87. Surah Al-A'laa

الأعلىThe Most High · 19 ayahsتفسیرِ مظہری

Ayah 87:1

سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْاَعْلَىۙ Open ayah 87:1 in the Quran reader

(اے پیغمبر) اپنے پروردگار جلیل الشان کے نام کی تسبیح کرو

سبح اسم ربک الاعلی . اپنے مالک برتر کے نام کو پاک رکھو۔ یعنی اس کے نام میں نہ کوئی الحاد کرو ‘ نہ کسی دوسرے پر اسکے نام کا اطلاق کرو ‘ یا تنزیہ اسم رب سے یہ مراد ہے کہ تعظیم و احترام کے ساتھ اللہ کا نام لو اور اپنی طرف سے اسکا کوئی نام مقرر نہ کرو بلکہ وہی نام لو جو اللہ نے اپنی کتاب میں ذکر کیے ہیں یا اپنے پیغمبر کی زبانی ظاہر فرمائے ہیں۔ بعض علماء کا قول ہے کہ اس آیت میں اسم سے مراد ذات مسمّٰی ہے جیسے آیت : ما تعبدون من دونہ الا اسماء سمیتموھا انتم واٰباء کم میں اسماء سے مراد مسمّٰی ہیں۔ بعض علماء کے نزدیک لفظ اسم زائد ہے۔ مراد یہ ہے کہ زبان سے اپنے رب کی پاکی بیان کرو اور بےدین لوگ جو رب کی صفات بیان کرتے ہیں ان سے اللہ کا پاک ہونا ظاہر کرو۔ اس تقدیر پر آیت میں تسبیح قولی کا امر ہوگا۔ اسکی تائید اس روایت سے ہوتی ہے جو بغوی نے اپنی سند سے بحوالہ حضرت ابن عباس ؓ نقل کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے سَبِّحِ اسْمَ رَبِّکَ الْاَعْلٰی پڑھ کر کہا : ” سبحان ربی الاعلٰی “ (گویا رسول اللہ ﷺ نے سمجھا کہ آیت میں تسبیح قولی کا حکم دیا گیا ہے۔ اسی لیے تعمیل حکم کرتے ہوئے سبحان ربی الاعلیٰ فرمایا) ۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ آیت میں ہر تنزیہ کا حکم ہے ‘ زبانی ہو یا عملی یا اعتقادی۔ تخصیص قولی کی کوئی وجہ نہیں۔ حدیث سے بھی قول کے ساتھ تنزیہ کو مخصوص کرلینے کی کوئی دلیل مستفاد نہیں ہوتی بلکہ تسبیح کی ایک خاص صورت یعنی زبان سے قولی تسبیح کرنا اور دل سے اس کے موافق عقیدہ رکھنا جو لفظ تسبیح کا ایک متحمل معنی ہے ‘ مراد ہے بغیر تائید قلبی کے لفظی تسبیح تو ناقابل اعتبار ہے۔ بغوی نے کہا کہ اس آیت میں (بقول حضرت ابن عباس ؓ نماز کا حکم ہے (کیونکہ آیت کی تشریح میں) آپ ﷺ نے فرمایا : صل بامر ربک الاعلٰی اپنے ربِّ برتر کے حکم سے نماز پڑھو۔ یہ بھی احتمال ہے کہ نماز میں زبان سے تسبیح پڑھنا مراد ہو کیونکہ سورة الحاقہ میں حضرت عقبہ بن عامر کی روایت سے ہم نے حدیث بیان کردی ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا : اس کو تم اپنے سجود میں (داخل) کرلو۔ حضرت حذیفہ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ سجدہ میں سبحان ربی الاعلٰی پڑھتے تھے۔ حضرت ابن مسعود ؓ سے بھی ایسی ہی روایت آئی ہے۔ رکوع اور سجود کی تسبیحات کا مسئلہ ہم سورة الحاقہ میں بیان کرچکے ہیں ‘ یہاں دوبارہ ذکر کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ الاعلٰی ‘ رب کی صفت ہے فعل تسبیح کی علت اور وجہ شان رب کی برتری ہے۔ اللہ کی شان کا رسائیِ عقل سے ماوراء ہونا اور اس کا اقتدار و تسلط اجازت نہیں دیتا کہ اس کے خود مقررہ کردہ ناموں کے علاوہ کوئی اور نام اس کا رکھا جائے۔ اس کی شان کی برتری کا تقاضا ہے کہ بےدینوں اور کج فہموں کے بیان کردہ اوصاف سے اس کو پاک سمجھا جائے۔
Ayah 87:2

الَّذِیْ خَلَقَ فَسَوّٰى۪ۙ Open ayah 87:2 in the Quran reader

جس نے (انسان کو) بنایا پھر (اس کے اعضاء کو) درست کیا

الذی خلق . جس نے (ہر چیز کو) پیدا کیا مفعول کے عموم کو بتانے کے لیے خَلَقَ کا مفعول حذف کردیا گیا یعنی اس نے تمام جواہر (مستقل وجود رکھنے والی چیزیں جیسے آسمان ‘ زمین ‘ تمام عناصر و ملائکہ اور حیوانات ‘ نباتات ‘ جمادات وغیرہ) اور اعراض (مستقل وجود نہ رکھنے والی چیزیں جیسے مختلف رنگ ‘ شکل ‘ ہیئت ‘ آواز ‘ تمام کیفیات اور مقادیر وغیرہ) اور انسان کے تمام اعمال پیدا کیے 1 ؂۔ فسوی . یعنی پھر اس نے ہر چیز کے اجزاء متناسب اور متوازن بنائے ‘ یا یہ مطلب ہے کہ جن ناقابل تصور منافع اور مصالح کے پیش نظر اس نے بنانا چاہا ٹھیک ویسا ہی بنا دیا ‘ یا یہ معنی ہے کہ نظام کائنات کا جیسا تقاضا تھا ‘ ویسا ہی اس نے بنا دیا۔ اسی بناء پر کہا گیا ہے کہ جیسا بنا دیا گیا اس سے بہتر ممکن ہی نہیں یعنی نظم کائنات کے تقاضے کے مطابق کوئی تخلیق موجودہ تخلیق سے بہتر ممکن نہیں۔
Ayah 87:3

