براء بن عازب ؓ کہتے ہیں کہ میں اپنے چچا سے ملا ان کے ساتھ ایک جھنڈا تھا میں نے ان سے پوچھا: کہاں کا ارادہ ہے؟ کہا: مجھے رسول اللہ ﷺ نے اس آدمی کی طرف بھیجا ہے جس نے اپنے باپ کی بیوی سے شادی کر رکھی ہے، اور حکم دیا ہے کہ میں اس کی گردن مار دوں اور اس کا مال لے لوں۔
Narrated Al-Bara ibn Azib: I met my uncle who was carrying a standard. I asked him: Where are you going? He said: The Messenger of Allah ﷺ has sent me to a man who has married his fathers wife. He has ordered me to cut off his head and take his property.
حبیب بن سالم سے روایت ہے کہ عبدالرحمٰن بن حنین نامی ایک شخص نے اپنی بیوی کی لونڈی سے صحبت کرلی، معاملہ کوفہ کے امیر نعمان بن بشیر ؓ کے پاس لایا گیا، تو انہوں نے کہا: میں بالکل رسول اللہ ﷺ کے فیصلہ کے مطابق تمہارا فیصلہ کروں گا، اگر تمہاری بیوی نے اسے تمہارے لیے حلال کردیا تھا تو تمہیں سو کوڑے ماروں گا، اور اگر اسے تمہارے لیے حلال نہیں کیا تھا تو میں تمہیں رجم کروں گا، پھر پتا چلا کہ اس کی بیوی نے اس کے لیے اس لونڈی کو حلال کردیا تھا تو آپ نے اسے سو کوڑے مارے۔ قتادہ کہتے ہیں: میں نے حبیب بن سالم کو لکھا تو انہوں نے یہ حدیث مجھے لکھ بھیجی۔
Narrated An-Numan ibn Bashir: Habib ibn Salim said: A man called Abdur Rahman ibn Hunayn had intercourse with his wifes slave-girl. The matter was brought to an-Numan ibn Bashir who was the Governor of Kufah. He said: I shall decide between you in accordance with the decision of the Messenger of Allah ﷺ . If she made her lawful for you, I shall flog you one hundred lashes. If she did not make her lawful for you, I shall stone you to death. So they found that she had made her lawful for him. He, therefore, flogged him one hundred lashes. Qatadah said: I wrote to Habib bin Salim; so he wrote this (tradition) to me.
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الحدود ٢١ (١٤٥١)، سنن النسائی/النکاح ٧٠ (٣٣٦٢)، سنن ابن ماجہ/الحدود ٨ (٢٥٥١)، (تحفة الأشراف: ١١٦١٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد ( ٦ /٢٧٢، ٢٧٦، ٢٧٧)، دي /الحدود ٢٠ (٢٣٧٤) (ضعیف) (حبیب بن سالم کے بارے میں بہت کلام ہے، اور ان کا نعمان بن بشیر سے سماع ثابت نہیں ہے )
نعمان بن بشیر ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے اس شخص کے بارے میں فرمایا جو اپنی بیوی کی لونڈی سے جماع کرتا ہو: اگر اس کی بیوی نے اس کے لیے لونڈی کو حلال کردیا ہو تو اسے سو کوڑے مارے جائیں، اور اگر حلال نہ کیا ہو تو میں اسے رجم کروں گا ۔
Narrated An-Numan ibn Bashir: The Prophet ﷺ said: about a man who had (unlawful) intercourse with his wifes slave girl: If she made her lawful for him, he will be flogged one hundred lashes; if she did not make her lawful for him, I shall stone him.
سلمہ بن محبق ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک شخص کے متعلق جس نے اپنی بیوی کی لونڈی سے صحبت کرلی تھی فیصلہ کیا کہ اگر اس نے جبراً جماع کیا ہے تو لونڈی آزاد ہے، اور اس کی مالکہ کو اسے ویسی ہی لونڈی دینی ہوگی، اور اگر لونڈی نے خوشی سے اس کی مان لی ہے تو وہ اس کی ہو جائیگی، اور اسے لونڈی کی مالکہ کو ویسی ہی لونڈی دینی ہوگی ١ ؎۔
Narrated Salamah ibn al-Muhabbaq (RA) : The Messenger of Allah ﷺ made a decision about a man who had intercourse with his wifes slave-girl as follows. If he forced her, she is free, and he shall give her mistress a slave-girl similar to her; if she asked him to have intercourse voluntarily, she will belong to him, and he shall give her mistress a slave-girl similar to her. Abu Dawud said: This tradition has been transmitted by Yunus bin Ubaid, Amr bin Dinar, Mansur bin Zadhan and Salam from al-Hasan to the same effect. But yunus and Mansur did not mention Qabisah.
