87. Surah Al-A'laa

الأعلىThe Most High · 19 ayahsتفسیر درِ منثور

Ayahs 87:1–2

سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْاَعْلَىۙ Open ayah 87:1 in the Quran reader

آپ اپنے رب برتر کے نام تسبیح بیان کیجیے

الَّذِیْ خَلَقَ فَسَوّٰى۪ۙ Open ayah 87:2 in the Quran reader

جس نے پیدا فرمایا سو ٹھیک طرح بنایا

1۔ ابن الضریس والنحاس وابن مردویہ والبیہقی نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ سورة سبح مکہ میں نازل ہوئی۔ 2۔ ابن مردویہ نے عبداللہ بن زبیر ؓ سے روایت کیا کہ سورة سبح اسم ربک الاعلیٰ مکہ میں نازل ہوئی۔ 3۔ ابن مردویہ نے عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ سورة سبح اسم ربک الاعلی مکہ میں نازل ہوئی۔ 4۔ ابن سعد وابن ابی شیبہ والبخاری نے براء بن عازب ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ کے اصحاب میں سے سب سے پہلے ہمارے پاس مصعب بن عمیر اور ابن ام مکتوم ؓ آئے اور انہوں نے ہم کو قرآن پڑھانا شروع کیا پھر عمار، بلال اور سعد ؓ آئے پھر بیسویں نمبر پر عمر بن خطاب ؓ تشریف لائے پھر نبی اکرم ﷺ تشریف لائے میں نے اہل مدینہ کو کسی چیز کے ساتھ اتنا خوش ہوتے نہیں دیکھا جتنا وہ آپ کی تشریف آوری سے خوش ہوئے۔ یہاں تک کہ میں نے بچیوں اور بچوں کو دیکھا کہ وہ کہہ رہے تھے یہ اللہ کے رسول تشریف لا چکے ہیں۔ آپ کی تشریف آوری سے پہلے میں سبح اسم ربک الاعلیٰ اور اس جیسی سورتیں پڑھ چکا تھا۔ 5۔ احمد والبزار وابن مردویہ نے علی ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ یہ سورة سبح اسم ربک الاعلیٰ پسند فرماتے تھے۔ 6۔ ابو عبید نے تمیم ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میں مسبحات میں سے افضل سورة کو بھول گیا ہوں تو ابی بن کعب ؓ نے عرض کیا شاید وہ سبح اسم ربک الاعلیٰ ہوگی فرمایا ہاں۔ 7۔ ابن ابی شیبہ واحمد ومسلم وابوداوٗد والترمذی والنسائی وابن ماجہ نے نعمان بن بشیر ؓ سے روایت کیا کہ نبی اکرم ﷺ عیدین میں اور جمعہ کے دن آیت سبح اسم ربک الاعلی اور ہل اتک حدیث الغاشیہ پڑھا کرتے تھے اگر عید جمعہ کے دن آجاتی تو پھر دونوں نمازوں میں یہی سورتیں پڑھا کرتے تھے۔ 8۔ ابن ابی شیبہ وابن ماجہ نے ابو عنبہ الخولانی ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ جمعہ میں سبح اسم ربک الاعلی اور ہل اتک حدیث الغاشیۃ پڑھتے تھے۔ مختلف نمازوں کی قراءتیں 9۔ ابن ماجہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ عید میں سبح اسم ربک الاعلیٰ اور ہل اتک حدیث الغاشیۃ پڑھا کرتے تھے۔ 10۔ احمد وابن ماجہ والطبرانی نے سمرہ بن جندب ؓ سے روایت کیا کہ نبی اکرم ﷺ عیدین میں سبح اسم ربک الاعلی۔ اور ہل اتک حدیث الغاشیۃ پڑھا کرتے تھے۔ 11۔ البزار نے انس ؓ سے روایت کیا کہ نبی اکرم ﷺ ظہر اور عصر میں سبح اسم ربک الاعلی اور ہل اتک حدیث الغاشیۃ پڑھا کرتے تھے۔ 12۔ ابن ابی شیبہ ومسلم نے جابر بن سمرہ ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ ظہر میں سبح اسم ربک الاعلی پڑھا کرتے تھے۔ 13۔ ابن ابی شیبہ ومسلم و بیہقی نے اپنی سنن میں عمران بن حصین ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ نے ظہر کی نماز پڑھائی۔ جب سلام پھیرا تو فرمایا کیا تم میں سے کسی نے آیت سبح اسم ربک الاعلی پڑھی ایک آدمی نے کہا کہ میں نے پڑھی ہے آپ ﷺ نے فرمایا میں نے جان لیا کہ تم میں سے کسی نے اس کے ذریعہ مجھے خلجان میں ڈال دیا۔ 14۔ ابو داوٗد والنسائی وابن ماجہ وابن حبان والدار قطنی والحاکم والبیہقی نے ابی بن کعب ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ وتر میں آیت سبح اسم ربک الاعلی اور قل یا ایہا الکفرون کی قراءت کرتے تھے۔ 15۔ ابو داوٗد والرترمذی والنسائی وابن ماجہ والحاتم والبیہقی نے عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ وتر کی پہلی رکعت میں سورة سبح اسم ربک الاعلی اور دوسری میں قل یا ایہا الکفرون اور تیسری میں قل ہوا اللہ احد اور معوذتین پڑھا کرتے تھے۔ 16۔ البزار نے ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وتر میں سبح اسم ربک الاعلی اور قل یا ایہا الکفرون اور قل ہوا اللہ احد پڑھا کرتے تھے۔ 17۔ محمد بن نصر نے انس ؓ سے اسی طرح روایت کیا۔ 18۔ ابن ابی شیبہ نے جابر بن عبد اللہ ؓ سے روایت کیا کہ معاذ ؓ سے مغرب کی نماز میں لوگوں کی امامت کی انصار میں سے ایک لڑکا ان کے پاس سے گذرا اور وہ اپنے اونٹ پر کام کرتا تھا۔ معاذ ؓ نے ان پر نماز کو لمبار کردیا جب اس لڑکے نے یہ دیکھا تو نماز چھوڑدی اور اپنے اونٹ کی تلاش میں چلا گیا یہ بات نبی ﷺ کو بتائی گئی تو آپ نے فرمایا اے معاذ کیا تو لوگوں کو آزمائش میں ڈالتا ہے۔ کیا تم میں سے کوئی مغرب میں سبح اسم ربک الاعلی اور والشمس وضحہا جیسی صورتیں نہیں پڑھے گا۔ 19۔ ابن ماجہ نے جابر ؓ سے روایت کیا کہ معاذ بن جبل ؓ نے اپنے ساتھیوں کو عشاء کی نماز پڑھائی اور ان پر نماز کو لمبا کردیا۔ نبی ﷺ نے فرمایا نماز میں آیت والشمس وضحہا اور سبح اسم ربک الاعلی اور واللیل اذا یغشی اوراقرأ باسم ربک الاعلیٰ پڑھاکرو۔ رکوع اور سجدہ کی تسبیح 20۔ ابن مردویہ نے ابوہریرہ رضی الہ عنہ سے روایت کیا کہ ہم نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ! ہم اپنے سجدوں میں کیا کہیں تو اللہ تعالیٰ نے سبح اسم ربک الاعلیٰ نازل فرمائی پھر ہم کو رسول اللہ ﷺ نے حکم فرمایا کہ ہم اپنے سجدوں میں سبحان ربی الاعلیٰ کہا کریں۔ 21۔ ابن سعد نے کلبی (رح) سے روایت کیا کہ حضرمی بن عامر کا وفد نبی ﷺ کے پاس آیا آپ نے ان سے فرمایا کیا تم کوئی چیز قرآن میں سے پڑھتے ہو۔ تو انہوں نے پڑھا آیت سبح اسم ربک الاعلی الذی خلق فسوی والذی قدر فہدی والذی امتن علی الحبلی فاخرج منہا نسمۃ تسع بین شیغاف وحشا۔ اپنے رب کے نام کی تسبیح کیا کر جو سب سے اعلی ہے وہ جس نے پیدا کیا پھر ٹھیک بنایا اور جس نے اندازہ ٹھہرایا پھر راہ دکھائی اور وہ جس نے حاملہ عورت کی پیٹھ پر مارا۔ اور اس میں سے ایک ذی روح کو نکالا جو دوڑتا ہے دل کے پردے اور پاخانے کے درمیان رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم ہرگز اس میں زیادتی نہ کرو بیشک وہ کافی اور شافی ہے۔ 22۔ احمد وابو داود وابن المنذر وابن مردویہ نے عقبہ بن عامر جہنی ؓ سے روایت کیا کہ جب آیت فسبح اسم ربک العظیم (الواقعہ آیت 74) نازل ہوئی تو ہم کو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم اس کو اپنے رکوع میں کرلو اور جب آیت سبح اسم ربک الاعلیٰ نازل ہوئی تو آپ نے فرمایا اس کو اپنے سجدوں میں کرلو۔ 23۔ احمد وابوداوٗد وابن مردویہ اور بیہقی نے اپنی سنن میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ جب آیت سبح اسم ربک الاعلیٰ پڑھتے تھے تو فرماتے آیت سبحان ربی الاعلیٰ ۔ 24۔ عبدالرزاق وابن ابی شیبہ وعبد بن حمید وابن جریر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ جب آپ آیت سبح اسم ربک الاعلیٰ پڑھتے تھے تو فرماتے آیت سبحان ربی الاعلیٰ ۔ 25۔ عبد بن حمید نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے فرمایا کہ جب تو آیت سبح اسم ربک الاعلیٰ پڑھے تو یہ کہا کر آیت سبحان ربی الاعلیٰ ۔ 26۔ فریابی وابن ابی شیبہ وعبد بن حمید وابن الانباری نے المصاحف میں علی بن ابی طالب ؓ سے روایت کیا کہ آیت سبح اسم ربک الاعلی پڑھی تو کہا سبحان ربی الاعلی۔ حالانکہ وہ نماز میں تھے۔ ان سے کہا گیا آپ قرآن میں اضافہ کرتے ہیں فرمایا نہیں ہم کو اس کا حکم کیا گیا ہے۔ اس لیے میں نے اس کو کہا 27۔ الفریابی سعید بن منصور وابن ابی شیبہ وعبد بن حمید وبن المنذر نے ابو موسعی اشعری ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے جمعہ کی نماز میں سبح سم ربک الاعلی پڑھی اور کہا سبحان ربی الاعلی۔ 28۔ سعید بن منصور وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر والحاکم وصححہ نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ میں نے ابن عمر رضی الہ عنہما کو آیت سبحان اسم ربک الاعلی پڑھتے ہوئے سنا پھر کہا آیت سبحان ربی الاعلیٰ راوی نے کہا کہ ابی بن کعب ؓ کی بھی اسی طرح قرائت ہے۔ 29۔ ابن ابی شیبہ وعبد بن حمید نے عبداللہ بن زبیر ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے سبح اسم ربک الاعلیٰ پڑھی پھر کہا آیت سبحان ربی الاعلی اور وہ نماز میں تھے۔ 30۔ عبد بن حمید نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ وہ اس کو اسی طرح پڑھتے تھے اور فرماتے تھے جو اس کو پڑھے تو اس کو چاہیے کہ سبحان ربی الاعلیٰ کہے۔ 31۔ عبد بن حمید نے قتادہ رحمہا للہ سے روایت کیا کہ ذکر کیا گیا بیشک نبی ﷺ جب اس کو پڑھتے تھے تو فرماتے سبحان ربی الاعلی۔ 32۔ ابن ابی شیبہ نے عمر ؓ سے روایت کیا کہ آپ آیت سبح اسم ربک الاعلی پڑھتے تھے تھے تو کہتے سبحان ربی الاعلی۔
Ayah 87:3