وَ الَّذِیْ قَدَّرَ فَهَدٰى۪ۙ Open ayah 87:3 in the Quran reader

اور جس نے (اس کا) اندازہ ٹہرایا (پھر اس کو) رستہ بتایا

والذین قدر . کسائی کی قراءت میں قَدَرَ بغیر تشدید کے آیا ہے۔ یعنی وہ ہر ممکن پر قادر ہے۔ مشہور قراءت تشدید دال کے ساتھ ہے۔ بغوی نے لکھا ہے کہ دونوں کا معنی ایک ہی ہے یعنی اللہ نے اپنی مشیت کے مطابق تمام چیزوں کے اجناس ‘ انواع ‘ افراد ‘ مقادیر ‘ احوال ‘ افعال ‘ رزق اور مدت بقاء کو مقرر کردیا۔ حضرت عبداللہ بن عمر کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ آسمان و زمین کی آفرنیش سے پچاس ہزار برس پہلے ساری مخلوقات کے مقدرات کو مقرر فرما دیا تھا ‘ اس وقت اس کا عرش پانی پر تھا۔ (رواہ مسلم) حضرت ابن عمر کی روایت میں آیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ہر چیز مقدر ہے یہاں تک کہ فہم کی نارسائی اور ہوشیاری بھی۔ (رواہ مسلم) فھدی . یعنی خیر ہو یا شر ‘ جس غرض کے لیے اللہ نے پیدا کیا ‘ اسی کا راستہ بنا دیا۔ مجاہد نے کہا انسان کو اچھائی ‘ برائی اور سعادت و شقاوت کا راستہ بتادیا اور حیوان کو چراگاہوں کا۔ مقاتل (رح) اور کلبی (رح) نے کہا : مذکر کو مؤنث سے جفتی کا طریقہ بتادیا۔ یہ مطلب بھی بیان کیا گیا ہے کہ اللہ نے اشیاء کے منافع پیدا کیے اور انسانوں کو ان کے حاصل کرنے کا طریقہ بتایا۔ سدی نے کہا : شکم مادر کے اندر بچہ کے رہنے کی مدت مقرر کردی اور باہر نکلنے کا راستہ اس کو بتادیا یا یہ معنی ہے کہ اللہ نے جس کو ہدایت کرنا چاہا اس کو ہدایت کردی اور جس کو گمراہ کرنا چاہا اس کو گمراہ کردیا۔ پورا کلام اس طرح تھا : فَھَدٰی واَضَلَّ ‘ اِضلّ کو حذف کر دیا کیونکہ آیت : یضل من یشاء و یھدی من یشاء میں یضل آگیا ہے (قرینہ موجود تھا اس لیے اس جگہ اضلال کو ذکر کرنے کی ضرورت نہ تھی) ۔ ......... 1 ؂ یونانی فلسفہ اور متکلمین اسلام اس امر پر متفق ہیں کہ سارا عالم جواہر اور اعراض سے بنا ہے۔ اہل کلام جواہر کو اعیان کہتے ہیں۔ فلاسفہ کہتے ہیں کہ جو چیز اپنے خارجی وجود اور تحقیق میں دوسرے کی تابع نہ ہو وہ جوہر ہے اور تابع ہو تو عرض ہے مثلاً درخت ‘ پتھر ‘ جانور وغیرہ اپنی ایک ہستی رکھتے ہیں اور اپنی ہستی میں کسی کے تابع نہیں اور رنگ ‘ شکل وغیرہ اعراض میں ان کی اپنی ہستی کوئی مستقل نہیں بلکہ رنگین کے اندر رنگ اور متشکل کے اندر شکل کی ہستی ہی رنگ اور شکل کی ہستی ہے۔ متکلمین کہتے ہیں کہ جو چیز اپنا مستقل مکان رکھتی ہے اور تخیر میں دوسرے کی تابع نہیں وہ عین ہے ورنہ عرض۔ فلاسفہ کے نزدیک اللہ کے علاوہ ہر چیز ممکن بالذات ہے لیکن قدیم بالغیر آسمان کا مادہ اور صورت خاص جو اس وقت ہے ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گی۔ اگرچہ علت العلل یعنی واجب بالذات کی محتاج اور معلول ہے اس طرح عالم عناصر کا مادہ اور صورت مطلقہ قدیم بالغیر اور ممکن بالذات ہے واجب بالذات اس کی علت تامہ ہے اور چونکہ علت تامہ اور معلول میں تخلف نہیں ہوسکتا ‘ اس لیے عالم عناصر بھی قدیم بالغیر ہے پس واجب تعالیٰ اس عالم کی علت ہے لیکن غیر ارادی ‘ خالق نہیں ہے یعنی عدم سے وجود میں لانے والا نہیں ہے عالم کبھی معدوم نہ تھا کہ اس کو موجود کیا جاتا جس طرح آگ حرارت کی اور سورج شعاعوں کی اور ہاتھ کی حرکت کنجی کی حرکت کی علت ہے لیکن حرارت کا وجود آگ کے وجود سے اور شعاعوں کا وجود سورج کے وجود سے اور حرکت مفتاح کا وجود حرکت دست کے وجود سے مؤخر نہیں۔ ذاتی تقدم و تاخیر ہے زمانی تقدم و تاخر نہیں لیکن اہل کلام اور جمہور اہل اسلام حسب نص قرانی بالاجماع قائل ہیں کہ ہر چیز حادث ہے یعنی پہلے نہ تھی ہر چیز کو نیست سے ہست کرنے والا اور عدم سے وجود میں لانے والا اللہ ہے ‘ وہ علت نہیں بلکہ خالق ہے۔ اس کائنات کا مادہ اور صورت سب کچھ ہالک الاصل اور فانی ہے۔ عدم مطلق کے بعد انکار وجود ہوا۔ اہل اسلام میں فرقہ قدریہ کا خیال ہے کہ انسان اپنے اعمال کا خود خالق ہے اگر خود خالق نہ ہو تو سزا و جزا کا مستوجب بھی نہیں ہوسکتا۔ اشاعرہ کا قول ہے کہ اللہ ہر چیز کا خالق ہے۔ انسانی عمل خواہ اچھا ہو یا برا وہ بھی خدا ہی کی مخلوق ہے۔ انسان کا سب ہے اور کسب اختیاری کی وجہ سے وہ سزا و جزا کا مستوجب قرار پاتا ہے۔ حضرت مؤلف کے قول میں اسی طرف اشارہ ہے کہ خلق کے مفعول کا حذف اشاعرہ کے قول کی تائید کر رہا ہے۔
Ayah 87:4