Notes · وضاحت
١ ؎: خطابی (رح) کہتے ہیں: میں نے کسی فقیہ کو نہ پایا جس نے اس حدیث کے مطابق فتویٰ دیا ہو، شاید یہ حدیث منسوخ ہو۔
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/النکاح ٧٠ (٣٣٦٥)، سنن ابن ماجہ/الحدود ٨ (٢٥٥٢)، (تحفة الأشراف: ٤٥٥٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد ( ٣/٤٧٦، ٥/٦) (ضعیف) (قتادہ اور حسن بصری مدلس راوی ہیں، اور روایت عنعنہ سے ہے )
سلمہ بن محبق ؓ نبی اکرم ﷺ سے اسی جیسی حدیث روایت کرتے ہیں مگر اس میں ہے کہ اگر اس نے اس کی بات بخوشی مان لی ہو، تو وہ لونڈی اور اسی جیسی ایک اور لونڈی خاوند کے مال سے اس کی مالکن کو دلائی جائے گی۔
Narrated Salamah ibn al-Muhabbaq (RA) : A similar tradition (to the No. 4445) has also been transmitted by Salamah ibn al-Muhabbaq from the Prophet ﷺ . This version has: If she asked her to have intercourse with her voluntarily, then she and a similar slave-girl would be given to her mistress from his property.
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جسے قوم لوط کا عمل (اغلام بازی) کرتے ہوئے پاؤ تو کرنے والے اور جس کے ساتھ کیا گیا ہے دونوں کو قتل کر دو ۔
Narrated Abdullah ibn Abbas (RA) : The Prophet ﷺ said: If you find anyone doing as Lots people did, kill the one who does it, and the one to whom it is done. Abu Dawud said: A similar tradition has also been transmitted by Sulaiman bin Bilal from Amr bin Abi Umar. And Abbad bin Mansur transmitted it from Ikrimah on the authority of Ibn Abbas who transmitted it from the Prophet ﷺ . It has also been transmitted by Ibn Juraij from Ibrahim from Dawud bin Al-Husain from Ikrimah on the authority of Ibn Abbas who transmitted it from the Prophet ﷺ .
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الحدود ٢٤ (١٤٥٦)، سنن ابن ماجہ/الحدود ١٢ (٢٥٦١)، (تحفة الأشراف: ٦١٧٦)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٢٦٩، ٣٠٠) (حسن صحیح )
عبداللہ بن عباس ؓ سے کنوارے کے بارے میں جو اغلام بازی میں پکڑا جائے مروی ہے کہ اسے سنگسار کردیا جائے گا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: عاصم والی روایت عمرو بن ابی عمرو والی روایت کی تضعیف کرتی ہے ١ ؎۔
Narrated Abdullah ibn Abbas (RA) : If a man who is not married is seized committing sodomy, he will be stoned to death. Abu Dawud said: The tradition of Asim proved the tradition of Amir bin Abi Amr as weak.
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی اوپر کی حدیث (٤٤٦٢) ابوداود کا یہ قول غالباً غلطی سے یہاں درج ہوگیا ہے، حدیث نمبر: (٤٤٦٥) کے بعد بھی یہ قول درج ہے اور وہی اس کی اصل جگہ ہے۔
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو کسی جانور سے جماع کرے اسے قتل کر دو، اور اس کے ساتھ اس جانور کو بھی قتل کر دو ۔ عکرمہ کہتے ہیں: میں نے ابن عباس سے پوچھا: اس چوپایہ کا کیا جرم ہے؟ تو انہوں نے کہا: میں یہ سمجھتا ہوں کہ آپ نے یہ صرف اس وجہ سے فرمایا کہ ایسے جانور کے گوشت کھانے کو آپ نے برا جانا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ حدیث قوی نہیں ہے۔
Narrated Abdullah ibn Abbas (RA) : The Prophet ﷺ said: If anyone has sexual intercourse with an animal, kill him and kill it along with him. I (Ikrimah) said: I asked him (Ibn Abbas): What offence can be attributed to the animal/ He replied: I think he (the Prophet) disapproved of its flesh being eaten when such a thing had been done to it. Abu Dawud said: This is not a strong tradition.
