وَنُیَسِّرُكَ لِلْیُسْرٰی ۟ۚۖوَنُيَسِّرُكَ لِلۡيُسۡرٰى
ہم تم کو آسان طریقے کی توفیق دیں گے
— Fateh Muhammad Jalandhari
And We will ease you toward ease.
— Saheeh International
Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 12 of juz
وَنُیَسِّرُكَ لِلْیُسْرٰی ۟ۚۖوَنُيَسِّرُكَ لِلۡيُسۡرٰى
ہم تم کو آسان طریقے کی توفیق دیں گے
— Fateh Muhammad Jalandhari
And We will ease you toward ease.
— Saheeh International
Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 12 of juz
Read the whole surah · Surah Al-A'laa
اور ہم تمہیں آسان طریقے کی سہولت دیتے ہیں
ہم تم کو آسان طریقے کی توفیق دیں گے
ہم آپ کے لئے آسانی پیدا کر دیں گے
اور ہم تمہیں آسان شریعت (پر چلنے کے لیے) سہولت دیں گے۔
اور ہم تمہارے لیے آسانی کا سامان کردیں گے
اور ہم آپ کو اس آسان (شریعت پر عمل پیرا ہونے) کے لئے (بھی) سہولت فراہم فرمائیں گے،
اور ہم تجھے آسان راستے کے لیے سہولت دیں گے۔
اور ہم آسان طریقہ پر چلنے کی سہولت دیں گے
اور ہم تمہیں لے چلیں گے آسان راہ
اور ہم آسانی سے دے دیں گے آپ کو (شریعت مقدسہ کی) اس آسان راہ کی
اور ہم اس آسان (شریعت) کے لئے آپ کو سہولت دے دیں گے۔
اور ہم رفتہ رفتہ پہنچائیں گے آپ کو آسانی تک۔
ہم تم کو آسان طریقے کی توفیق دیں گے
We shall ease you to follow the way of Ease.
And We will facilitate for you (to reach) the easiest way.
And We will facilitate for you (to reach) the easiest way.
And We shall make easy for you the easy.
And We shall ease thy way unto the state of ease.
— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran
And We will ease you toward ease.
We shall make all your tasks easy.
And We will make your way smooth to a state of ease.
And We shall make easy Unto thee the easy way.
And We will make it easy for thee (to follow) the simple (Path).
— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary
Explained with ayahs 1–13
مسند احمد میں ہے عقبہ بن عامر جہنی ؓ فرماتے ہیں کہ جب آیت (فَسَبِّحْ باسْمِ رَبِّكَ الْعَظِيْمِ 74ۧ) 56۔ الواقعة :74) اتری تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اسے تم اپنے رکوع میں کرلو جب آیت (سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْاَعْلَى ۙ) 87۔ الأعلی :1) اتری تو آپ نے فرمایا اسے اپنے سجدے میں کرلو ابو داؤد وغیرہ کی حدیث میں ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ آیت (سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْاَعْلَى ۙ) 87۔ الأعلی :1) پڑھتے تو کہتے سبحان ربی الاعلی حضرت علی سے بھی یہ مروی ہے حضرت ابن عباس ؓ سے بھی یہ مروی ہے اور آپ جب آیت (لا اقسم بیوم القیامۃ) پڑھتے اور آخری آیت (اَلَيْسَ ذٰلِكَ بِقٰدِرٍ عَلٰٓي اَنْ يُّـحْيِۦ الْمَوْتٰى 40) 75۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–8
سورة الْاَعْلٰی 8 اس فقرے کے دو مطلب ہو سکتے ہیں۔ ایک یہ کہ پورے قرآن کا لفظ بلفظ آپ کے حافظے میں محفوظ ہوجانا آپ کی اپنی قوت کا کرشمہ نہیں ہے بلکہ اللہ کے فضل اور اس کی توفیق کا نتیجہ ہے، ورنہ اللہ چاہے تو اسے بھلا سکتا ہے۔ یہ وہی مضمون ہے جو دوسری جگہ قرآن مجید میں یوں بیان کیا گیا ہے۔ وَلَئِنْ شِئْنَا لَنَذْهَبَنَّ بالَّذِي أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ ، (بنی اسرائیل، 86) " اگر ہم چاہیں تو وہ سب کچھ تم سے چھین لیں جو ہم نے وحی کے ذریعہ سے تمہیں عطا کیا ہے "۔ دوسرا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ کبھی وقتی طور پر آپ کو نسیان لاحق ہوجانا اور آپ کا کسی آیت یا لفظ کو کسی وقت بھول جانا اس وعدے سے مستثنی ہے۔…