وَ الَّذِیْ قَدَّرَ فَهَدٰى۪ۙ Open ayah 87:3 in the Quran reader

اور جس نے تجویز کیا پھر راہ بتلائی

33۔ فریابی وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا آیت والذی قدر فہدی اور جس نے اندازہ ٹھہرایا پھر راہ دکھائی یعنی انسان کو راستہ دکھایا بدبختی کا اور سعادت مندی کا اور چوپاؤں کو ان کی چراگاہوں کی راہ دکھائی۔
Ayah 87:4

وَ الَّذِیْۤ اَخْرَجَ الْمَرْعٰى۪ۙ Open ayah 87:4 in the Quran reader

اور جس نے چارہ نکالا

34۔ عبد بن حمید وابن ابی حاتم نے ابراہیم (رح) سے روایت کیا کہ آیت والذی اخرج المرعی۔ یعنی وہ جس نے زمین سے چارا نکالا۔
Ayah 87:5

فَجَعَلَهٗ غُثَآءً اَحْوٰىؕ Open ayah 87:5 in the Quran reader

اور پھر اس کو سیاہ کوڑا بنا دیا

35۔ ابن جریر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت فجعلہ غثاء پھر اس کو خشک چورا کردیا یعنی خشک اور ٹوٹا ہوا۔ احوی۔ سیاہ۔ یعنی جس کی رنگ بدلی ہوئی ہو۔ 36۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن المنذر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت فجعلہ غثار احوی پھرا کو خشک چورا سیاہ کردیا۔ یعنی الغثاء سے مراد ہے ایک بوسیدہ چیز۔ واحوی یعنی زرد، سبز اور سفید رنگ ہوتا ہے پھر وہ خشک ہوجاتا ہے یہاں تک کہ سبز ہونے کے بعد خشک ہوجاتا ہے۔ 37۔ عبد بن حمید وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت فجعلہ غثاء احوی یعنی پھر اسے سیلاب کے کوڑے کی طرح بنادیا آیت تو احوی سے مراد ہے سیاہ رنگ۔
Ayah 87:6

سَنُقْرِئُكَ فَلَا تَنْسٰۤىۙ Open ayah 87:6 in the Quran reader

ہم آپ کو پڑھائیں گے سو آپ نہیں بھولیں گے

38۔ فریابی وعبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت سنقرئک فلا تنسی۔ البتہ ہم آپ کو پڑھائیں گے پھر آپ نہ بھولیں گے۔ سے مراد ہے کہ آپ قرآن کو دل میں یاد کرتے تھے۔ اسی خوف سے کہ بھول نہ جائے۔ وحی الٰہی کا بوجھ 39۔ الطبرانی وابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نبی اکرم ﷺ کے پاس جب جبرئیل (علیہ السلام) وحی لے کر آئے تھے تو ابھی تک جبریل (علیہ السلام) وحی سے فارغ نہ ہوتے تھے کہ آپ وحی کے بوجھ سے دب جاتے تھے اور آپ اس کے اول سے پڑھنے لگے تھے اس خوف سے کہ وہ آپ کے دل کو ڈھانپ لے گی اور آپ کو بھول جائے گی۔ تو جبریل (علیہ السلام) نے ان سے فرمایا آپ ایسا کیوں کرتے ہیں تو آپ نے فرمایا مجھے خوف ہے کہ میں بھول نہ جاؤں اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت سنقرئک فلا تنسی الا ماشاء اللہ۔ البتہ ہم آپ کو پڑھائیں گے پھر آپ نہ بھولیں گے کیونکہ نبی ﷺ قرآن میں سے کچھ آیات بھول گئے جو حلال اور حرام کے متعلق نہ تھیں پھر آپ سے جبریل (علیہ السلام) نے فرمایا کہ وہ آپ سے پہلے کسی نبی پر کچھ نازل نہیں ہوا۔ مگر یہ کہ وہ اس کو بھول گیا اور کچھ اٹھالیا گیا اور وہ اس طرح سے کہ موسیٰ (علیہ السلام) پر اللہ تعالیٰ نے تیری اجزا نازل فرمائے جب انہوں نے تختیوں کو پھینکا تو وہ ٹوٹ گئیں گے اور زمرد کی تھیں تو ان میں سے چار اجزاء ختم ہوگئے اور نو باقی رہے۔ 40۔ ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نبی اکرم ﷺ قرآن کو یاد کرتے تھے اسی خوف سے کہ آپ کو بھول نہ جائے تو آپ سے کہا گیا اس بارے میں کہ ہم آپ کے لیے کافی ہیں اور یہ آیت نازل ہوئی آیت سنقرئک فلا تنسی۔ 41۔ الحاکم سعد بن ابی وقاص ؓ سے اسی طرح روایت کیا۔ 42۔ ابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت سنقرئک فلا تنسی الا ماشاء اللہ البتہ ہم آپ کو پڑھائیں گے پھر آپ نہ بھولیں گے مگر جو اللہ چاہے۔ یعنی مگر جو میں چاہوں تو تجھ کو بھلادوں گا۔
Ayah 87:7

