ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ ایک شخص نے نبی اکرم ﷺ کے پاس اندر آنے کی اجازت مانگی تو آپ نے فرمایا: اپنے کنبے کا برا شخص ہے جب وہ اندر آگیا، تو رسول اللہ ﷺ اس سے کشادہ دلی سے ملے اور اس سے باتیں کیں، جب وہ نکل کر چلا گیا تو میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! جب اس نے اجازت طلب کی تو آپ نے فرمایا: اپنے کنبے کا برا شخص ہے، اور جب وہ اندر آگیا تو آپ اس سے کشادہ دلی سے ملے آپ نے فرمایا: عائشہ! اللہ تعالیٰ کو فحش گو اور منہ پھٹ شخص پسند نہیں ۔
Narrated Aisha (RA) , Ummul Muminin (RA) : A man asked permission to see the Prophet ﷺ , and the Prophet ﷺ said: He is a bad member of the tribe. When he entered, the Messenger of Allah ﷺ treated in a frank and friendly way and spoke to him. When he departed, I said: Messenger of Allah! When he asked permission, you said: He is a bad member of the tribe, but when he entered, you treated him in a frank and friendly way. The Messenger of Allah replied: Aisha (RA) ! Allah does not like the one who is unseemly and lewd in his language. The tradition mentioned above has been transmitted by Aisha (RA) through a different chain of narrators. This version has: The Prophet ﷺ said: Aisha (RA) ! There are some bad people who are respected for fear of their tongues.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٧٧٥٥) (حسن صحیح )
اس سند سے بھی ام المؤمنین عائشہ ؓ سے یہی واقعہ مروی ہے، وہ کہتی ہیں آپ نے یعنی نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اے عائشہ! لوگوں میں سب سے بدترین لوگ وہ ہیں وہ جن کا احترام و تکریم ان کی زبانوں سے بچنے کے لیے کیا جائے ۔
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٧٥٨٠)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/١١١) (ضعیف الإسناد )
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ انصار کے ایک شخص پر سے گزرے، وہ اپنے بھائی کو شرم و حیاء کرنے پر ڈانٹ رہا تھا (اور سمجھا رہا تھا کہ زیادہ شرم کرنا اچھی بات نہیں) رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اسے اس کے حال پر چھوڑ دو، شرم تو ایمان کا ایک حصہ ہے ١ ؎۔
Abdullah bin Umar (RA) said: The Prophet ﷺ passed by a man of the Ansar when he was giving his brother a warning against modesty. The Messenger of Allah ﷺ said: Leave him alone, for modesty is a part of faith.
Notes · وضاحت
١ ؎: اگرچہ وہ ایک طبعی خصلت ہے لیکن قانون شرع کے مطابق اس کا استعمال قصد اکتساب اور علم کا محتاج ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الإیمان ١٦ (٢٤)، سنن النسائی/الإیمان ٢٧ (٥٠٣٦)، (تحفة الأشراف: ٦٩١٣) وقد أخرجہ: صحیح مسلم/ الإیمان ١٢ (٣٦)، سنن الترمذی/الإیمان ٧ (٢٦١٨)، سنن ابن ماجہ/المقدمة ٩ (٥٨)، موطا امام مالک/حسن الخلق ٢ (١٠)، مسند احمد (٢/٥٦، ١٤٧) (صحیح )
ابوقتادہ کہتے ہیں ہم عمران بن حصین ؓ کے ساتھ تھے اور وہاں بشیر بن کعب بھی تھے تو عمران بن حصین ؓ نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے: حیاء خیر ہے پورا کا پورا، یا کہا حیاء پورا کا پورا خیر ہے،، اس پر بشیر بن کعب نے کہا: ہم بعض کتابوں میں لکھا پاتے ہیں کہ حیاء میں سے کچھ تو سکینہ اور وقار ہے، اور کچھ ضعف و ناتوانی، یہ سن کر عمران نے حدیث دہرائی تو بشیر نے پھر اپنی بات دہرائی تو عمران ؓ غصہ ہوگئے یہاں تک کہ ان کی آنکھیں سرخ ہوگئیں، اور بولے: میں تم سے حدیث رسول اللہ بیان کر رہا ہوں، اور تم اپنی کتابوں کے بارے میں مجھ سے بیان کرتے ہو۔ ابوقتادہ کہتے ہیں: ہم نے کہا: اے ابونجید (عمران کی کنیت ہے) چھوڑئیے جانے دیجئیے۔
Abu Qatadah said: We were sitting with Imran bin Hussain and Bushair bin Kaab was also there. Imran bin Hussain reported the Messenger of Allah ﷺ as saying: Modesty is a good altogether, or he said: Modesty is altogether good. Bushair bin Kaab said: We find in some books that there is a modesty which produces peace and dignified bearing, and there is a modesty which produces weakness. Imran bin Hussain repeated the same words. So Imran became angry so much so that his eyes became red, and he said: Don’t you see that i am transmitting a tradition from the Messenger of Allah ﷺ and you are mentioning something from your books? He (Qatadah) said: We said: Abu Nujaid, it is sufficient.
