آواز اچھی نہ ہو تو کیا کرے؟ انہوں نے جواب دیا: جہاں تک ہو سکے اسے اچھی بنائے۔

Narrated AbuLubabah (RA) : Ubaydullah ibn Yazid said: AbuLubabah passed by us and we followed him till he entered his house, and we also entered it. There was a man in a rusty house and in shabby condition. I heard him say: I heard the Messenger of Allah ﷺ say: He is not one of us who does not chant the Quran. I (the narrator AbdulJabbar) said to Ibn Abu Mulaykah (RA) : Abu Muhammad, what do you think if a person does not have pleasant voice? He said: He should recite with pleasant voice as much as possible.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ٣٩٠٥) (حسن صحیح )