اِلَّا مَا شَآءَ اللّٰهُ١ؕ اِنَّهٗ یَعْلَمُ الْجَهْرَ وَ مَا یَخْفٰىؕ Open ayah 87:7 in the Quran reader

مگر جو اللہ چاہے بیشک وہ ظاہر کو اور پوشیدہ کو جانتا ہے

43۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) آیت سنقرئک فلاتنسی الا ماشاء اللہ کے بارے میں روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ کسی چیز کو نہیں بھولتے تھے مگر جو اللہ تعالیٰ چاہتے اس کو بھول جاتے تھے آیت انہ یعلم الجہر وما یخفی۔ بیشک وہی ظاہر کو بھی جانتا ہے اور وسوسہ کو بھی اس میں وما یخفی سے مراد وسوسہ ہے۔ 44۔ ابن ابی شیبہ وابن ابی حاتم نے سعید بن جبیر (رح) آیت انہ یعلم الجہر وما یخفی کے بارے میں روایت کیا کہ وہ ظاہر کو بھی جانتا ہے اور اسے بھی جو آپ دل میں چھپائے ہوئے ہیں۔
Ayahs 87:8–9

وَ نُیَسِّرُكَ لِلْیُسْرٰىۚۖ Open ayah 87:8 in the Quran reader

اور ہم آسان شریعت کے لیے آپ کو سہولت دیں گے

فَذَكِّرْ اِنْ نَّفَعَتِ الذِّكْرٰىؕ Open ayah 87:9 in the Quran reader

آپ نصیحت کیجیے اگر نصیحت نفع دے

45۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ونیسرک للیسری اور ہم آپ کے لیے خیر اور نیکی کو آسان بنادیں گے۔
Ayahs 87:10–13

سَیَذَّكَّرُ مَنْ یَّخْشٰىۙ Open ayah 87:10 in the Quran reader

وہی شخص نصیحت حاصل کرے گا جو ڈرتا ہے

وَ یَتَجَنَّبُهَا الْاَشْقَىۙ Open ayah 87:11 in the Quran reader

اور اس سے وہ شخص پرہیز کرے گا جو بڑا بدنصیب ہے

الَّذِیْ یَصْلَى النَّارَ الْكُبْرٰىۚ Open ayah 87:12 in the Quran reader

جو بڑی آگ میں داخل ہوگا

ثُمَّ لَا یَمُوْتُ فِیْهَا وَ لَا یَحْیٰىؕ Open ayah 87:13 in the Quran reader

پھر وہ اس میں نہ مرے گا نہ جئے گا

46۔ عبد بن ھمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت سیذکر من یخشی ویتجنبہا الاشقی جو اللہ سے ڈرتا ہے وہ جلدی سمجھ جائے گا اور اس سے بڑا بدنصیب الگ رہے گا۔ اللہ کی قسم جو بندہ کبھی بھی اللہ سے ڈرا اس نے اس کا ذکر کیا اور جو بندہ اس ذکر سے بےرغبتی کے سبب اور ذکر اور اہل ذکر سے بغض رکھنے کے سبب دور ہٹتا ہے تو وہ بدبختوں میں سے ایک بدبخت ہوتا ہے۔
Ayahs 87:14–15