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الإیمان ١٢ (٣٧)، (تحفة الأشراف: ١٠٨٧٨)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الأدب ٧٧ (٦١١٧)، مسند احمد (٤/٤٢٧) (صحیح )
ابومسعود ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: سابقہ نبوتوں کے کلام میں سے باقی ماندہ چیزیں جو لوگوں کو ملی ہیں ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ جب تمہیں شرم نہ ہو تو جو چاہو کرو ۔
Abu Masud reported the Messenger of Allah ﷺ as saying: One of the things people have learnt from the words of the earliest prophecy is: If you have no shame, do what you like.
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/أحادیث الأنبیاء ٥٤ (٣٤٨٣)، الأدب ٧٨ (٦١٢٠)، سنن ابن ماجہ/الزھد ١٧ (٤١٨٣)، (تحفة الأشراف: ٩٩٨٢)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/١٢١، ١٢٢، ٥/٢٧٣) (صحیح )
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: مومن اپنی خوش اخلاقی سے روزے دار اور رات کو قیام کرنے والے کا درجہ پا لیتا ہے ۔
Narrated Aisha (RA) , Ummul Muminin (RA) : The Messenger of Allah ﷺ said: By his good character a believer will attain the degree of one who prays during the night and fasts during the day.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ١٧٦٦٦)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٦٤، ٩٠، ١٣٣، ١٨٧) (صحیح )
ابوالدرداء ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: (قیامت کے دن) میزان میں خوش خلقی سے زیادہ بھاری کوئی چیز نہ ہوگی ۔
Narrated Abud Darda: The Prophet ﷺ said: There is nothing heavier than good character put in the scale of a believer on the Day of Resurrection. Abu al-Walid said: I heard Ata al-Kaikharani say: Abu Dawud said: His name is Ata bin Yaqub. He is the maternal uncle of Ibrahim bin Nafi. He is called Kaikharani or Kukharani.
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/البر والصلة ٦٢ (٢٠٠٣)، (تحفة الأشراف: ١٠٩٩٢)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٤٤٦، ٤٤٨) (صحیح )
ابوامامہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میں اس شخص کے لیے جنت کے اندر ایک گھر کا ضامن ہوں جو لڑائی جھگڑا ترک کر دے، اگرچہ وہ حق پر ہو، اور جنت کے بیچوں بیچ ایک گھر کا اس شخص کے لیے جو جھوٹ بولنا چھوڑ دے اگرچہ وہ ہنسی مذاق ہی میں ہو، اور جنت کی بلندی میں ایک گھر کا اس شخص کے لیے جو خوش خلق ہو ۔
Narrated Abu Umamah (RA) : The Prophet ﷺ said: I guarantee a house in the surroundings of Paradise for a man who avoids quarrelling even if he were in the right, a house in the middle of Paradise for a man who avoids lying even if he were joking, and a house in the upper part of Paradise for a man who made his character good.
حارثہ بن وہب ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جواظ جنت میں نہ داخل ہوگا اور نہ جعظری جنت میں داخل ہوگا ١ ؎۔ راوی کہتے ہیں جواظ کے معنی بدخلق اور سخت دل کے ہیں۔
Harithah bin Wahab reported the Messenger of Allah ﷺ as saying: Neither the Jawwaz nor the Jazari will enter paradise. He said that the Jawwaz is the one who is coarse and uncivil.
