Ayah 87:1(87:1) سبح اسم ربک الاعلی : سبح فعل امر واحد مذکر حاضر۔ تسبیح (تفعیل) مصدر سے۔ تو تسبیح کر، تو پاکی بیان کر۔ تو عبادت کر۔ اسم مفعول سبح کا مضاف ربک مضاف مضاف الیہ ۔ مل کر اسم کا مضاف الیہ اپنے رب کے نام کی۔
الاعلی صفت ہے رب کی۔ علو (باب نصر) مصدر سے اور علا یعلوا کا مصدر ہے۔
ترجمہ ہوگا :۔ (اے پیغمبر) اپنے پروردگار جلیل الشان کے نام کی تسبیح کرو۔
بعض علماء کا قول ہے کہ آیت میں اسم سے مراد ذات مسمی ہے جیسے آیت ما تعبدون من دونہ الا اسماء سمیتموھا انتم واباء کم (12:40) جن چیزوں کی تم خدا کے سوا پرستش کرتے ہو وہ صرف نام ہی نام ہیں ۔ جو تم نے اور تمہارے باپ داد نے رکھ لئے ہیں (یہاں اسماء سے مراد مسمی ہیں) یعنی بت۔
بعض علماء کے نزدیک لفظ اسم زائد ہے ۔ مراد یہ ہے کہ زبان سے اپنے رب کی پاکی بیان کرو۔
Ayah 87:2(87:2) الذی خلق فسوی : الذی خلق موصولہ و صلہ مل کر رب کی صفت ثانی ہے۔
فسوی کا عطف الذی (موصول ما قبل) پر ہے ای والذی فسوی (پاکی بیان کرو اس رب کی) کہ جس نے (انسان کو) پیدا کیا۔ اور پھر ٹھیک بنایا۔ (فسوی بھی رب کی صفت ہے) یعنی اس نے انسان کو پیدا کیا ۔ اور پیدا کرکے یونہی بےڈول اور بےکار نہیں چھوڑ دیا۔ بلکہ اس کو ٹھیک اور درست بھی کیا جس کے لئے جس عضو اور جس قوت کی اور صورت کی حاجت تھی وہی اس کو عطا کی۔
Ayah 87:3(87:3) والذی قدر فھدی (یہ بھی رب کی صفت ہے) اور رب تعالیٰ وہ ذات ہے کہ پیدا کرنے کے ساتھ ہی اپنی مشیت کے مطابق چیزوں کے اجناس، انواع، افراد، مقادیر، احوال، افعال، رزق اور مدت بقاء کو مقرر کردیا۔
قدر : تقدیر (تفعیل) مصدر سے۔ ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب ہے۔ اس نے سوچ کر۔ غور کرکے اندازہ کیا۔ مثلاً یہ اندازہ کرلیا کہ یہ حیوان تمام عمر میں اس قدر کھائے گا۔ اور اتنے دنوں جئے گا اور اتنے اندازہ کردہ ایام میں اتنی مقرر کردہ خوارک ہضم کرنے میں اس کو قوت ہضم کی یہ مقدار ضروری ہوگی۔ اپنی مدت العمر میں اس کا اتنا پھرنا ہوگا۔ اور اس مسافت کے طے کرنے کے لئے اس کی ٹانگوں اور پاؤں میں اس قدر قوت درکار ہوگی۔ وغیرہ وغیرہ۔
فھدی :عاطفہ، ھدی فعل ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب ھدایۃ (باب ضرب) مصدر سے ۔ اس نے رہنمائی کی۔ یعنی اس کی ضروریات کی تحصیل کے لئے اس کی رہنمائی کی۔
مجاہد نے کہا :۔ انسان کو اچھائی برائی۔ سعادت شقاوت کا راستہ بتادیا۔ حیوانات کو چراگاہوں کا ۔
Ayah 87:4(87:4) والذی اخرج المرعی۔ یہ بھی رب کی صفت ہے۔ وہ ذات جس نے چارہ نکالا۔
