Explained with ayahs 1–13
مسند احمد میں ہے عقبہ بن عامر جہنی ؓ فرماتے ہیں کہ جب آیت (فَسَبِّحْ باسْمِ رَبِّكَ الْعَظِيْمِ 74ۧ) 56۔ الواقعة :74) اتری تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اسے تم اپنے رکوع میں کرلو جب آیت (سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْاَعْلَى ۙ) 87۔ الأعلی :1) اتری تو آپ نے فرمایا اسے اپنے سجدے میں کرلو ابو داؤد وغیرہ کی حدیث میں ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ آیت (سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْاَعْلَى ۙ) 87۔ الأعلی :1) پڑھتے تو کہتے سبحان ربی الاعلی حضرت علی سے بھی یہ مروی ہے حضرت ابن عباس ؓ سے بھی یہ مروی ہے اور آپ جب آیت (لا اقسم بیوم القیامۃ) پڑھتے اور آخری آیت (اَلَيْسَ ذٰلِكَ بِقٰدِرٍ عَلٰٓي اَنْ يُّـحْيِۦ الْمَوْتٰى 40) 75۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–8
سورة الْاَعْلٰی 8
اس فقرے کے دو مطلب ہو سکتے ہیں۔ ایک یہ کہ پورے قرآن کا لفظ بلفظ آپ کے حافظے میں محفوظ ہوجانا آپ کی اپنی قوت کا کرشمہ نہیں ہے بلکہ اللہ کے فضل اور اس کی توفیق کا نتیجہ ہے، ورنہ اللہ چاہے تو اسے بھلا سکتا ہے۔ یہ وہی مضمون ہے جو دوسری جگہ قرآن مجید میں یوں بیان کیا گیا ہے۔ وَلَئِنْ شِئْنَا لَنَذْهَبَنَّ بالَّذِي أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ ، (بنی اسرائیل، 86) " اگر ہم چاہیں تو وہ سب کچھ تم سے چھین لیں جو ہم نے وحی کے ذریعہ سے تمہیں عطا کیا ہے "۔ دوسرا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ کبھی وقتی طور پر آپ کو نسیان لاحق ہوجانا اور آپ کا کسی آیت یا لفظ کو کسی وقت بھول جانا اس وعدے سے مستثنی ہے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–7
سنقرئک فلاتنسی، الا ماشاء اللہ، سابقہ آیات میں حق تعالیٰ نے اپنی قدرت و حکمت کے چند مظاہر بیان فرمانیکے بعد رسول اللہ ﷺ کو انکے فریضہ پیغمبری کی طرف چند ہدایات دی ہیں اور ہدایات سے پہلے آپ کے کام کو آسان کردینے کی خوشخبری سنائی ہے وہ یہ کہ ابتداء میں جب آپ پر قرآن نازل ہوتا اور جبرئیل امین کوئی آیت قرآن سناتے تو آپ کو یہ فکر ہوتی تھی کہ ایسا نہ ہو کہ الفاظ آیت ذہن سے نکل جائیں اسلئے جبرئیل امین کے پڑھنے کے ساتھ ساتھ آپ بھی الفاظ قرآن پڑھتے جاتے تھے۔ اس آیت میں حق تعالیٰ نے یہ کام یعنی قرآن کا یاد کرادینا اپنے ذمہ لے لیا اور آپکو بےفکر کردیا کہ جبرئیل امین کے چلے جانے کے بعد آیات قرآن کا آپ سے…
Read the full tafseer →’اِلَّا مَا شَآءَ اللّٰہُ‘۔ یعنی اس کلیہ سے مستثنیٰ صرف وہ چیزیں ہیں جو وقتی اور ہنگامی نوعیت کی ہیں۔ ان کی مدت پوری ہو جانے کے بعد خود اللہ تعالیٰ ہی بتا دے گا کہ ان کی مدت پوری ہو گئی۔ یہ اشارہ ان احکام کی طرف ہے جو وقتی اور عارضی تھے اور جو بعد میں منسوخ ہو گئے۔
صحیح توکل کی تعلیم کے لیے خدا کے محیط کل علم کا حوالہ: ’اِنَّہٗ یَعْلَمُ الْجَھْرَ وَمَا یَخْفٰی‘۔ یعنی یہ گمان نہ کرو کہ تم جن حالات و مسائل سے دوچار ہو تمہارا رب ان سے بے خبر ہے۔ وہ بے خبر نہیں ہے بلکہ ان باتوں کو بھی وہ جانتا ہے جو ظاہر ہیں اور ان باتوں سے بھی آگاہ ہے جو پوشیدہ ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ تمہاری پریشانیاں اور دعائیں سبھی…