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ دونوں لفظ کثیرالمعانی ہیں، حافظ ابن الاثیرجواظ کی شرح میں فرماتے ہیں: مال جوڑنے والا اور خرچ نہ کرنے والا، یا لحیم شحیم اپنی چال میں اترنے والا، یا چھوٹا بڑے پیٹ والا، مصباح اللغات میں جواظ کے معنی میں فرمایا: تکبر سے چلنے والا، اجڈ بہت کھانے والا، ابن الاثیر جعظری کے بارے میں فرماتے ہیں: بھدا موٹا اور متکبر، یا ایسا شخص جو ڈینگیں مارے، اور اس کے پاس کچھ نہ ہو، اور چھوٹا ناٹا ہو، مولانا وحیدالزمان حیدرآبادی نے ان لفظوں کے ترجمہ میں فرمایا: فریبی یا مال جوڑنے والا، اور دمڑی خرچ نہ کرنے والا، یا موٹا غلیظ، یا بیہودہ چلانے والا بدخلق سرکش (یہ سب جواظ کے معنی تھے) اور مغرور سخت گویا موٹا بھدا بہت کھانے والا (یہ جب ہے کہ حرام کے مال سے موٹا ہوا ہو) (ابوداود ٣/٥٨١ )
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ٣٢٨٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٣٠٦) (صحیح )
انس ؓ کہتے ہیں کہ (نبی اکرم ﷺ کی اونٹنی) عضباء مقابلے میں کبھی پیچھے نہیں رہی تھی (ایک بار) ایک اعرابی اپنے ایک نوعمر اونٹ پر سوار ہو کر آیا، اور اس نے اس سے مقابلہ کیا تو اعرابی اس سے آگے نکل گیا تو ایسا لگا کہ یہ چیز رسول اللہ ﷺ کے اصحاب پر گراں گزری ہے تو آپ نے فرمایا: اللہ کا یہ دستور ہے کہ جو چیز بھی اوپر اٹھے اسے نیچا کر دے ۔
Anas said: The she-camel of the Messenger of Allah ﷺ called Al-Adba had not been outstripped by another, but an Arabi (a nomadic Arab) came on a young riding camel of his and it outstripped it. That distressed the companions of the Messenger of Allah ﷺ , but he said: It is Allah’s right that nothing should become exalted in the world but he lowers it.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٣١٩)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الجھاد ٥٩ (٢٨٧٢ تعلیقًا)، سنن النسائی/الخیل ١٥ (٣٦٢٢)، مسند احمد (٣/٢٥٣) (صحیح )
اس سند سے بھی انس ؓ سے یہی قصہ مرفوعاً مروی ہے اس میں ہے، آپ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کا یہ دستور ہے کہ دنیا کی جو بھی چیز بہت اوپر اٹھے تو اسے نیچا کر دے ۔
Narrating this story Anas reported the Prophet ﷺ as saying: it is Allah’s right that nothing should become exalted in the world but he lowers it.
ہمام کہتے ہیں کہ ایک شخص آیا اور عثمان ؓ کی تعریف انہی کے سامنے کرنے لگا، تو مقداد بن اسود ؓ نے مٹی لی اور اس کے چہرے پہ ڈال دی اور کہا: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے: جب تم تعریف کرنے والوں سے ملو تو ان کے چہروں پر مٹی ڈال دو۔
Hammam said: A man came and praised Uthman in his face, Al-Miqdad bin Al-Aswad took dust and threw it on his face, saying: the Messenger of Allah ﷺ said: when you see those who are given to praising people, throw dust in their faces.
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الزھد ١٤ (٣٠٠٢)، (تحفة الأشراف: ١١٥٤٩)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الزھد ٥٤ (٢٣٩٣)، سنن ابن ماجہ/الأدب ٣٦ (٣٧٤٢)، مسند احمد (٦/٥) (صحیح )
ابوبکرہ ؓ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے نبی اکرم ﷺ کے پاس ایک شخص کی تعریف کی، تو آپ نے اس سے فرمایا: تم نے اپنے ساتھی کی گردن کاٹ دی اسے آپ نے تین بار کہا، پھر فرمایا: جب تم میں سے کسی کو اپنے ساتھی کی مدح و تعریف کرنی ہی پڑجائے تو یوں کہے: میں اسے ایسے ہی سمجھ رہا ہوں، لیکن میں اللہ کے بالمقابل اس کا تزکیہ نہیں کرتا ١ ؎۔
Abu Bakrah said that when a man praised another man in his face in the presence of the Prophet ﷺ said: You have beheaded your friend (saying it three times). He then said: One who cannot help expressing praise of his compnion, should say: I consider him such and such (as he intends to say), but I do not declare him pure with Allah.
