87. Surah Al-A'laa

الأعلىThe Most High · 19 ayahsاسرار التنزیل

Ayahs 87:1–19

سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْاَعْلَىۙ Open ayah 87:1 in the Quran reader

اپنے پروردگار جلیل الشان کے نام کی تسبیح کرو

الَّذِیْ خَلَقَ فَسَوّٰى۪ۙ Open ayah 87:2 in the Quran reader

جس نے پیدا کیا پھر سنوارا

وَ الَّذِیْ قَدَّرَ فَهَدٰى۪ۙ Open ayah 87:3 in the Quran reader

اور جس نے (اس کا) اندازہ ٹھہرایا پھر (اس کو) راہ دکھائی

وَ الَّذِیْۤ اَخْرَجَ الْمَرْعٰى۪ۙ Open ayah 87:4 in the Quran reader

اور جس نے چارا اگایا

فَجَعَلَهٗ غُثَآءً اَحْوٰىؕ Open ayah 87:5 in the Quran reader

پھر اس کو سیاہ رنگ کا کوڑا کردیا

سَنُقْرِئُكَ فَلَا تَنْسٰۤىۙ Open ayah 87:6 in the Quran reader

ہم آپ کو پڑھادیں گے پھر آپ بھولیں گے نہیں

اِلَّا مَا شَآءَ اللّٰهُ١ؕ اِنَّهٗ یَعْلَمُ الْجَهْرَ وَ مَا یَخْفٰىؕ Open ayah 87:7 in the Quran reader