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم (٤٤٦٢)، (تحفة الأشراف: ٦١٧٦) (حسن صحیح )
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ جو چوپائے سے جماع کرے اس پر حد نہیں ہے، ابوداؤد کہتے ہیں: اسی طرح عطاء نے کہا ہے۔ اور حکم کہتے ہیں: میری رائے یہ ہے کہ اسے کوڑے مارے جائیں، لیکن اتنے کوڑے جو حد سے کم ہوں۔ اور حسن کہتے ہیں: وہ زانی ہی کے درجہ میں ہے یعنی اس کی وہی سزا ہوگی جو زانی کی ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: عاصم کی حدیث عمرو بن ابی عمرو کی حدیث کی تضعیف کر رہی ہے ١ ؎۔
Asim reported from Abu Razin on the authority of Ibn Abbas saying: There is no prescribed punishment for one who has sexual intercourse with an animal. Abu Dawud said: Ata is also so. Al Hakam said: I think he should be flogged, but the number should not reach the one of the prescribed punishment. Al-Hasan said: He is like a fornicator. Abu Dawud said: THe tradition of Asim proves the tradition of Amr bin Abi Amr as weak.
Notes · وضاحت
١ ؎: ملاحظہ ہو حدیث نمبر (٤٤٦٢ )
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الحدود ٢٣ (١٤٥٥)، انظر حدیث رقم (٤٤٦٢)، (تحفة الأشراف: ٦١٧٦) (حسن )
سہل بن سعد ؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے نبی اکرم ﷺ کے پاس آ کر یہ اعتراف کیا کہ اس نے ایک عورت سے جس کا اس نے نام لیا زنا کیا ہے، تو آپ نے اس عورت کو بلوایا، اور اس سے اس بارے میں پوچھا، اس نے انکار کیا، تو آپ نے حد میں صرف مرد کو کوڑے مارے، اور عورت کو چھوڑ دیا۔
Narrated Sahl ibn Saad (RA) : A man came to the Prophet ﷺ and made acknowledgment before him that he had committed fornication with a woman whom he named. The Messenger of Allah ﷺ sent someone to the woman and he asked her about it. She denied that she had committed fornication. So he gave him the prescribed punishment of lashes and left her.
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: (٤٤٣٧)، (تحفة الأشراف: ٤٧٠٥) (صحیح )
عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ قبیلہ بکر بن لیث کے ایک شخص نے نبی اکرم ﷺ کے پاس آ کر چار بار اقرار کیا کہ اس نے ایک عورت سے زنا کیا ہے تو آپ نے اسے سو کوڑے لگائے، وہ کنوارا تھا، پھر اس سے عورت کے خلاف گواہی طلب کی تو عورت نے کہا: قسم اللہ کی وہ جھوٹا ہے، اللہ کے رسول! تو اس پر آپ نے بہتان کے بھی اسی (٨٠) کوڑے لگائے۔
Narrated Abdullah ibn Abbas (RA) : A man of Bakr ibn Layth came to the Prophet ﷺ and made confession four times that he had committed fornication with a woman, so he had a hundred lashes administered to him. The man had not been married. He then asked him to produce proof against the woman, and she said: I swear by Allah, Messenger of Allah, that he has lied. Then he was given the punishment of eighty lashes of falsehood.
عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں ایک شخص نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں آیا اور عرض کیا: مدینہ کے آخری کنارے کی ایک عورت سے میں لطف اندوز ہوا، لیکن جماع نہیں کیا، تو اب میں حاضر ہوں میرے اوپر جو چاہیئے حد قائم کیجئے، عمر ؓ نے کہا: اللہ نے تیری پردہ پوشی کی تھی تو تو خود بھی پردہ پوشی کرتا تو بہتر ہوتا، رسول اللہ ﷺ نے اسے کوئی جواب نہیں دیا، تو وہ شخص چلا گیا، پھر اس کے پیچھے نبی اکرم ﷺ نے ایک شخص کو بھیجا، وہ اسے بلا کر لایا تو آپ نے اس پر یہ آیت تلاوت فرمائی وأقم الصلاة طرفى النهار وزلفا من الليل دن کے دونوں سروں میں نماز قائم کرو اور رات کی کچھ ساعتوں میں بھی ۔ (ھود: ١١٤) ١ ؎ تو ان میں سے ایک شخص نے پوچھا: اللہ کے رسول! کیا یہ اسی کے لیے خاص ہے، یا سارے لوگوں کے لیے ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: سارے لوگوں کے لیے ہے ۔
Abdullah (bin Masud) said: A man came to the Prophet ﷺ and said: I contacted directly a women at the furthest part of the city (i. e., Madina), and I did with her everything except sexual intercourse. So here I am; inflict any punishment you wish. Thereupon Umar said: Allah has concealed your fault; it would have been better if you also had concealed it yourself. The Prophet ﷺ sent a men after him. (When he came) he recited the verse: “And establish regular prayers at the two ends of the day and at the approaches of the night. . . ” up to the end of the verse. A man from the people got up and asked: Is it particular to him, Messenger of Allah, or for the people in general? He replied: It is all the people.