وَ الَّذِیْۤ اَخْرَجَ الْمَرْعٰى۪ۙ Open ayah 87:4 in the Quran reader

اور جس نے چارہ اگایا

والذی اخرج المرعی . یعنی وہ سبزہ اگایا جس کو چوپائے چرتے ہیں۔
Ayah 87:5

فَجَعَلَهٗ غُثَآءً اَحْوٰىؕ Open ayah 87:5 in the Quran reader

پھر اس کو سیاہ رنگ کا کوڑا کر دیا

فجعلہ غثا . پھر سبزی کے بعد اس کو خشک اور ریزہ ریزہ کردیا۔ احوٰی . سیاہ۔ یہ غثاءً کی صفت ہے۔ بعض علماء نے مرعیٰ سے حال قرار دیا ہے یعنی گھاس کو گہری سبزی کی وجہ سے اس نے سیاہ سبزی مائل بنا دیا۔ 1 ؂
Ayah 87:6

سَنُقْرِئُكَ فَلَا تَنْسٰۤىۙ Open ayah 87:6 in the Quran reader

ہم تمہیں پڑھا دیں گے کہ تم فراموش نہ کرو گے

سنقرئک فلا تنسی . ہم یقیناً تم سے پڑھوائیں گے تم (جبرئیل کی قراءت ) نہیں بھولو گے۔ چناچہ اس کے بعد رسول اللہ ﷺ کچھ نہیں بھولے۔ مراد یہ ہے کہ جس طرح جبرئیل کی زبانی ہم نے قرآن نازل کیا ‘ اسی طرح تمہارے دل میں ہم اس کی قراءت الہام کردیں گے۔ بعض علماء کا قول ہے کہ اصل لفظ : فَلاَ تَنْسَ ۔ (بصیغۂ نہی) ہے۔ سین کے بعد الف کی زیادتی فواصل آیات کی رعایت سے کردی گئی۔ حضرت ابو موسیٰ اشعری کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : قرآن کی نگہداشت کرو۔ قسم ہے اس کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ‘ جس طرح اونٹ اپنے زانو بند سے چھوٹ کر بھاگتا ہے قرآن (اگر اس کی طرف سے غفلت کی جائے تو) اس سے بھی زیادہ تیزی سے نکل جانے والا ہے۔ حضرت ابن مسعود ؓ سے بھی اس طرح کی روایت آئی ہے۔ (مسلم و بخاری) حضرت ابن عمر کی روایت ہے ‘ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : صاحب قرآن کی حالت اس شخص کی طرح ہے جو زانو بند بندھا ہوا اونٹ رکھتا ہے اگر اس کی نگہداشت کرتا رہتا ہے تو روکے رکھتا ہے اور کھول دیتا ہے تو وہ بھاگ جاتا ہے۔ حضرت سعد بن مسعد کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : جو شخص قرآن پڑھ کر بھلا دیتا ہے وہ قیامت کے دن اللہ کے سامنے کوڑھی ہو کر جائے گا۔ (ابوداؤد و دارمی)
Ayah 87:7

اِلَّا مَا شَآءَ اللّٰهُ١ؕ اِنَّهٗ یَعْلَمُ الْجَهْرَ وَ مَا یَخْفٰىؕ Open ayah 87:7 in the Quran reader