Read the full tafseer →ونسیرک للیسری، لفظی ترجمہ اس کا یہ ہے کہ ہم آپکو طریقہ یسریٰ کے لئے آسان کردینگے، طریقہ یسریٰ سے مراد شریعت اسلام ہے بظاہر مقتضائے مقام یہ تھا کہ یہ فرمایا جاتا کہ ہم اس طریقہ اور شریعت کو آپ کے لئے آسان کردینگے مگر قرآن کریم نے اس کو چھوڑ کر یہ فرمایا کہ ہم آپ کو اس طریقہ کے لئے آسان کردینگے۔ حکمت اسی میں یہ بتلانا ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کو طبعی اور مادی طور پر ایسا بنادیں گے کہ شریعت آپکی طبیعت بنجائے اور آپ شریعت کے سانچہ میں ڈھل جائیں۔
Read the full tafseer →’یسر‘ کی منزل کی بشارت: یہ نہایت واضح لفظوں میں پیغمبر ﷺ کو بشارت ہے کہ یہی دن ہمیشہ نہیں رہیں گے بلکہ ہم ان مشکلات سے نکال کر جلد تمہیں آسان راہ پر لے چلیں گے۔ ’یُسْرٰی‘ صفت ہے جس کا موصوف ’طَرِیْقَۃ‘ یا اس کا ہم معنی کوئی لفظ محذوف ہے۔ لفظ ’تیسیر‘ کی وضاحت اس کے محل میں ہو چکی ہے کہ یہ کسی چیز کو کسی برتر مقصد کے لیے تیار کرنے کے معنی میں آتا ہے۔ اس سے یہاں یہ اشارہ نکلتا ہے کہ اس وقت تم جن مشکلات میں ہو یہ تمہاری تربیت کے لیے ہیں تاکہ اللہ تعالیٰ تمہیں اپنے ان افضال و عنایات کا اہل اور حق دار بنائے جن سے تمہیں مستقبل میں وہ بہرہ مند فرمانے والا ہے۔ اوپر ’قَدَّرَ فَہَدٰی‘ اور ’اَخْرَجَ…
Read the full tafseer →8۔ 1 یہ بھی عام ہے۔ ہم آپ پر وحی آسان کردیں گے تاکہ اس کو یاد کرنا اور اس پر عمل کرنا آسان ہوجائے ہم آپ کے اس طریقے سے رہنمائی کریں گے جو آسان ہوگا، ہم جنت والا عمل آپ کے لئے آسان کردیں گے۔ ہم آپ کے لیے ایسے اقوال و افعال آسان کردیں گے جن میں خیر ہو اور ہم آپ کے لیے ایسی شریعت مقرر کریں گے جو سہل، مستقیم، اور معتدل ہوگی جس میں کوئی کجی، عسر اور تنگی نہیں ہوگی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–12
4: اللہ تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کو جو شریعت عطا فرمائی ہے، وہ بذات خود آسان ہے، پھر مزید تسلی دی گئی ہے کہ ہم اس پر چلنے کو بھی آپ کے لیے آسان کردیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–9
اب وہ خوشخبری آتی ہے جو آپ کے لئے ہے اور آپ کے بعد آپ کی امت کے لئے ہے۔ سنقرنک .................................... الذکری اس عظیم خوشخبری کا آغاز ہوتا ہے کہ قرآن کے حفظ کرنے اور اسے باقی رکھنے کی ذمہ داری نبی ﷺ کے کاندھوں سے اتار دی جاتی ہے۔ سنقرءک فلا تنسی (6:87) ” ہم تمہیں پڑھوا دیں گے ، پھر تم نہیں بھولوگے “۔ لہٰذا آپ اپنے رب سے یہ کلام لیں اور بس۔ اس کو یاد کرادینا اللہ کا کام ہے۔ یہ بات فی الواقعہ نبی ﷺ کے لئے بڑی خوشخبری تھی۔ آپ حفظ قرآن کے لئے فکر مند ہوتے تھے۔ اب تو اس کی حفاظت کی جانب سے مطمئن کردیا گیا کیونکہ قرآن کریم ایک نہایت ہی عظیم کلام اور آپ اسے بہت ہی محبوب رکھتے تھے۔ آپ دل…
Read the full tafseer →2 یعنی وحی کو یاد رکھنا آسان ہوجائے گا اور اللہ کی معرفت و عبادت اور ملک و ملت کی سیاست کے طریقے سب سہل کردیے جائیں گے اور کامیابی کے راستہ سے تمام مشکلات ہٹا دی جائیں گی۔