Notes · وضاحت
١ ؎: مطلب یہ ہے کہ میں اس کا ظاہر دیکھ کر ایسا کہہ رہا ہوں رہا اس کا باطن تو اس کا علم اللہ ہی کو ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الأدب ٩٥ (٦١٦٢)، صحیح مسلم/الزھد ١٤ (٣٠٠٠)، سنن ابن ماجہ/الأدب ٣٦ (٣٧٤٤)، (تحفة الأشراف: ١١٦٧٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٤١، ٤٥، ٤٦، ٤٧، ٥٠) (صحیح )
مطرف کے والد عبداللہ بن شخیر کہتے ہیں کہ میں بنی عامر کے وفد میں رسول اللہ ﷺ کے پاس گیا، تو ہم نے عرض کیا: آپ ہمارے سید، آپ نے فرمایا: سید تو اللہ تعالیٰ ہے ١ ؎ ہم نے عرض کیا: اور آپ ہم سب میں درجے میں افضل ہیں اور دوستوں کو نوازنے اور دشمنوں پر فائق ہونے میں سب سے عظیم ہیں، آپ نے فرمایا: جو کہتے ہو کہو، یا اس میں سے کچھ کہو، (البتہ) شیطان تمہیں میرے سلسلے میں جری نہ کر دے (کہ تم ایسے کلمات کہہ بیٹھو جو میرے لیے زیبا نہ ہو) ۔
Narrated Abdullah ibn ash-Shikhkhir: I went with a deputation of Banu Amir to the Messenger of Allah ﷺ , and we said: You are our lord (sayyid). To this he replied: The lord is Allah, the Blessed and Exalted. Then we said: And the one of us most endowed with excellence and superiority. To this he replied: Say what you have to say, or part of what you have to say, and do not let the devil make you his agents.
Notes · وضاحت
١ ؎: مطلب یہ ہے کہ وہی اس لفظ کا حقیقی مستحق ہے، اور حقیقی معنیٰ میں سید اللہ ہی ہے، اور یہ مجازی اضافی سیادت جو افراد انسانی کے ساتھ مخصوص ہے منافی نہیں، حدیث میں ہے أنا سيد ولد آدم ولا فخر۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ٥٣٤٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٢٤، ٢٥) (صحیح )
عبداللہ بن مغفل ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ رفیق ہے، رفق اور نرمی پسند کرتا ہے، اور اس پر وہ دیتا ہے، جو سختی پر نہیں دیتا ١ ؎۔
Abdullah bin Mughaffal reported the Messenger of Allah ﷺ as saying: Allah is gentle, likes gentleness, and gives for gentleness what he does not give for harshness.
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی وہ اپنے بندوں کے ساتھ نرمی کرنے والا ہے، اس کا معاملہ اپنے بندوں کے ساتھ لطف و مہربانی کا ہوتا ہے، وہ ان پر آسانی چاہتا ہے، سختی نہیں اور انہیں ایسی چیزوں کا مکلف نہیں بناتا جوان کے بس میں نہیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ٩٦٥٢)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٨٧) (صحیح )
شریح کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ ؓ سے دیہات (بادیہ) جانے، وہاں قیام کرنے کے بارے میں پوچھا (کہ کیسا ہے) آپ نے کہا: رسول اللہ ﷺ ان نالوں کی طرف دیہات (بادیہ) جایا کرتے تھے، ایک بار آپ نے باہر دیہات (بادیہ) جانے کا ارادہ کیا تو میرے پاس زکوٰۃ کے اونٹوں میں سے ایک اونٹنی بھیجی، جس پر سواری نہیں کی گئی تھی، اور مجھ سے فرمایا: اے عائشہ! نرمی کرو، اس لیے کہ جس چیز میں نرمی ہوتی ہے، اسے زینت دیتی ہے اور جس چیز سے بھی نکل جاتی ہے، اسے عیب دار بنا دیتی ہے۔ ابن الصباح اپنی حدیث میں کہتے ہیں: محرم ۃ سے مراد وہ اونٹنی ہے جس پر سواری نہ کی گئی ہو۔
Narrated Aisha (RA) , Ummul Muminin (RA) : Al-Miqdam ibn Shurayh, quoting his father, said: I asked Aisha (RA) about living in the desert. She said: The Messenger of Allah ﷺ used to go to the desert to these rivulets. Once he intended to go to the desert and he sent to me a she-camel from the camel of sadaqah which had not been used for riding so far. He said to me: Aisha (RA) ! show gentleness, for if gentleness is found in anything, it beautifies it and when it is taken out from anything it damages it. Ibn al-Sabbah said in his version: Muharramah means a mount which has not been used for riding.
