Ayahs 87:1–2اللہ تعالیٰ اپنی تسبیح وتنزیہہ کا حکم دیتا ہے جو اس کے ذکر اس کی عبادت اس کے جلال کے سامنے سرافگندہ اور اس کی عظمت کے سامنے فروتن ہونے کو متضمن ہے نیز تسبیح ایسی ہو جو اللہ تعالیٰ کی عظمت کے لائق ہے یعنی اس کے اسمائے حسنی وعالیہ کا اس اسم سے ذکر جس کے معنی اچھے اور عظیم ہوں۔ اس کے افعال کا ذکر کیا جائے ان افعال میں سے ایک یہ بھی ہے کہ اس نے تمام مخلوقات کو پیدا کیا ان کو درست کیا یعنی نہایت مہارت کے ساتھ ان کو اچھی طرح تخلیق کیا۔
Ayahs 87:3–4(وَالَّذِيْ قَدَّرَ ) اس نے اندازہ مقرر کردیا جس کی تمام مقدرات پیروی کرتی ہیں ( فَهَدٰى) اور اس کی طرف تمام مخلوقات کی راہنمائی کی یہ ہدایت عام ہے جس کا مضمون یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر مخلوق کو اس کے مصالح کی راہ دکھائی ہے اس میں اس کی تمام دنیاوی نعمتوں کا ذکر کیا جاتا ہے اس لیے اس کے بارے میں فرمایا۔ (وَالَّذِيْٓ اَخْرَجَ الْمَرْعٰى) یعنی اللہ تعالیٰ نے آسمان سے پانی برسایا پھر اس پانی سے نباتات اور سرسبز گھاس کی مختلف اصناف اگائیں جنہیں انسان چوپائے اور تمام حیوانات کھاتے ہیں پھر اس نباتات وغیرہ کا جتنا جو بن مقدر ہوتا ہے۔ اس کے مکمل کرلینے کے بعد نباتات اور سبز گھاس کو خشک کرد یتا ہے۔
Ayah 87:5(فَجَعَلَهٗ غُثَاۗءً اَحْوٰى) پھر اس کو سیاہ رنگ کا کوڑا کردیا۔ یعنی اللہ تعالیٰ اس نباتات کو چورا چورا اور بوسیدہ بنا دیتا ہے اور اس میں وہ دینی نعمتوں کا ذکر کرتا ہے۔
Ayah 87:6(اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان نعمتوں کی اصل اور اس کے مادے یعنی قرآن کا ذکر کرکے احسان جتلایا ہے چناچہ فرمایا (سَنُقْرِئُكَ فَلَا تَنْسٰٓى) ہم نے آپ کی طرف جو کتاب وحی کی ہے اسے محفوظ کردیں گے اور آپ کے قلب کو یاد کرادیں گے پس آپ اس میں سے کچھ بھی نہیں بھولیں گے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے بندے اور رسول محمد ﷺ کے لیے بہت بڑی خوش خبری ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کو ایسا علم عطا کرے گا جسے آپ کبھی فراموش نہیں کریں گے۔
Ayah 87:7(اِلَّا مَا شَاۗءَ اللّٰهُ ۭ ) مگر جو اللہ چاہے۔ اور اس کی حکمت کا تقاضا کرے کہ کسی مصلحت اور حکمت بالغہ کی بنا پر آپ کو فراموش کرادے۔ ( اِنَّهٗ يَعْلَمُ الْجَـهْرَ وَمَا يَخْفٰى) بیشک وہ ظاہر اور پوشیدہ کا جانتا ہے۔ اور اس میں سے یہ بھی کہ وہ جانتا ہے کہ اس کے بندوں کے لیے کیا درست ہے اس لیے وہ جو چاہتا ہے مشروع کرتا ہے اور جو چاہتا ہے فیصلہ کرتا ہے۔
Ayah 87:8(وَنُيَسِّرُكَ لِلْيُسْرٰى) یہ ایک اور خوشخبری ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے رسول کو آپکے تمام امور میں آسانی مہیا فرمائے گا اور آپ کے دین اور شرعیت کو آسان بنائے گا۔
Ayah 87:9( فَذَكِّرْ ) پس آپ اللہ تعالیٰ کی شریعت اور اس کی آیات کے ذریعے سے نصیحت کرتے رہیے۔ (اِنْ نَّفَعَتِ الذِّكْرٰى) اگر نصیحت فائدہ دے۔ یعنی جب تک کہ تذکیر قابل قبول اور نصیحت سنی جاتی ہو، خواہ اس نصیحت سے پورا مقصد حاصل ہوتا ہو یا اس کا کچھ حصہ۔ آیت کریمہ کا مفہوم مخالف یہ ہے کہ اگر نصیحت فائدہ نہ دے یعنی جس کو نصیحت کی گئی ہے وہ شر میں اور بڑھ جائے یا اس میں بھلائی کم ہوجائے تو آپ نصیحت پر مامور نہیں بلکہ تب آپ نصیحت نہ کرنے پر مامور ہیں۔ پس نصیحت کے ضمن میں لوگ دو اقسام میں منقسم ہیں نصیحت سے فائدہ اٹھانے والے اور نصیحت سے فائدہ نہ اٹھانے والے۔ رہے فائدہ اٹھانے والے تو اللہ تعالیٰ نے ان الفاظ میں ان کا ذکر کیا ہے۔