Notes · وضاحت
١ ؎: دن کے دونوں سرے مراد فجر، ظہر اور عصر کی نمازیں ہیں، اور رات کی ساعتوں سے مراد مغرب اور عشاء کی نمازیں ہیں۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/التوبة ٧ (٢٧٦٣)، (تحفة الأشراف: ٩١٦٢)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/مواقیت الصلاة ٤ (٥٢٦)، التفسیر ٤ (٤٦٨٧)، سنن الترمذی/التفسیر ١٢ (٣١١٢)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ١٩٣ (١٣٩٨) (حسن صحیح )
ابوہریرہ اور زید بن خالد جہنی ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سے پوچھا گیا کہ لونڈی جب زنا کرے اور وہ شادی شدہ نہ ہو (تو اس کا کیا حکم ہے) تو آپ ﷺ نے فرمایا: اگر وہ زنا کرے تو اسے کوڑے لگاؤ، پھر اگر وہ زنا کرے تو اسے پھر کوڑے لگاؤ، پھر اگر وہ زنا کرے تو اسے پھر کوڑے لگاؤ، پھر اگر وہ زنا کرے تو اسے بیچ دو، گو ایک رسی ہی کے عوض میں ہو ۔ ابن شہاب زہری کہتے ہیں: مجھے اچھی طرح معلوم نہیں کہ یہ آپ نے تیسری بار میں فرمایا: یا چوتھی بار میں اور ضفیر کے معنی رسی کے ہیں۔
Abu Hurairah and Zaid bin Khalid al-Juhani said: The Messenger of Allah ﷺ was asked about a slave-woman who commits fornication, and she is not married: If she commits fornication, flog her: if she commits fornication again flog her; if only for a rope of hair (dafir). Ibn Shihab: I do not know whether he (the Prophet) said it is a third or a fourth time.
Takhrij · تخریج
خ /الحدود ٢٢ (٦٨٣٧ و ٦٨٣٨)، صحیح مسلم/الحدود ٦ (١٧٠٣)، سنن ابن ماجہ/الحدود ١٤ (٢٥٦٥)، (تحفة الأشراف: ٣٧٥٦)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الحدود ١٣ (١٤٣٣)، موطا امام مالک/الحدود ٣ (١٤)، دي الحدود ١٨ (٢٣٧١) (صحیح )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جب تم میں سے کسی کی لونڈی زنا کرے تو اس پر حد قائم کرنا چاہیئے، یہ نہیں کہ اسے ڈانٹ ڈپٹ کر چھوڑ دے، ایسا وہ تین بار کرے، پھر اگر وہ چوتھی بار بھی زنا کرے تو چاہیئے کہ ایک رسی کے عوض یا بال کی رسی کے عوض اسے بیچ دے ۔
Abu Hurairah reported the Prophet ﷺ as saying: When the slave-woman of any of you commits fornication, he should inflict the prescribed punishment on her, but not hurl reproaches at her. This is to be done up to three times. If she a fourth time, he should flog her, and sell her even if only for a rope of hair.
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/ الحدود ٦ (١٧٠٣)، انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: ١٢٩٨٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٣٧٦) (صحیح )
اس سند سے بھی ابوہریرہ ؓ سے یہی حدیث مرفوعاً مروی ہے، اس میں ہے کہ ہر بار اسے اللہ کی کتاب کے موافق یعنی پچاس کوڑے مارے ١ ؎ اور صرف ڈانٹ ڈپٹ کر نہ چھوڑ دے، یا حد لگانے کے بعد پھر نہ ڈانٹے، اور چوتھی بار میں فرمایا: اگر وہ پھر زنا کرے تو پھر اسے اللہ کی کتاب کے موافق حد لگائے، پھر چاہیئے کہ اسے بیچ دے، گو بال کی ایک رسی ہی کے بدلے کیوں نہ ہو۔
This tradition has been transmitted by Abu Hurairah from the Prophet ﷺ . This version has: He said each time: He should give her the appropriate beating according to Allah’s Book, but not Hurl reproaches at her. He said a fourth time: If she does it again, he should give her the appropriate beating according to Allah’s Book, and then should sell her even if only for a rope of hair.
