جہاد کا بیان

Sunan Abu Dawood · Chapter 11 · 309 hadiths · Page 14 of 16

2739Sunan Abu Dawood

غنیمت کے ماسوا انعام کے طور پر کچھ دینے کا بیان

حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بَكَّارِ بْنِ بِلَالٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ مَوْهَبٍ الْهَمْدَانِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ، قَالَ: أَخْبَرَنِي دَاوُدُ بِهَذَا الْحَدِيثِ بِإِسْنَادِهِ، قَالَ: فَقَسَّمَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالسَّوَاءِ، وَحَدِيثُ خَالِدٍ أَتَمُّ.

اس سند بھی سے داود سے یہی حدیث اسی طریق سے مروی ہے اس میں ہے: رسول اللہ ﷺ نے اسے برابر برابر تقسیم کیا ، اور خالد کی حدیث (نمبر ٢٧٣٧) کامل ہے۔

The tradition mentioned above has been transmitted by Dawud with a different chain of narrators. He said “The Messenger of Allah ﷺ apportioned it (spoils of war) equally. The tradition of Khalid is more perfect.

Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: (٢٧٣٧)، (تحفة الأشراف: ٦٠٨١، ١٥٦٥٨) (صحیح )
2740Sunan Abu Dawood

غنیمت کے ماسوا انعام کے طور پر کچھ دینے کا بیان

حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: جِئْتُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ بَدْرٍ بِسَيْفٍ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ قَدْ شَفَى صَدْرِي الْيَوْمَ مِنَ الْعَدُوِّ فَهَبْ لِي هَذَا السَّيْفَ، قَالَ: إِنَّ هَذَا السَّيْفَ لَيْسَ لِي وَلَا لَكَ، فَذَهَبْتُ وَأَنَا أَقُولُ يُعْطَاهُ الْيَوْمَ مَنْ لَمْ يُبْلِ بَلَائِي فَبَيْنَا أَنَا إِذْ جَاءَنِي الرَّسُولُ فَقَالَ: أَجِبْ فَظَنَنْتُ أَنَّهُ نَزَلَ فِيَّ شَيْءٌ بِكَلَامِي فَجِئْتُ، فَقَالَ لِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّكَ سَأَلْتَنِي هَذَا السَّيْفَ وَلَيْسَ هُوَ لِي وَلَا لَكَ وَإِنَّ اللَّهَ قَدْ جَعَلَهُ لِي فَهُوَ لَكَ، ثُمَّ قَرَأَ: يَسْأَلُونَكَ عَنِ الأَنْفَالِ قُلِ الأَنْفَالُ لِلَّهِ وَالرَّسُولِ سورة الأنفال آية 1 إِلَى آخِرِ الْآيَةِ، قَالَ أَبُو دَاوُد: قِرَاءَةُ ابْنِ مَسْعُودٍ يَسْأَلُونَكَ النَّفْلَ.

سعد ؓ کہتے ہیں کہ میں غزوہ بدر کے دن نبی اکرم ﷺ کے پاس ایک تلوار لے کر آیا اور عرض کیا: اللہ کے رسول! آج اللہ نے میرے سینے کو دشمنوں سے شفاء دی، لہٰذا آپ مجھے یہ تلوار دے دیجئیے، آپ ﷺ نے فرمایا: یہ تلوار نہ تو میری ہے نہ تمہاری یہ سن کر میں چلا اور کہتا جاتا تھا: یہ تلوار آج ایسے شخص کو ملے گی جس نے مجھ جیسا کارنامہ انجام نہیں دیا ہے، اسی دوران مجھے قاصد بلانے کے لیے آیا، اور کہا چلو، میں نے سوچا شاید میرے اس بات کے کہنے کی وجہ سے میرے سلسلے میں کچھ وحی نازل ہوئی ہے، چناچہ میں آیا تو نبی اکرم ﷺ نے مجھ سے فرمایا: تم نے یہ تلوار مانگی جب کہ یہ تلوار نہ تو میری ہے نہ تمہاری، اب اسے اللہ نے مجھے عطا کردیا ہے، لہٰذا (اب) یہ تمہاری ہے پھر آپ ﷺ نے یہ آیت کریمہ پوری پڑھی يسألونک عن الأنفال قل الأنفال لله والرسول۔ ابوداؤد کہتے ہیں: عبداللہ بن مسعود ؓ کی قرأت يسألونک عن النفل ہے۔

Musab bin Saad reported on the authority of his father (Saad bin Abi Waqqas) “I brought a sword to the Prophet ﷺ on the day of the Badr and I said (to him) Messenger of Allah ﷺ , Allaah has healed up my breast from the enemy today, so give me this sword. He said “This sword is neither mine nor yours. I then went away saying “today this will be given to a man who has not been put to trial like me. Meanwhile a messenger and came to me and said “Respond, I thought something was revealed about me owing to my speech. I came and the Prophet ﷺ said to me “You asked me for this sword, but this was neither mine nor yours. Now Allaah has given it to me, hence it is yours. He then recited “they ask thee concerning (things taken as) spoils of war. Say “ (Such) spoils are at the disposal of Allaah and the Messenger. Abu Dawud said “According to the reading of the Quran of Ibn Masud the verse goes. They ask thee concerning (things taken as) spoils of war.

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الجھاد ١٢ (١٧٤٨)، سنن الترمذی/تفسیر الأنفال ٩ (٣٠٧٩)، (تحفة الأشراف: ٣٩٣٠)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/١٧٨، ١٨١، ١٨٥) (حسن صحیح )
2741Sunan Abu Dawood

لشکر کے ایک حصہ کو انعام کے طور پر کچھ زیادہ دینا

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ نَجْدَةَ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ. ح وحَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الأَنْطَاكِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَامُبَشَّرٌ. ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَوْفٍ الطَّائِيُّ، أَنَّ الْحَكَمَ بْنَ نَافِعٍ حَدَّثَهُمُ الْمَعْنَى كُلُّهُمْ، عَنْ شُعَيْبِ بْنِ أَبِي حَمْزَةَ، عَنْنَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: بَعَثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي جَيْشٍ قِبَلَ نَجْدٍ وَانْبَعَثَتْ سَرِيَّةٌ مِنَ الْجَيْشِ، فَكَانَ سُهْمَانُ الْجَيْشِ اثْنَيْ عَشَرَ بَعِيرًا اثْنَيْ عَشَرَ بَعِيرًا، وَنَفَّلَ أَهْلَ السَّرِيَّةِ بَعِيرًا بَعِيرًا فَكَانَتْ سُهْمَانُهُمْ ثَلَاثَةَ عَشَرَ ثَلَاثَةَ عَشَرَ.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں نجد کی جانب ایک لشکر میں بھیجا اور اس لشکر کا ایک دستہ دشمن سے مقابلہ کے لیے بھیجا گیا، پھر لشکر کے لوگوں کو بارہ بارہ اونٹ ملے اور دستہ کے لوگوں کو ایک ایک اونٹ بطور انعام زیادہ ملا تو ان کے حصہ میں تیرہ تیرہ اونٹ آئے۔

Narrated Abdullah ibn Umar (RA) : The Messenger of Allah ﷺ sent us along with an army towards Najd, and he sent a detachment of that army (to face the enemy). The whole army got twelve camels per head as their portion, but he gave the detachment one additional camel (apart from the division made to the army). Thus they got thirteen camels each (as a reward).