مگر جو خدا چاہے۔ وہ کھلی بات کو بھی جانتا ہے اور چھپی کو بھی

الا ماشاء اللہ . مگر جس کو فراموش کیا جانا ‘ اللہ چاہے گا وہ تم کو فراموش ہوجائے گا۔ تفسیر جمہور کے موافق اس سے مراد قرآن کا وہ حصہ ہے جس کی تلاوت بھی منسوخ ہوگئی اور حکم بھی جیسے آیت : ما ننسخ من اٰیۃ او ننسھا میں فرمایا ہے۔ انساء (فراموش کرا دینا) بھی نسخ ہی کی قسم ہے۔ اس تشریح کی بناء پر آیت میں دو طرح کا معجزہ ہے۔ 1) نسیان بالکل نہ ہونا۔ باوجودیکہ نسیان ‘ انسان کے فطری عوارض میں سے ہے۔ 2) آئندہ ہونے والی چیز کی پہلے سے خبر دینا (یہ کل تفصیل اس صورت میں ہوگی جب فلا تنسٰی کو فعل منفی قرار دیا جائے) لیکن اگر اس کو صیغۂ نہی کہا جائے (اور آخر کے الف کو زیادہ قرار دیا جائے) تو استثناء کا معنی یہ ہوگا کہ قرآن کی یادداشت اپنی طاقت کے موافق واجب ہے لیکن اگر خدا ہی فراموش کرا دینا چاہے تو آدمی معذور ہے۔ انہ یعلم الجھر وما یخفی . بےشبہ اللہ ظاہری قول و فعل کو بھی جانتا ہے اور پوشیدہ گفتار واطوار کو بھی۔ یعنی ............ 1 ؂ اس سے آگے ہمارے پیش نظر نسخہ میں ایک حدیث ناتمام مذکور ہے جو موجودہ الفاظ میں بالکل بےمعنی ہے ‘ لکھا ہے : حتی یتکلم رسول اللہ ﷺ باولھا مخافۃ ان ینساھا فانزل اللہ تعالیٰ سنقرئک فلا تنسٰی وفی اسنادہ جویبر ضعیف جدا و کذا قال مجاھد والکلبی ..... ظاہر ہے کہ حتی یتکلم کا تعلق کسی پہلے کلام سے ہے جو سہو کاتب کی وجہ سے لکھنے سے رہ گیا۔ اس لیے مناسب معلوم ہوتا ہے کہ ہم پورے کلام کا مفہوم نقل کردیں جس کو شیخ ابن کثیر نے نقل کیا ہے۔ حضرت جبرئیل ( علیہ السلام) جب وحی لے کر آتے اور رسول اللہ ﷺ کے سامنے نازل کردہ کلام پڑھتے تھے تو رسول اللہ ﷺ قراءت ِ جبرئیل کے دوران میں ہی جو کچھ جبرئیل ( علیہ السلام) سے سنتے اس کو شروع ہی سے پڑھتے جاتے تھے تاکہ پہلی آیات نہ بھول جائیں اس پر اللہ نے آیت : سنقرئک فلا تنسٰی نازل فرمائی۔ اس صورت میں اس آیت کا مفہوم وہی ہوگا جو آیت : لا تحرک بہ لسانک لتعجل بہ کا ہے۔ ظاہر و باطن دونوں سے واقف ہے تم جبرئیل ( علیہ السلام) کے ساتھ اونچی آواز سے پڑھتے ہو اور اس قراءت کا سبب یعنی اندیشہ نسیان (دِل میں) پوشیدہ ہوتا ہے۔ دونوں خدا کو معلوم ہیں۔
Ayah 87:8

وَ نُیَسِّرُكَ لِلْیُسْرٰىۚۖ Open ayah 87:8 in the Quran reader

ہم تم کو آسان طریقے کی توفیق دیں گے

و نیسرک للیسری . یعنی ہم تم کو توفیق دیں گے ‘ تمہارے لیے اعمال جنت کو آسان کردیں گے اور اعمال جنت میں سے نزول کے مطابق قرآن کی قراءت اور اس کی یادداشت اور اس کے مطابق عمل بھی ہے (اس لیے اس کی توفیق بھی ہم ہی دیں گے) جملہ مذکورہ کے الفاظ میں کچھ الٹ پھیر ہے۔ اصل کلام نُیَسِّرُ الْیُسْرٰی لَکَ (ہم تمہارے لیے آسانی پیدا کردیں گے) تھا۔ کلام کی ساخت الٹنے سے مضمون میں مبالغہ ہوگیا۔ اصل کلام میں سہولت مطلوب تھی اور رسول اللہ ﷺ طالب۔ اُلٹنے کے بعد سہولت طالب ہوگئی اور رسول ﷺ مطلوب (جیسے آدمیرزق کا طالب ہے اور رزق مطلوب لیکن اگر رزق کا ملنا یقینی اور ضروری ہو تو کہا جاتا ہے تمہارا رزق تو تم کو ڈھونڈتا پھرتا ہے) میں کہتا ہوں کہ خالص محبوبیت کی یہی شان ہوتی ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : یُسرٰی (سے مراد) اچھا عمل ہے۔ بعض علماء نے کہا : آیت کا مطلب یہ ہے کہ ہم تم کو آسان اور صحیح شریعت کی توفیق دیں گے۔
Ayah 87:9

فَذَكِّرْ اِنْ نَّفَعَتِ الذِّكْرٰىؕ Open ayah 87:9 in the Quran reader

سو جہاں تک نصیحت (کے) نافع (ہونے کی امید) ہو نصیحت کرتے رہو

فذکر . فاء سببی ہے یعنی جب قرآن اور شریعت کو ہم نے تمہارے لیے آسان کردیا تو اسکے ذریعہ سے دوسروں کو ہدایت کرو۔ ان نفعت الذکری . گزشتہ حکم مضمون جزاء پر دلالت کر رہا ہے۔ اس لیے شرط کو جزاء کی ضرورت نہیں۔ بعض علماء کا قول ہے کہ بار بار نصیحت کرنے کے باوجود بعض لوگوں کے ایمان لانے سے مایوس ہونے کے بعد پھر (حکم تذکیر کے بعد) اس جملہ شرطیہ کو لانے سے غرض یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ اپنی جان کو دکھ میں نہ ڈالیں اور ان بےایمانوں کی حالت پر افسوس نہ کریں ‘ جیسا کہ دوسری آیت میں آیا ہے : وما انت علیھم بجبّار (آپ ایمان لانے پر ان کو مجبور کرنے والے نہیں ہیں) بعض عالموں نے کہا یہ بظاہر شرطیہ کلام ہے لیکن حقیقت میں بےایمانوں کی مذمت اور نصیحت کے اثر آفریں نہ ہونے کا اظہار ہے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ وعظ و نصیہت اور امر و نہی اس وقت واجب ہے جب اس کی اثر آفرینی کا گمان ہو اسی لیے اعراض کرنے والے سے روگردانی کا حکم دیا گیا ہے۔ بعض لوگوں نے کہا کہ شرط کا ایک ٹکڑا محذوف ہے۔ اصل میں کلام اس طرح تھا : نصیحت کرو خواہ نصیحت فائدہ رساں ہو یا نہ ہو جیسے : سَرَابِیْلَ تَقِیْکُمُ الْحَرَّ میں والْبَرْد محذوف ہے۔
Ayah 87:10

