Al-A'laa 87:9

Al-A'laa · from ayah 9

87:9

فَذَكِّرْ اِنْ نَّفَعَتِ الذِّكْرٰی ۟ؕفَذَكِّرۡ اِنۡ نَّفَعَتِ الذِّكۡرٰىؕ

سو جہاں تک نصیحت (کے) نافع (ہونے کی امید) ہو نصیحت کرتے رہو

— Fateh Muhammad Jalandhari

So remind, if the reminder should benefit;

— Saheeh International

Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 12 of juz

Read the whole surah · Surah Al-A'laa

All translations of 87:9

لہٰذا تم نصیحت کرو اگر نصیحت نافع ہو

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

سو جہاں تک نصیحت (کے) نافع (ہونے کی امید) ہو نصیحت کرتے رہو

— مولانا فتح محمد جالندہری

تو آپ نصیحت کرتے رہیں اگر نصیحت کچھ فائده دے

— مولانا محمد جوناگڑہی

لہذا تم نصیحت کیے جاؤ، اگر نصیحت کا فائدہ ہو۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

تو تم نصیحت فرماؤ اگر نصیحت کام دے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

پس آپ نصیحت فرماتے رہیے بشرطیکہ نصیحت (سننے والوں کو) فائدہ دے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

سو تو نصیحت کر، اگر نصیحت کرنا فائدہ دے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

پس آپ نصیحت کیجیے اگر نصیحت نفع دے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

پس تم یاددہانی کرو اگر یاد دہانی کچھ نفع پہنچائے۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

پس آپ یاد دہانی کراتے رہیں اگر یاد دہانی سے نفع ہو

— مولانا اسحاق مدنی

سو آپ نصیحت کرتے رہیے اگر نصیحت کرنا مفید ہوتا ہو۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

تو آپ ﷺ یاد دہانی کراتے رہیے اگر یاد دہانی فائدہ دے۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

سو جہاں تک نصیحت کے فائدہ مند ہونے کی امید ہو نصیحت کرتے رہو۔

— محترمہ رفعت اعجاز

So render good counsel if good counsel will avail.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

So, extend advice (to people) if advice is useful.

— Muhammad Taqi Usmani

So, extend advice (to people) if advice is useful.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Therefore remind in case the reminder profits.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Therefor remind (men), for of use is the reminder.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

So remind, if the reminder should benefit;

— Saheeh International

Therefore, keep on preaching as long as it is of benefit.

— Muhammad Sarwar

Therefore do remind, surely reminding does profit.

— Muhammad Habib Shakir

Wherefore admonish thou; admonition hath surely profited,

— Abdul Majid Daryabadi

Therefore give admonition in case the admonition profits (the hearer).

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 87:9

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 1–13

مسند احمد میں ہے عقبہ بن عامر جہنی ؓ فرماتے ہیں کہ جب آیت (فَسَبِّحْ باسْمِ رَبِّكَ الْعَظِيْمِ 74ۧ) 56۔ الواقعة :74) اتری تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اسے تم اپنے رکوع میں کرلو جب آیت (سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْاَعْلَى ۙ) 87۔ الأعلی :1) اتری تو آپ نے فرمایا اسے اپنے سجدے میں کرلو ابو داؤد وغیرہ کی حدیث میں ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ آیت (سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْاَعْلَى ۙ) 87۔ الأعلی :1) پڑھتے تو کہتے سبحان ربی الاعلی حضرت علی سے بھی یہ مروی ہے حضرت ابن عباس ؓ سے بھی یہ مروی ہے اور آپ جب آیت (لا اقسم بیوم القیامۃ) پڑھتے اور آخری آیت (اَلَيْسَ ذٰلِكَ بِقٰدِرٍ عَلٰٓي اَنْ يُّـحْيِۦ الْمَوْتٰى 40؀) 75۔…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْاَعْلٰی 10 عام طور پر مفسرین نے ان دو فقروں کو الگ الگ سمجھا ہے۔ پہلے فقرے کا مطلب انہوں نے یہ لیا ہے کہ ہم تمہیں ایک آسان شریعت دے رہے ہیں جس پر عمل کرنا سہل ہے، اور دوسرے فقرے کا یہ مطلب لیا ہے کہ نصیحت کرو اگر وہ نافع ہو۔ لیکن ہمارے نزدیک فذکر کا لفظ دونوں فقروں کو باہم مربوط کرتا ہے اور بعد کے فقرے کا مضمون پہلے فقرے کے مضمون پر مترتب ہوتا ہے۔ اس لیے ہم اس ارشاد الہی کا مطلب یہ سمجھتے ہیں کہ اے نبی، ہم تبلیغ دین کے معاملہ میں تم کو کسی مشکل میں نہیں ڈالنا چاہتے کہ تم بہروں کو سناؤ اور اندھوں کو راہ دکھاؤ، بلکہ ایک آسان طریقہ تمہارے لیے میسر کیے دیتے ہیں، اور وہ یہ ہے کہ نصیحت کرو…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 9–13