المرعی اسم ظرف مکان ۔ چراگاہ۔ جانوروں اور انسانوں کی خوراک ، یعنی گھاس غلہ، پھل وغیرہ۔ اصل میں رعی کے معنی ہیں جانور کی حفاظت کرنا۔ اس کو باقی رکھنا ۔ حفاظت کی تین صورتیں ہیں :۔
(1) خوراک کے ذریعے سے۔
(2) دشمنوں سے نگرانی کرکے۔
(3) مناسب انتظام کرکے۔ اچھی سیاست کرکے۔ حق دار کو اس کا حق دے کر۔ ہر چیز کا اس کے مناسب لحاظ کرکے۔
ان ہی معانی کا لحاط رکھتے ہوئے راعی چروا ہے کو بھی کہتے ہیں اور حاکم کو بھی اور ہر نگران کو بھی۔
Ayah 87:5(87:5) فجعلہ غثاء احوی :بمعنی پھر۔ ہ ضمیر واحد مذکر غائب کا مرجع المرعی ہے۔ غثاء مفعول ثانی جعل کا۔ بمعنی سیلاب کا کوڑا اور جھاگ۔ ھو ما یقذف بہ السیل علی جانب الوادی من الحشیش والنبات : سیلاب کا کوڑا اور جھاگ، سوکھے سڑے گلے پتے۔ (روح المعانی)
غ ث و۔ حروف مادہ غثا یغثوا (باب نصر) غثو مصدر۔ الغثاء ہانڈی کی جھاگ، اور وہ کوڑا کرکٹ جسے سیلاب بہا کر لائے ۔ یہ ہر اس چیز کے لئے ضرب المثل ہے جسے بوجہ بےسود ہونے کے ضائع ہونے دیا جائے۔ (المفردات)
احوی ۔ غثاء کی صفت ہے۔ کالا سیاہ مائل بہ سبزی، سرخ مائل بہ سیاہی۔
ترجمہ ہوگا :۔ پھر اس (المرعی) کو کالا سیاہ مائل بہ سبزی کوڑا کرکٹ بنادیا۔ (اس میں مخلوق خصوصا حضرت انسان کی انتہا کی طرف کس عمدہ پیرایہ میں اشارہ ہے کہ جس سے غور کرنے والے دل پر چوٹ لگتی ہے۔ (تفسیر حقانی)
Ayah 87:6(87:6) سنقرئک فلا تنسی : س جب مضارع پر داخل ہوتا ہے تو اس کو خالص مستقبل کے معنی میں کردیتا ہے پھر خود اس کا ایک جزء بن جاتا ہے اسی لئے مضارع میں کوئی عمل نہیں کرتا۔
نقرئک : نقرء مضارع جمع متکلم اقراء (افعال) مصدر ک ضمیر مفعول واحد مذکر حاضر۔ ہم آپ کو پڑھا دیا کریں گے۔
القرء (ق ر ء مادہ) بمعنی عورت کو حیض آنا کے ہیں۔ مثلاً قرءت المرء ۃ عورت کو حیض آنا شروع ہوگیا۔ عورت حیض میں آگئی۔ اس کے اصل معنی طہر سے حیض میں داخل ہونے کے ہیں۔ اور چونکہ یہ لفظ طہر اور حیض دونوں کا جامع ہے اس لئے دونوں پر اس کا اطالق ہوتا ہے کیونکہ قاعدہ یہ ہے کہ جو اسم دو چیزوں کے لئے بحیثیت مجموعی وضع کیا گیا ہو وہ ہر ایک پر انفرادا بھی بولا جاسکتا ہے مثلاً لفظ مائدہ کو دستر خوان اور کھانا دونوں کے مجموعہ کے لئے وضع کیا گیا ہے مگر ہر ایک پر انفرادا بھی بولا جاتا ہے لہٰذا قرء نہ صرف حیض کا نام اور نہ صرف طہر کا (بلکہ دونوں کے لئے وضع کیا گیا ہے) اس کی دلیل یہ ہے کہ جس عورت کو حیض نہ آتا ہو اسے ذات قرء نہیں کہا جاتا اور ایسے ہی حائض جسے متواتر خون آرہا ہو۔ اور نفساء (صاحب نفاس) کو بھی ذات قرء نہیں کہتے۔ اور آیت کریمہ یتربصن بانفسھن ثلاثۃ قردء (2:228) ” تین حیض تک اپے تئیں روکے رکھیں “ میں تین مرتبہ طہر سے حالت حیض کی طرف منتقل ہونے کے ہیں۔