سَیَذَّكَّرُ مَنْ یَّخْشٰىۙ Open ayah 87:10 in the Quran reader

جو خوف رکھتا ہے وہ تو نصیحت پکڑے گا

سیذکر من یخشی . یہ فائدہ اٹھانے والے کا ذکر ہے یعنی جو شخص اللہ سے ڈرتا ہے ‘ وہی نصیحت اندوز اور منفعت گیر ہوگا کیونکہ وہی نصیحت پر غور کرے گا اور اللہ کے عذاب کے ڈر سے عمل کرے گ
Ayah 87:11

وَ یَتَجَنَّبُهَا الْاَشْقَىۙ Open ayah 87:11 in the Quran reader

اور (بےخوف) بدبخت پہلو تہی کرے گا

و یتجنبھا الاشقی . اور کافر نصیحت سے گریز کرے گا۔ الاشقٰی سے مراد ہے ہر کافر کیونکہ مؤمن فاسق سے ہر کافر زیادہ بدنصیب ہوتا ہے (اور الاشقٰی اسم تفضیل ہے) یا بدنصیب ترین کافی مراد ہے اس وقت الاشقٰی میں الف لام عہد کا ہوگا اور معین کافر یعنی ولید بن مغیرہ یا عتبہ بن ربیعہ مراد ہوگا۔
Ayah 87:12

الَّذِیْ یَصْلَى النَّارَ الْكُبْرٰىۚ Open ayah 87:12 in the Quran reader

جو (قیامت کو) بڑی (تیز) آگ میں داخل ہو گا

الذی یصلی النار الکبریٰ . جو جہنم کی آگ یا آگ کے نچلے طبقہ میں داخل ہوگا۔
Ayah 87:13

ثُمَّ لَا یَمُوْتُ فِیْهَا وَ لَا یَحْیٰىؕ Open ayah 87:13 in the Quran reader

پھر وہاں نہ مرے گا اور نہ جئے گا

ثم لا یموت فیھا . پھر اس میں نہ تو اسے موت ہی آئے گی کہ مر کر عذاب سے چھوٹ جائے۔ ولا یحییٰ . اور نہ خوشگوار زندگی ہی پائے گا۔ ثم لا یموت کا عطف یصلٰی پر ہے۔ نفس عذاب سے دوام عذاب زیادہ ہولناک ہے اور زمانہ کے لحاظ سے بھی مؤخر ہے۔ اس طرح شدت اور وجود دونوں لحاظ سے دوامی عذاب نفس عذاب سے متراخی ہے۔ اسی لیے ثمَّ کا استعمال کیا گیا (جو کبھی تراخی زمانی اور کبھی تراخی مرتبہ پر دلالت کرتا ہے۔
Ayah 87:14

قَدْ اَفْلَحَ مَنْ تَزَكّٰىۙ Open ayah 87:14 in the Quran reader

بے شک وہ مراد کو پہنچ گیا جو پاک ہوا

قد افلح من تزکی . یعنی جس کا باطن شرک سے اور ظاہر ہر نجاست سے اور مال زکوٰۃ نہ دینے کے میل سے اور دل یاد الٰہی کی غفلت سے اور ضمیر نفسانی عیوب سے اور اعضاء جسمانی گناہوں کے میل کچیل سے پاک ہوگیا ‘ وہ کامیاب ہوگیا (مطلب یہ ہے کہ زکوٰۃ سے جس نے مالی کثافت کو دور کیا اور نماز سے ظاہری نجاست کو اور ذکر خداوندی سے دل کی کدورت کو اور نفس کو امراض نفسانیہ کی آلائش سے اور اعضاء جسم کو گناہوں کے گندگی سے دور کیا وہی نجات پا گیا) ۔
Ayah 87:15