قَدْ اَفْلَحَ مَنْ تَزَكّٰىۙ Open ayah 87:14 in the Quran reader

وہ شخص کامیاب ہوا جس نے پاکیزگی کو اختیارر کیا

وَ ذَكَرَ اسْمَ رَبِّهٖ فَصَلّٰىؕ Open ayah 87:15 in the Quran reader

اور اپنے رب کا نام لیا پھر نماز پڑھی

47۔ البزار وابن مردویہ نے جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ نے اللہ تعالیٰ کے قول آیت قد افلح من تزکی بیشک وہ کامیاب ہوا جو پاک ہوگیا کے بارے میں فرمایا یعنی جس نے لا الہ الا اللہ کی گواہی دی اور بتوں سے ہٹ گیا۔ اور یہ گواہی دی کہ بیشک میں اللہ کا رسول ہوں اور آیت وذکر اسم ربہ فصلی اور اپنے رب کا نام دیا کیا پھر نماز پڑھی اس سے پانچ نمازیں مراد ہیں اور ان کے وقتوں کیساتھ ان پر پابندی اور اہتمام کرنا ہے۔ 48۔ ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت قد افلح من تزکی یعنی جو شرک سے پاک ہوا اس نے فلاح پائی آیت وذکر اسم ربہ یعنی اللہ کی توحید کا اقرار کیا آیت فصلی میں پانچوی نمازیں پڑھیں گے۔ 49۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم اور ابو نعیم نے الحلیہ میں عکرمہ ؓ سے روایت کیا کہ آیت قد افلح من تزکی یعنی جس نے لا الہ الا اللہ کہا۔ 50۔ البیہقی نے الاسماء والصفات میں عکرمہ کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت قد افلح من تزکی یعنی جس نے لا الہ الا اللہ کہا۔ 51۔ عبد بن حمید وابن ابی حاتم نے عطا (رح) سے روایت کیا کہ آیت قد افلح من تزکی یعنی جو ایمان لا یا۔ 52۔ ابن ابی حاتم نے عطاء (رح) سے روایت کیا کہ آیت قد افلح من تزکی یعنی جس نے استغفار کی کثر کی اور فلاح پا گیا۔ 53۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت قد افلح من تزکی یعنی جس نے نیک عمل کیا۔ وہ فلاح پا گیا۔ عید کی نماز سے پہلے صدقہ فطر 54۔ البزار وابن المنذر وابن ابی حاتم فی الکنی وابن مردویہ والبیہقی فی سننہ ضعیف سند کے ساتھ کثیر بن عبداللہ بن عمرو بن عوف (رح) سے روایت کیا کہ وہ اپنے باپ دادا سے روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ ہم کو عید کی نماز سے پہلے صدقہ فطر کا حکم فرماتے تھے۔ اور یہ آت تلاوت فرماتے آیت قد افلح من تزکی وذکر اسم ربہ فصلی۔ اور ایک روایت کے الفاظ میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے صدقہ فطر کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا آیت قد افلح من تزکی اور فرمایا یہی صدقۃ الفطر ہے۔ 55۔ ابن مردویہ نے ابو سعید خدری ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ فرماتے تھے آیت قد افلح من تزکی وذکر اسلم ربہ فصلی پھر آپ صدقۃ الفطر کو تقسیم فرماتے تھے عید فطر کے دن صبح سویرے عید گاہ کی طرف جانے سے پہلے۔ 56۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے ابو سعید خدری ؓ سے روایت کیا کہ آیت قد افلح من تزکی یعنی وہ فلاح پا گیا جس نے صدقۃ الفطر ادا کردیا عید گاہ کی طرف نکلنے سے پہلے وذکر اسم ربہ فصلی یعنی پھر عیدگاہ کی طرف نکلا اور نماز ادا کی۔ 57۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن المنذر نے ابو سعید خدری ؓ سے روایت کیا کہ آیت قد افلح من تزکی سے صدقۃ الفطر مراد یعنی بیشک وہ فلاح پا گیا جس نے صدقۃ الفطر ادا کیا۔ 58۔ ابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ عبداللہ بن عمر ؓ عید گاہ کی طرف جانے سے پہلے صدقۃ الفطر ادا کرتے تھے۔ اور یہ آیت تلاوت کرتے تھے آیت قد افلح من تزکی۔ وذکر اسم ربہ فصلی۔ 59۔ ابن مردویہ والبیہقی نے نافع سے ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ بیشک یہ آیت عید کی نماز سے پہلے صدقہ فطر ادا کرنے کے بارے میں نازل ہوئی یعنی یہ آیت قد افلح من تزکی۔ وذکر اسم ربہ فصلی۔ 60۔ الطبرانی نے واثلہ بن اسقع ؓ سے آیت قد افلح من تزکی کے بارے میں روایت کیا کہ اس سے مراد ہے گیہوں میں ڈالدینا یعنی صدقہ کردینا عید الفطر کے دن عیدگاہ میں نماز پڑھنے سے پہلے۔ 61۔ عبد بن حمید والبیہقی نے ابوالعالیہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت قد افلح من تزکی۔ وذکر اسم ربہ فصلی صدقہ فطر کے بارے میں نازل ہوئی یعنی پہلے صدقہ ادا کرو پھر نماز پڑھو۔ 62۔ ابن جریر نے ابو خلدہ (رح) سے روایت کیا کہ میں ابو العالیہ (رح) کے پاس آیا تو انہوں نے مجھ سے کہا جب تو صبح عید کی طرف جائے تو میرے پاس سے گذر جانا تو میں ان کے پاس سے گذرا انہوں کہا کیا تو نے کوئی چیز کھائی ہے میں نے کہا ہاں انہوں نے پوچھا مجھ کو بتا تو نے اپنے صدقہ کا کیا کیا ؟ میں نے کہا میں نے اس کو بھیج دیا ہے کہا بیشک میں نے اسی لیے تجھ کو بلایا تھا پھر یہ آیت پڑھی آیت قد افلح من تزکی وذکر اسم ربہ فصلی۔ اور فرمایا کہ اہل مدینہ کسی بھی صدقہ کو صدقہ فطر اور پانی پلانے افضل نہیں جانتے تھے۔ 63۔ ابن ابی حاتم نے عطا (رح) سے روایت کیا کہ آیت قد افلح من تزکی سے مراد ہے جس نے صدقہ فطر ادا کیا وہ فلاح پا گیا۔ 64۔ ابن ابی حاتم نے محمد بن سیرین (رح) سے آیت قد افلح من تزکی کے بارے میں روایت کیا کہ بیشک وہ فلاح پا گیا جس نے صدقہ فطر ادا کیا پھر عیدگاہ کی طرف نکا اور نماز پڑھی صدقہ ادا کرنے کے بعد۔ 65۔ عبد بن حمید نے ابراہیم نخعی (رح) سے روایت کیا کہ عید فطر کے دن پہلے صدقہ ادا کرے جتنا ہوسکے۔ پھر یہ آیت پڑھی آیت قد افلح من تزکی وذکر اسم ربہ فصلی۔ 66۔ ابن ابی حاتم نے عطا (رح) سے روایت کیا کہ میں ابن عباس ؓ سے پوچھا اللہ تعالیٰ کے اس قول آیت قد افلح من زکی کے بارے میں بتائیے کیا یہ صدقۃ الفطر کے لیے ہے۔ انہوں نے فرمایا میں نے اس بارے میں نہیں سنا لیکن یہ ہر قسم کی زکوٰۃ کے لیے ہے پھر میں نے دوبارہ اس کے بارے میں پوچھا تو آپ نے مجھ سے فرمایا اور یہ سب صدقات کے لیے ہے۔ 67۔ ابن ابی حاتم نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ آیت قد افلح من تزکی یعنی جس نے اپنے مال میں سے صدقہ نکالا بیشک وہ کامیاب ہوگیا۔ 68۔ ابن جریر واب ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے آیت قد افلح من تزکی کے بارے میں روایت کیا کہ اس سے مراد ہے جس نے اپنے خالق کو اپنے مال سے راضی کیا بیشک وہ کامیاب ہوگیا۔ 69۔ عبد بن حمید نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت قد افلح من تزکی سے مراد ہے کہ جس آدمی نے اپنے مال کو پاک کیا اور اپنے اخلاق کو پاک کیا بیشک وہ فلاح پا گیا۔ 70۔ سعید بن منصور وابن ابی شیبہ وعبد بن حمید وابن جریر وابو الاحوص (رح) سے روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ اس آدمی پر رحم فرمائے۔ جس نے صدقہ کیا پھر نماز پڑھی۔ پھر یہ آیت قد افلح من تزکی پڑھی اور ابن ابی شیبہ (رح) کے الفاظ یوں ہیں کہ جو آدمی یہ طاقت رکھے کہ اپنے نماز سے پہلے صدقہ کرے تو اس کو چاہیے کہ ایسا کرے کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں اور پھر مذکورہ آیت ذکر کی۔ 71۔ ابن جریر وابن ابی حاتم نے ابوالاحوص (رح) سے روایت کیا کہ اگر جو شخص کسی قسم کا صدقہ ادا کرے تو دو رکعتیں پڑھے پھر یہ آیت پڑھی آیت قد افلح من تزکی الایۃ۔ 72۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابی الاحوص کے طریق سے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ جب تم میں سے کوئی نماز کے ارادہ سے نکلے تو اس پر کوئی چیز صدقہ کرنا واجب نہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں آیت قد افلح من تزکی وذکر اسم ربہ فصلی۔ 73۔ ابن ابی شیبہ نے ابو الاحوص (رح) سے روایت کیا کہ آیت قد افلح من تزکی سے مراد ہے جس نے تھوڑا سا مال دیا بیشک وہ فلاح پا گیا۔
Ayahs 87:16–17