بعض اہل لغت کا قول ہے کہ :۔ قرء کا لفظ قرء سے مشتق ہے جس کے معنی جمع کرنے کے ہیں تو انہوں نے زمانہ طہر کو اور زمانہ حیض کو جمع کرنے کے معنی کا اعتبار کیا ہے کیونکہ زمانہ طہر میں خون رحم میں جمع ہوتا رہتا ہے جیسا کہ ہم اوپر بیان کرچکے ہیں۔
القراء ۃ کے معنی حروف و کلمات کو ترتیل میں جمع کرنے کے ہیں کیونکہ ایک حرف کے بولنے کو قراءت نہیں کہا جاتا۔ اور نہ یہ ہر عام چیز کے جمع کرنے پر بولا جاتا ہے لہٰذا اجمعت القوم کے بجائے قرءت القوم کہنا صحیح نہیں ہے۔ (المفردات) ۔
لہٰذا القراء ۃ کے معنی ہوئے حروف اور کلمات کو حسن تناسب کے ساتھ منظم اور مرتب کرکے ادا کرنا (پڑھنا) اقرأت فلانا کذا کے معنی کسی کو کچھ پڑھانے کے ہیں اسی طرح سنقرئک فلا تنسی (آیت ہذا) کا ترجمہ ہوگا :۔
ہم تمہیں پڑھا دیں گے کہ تم فراموش نہ کرو گے۔
فلا تنسی کہ تم بھولو گے نہیں۔ تنسی نسیان سے (باب سمع) مصدر (بمعنی بھولنا۔ فراموش کرنا۔ ) سے مضارع کا صیغہ واحد مذکر حاضر۔ لا تنسی کی مندرجہ ذیل دو صورتیں ہوسکتی ہیں :۔
(1) مضارع منفی واحد مذکر حاضر کا صیغہ ہے تو نہیں بھولے گا۔ یعنی ہم قرآن مجید کو تمہارے یوں ذہن نشین کرائیں گے کہ تم پھر اس کو نہیں بھولو گے۔
(2) فعل نہی کا صیغہ واحد مذکر حاضر ہے س کے بعد الف کی زیادتی فواصل آیات کی رعائت سے کردی گئی ہے۔ ہم اسے تم کو پڑھا دیں گے پس تم اسے نہ بھولنا۔
Ayah 87:7(87:7) الا ما شاء اللہ۔ صاحب تفسیر مظہری اس کی تفسیر میں یوں رقمطراز ہیں :۔ ” مگر جس کا فراموش کیا جانا اللہ چاہے وہ تم کو فراموش ہوجائے گا “۔
اور تفسیر جمہور کے موافق اس سے مراد قرآن کا وہ حصہ ہے جس کی تلاوت بھی منسوخ ہوگئی اور حکم بھی جیسے آیت ما ننسخ من ایۃ اوننسھا نات بخیر منھا او مثلہا (2:106) ہم جس آیت کو منسوخ کردیتے ہیں یا اسے فراموش کرا دیتے ہیں تو اس سے بہتر یا ویسی ہی اور آیت بھیج دیتے ہیں) میں فرمایا ہے۔
انساء (فراموش کرا دینا) بھی نسخ ہی کی ایک قسم ہے اس تشریح کی بنا پر آیت میں دو طرح کا معجزہ ہے :۔
(1) اول نیسان بالکل نہ ہونا یا وجود یکہ نیسان انسان کے فطری عوارض میں سے ہے۔
(2) آئندہ ہونے والی چیز کی پہلے خبر دینا (یہ کل تفصیل اس صورت میں ہوگی جب کہ فلا تنسی کو فعل منفی قرار دیا جائے) تو استثناء کا معنی یہ ہوگا کہ قرآن کی یاد داشت کے مطابق واجب ہے لیکن اگر خدا ہی فراموش کرا دینا چاہے تو آدمی معذور ہے۔ (تفسیر مظہری)