وَ ذَكَرَ اسْمَ رَبِّهٖ فَصَلّٰىؕ Open ayah 87:15 in the Quran reader

اور اپنے پروردگار کے نام کا ذکر کرتا رہا اور نماز پڑھتا رہا

و ذکر اسم ربہ فصلی . اور اپنے رب کی یاد کی اور نماز پڑھی۔ حضرت جابر ؓ بن عبداللہ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : قد افلح من تزکّٰی (یعنی) جس نے لا الٰہ الاّ اللہ کی شہادت دی اور اللہ کے شرکاء کو نکال باہر کیا اور میرے رسول اللہ ہونے کی شہادت دی اور ذکر اسم ربہ فصلّٰی (کی تشریح) میں فرمایا : یہ پانچ نمازیں اور ان کی نگہداشت و اہتمام ہے۔ حنفیہ نے کہا : ذکر اسم ربہ سے تکبیر تحریمہ مراد ہے۔ اسی بناء پر احناف کے نزدیک تکبیر افتتاح کو وہ نماز کا رکن نہیں قرار دیتے بلکہ شرط صلوٰۃ کہتے ہیں کیونکہ فصلّٰی میں فاء عطف ہے اور تعقیب کے لیے ہے اور عطف تعقیبی کا تقاضا ہے کہ معطوف اور معطوف علیہ جدا ‘ جدا ہوں اور معطوف علیہ معطوف کے بعد آئے (اور جزء کُل سے جدا نہیں ہوتا ‘ اس لیے تکبیر تحریمہ جزء صلوٰۃ نہیں) ۔ شبہ عام ‘ خا ص کو شامل ہوتا ہے اس کے باوجود عام پر خاص کا عطف بالاتفاق درست ہے۔ پس اسی طرح (کُل جزء کو شامل ہوتا ہے اور) کُل کا عطف جزء پر ہوسکتا ہے۔ اس لیے صلوٰۃ کا عطف تکبیر تحریمہ پر کردیا گیا۔ جواب خاص کا عطف عام پر کسی ادبی نکتہ کے زیر اثر ہوتا ہے (مثلاً خاص کی اہمیت کو ظاہر کرنے کے لیے جیسے صلوٰۃ وسطیٰ کا عطف صلوات پر کیا گیا یا خاص کے علو مرتبہ کو بیان کرنے کے لیے جیسے جبرئیل کا عطف ملائکہ پر) اور کُل کا عطف جزء پر نکتہ آفریں نہیں۔ نہ کلام عربی میں اسکی کوئی مثال ہے۔ اسی وجہ سے فرض نماز پر نفل کی بناء صحیح ہے اور نفل پر بھی نفل کی بناء درست ہے بلکہ ابو الیسر کا قول تو ایک روایت میں یہ بھی آیا ہے کہ فرض کی بناء نفل پر بھی درست ہے لیکن عام حنفیہ اسکو درست نہیں کہتے اور فرض پر فرض کی بناء کے بھی منکر ہیں۔ میں کہتا ہوں اگر تحریمہ کو شرط کہا جائے ‘ تب بھی اس پر جواز بناء ضروری نہیں دیکھو نیت نماز کے لیے شرط ہے لیکن دو نمازیں ایک نیت سے صحیح نہیں اور وضو شرط صلوٰۃ ہے لیکن ابتداء اسلام میں ہر نماز کے لیے جدا وضو کرنا واجب تھا۔ ہاں فرض پر نفل نماز کی بناء تبعاً ضرور صحیح ہے جیسے ظہر کی نماز میں اگر کسی نے بھول کر پانچ رکعتیں پڑھ لیں اور آخری قعدہ کرلیا تو چھٹی رکعت ملا لے اور سجدۂ سہو کرلے یہ آخری دو رکعتیں نفل ہوجائیں گی۔ امام شافعی (رح) وغیرہ کے نزدیک تکبیر تحریمہ دوسرے ارکان صلوٰۃ کی طرح جزء نماز ہے کیونکہ جیسے دوسرے ارکان ضروری ہیں ‘ اسی طرح یہ بھی ضروری ہے۔ یہی رکن ہونے کی علامت ہے۔ حنفیہ کا قول ہے کہ نماز کی تمام بیرونی شرائط کی نگہداشت قیام کے اتصال کی وجہ سے ہے ‘ ورنہ فی ذاتہ اور بجائے خود ان کی ضرورت نہیں۔ اسی لیے اگر بدن پر یا کپڑوں پر نجاست ہو یا واجب الستر حصۂ بدن کھلا ہوا ہو یا زوال آفتاب نہ ہوا ہو یا قبلہ کی طرف منہ نہ ہو اور اس حالت میں تکبیر تحریمہ کہہ لی جائے مگر تکبیر کا آخری لفظ کہتے کہتے یہ موانع دور ہوجائیں مثلاً خفیف عمل کے ساتھ ستر عورت کرلے اور زوال ہوجائے اور قبلہ کی طرف منہ کرلے تو نماز درست ہوجاتی ہے (کیونکہ قیام صلوٰۃ کے ساتھ جس جزء تحریمہ کا اتصال ہے وہ صحیح شراط کے ساتھ اور صحیح رخ پر ہوا) کافی میں لکھا ہے کہ ہمارے بعض (حنفی) علماء کے نزدیک تکبیر تحریمہ بھی رکن ہے۔ طحاوی کا ظاہر کلام یہی ہے۔ اس قول پر مذکورۂ بالا تفریعات درست نہ ہوں گی۔ میں کہتا ہوں کہ ممکن ہے کہ ذکر اسم رب سے مراد اذان اور اقامت ہو۔ اس صورت میں تکبیر افتتاح کے رکن نہ ہونے پر (اس آیت میں) کوئی دلیل نہ ہوگی۔ تزکّٰی اور ذکر اسم ربہ فصلّٰی سے بعض علماء کے نزدیک صدقہ فطر اور تکبیرات عید اور نماز عید مراد ہے۔ عطاء کا یہی قول ہے۔ حضرت ابن مسعود ؓ نے بھی تزکّٰی کا ترجمہ تصدیق کیا اور فرمایا : جس نے صدقہ دیا پھر نماز پڑھی یہ فرمانے کے بعد آپ نے یہی آیت تلاوت فرمائی۔ نافع کی روایت ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمر ؓ جب فجر کی نماز پڑھ لیتے یعنی عید کے دن تو فرماتے : نافع کیا صدقۂ فطر دے دیا گیا ؟ اگر میں ہاں کہہ دیتا تو عیدگاہ کو چلے جاتے اور نہ کہتا تو فرماتے : اب دے دو ۔ بلاشبہ آیت : قد افلح من تزکّٰی و ذکر اسم ربہٖ فصلّٰی اسی بارے میں نازل ہوئی تھی۔ یہی قول ابو العالیہ اور ابن سیرین کا ہے۔ بعض علماء نے کہا : مجھے اس تفسیر کی کوئی وجہ معلوم نہیں ہوتی کیونکہ یہ سورت مکی ہے اور مکہ میں نہ عید تھی ‘ نہ زکوٰۃ ‘ نہ صدقۂ فطر۔ بغوی نے اس کے جواب میں لکھا ہے ‘ ہوسکتا ہے کہ آیت کا نزول وقوع حکم سے پہلے ہو ‘ دیکھو وانت حل بھٰذا البلد والی سورت مکی ہے مگر حل کا وقوع فتح مکہ کے دن ہوگا۔ اسی طرح آیت : سیھزم الجمع و یولون الدبر کا نزول مکہ میں ہوا تھا۔ حضرت عمر ؓ بن خطاب کا بیان ہے کہ اس وقت مجھے معلوم نہ تھا کہ کونسی جماعت پشت پھیر کر بھاگے گی لیکن بدر کی لڑائی ہوئی تو میں نے دیکھا کہ رسول ﷺ زرہ میں نہیں سماتے اور فرما رہے ہیں : سیھزم الجمع و یولون الدبر۔ میں کہتا ہوں کہ سیھزم ‘ تو مستقبل کا صیغہ ہے ‘ اس لیے کوئی خراب نہیں ہوتی اگر نزول پہلے ہوگیا ہو (اور واقعہ کا وقوع مستقبل میں ہوگیا ہو) لیکن اس جگہ تو آیت میں ذَکَرَ اور صلّٰی ماضی کے صیغے ہیں ‘ یہاں تو وقوع سے پہلے کسی واقعہ کی نقل ممکن نہیں۔ بعض لوگوں نے کہا کہ صلوٰۃ سے مراد دعا ہے اور دعا کا مسنون طریقہ یہی ہے کہ اوّل بھی اللہ کی ثناء کی جائے اور آخر میں بھی۔ حضرت فضالہ ؓ کا قول ہے کہ رسول اللہ ﷺ تشریف فرما تھے۔ ایک شخص حاضر ہوا اور اس نے نماز پڑھی پھر (قعدۂ اخیرہ کے بعد) کہا : اے اللہ ! مجھے بخش دے اور مجھ پر رحم فرما۔ حضور اکرم ﷺ نے فرمایا : دعا کرنے والے تو نے عجلت سے کام لیا۔ جب تو نماز پڑھے اور (آخری قعدہ میں) بیٹھ جائے تو (اوّل) ان اوصاف کو بیان کر کے اللہ کی حمد کر ‘ جن کا وہ مستحق ہے اور مجھ پر درود پڑھ پر اللہ سے دعا کر۔ راوی کا بیان ہے پھر ایک اور شخص آیا اور اس نے نماز پڑھی پھر (قعدۂ اخیرہ میں) اللہ کی حمد کی اور رسول اللہ ﷺ پر درود پڑھا۔ حضور والا ﷺ نے فرمایا : اے نماز پڑھنے والے ! دعا کر تیری دعا قبول ہوگی۔ ترمذی ‘ ابوداؤد اور نسائی نے اسی طرح کی روایت حضرت ابن مسعود کی نقل کی ہے۔ حضرت ابن مسعود کا بیان ہے ‘ میں نماز پڑھ رہا تھا۔ رسول اللہ ﷺ اور حضرت ابوبکر ؓ و حضرت عمر ؓ بھی حضور ﷺ کے ساتھ موجود تھے ‘ جب میں بیٹھ گیا تو میں نے اللہ کی ثناء شروع کی پھر رسول اللہ ﷺ کے لیے دعا کی ‘ پھر اپنے لیے دعا کی۔ حضور ﷺ نے فرمایا : مانگ تیرا سوال پورا ہوگا ‘ مانگ تجھے ملے گا۔ (ترمذی) ہمارے شیخ اعظم یعقوب کرخی نے فرمایا : آیت میں مدارج سلوک کی طرف اشارہ ہے۔ 1) توبہ اور تزکیہ کی طرف قد افلح من تزکّٰی سے اشارہ ہے۔ 2) زبانی ‘ قلبی ‘ روحی اور سری ذکر کی پابندی کی طرف وذکر اسم ربہ سے اشارہ ہے۔ 3) مشاہدہ کے دوام کی طرف (فصلّٰی) سے اشارہ ہے کیونکہ نماز اہل ایمان کی معراج ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : میری آنکھ کے لیے خنکی نماز میں کردی گئی ہے۔ (احمد ‘ نسائی ‘ حاکم ‘ بیہقی) میں کہتا ہوں کہ تزکّٰی پر ذَکَرَ کا واؤ کے ساتھ اور صلّٰی کا فاء کے ساتھ عطف طریقۂ ذکر کی اس ترتیب کو بتارہا ہے جس کا تذکرہ حضرت مجدد الف ثانی (رح) نے کیا ہے۔ تزکیۂ نفس کے ذیل میں مجدد صاحب (رح) نے مبتدی کے لیے اسم ذات یا نفی و اثبات کے ذکر کو معین کردیا ہے اور فرمایا ہے کہ بغیر تزکیۂ نفس کے نماز کا پورا فائدہ حاصل نہیں ہوتا۔ پھر تجلیات ذاتیہ اور تجلیات کی ترقی کے لیے مجدد صاحب (رح) نے نماز کی تعیین کی ہے (کہ نماز کے بغیر تجلیات ذاتیہ کا نہ حصول ہوتا ہے ‘ نہ ان میں ترقی) ۔
Ayah 87:16