بَلْ تُؤْثِرُوْنَ الْحَیٰوةَ الدُّنْیَا٘ۖ Open ayah 87:16 in the Quran reader

بلکہ تم لوگ دنیا والی زندگی کو ترجیح دیتے ہو

وَ الْاٰخِرَةُ خَیْرٌ وَّ اَبْقٰىؕ Open ayah 87:17 in the Quran reader

اور آخرت میں بہت بہتر ہے اور بہت زیادہ باقی رہنے والی ہے

74۔ عبد بن حمید نے ابن مسعود ؓ عہ سے روایت کیا کہ وہ اس طرح پڑھتے تھے۔ آیت بل تو ثرون الحیوۃ الدنیا والاخرۃ بلکہ تم دنیا کی زندگی تو آخرت پر ترجیح دیتے ہو۔ آخرت کو دنیا پر ترجیح دینی چاہیے 75۔ ابن جریر وابن المنذر والطبرانی والبیہقی نے شعب الایمان میں عرفجہ الثقفی (رح) سے روایت کیا کہ میں نے ابن مسعود ؓ سے سورة سبح اسم ربک الاعلیٰ ۔ پڑھی۔ جب وہ اس آیت بل تو ثرون الحیوۃ الدنیا پر پہنچے۔ تو قراءت چھوڑدی اور اپنے ساتھیوں کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا۔ ہم نے دنیا کو آخرت پر ترجیح دی تو قوم چپ ہوگئی پھر فرمایا ہم نے دنیا کو ترجیح دی کیو کہ ہم نے دیکھا اس کی زینت کو اور اس کی عورتوں کو اس کے کھانے کو اور اس کے پینے کو اور آخرت ہم سے پوشیدہ اور مخفی ہے تو ہم نے اس دنیا کو اختیار کرلیا ہے اور ہم نے آخرت کو چھوڑدیا ہے اور فرمایا بل تو ثرون یاء کے ساتھ۔ 76۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت بل تو ثرون الحیوۃ الدنیا سے مراد ہے کہ لوگوں نے دنیا کو اختیار کرلیا سوائے ان کے جن کو اللہ تعالیٰ محفوظ رکھا آیت والاخرۃ خیر۔ اور آخرت خیر میں آیت وابقی اور باقی رہنے والی ہے یعنی باقی رہنے میں اس سے کہیں بہتر ہے۔ 77۔ عبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم نے عکرمہ (رح) سے آیت بل تو ثرو الحیوۃ الدنیا کے بارے میں روایت کیا کہ اس آیت میں مراد یہ امت ہے۔ بیشک تم دنیا کی زندگی کو ترجیح دو گے۔ 78۔ البیہقی نے شعب الایمان میں انس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا لا الہ الا اللہ کی ناراضگی سے بندوں کو روکتا ہے جب تک وہ اپنی دنیوی معاملات کو اپنے دین پر ترجیح نہ دینے لگیں۔ جب وہ اپنی دنیا کو ترجیح دیں گے۔ پھر کہیں لا الہ الا اللہ تو اسے ان پر لوٹا دیا جاتا ہے اور اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ تم نے جھوٹ بولا۔ 79۔ البیہقی نے ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا جو کوئی لا الہ الا اللہ وحدہ لا شریک لہ کی شہادت کے ساتھ اللہ تعالیٰ سے ملاقات کرے گا تو وہ جنت میں داخل ہوگا۔ جب تک اس کے ساتھ کسی غیر کو شریک نہ کرے۔ آپ نے اس کو تین مرتبہ فرمایا دور سے آنے والے لوگوں میں سے کسی نے کہا آپ پر میرے ماں باپ قربان ہوں یا رسول اللہ ! کون سی چیز کوئی اس کے ساتھ شریک کرسکتا ہے۔ فرمایا دنیا محبت اور دنیا کو ترجیح دینا اور دنیا کے لیے جمع ہونا اور دنیا کے ساتھ راضی رہنا۔ اور ظلم اور جبر کرنے والوں کا عمل کرنا۔ 80۔ احمد نے ابو موسیٰ اشعری ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس شخص نے اپنی دنیا سے محبت کی اس نے اپنی آخرت کو نقصان پہنچایا۔ اور جس شخص نے اپنی آخرت سے محبت کی اس نے اپنی دنیا کو نقصان پہنچایا سو تم اس چیز کو ترجیح دو تو باقی رہنے والی ہے اس چیز پر جو فنا ہونے والی ہے۔ 81۔ احمد نے عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا دنیا اس کا گھر ہے جس کا کوئی گھر نہ ہو اور اس کا مال ہے جس کے لیے کوئی مال نہیں اور اس کو ہی جمع کرتا ہے جس کو عقل نہ ہو یعنی جو بےعقل ہو۔ 82۔ ابن ابی الدنیا والبیہقی نے موسیٰ بن یسار (رح) سے روایت کیا کہ ان کو یہ بات پہنچی ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا کہ اللہ جل شانہ نے کوئی مخلوق دنیا سے بڑھ کر زیادہ ناپسندیدہ پیدا نہیں فرمائی۔ 83۔ ابن ابی شیبہ نے ابو الاحوص (رح) سے روایت کیا کہ آیت قد افلح من تزکی سے مراد ہے جس نے تھوڑا سا مال دیا۔ بیشک وہ فلاح پا گیا۔
Ayahs 87:18–19