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٧٦٧٩)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/فرض الخمس ١٥ (٣١٣٤)، والمغازي ٥٧ (٤٣٣٨)، صحیح مسلم/الجھاد ١٢ (١٧٤٨)، موطا امام مالک/الجھاد ٦ (١٥)، سنن الدارمی/السیر ٤١ (٢٥٢٤) (صحیح )
2742Sunan Abu Dawood

لشکر کے ایک حصہ کو انعام کے طور پر کچھ زیادہ دینا

حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ عُتْبَةَ الدِّمَشْقِيُّ قَالَ: قَالَ الْوَلِيدُ يَعْنِي ابْنَ مُسْلِمٍ: حَدَّثْتُ ابْنَ الْمُبَارَكِ بِهَذَا الْحَدِيثِ قُلْتُ: وَكَذَا حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فَرْوَةَ، عَنْ نَافِعٍ قَالَ: لَا تَعْدِلُ مَنْ سَمَّيْتَ بِمَالِكٍ هَكَذَا أَوْ نَحْوَهُ يَعْنِي مَالِكَ بْنَ أَنَسٍ.

ولید بن مسلم کہتے ہیں: میں نے ابن مبارک سے یہی حدیث بیان کی، میں نے کہا اور اسی طرح ہم سے ابن ابی فروہ نے نافع کے واسطہ سے بیان کیا ہے تو ابن مبارک نے کہا: جن کا نام تم نے لیا ہے وہ مالک کے برابر نہیں ہوسکتے اسی طرح یا اس جیسی بات انہوں نے کہی، اس سے وہ امام مالک بن انس کو مراد لے رہے تھے۔

Al Walid bin Muslim said “I narrated this tradition (mentioned above) to Ibn Al Mubarak and said “And similarly it has been narrated by Ibn Abi Farwah to us on the authority of Nafi (as narrated by Shuaib). He (Ibn Al Mubarak) said “Those whom you have named cannot be equal to Malik i. e, Malik bin Anas.

Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: ٧٦٧٩) (صحیح )
2743Sunan Abu Dawood

لشکر کے ایک حصہ کو انعام کے طور پر کچھ زیادہ دینا

حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدَةُ يَعْنِي ابْنَ سُلَيْمَانَ الْكِلَابِيَّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَرِيَّةً إِلَى نَجْدٍ، فَخَرَجْتُ مَعَهَا فَأَصَبْنَا نَعَمًا كَثِيرًا فَنَفَّلَنَا أَمِيرُنَا بَعِيرًا بَعِيرًا لِكُلِّ إِنْسَانٍ، ثُمَّ قَدِمْنَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَسَمَ بَيْنَنَا غَنِيمَتَنَا، فَأَصَابَ كُلُّ رَجُلٍ مِنَّا اثْنَيْ عَشَرَ بَعِيرًا بَعْدَ الْخُمُسِ وَمَا حَاسَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالَّذِي أَعْطَانَا صَاحِبُنَا وَلَا عَابَ عَلَيْهِ بَعْدَ مَا صَنَعَ، فَكَانَ لِكُلِّ رَجُلٍ مِنَّا ثَلَاثَةَ عَشَرَ بَعِيرًا بِنَفْلِهِ.

اس سند سے بھی ابن عمر ؓ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے ایک سریہ ١ ؎ نجد کی جانب بھیجا، میں بھی اس کے ساتھ نکلا، ہمیں بہت سے اونٹ ملے، تو ہمارے دستہ کے سردار نے ایک ایک اونٹ ہم میں سے ہر شخص کو بطور انعام دیا، پھر ہم رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے، آپ نے ہمارے غنیمت کے مال کو ہم میں تقسیم کیا، تو ہر ایک کو ہم میں سے خمس کے بعد بارہ بارہ اونٹ ملے، اور وہ اونٹ جو ہمارے سردار نے دیا تھا، آپ ﷺ نے اس کو حساب میں شمار نہ کیا، اور نہ ہی آپ نے اس سردار کے عمل پر طعن کیا، تو ہم میں سے ہر ایک کو اس کے نفل سمیت تیرہ تیرہ اونٹ ملے۔

Narrated Abdullah ibn Umar (RA) : The Messenger of Allah ﷺ sent a detachment to Najd. I went out along with them, and got abundant riches. Our commander gave each of us a camel as a reward. We then came upon the Messenger of Allah ﷺ and he divided the spoils of war among us. Each of us received twelve camels after taking a fifth of it. The Messenger of Allah ﷺ did not take account of our companion (i. e. the commander of the army), nor did he blame him for what he had done. Thus each man of us had received thirteen camels with the reward he gave.

Notes · وضاحت
١ ؎: سریہ ایسی فوجی کاروائی جس میں رسول ﷺ نے شرکت نہیں فرمائی، اور غزوہ ایسی جنگ جس میں آپ نے شرکت فرمائی۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٨٤١٥) (صحیح )
2744Sunan Abu Dawood

لشکر کے ایک حصہ کو انعام کے طور پر کچھ زیادہ دینا

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ. ح وحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، وَيَزِيدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ مَوْهَبٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ الْمَعْنَى،عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ سَرِيَّةً فِيهَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ قِبَلَ نَجْدٍ، فَغَنِمُوا إِبِلًا كَثِيرَةً فَكَانَتْ سُهْمَانُهُمُ اثْنَيْ عَشَرَ بَعِيرًا وَنُفِّلُوا بَعِيرًا بَعِيرًا، زَادَ ابْنُ مَوْهَبٍ: فَلَمْ يُغَيِّرْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

اس سند سے بھی عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے نجد کی طرف ایک سریہ بھیجا جس میں عبداللہ بن عمر ؓ بھی تھے، ان لوگوں کو غنیمت میں بہت سے اونٹ ملے، ان میں سے ہر ایک کے حصہ میں بارہ بارہ اونٹ آئے، اور ایک ایک اونٹ انہیں بطور نفل (انعام) دئیے گئے۔ ابن موہب کی روایت میں یہ اضافہ ہے: تو رسول اللہ ﷺ نے اس تقسیم کو بدلا نہیں۔