فائدہ : ان آیات سنقرئک ۔۔ الخ کی تفسیر میں بعض مفسرین یہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس حضرت جبریل (علیہ السلام) جب وحی لاتے تھے تو آپ اس خوف سے کہ کہیں کچھ بھول نہ جاؤں جبریل کے ساتھ ساتھ جلدی جلدی پڑھتے جاتے۔ یہ آپ کے لئے بڑی مشقت تھی اس مشقت کے دور کرنے کو یہ آیات نازل فرمائیں کہ آپ بھول جانے کے اندیشہ کو دل سے نکال دیجئے۔ اس کا یاد کرانا ہمارا کام ہے آپ نہیں بھولیں گے۔ الا ما شاء اللہ مگر جس قدر خدا چاہے کہ بشریت کی وجہ سے آپ کو نسیان یا سہو ہوجائے نہ کہ بالکل ذہول ہوجاوے ۔ (تفسیر حقانی)
انہ یعلم الجھر وما یخفی۔ یہ جملہ ماقبل کی تعلیل ہے ان حرف مشبہ بالفعل ہے۔ ہ ضمیر شان ہے بعد کا جملہ مفسرہ ہے جو ہ کی خبر ہے۔ یعلم : علم (باب سمع) مصدر سے ۔ مضارع واحد مذکر غائب۔
الجھر (باب فتح) مصدر بمعنی زور سے کہنا۔ زور سے ظاہر کرنا۔ ظاہر ہونا۔ آشکارا ہونا اصل میں دیکھنے یا سننے میں کسی چیز کا کھلم کھلا ظاہر ہونے کا نام جھر ہے۔ یہ یعلم کا مفعول اول ہے۔
وما یخفی۔ واؤ عاطفہ، ما موصولہ یخفی مضارع واحد مذکر غائب۔ اخفاء (افعال) مصدر سے۔ بمعنی پوشیدہ ہونا۔ صلہ۔ موصول اور صلہ مل کر مفعول ثانی ہے یعلم کا۔
ترجمہ ہوگا :۔ بیشک وہ جانتا ہے ہر اس کو جو ظاہر ہے اور (ہر اس کو) جو پوشیدہ ہے۔
Ayah 87:8(87:8) ونیسرک للیسری واؤ عاطفہ ہے۔ نیسرک کا عطف سنقرئک پر ہے ہم تیرے لئے آسان بات کو سہل کردیں گے
نیسر فعل مضارع صیغہ جمع متکلم تیسیر (تفعیل) مصدر سے ک ضمیر واحد مذکر حاضر۔ تیرے لئے ہم سہولت پیدا کردیتے ہیں یا کردیں گے۔ یسر ضد ہے عسر کی۔ آسانی ، سہولت۔
الیسری۔ واحد مؤنث اسم تفصیل معرف باللام ۔ الیسر واحد مذکر، یسر مصدر ہے ۔ یسر ییسر کا۔ (آسان ہونا) ۔ آسان (شریعت) یا عمل جنت ، یعنی عمل خیر (ابن عباس ) آسان طریقہ ۔ یعنی وہ عمل جو رضا الٰہی کے حصول کا سبب ہو۔ (معالم التنزیل) ۔
صاحب تفسیر ضیاء القرآن اس آیت کی تشریح میں حاشیہ میں تحریر فرماتے ہیں :۔
حقیقت میں شریعت اسلامیہ کا بنایا ہوا طریقہ بڑا آسان ہے کیونکہ اس کے قوانین فطرت انسانی کے عین مطابق ہیں۔ اس کی صلاحیتوں کی نشو و نما میں بڑے معاون ثابت ہوئے ہیں لیکن بعض لوگ جن کے مزاج بگڑ چکے ہوتے ہیں انہیں اس راہ پر قدم اٹھانا بڑا مشکل معلوم دیتا ہے۔ یہ بھی اللہ تعالیٰ کا بڑا احسان ہے کہ وہ اس دین کو قبول کرنا آسان بنا دے۔
اللہ تعالیٰ اپنے حبیب کریم ﷺ کو ارشاد فرماتے ہیں کہ ہم نے آپ کے لئے اس پر کاربند رہنا آسان بنادیا ہے اسی لئے حضرت صدیقہ ؓ سے جب حضور ﷺ کے اخلاق حسنہ کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے جواب میں فرمایا کان خلقہ القران۔ آپ کا خلق قرآن تھا۔
Ayah 87:9(86:9) فذکر :سببیہ ہے ذکر فعل امر واحد مذکر حاضر۔ تذکیر (تفعیل) مصدر۔ تو یاد دلا۔ تو سمجھا۔ تو نصیحت کر۔ یا ۔ تو سمجھا تا رہ۔ تو یاد دلاتا رہ، تو نصیحت کرتا وہ۔ یعنی جب قرآن اور شریعت کو ہم نے تمہارے لئے آسان کردیا تو تم اس کے ذریعے سے دوسروں کو ہدایت کرتا رہ۔
