Ayah 87:111 حدیث میں ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی آپ ﷺ نے فرمایا " اجعلوھا فی سجودکم " (اس کو اپنے سجود میں رکھو) اسی لئے سجدہ کی حالت میں " سبحان ربی الاعلیٰ " کہا جاتا ہے۔
Ayah 87:212 یعنی جو چیز بنائی عین حکمت کے موافق بہت ٹھیک بنائی اور باعتبار خواص وصفات اور ان کے فائدوں کے جو اس چیز سے مقصود ہیں اس کی پیدائش کو درجہ کمال تک پہنچایا اور ایسا معتدل مزاج عطا کیا جس سے وہ منافع و فوائد اس پر مرتب ہو سکیں۔
Ayah 87:313 حضرت شاہ عبدالقادر لکھتے ہیں " یعنی اول تقدیر لکھی پھر اسی کے موافق دنیا میں لایا "۔ گویا دنیا میں آنے کی راہ بتادی۔ اور حضرت شاہ عبدالعزیز تحریر فرماتے ہیں کہ " ہر شخص کے لئے ایک کمال کا اندازہ ٹھہرایا۔ پھر اس کو وہ کمال حاصل کرنے کی راہ بتلا دی۔ " و فیہ اقوال اخر الانطول بذکرھا۔
Ayahs 87:4–514 یعنی اول نہایت سبزو خوشنما گھاس چارہ زمین سے پیدا کیا پھر آہستہ آہستہ اس کو خشک و سیاہ کر ڈالا تاکہ خشک ہو کر ایک مدت تک جانوروں کے لئے ذخیرہ کیا جاسکے اور خشک کھیتی کٹ کر کام میں آئے۔
Ayahs 87:6–715 یعنی جس طرح ہم نے اپنی تربیت سے ہر چیز کو بتدریج اس کے کمال مطلب تک پہنچایا ہے تم کو بھی آہستہ آہستہ کامل قرآن پڑھا دیں گے اور ایسا یاد کرادیں گے کہ اس کا کوئی حصہ بھولنے نہ پاؤ گے بجز ان آیتوں کے جن کا بالکل بھلا دینا ہی مقصود ہوگا کہ وہ بھی ایک قسم نسخ کی ہے۔
16 یعنی وہ تمہاری مخفی استعداد اور ظاہری اعمال و احوال کو جانتا ہے اسی کے موافق تم سے معاملہ کرے گا۔ نیز یہ شبہ نہ کیا جائے کہ جو آیات ایک مرتبہ نازل کردی گئیں، پھر ان کو منسوخ کرنے اور بھلا دینے کے کیا معنی۔ اس کی حکمتوں کا احاطہ کرنا اسی کی شان ہے جو تمام کھلی چھپی چیزوں کا جاننے والا ہے اسی کو معلوم ہے کہ کونسی چیز ہمیشہ باقی رہنی چاہئے۔ اور کس کو ایک مخصوص مدت کے بعد اٹھا لینا چاہیے کیونکہ اب اس کا باقی رکھنا ضروری نہیں ہے۔
Ayah 87:82 یعنی وحی کو یاد رکھنا آسان ہوجائے گا اور اللہ کی معرفت و عبادت اور ملک و ملت کی سیاست کے طریقے سب سہل کردیے جائیں گے اور کامیابی کے راستہ سے تمام مشکلات ہٹا دی جائیں گی۔
Ayah 87:93 یعنی اللہ نے جب آپ پر ایسے انعام فرمائے، آپ دوسروں کو فیض پہنچائیے اور اپنے کمال سے دوسروں کی تکمیل کیجئے (تنبیہ) " ان نفعت الذکری " کی شرط اس لئے لگائی کہ تذکیر و وعظ اس وقت لازم ہے جب مخاطب کی طرف سے اس کا قبول کرنا مظنون ہو۔ اور منصب آنحضرت ﷺ کا، وعظ و تذکیر ہر شخص کے لئے نہیں۔ ہاں تبلیغ و انذار (یعنی حکم الہٰی کا پہنچانا اور اللہ کے عذاب سے ڈرانا) تاکہ بندوں پر حجت قائم ہو اور عذر جہل و نادانی کا نہ رہے، اتنا باعتبار ہر شخص کے ضرور ہے۔ اس کو عرف میں تذکیر و وعظ نہیں کہتے۔ شاید اسی لئے بعض مفسرین نے زیادہ واضح الفاظ میں آیت کے معنی یوں کئے ہیں کہ بار بار نصیحت کر (اگر ایک بار کی نصیحت نے نفع نہ کیا ہو) اور ہوسکتا ہے کہ " ان نفعت الذکری " کی شرط محض تذکیر کی تاکید کے لئے ہو یعنی اگر کسی کو تذکیر نفع دے تو تجھ کو تذکیر کرنا چاہیے اور یقین بات ہے کہ تذکیر عالم میں کسی نہ کسی کو ضرور نفع دے گی گوہر کسی کو نہ دے۔ کما قال تعالیٰ (وَّذَكِّرْ فَاِنَّ الذِّكْرٰى تَنْفَعُ الْمُؤْمِنِيْنَ ) 51 ۔ الذاریات :55) ۔ پس ایک امر کا ایسی چیز پر معلق کرنا جس کا وقوع ضوری ہے اس امر کی تاکید کا موجب ہوا۔
Ayah 87:104 سمجھانے سے وہ ہی سمجھتا ہے اور نصیحت سے وہ ہی فائدہ اٹھاتا ہے، جس کے دل میں تھوڑا بہت خدا کا ڈر اور اپنے انجام کی فکر ہو۔
Ayahs 87:11–125 یعنی جس بدقسمت کے نصیب میں دوزخ کی آگ لکھی ہے وہ کہاں سمجھتا ہے۔ اسے خدا کا اور اپنے انجام کا ڈر ہی نہیں جو نصیحت کی طرف متوجہ ہو اور ٹھیک بات سمجھنے کی کوشش کرے۔
Ayah 87:136 یعنی نہ موت ہی آئے گی کہ تکلیفوں کا خاتمہ کردے اور نہ آرام کی زندگی ہی نصیب ہوگی۔ ہاں ایسی زندگی ہوگی جس کے مقابلہ میں موت کی تمنا کرے گا۔ العیاذ باللہ۔
Ayah 87:147 یعنی ظاہری و باطنی، حسی و معنوی نجاستوں سے پاک ہو اور اپنے قلب و قالب کو عقائدِ صحیحہ، اخلاق فاضلہ اور اعمال صالحہ سے آراستہ کیا۔
Ayah 87:158 یعنی پاک و صاف ہو کر تکبیر تحریمہ میں اپنے رب کا نام لیا۔ پھر نماز پڑھی۔ اور بعض سلف نے کہا کہ " تزکی " زکوٰۃ سے ہے جس سے مراد یہاں " صدقۃ الفطر " ہے، اور " ذکر اسم ربہ " سے تکبیرات عید مراد ہیں۔ اور " فصلی " پھر تکبیریں، پھر نماز، والظاھر ھو الاول۔ (تنبیہ) حنفیہ نے پہلی تفسیر کے موافق اس آیت سے دو مسئلے نکالے ہیں۔ اول یہ کہ تحریمہ میں خاص لفظ " اللہ اکبر " کہنا فرض نہیں، مطلق ذکر اسم رب کافی ہے جو مشعر تعظیم ہو اور اپنی غرض و حاجت پر مشتمل نہ ہو۔ ہاں " اللہ اکبر " کہنا احادیث صحیحہ کی بناء پر سنت یا واجب قرار پائے گا دوسرے تکبیر تحریمہ نماز کے لئے شرط ہے رکن نہیں۔ کیونکہ " فصلی کا " ذکر اسم ربہ " پر عطف کرنا معطوف و معطوف علیہ کی مغائرت پر دال ہے۔ واللہ اعلم۔
Ayahs 87:16–179 یعنی یہ بھلائی تم کو کیسے حاصل ہو جب کہ آخرت کی فکر ہی نہیں بلکہ دنیا کی زندگی اور یہاں کے عیش وآرام کو اعتقاد اً یا عملاً آخرت پر ترجیح دیتے ہو۔ حالانکہ دنیا حقیر وفانی اور آخرت اس سے کہیں بہتر اور پائیدار ہے۔ پھر تعجب ہے کہ جو چیز کماً و کیفاً ہر طرح افضل ہو اسے چھوڑ کر مفضول کو اختیار کیا جائے۔
Ayahs 87:18–1910 یعنی یہ مضمون (" قد افلح من تزکی " سے یہاں تک) اگلی کتابوں میں بھی مذکور ہے۔ جو کسی وقت منسوخ نہیں ہوا، نہ بدلہ گیا، اس اعتبار سے اور زیادہ مؤکدہ ہوگیا۔ (تنبیہ) بعض روایات ضعیفہ میں ہے کہ ابراہیم (علیہ السلام) پر دس صحیفے اور موسیٰ (علیہ السلام) پر " تورات " کے علاوہ دس صحیفے نازل ہوئے تھے خدا جانے کہاں تک صحیح ہے۔