فذکر ان نعفت الذکری، سابقہ آیات میں رسول اللہ ﷺ کو آپ کے فریضہ پیغمبری کے ادا کرنے میں حق تعالیٰ کیطرف سے دی ہوئی سہولتوں کا بیان تھا، اس آیت میں آپکو اس فریضہ کی ادائیگی کا حکم ہے اور معنے الفاظ آیت کے یہ ہیں کہ آپ لوگوں کو تبلیغ و نصیحت کیجئے اگر نصیحت نفع دیتی ہو، یہ الفاظ اگرچہ شرط کے آئے ہیں مگر درحقیقت مقصود کوئی شرط نہیں بلکہ اس کا تاکیدی حکم دینا ہے جس کی مثال ہمارے عرف میں یہ ہے کہ کسی شخص کو بطور تنبیہ کے کہا جائے کہ اگر تو ادمی ہے تو فلاں کام کرنا ہوگا یا اگر توفلاں کا بیٹا ہے تو تجھے ایسا کرنا چاہئے۔ یہاں مقصود شرط نہیں ہوتی بلکہ اس کا اظہار ہوتا ہے کہ جب تو آدمی زاد ہے یا جبکہ تو…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

ہدایت اور ضلالت کے باب میں سنت الٰہی: یعنی لوگوں کی مخالفتوں اور ناقدریوں سے بددل اور مایوس نہ ہو۔ لوگوں کے دلوں میں بات اتار دینے کی ذمہ داری تم پر نہیں ہے کہ ان کے پیچھے پڑو۔ تمہارا فرض صرف تذکیر ہے۔ جب دیکھو کہ سننے کی طرف مائل ہیں تو سناؤ ورنہ ان کو ان کی تقدیر کے حوالہ کرو۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

9۔ 1 یعنی وعظ و نصیحت وہاں کریں جہاں محسوس ہو کہ فائدہ مند ہوگی، یہ وعظ و نصیحت اور تعلیم کے لیے ایک اصول اور ادب بیان فرمایا۔ امام شوکانی کے نزدیک مفہوم یہ ہے کہ آپ نصیحت کرتے رہیں، چاہے فائدہ دے یا نہ دے، کیونکہ انداز و تبلیغ دونوں صورتوں میں آپ کے لیے ضروری تھی۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 8–12

4: اللہ تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کو جو شریعت عطا فرمائی ہے، وہ بذات خود آسان ہے، پھر مزید تسلی دی گئی ہے کہ ہم اس پر چلنے کو بھی آپ کے لیے آسان کردیں گے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 6–9

اب وہ خوشخبری آتی ہے جو آپ کے لئے ہے اور آپ کے بعد آپ کی امت کے لئے ہے۔ سنقرنک .................................... الذکری اس عظیم خوشخبری کا آغاز ہوتا ہے کہ قرآن کے حفظ کرنے اور اسے باقی رکھنے کی ذمہ داری نبی ﷺ کے کاندھوں سے اتار دی جاتی ہے۔ سنقرءک فلا تنسی (6:87) ” ہم تمہیں پڑھوا دیں گے ، پھر تم نہیں بھولوگے “۔ لہٰذا آپ اپنے رب سے یہ کلام لیں اور بس۔ اس کو یاد کرادینا اللہ کا کام ہے۔ یہ بات فی الواقعہ نبی ﷺ کے لئے بڑی خوشخبری تھی۔ آپ حفظ قرآن کے لئے فکر مند ہوتے تھے۔ اب تو اس کی حفاظت کی جانب سے مطمئن کردیا گیا کیونکہ قرآن کریم ایک نہایت ہی عظیم کلام اور آپ اسے بہت ہی محبوب رکھتے تھے۔ آپ دل…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

3 یعنی اللہ نے جب آپ پر ایسے انعام فرمائے، آپ دوسروں کو فیض پہنچائیے اور اپنے کمال سے دوسروں کی تکمیل کیجئے (تنبیہ) " ان نفعت الذکری " کی شرط اس لئے لگائی کہ تذکیر و وعظ اس وقت لازم ہے جب مخاطب کی طرف سے اس کا قبول کرنا مظنون ہو۔ اور منصب آنحضرت ﷺ کا، وعظ و تذکیر ہر شخص کے لئے نہیں۔ ہاں تبلیغ و انذار (یعنی حکم الہٰی کا پہنچانا اور اللہ کے عذاب سے ڈرانا) تاکہ بندوں پر حجت قائم ہو اور عذر جہل و نادانی کا نہ رہے، اتنا باعتبار ہر شخص کے ضرور ہے۔ اس کو عرف میں تذکیر و وعظ نہیں کہتے۔ شاید اسی لئے بعض مفسرین نے زیادہ واضح الفاظ میں آیت کے معنی یوں کئے ہیں کہ بار بار نصیحت کر (اگر ایک بار کی نصیحت نے…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 9{ فَذَکِّرْ اِنْ نَّفَعَتِ الذِّکْرٰی۔ } ”تو آپ ﷺ یاد دہانی کراتے رہیے ‘ اگر یاد دہانی فائدہ دے۔“ اس آیت کا یہ مطلب نہیں کہ آپ ﷺ انذار و تذکیر کا فریضہ تبھی سرانجام دیں جب مخاطب کو اس سے کچھ فائدہ ہو رہا ہو یعنی وہ اس تذکیر کا اثر قبول کر رہا ہو۔ چناچہ اگلی آیت میں اس حوالے سے وضاحت کردی گئی ہے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 9–12