ان نفعت الذکری : ان شرطیہ۔ نفعت ماضی واحد مؤنث غائب نفع (باب فتح) مصدر بمعنی نفع دینا۔ نفع مند ہونا۔ اصل میں ت ساکن تھی بعد کو آنے والے لفظ کے ساتھ ملانے کی وجہ سے متحرک ہوگئی۔ لان الساکن اذا حرک حرک بالکسر۔ کہ جب ساکن کو حرکت دی جائے گی تو کسرہ کی حرکت دی جائے گی۔
ترجمہ : اگر مفید ہو۔ ماضی شرط کی وجہ سے بمعنی مستقبل ہوگئی۔
الذکری (باب نصر) سے مصدر ہے۔ نسیحت کرنا۔ ذکر کرنا۔ یاد ، پند، موعظت۔ کثرت ذکر کے لئے ذکری بولا جاتا ہے یہ ذکر سے زیادہ بلیغ ہے۔ مطلب یہ ہے کہ :۔ اے محمد ﷺ اگر ان مخاطبین کو کسی قدر بھی نفع ہوجانے کی توقع ہو تو آپ ان کو سمجھاتے رہئے۔
فائدہ : گزشتہ حکم مضمون جزا پر دلالت کر رہا ہے اس لئے اس شرط کو جزاء کی ضرورت نہیں۔
بعض علماء کا قول ہے کہ بار بار نصیحت کرنے کے باوجود بعض لوگوں کے ایمان لانے سے مایوس ہونے کے بعد پھر (حکم تذکیر کے بعد) اس جملہ شرطیہ کو لانے کی وجہ یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ اپنی جان کو دکھ میں نہ ڈالیں۔ اور ان بےایمانوں کی حالت پر افسوس نہ کریں جیسا کہ آیت (50:45) میں آیا ہے وما انت علیہم بجبار۔ (آپ ایمان لانے پر ان کو مجبور کرنے والے نہیں ہیں) ۔
بعض عالموں نے کہا ہے کہ بظاہر یہ شرطیہ کلام ہے لیکن حقیقت میں بےایمانوں کی مصمت اور نصیحت کے اثر آفریں نہ ہونے کا اظہار ہے۔ (تفسیر مظہری)
Ayah 87:10(87:10) سیذکر : سین کے لئے ملاحظہ ہو 87:6 متذکرہ الصدر۔ یذکر مضارع واحد مذکر غائب تذکرۃ (تفعل) مصدر۔ یہ اصل میں یتذکر تھا ت کو ذال میں مدغم کیا۔ یذکر ہوگیا۔ نصیحت پکڑے گا۔
من یخشی : من موصولہ۔ یخشی (صلہ) مضارع واحد مذکر غائب خشیۃ (باب سمع) مصدر۔ بمعنی ڈرنا۔ من یخشی جو ڈرتا ہے۔
Ayah 87:11(87:11) ویتجنبھا الاشقی۔ اس جملہ کا عطف جملہ سابقہ پر ہے۔ یتجنب مضارع واحد مذکر غائب تجنب (تفعل) مصدر۔ ھا ضمیر مفعول واحد مؤنث غائب کا مرجع الذکری ہے اور اس کو ترک کرتا ہے ۔ اس سے دور رہتا ہے اس سے پرے (ایک طرف) رہتا ہے
الاشقی ۔ شقی ۔ یشقی شقوۃ وشقاوۃ (باب سمع) مصدر سے افعل التفضیل کا صیغہ۔ بڑا بدبخت۔ برا بدقسمت۔
ترجمہ ہوگا :۔ اور اس نصیحت سے تو بدبخت ہی الگ رہتا ہے۔
Ayahs 87:12–13(87:12) الذی یصلی النار الکبری یہ جملہ صفت ہے الاشقی کی۔ جو بڑی آگ میں پڑے گا۔
یصلی مضارع واحد مذکر غائب صلی (باب سمع) مصدر سے وہ داخل ہوگا۔ وہ پڑیگا النار الکبری۔ موصوف و صفت مل کر مفعول یصلی کا۔ کبری کبیر کا مؤنث ہے۔