بَلْ تُؤْثِرُوْنَ الْحَیٰوةَ الدُّنْیَا٘ۖ Open ayah 87:16 in the Quran reader

مگر تم لوگ تو دنیا کی زندگی کو اختیار کرتے ہو

بل تو ثرون الحیوۃ الدنیا . یعنی اے بدبختو ! تم نہ تزکیہ کرتے ہو ‘ نہ اللہ کی یاد کرتے ہو ‘ نہ نماز پڑھتے ہو بلکہ آخرت کی زندگی پر دنیوی زندگی کو ترجیح دیتے ہو۔
Ayah 87:17

وَ الْاٰخِرَةُ خَیْرٌ وَّ اَبْقٰىؕ Open ayah 87:17 in the Quran reader

حالانکہ آخرت بہت بہتر اور پائندہ تر ہے

والاخرۃ خیر . حالانکہ آخرت کی زندگی بہتر ہے ‘ اس میں بڑی بڑی لذتیں ہیں ‘ تمام کدورتوں سے خالی ہے۔ سب سے بڑی نعمت اللہ کا دیدار ‘ وصال اور رضامندی ہے جو آخرت میں حاصل ہوگی۔ وابقی . اور وہ لازوال بھی ہے ‘ دنیوی زندگی ایسی نہیں۔
Ayah 87:18