8 یعنی جب آپ دیکھیں کہ آپ کی نصیحت سے لوگوں کو فائدہ پہنچ رہا ہے تو ایسے لوگوں کو بار بار وغط و نصیحت کرتے رہیے۔ اور جو لوگ وعظ و نصیحت سے الٹا اثر لیں، مذاق اڑانے لگیں، یا مخالفت پر اتر آئیں تو ایسے لوگوں کو وعظ و نصیحت سے اجتناب کیجیے۔ واضح رہے کہ دعوت و تبلیغ اور چیز ہے اور وعظ و نصیحت اور چیز۔ نبی کی ذمہ داری یہ ہے کہ اللہ کا پیغام سب لوگوں تک پہنچا دے خواہ وہ اسے قبول کریں یا برا مانیں۔ لیکن وعظ و نصیحت صرف ان کے لیے ہے جو وعظ و نصیحت سے فائدہ اٹھانے کے لیے تیار ہوں، سب کے لیے نہیں ہے۔ بلکہ صرف اس کے لیے جس کے دل میں کچھ اللہ کا ڈر ہو اور جو ڈرتا ہی نہیں اس کے لیے وعظ و نصیحت کچھ معنی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

7۔ (اور فی نفسہ تو وہ نصیحت مفید ہے ہی) (آیت) ” فذکر “۔ یعنی اسی تسبیح و تقدیس کی نصیحت کرتے رہیے۔ حاصل کلام یہ کہ آپ اپنی بھی تکمیل کیجئے۔ اور دوسروں کو بھی اس کی تبلیغ کیجئے، چیز فی نفسہ بھی ضروری اور ہم خود آپ کے معاون۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 9–19

فذکر ان نفعت الذکری یعنی وعظ و نصیحت وہاں کریں کہ جہاں محسوس ہو کہ نصیحت فائدہ مند ہوگی، یہ وعظ و نصیحت کا ایک اصول اور ادب بیان فرما دیا۔ (ابن کثیر)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

فذکر . فاء سببی ہے یعنی جب قرآن اور شریعت کو ہم نے تمہارے لیے آسان کردیا تو اسکے ذریعہ سے دوسروں کو ہدایت کرو۔ ان نفعت الذکری . گزشتہ حکم مضمون جزاء پر دلالت کر رہا ہے۔ اس لیے شرط کو جزاء کی ضرورت نہیں۔ بعض علماء کا قول ہے کہ بار بار نصیحت کرنے کے باوجود بعض لوگوں کے ایمان لانے سے مایوس ہونے کے بعد پھر (حکم تذکیر کے بعد) اس جملہ شرطیہ کو لانے سے غرض یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ اپنی جان کو دکھ میں نہ ڈالیں اور ان بےایمانوں کی حالت پر افسوس نہ کریں ‘ جیسا کہ دوسری آیت میں آیا ہے : وما انت علیھم بجبّار (آپ ایمان لانے پر ان کو مجبور کرنے والے نہیں ہیں) بعض عالموں نے کہا یہ بظاہر شرطیہ کلام ہے لیکن حقیقت…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 8–13

(8۔ 13) اور ہم آپ کو تبلیغ رسالت کے لیے اور تمام طاعتوں کے لیے سہولت دے دیں گے اور قرآن کریم کے ذریعے سے نصیحت کیا کیجیے اور سب کو یہ نصیحت مفید نہیں ہوسکتی، سوائے اس مومن کے جو اس نصیحت کو قبول کرتا ہو اور اللہ سے ڈرتا ہو اور جو سخت بد نصیب ہے وہ قرآنی نصیحتوں اور اللہ تعالیٰ سے دور بھاگتا ہے، بالاخر دوزخ کی بڑی آگ میں داخل ہوگا کہ اس سے بڑا عذاب اور کوئی نہیں اور پھر اس دوزخ میں نہ مر ہی جائے گا کہ چھٹکارا ہوجائے گا اور نہ آرام کی زندگی پائے گا۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 9–11

(فذکر ان نفعت الذکری…:”تو نصیحت کر اگر صنیحت کرنا فائدہ دے“ اس پر سوال پیدا ہوتا کہ اگر نصیحت فائدہ نہ دے تو کیا نصیحت چھوڑ دی جائے ؟ جواب یہ ہے کہ ہرگز نہیں، بلکہ نصیحت کرتے رہنا لازم ہے۔ تو پھر آیت کا مطلب کیا ہے ؟ آیت کی مختلف تفاسیر میں سیت ین تفسیریں زیادہق ریب ہیں :(1) تفسیر ثنئای میں ہے کہ اس آیت کی بنا پر بعض لوگ گمراہ لوگوں کو وعظ و نصیحت کرنا چھوڑ دیتے ہیں، کہتے ہیں کہ نصیحت کے نفع دینے کی صورت میں نصیحت کرنے کا حکم ہے ورنہ نہیں، یہ ان کی غلطی ہے۔ آیت میں ”ان“ ہے کہ جب تک انسان کو کسی قطعی دلیل سے یہ معلوم نہ ہوجائے کہ فلاں شخص کو نصیحت فائدہ نہ دے گی ”ان“ کا محل رہتا ہے اورق طعی…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