Read the full tafseer →آیت 8{ وَنُیَسِّرُکَ لِلْیُسْرٰی۔ } ”اور ہم رفتہ رفتہ پہنچائیں گے آپ کو آسانی تک۔“ تَیْسِیْر یُسر سے باب تفعیل ہے۔ اس باب میں تدریج کے معنی پائے جاتے ہیں۔ چناچہ آیت کا مفہوم یہ ہے کہ اے نبی ﷺ ! ہم مشکلات میں سے رفتہ رفتہ آپ کے لیے راستہ بناتے چلے جائیں گے اور اس آسان راستے پر آپ ﷺ کو تدریجاً ایک بڑی آسانی کی طرف لے جائیں گے۔ اس سے مراد اس دنیا میں غلبہ دین کی جدوجہد کی کامیابی اور آخرت میں جنت اور اس کی آسائشیں ہیں۔ ہم چاہیں تو آنِ واحد میں آپ ﷺ کے تمام دشمنوں کو آپ ﷺ کے سامنے سرنگوں کردیں اور تمام جن و انس کو ایمان کی توفیق بخش دیں ‘ لیکن ہماری حکمت اور مشیت میں اس معاملے کی ایک تدریج ہے۔…
Read the full tafseer →7 اس آیت کے کئی مطلب ہوسکتے ہیں۔ مثلاً ایک یہ کہ آپ کو بلاتکلیف سہولت کے ساتھ قرآن یاد رہے گا۔ دوسرا یہ کہ ہم آپ ﷺ کو آسان اور سہل شریعت پر چلائیں گے۔ تیسرا یہ کہ شریعت کے احکام پر عمل پیرا ہونا ہم آپ ﷺ کے لیے آسان بنادیں گے۔ چوتھا یہ کہ اسلام کے راستہ سے ہم تمام رکاوٹوں کو دور کردیں گے اور کامیابی کی راہ پر گامزن ہونا آپ کے لیے آسان بنادیں گے۔ پانچواں یہ کہ آپ ﷺ کی ذمہ داری بس اتنی ہی ہے کہ آپ ﷺ لوگوں کو اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچا دیں۔ اس سے آگے کسی مشکل میں پڑنا یا بہ جبر لوگوں کو اسلام کی طرف لانا آپ کی ذمہ داری نہیں۔
Read the full tafseer →6۔ (اور اس کے تحت میں سہولت حفظ، سہولت فہم، سہولت عمل، سہولت تبلیغ، ہر قسم کی سہولتیں آگئیں)
Read the full tafseer →ونیسرک للیسریٰ یہ عام ہے مثلاً ہم آپ ﷺ پر وحی آسان کردیں گے تاکہ اس کو یاد کرنا اور اس پر عمل کرنا آسان ہوجائے، ہم آپ ﷺ کی اس طریقہ کی طرف رہنمائی کریں گے جو آسان ہوگا، ہم آپ ﷺ کے لئے ایسی شریعت مقرر کریں گے جو سہل، مستقیم اور معتدل ہوگی، جس میں کوئی کمی اور عسر اور تنگی نہیں ہوگی، وغیرہ۔
Read the full tafseer →و نیسرک للیسری . یعنی ہم تم کو توفیق دیں گے ‘ تمہارے لیے اعمال جنت کو آسان کردیں گے اور اعمال جنت میں سے نزول کے مطابق قرآن کی قراءت اور اس کی یادداشت اور اس کے مطابق عمل بھی ہے (اس لیے اس کی توفیق بھی ہم ہی دیں گے) جملہ مذکورہ کے الفاظ میں کچھ الٹ پھیر ہے۔ اصل کلام نُیَسِّرُ الْیُسْرٰی لَکَ (ہم تمہارے لیے آسانی پیدا کردیں گے) تھا۔ کلام کی ساخت الٹنے سے مضمون میں مبالغہ ہوگیا۔ اصل کلام میں سہولت مطلوب تھی اور رسول اللہ ﷺ طالب۔ اُلٹنے کے بعد سہولت طالب ہوگئی اور رسول ﷺ مطلوب (جیسے آدمیرزق کا طالب ہے اور رزق مطلوب لیکن اگر رزق کا ملنا یقینی اور ضروری ہو تو کہا جاتا ہے تمہارا رزق تو تم کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–13
(8۔ 13) اور ہم آپ کو تبلیغ رسالت کے لیے اور تمام طاعتوں کے لیے سہولت دے دیں گے اور قرآن کریم کے ذریعے سے نصیحت کیا کیجیے اور سب کو یہ نصیحت مفید نہیں ہوسکتی، سوائے اس مومن کے جو اس نصیحت کو قبول کرتا ہو اور اللہ سے ڈرتا ہو اور جو سخت بد نصیب ہے وہ قرآنی نصیحتوں اور اللہ تعالیٰ سے دور بھاگتا ہے، بالاخر دوزخ کی بڑی آگ میں داخل ہوگا کہ اس سے بڑا عذاب اور کوئی نہیں اور پھر اس دوزخ میں نہ مر ہی جائے گا کہ چھٹکارا ہوجائے گا اور نہ آرام کی زندگی پائے گا۔
Read the full tafseer →ونیسرک للیسری : یعنی ہم آپ کے لئے یہ آسانی فرمائیں گے کہ آپ کے خاموش رہ کر سننے جانے سے آپ کو وحی الٰہی یاد ہوجائے گی۔
Read the full tafseer →ونیسرک للیسری ،۔ اس کا عطف سنقرءک اور انہ یعلم الجھر ومایخفی۔ درمیان میں جملہ معترضہ ہے۔ یسری کا معنی ہے آسان راستہ، یہ بھلائی کا عمل ہے، حضرت ابن عباس نے کہا، ہم تجھے اچھا عمل کرنے کی توفیق دیں گے، حضرت ابن مسعود نے کہا، یسری سے مراد جنت ہے، ایک قول یہ کیا گیا ہے ہم تجھے شریعت یسری کی توفیق دیں گے، اس سے مراد، حنیفتہ، سمحہ سھلہ، ایسی شریعت جس میں یہ صلاحیتیں موجود ہیں، یہ ضحاک نے معنی بیان کیا ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے، ہم آپ پر وحی کو آسان کردیں گے، یہاں تک آپ یاد کرلیں گے اور اس پر عمل کرلیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–9
45۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ونیسرک للیسری اور ہم آپ کے لیے خیر اور نیکی کو آسان بنادیں گے۔
Read the full tafseer →[وَنُيَسِّرُكَ : اور ہم آسان کریں گے (پہنچائیں گے) آپ ﷺ کو ][ لِلْيُسْرٰى: اس آسان (طریقت) تک ] (آیت۔ 8) پَسَّرَ ، باب تفعیل، میں جس چیز کو آسان کرتے ہیں وہ مفعول بنفسہٖ آتا ہے اور جس کے لیے آسان کرتے ہیں اس پر لام کا صلہ آتا ہے۔ یہاں نُیَسِّرُ کا مفعول ضمیر مفعولی کَ ہے۔ ترجمہ اسی لحاظ سے ہوگا۔ یُسْرٰی صفت ہے۔ اس کا موصوف یہاں محذوف ہے۔ نوٹ 3: آیت۔ 8 ۔ کا لفظی ترجمہ یہ ہے کہ ہم آپ ﷺ کو طریقہ یُسْریٰ کے لیے آسان کردیں گے۔ اس مقام کا تقاضہ یہ تھا کہ فرمایا جاتا کہ ہم اس طریقہ اور شریعت کو آپ ﷺ کے لیے آسان کردیں گے لیکن قرآن کریم نے اس کو چھوڑ کر یہ فرمایا کہ ہم آپ ﷺ کواِس طریقہ کے لیے آسان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–9
﴿سَنُقْرِئُكَ فَلَا تَنْسٰۤىۙ006﴾ (ہم آپ کو قرآن پڑھائیں گے سو آپ نہیں بھولیں گے) ۔ اس میں وعدہ فرمایا ہے کہ یہ قرآن جو آپ پر نازل ہوچکا ہے اور اس کے بعد مزید نازل ہوگا آپ اس قرآن کو بھولیں گے نہیں، یہ وہ ہی مضمون ہے جسے سورة ٴ قیامہ کی آیت کریمہ ﴿ اِنَّ عَلَيْنَا جَمْعَهٗ وَ قُرْاٰنَهٗۚۖ0017﴾ میں بیان فرمایا ہے ﴿ اِلَّا مَا شَآء اللّٰهُ ﴾ (مگر اللہ جو چاہے) اس میں یہ بتادیا کہ آپ پر جو وحی آئے اس میں سے آپ بعض چیزوں کو بھول جائیں گے اور آپ کا یہ بھولنا ہماری مشیت سے ہوگا حکمت کے مطابق ہوگا اس میں منسوخ التلاوۃ اور منسوخ الحکم دونوں کو بیان فرما دیا، سورة ٴ بقرہ میں فرمایا ہے : ﴿ مَا نَنْسَخْ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–8
5:۔ ” انہ یعلم “ یہ دعوی توحید کا دوسرا حصہ ہے یعنی عالم الغیب اور سب کچھ جاننے والا اللہ تعالیٰ ہی ہے اور کوئی نہیں۔ ” ونیسرک للیسری “ یہ دوسرے دعوے پر انعام ہے یعنی جب دوسرا دعوی بیان کریں گے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی عالم الغیب نہیں تو اللہ تعالیٰ آپ کے لیے جنت کی راہ آسان فرما دے گا۔ جس طرح پہلا دعوے دوسرے دعوے کے لیے بمنزلہ سبب ہے یعنی جو سب کچھ کرنے والا اور متصرف و کارساز ہو وہی عالم الغیب ہوتا ہے اسی کو پکارنا چاہئے۔ اسی طرح پہلا انعام بھی دوسرے انعام کے لیے بمنزلہ سبب ہے۔ کیونکہ قرآن کی ہدایت دخول جنت کا موجب ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–13
(پہلی سورة کے ساتھ ربط) پہلی سورة میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ہر انسان کے نفس پر اللہ نے محافظ مقرر کر رکھے ہیں اور اس کے اعمال کی حفاظت ہو رہی ہے ۔ لہذا ایک دن آئے گا ، جب راز کھلیں گے جب ایسا ہوگا ۔ معاملہ بڑا خراب ہوگا ۔ اس دن انسان ندامت اور شرمندگی سے بچنا چاہیں گے اس کا طریقہ بھی اللہ نے اس سورة میں بتا دیا اور وہ یہ ہے جیسا کہ آخری آیات میں آتا ہے ۔ حیوۃ الدنیا اور ترغیب فی الاخرت یعنی دنیا کی طرف سے بےرغبتی اور آخرت کے معاملات کی طرف زیادہ توجہ ہونی چاہیئے ۔ اگر ایسا ہوگیا تو راز کھلنے کے دن انسان شرمندگی سے بچ جائے گا ۔ ورنہ وہاں پر بچنے کی کوئی صورت نہیں ۔ اور رازوں کو کوئی تبدیلی…