اِنَّ هٰذَا لَفِی الصُّحُفِ الْاُوْلٰىۙ Open ayah 87:18 in the Quran reader

بلاشبہ یہ اگلے صحیفوں میں ہے

صُحُفِ اِبْرٰهِیْمَ وَ مُوْسٰى۠ Open ayah 87:19 in the Quran reader

یعنی ابراہیم اور موسیٰ کے صحیفوں میں

84۔ البزار وابن المنذر والحاکم وصححہ وابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ جب یہ آیت ان ہذا لفی الصحف الاولی صحف ابراہیم وموسی۔ بیشک یہی پہلے صحفیوں میں ہے یعنی ابراہیم اور موسیٰ کے صحیفوں میں نازل ہوئی تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا یہ سب ابراہیم اور موسیٰ کے صحیفوں میں ہے۔ 85۔ سعید بن منصوروعبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم وابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے آیت ان ہذا لفی الصحف الاولی کے بارے میں روایت کیا کہ یہ سورة ابراہیم اور موسیٰ (علیہما السلام) کے صحیفوں میں ہے۔ اور ابن مردویہ کے الفاظ ہیں اور یہ سورة اللہ تعالیٰ کا یہ قول و ابراہیم الذی وفی (النجم آیت 37) سورة کے آخر تک ابراہیم اور موسیٰ کے صحیفوں میں سے ہے۔ 86۔ ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ یہ سورة ابراہیم اور موسیٰ (علیہما السلام) کے صحیفوں میں سے اسی طرح ہے جیسے وہ نبی ﷺ پر نازل ہوئی۔ 87۔ ابن جریر وابن ابی حاتم نے ابو العالیہ (رح) سے آیت ان ہذا لفی الصحف الاولی کے بارے میں روایت کیا کہ اس سورة کا قصہ پہلے صحیفوں میں ہے۔ 88۔ عبدالرزاق وابن جریر وابن المنذر نے قتادہ (رح) سے آیت ان ہذا لفی الصحف الاولی کے بارے میں روایت کیا کہ تسلس کے ساتھ اللہ کی کتابوں میں یہ موجود ہے جیسا کہ تم سنتے ہو کہ بیشک آخرت بہتر اور باقی رہنے والی ہے۔ 89۔ ابن جریر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) ان ہذا لفی الصحف الاولی کے بارے میں روایت کیا کہ یہ بات پہلے صحیفے میں موجود ہے کہ بیشک آخرت بہتر ہے دنیا سے۔ 90۔ فریابی وعبد بن حمید وابن جریر نے عکرمہ (رح) سے آیت ان ہذا لفی الصحف الاولی کے بارے میں روایت کیا کہ بیشک یہ آیت صحیفوں میں ہے۔ 91۔ ابن ابی حاتم نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ آیت ان ہذا لفی الصحف الاولی سے مراد ہے بیشک یہ اللہ تعالیٰ کی ساری کتابوں میں ہے۔ آسمانوں کتابوں کی تعداد 92۔ عبد بن حمید وابن مردویہ وابن عساکر نے ابوذر ؓ سے روایت کیا کہ میں نے عرض کیا یارسول اللہ ! اللہ تعالیٰ نے کتنی کتابیں نازل فرمائیں ؟ فرمایا ایک سو چار کتابیں اللہ تعالیٰ نے شیث (علیہ السلام) پر پچاس صحیح اور ادریس (علیہ السلام) پر تیس صحیفے اور ابراہیم (علیہ السلام) پر دس صحیفے نازل فرمائے اور موسیٰ (علیہ السلام) پر تورات سے پہلے دس صحیفے نازل فرمائے اور یہ چار کتابیں تورات، انجیل زبور اور فرقان نازل فرمائیں۔ میں نے عرض کیا یارسول اللہ ! ابراہیم (علیہ السلام) کے سحیفے کیا تھے فرمایا ان تمام میں اس طرح ہے اے جابر۔ غالب آزمائش میں مبتلا رنے والے اور مغرور بادشاہ ! میں نے تجھے نہیں بھیجا کہ تو دنیا کو ایک دوسرے پر جمع کرتا رہے لیکن تجھ کو اس لیے بھیجا ہے تاکہ تو مجھ سے مظلوم کی دعا کو واپس لوٹا دے۔ کیونکہ اسے رد نہیں کرتا۔ اگرچہ وہ کافر کی طرف سے ہو اور عقل پر لازم ہے جب تک اس کی عقل مغلوب نہ ہوجائے۔ اس کے لیے تین گھڑیاں ہوں۔ یعنی اس کا وقت تین حصوں میں منقسم ہو۔ کہ ایک گھڑی میں وہ اپنے رب سے مناجات کرتا ہو اور ایک گھڑی میں وہ اپنے نفس کا محاسبہ کرتا ہو۔ اور اس میں غوروفکر کرتا ہو جو کچھ اس نے عمل کیا۔ اور ایک گھڑی اس کی حلال حاجات کے لیے خالی کیونکہ یہ گھڑی ان پہلی گھڑیوں کی مددگار ہوگی دلوں کو اطمینان پہنچائے گی۔ اور ان کو غفلت سے خالی خالی اور فارغ رکھے گی۔ اور عاقل پر لازم ہے کہ وہ آنے والے وقت میں پیش آنے والے کاموں پر نظر رکھے اور اپنی زبان کی حفاظت رکھے کیونکہ جوا پنے عمل سے اپنی کلام کا محاسبہ کرتا ہے اس کی گفتگو کم ہوجاتی ہے سوائے ایسے کاموں کے جو بامقصد اور نفع مند ہوتے ہیں۔ اور عاقل پر لازم ہے کہ وہ تین چیزوں کی تلاش کرے۔ ذریعہ معاش کو توشہ آخرت کو اور غیر حرام چیزوں میں لذت کو۔ میں نے عرض کیا یارسول اللہ ! موسیٰ (علیہ السلام) کے صحیفوں میں کیا تھا۔ آپ نے فرمایا ساری کی ساری عبرتیں ہیں۔ مجھے اس پر تعجب ہے جو موت کا یقین رکھتا ہے وہ کس طرح خوش ہوتا ہے۔ اور جو موت کا یقین رکھتا ہے پھر ہنستا ہے اور مجھے اس پر تعجب ہے جو دنیا کو دیکھتا ہے کہ وہ اپنے رہنے والوں کو الٹی رہتی ہے پھر وہ اس کے ساتھ مطمئن رہتا ہے اور اس شخص کے لیے تعجب ہے جو تقدیر پر یقین رکھتا ہے پھر تھکتا رہتا ہے اور اس شخص کے لیے تعجب ہے جو حساب کا یقین رکھتا ہے پھر عمل نہیں کرتا میں نے کہا یا رسول اللہ ! آپ پر کوئی چیز ابراہیم اور موسیٰ (علیہما السلام) کے صحیفوں میں سے نازل ہوئی۔ فرمایا اے ابوذر ہاں وہ یہ ہے آیت قد افلح من تزکی وذکر اسم ربہ فصلی ابل تو ثرون الحیوۃ الدنیا والاخرۃ خیر وابقی ان ہذا لفی الصحف الا ولی صحف ابراہیم وموسی۔ بیشک وہ کامیاب ہوا جو پاک ہوگیا اور اپنے رب کا نام یاد کیا پھر نماز پڑھی بلکہ تم دنیا کی زندگی تو ترجیح دیتے ہو حالانکہ آخرت بہتر اور باقی رہنے والی ہے۔ بیشک یہی بات ہے پہلے صحیفوں میں ہے یعنی ابراہیم اور موسیٰ (علیہما السلام) کے صحیفوں میں۔ 93۔ البغوی نے اپنی معجم میں عبدالرحمن بن ابی سبرہ ؓ سے روایت کیا کہ وہ نبی ﷺ کے پاس اپنے والد کے ساتھ آئے اور کئی چیزوں کے بارے میں آپ سے سوال کیا اور یہ بھی کہا یا رسول اللہ ! کتنی رکعتیں وتر کی پڑھی جائیں ؟ آپ نے فرمایا تین رکعت اور ان میں سبح اسم ربک الاعلیٰ اور قل یا ایہا الکفرون اور قل ہو اللہ احد پڑھی جاتی ہیں۔ 94۔ الطبرانی نے عبداللہ بن حارث بن عبدالمطلب ؓ سے روایت کیا کہ ایک دفعہ رسول اللہ ﷺ نے ہم کو مغرب کی نماز پڑھائی۔ اور پہلی رکعت میں سبح اسم ربک الاعلیٰ اور دوسری رکعت میں آیت قل یا ایہا الکفرون پڑھی۔