فذکر ان نفعت الذکری۔ اے محمد ﷺ آپ اپنی قوم کو قرآن کے ذریعے نصیحت کرتے رہیں اگر نصیحت نفع دے، یونس نے حضرت حسن بصری سے روایت نقل کی ہے یہ مومن کے لیے نصیحت اور کافر کے خلاف دلیل ہے، حضرت ابن عباس کہا کرتے تھے یہ میرے دوستوں کو نفع دیتی ہے اور میرے دشمنوں کو نفع دیتی ہے اور میرے دشمنوں کو نفع نہیں دیتی۔ جرجانی نے کہا، نصیحت کرنا واجب ہے اگرچہ وہ نفع نہ دے اس کا معنی یہ ہے نصیحت کیجئے اگر نصیحت نفع ندے یا نصیحت نفع نہ دے تو کلام میں حذف ہے جس طرح ارشاد ہے، سرابیل تقیکم الحر۔ النحل 81) پائجامے تمہیں گرمی سے بچاتے ہیں ایک قول یہ کیا گیا ہے یہ مخصوص افراد کے لیے ہے، ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ ان، ما…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 8–9

45۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ونیسرک للیسری اور ہم آپ کے لیے خیر اور نیکی کو آسان بنادیں گے۔

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

فَذَكِّرْ : تو آپ ﷺ نصیحت کریں ][ان نَّفَعَتِ الذِّكْرٰى: اگر نفع دے یہ بڑی نصیحت ] (آیت۔ 9) ذِکْرٰی فاعل ہے اور مؤنث ہے اس لیے اس کا فعل نَفَعَتْ واحد مؤنث ہے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 6–9

﴿سَنُقْرِئُكَ فَلَا تَنْسٰۤىۙ006﴾ (ہم آپ کو قرآن پڑھائیں گے سو آپ نہیں بھولیں گے) ۔ اس میں وعدہ فرمایا ہے کہ یہ قرآن جو آپ پر نازل ہوچکا ہے اور اس کے بعد مزید نازل ہوگا آپ اس قرآن کو بھولیں گے نہیں، یہ وہ ہی مضمون ہے جسے سورة ٴ قیامہ کی آیت کریمہ ﴿ اِنَّ عَلَيْنَا جَمْعَهٗ وَ قُرْاٰنَهٗۚۖ0017﴾ میں بیان فرمایا ہے ﴿ اِلَّا مَا شَآء اللّٰهُ ﴾ (مگر اللہ جو چاہے) اس میں یہ بتادیا کہ آپ پر جو وحی آئے اس میں سے آپ بعض چیزوں کو بھول جائیں گے اور آپ کا یہ بھولنا ہماری مشیت سے ہوگا حکمت کے مطابق ہوگا اس میں منسوخ التلاوۃ اور منسوخ الحکم دونوں کو بیان فرما دیا، سورة ٴ بقرہ میں فرمایا ہے : ﴿ مَا نَنْسَخْ…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

6:۔ ” فذکر “ دعوائے توحید کے دونوں حصوں کے بعد آنحضرت ﷺ کے لیے تسلی ہے آپ کو مسئلہ توحید کی بدولت مذکورہ بالا دونوں انعام عطاء کیے گئے لہذا جہاں پند و نصیحت اور وعظ و تبلیغ کے سود مند ہونے کی توقع ہو وہاں دعوی توحید کی تبلیغ کریں۔ ” ان نفعت الذکری “ سے بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ تبلیغ کے نافع ہونے کا پہلے علم ہو تب تبلیغ کرنی چاہئے ونہ نہیں حالانکہ یہ ضروری نہیں، تو اس کا جواب یہ ہے کہ نصیحت کے نافع ہونے کا علم ضروری نہیں، بلکہ جہاں نفع کی توقع یا وہم بھی ہو وہاں بھی تبلیغ کرنی چاہئے البتہ جہاں بالکل مایوسی ہو اور نصیحت کے سود مند ہونے کا وہم بھی نہ ہو یعنی جن لوگوں میں ذرہ بھر انابت نہ پائی…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 1–13

(پہلی سورة کے ساتھ ربط) پہلی سورة میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ہر انسان کے نفس پر اللہ نے محافظ مقرر کر رکھے ہیں اور اس کے اعمال کی حفاظت ہو رہی ہے ۔ لہذا ایک دن آئے گا ، جب راز کھلیں گے جب ایسا ہوگا ۔ معاملہ بڑا خراب ہوگا ۔ اس دن انسان ندامت اور شرمندگی سے بچنا چاہیں گے اس کا طریقہ بھی اللہ نے اس سورة میں بتا دیا اور وہ یہ ہے جیسا کہ آخری آیات میں آتا ہے ۔ حیوۃ الدنیا اور ترغیب فی الاخرت یعنی دنیا کی طرف سے بےرغبتی اور آخرت کے معاملات کی طرف زیادہ توجہ ہونی چاہیئے ۔ اگر ایسا ہوگیا تو راز کھلنے کے دن انسان شرمندگی سے بچ جائے گا ۔ ورنہ وہاں پر بچنے کی کوئی صورت نہیں ۔ اور رازوں کو کوئی تبدیلی…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