Read the full tafseer →وَنُيَسِّرُكَ لِلْيُسْرٰى 8 ۖ يسر اليُسْرُ : ضدّ العسر . قال تعالی: يُرِيدُ اللَّهُ بِكُمُ الْيُسْرَ وَلا يُرِيدُ بِكُمُ الْعُسْرَ [ البقرة/ 185] ، سَيَجْعَلُ اللَّهُ بَعْدَ عُسْرٍ يُسْراً [ الطلاق/ 7] ، وَسَنَقُولُ لَهُ مِنْ أَمْرِنا يُسْراً [ الكهف/ 88] ، فَالْجارِياتِ يُسْراً [ الذاریات/ 3] وتَيَسَّرَ كذا واسْتَيْسَرَ أي تسهّل، قال : فَإِنْ أُحْصِرْتُمْ فَمَا اسْتَيْسَرَ مِنَ الْهَدْيِ [ البقرة/ 196] ، فَاقْرَؤُا ما تَيَسَّرَ مِنْهُ [ المزمل/ 20] أي : تسهّل وتهيّأ، ومنه : أَيْسَرَتِ المرأةُ ، وتَيَسَّرَتْ في كذا . أي : سهَّلته وهيّأته، قال تعالی: وَلَقَدْ يَسَّرْنَا الْقُرْآنَ لِلذِّكْرِ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–13
ترکیب ¦ ونیسرک معطوف علی سنقرئک وقولہ انہ یعلم الجہر وما یخفٰی اعتراض ای سنقرئک فلا تنسٰی ونو فقک للطریقۃ التیھی اسہل والیسران شرطیۃ نفعت الذکریٰ شرط وقولہ فذکر یدل علی الجزاء الذی یصلی الخ صفۃ الاشقیٰ ثم لایموت عطف علی یصلی وذکر عطف علی تزکی وفصلی عطف علی ذکر۔ تفسیر ¦ پہلے فرمایا تھا سبح اسم ربک الاعلیٰ کہ اپنے رب اعلیٰ کی تسبیح بیان کر اور اب اس تسبیح کے ثمرات بیان فرماتا ہے۔ فقال ونیسرک للیسریٰ کہ ہم تیرے لیے نجات کے رستے کو آسان کردیں گے۔ نجات کو یسریٰ یوں کہا کہ وہ کوئی درحقیقت مشکل اور محال بات نہیں جیسا کہ مذاہب باطلہ میں ہے کہ کوئی بتوں پر اپنی اولاد کی قربانی کو نجات کا سبب جانتا ہے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–9
وَنُیَسِّرُکَ لِلْیُسْرٰی۔ فَذَکِّرْ اِنْ نَّفَعَتِ الذِّکْرٰی۔ (الاَعلٰی : 8، 9) (ہم آپ کو آسان طریقے کی سہولت دیتے ہیں۔ پس آپ نصیحت کریں اگر نصیحت نفع پہنچائے۔ ) آنحضرت ﷺ کو یُسْر کی بشارت آنحضرت ﷺ اللہ تعالیٰ کا پیغام لوگوں تک پہنچانے کے سلسلے میں جس مشکل صورتحال سے دوچار تھے، سیرت و تاریخ کا ہر طالب علم اور قرآن کریم کا ہر قاری اسے اچھی طرح جانتا ہے۔ آپ ایسے ایسے جانگسل مراحل سے گزرے ہیں کہ ان کی تفصیل پڑھ کر پِتّہ پانی ہوتا ہے۔ چناچہ پروردگار اس صورتحال سے کامیابی و کامرانی سے نکلنے کی آپ کو بشارت دے رہا ہے۔ اور ساتھ ہی آپ کے حدودکار کو متعین فرما کر آپ کے لیے آسانی پیدا فرما رہا ہے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–13
فہم القرآن ربط کلام : رب تعالیٰ کی قدرتوں کا ذکر جاری ہے۔ جو ” رب “ اپنی قدرت سے نباتات کو اگاتا اور اسے کوڑا کرکٹ بناتا ہے اسی نے اپنی قدرت سے نبی ﷺ کو قرآن پڑھایا اور یاد کروایا۔ ان آیات کا یہاں لانے کا ایک مقصد یہ ہے کہ جس طرح انسان اور نباتات کا پہلے وجود نہیں تھا اسی طرح وحی سے پہلے آپ کی نبوت کا وجود نہ تھا۔ انسان اور دیگر چیزوں کے لیے فنا ہے لیکن اللہ تعالیٰ کی وحی کو فنا نہیں ہے۔ نبوت کے ابتدائی دور میں نبی ﷺ وحی کو یاد رکھنے کے لیے عجلت فرمایا کرتے تھے تاکہ وحی کا کوئی حصہ بھول نہ جائے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے آپ کو اطمینان دلایا کہ اے نبی ﷺ ! آپ کو پڑھنے اور یاد کرنے میں عجلت سے کام…
Read the full tafseer →آسان شریعت : 8 : وَنُیَسِّرُکَ لِلْیُسْرٰی (اور ہم آسان شریعت کیلئے آپ کو سہولت دیں گے) اسکا عطف سنقرئک پر ہے اور اِنَّہٗ یَعْلَمُ الْجَھْرَ وَمَایَخْفٰی یہ جملہ معترضہ ہے۔ اور معنی آیت کا یہ ہے۔ ہم آپ کو ایسے طریقہ کی توفیق دیں گے جو بہت ہی آسان ہے یعنی وحی کو یاد کرنے کیلئے۔ ایک قول یہ ہے ایسی آسان شریعت دیں گے جو تمام شرائع میں سے آسان ہوگی یا جنت کے عمل کی توفیق دیں گے۔