Nafi reported on the authority of Abd Allaah bin Umar “The Messenger of Allah ﷺ sent a detachment towards Najd. Abd Allaah bin Umar also accompanied it. They gained a large number of Camels as a booty. Their portion was twelve Camels each and they were rewarded (in addition) one Camel each. The version of Ibn Mawhab added “The Messenger of Allah ﷺ did not change it”

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/ الخمس ١٥ (٣١٣٤)، صحیح مسلم/ الجہاد ١٢ (١٧٤٩)، (تحفة الأشراف: ٨٢٩٣، ٨٣٥٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٦٢، ١١٢، ١٥٦)، موطا امام مالک/ الجہاد ٦ (١٥)، دی السیر ٤ (٢٥٢٤) (صحیح )
2745Sunan Abu Dawood

لشکر کے ایک حصہ کو انعام کے طور پر کچھ زیادہ دینا

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، قَالَ: حَدَّثَنِي نَافِعٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: بَعَثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَرِيَّةٍ فَبَلَغَتْ سُهْمَانُنَا اثْنَيْ عَشَرَ بَعِيرًا، وَنَفَّلَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعِيرًا بَعِيرًا، قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَاهُ بُرْدُ بْنُ سِنَانٍ، عَنْ نَافِعٍ مِثْلَ حَدِيثِ عُبَيْدِ اللَّهِ، وَرَوَاهُ أَيُّوبُ، عَنْ نَافِعٍ مِثْلَهُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: وَنُفِّلْنَا بَعِيرًا بَعِيرًا، لَمْ يَذْكُرِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

اس سند سے بھی عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں ایک سریہ میں بھیجا، تو ہمارے حصہ میں بارہ بارہ اونٹ آئے، اور ایک ایک اونٹ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں بطور انعام دیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے برد بن سنان نے نافع سے عبیداللہ کی حدیث کے ہم مثل روایت کیا ہے اور اسے ایوب نے بھی نافع سے اسی کے مثل روایت کیا، مگر اس میں یہ ہے کہ ہمیں ایک ایک اونٹ بطور نفل دئیے گئے اور انہوں نے نبی اکرم ﷺ کا ذکر نہیں کیا ہے۔

Abd Allaah (bin Umar) said “The Messenger of Allah ﷺ sent us along with a detachment. The share of each was twelve Camels. The Messenger of Allah ﷺ gave each one of us a Camel as a reward. Abu Dawud said “Burd bin Sinan narrated a similar tradition from Nafi as narrated by Ubaid Allaah. Ayyub also narrated from Nafi a similar tradition, but his version goes “We were rewarded one Camel each. He did not mention the Prophet ﷺ .

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/ الجہاد ١٢ (١٧٤٩)، (تحفة الأشراف: ٨١٧٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٥٥) (صحیح )
2746Sunan Abu Dawood

لشکر کے ایک حصہ کو انعام کے طور پر کچھ زیادہ دینا

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ جَدِّي. ح وحَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ أَبِي يَعْقُوبَ، قَالَ: حَدَّثَنِي حُجَيْنٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ كَانَ يُنَفِّلُ بَعْضَ مَنْ يَبْعَثُ مِنَ السَّرَايَا لِأَنْفُسِهِمْ خَاصَّةَ النَّفَلِ سِوَى قَسْمِ عَامَّةِ الْجَيْشِ، وَالْخُمُسُ فِي ذَلِكَ وَاجِبٌ كُلُّهُ.

عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جن سریوں کو بھیجتے انہیں عام لشکر کی تقسیم کے علاوہ بطور نفل خاص طور سے کچھ دیتے تھے اور خمس ان تمام میں واجب ہوتا ١ ؎۔

Narrated Abdullah ibn Umar (RA) : The Messenger of Allah ﷺ used to give to some of the detachments he sent out (something extra) for themselves in particular apart from the division made to the whole army. The fifth is necessary in all that.

Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی پہلے پورے مال میں سے خمس نکالتے پھر انعام کچھ دینا ہوتا دیتے پھر باقی عام لشکر میں برابر تقسیم کرتے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/فرض الخمس ١٥ (٣١٣٥)، صحیح مسلم/الجھاد ١٢ (١٧٥٠)، (تحفة الأشراف: ٦٨٨٠)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/١٤٠) (صحیح )
2747Sunan Abu Dawood

لشکر کے ایک حصہ کو انعام کے طور پر کچھ زیادہ دینا

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنَا حُيَيٌّ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ يَوْمَ بَدْرٍ فِي ثَلَاثِ مِائَةٍ وَخَمْسَةَ عَشَرَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اللَّهُمَّ إِنَّهُمْ حُفَاةٌ فَاحْمِلْهُمْ، اللَّهُمَّ إِنَّهُمْ عُرَاةٌ فَاكْسُهُمْ، اللَّهُمَّ إِنَّهُمْ جِيَاعٌ فَأَشْبِعْهُمْ، فَفَتَحَ اللَّهُ لَهُ يَوْمَ بَدْرٍ فَانْقَلَبُوا حِينَ انْقَلَبُوا، وَمَا مِنْهُمْ رَجُلٌ إِلَّا وَقَدْ رَجَعَ بِجَمَلٍ أَوْ جَمَلَيْنِ وَاكْتَسَوْا وَشَبِعُوا.

عبداللہ بن عمرو ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ بدر کے دن تین سو پندرہ افراد کے ہم راہ نکلے تو آپ نے یہ دعا فرمائی: اللهم إنهم حفاة فاحملهم اللهم إنهم عراة فاكسهم اللهم إنهم جياع فأشبعهم اے اللہ! یہ لوگ پیدل ہیں تو ان کو سوار کر دے، اے اللہ! یہ لوگ ننگے ہیں ان کو کپڑا دیدے، اے اللہ! یہ لوگ بھوکے ہیں ان کو آسودہ کر دے ، پھر اللہ نے بدر کے دن انہیں فتح دی، جب وہ لوٹے تو کوئی بھی آدمی ان میں سے ایسا نہ تھا جو ایک یا دو اونٹ لے کر نہ آیا ہو، اور ان کے پاس کپڑے بھی ہوگئے اور وہ آسودہ بھی ہوگئے۔

Narrated Abdullah ibn Umar (RA) : The Messenger of Allah ﷺ went out on the day of Badr along with three hundred and fifteen (men). The Messenger of Allah ﷺ said: O Allah, they are on foot, provide mount for them; O Allah, they are naked, clothe them; O Allah, they are hungry, provide food for them. Allah then bestowed victory on them. They returned when they were clothed. There was no man of them but he returned with one or two camels; they were clothed and ate to their fill.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٨٨٥٩) (حسن )
2748Sunan Abu Dawood

جو شخص یہ کہتا ہے کہ خمس انعام سے پہلے نکالا جائے گا

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ الشَّامِيِّ، عَنْ مَكْحُولٍ، عَنْ زِيَادِ بْنِ جَارِيَةَ التَّمِيمِيِّ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ مَسْلَمَةَ الْفِهْرِيِّ، أَنَّهُ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يُنَفِّلُ الثُّلُثَ، بَعْدَ الْخُمُسِ.