فَذَكِّرْ اِنْ نَّفَعَتِ الذِّكْرٰى۝ 9 ۭ ذكر ( نصیحت) وذَكَّرْتُهُ كذا، قال تعالی: وَذَكِّرْهُمْ بِأَيَّامِ اللَّهِ [إبراهيم/ 5] ، وقوله : فَتُذَكِّرَ إِحْداهُمَا الْأُخْرى [ البقرة/ 282] ، قيل : معناه تعید ذكره، وقد قيل : تجعلها ذکرا في الحکم «1» . قال بعض العلماء «2» في الفرق بين قوله : فَاذْكُرُونِي أَذْكُرْكُمْ [ البقرة/ 152] ، وبین قوله : اذْكُرُوا نِعْمَتِيَ [ البقرة/ 40] : إنّ قوله : فَاذْكُرُونِي مخاطبة لأصحاب النبي صلّى اللہ عليه وسلم الذین حصل لهم فضل قوّة بمعرفته تعالی، فأمرهم بأن يذكروه بغیر واسطة، وقوله تعالی: اذْكُرُوا نِعْمَتِيَ مخاطبة لبني إسرائيل الذین لم يعرفوا اللہ إلّا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 8–13

ترکیب ¦ ونیسرک معطوف علی سنقرئک وقولہ انہ یعلم الجہر وما یخفٰی اعتراض ای سنقرئک فلا تنسٰی ونو فقک للطریقۃ التیھی اسہل والیسران شرطیۃ نفعت الذکریٰ شرط وقولہ فذکر یدل علی الجزاء الذی یصلی الخ صفۃ الاشقیٰ ثم لایموت عطف علی یصلی وذکر عطف علی تزکی وفصلی عطف علی ذکر۔ تفسیر ¦ پہلے فرمایا تھا سبح اسم ربک الاعلیٰ کہ اپنے رب اعلیٰ کی تسبیح بیان کر اور اب اس تسبیح کے ثمرات بیان فرماتا ہے۔ فقال ونیسرک للیسریٰ کہ ہم تیرے لیے نجات کے رستے کو آسان کردیں گے۔ نجات کو یسریٰ یوں کہا کہ وہ کوئی درحقیقت مشکل اور محال بات نہیں جیسا کہ مذاہب باطلہ میں ہے کہ کوئی بتوں پر اپنی اولاد کی قربانی کو نجات کا سبب جانتا ہے۔…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 8–9

وَنُیَسِّرُکَ لِلْیُسْرٰی۔ فَذَکِّرْ اِنْ نَّفَعَتِ الذِّکْرٰی۔ (الاَعلٰی : 8، 9) (ہم آپ کو آسان طریقے کی سہولت دیتے ہیں۔ پس آپ نصیحت کریں اگر نصیحت نفع پہنچائے۔ ) آنحضرت ﷺ کو یُسْر کی بشارت آنحضرت ﷺ اللہ تعالیٰ کا پیغام لوگوں تک پہنچانے کے سلسلے میں جس مشکل صورتحال سے دوچار تھے، سیرت و تاریخ کا ہر طالب علم اور قرآن کریم کا ہر قاری اسے اچھی طرح جانتا ہے۔ آپ ایسے ایسے جانگسل مراحل سے گزرے ہیں کہ ان کی تفصیل پڑھ کر پِتّہ پانی ہوتا ہے۔ چناچہ پروردگار اس صورتحال سے کامیابی و کامرانی سے نکلنے کی آپ کو بشارت دے رہا ہے۔ اور ساتھ ہی آپ کے حدودکار کو متعین فرما کر آپ کے لیے آسانی پیدا فرما رہا ہے۔…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 6–13

فہم القرآن ربط کلام : رب تعالیٰ کی قدرتوں کا ذکر جاری ہے۔ جو ” رب “ اپنی قدرت سے نباتات کو اگاتا اور اسے کوڑا کرکٹ بناتا ہے اسی نے اپنی قدرت سے نبی ﷺ کو قرآن پڑھایا اور یاد کروایا۔ ان آیات کا یہاں لانے کا ایک مقصد یہ ہے کہ جس طرح انسان اور نباتات کا پہلے وجود نہیں تھا اسی طرح وحی سے پہلے آپ کی نبوت کا وجود نہ تھا۔ انسان اور دیگر چیزوں کے لیے فنا ہے لیکن اللہ تعالیٰ کی وحی کو فنا نہیں ہے۔ نبوت کے ابتدائی دور میں نبی ﷺ وحی کو یاد رکھنے کے لیے عجلت فرمایا کرتے تھے تاکہ وحی کا کوئی حصہ بھول نہ جائے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے آپ کو اطمینان دلایا کہ اے نبی ﷺ ! آپ کو پڑھنے اور یاد کرنے میں عجلت سے کام…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

9 : فَذَکِّرْ اِنْ نَّفَعَتِ الذِّکْرٰی (تو آپ نصیحت کیا کریں اگر نصیحت کرنا مفید ہوتا ہو) ذکر :ؔ قرآن کے ذریعہ وعظ کرو۔ ان نفعت کا جواب وہ ہے جس پر فَذَکِّرْ دلالت کرتا ہے۔ ایک قول : یہ ہے اس کا ظاہر انداز تو شرط کا ہے۔ مگر اس کا مقصد اس بات کو بتلانا ہے کہ ان میں نصیحت کا اثر بڑی بعید بات ہے۔ یہ ہے کہ مطلقاً تذکیر کا حکم دیا گیا ہے جیسا کہ اس ارشاد میں فَذَکِّرْ اِنَّمَا اَنْتَ مُذَکِّرٌ] الغاشیہ : 21[ اس تذکیر میں نفع کی شرط نہیں ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