Read the full tafseer →8 ۔” ونیسرک للیسریٰ “ مقاتل (رح) فرماتے ہیں ہم آپ پر جنت کے عمل کو آسان کردیں گے اور یہ ابن عباس ؓ کے قول کا معنی ہے کہ ہم آپ کو آسانی دیں گے اس بات کی کہ آپ خیر کے کام کریں اور ” یسریٰ “ خیر کے کام اور کہا گیا ہے کہ ہم آپ کو شریعت ” یسریٰ “ کی توفیق دیں گے اور وہ حنیفیہ سمحہ ہے اور کہا گیا ہے وہ پہلی کلام کے ساتھ متصل ہے اس کا معنی بیشک وہ جہر کو جانتا ہے ان میں سے جو آپ (علیہ السلام) جبرئیل (علیہ السلام) پر پڑھتے ہیں جب وہ تلاوت سے فارغ ہوتے ہیں اور مخفی کو جو آپ اپنے دل میں پڑھتے ہیں بھولنے کے خوف سے۔ پھر وعدہ کرتے ہوئے فرماتے ” ونیسرک للیسریٰ “ یعنی ہم آپ (علیہ السلام) پر وحی کو آسان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–13
1۔ 13۔ ہجرت سے پہلے بلکہ فتح مکہ تک جو کچھ اللہ تعالیٰ کی ذات صفات اور احکام میں شرک کا رواج تھا وہ تو سب کو معلوم ہے اس مکی سورة کے اول میں فرمایا کہ اہل مکہ کی شرک کی باتوں سے اے نبی اللہ کے تم اور تمہارے ساتھی اللہ کی توحید ہر دم ورد زبان رکھو تاکہ ان مشرک اہل مکہ کے کان بھی ذرا توحید کی آواز سے آشنا ہوجائیں اسی واسطے اکثر صحابہ 1 ؎ جب اس آیت کو پڑھا کرتے تھے تو سبحان ربی الاعلیٰ کہا کرتے تھے۔ خلق نسوی کا یہ مطلب ہے کہ انسان حیوان سب کو مناسب اعضا مناسب حالت میں پیدا کیا والذی قدر فھدیٰ کی تفسیر کے طور پر مسند امام احمد صحیح مسلم 2 ؎ وغیرہ میں جو صحابہ کی ایک جماعت سے روایت ہیں ان کا حاصل…
Read the full tafseer →(وَنُيَسِّرُكَ لِلْيُسْرٰى) یہ ایک اور خوشخبری ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے رسول کو آپکے تمام امور میں آسانی مہیا فرمائے گا اور آپ کے دین اور شرعیت کو آسان بنائے گا۔
Read the full tafseer →(9) پیغمبر کے لیے تیسیر یسری کی بشارت کا ذکرو بیان : چناچہ ارشاد فرمایا گیا اور پیغمبر کو تیسیر یسر کی نوید مسرت سناتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا " اور ہم آپ ﷺ کو آسانی دیں گے اس آسان راہ کی " جو کہ انسانی فطرت وجبلت اور اس کے تقاضوں کے عین مطابق، اور انسان کے لیے دنیاو آخرت کی سعادتوں کی کفیل وضامن راہ ہے، اور ہماری اس تیسیر کے بعد اس کا سمجھنا سمجھانا، اور اس کے مطابق عمل کرنا اور کرانا، سب آپ کے لیے بالکل آسان ہوجائے گا ( ابن کثیر، صفوۃ البیان اور مدارک التنزیل وغیرہ) سو اس سے نہایت واضح لفظوں میں پیغمبر کو بشارت دی گئی ہے کہ مشکلات و مصائب کے یہی دن ہمیشہ نہیں رہیں گے، بلکہ ہم عنقریب ہی آپ کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–19
اللہ بہترین امتحان لینے والا ہے تشریح : نبی کریم ﷺ قرآن پاک کے ان الفاظ کو جو جبریل وحی کے ذریعے سناتے تھے اس خوف سے کہ وہ بھول نہ جائیں جلدی جلدی دہرانے لگتے اس پر اللہ تعالیٰ نے نبی پاک ﷺ کو یقین دلایا کہ آپ وحی کو غور سے سنا کریں ہم خود ہی آپ کو یاد کرانے کا ذمہ لیتے ہیں آپ بےفکر رہیں اور حقیقت بھی یہی ہے کہ قرآن حرف بحرف آپ کے حافظہ میں محفوظ کردیا گیا تھا اور یہ ایک بہت بڑا معجزہ ہے اس کے بعد اعمال کے بارے میں اور انسان کے انجام کے بارے میں ذکر ہے نیکی اور بدی ' اچھائی اور برائی ' سچائی اور جھوٹ ' روشنی اور اندھیرا ' کفر اور ایمان ' فرشتہ اور شیطان یہ شروع دن سے پیدا کئے گئے ہیں اور ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–19