اِنَّ هٰذَا لَفِی الصُّحُفِ الْاُوْلٰىۙ Open ayah 87:18 in the Quran reader

یہ بات پہلے صحیفوں میں (مرقوم) ہے

ان ھذا . بیشک یہ یعنی یہ مضمون جو قد افلح سے چوتھی آیت تک مذکور ہے۔ لفی الصحف الاولی صحف ابراھیم و موسیٰ . گزشتہ انبیاء کی آسمانی کتابوں میں مذکور ہے۔ یہ آیات تمام دینی امور کو حاوی ہیں۔ تمام کتب کا خلاصہ یہی ہے۔ منجمد آسمانی کتابوں کے ابراہیم (علیہ السلام) اور موسیٰ ( علیہ السلام) کے صحیفے بھی تھے۔ ان میں بھی یہی مضمون مذکور ہے۔
Ayah 87:19

صُحُفِ اِبْرٰهِیْمَ وَ مُوْسٰى۠ Open ayah 87:19 in the Quran reader

(یعنی) ابراہیم اور موسیٰ کے صحیفوں میں

صحف ابراہیم و موسیٰ ۔ الصحف الاولٰی سے بدل بعض ہے۔ بزار نے حضرت ابن عباس کا قول نقل کیا ہے کہ جب آیت : ان ھذا لفی الصحف الاولٰی نازل ہوئی تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : یہ سب ابراہیم اور موسیٰ کے صحیفوں میں تھا۔ بعض اہل تفسیر نے کہا کہ : اِنَّ ھٰذَا میں اس تمام مضمون کی طرف اشارہ ہے جو اس سورت میں بیان کیا گیا ہے۔ بعض احناف نے اس آیت سے استدلال کیا ہے کہ نماز کے اندر فارسی زبان میں قرآن پڑھنا جائز ہے کیونکہ اللہ نے بقدر تیسیر قرآن پڑھنے کا نماز میں حکم دیا ہے ‘ پھر یہ بھی فرمایا کہ : ان ھذا الفی الصحف الاولٰی اور انہ لفی زبر الاوّلین اور ظاہر ہے کہ قرآن کی یہ عربی عبارت تو گزشتہ آسمانی کتابوں میں نہیں تھی بلکہ اس عبارت کا مضمون تھا (پس جس زبان میں قرآن کا مضمون ادا کردیا جائے اس کو نماز میں پڑھنا جائز ہوگا۔ گویا قرآن نام صرف معانی اور مضامین کا ہوا ‘ عربی عبارت قرآن نہیں) ۔ میں کہتا ہوں حنفیہ کا یہ استدلال بےحقیقت ہے ‘ قرآن نام تو عبارت اور مضمون کے مجموعہ کا ہے۔ دیکھو اللہ نے ارشاد فرمایا ہے : قُرْاٰنًا عَرَبِیًّا غَیْرَ ذِیْ عِوَجٍ ۔ دوسری آیت ہے : فَاْتُوْا بِسُوْرَۃٍ مِّنْ مِّثْلِہٖ ۔ عبارت ہر سورة کی معجز ہے اس لیے مثلہ سے مراد ہے ترتیب عبارت میں مثل ہونا (یعنی کوئی ایسی سورت پیش کرو جو طرز عبارت میں قرآن کی طرح ہو) اس لیے اگر فارسی میں قرآن کا ترجمہ ہو تو بےوضو اور بےغسل آدمی اس کو چھو سکتا ہے بلکہ جنب اور حائضہ کا اس کو پڑھنا بھی درست ہے۔ رہا اس آیت میں مضمون کی طرف اشارہ یا آیت : انہ لفی زبر الاوّلین میں ضمیر کا مضمون کی طرف لوٹنا تو یہ مجازاً ہے ‘ اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ قرآن صرف مضمون کا نام ہے۔ حضرت علی کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ اس سورت یعنی سورت سبح اسم ربک الاعلٰی سے محبت رکھتے تھے۔ (احمد) حضرت عائشہ ؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ (وتر کی تین رکعتوں میں سے پہلی) دو رکعتوں میں سبح اسم ربک الاعلٰی اور قل یٰایھا الکافرون پڑھتے تھے اور طاق رکعت (یعنی تیسری رکعت) میں قل ھو اللہ احد اور قل اعوذ برب الفلق اور قل اعوذ برب الناس پڑھتے تھے۔ (ابوداؤد ‘ ترمذی ‘ ابن ماجہ) حضرت ابی بن کعب کی روایت ابوداؤد اور ترمذی نے اور حضرت ابن عباس کی حدیث ابوداؤد ‘ نسائی ‘ احمد اور ابن ماجہ نے نقل کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب نماز وتر کی تین رکعتیں پڑھتے تو پہلی رکعت میں سبح اسم ربک الاعلٰی اور دو سری میں قل یٰایھا الکٰفرون اور تیسری میں قل ھو اللہ احد پڑھتے تھے۔ حضرت نعمان بن بشیر کی روایت ہے کہ عیدین اور جمعہ میں رسول اللہ ﷺ سبح اسم ربک اور ھل اتٰک حدیث الغاشیۃ پڑھتے تھے۔ مسلم ‘ ابوداؤد ‘ نسائی اور ابن حبان نے بروایت سمرہ بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ جمعہ کی نماز میں سبح اسم ربک اور ھل اتٰک حدیث الغاشیۃ پڑھتے تھے۔ فائدہ مجدّد صاحب نے فرمایا کہ جس طرح سورة الم نشرح کی (مرتبہ) نزول میں قوی تاثیر ہے ‘ اسی طرح مرتبۂ عروج میں اس سورت کا بڑا اثر ہے۔ سورة الاعلیٰ ختم ہوئی ‘ بعونہٖ و منہٖ تعالیٰ