9 ۔” فذکر “ قرآن کے ذریعے نصیحت کریں۔ ” ان نفعت الذکریٰ “ وعظ ونصیحت۔ اور معنی یہ ہے کہ نفع دے یا نفع نہ دے اور دوسری حالت کو ذکر نہیں کیا جیسے اللہ تعالیٰ کا قول ” سرابیل تقیکم الحر “ ہے کہ مراد سردی و گرمی دونوں ہیں۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 1–13

1۔ 13۔ ہجرت سے پہلے بلکہ فتح مکہ تک جو کچھ اللہ تعالیٰ کی ذات صفات اور احکام میں شرک کا رواج تھا وہ تو سب کو معلوم ہے اس مکی سورة کے اول میں فرمایا کہ اہل مکہ کی شرک کی باتوں سے اے نبی اللہ کے تم اور تمہارے ساتھی اللہ کی توحید ہر دم ورد زبان رکھو تاکہ ان مشرک اہل مکہ کے کان بھی ذرا توحید کی آواز سے آشنا ہوجائیں اسی واسطے اکثر صحابہ 1 ؎ جب اس آیت کو پڑھا کرتے تھے تو سبحان ربی الاعلیٰ کہا کرتے تھے۔ خلق نسوی کا یہ مطلب ہے کہ انسان حیوان سب کو مناسب اعضا مناسب حالت میں پیدا کیا والذی قدر فھدیٰ کی تفسیر کے طور پر مسند امام احمد صحیح مسلم 2 ؎ وغیرہ میں جو صحابہ کی ایک جماعت سے روایت ہیں ان کا حاصل…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

( فَذَكِّرْ ) پس آپ اللہ تعالیٰ کی شریعت اور اس کی آیات کے ذریعے سے نصیحت کرتے رہیے۔ (اِنْ نَّفَعَتِ الذِّكْرٰى) اگر نصیحت فائدہ دے۔ یعنی جب تک کہ تذکیر قابل قبول اور نصیحت سنی جاتی ہو، خواہ اس نصیحت سے پورا مقصد حاصل ہوتا ہو یا اس کا کچھ حصہ۔ آیت کریمہ کا مفہوم مخالف یہ ہے کہ اگر نصیحت فائدہ نہ دے یعنی جس کو نصیحت کی گئی ہے وہ شر میں اور بڑھ جائے یا اس میں بھلائی کم ہوجائے تو آپ نصیحت پر مامور نہیں بلکہ تب آپ نصیحت نہ کرنے پر مامور ہیں۔ پس نصیحت کے ضمن میں لوگ دو اقسام میں منقسم ہیں نصیحت سے فائدہ اٹھانے والے اور نصیحت سے فائدہ نہ اٹھانے والے۔ رہے فائدہ اٹھانے والے تو اللہ تعالیٰ نے ان الفاظ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

(10) پیغمبر کو تذکیر کا حکم و ارشاد : چناچہ ارشاد فرمایا گیا اور پیغمبر علی السلام کو خطاب کر کے ارشاد فرمایا گیا " پس آپ یا دہانی کراتے رہیں اگر یاد دہانی نفع دے " کہ یہی آپ کی اصل ذمہ داری ہے یعنی تذکیر اور انذار وتبشیر، سو جس طرح حضرت واہب ملطق جل جلالہ نے آپ ﷺ پر یہ عظیم الشان کرم فرمایا کہ آپ ﷺ کو منصب نبوت و رسالت سے نوازا، خاتم الرسالات کے شرف سے مشرف فرمایا، اور نبیوں کا امام و پیشوا بنایا، اسی طرح آپ ﷺ آگے ان غافل و بیخبر لوگوں کو نفع رسانی کے لیے جدوجہد کریں، جیسا کہ حضرت عیسیٰ نے اپنے حواریوں کو خطاب کرتے ہوئے ارشاد فرمایا تھا کہ " لوگو اللہ تعالیٰ نے مجھے اس دولت سے مفت نوازا ہے،…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 6–19

اللہ بہترین امتحان لینے والا ہے تشریح : نبی کریم ﷺ قرآن پاک کے ان الفاظ کو جو جبریل وحی کے ذریعے سناتے تھے اس خوف سے کہ وہ بھول نہ جائیں جلدی جلدی دہرانے لگتے اس پر اللہ تعالیٰ نے نبی پاک ﷺ کو یقین دلایا کہ آپ وحی کو غور سے سنا کریں ہم خود ہی آپ کو یاد کرانے کا ذمہ لیتے ہیں آپ بےفکر رہیں اور حقیقت بھی یہی ہے کہ قرآن حرف بحرف آپ کے حافظہ میں محفوظ کردیا گیا تھا اور یہ ایک بہت بڑا معجزہ ہے اس کے بعد اعمال کے بارے میں اور انسان کے انجام کے بارے میں ذکر ہے نیکی اور بدی ' اچھائی اور برائی ' سچائی اور جھوٹ ' روشنی اور اندھیرا ' کفر اور ایمان ' فرشتہ اور شیطان یہ شروع دن سے پیدا کئے گئے ہیں اور ان…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–19