Ayah 87:10(سَيَذَّكَّرُ مَنْ يَّخْشٰى) جو اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہے وہ نصیحت حاصل کرے گا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کا خوف اور اعمال کی جزاوسزا دینے اس کی قدرت کا علم بندے کے لیے ان امور سے باز رہنے کا موجب بنتا ہے جنہیں اللہ تعالیٰ ناپسند کرتا ہے بھلائی کے امور میں سعی کا موجب بنتا ہے۔
Ayahs 87:11–12رہے وہ لوگ جو نصیحت سے فائدہ نہیں اٹھاتے تو اللہ تعالیٰ نے ان الفاظ میں ان کا ذکر کیا ہے۔ (وَيَتَجَنَّبُهَا الْاَشْقَى 11ۙالَّذِيْ يَصْلَى النَّارَ الْكُبْرٰى 12) ۔ اور بدبخت پہلو تہی کرے گا جو بڑی آگ میں داخل ہوگا۔ اور یہ بھڑکائی ہوئی آگ ہے جو دلوں سے لپٹ جائے گی۔
Ayah 87:13(ثُمَّ لَا يَمُوْتُ فِيْهَا وَلَا يَحْيٰي) جہاں پھر نہ وہ مرے گا نہ جیے گا۔ یعنی ان کو دردناک عذاب دیا جائے گا، اس میں کوئی راحت نہ استراحت حتی کہ وہ موت کی تمنا کریں گے مگر موت ان کو نہیں آئے گی جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا (لایقضی علیھم فیموتوا ولایخفف عنھم من عذابھا۔ فاطر 36) نہ ان کو موت آئے گی کہ مرجائیں نہ جہنم کا عذاب ان سے ہلکا کیا جائے گا۔
Ayah 87:14(قَدْ اَفْلَحَ مَنْ تَزَكّٰى) جس نے اپنے نفس کو پاک کیا۔ شرک، ظلم اور برے اخلاق سے اس کی تطہیر کی، اس نے نفع اٹھایا اور فوزیاب ہوا۔
Ayah 87:15(وَذَكَرَ اسْمَ رَبِّهٖ فَصَلّٰى) اور جس نے اپنے رب کا نام یاد رکھا اور نماز پڑھتا رہا۔ یعنی جو ذکر الٰہی سے متصف ہوا اور اس کا قلب ذکر الٰہی کے رنگ میں ڈوب گیا تو یہ ان اعمال کا موجب بنتا ہے۔ جن سے اللہ تعالیٰ راضی ہوتا ہے خاص طور پر نماز جو ایمان کی میزان ہے یہ ہیں آیت کریمہ کے معنی۔ اور جو کوئی اللہ کے ارشاد (تزکٰی) کے معنی یہ کرتا ہے اس نے زکوۃ فطر دی اور (وَذَكَرَ اسْمَ رَبِّهٖ فَصَلّٰى) سے مراد وعید کی نماز ہے، تو یہ اگرچہ لفظ کے عمومی معنی میں داخل ہے اور اس کی جزئیات میں سے ہے مگر صرف یہی ایک معنی نہیں ہیں۔
Ayah 87:16(بَلْ تُـؤْثِرُوْنَ الْحَيٰوةَ الدُّنْيَا) یعنی تم دنیا کی زندگی کو آخرت پر مقدم رکھتے ہو اور آخرت کے مقابلے میں ختم ہونے والی مکدر کرنے والی اور زائل ہوجانے والی نعمتوں کو ترجیح دیتے ہو۔
Ayah 87:17( وَالْاٰخِرَةُ خَيْرٌ وَّاَبْقٰى) حالانکہ آخرت ہر وصف مطلوب میں دنیا سے بہتر اور زیادہ باقی رہنے والی ہے۔ کیونکہ آخرت دارالخلد اور دارالبقا ہے اور دنیا دارالفنا ہے اور ایک عقل مند مومن عمدہ کے مقابلے میں ردی کو منتخب کرے گا نہ ایک گھڑی کی لذت کے لیے ابدی رنج وغم کو خریدے گا پس دنیا کی محبت اور اس کو آخرت پر ترجیح دینا ہر گناہ کی جڑ ہے۔
Ayahs 87:18–19(اِنَّ هٰذَا) بیشک یہ۔ یعنی وہ اوامر حسنہ اور اخبار محستحسنہ جو اس سورة مبارکہ میں تمہارے سامنے ذکر کیے گئے۔ ( لَفِي الصُّحُفِ الْاُوْلٰى۔ صُحُفِ اِبْرٰهِيْمَ وَمُوْسٰى) پہلے صحیفوں میں ہیں۔ یعنی ابراہیم اور موسیٰ کے صحیفوں میں۔ جو دونوں محمد مصطفیٰ کے بعد تمام انبیا ومرسلین میں سب سے زیادہ شرف کے حامل رسول ہیں۔ پس یہ اوامر ہر شریعت میں موجود ہیں کیونکہ یہ دنیا اور آخرت کے مصالح کی طرف لوٹتے ہیں اور ہر زمان ومکان میں ان مصالح کی حاجت ہے۔