Notes · وضاحت
١ ؎: کیونکہ لونڈی کی حد آزاد عورت کے نصف ہے۔
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٤٤٦٩، (تحفة الأشراف: ١٤٣١٩) (صحیح )
ابوامامہ اسعد بن سہل بن حنیف انصاری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے کچھ انصاری صحابہ نے انہیں بتایا کہ انصاریوں میں کا ایک آدمی بیمار ہوا وہ اتنا کمزور ہوگیا کہ صرف ہڈی اور چمڑا باقی رہ گیا، اس کے پاس انہیں میں سے کسی کی ایک لونڈی آئی تو وہ اسے پسند آگئی اور وہ اس سے جماع کر بیٹھا، پھر جب اس کی قوم کے لوگ اس کی عیادت کرنے آئے تو انہیں اس کی خبر دی، اور کہا میرے متعلق رسول اللہ ﷺ سے مسئلہ پوچھو، کیونکہ میں نے ایک لونڈی سے صحبت کرلی ہے، جو میرے پاس آئی تھی، چناچہ انہوں نے یہ واقعہ رسول اللہ ﷺ سے ذکر کیا، اور کہا: ہم نے تو اتنا بیمار اور ناتواں کسی کو نہیں دیکھا جتنا وہ ہے، اگر ہم اسے لے کر آپ کے پاس آئیں تو اس کی ہڈیاں جدا ہوجائیں، وہ صرف ہڈی اور چمڑے کا ڈھانچہ ہے، تو رسول اللہ ﷺ نے حکم دیا کہ درخت کی سو ٹہنیاں لیں، اور اس سے اسے ایک بار مار دیں۔
Narrated Abu Umamah bin Sahl Hunaif: Abu Umamah ibn Sahl ibn Hunayf said that some companions of the Messenger of Allah ﷺ told that one of their men suffered so much from some illness that he pined away until he was skin and bone (i. e. only a skeleton). A slave-girl of someone visited him, and he was cheered by her and had unlawful intercourse with her. When his people came to visit the patient, he told them about it. He said: Ask the Messenger of Allah ﷺ about the legal verdict for me, for I have had unlawful intercourse with a slave-girl who visited me. So they mentioned it to the Messenger of Allah ﷺ saying: We have never seen anyone (so weak) from illness as he is. If we bring him to you, his bones will disintegrate. He is only skin and bone. So the Messenger of Allah ﷺ commanded them to take one hundred twigs and strike him once.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٥٥٢٨)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/الحدود ١٨ (٢٥٧٤) (صحیح )
علی ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے اہل بیت میں سے کسی کی لونڈی نے حرام کاری کرلی تو آپ نے فرمایا: علی! جاؤ اور اس پر حد قائم کرو میں گیا تو کیا دیکھتا ہوں کہ اس کا خون بہے چلا جا رہا ہے، رکتا ہی نہیں، یہ دیکھ کر میں آپ کے پاس واپس آگیا، تو آپ ﷺ نے پوچھا: علی! کیا حد لگا کر آگئے؟ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں اس کے پاس آیا دیکھا تو اس کا خون بہ رہا ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: اچھا بند ہونے تک رکے رہو، جب بند ہوجائے تو اسے ضرور حد لگاؤ، اور حدوں کو اپنے غلاموں اور لونڈیوں پر بھی قائم کیا کرو ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسی طرح ابوالاحوص نے عبدالاعلیٰ سے روایت کیا ہے، اور اسے شعبہ نے بھی عبدالاعلی سے روایت کیا ہے، اس میں ہے آپ ﷺ نے فرمایا: اسے حد نہ لگانا جب تک وہ بچہ جن نہ دے لیکن پہلی روایت زیادہ صحیح ہے۔
Narrated Ali ibn Abu Talib: A slave-girl belonging to the house of the Messenger of Allah ﷺ committed fornication. He (the Prophet) said: Rush up, Ali, and inflict the prescribed punishment on her. I then hurried up, and saw that blood was flowing from her, and did not stop. So I came to him and he said: Have you finished inflicting (punishment on her)? I said: I went to her while her blood was flowing. He said: Leave her alone till her bleeding stops; then inflict the prescribed punishment on her. And inflict the prescribed punishment on those whom your right hands possess (i. e. slaves). Abu Dawud said: A similar tradition has been transmitted by Abu al-Ahwas from Abd al-Ala, and also by Shubah from Abd al-Ala. This version has: He said: Do not give her beating until she gives birth to a child. But the former (version) is sounder.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٠٢٨٣)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الحدود ٧ (١٧٠٥)، سنن الترمذی/الحدود ١٣ (١٤٤١)، مسند احمد (١/٨٩، ٩٥، ١٣٥، ١٣٦، ١٤٥) (صحیح )