سورة الاعلی۔ آیات 1 تا 19۔ اسرار ومعارف۔ اپنے پروردگار کے اعلی نام کی پاکی بیان کیجئے جس نے مخلوق کو عدم سے وجود بخشا کچھ بھی نہ تھا پھر سب کچھ پیدا فرمایا۔ مسئلہ : جب یہ آیہ مبارکہ نازل ہوئی تو آپ نے اسے سجدے کے لیے مقرر فرمایا۔ پھر تمام اجسام کو ایک انتہائی مناسب اندازے کے مطابق شکل و صورت دی اور جس کو جس کام کے لیے بنایا اسے اس کام کی استعداد بھی بخشی اور اس کی طرف میلان بھی عطا فرمایا۔ قدرت کا عطیہ۔ یہ سارے نظام کائنات میں مشاہدہ کیا جاسکتا ہے کہ ہر ذرے کو صورت ، شعور ، اور فطری کام کی استعداد عطا کرکے ایسا میلان بخشا کہ سوج ، چاند ، ستارے ، بادل ، ہوا ، جمادات ونباتات ہر ایک شے اپنے وقت…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 9–14

ف 20 ان نفعت الذکری کا لفظی ترجمہ یوں ہے اگر سمجھانا فائدہ دے “ یہ صرف ایک حالت کا ذکر ہی دوسری حالت یہ ہے کہ سمجھانے کا فائدہ نہ ہو نبی صلعم پر لوگوں کو سمجھانا چونکہ دونوں حالتوں میں ضروری تھا اس لئے ترجمے میں آیت کا مطلب یہ بیان کیا گیا ہے کہ آپ (لوگوں کو) سمجھایئے۔ فائدہ ہو (یا نہ ہو) “ قاضی شو کانی نے آیت کے اس مطلب کو ترجیح دی بعض مفسرین نے اس کا مطلب یہ بیان کیا ہے کہ لوگوں کو اس وقت تک سمجھایئے جب تک سمجھانا فائدہ دے۔ یعنی موقع کی مناسبت سے لوگوں کو سمجھایا کیجیے کہ سمجھنے کے لئے متوجہ ہوں اور ملول نہ ہوں۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(86:9) فذکر :سببیہ ہے ذکر فعل امر واحد مذکر حاضر۔ تذکیر (تفعیل) مصدر۔ تو یاد دلا۔ تو سمجھا۔ تو نصیحت کر۔ یا ۔ تو سمجھا تا رہ۔ تو یاد دلاتا رہ، تو نصیحت کرتا وہ۔ یعنی جب قرآن اور شریعت کو ہم نے تمہارے لئے آسان کردیا تو تم اس کے ذریعے سے دوسروں کو ہدایت کرتا رہ۔ ان نفعت الذکری : ان شرطیہ۔ نفعت ماضی واحد مؤنث غائب نفع (باب فتح) مصدر بمعنی نفع دینا۔ نفع مند ہونا۔ اصل میں ت ساکن تھی بعد کو آنے والے لفظ کے ساتھ ملانے کی وجہ سے متحرک ہوگئی۔ لان الساکن اذا حرک حرک بالکسر۔ کہ جب ساکن کو حرکت دی جائے گی تو کسرہ کی حرکت دی جائے گی۔ ترجمہ : اگر مفید ہو۔ ماضی شرط کی وجہ سے بمعنی مستقبل ہوگئی۔ الذکری (باب…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–19

لغات القرآن۔ سنح۔ تسبیح کر۔ قدر۔ اندازہ کیا۔ المرعی۔ چارہ (جانوروں کی غذا) ۔ غثائ۔ کوڑا۔ کباڑ۔ احوی۔ سیاہ۔ نقری۔ ہم پڑھائیں گے۔ لا تنسی۔ تو نہ بھولے گا۔ یسری۔ آسانی۔ ذکر۔ سمجھا دے۔ ذکر کر۔ یتجنب۔ وہ بچے گا۔ الاشقی۔ بدنصیب۔ بدقسمت۔ افلح۔ کامیاب ہوا۔ تزکی۔ جس نے تزکیہ کیا۔ اپنے آپ کو پاک صاف کیا۔ تو ثرون۔ تم ترجیح دیتے ہو۔ اختیار کرتے ہو۔ ابقی۔ باقی رہنے والا۔ تشریح : ان آیات ہی میں شروع سے لے کر آخر تک نبی کریم خاتم الانبیاء حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ سے خطاب کرے ہوئے چند بنیادی اصولوں کی تعلیم دی گئی ہے۔ فرمایا۔ ٭اے نبی ﷺ ! آپ اپنے اس پروردگار کی پاکیزگی یعنی حمدو ثنا بیان کرتے رہییے جو سب سے بلندو…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 8–13

(ف 6) اے محبوب ﷺ اس وحی کو یاد رکھنا آسان ہوجائے گا اور اللہ کی معرفت اور عبادت اور ملک وملت کی سیاست کے طریقے سب سہل کردیے جائیں گے اور کامیابی کا راستہ سے تمام مشکلات ہٹادی جائیں گی اللہ تعالیٰ نے آپ پر ایسے انعام فرمائے ہیں آپ دوسروں کو فیض پہنچائیں اور اپنے کمال سے دوسروں کی تکمیل کیجئے، ہاں یہ نہ ہوگا کہ سب آدمی نصیحت پالیں اور ایمان لے آئیں بلکہ سمجھانے سے وہی سمجھتا ہے اور نصیحت سے وہ ہی فائدہ اٹھاتا ہے جس کے دل میں تھوڑا بہت خدا کا ڈر اور اپنے انجام کی فکر ہو اور جس بدقسمت کے نصیب میں دوزخ کی آگ لکھی ہے وہ کہاں سمجھتا ہے اسے خدا کا اور اپنے انجام کا ڈر ہی نہیں جو نصیحت کی طرف متوجہ ہو…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 8–11