سورة الاعلی۔ آیات 1 تا 19۔ اسرار ومعارف۔ اپنے پروردگار کے اعلی نام کی پاکی بیان کیجئے جس نے مخلوق کو عدم سے وجود بخشا کچھ بھی نہ تھا پھر سب کچھ پیدا فرمایا۔ مسئلہ : جب یہ آیہ مبارکہ نازل ہوئی تو آپ نے اسے سجدے کے لیے مقرر فرمایا۔ پھر تمام اجسام کو ایک انتہائی مناسب اندازے کے مطابق شکل و صورت دی اور جس کو جس کام کے لیے بنایا اسے اس کام کی استعداد بھی بخشی اور اس کی طرف میلان بھی عطا فرمایا۔ قدرت کا عطیہ۔ یہ سارے نظام کائنات میں مشاہدہ کیا جاسکتا ہے کہ ہر ذرے کو صورت ، شعور ، اور فطری کام کی استعداد عطا کرکے ایسا میلان بخشا کہ سوج ، چاند ، ستارے ، بادل ، ہوا ، جمادات ونباتات ہر ایک شے اپنے وقت…
Read the full tafseer →ف 19 یعنی وحی کا یاد رکھنا ہو یا کوئی بھی نیکی کا کام وہ ہماری توفیق کی بدلوت آپ پر آسان ہوجائیگا۔
Read the full tafseer →(87:8) ونیسرک للیسری واؤ عاطفہ ہے۔ نیسرک کا عطف سنقرئک پر ہے ہم تیرے لئے آسان بات کو سہل کردیں گے نیسر فعل مضارع صیغہ جمع متکلم تیسیر (تفعیل) مصدر سے ک ضمیر واحد مذکر حاضر۔ تیرے لئے ہم سہولت پیدا کردیتے ہیں یا کردیں گے۔ یسر ضد ہے عسر کی۔ آسانی ، سہولت۔ الیسری۔ واحد مؤنث اسم تفصیل معرف باللام ۔ الیسر واحد مذکر، یسر مصدر ہے ۔ یسر ییسر کا۔ (آسان ہونا) ۔ آسان (شریعت) یا عمل جنت ، یعنی عمل خیر (ابن عباس ) آسان طریقہ ۔ یعنی وہ عمل جو رضا الٰہی کے حصول کا سبب ہو۔ (معالم التنزیل) ۔ صاحب تفسیر ضیاء القرآن اس آیت کی تشریح میں حاشیہ میں تحریر فرماتے ہیں :۔ حقیقت میں شریعت اسلامیہ کا بنایا ہوا طریقہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–19
لغات القرآن۔ سنح۔ تسبیح کر۔ قدر۔ اندازہ کیا۔ المرعی۔ چارہ (جانوروں کی غذا) ۔ غثائ۔ کوڑا۔ کباڑ۔ احوی۔ سیاہ۔ نقری۔ ہم پڑھائیں گے۔ لا تنسی۔ تو نہ بھولے گا۔ یسری۔ آسانی۔ ذکر۔ سمجھا دے۔ ذکر کر۔ یتجنب۔ وہ بچے گا۔ الاشقی۔ بدنصیب۔ بدقسمت۔ افلح۔ کامیاب ہوا۔ تزکی۔ جس نے تزکیہ کیا۔ اپنے آپ کو پاک صاف کیا۔ تو ثرون۔ تم ترجیح دیتے ہو۔ اختیار کرتے ہو۔ ابقی۔ باقی رہنے والا۔ تشریح : ان آیات ہی میں شروع سے لے کر آخر تک نبی کریم خاتم الانبیاء حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ سے خطاب کرے ہوئے چند بنیادی اصولوں کی تعلیم دی گئی ہے۔ فرمایا۔ ٭اے نبی ﷺ ! آپ اپنے اس پروردگار کی پاکیزگی یعنی حمدو ثنا بیان کرتے رہییے جو سب سے بلندو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–13
(ف 6) اے محبوب ﷺ اس وحی کو یاد رکھنا آسان ہوجائے گا اور اللہ کی معرفت اور عبادت اور ملک وملت کی سیاست کے طریقے سب سہل کردیے جائیں گے اور کامیابی کا راستہ سے تمام مشکلات ہٹادی جائیں گی اللہ تعالیٰ نے آپ پر ایسے انعام فرمائے ہیں آپ دوسروں کو فیض پہنچائیں اور اپنے کمال سے دوسروں کی تکمیل کیجئے، ہاں یہ نہ ہوگا کہ سب آدمی نصیحت پالیں اور ایمان لے آئیں بلکہ سمجھانے سے وہی سمجھتا ہے اور نصیحت سے وہ ہی فائدہ اٹھاتا ہے جس کے دل میں تھوڑا بہت خدا کا ڈر اور اپنے انجام کی فکر ہو اور جس بدقسمت کے نصیب میں دوزخ کی آگ لکھی ہے وہ کہاں سمجھتا ہے اسے خدا کا اور اپنے انجام کا ڈر ہی نہیں جو نصیحت کی طرف متوجہ ہو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–11
[8] یعنی ہم ایک آسان طریقہ تمہارے لئے میسر کئے دیتے ہیں اور وہ یہ ہے کہ نصیحت کرو جہاں تم محسوس کرو کہ کوئی اس سے فائدہ اٹھانے کو تیار ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–19
ہمہ گیر صداقت 1: غرض یہ ہے کہ صداقت ہمہ گیر ہے ۔ ابراہیم اور موسیٰ (علیہم السلام) نے بیک آواز جو چیز اپنے اپنے زمانے میں لوگوں کے سامنے پیش کی ، وہ یہ تھی کہ کامیابی اسی شخص کے مقدر ہے جو پاکباز ہے ۔ جو خیال وفکر سے لے کر اعمال وجوارح تک پاکیزگی اور تقویٰ کو اپنا شعار بنالیتا ہے ۔ جس کا قلب پاک ہے ۔ جس کا خیال پاک ہے ۔ جس کا استدلال شوائب ضلالت سے پاک ہے اور جس کا عمل خلوص اور پاکیزگی ہے ۔ جو ہر آن اللہ کو یاد رکھتا ہے اور اپنی عقیدت ونیاز مندی کے جذبات کا اظہار کرتا ہے ۔ یعنی وہ جس کو ذوق عبادت بےقرار کردیتا ہے اور مجبور کرکے اس کے حضور میں کھڑا کردیتا ہے ۔ جس کی جبین اس کے آستانہ جلال پر…