حبیب بن مسلمہ فہری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ (مال غنیمت میں سے) خمس (پانچواں حصہ) نکالنے کے بعد ثلث (ایک تہائی) بطور نفل (انعام) دیتے تھے ١ ؎۔

Narrated Habib ibn Maslamah al-Fihri (RA) : The Messenger of Allah ﷺ would give a third of the spoils after he would keep off the fifth.

Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی پہلے کل مال میں سے خمس (پانچواں حصہ) نکال لیتے پھر باقی میں سے ایک تہائی انعام میں دیتے اور دو تہائی بانٹ دیتے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الجھاد ٣٥ (٢٨٥١)، (تحفة الأشراف: ٣٢٩٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/١٥٩، ١٦٠)، سنن الدارمی/السیر ٤٣ (٢٥٢٦) (صحیح )
2749Sunan Abu Dawood

جو شخص یہ کہتا ہے کہ خمس انعام سے پہلے نکالا جائے گا

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ مَيْسَرَةَ الْجُشَمِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ، عَنْالْعَلَاءِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ مَكْحُولٍ، عَنْ ابْنِ جَارِيَةَ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ مَسْلَمَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كَانَ يُنَفِّلُ الرُّبْعَ، بَعْدَ الْخُمُسِ، وَالثُّلُثَ بَعْدَ الْخُمُسِ إِذَا قَفَلَ.

حبیب بن مسلمہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ خمس نکالنے کے بعد ربع (ایک چوتھائی) بطور نفل دیتے تھے (ابتداء جہاد میں) اور جب جہاد سے لوٹ آتے (اور پھر ان میں سے کوئی گروہ کفار سے لڑتا) تو خمس نکالنے کے بعد ایک تہائی بطور نفل دیتے۔

Narrated Habib ibn Maslamah (RA) : The Messenger of Allah ﷺ used to give a quarter of the booty as reward after the fifty had been kept off, and a third after the fifth had been kept off when he returned.

Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: ٣٢٩٣) (صحیح )
2750Sunan Abu Dawood

جو شخص یہ کہتا ہے کہ خمس انعام سے پہلے نکالا جائے گا

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بَشِيرِ بْنِ ذَكْوَانَ، وَمَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ الدِّمَشْقِيَّانِ المعنى، قَالَا: حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا وَهْبٍ، يَقُولُ: سَمِعْتُ مَكْحُولًا، يَقُولُ: كُنْتُ عَبْدًا بِمِصْرَ لِامْرَأَةٍ مِنْ بَنِي هُذَيْلٍ، فَأَعْتَقَتْنِي فَمَا خَرَجْتُ مِنْ مِصْرَ وَبِهَا عِلْمٌ إِلَّا حَوَيْتُ عَلَيْهِ فِيمَا أُرَى، ثُمَّ أَتَيْتُ الْحِجَازَ فَمَا خَرَجْتُ مِنْهَا وَبِهَا عِلْمٌ إِلَّا حَوَيْتُ عَلَيْهِ فِيمَا أُرَى، ثُمَّ أَتَيْتُ الْعِرَاقَ فَمَا خَرَجْتُ مِنْهَا وَبِهَا عِلْمٌ إِلَّا حَوَيْتُ عَلَيْهِ فِيمَا أُرَى، ثُمَّ أَتَيْتُ الشَّامَ فَغَرْبَلْتُهَا كُلُّ ذَلِكَ أَسْأَلُ عَنِ النَّفَلِ، فَلَمْ أَجِدْ أَحَدًا يُخْبِرُنِي فِيهِ بِشَيْءٍ حَتَّى أَتَيْتُ شَيْخًا يُقَالُ لَهُ زِيَادُ بْنُ جَارِيَةَ التَّمِيمِيُّ، فَقُلْتُ لَهُ: هَلْ سَمِعْتَ فِي النَّفَلِ شَيْئًا ؟ قَالَ: نَعَمْ، سَمِعْتُ حَبِيبَ بْنَ مَسْلَمَةَ الْفِهْرِيَّ يَقُولُ: شَهِدْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: نَفَّلَ الرُّبُعَ فِي الْبَدْأَةِ، وَالثُّلُثَ فِي الرَّجْعَةِ.

مکحول کہتے ہیں میں مصر میں قبیلہ بنو ہذیل کی ایک عورت کا غلام تھا، اس نے مجھے آزاد کردیا، تو میں مصر سے اس وقت تک نہیں نکلا جب تک کہ اپنے خیال کے مطابق جتنا علم وہاں تھا اسے حاصل نہ کرلیا، پھر میں حجاز آیا تو وہاں سے بھی اس وقت تک نہیں نکلا جب تک کہ جتنا علم وہاں تھا اپنے خیال کے مطابق حاصل نہیں کرلیا، پھر عراق آیا تو وہاں سے بھی اس وقت تک نہیں نکلا جب تک کہ اپنے خیال کے مطابق جتنا علم وہاں تھا اسے حاصل نہ کرلیا، پھر میں شام آیا تو اسے بھی اچھی طرح چھان مارا، ہر شخص سے میں نفل کا حال پوچھتا تھا، میں نے کسی کو نہیں پایا جو اس سلسلہ میں کوئی حدیث بیان کرے، یہاں تک کہ میں ایک شیخ سے ملا جن کا نام زیاد بن جاریہ تمیمی تھا، میں نے ان سے پوچھا: کیا آپ نے نفل کے بارے میں کچھ سنا ہے؟ کہا: ہاں! میں نے حبیب بن مسلمہ فہری ؓ کو کہتے سنا ہے کہ میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ حاضر تھا آپ ﷺ نے ابتداء میں ایک چوتھائی بطور نفل دیا اور لوٹ آنے کے بعد (پھر حملہ کرنے پر) ١ ؎ ایک تہائی بطور نفل دیا۔

Narrated Habib ibn Maslamah al-Fihri (RA) : Makhul said: I was the slave of a woman of Banu Hudhayl; afterwards she emancipated me. I did not leave Egypt until I had acquired all the knowledge that seemed to me to exist there. I then came to al-Hijaz and I did not leave it until I had acquired all the knowledge that seemed to be available. Then I came to al-Iraq, and I did not leave it until I had acquired all the knowledge that seemed to be available. I then came to Syria, and besieged it. I asked everyone about giving rewards from the booty. I did not find anyone who could tell me anything about it. I then met an old man called Ziyad ibn Jariyah at-Tamimi. I asked him: Have you heard anything about giving rewards from the booty? He replied: Yes. I heard Maslamah al-Fihri say: I was present with the Prophet ﷺ . He gave a quarter of the spoils on the outward journey and a third on the return journey.