Ayah 87:14(87:14) قد افلح من تزکی : قد ماضی پر داخل ہو کر تحقیق کے معنی دیتا ہے اور اس کو زمانہ حال سے قریب کردیتا ہے۔
افلح ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب افلاح (افعال) مصدر۔ اس نے فلاح پائی اس نے کامیابی یا مقصد کو پالیا۔ وہ مراد کو پہنچا۔
من تزکی : من موصولہ۔ تزکی ماضی واحد مذکر غائب تزکی (تفعل) مصدر سے جس کے معنی زکوۃ دینے اور پاک ہونے کے ہیں۔ وہ پاک ہوا۔ وہ سنور گیا۔
Ayah 87:15(87:15) وذکر اسم ربہ فصلی : ذکر کا عطف تذ کی پر ہے۔ اور صلی کا عطف ذکر پر ہے۔ اور جو اپنے رب کا نام لیتا رہا اور نماز پڑھتا رہا۔ پس وہ فلاح پا گیا۔
Ayah 87:16(87:16) بل تؤثرون الحیوۃ الدنیا : تؤثرون مضارع جمع مذکر حاضر ایثار (افعال) مصدر سے تم اختیار کرتے ہو۔ تم ترجیح دیتے ہو۔ تم پسند کرتے ہو۔ (نیز ملاحظہ ہو 79:38)
بل حرف اضراب ہے ماقبل سے اعراض اور مابعد کا اقرار۔ یعنی اے بدبختو (خطاب کفار مکہ سے ہے) تم نہ تزکیہ کرتے ہو نہ اللہ کی یاد کرتے ہو نہ نماز پڑھتے ہو بلکہ آخرت کی زندگی پر دنیوی زندگی کو ترجیح دیتے ہو۔ (تفسیر مظہری)
بل اس کلام مقدرہ سے اعراض ہے جس کی طرف سیاق کلام (رفتار کلام ، ترتیب کلام) دلالت کر رہا ہے۔ اور جو تم نہیں کر رہے ہو بلکہ تم دنیا کی لذات فانیہ و عاجلہ (جلدی ہاتھ آنے والی) کو آخرت کی نعمتوں پر جو کہ باقی رہنے والی اور بہتر ہیں ترجیح دے رہے ہو۔ (تفسیر حقانی) ۔ ترجمہ ہوگا :۔ بلکہ تم تو دنیا کی زندگی کو ترجیح دے رہے ہو۔
الحیوۃ الدنیا موصوف صفت مل کر مفعول ہے تؤثرون کا۔
Ayah 87:17(87:17) والاخرۃ خیر وابقی۔ واؤ حالیہ ہے الاخرۃ مبتداء خیر وابقی اس کی خبر۔
جملہ یؤثرون کے فاعل سے حال ہے۔ خیر۔ اخیر کے معنی میں افعل التفضیل کا صیغہ بھی ہے اور اسم بھی۔ اس صورت میں اس کی جمع خیار واخیار ہوگی۔ ابقی : بقاء سے افعل التفضیل کا صیغہ ہے۔ اگر یہ لفظ اللہ کی صفت ہوگا تو اس کے معنی سدا باقی رہنے والا کے ہوں گے۔ ورنہ دیر تک رہنے والے کے ہوں گے۔
ترجمہ ہوگا :۔ حالانکہ آخرت (کا گھر) بہتر اور سدا رہنے والا ہے۔
Ayah 87:18(87:18) ان ھذا لفی الصحف الاولی : ان حرف تحقیق، بےشک، ھذا یہ مضمون۔ جو افلح سے چوتھی آیت تک مذکور ہے (تفسیر مظہری و خازن)
(2) شروع سے لے کر والاخرۃ خیر وابقی تک (جریر، ابن ابی حاتم عن ابن زید) ۔
(3) قد افلح سے لے کر آخر تک (مدارک التنزیل)
الصحف الاولی موصوف و صفت، پہلے صحیفوں میں۔ گزشتہ انبیاء کی آسمانی کتابوں میں۔
Ayah 87:19(87:19) صحف ابراہیم و موسیٰ یہ بدل ہے الصحف الاولی سے یعنی منجملہ اور آسمانی کتابوں کے حضرت ابراہیم اور حضرت موسیٰ (علیہما السلام) کے صحیفے بھی تھے ان میں بھی یہی مضمون مذکور ہے۔