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: (٢٤٧٨)، (تحفة الأشراف: ١٦١٥٠) (صحیح )
سعد ؓ کہتے ہیں کہ تاخیر اور آہستگی ہر چیز میں (بہتر) ہے، سوائے آخرت کے عمل کے ١ ؎۔ اعمش کہتے ہیں میں یہی جانتا ہوں کہ یہ حدیث نبی اکرم ﷺ سے مروی ہے یعنی مرفوع ہے۔
Narrated Saad (RA) : The Prophet ﷺ said: There is hesitation in everything except in the actions of the next world.
Notes · وضاحت
١ ؎: کیونکہ نیک کاموں میں تاخیر اور التواء سارعوا إلى مغفرة من ربکم کے منافی ہے۔
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جو لوگوں کا شکر ادا نہیں کرتا اللہ کا (بھی) شکر ادا نہیں کرتا ۔
Narrated Abu Hurairah (RA) : The Prophet ﷺ said: He who does not thank Allah does not thank people.
Notes · وضاحت
١ ؎: جس کی عادت و طبیعت میں بندوں کی ناشکری ہو وہ اللہ کے احسانات کی بھی ناشکری کرتا ہے، یا یہ مطلب ہے کہ اللہ ایسے بندوں کا شکر قبول نہیں فرماتا جو لوگوں کے احسانات کا شکریہ ادا نہ کرتے ہوں۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/البر والصلة ٣٥ (١٩٥٤)، (تحفة الأشراف: ١٤٣٦٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٢٩٥، ٤٦١، ٣٠٣، ٥/٢١١، ٢١٢) (صحیح )
انس ؓ کہتے ہیں کہ مہاجرین نے کہا: اللہ کے رسول! سارا اجر تو انصار لے گئے، آپ نے فرمایا: نہیں (ایسا نہیں ہوسکتا کہ تم اجر سے محروم رہو) جب تک تم اللہ سے ان کے لیے دعا کرتے رہو گے اور ان کی تعریف کرتے رہو گے ۔
Narrated Anas ibn Malik: The Immigrants (Muhajirun) said: Messenger of Allah! the Helpers (Ansar) got the entire reward. He said: no, so long as you pray to Allah for them and praise them.
Takhrij · تخریج
سنن النسائی في الیوم واللیلة (١٨١)، (تحفة الأشراف: ٣٤٠)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٢٠٠، ٢٠١) (صحیح )
جابر بن عبداللہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس کو کوئی چیز دی جائے پھر وہ بھی (دینے کے لیے کچھ) پا جائے تو چاہیئے کہ اس کا بدلہ دے، اور اگر بدلہ کے لیے کچھ نہ پائے تو اس کی تعریف کرے، اس لیے کہ جس نے اس کی تعریف کی تو گویا اس نے اس کا شکر ادا کردیا، اور جس نے چھپایا (احسان کو) تو اس نے اس کی ناشکری کی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے یحییٰ بن ایوب نے عمارہ بن غزیہ سے، انہوں نے شرحبیل سے اور انہوں نے جابر سے روایت کیا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: سند میں رجل من قومی سے مراد شرحبیل ہیں، گویا وہ انہیں ناپسند کرتے تھے، اس لیے ان کا نام نہیں لیا۔
Narrated Jabir ibn Abdullah (RA) : The Prophet ﷺ said: If someone is given something, he should give a return for it provided he can afford; if he cannot afford, he should praise him. He who praises him for it, thanks him, and he who conceals it is ungrateful to him. Abu Dawud said: It has been transmitted by Yahya bin Ayyub, from Umarah bin Ghaziyyah, from Sharahbil on the authority of Jabir Abu Dawud said: In the chain of this tradition Umarah bin Ghaziyyah said: A man from my tribe said. The man referred by him is in Sharahbil. It is likely that they disliked him and, therefore, they did not blame him.