Notes · وضاحت
١ ؎: اس لئے کہ لوٹ آنے کے بعد پھر لڑنے کے لئے جانا سخت اور دشوار عمل ہے کیونکہ دشمن چوکنا اور محتاط ہوجاتا ہے۔
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: (٢٧٤٨)، (تحفة الأشراف: ٣٢٩٣) (صحیح )
2751Sunan Abu Dawood

اس دستہ کا بیان جو لشکر میں آکر مل جائے

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ ابْنِ إِسْحَاق هُوَ مُحَمَّدٌ بِبَعْضِ هَذَا. ح وحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ مَيْسَرَةَ، حَدَّثَنِي هُشَيْمٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ جَمِيعًا، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الْمُسْلِمُونَ تَتَكَافَأُ دِمَاؤُهُمْ، يَسْعَى بِذِمَّتِهِمْ أَدْنَاهُمْ وَيُجِيرُ عَلَيْهِمْ أَقْصَاهُمْ، وَهُمْ يَدٌ عَلَى مَنْ سِوَاهُمْ، يَرُدُّ مُشِدُّهُمْ عَلَى مُضْعِفِهِمْ وَمُتَسَرِّعُهُمْ عَلَى قَاعِدِهِمْ، لَا يُقْتَلُ مُؤْمِنٌ بِكَافِرٍ وَلَا ذُو عَهْدٍ فِي عَهْدِهِ، وَلَمْ يَذْكُرْ ابْنُ إِسْحَاق الْقَوَدَ وَالتَّكَافُؤَ.

عبداللہ بن عمرو ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مسلمانوں کے خون برابر ہیں ١ ؎ ان میں سے ادنیٰ شخص بھی کسی کو امان دے سکتا ہے، اور سب کو اس کی امان قبول کرنی ہوگی، اسی طرح دور مقام کا مسلمان پناہ دے سکتا ہے (گرچہ اس سے نزدیک والا موجود ہو) اور وہ اپنے مخالفوں کے لیے ایک ہاتھ کی طرح ہیں ٢ ؎ جس کی سواریاں زور آور اور تیز رو ہوں وہ (غنیمت کے مال میں) اس کے برابر ہوگا جس کی سواریاں کمزور ہیں، اور لشکر میں سے کوئی سریہ نکل کر مال غنیمت حاصل کرے تو لشکر کے باقی لوگوں کو بھی اس میں شریک کرے، کسی مسلمان کو کافر کے بدلے قتل نہ کیا جائے اور نہ ہی کسی ذمی کو ۔ ابن اسحاق نے القود ٣ ؎ اور التکافؤ کا ذکر نہیں کیا ہے۔

Narrated Abdullah ibn Amr ibn al-As: The Messenger of Allah ﷺ said: Muslims are equal in respect of blood. The lowest of them is entitled to give protection on behalf of them, and the one residing far away may give protection on behalf of them. They are like one hand over against all those who are outside the community. Those who have quick mounts should return to those who have slow mounts, and those who got out along with a detachment (should return) to those who are stationed. A believer shall not be killed for an unbeliever, nor a confederate within the term of confederation with him. Ibn Ishaq did not mention retaliation and equality in respect of blood.

Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی شریف اور رذیل کے درمیان کوئی فرق نہیں کیا جائے گا۔ ٢ ؎: یعنی مسلمان آپس میں بھائی بھائی ہوں گے ایک دوسرے کی مدد کریں گے اور سب مل کر غیروں کا مقابلہ کریں گے۔ ٣ ؎: اس سے مراد لا يقتل مؤمن بکافر کا جملہ ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، وأعاد بعض المؤلف فی الدیات (٤٥٣١)، (تحفة الأشراف: ٨٧٨٦، ٨٨١٥)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/الدیات ٣١ (٢٦٨٥) (حسن صحیح )
2752Sunan Abu Dawood

اس دستہ کا بیان جو لشکر میں آکر مل جائے

حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ، حَدَّثَنِي إِيَاسُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: أَغَارَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَلَى إِبِلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَتَلَ رَاعِيَهَا فَخَرَجَ يَطْرُدُهَا هُوَ وَأُنَاسٌ مَعَهُ فِي خَيْلٍ، فَجَعَلْتُ وَجْهِي قِبَلَ الْمَدِينَةِ، ثُمَّ نَادَيْتُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ: يَا صَبَاحَاهُ، ثُمَّ اتَّبَعْتُ الْقَوْمَ فَجَعَلْتُ أَرْمِي وَأَعْقِرُهُمْ فَإِذَا رَجَعَ إِلَيَّ فَارِسٌ، جَلَسْتُ فِي أَصْلِ شَجَرَةٍ حَتَّى مَا خَلَقَ اللَّهُ شَيْئًا مِنْ ظَهْرِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا جَعَلْتُهُ وَرَاءَ ظَهْرِي، وَحَتَّى أَلْقَوْا أَكْثَرَ مِنْ ثَلَاثِينَ رُمْحًا وَثَلَاثِينَ بُرْدَةً يَسْتَخِفُّونَ مِنْهَا، ثُمَّ أَتَاهُمْ عُيَيْنَةُ مَدَدًا فَقَالَ: لِيَقُمْ إِلَيْهِ نَفَرٌ مِنْكُمْ، فَقَامَ إِلَيَّ أَرْبَعَةٌ مِنْهُمْ فَصَعِدُوا الْجَبَلَ فَلَمَّا أَسْمَعْتُهُمْ قُلْتُ: أَتَعْرِفُونِي قَالُوا: وَمَنْ أَنْتَ قُلْتُ: أَنَا ابْنُ الْأَكْوَعِ وَالَّذِي كَرَّمَ وَجْهَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، لَا يَطْلُبُنِي رَجُلٌ مِنْكُمْ فَيُدْرِكُنِي وَلَا أَطْلُبُهُ فَيَفُوتُنِي فَمَا بَرِحْتُ حَتَّى نَظَرْتُ إِلَى فَوَارِسِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَخَلَّلُونَ الشَّجَرَ أَوَّلُهُمْ الْأَخْرَمُ الْأَسَدِيُّ، فَيَلْحَقُ بِعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عُيَيْنَةَ، وَيَعْطِفُ عَلَيْهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ فَاخْتَلَفَا طَعْنَتَيْنِ فَعَقَرَ الْأَخْرَمُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ، وَطَعَنَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ فَقَتَلَهُ فَتَحَوَّلَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ عَلَى فَرَسِ الْأَخْرَمِ، فَيَلْحَقُ أَبُو قَتَادَةَ بِعَبْدِ الرَّحْمَنِ فَاخْتَلَفَا طَعْنَتَيْنِ فَعَقَرَ بِأَبِي قَتَادَةَ وَقَتَلَهُ أَبُو قَتَادَةَ فَتَحَوَّلَ أَبُو قَتَادَةَ عَلَى فَرَسِ الْأَخْرَمِ، ثُمَّ جِئْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عَلَى الْمَاءِ الَّذِي جَلَّيْتُهُمْ عَنْهُ ذُو قَرَدٍ فَإِذَا نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي خَمْسِ مِائَةٍ فَأَعْطَانِي سَهْمَ الْفَارِسِ وَالرَّاجِلِ.

