87. Surah Al-A'laa

الأعلىThe Most High · 19 ayahsسراج البیان

Ayahs 87:1–7

سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْاَعْلَىۙ Open ayah 87:1 in the Quran reader

اپنے رب کے نام کی جو سب سے بلند (مرتبہ) ہے تسبیح کر

الَّذِیْ خَلَقَ فَسَوّٰى۪ۙ Open ayah 87:2 in the Quran reader

جس نے پیدا کیا ۔ پھر درست کیا

وَ الَّذِیْ قَدَّرَ فَهَدٰى۪ۙ Open ayah 87:3 in the Quran reader

اور جس نے اندازہ کیا ۔ پھر راہ دکھائی

وَ الَّذِیْۤ اَخْرَجَ الْمَرْعٰى۪ۙ Open ayah 87:4 in the Quran reader

اور جس نے چارہ نکالا

فَجَعَلَهٗ غُثَآءً اَحْوٰىؕ Open ayah 87:5 in the Quran reader

پھر اسے کالا کوڑا کردیا

سَنُقْرِئُكَ فَلَا تَنْسٰۤىۙ Open ayah 87:6 in the Quran reader

اے پیغمبر ہم تجھے پڑھائیں گے ۔ پھر تو نہ بھولے گا

اِلَّا مَا شَآءَ اللّٰهُ١ؕ اِنَّهٗ یَعْلَمُ الْجَهْرَ وَ مَا یَخْفٰىؕ Open ayah 87:7 in the Quran reader

مگر جو اللہ (ف 1) چاہے ۔ وہ ظاہر اور چھپے کو جانتا ہے

سورة الاعلیٰ 1: سنقرئک فلا تنسی میں اس چیز کی طرف اشارہ ہے کہ پیغمبر کا دماغ خدا کی جانب سے محفوظ ہوتا ہے اور جہاں تک شرعیات کا تعلق ہے ، اس پر کبھی سہو ونسیان کی کیفیتیں طاری نہیں ہوتیں ۔ الا ماشاء اللہ کا استثناء تائید کے لئے ہے ۔ یعنی خدا کو یہ منظور نہ ہو کہ پیغمبر ﷺ تعلیمات کو بھول جائے ۔ ورنہ دوسری قوت ایسی نہیں جو ذہن پیغمبر پر غالب آسکے ۔ حل لغات :۔ فسوی ۔ اعضاء میں تسویہ پیدا کرنا فھدی ۔ بدن میں اعضاء واحشاء کو ان کے وظائف طبعی سے اطلاع بخشی ۔
Ayahs 87:8–19

وَ نُیَسِّرُكَ لِلْیُسْرٰىۚۖ Open ayah 87:8 in the Quran reader

اور آسانی کی جگہ پہنچنے کو ہم تیرے لئے آسان کرینگے

فَذَكِّرْ اِنْ نَّفَعَتِ الذِّكْرٰىؕ Open ayah 87:9 in the Quran reader

سو تو نصیحت کر اگر تیری نصیحت سے نفع ہو

سَیَذَّكَّرُ مَنْ یَّخْشٰىۙ Open ayah 87:10 in the Quran reader

جو ڈرتا ہے شتاب نصیحت قبول کرے گا

وَ یَتَجَنَّبُهَا الْاَشْقَىۙ Open ayah 87:11 in the Quran reader

اور وہ بڑا بخت اس سے یک سو ہوجائے گا

الَّذِیْ یَصْلَى النَّارَ الْكُبْرٰىۚ Open ayah 87:12 in the Quran reader

جو بڑی آگ میں داخل ہوگا

ثُمَّ لَا یَمُوْتُ فِیْهَا وَ لَا یَحْیٰىؕ Open ayah 87:13 in the Quran reader

پھر اس میں نہ مرے گا نہ جئے گا

قَدْ اَفْلَحَ مَنْ تَزَكّٰىۙ Open ayah 87:14 in the Quran reader

بیشک جو پاک ہوا اس نے مراد پائی

وَ ذَكَرَ اسْمَ رَبِّهٖ فَصَلّٰىؕ Open ayah 87:15 in the Quran reader

اور اپنے رب کا نام لیا پھر نماز پڑھی

بَلْ تُؤْثِرُوْنَ الْحَیٰوةَ الدُّنْیَا٘ۖ Open ayah 87:16 in the Quran reader

بلکہ تم دنیا کی زندگی کو اختیار کرتے ہو

وَ الْاٰخِرَةُ خَیْرٌ وَّ اَبْقٰىؕ Open ayah 87:17 in the Quran reader

اور حالانکہ آخرت بہتر اور بہت باقی رہنے والی ہے

اِنَّ هٰذَا لَفِی الصُّحُفِ الْاُوْلٰىۙ Open ayah 87:18 in the Quran reader

بیشک یہ بیان اگلے صحیفوں (اور قول) میں ہے

صُحُفِ اِبْرٰهِیْمَ وَ مُوْسٰى۠ Open ayah 87:19 in the Quran reader

ابراہیم (ف 1) اور موسیٰ کے صحیفوں (اور قول) میں

ہمہ گیر صداقت 1: غرض یہ ہے کہ صداقت ہمہ گیر ہے ۔ ابراہیم اور موسیٰ (علیہم السلام) نے بیک آواز جو چیز اپنے اپنے زمانے میں لوگوں کے سامنے پیش کی ، وہ یہ تھی کہ کامیابی اسی شخص کے مقدر ہے جو پاکباز ہے ۔ جو خیال وفکر سے لے کر اعمال وجوارح تک پاکیزگی اور تقویٰ کو اپنا شعار بنالیتا ہے ۔ جس کا قلب پاک ہے ۔ جس کا خیال پاک ہے ۔ جس کا استدلال شوائب ضلالت سے پاک ہے اور جس کا عمل خلوص اور پاکیزگی ہے ۔ جو ہر آن اللہ کو یاد رکھتا ہے اور اپنی عقیدت ونیاز مندی کے جذبات کا اظہار کرتا ہے ۔ یعنی وہ جس کو ذوق عبادت بےقرار کردیتا ہے اور مجبور کرکے اس کے حضور میں کھڑا کردیتا ہے ۔ جس کی جبین اس کے آستانہ جلال پر جھکنے کے لئے ہر وقت بےتاب رہتی ہے اور جس کا دل حمدوستائش کے ترانوں سے گونجتا رہتا ہے جس کی زبان اس کے ذکر سے تازہ وشگفتہ رہتی ہے اور جس کی پوری زندگی ثبوت ہوتی ہے اس بات کا کہ اس نے اپنی زندگی کے کسی حصہ میں اس کی یاد اور اس کے احکام کو فراموش نہیں کیا ۔ جو متاع دنیا کو ذلیل اور حقیر سمجھتا ہے اور آخرت کو جو دائمی اور واقعی ہے ، بہتر قرار دیتا ہے ۔ جس کے نقطہ نگاہ سے اصل چیز جو حصول اور تگ ودو کے قابل ہے ۔ وہ عقبیٰ کی نعمتیں ہیں دنیا کی احقر اور ارزل اشیاء نہیں ۔ یہی وہ حقیقت ہے جس کو مختلف انبیاء نے اپنے اپنے وقتوں میں بنی نوع انسان تک پہنچایا اور ان کے اخلاقی اور روحانی افق کو بلند اور تابناک بنانے کی کوشش کی ۔