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ جب میری برات کی آیتیں نازل ہوئیں تو نبی اکرم ﷺ منبر پر کھڑے ہوئے، آپ نے اس کا ذکر کیا، اور قرآن کی ان آیتوں کی تلاوت کی، پھر جب منبر پر سے اترے تو آپ ﷺ نے دو مردوں اور ایک عورت کے سلسلے میں حکم دیا تو ان پر حد جاری کیا گیا۔
Narrated Aisha (RA) , Ummul Muminin (RA) : When my vindication came down, the Prophet ﷺ mounted the pulpit and mentioned that, and recited the Quran. Then when he came down from the pulpit he ordered regarding the two men and the woman, and they were given the prescribed punishment.
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/تفسیر النور ٢٥ (٣١٨١)، سنن ابن ماجہ/الحدود (٢٥٦٧)، (تحفة الأشراف: ١٧٨٩٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٢٨٦، ٦/٣٥، ٦١) (حسن )
اس سند سے بھی محمد بن اسحاق سے یہی حدیث مروی ہے اس میں انہوں نے عائشہ ؓ کا ذکر نہیں کیا ہے اس میں ہے: آپ نے دو مردوں اور ایک عورت کو جنہوں نے بری بات منہ سے نکالی تھی (کوڑے لگانے کا) حکم دیا، وہ حسان بن ثابت ؓ اور مسطح بن اثاثہ ؓ تھے نفیل کہتے ہیں: اور لوگ کہتے ہیں کہ عورت حمنہ بنت جحش ؓ تھیں۔
The tradition mentioned above (No. 4459) has also been transmitted by Muhammad ibn Ishaq through a different chain of narrators. But he did not mention Aisha (RA) . This version has: He (the Prophet) commanded regarding the two men and the woman who spoke obscenity were Hassan ibn Thabit and Mistah ibn Uthathah. An-Nufayl said: It is said that the woman was Hammah daughter of Jahsh.
Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: ١٧٨٩٨) (حسن) (سابقہ حدیث سے تقویت پاکر یہ حدیث حسن ہے )
عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے شراب کے حد کی تعیین نہیں فرمائی، ابن عباس ؓ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے شراب پی اور بدمست ہو کر جھومتے ہوئے راستے میں لوگوں کو چلتے ملا تو اسے پکڑ کر وہ نبی اکرم ﷺ کے پاس لے کر آئے جب وہ عباس ؓ کے گھر کے سامنے ہوا تو چھڑا کر بھاگا اور عباس ؓ کے مکان میں جا گھسا، اور ان سے چمٹ گیا، پھر یہ قصہ نبی اکرم ﷺ سے ذکر کیا گیا تو آپ ہنسے، اور صرف اتنا فرمایا: کیا اس نے ایسا کیا ہے؟ آپ نے اس کے بارے میں کوئی اور حکم نہیں دیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: حسن بن علی کی اس حدیث کی روایت میں اہل مدینہ منفرد ہیں۔
Narrated Abdullah ibn Abbas (RA) : The Prophet ﷺ did not prescribe any punishment for drinking wine. Ibn Abbas said: A man who had drunk wine and become intoxicated was found staggering on the road, so he was taken to the Prophet ﷺ . When he was opposite al-Abbass house, he escaped, and going in to al-Abbas, he grasped hold of him. When that was mentioned to the Prophet ﷺ , he laughed and said: Did he do that? and he gave no command regarding him. Abu Dawud said: This tradition of al-Hasan bin Ali has been transmitted only by the people of Madina.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ٦٢١٢)، وقد أخرجہ: مسند احمد ( ١/٣٢٢) (ضعیف )