سلمہ بن الاکوع ؓ کہتے ہیں کہ عبدالرحمٰن بن عیینہ نے رسول اللہ ﷺ کے اونٹوں کو لوٹ لیا، آپ کے چرواہے کو مار ڈالا، اور اونٹوں کو ہانکتا ہوا وہ اور اس کے ساتھ کچھ لوگ جو گھوڑوں پر سوار تھے چلے، تو میں نے اپنا رخ مدینہ کی طرف کیا، اور تین بار پکار کر کہا يا صباحاه (اے صبح کا حملہ) ١ ؎، اس کے بعد میں لٹیروں کے پیچھے چلا، ان کو تیر مارتا اور زخمی کرتا جاتا تھا، جب ان میں سے کوئی سوار میری طرف پلٹتا تو میں کسی درخت کی جڑ میں بیٹھ جاتا، یہاں تک کہ آپ ﷺ کے سارے اونٹوں کو میں نے اپنے پیچھے کردیا، انہوں نے اپنا بوجھ کم کرنے کے لیے تیس سے زائد نیزے اور تیس سے زیادہ چادریں نیچے پھینک دیں، اتنے میں عیینہ ان کی مدد کے لیے آپہنچا، اور اس نے کہا: تم میں سے چند آدمی اس شخص کی طرف (یعنی سلمہ بن الاکوع ؓ) کی طرف جائیں (اور اسے قتل کردیں) چناچہ ان میں سے چار آدمی میری طرف آئے اور پہاڑ پر چڑھ گئے، جب اتنے فاصلہ پر ہوئے کہ میں ان کو اپنی آواز پہنچا سکوں تو میں نے کہا: تم مجھے پہچانتے ہو، انہوں نے کہا: تم کون ہو؟ میں نے کہا: میں اکوع کا بیٹا ہوں، قسم اس ذات کی جس نے محمد ﷺ کو بزرگی عنایت کی، تم میں سے کوئی شخص مجھے پکڑنا چاہے تو کبھی نہ پکڑ سکے گا، اور میں جس کو چاہوں گا وہ بچ کر جا نہ سکے گا، پھر تھوڑی ہی دیر ہوئی تھی کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کے سواروں کو دیکھا کہ درختوں کے بیچ سے چلے آ رہے ہیں، ان میں سب سے آگے اخرم اسدی ؓ تھے، وہ عبدالرحمٰن بن عیینہ فزاری سے جا ملے، عبدالرحمٰن نے ان کو دیکھا تو دونوں میں بھالا چلنے لگا، اخرم ؓ نے عبدالرحمٰن کے گھوڑے کو مار ڈالا، اور عبدالرحمٰن نے اخرم ؓ کو مار ڈالا، پھر عبدالرحمٰن اخرم ؓ کے گھوڑے پر سوار ہوگیا، اس کے بعد ابوقتادہ ؓ نے عبدالرحمٰن کو جا لیا، دونوں میں بھالا چلنے لگا، تو اس نے ابوقتادہ ؓ کے گھوڑے کو مار ڈالا، اور ابوقتادہ ؓ نے عبدالرحمٰن کو مار ڈالا، پھر ابوقتادہ اخرم کے گھوڑے پر سوار ہوگئے، اس کے بعد میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آگیا، آپ ذو قرد نامی چشمے پر تھے جہاں سے میں نے لٹیروں کو بھگایا تھا تو دیکھتا ہوں کہ آپ پانچ سو آدمیوں کے ساتھ موجود ہیں، آپ نے مجھے سوار اور پیدل دونوں کا حصہ دیا ٢ ؎۔

Salamah (bin Al Akwa) said “Abd Al rahman bin ‘Uyainah raided the Camels of the Messenger of Allah ﷺ and killed their herdsman. He and some people who were with him on horses proceeded on driving them away. I turned my face towards Madeenah and shouted three times. A morning raid, I then went after the people shooting arrows at them and hamstringing them (their beasts). When a horseman returned to me, I sat in the foot of a tree till there was no riding beast of the Prophet ﷺ created by Allaah which I had not kept behind my back. They threw away more than thirty lance and thirty cloaks to lighten themselves. Then ‘Uyainah came to them with reinforcement and said “A few of you should go to him. Four of them stood and came to me. They ascended a mountain. Then they came near me till they could hear my voice. I told them “Do you know me?” They said “Who are you? I replied “I am Ibn Al Akwa. By Him Who honored the face of Muhammad ﷺ if any man of you pursues he cannot catch me and if I pursue him, I will not miss him. This went on with me till I saw the horsemen of the Messenger of Allah ﷺ coming through the trees. Al Akhram Al Asadi was at their head. He then joined Abd Al Rahman bin ‘Uyainah and Abd Al Rahman turned over him. They attacked each other with lances. Al Akhram hamstrung Abd Al Rahman’s horse and Abd Al Rahman pierced a lance in his body and killed him. Abd al Rahman then returned on the horse of Al Akhram. I then came to the Messenger of Allah ﷺ who was present at the same water from where I drove them away and which is known as Dhu Qarad. The Prophet ﷺ was among five hundred people. He then gave me two portions a horseman’s and a footman’s.

Notes · وضاحت
١ ؎: ” يا صباحاه “: یہ وہ کلمہ ہے جسے عام طور سے فریادی کہا کرتے تھے۔ ٢ ؎: تو تین حصے دیئے یا چار، انہوں نے کام ہی ایسا کیا تھا کہ جو بہت سے آدمیوں سے نہ ہوتا، صحیح مسلم کی روایت میں ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا کہ ” سواروں میں آج سب سے بہتر ابوقتادہ ؓ ہیں، اور پیادوں میں سب سے بہتر سلمہ بن الاکوع ہیں “، پھر سلمہ بن الاکوع ؓ نے کہا کہ رسول اکرم ﷺ نے مجھے اپنے پیچھے عضباء نامی اونٹی پر بیٹھا لیا، اور مدینے تک اسی طرح آئے۔ آپ ﷺ نے سلمہ بن الاکوع ؓ کو ایک سوار کا حصہ دیا، اور ایک پیدل کا، اس میں دو احتمال ہے: ایک یہ کہ چار حصے دیئے، دوسرے یہ کہ تین حصے دئیے، اس کی وجہ یہ ہے کہ سوار کے حصہ میں اختلاف ہے، جن لوگوں کے نزدیک سوار کے تین حصے ہیں، ایک حصہ خود اس کا، دو حصہ اس کے گھوڑے کا، اور جن کے نزدیک سوار کے دو حصے ہیں، ایک حصہ اس کا، اور ایک حصہ اس کے گھوڑے کا۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٤٥٢٧)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الجھاد ٤٥ (١٨٠٦)، مسند احمد (٤/٤٨) (حسن صحیح )
2753Sunan Abu Dawood