[8] یعنی ہم ایک آسان طریقہ تمہارے لئے میسر کئے دیتے ہیں اور وہ یہ ہے کہ نصیحت کرو جہاں تم محسوس کرو کہ کوئی اس سے فائدہ اٹھانے کو تیار ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 8–19

ہمہ گیر صداقت 1: غرض یہ ہے کہ صداقت ہمہ گیر ہے ۔ ابراہیم اور موسیٰ (علیہم السلام) نے بیک آواز جو چیز اپنے اپنے زمانے میں لوگوں کے سامنے پیش کی ، وہ یہ تھی کہ کامیابی اسی شخص کے مقدر ہے جو پاکباز ہے ۔ جو خیال وفکر سے لے کر اعمال وجوارح تک پاکیزگی اور تقویٰ کو اپنا شعار بنالیتا ہے ۔ جس کا قلب پاک ہے ۔ جس کا خیال پاک ہے ۔ جس کا استدلال شوائب ضلالت سے پاک ہے اور جس کا عمل خلوص اور پاکیزگی ہے ۔ جو ہر آن اللہ کو یاد رکھتا ہے اور اپنی عقیدت ونیاز مندی کے جذبات کا اظہار کرتا ہے ۔ یعنی وہ جس کو ذوق عبادت بےقرار کردیتا ہے اور مجبور کرکے اس کے حضور میں کھڑا کردیتا ہے ۔ جس کی جبین اس کے آستانہ جلال پر…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(9) سو اگر نصیحت کرنا کچھ مفید اور نافع ہوتا ہو تو آپ نصیحت کرتے رہیے۔ یہاں مفہوم مخالف معتبر نہیں ہے جیسا کہ قرآن میں بہت جگہ ایسا ہے کہ وہاں عدم تحقق شرط مشروط کے غیر متحقق ہونے کو مستلزم نہیں۔ سوہ نور میں گزر چکا ہے ولا تکرھوا فتیاتکم علی البغاء ان اردن تحصنا کا یہ مطلب نہیں کہ اگر لونڈیاں عصمت وعفت کا ارادہ نہ کریں تو ان کو زنا کرانے مجبور کرو۔ بعض حضرات نے تذکیر اور وعظ میں اور ربات احکام میں فرق کیا ہے اور کہا ہے کہ حضرت ﷺ کے لئے تذکیر اور وعظ ضروری نہیں بلکہ آپ کے لئے حکم الٰہی کا پہنچانا اور ڈرانا ضروری ہے خواہ کوئی قبول کرے یا نہ کرے مطلب یہ ہے کہ الزام حجت کیلئے تبلیغ احکام اور…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

ف 4۔ پس حاصل یہ ہوا کہ چونکہ نصیحت نفع کی چیز ہے اس لئے آپ نصیحت کیا کیجئے مگر باوجود فی نفسہ نافع ہونے کے یہ نہ سمجھئے کہ سب کو مفید ہوتی ہے اور سب ہی مان لیں گے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

پس آپ ﷺ نصیحت کرتے رہیے جہاں تک نصیحت کارگر ہو 9 ؎ (ذکر) تو یاد دلا۔ تو سمجھا تو نصیحت کر تذکیر سے امر کا صیغہ واحد مذکر حاضر ۔ ( ذکری) نصیحت کرنا ۔ ذکر کرنا ۔ یا دپند و موعظت ذکر یذکر کا مصدر ہے کثرت ذکر کے لیے ( ذکری) بولا جاتا ہے اور یہ ذکر سے زیادہ بلیغ ہے۔ مطلب یہ ہے کہ آپ ﷺ کا کام نصیحت کرنا ہے آپ ﷺ نصیحت کرتے رہے۔ نصیحت میں دو خوبیاں ہیں ایک نصیحت بذاتہٖ خوبی کی بات ہے اور دوسرا یہ کہ اگر کوئی نصیحت حاصل نہیں کرتا تو بھی نصیحت نصیحت کرنے والے کے حق میں مؤثر ثابت ہوتی ہے اس کو آپ یوں سمجھیں کہ آپ کسی شخص کو ایک ہزار روپے دینا چاہتے ہیں کہ وہ چاہے تو لے لے لیکن لینے والا انکار کردیتا ہے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 9–13

فَذَكِّرْ إِن نَّفَعَتِ الذِّكْرَىٰ (So, extend advice [ to people ] if advice is useful....87:9) The preceding verses described the facilities created by Allah for the Holy Prophet in performing his Prophetic obligation. This verse commands him to perform his obligation. The verse contains the conditional particle 'in' (if) that apparently makes the sentence a conditional statement. But, in fact, the command is not intended to be made conditional. It is rather an emphatic statement. This is similar to the grammatical phenomenon in many languages. The particle 'if' is sometimes used when…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

10 Generally, the conunentators take these as two separate sentences. They interpret the first sentence to mean: "We are giving you a simple code of law, which is easy to practise and act upon", and the second sentence to mean: "Admonish the people if admonishing be useful. " but in our opinion, the word "fa-dhakkir" connects the two sentences in meaning, and the theme of the second sentence bears upon the theme of the first sentence. Therefore, we interpret these sentences to mean: "O Prophet! We do not want to put you to any hardship concerning the preaching of Islam by demanding that you…

Read the full tafseer →