سوائے اس کے جو اللہ چاہیں یقینا وہ ظاہر بات کو بھی جانتے ہیں اور پوشیدہ کو بھی

وَ نُیَسِّرُكَ لِلْیُسْرٰىۚۖ Open ayah 87:8 in the Quran reader

اور ہم آپ کو آسان طریقے کی توفیق دیں گے

فَذَكِّرْ اِنْ نَّفَعَتِ الذِّكْرٰىؕ Open ayah 87:9 in the Quran reader

سو جہاں تک نصیحت (کے) نافع (ہونے کی امید) ہو نصیحت کرتے رہیے

سَیَذَّكَّرُ مَنْ یَّخْشٰىۙ Open ayah 87:10 in the Quran reader

جو ڈرتا ہے نصیحت حاصل کرے گا

وَ یَتَجَنَّبُهَا الْاَشْقَىۙ Open ayah 87:11 in the Quran reader

اور (بےخوف) بدبخت پہلو تہی کرے گا

الَّذِیْ یَصْلَى النَّارَ الْكُبْرٰىۚ Open ayah 87:12 in the Quran reader

جو (قیامت کو) بڑی (تیز) آگ میں داخل ہوگا

ثُمَّ لَا یَمُوْتُ فِیْهَا وَ لَا یَحْیٰىؕ Open ayah 87:13 in the Quran reader

پھر وہاں نہ مرے گا اور نہ جی سکے گا

قَدْ اَفْلَحَ مَنْ تَزَكّٰىۙ Open ayah 87:14 in the Quran reader

جو پاک ہوا یقینا وہ مراد کو پہنچ گیا

وَ ذَكَرَ اسْمَ رَبِّهٖ فَصَلّٰىؕ Open ayah 87:15 in the Quran reader

اور اپنے پروردگار کے نام کا ذکر کرتا رہا پھر عبادت کرتا رہا

بَلْ تُؤْثِرُوْنَ الْحَیٰوةَ الدُّنْیَا٘ۖ Open ayah 87:16 in the Quran reader

مگر تم لوگ دنیا کی زندگی اختیار کرتے ہو

وَ الْاٰخِرَةُ خَیْرٌ وَّ اَبْقٰىؕ Open ayah 87:17 in the Quran reader

حالانکہ آخرت بہت بہتر اور ہمیشہ رہنے والی ہے

اِنَّ هٰذَا لَفِی الصُّحُفِ الْاُوْلٰىۙ Open ayah 87:18 in the Quran reader

بیشک یہی بات پہلے صحیفوں میں ہے

صُحُفِ اِبْرٰهِیْمَ وَ مُوْسٰى۠ Open ayah 87:19 in the Quran reader

ابراہیم (علیہ السلام) اور موسیٰ (علیہ السلام) کے صحیفوں میں

سورة الاعلی۔ آیات 1 تا 19۔ اسرار ومعارف۔ اپنے پروردگار کے اعلی نام کی پاکی بیان کیجئے جس نے مخلوق کو عدم سے وجود بخشا کچھ بھی نہ تھا پھر سب کچھ پیدا فرمایا۔ مسئلہ : جب یہ آیہ مبارکہ نازل ہوئی تو آپ نے اسے سجدے کے لیے مقرر فرمایا۔ پھر تمام اجسام کو ایک انتہائی مناسب اندازے کے مطابق شکل و صورت دی اور جس کو جس کام کے لیے بنایا اسے اس کام کی استعداد بھی بخشی اور اس کی طرف میلان بھی عطا فرمایا۔ قدرت کا عطیہ۔ یہ سارے نظام کائنات میں مشاہدہ کیا جاسکتا ہے کہ ہر ذرے کو صورت ، شعور ، اور فطری کام کی استعداد عطا کرکے ایسا میلان بخشا کہ سوج ، چاند ، ستارے ، بادل ، ہوا ، جمادات ونباتات ہر ایک شے اپنے وقت پر اپنا کام کررہی ہے اسی طرح حیوانات کو ان کے کاموں کا فطری شعور بخشا پرندے اڑتے ہیں پانی کے جانور تیرتے ہیں ، جنگلی حیات اپنے تحفظ ، غذا اور بقائے نسل کے لیے کیسے کیسے اہتمام کرتی ہے۔ سائنس۔ اسی طرح انسان کو دنیا کی اشیاء کا استعمال اور اس کے استعمال کے طریقے جاننے کی استعداد عطا کردی جو ان طریقوں کو جان لیتا ہے سائنسدان کہلاتا ہے کہ سائنس نئی شے تخلیق نہیں کرتی انہی اشیاء کو جوڑ کر کچھ بناتی ہے اسی طرح انسانی فطرت میں اللہ کی طلب اس کے قرب کے حصول کی استعداد بھی رکھ دی اور سامان ہدایت بھی مہیا فرمایا ، فتبارک اللہ احسن الخالقین ، سب اسی کی قدرت ہے کہ سرسبزچارہ اگاتا ہے اور پھر وہ فرسودہ ہوکرسیاہ کوڑا بن جاتا ہے ہر زندگی کا جو دنیا میں ہے انجام سامنے ہے جلدی یابدیر ایسا ہی ہونے والا ہے اور اے حبیب ہم آپ کو قرآن پڑھائیں گے جو کبھی آپ کو بھولے گا نہیں یعنی آپ فکرنہ کیجئے کہ جبرائیل امین کے جانے کے بعد آپ کے وحی بھول جائے گا ایسانہ ہوگا۔ عالم اسباب کا قانون۔ عالم اسباب میں فرشتے کا آناسبب ہے کہ یہ عالم اسباب کا قانون ہے ورنہ آپ کو کلام الٰہی یاد کر انایہ خود اللہ کا کام ہے ہاں وہ آیات جو اللہ منسوخ کردے وہ بھول جائیں تو الگ بات ہے کہ ان کا بھلانا ہی اللہ کو منظور ہے ، علماء کا ارشاد ہے کہ نسخ کی ایک صورت یہ بھی تھی کہ آیت آپ اور مسلمانوں کے حافظہ سے محو کردی جاتی ، کہ اللہ ہر بات سے باخبر ہے وہ ظاہر ہو یا بہت پوشیدہ کی گئی ہو۔ شریعت کا طبیعت ثانیہ بن جانا۔ ہم زندگی کی آسان راہ یعنی دین یا شریعت کو آپ کے لیے آسان تر کردیں گے یعنی طبیعت ثانیہ بنادیں گے یہ کمال ہے نبی اکرم کا کہ دین پر عمل آپ کا مزاج مبارک تھا یہی نعمت والی اللہ کو بقدر استطاعت اتباع ، نبوت سے نصیب ہوتی ہے اور آپ نصیحت کیجئے کہ اسی سے فائدہ متوقع ہے۔ نصیحت اور ذکرالٰہی۔ اور یہ بھی مراد ہے کہ اللہ کا ذکر کیا جائے کہ شریعت مطہرہ کا مزاج اور طبیعت ثانیہ بنانے کا نسخہ ہے اس سے چھوڑ کر الگ ہونے والا وہی ہوسکتا ہے یعنی شریعت اور ذکر الٰہی کو کہ جو بہت ہی بدقسمت ہوگا اور جہنم کا ایندھن بنے گا جہاں نہ تو کوئی زندگی کا تصور ہوگا اور نہ موت ہی آئے گی یقینا اس نے کامیابی حاصل کی جس نے آپ آپ سنوار لیا۔ ذکر اسم ذات۔ اور خود کو عقیدے اور عمل کی نجاست سے پاک کرلیا کہ اللہ کے نام کا ذکر کیا ، اللہ اللہ کی تکرار کرتا رہا جس سے توفیق عبادت اور عبادت میں خشوع و خضوع نصیب ہوا اور عملی زندگی ، کاروبار ، صلح اور جنگ ، گھر اور خاندان سے لے کر قومی زندگی تک ہر عمل عبادت کی شکل اختیار کر گی اور نہ جو لوگ اللہ کے ذکر سے محروم رہے وہ دنیا کی محبت میں گرفتار ہوئے اور دنیا حاصل کرنے کے لیے آخرت سے ہاتھ دھوبیٹھے حالانکہ دنیا اور اس کی لذتیں فانی تھیں اور ہیں اور آخرت اس سے بہت ہی بہتر ہے اور ہمیشہ رہنے والی بھی۔ یہ ایسی حقیقت ہے کہ ذکر الٰہی سے توفیق اطاعت نصیب ہو کر حصول آخرت کی توفیق کا سبب بنتی ہے جو صحیفوں اور آسمانی کتابوں میں بھی بتادی گئی تھی خواہ کتابیں ابراہیم (علیہ السلام) پر اتریں یاموسی (علیہ السلام) پر۔