سو نے چاندی میں سے نفل کا بیان اور غنیمت کے مال میں سے

حَدَّثَنَا أَبُو صَالِحٍ مَحْبُوبُ بْنُ مُوسَى، أَخْبَرَنَا أَبُو إِسْحَاق الْفَزَارِيُّ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ، عَنْ أَبِي الْجُوَيْرِيَةِ الْجَرْمِيِّ، قَالَ: أَصَبْتُ بِأَرْضِ الرُّومِ جَرَّةً حَمْرَاءَ فِيهَا دَنَانِيرُ، فِي إِمْرَةِ مُعَاوِيَةَ وَعَلَيْنَا رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ بَنِي سُلَيْمٍ يُقَالُ لَهُ مَعْنُ بْنُ يَزِيدَ، فَأَتَيْتُهُ بِهَا فَقَسَمَهَا بَيْنَ الْمُسْلِمِينَ وَأَعْطَانِي مِنْهَا مِثْلَ مَا أَعْطَى رَجُلًا مِنْهُمْ، ثُمَّ قَالَ: لَوْلَا أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: لَا نَفْلَ إِلَّا بَعْدَ الْخُمُسِ لَأَعْطَيْتُكَ، ثُمَّ أَخَذَ يَعْرِضُ عَلَيَّ مِنْ نَصِيبِهِ فَأَبَيْتُ.

ابو جویریہ جرمی کہتے ہیں کہ معاویہ ؓ کے عہد خلافت میں روم کی سر زمین میں مجھے ایک سرخ رنگ کا گھڑا ملا جس میں دینار تھے ١ ؎، اس وقت قبیلہ بنو سلیم کے ایک شخص جو نبی اکرم ﷺ کے صحابہ میں سے تھے، ہمارے اوپر حاکم تھے، ان کو معن بن یزید کہا جاتا تھا، میں اسے ان کے پاس لایا، انہوں نے ان دیناروں کو مسلمانوں میں بانٹ دیا اور مجھ کو اس میں سے اتنا ہی دیا جتنا ہر شخص کو دیا، پھر کہا: اگر میں نے رسول اللہ ﷺ سے یہ کہتے سنا نہ ہوتا کہ نفل خمس ٢ ؎ نکالنے کے بعد ہی ہے تو میں تمہیں اوروں سے زیادہ دیتا، پھر وہ اپنے حصہ سے مجھے دینے لگے تو میں نے لینے سے انکار کیا۔

Narrated Maan ibn Yazid: AbulJuwayriyyah al-Jarmi said: I found a red pitcher containing dinars in Byzantine territory during the reign of Muawiyah. A man from the Companions of the Prophet ﷺ belonging to Banu Sulaym was our ruler. He was called Maan ibn Yazid. I brought it to him. He apportioned it among the Muslims. He gave me the same portion which he gave to one of them. He then said: Had I not heard the Messenger of Allah ﷺ say: There is no reward except after taking the fifth (from the booty), I would have given you (the reward). He then presented his own share to me, but I refused.

Notes · وضاحت
١ ؎: دشمن سے جو مال جہاد میں حاصل ہوتا ہے اسے غنیمت کہتے ہیں، غنیمت میں چار حصے غازیوں میں تقسیم کئے جاتے ہیں، اور ایک حصہ امام رکھ لیتا ہے، امام کو اختیار ہے کہ لشکر میں سے کسی خاص جماعت یا کسی خاص شخص کو کسی خاص کام کے سلسلے میں بطور انعام کچھ زیادہ دے دے، اسے نفل کہتے ہیں، یہ لشکر جو نجد کی طرف گیا تھا اس میں چار ہزار آدمی تھے، ہر ایک کے حصہ میں بارہ اونٹ آئے، لیکن پندرہ آدمیوں کی ایک ٹکڑی کو جن میں عبداللہ بن عمر ؓ تھے، ایک ایک اونٹ بطور نفل زیادہ دیا۔ ٢ ؎: یہ غنیمت کا مال نہیں ہے جسے کافروں سے لڑ کر چھینا گیا ہو، بلکہ یہ فیٔ کا مال ہے جس میں خمس نہیں ہوتا لہٰذا اس میں نفل بھی نہیں ہوگا۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ١١٤٨٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٤٧٠) (صحیح )
2754Sunan Abu Dawood

سو نے چاندی میں سے نفل کا بیان اور غنیمت کے مال میں سے

حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، عَنْ ابْنِ الْمُبَارَكِ، عَنْ أَبِي عَوَانَةَ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ بِإِسْنَادِهِ وَمَعْنَاهُ.

اس سند سے بھی عاصم بن کلیب سے اسی طریق سے اور اسی مفہوم کی حدیث مروی ہے۔

The tradition mentioned above has also been transmitted by Asim bin Kulaib through a different chain of narrators to the same effect.

Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: ١١٤٨٤) (صحیح )
2755Sunan Abu Dawood

فئی میں سے اگر امام اپنے لئے کچھ رکھے تو کیا حکم ہے؟

حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ عُتْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْعَلَاءِ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَلَّامٍ الْأَسْوَدَ، قَالَ: سَمِعْتُعَمْرَو بْنَ عَبَسَةَ، قَالَ: صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى بَعِيرٍ مِنَ الْمَغْنَمِ فَلَمَّا سَلَّمَ أَخَذَ وَبَرَةً مِنْ جَنْبِ الْبَعِيرِ، ثُمَّ قَالَ: وَلَا يَحِلُّ لِي مِنْ غَنَائِمِكُمْ مِثْلُ هَذَا إِلَّا الْخُمُسُ وَالْخُمُسُ مَرْدُودٌ فِيكُمْ.

عمرو بن عبسہ ؓ کہتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے ہمیں مال غنیمت کے ایک اونٹ کی طرف منہ کر کے نماز پڑھائی، پھر جب سلام پھیرا تو اونٹ کے پہلو سے ایک بال لیا، اور فرمایا: تمہاری غنیمتوں میں سے میرے لیے اتنا بھی حلال نہیں سوائے خمس کے، اور خمس بھی تمہیں لوٹا دیا جاتا ہے ١ ؎۔

Narrated Amr ibn Abasah (RA) : The Messenger of Allah ﷺ led us in prayer facing a camel which had been taken in booty, and when he had given the salutation, he took a hair from the camels side and said: I have no right as much as this of your booty, but only to the fifth. and the fifth is returned to you.

Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ امام غنیمت کے مال میں سے سوائے خمس کے کچھ نہیں لے گا، اور خمس بھی جو لے گا وہ تنہا اس کا نہیں ہوگا بلکہ وہ اسے مسلمانوں ہی میں اس تفصیل کے مطابق خرچ کرے گا جسے اللہ تعالیٰ نے آیت کریمہ واعلموا أنما غنمتم من شيئ فإن لله خمسه وللرسول ولذي القربى ولليتامى والمساکين میں بیان کیا ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ١٠٧٦٩) (صحیح )
2756Sunan Abu Dawood

عہد پورا کرناضروری ہے

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِنَّ الْغَادِرَ يُنْصَبُ لَهُ لِوَاءٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، فَيُقَالُ هَذِهِ غَدْرَةُ فُلَانِ بْنِ فُلَانٍ.

عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: بدعہدی کرنے والے کے لیے قیامت کے دن ایک جھنڈا نصب کیا جائے گا، اور کہا جائے گا: یہ فلاں بن فلاں کی بدعہدی ہے ۔

Ibn Umar reported the Messenger of Allah ﷺ as saying “A banner will be hoisted for a treacherous man on the Day of Judgment, it will then be announced. This is a treachery of so and so, son of so and so.

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الجزیة ٢٢ (٣١٨٨)، والأدب ٩٩ (٦١٧٧)، والحیل ٩ (٦٩٦٦)، والفتن ٢١ (٧١١١)، (تحفة الأشراف: ٧٢٣٢)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الجھاد ٤ (١٧٣٦)، سنن الترمذی/السیر ٢٨ (١٥٨١)، مسند احمد (٢/١٤٢) وأعادہ المؤلف فی السنة (٤٦٥٥) (صحیح )
2757Sunan Abu Dawood

امام جو عہد کرے اس کی پابندی سب لوگوں پر ضروری ہے

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ الْبَزَّازُ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّمَا الْإِمَامُ جُنَّةٌ يُقَاتَلُ بِهِ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: امام بحیثیت ڈھال کے ہے اسی کی رائے سے لڑائی کی جاتی ہے (تو اسی کی رائے پر صلح بھی ہوگی) ١ ؎۔

Abu Hurarirah reported the Messenger of Allah ﷺ as saying “A Muslim ruler is shield by which a battle is fought. ”

Notes · وضاحت
١ ؎: امام اور امیر کی قیادت میں عام شہری اس کے حکم اور اس کی رائے اور اس کی طرف سے دشمن سے کیے گئے معاہدوں کے مطابق زندگی گزارتے ہیں، ایسی صورت میں امام رعایا کے لیے ڈھال ہوتا ہے، جس کے ذریعے سے لوگ نقصانات سے محفوظ رہتے ہیں، جیسے ڈھال کے ذریعے آدمی دشمن کے وار سے محفوظ رہتا ہے، امام اور دشمن کے درمیان جو بات صلح اور اتفاق سے طے ہوجاتی ہے، اس کے مطابق دونوں فریق اپنے مسائل حل کرتے ہیں، تو امام کے معاہدہ کے نتیجے میں لوگ دشمن کی ایذا سے محفوظ رہتے ہیں، اس لیے امام اور حاکم کی حیثیت امن اور جنگ میں ڈھال کی ہے، جس سے رعایا فوائد حاصل کرتی ہے، اور دشمن کے شر سے محفوظ رہتی ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٣٧٨٨)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الجھاد ١٠٩ (٢٩٥٧)، صحیح مسلم/الإمارة ٩ (١٨٤١)، سنن النسائی/البیعة ٣٠ (٤٢٠١) (صحیح )
2758Sunan Abu Dawood

امام جو عہد کرے اس کی پابندی سب لوگوں پر ضروری ہے

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ الأَشَجِّ، عَنْ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي رَافِعٍ، أَنَّ أَبَا رَافِعٍ أَخْبَرَهُ، قَالَ: بَعَثَتْنِي قُرَيْشٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُلْقِيَ فِي قَلْبِي الْإِسْلَامُ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي وَاللَّهِ لَا أَرْجِعُ إِلَيْهِمْ أَبَدًا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنِّي لَا أَخِيسُ بِالْعَهْدِ وَلَا أَحْبِسُ الْبُرُدَ، وَلَكِنْ ارْجِعْ فَإِنْ كَانَ فِي نَفْسِكَ الَّذِي فِي نَفْسِكَ الْآنَ فَارْجِعْ، قَالَ: فَذَهَبْتُ ثُمَّ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَسْلَمْتُ، قَالَ بُكَيْرٌ: وَأَخْبَرَنِي أَنَّ أَبَا رَافِعٍ كَانَ قِبْطِيًّا، قَالَ أَبُو دَاوُد: هَذَا كَانَ فِي ذَلِكَ الزَّمَانِ فَأَمَّا الْيَوْمَ فَلَا يَصْلُحُ.

ابورافع ؓ کہتے ہیں کہ قریش نے مجھے (صلح حدیبیہ میں) رسول اللہ ﷺ کے پاس بھیجا، جب میں نے آپ کو دیکھا تو میرے دل میں اسلام کی محبت پیدا ہوگئی، میں نے کہا: اللہ کے رسول! اللہ کی قسم! میں ان کی طرف کبھی لوٹ کر نہیں جاؤں گا، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میں نہ تو بدعہدی کرتا ہوں اور نہ ہی قاصدوں کو گرفتار کرتا ہوں، تم واپس جاؤ، اگر تمہارے دل میں وہی چیز رہی جو اب ہے تو آجانا ، ابورافع کہتے ہیں: میں قریش کے پاس لوٹ آیا، پھر دوبارہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آ کر مسلمان ہوگیا۔ بکیر کہتے ہیں: مجھے حسن بن علی نے خبر دی ہے کہ ابورافع قبطی غلام تھے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ اس زمانہ میں تھا اب یہ مناسب نہیں ١ ؎۔

Narrated Abu Rafi (RA) : The Quraysh sent me to the Messenger of Allah ﷺ , and when I saw the Messenger of Allah ﷺ , Islam was cast into my heart, so I said: Messenger of Allah, I swear by Allah, I shall never return to them. The Messenger of Allah ﷺ replied: I do not break a covenant or imprison messengers, but return, and if you feel the same as you do just now, come back. So I went away, and then came to the Prophet ﷺ and accepted Islam. The narrator Bukair said: He informed me that Abu Rafi was a Copt. Abu Dawud said: This was valid in those days, but today it is not valid.

Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی اسلام لے آنے والے قاصد کو کفار کی طرف لوٹا دینا اسی مدت کے اندر اور خاص آپ ﷺ کے لئے تھا، اب ایسا کرنا اسلامی کاز کے لئے بہتر نہیں ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ١٢٠١٣)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/ الکبری/ السیر (٨٦٧٤) (صحیح )