Read the full tafseer →(8) اور ہم اس دین کے لئے آپ کو آسانیاں بہم پہنچائیں گے۔ یسریٰ کے معنی بعض مفسرین نے شریعت کئے ہیں۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی وحی کا یاد کرنا آسان ہوجائے گا۔ بہرحال ! دین یا شریعت جو حقیقت میں آسان ہے اس کو تبلیغ کے لئے ہر پیغمبر آسانیاں طلب کرتا ہے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا قول مشہور ہے ویسرلی فی امری یعنی میرے کام میں آسانیاں بہم پہنچا، یہاں اللہ تعالیٰ نے اعلان فرمادیا ونیسرک للیسری یعنی ہم بتدریج آپ کو آسانی تک پہنچا دیں گے وحی کی حفاظت ہو یا دین یسر کی تبلیغ ہو، نوفقک للشرایعۃ الیسری۔ بہرحال آپ کے کام میں آسانیاں پیدا کی جائیں گی وہ تبلیغ ہو یا تنظیم ہو یا سیاسی امور کی دیکھ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–8
ف 3۔ پس اس سے کسی چیز کی مصلحت مخفی نہیں اس لئے جب محفوظ رکھنا مصلحت ہوتا ہے محفوظ رکھتے ہیں۔ جب بھلا دینا مصلحت ہو بھلا دیتے ہیں۔
Read the full tafseer →اور ہم آپ ﷺ کے لیے سہولت کا سامان مہیا کریں گے 8 ؎ نبی اعظم وآخر ﷺ کو بطور پیش گوئی بتایا جا رہا ہے کہ اس وقت حالات آپ ﷺ کے لیے اور آپ ﷺ کے ساتھیوں ؓ کے لیے نہایت تکلیف دہ ہیں ہم کو معلوم ہے کیونکہ کوئی چیز بھی ہم سے پوشیدہ نہیں ہے اور یہ قانون الٰہی ہے کہ جہاں عسر ہے وہاں یسر کا بھی ہوگا ، جہاں یسر ہے وہاں عسر بھی ۔ ہمیشہ حالات ایک جیسے نہیں رہتے ، آپ ﷺ بےفکر رہیں ہم آپ ﷺ کے لیے آسانیوں کا وقت قریب لا رہے ہیں اور وہ وقت دور نہیں جب عسر کی بجائے آپ ﷺ حالت یسر میں ہوں گے اور یہ وقت آپ ﷺ کو یاد بھی نہیں رہے گا ۔ زمانہ جانتا ہے کہ یہ پیش گوئی حرف بہ حرف پوری ہوئی اور آپ ﷺ نے اپنی زندگی میں حالت…
Read the full tafseer →وَنُيَسِّرُكَ لِلْيُسْرَىٰ (And We will facilitate for you [ to reach ] the easiest way....87:8). The phrase the easiest way' refers to the sacred laws of Islam. Apparently, according to the demand of the context, it should have been stated 'We will make the Shari'ah easy for you'. But the Qur'an chose, instead, to state 'And We will facilitate for you (to reach) the easiest way. [ 8] '. The reason for that, probably, is to indicate that Allah will predispose him to the sacred laws, so that they will become part of his nature, and he will become an embodiment of Shari'ah.
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–8
8 This sentence can have two meanings: first, "that the preservation of the entire Qur'an word for word in your memory is not a manifestation of your own power but the result of Allah Almighty's bounty and grace; otherwise if Allah so willed, He could cause it to be forgotten. " This same theme has been expressed at another place in the Qur'an, thus: "O Muhammad! We may, if We so will, take back from you all of what We have revealed to you." (Bani Isra'il: 86) . Another meaning also can be: "Your forgeting something temporarily, or your forgetting a verse or a word occasionally is an…
Read the full tafseer →