Sunan Abu Dawood 4458

سزاؤں کا بیان

4458Sunan Abu Dawood

مرد اپنی بیوی کی باندی سے زنا کرے تو کیا حکم ہے؟

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبَانٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ عُرْفُطَةَ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ سَالِمٍ ، أَنَّ رَجُلا يُقَالُ لَهُ: عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ حُنَيْنٍ وَقَعَ عَلَى جَارِيَةِ امْرَأَتِهِ، فَرَفَعَ إِلَى النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ وَهُوَ أَمِيرٌ عَلَى الْكُوفَةِ، فَقَالَ: لأَقْضِيَنَّ فِيكَ بِقَضِيَّةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِنْ كَانَتْ أَحَلَّتْهَا لَكَ جَلَدْتُكَ مِائَةً، وَإِنْ لَمْ تَكْنُ أَحَلَّتْهَا لَكَ رَجَمْتُكَ بِالْحِجَارَةِ . فَوَجَدُوهُ أَحَلَّتْهَا لَهُ فَجَلَدَهُ مِائَةً. قَالَ قَتَادَة: كَتَبْتُ إِلَى حَبِيبِ بْن سَالِمٍ فَكَتَبَ إِلَيَّ بِهَذَا.

حبیب بن سالم سے روایت ہے کہ عبدالرحمٰن بن حنین نامی ایک شخص نے اپنی بیوی کی لونڈی سے صحبت کرلی، معاملہ کوفہ کے امیر نعمان بن بشیر ؓ کے پاس لایا گیا، تو انہوں نے کہا: میں بالکل رسول اللہ ﷺ کے فیصلہ کے مطابق تمہارا فیصلہ کروں گا، اگر تمہاری بیوی نے اسے تمہارے لیے حلال کردیا تھا تو تمہیں سو کوڑے ماروں گا، اور اگر اسے تمہارے لیے حلال نہیں کیا تھا تو میں تمہیں رجم کروں گا، پھر پتا چلا کہ اس کی بیوی نے اس کے لیے اس لونڈی کو حلال کردیا تھا تو آپ نے اسے سو کوڑے مارے۔ قتادہ کہتے ہیں: میں نے حبیب بن سالم کو لکھا تو انہوں نے یہ حدیث مجھے لکھ بھیجی۔

Narrated An-Numan ibn Bashir: Habib ibn Salim said: A man called Abdur Rahman ibn Hunayn had intercourse with his wifes slave-girl. The matter was brought to an-Numan ibn Bashir who was the Governor of Kufah. He said: I shall decide between you in accordance with the decision of the Messenger of Allah ﷺ . If she made her lawful for you, I shall flog you one hundred lashes. If she did not make her lawful for you, I shall stone you to death. So they found that she had made her lawful for him. He, therefore, flogged him one hundred lashes. Qatadah said: I wrote to Habib bin Salim; so he wrote this (tradition) to me.

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الحدود ٢١ (١٤٥١)، سنن النسائی/النکاح ٧٠ (٣٣٦٢)، سنن ابن ماجہ/الحدود ٨ (٢٥٥١)، (تحفة الأشراف: ١١٦١٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد ( ٦ /٢٧٢، ٢٧٦، ٢٧٧)، دي /الحدود ٢٠ (٢٣٧٤) (ضعیف) (حبیب بن سالم کے بارے میں بہت کلام ہے، اور ان کا نعمان بن بشیر سے سماع ثابت نہیں ہے )