Read the full tafseer →7۔ 1 یہ بھی عام ہے جہر قرآن کا وہ حصہ ہے جسے رسول اللہ یاد کرلیں اور جو آپ کے سینے سے محو کردیا جائے وہ مخفی ہے۔ خفی چھپ کر عمل کرے اور جہر ظاہر ان سب کو اللہ جانتا ہے۔
Read the full tafseer →3: آنحضرت ﷺ کو فکر رہتی تھی کہ کہیں آپ قرآن کریم کا کچھ حصہ بھول نہ جائیں، اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں اطمینان کرادیا کہ ہم آپ کو بھولنے نہیں دیں گے، البتہ اللہ تعالیٰ جن احکام کو منسوح کرنا چاہے گا انہیں آپ بھول سکتے ہیں۔ جیسا کہ سورة بقرہ : 106 میں گذرا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–9
اب وہ خوشخبری آتی ہے جو آپ کے لئے ہے اور آپ کے بعد آپ کی امت کے لئے ہے۔
سنقرنک .................................... الذکری
اس عظیم خوشخبری کا آغاز ہوتا ہے کہ قرآن کے حفظ کرنے اور اسے باقی رکھنے کی ذمہ داری نبی ﷺ کے کاندھوں سے اتار دی جاتی ہے۔
سنقرءک فلا تنسی (6:87) ” ہم تمہیں پڑھوا دیں گے ، پھر تم نہیں بھولوگے “۔ لہٰذا آپ اپنے رب سے یہ کلام لیں اور بس۔ اس کو یاد کرادینا اللہ کا کام ہے۔ یہ بات فی الواقعہ نبی ﷺ کے لئے بڑی خوشخبری تھی۔ آپ حفظ قرآن کے لئے فکر مند ہوتے تھے۔ اب تو اس کی حفاظت کی جانب سے مطمئن کردیا گیا کیونکہ قرآن کریم ایک نہایت ہی عظیم کلام اور آپ اسے بہت ہی محبوب رکھتے تھے۔ آپ دل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–7
15 یعنی جس طرح ہم نے اپنی تربیت سے ہر چیز کو بتدریج اس کے کمال مطلب تک پہنچایا ہے تم کو بھی آہستہ آہستہ کامل قرآن پڑھا دیں گے اور ایسا یاد کرادیں گے کہ اس کا کوئی حصہ بھولنے نہ پاؤ گے بجز ان آیتوں کے جن کا بالکل بھلا دینا ہی مقصود ہوگا کہ وہ بھی ایک قسم نسخ کی ہے۔
16 یعنی وہ تمہاری مخفی استعداد اور ظاہری اعمال و احوال کو جانتا ہے اسی کے موافق تم سے معاملہ کرے گا۔ نیز یہ شبہ نہ کیا جائے کہ جو آیات ایک مرتبہ نازل کردی گئیں، پھر ان کو منسوخ کرنے اور بھلا دینے کے کیا معنی۔ اس کی حکمتوں کا احاطہ کرنا اسی کی شان ہے جو تمام کھلی چھپی چیزوں کا جاننے والا ہے اسی کو معلوم ہے کہ کونسی چیز ہمیشہ باقی…
Read the full tafseer →آیت 7{ اِلَّا مَا شَآئَ اللّٰہُ } ”سوائے اس کے کہ جو اللہ چاہے۔“
یہاں یہ کلمہ استثناء صرف اللہ تعالیٰ کی قدرت کے اظہار کے لیے آیا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہرچیز پر قادر ہے ‘ اس کے حکم اور اذن کے بغیر کوئی کچھ بھی نہیں کرسکتا۔ اگر اللہ تعالیٰ کسی کے حافظہ سے کوئی چیز محو کرنا چاہے تو وہ لاکھ اسے یاد کرتا رہے ‘ یاد نہیں رکھ سکے گا۔ اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ قرآن مجید کی کوئی آیت حضور ﷺ بھول بھی گئے تھے۔ اس لحاظ سے اس جملے کی مثال سورة الزخرف کی اس آیت جیسی ہے : { قُلْ اِنْ کَانَ لِلرَّحْمٰنِ وَلَـدٌق فَاَنَا اَوَّلُ الْعٰبِدِیْنَ۔ } ”اے نبی ﷺ ! آپ ان سے کہیے کہ اگر رحمن کا کوئی بیٹا ہوتا تو سب سے…
Read the full tafseer →6 جب وحی کا سلسلہ شروع ہوا تو آپ ﷺ بہ تکلف وحی کے الفاظ یاد رکھنے پر زیاد توجہ دیتے تھے اور زبان سے ان الفاظ کی ادائیگی کی کوشش بھی کرتے تھے جس سے آپ کی توجہ بٹ جاتی تھی۔ اللہ تعالیٰ نے اس بات کی ذمہ داری لی اور فرمایا کہ آپ صرف توجہ سے سنا کریں۔ بعد میں بعینہ وحی کے الفاظ کو آپ کی زبان سے ادا کروا دینا ہمارا کام ہے۔ نیز یہ وحی کے الفاظ آپ ﷺ کے دل میں محفوظ رہیں گے۔ آپ انہیں بھولیں گے نہیں۔ ہاں اگر اللہ چاہے تو آپ بھول بھی سکتے ہیں۔ اب اس کو بھولنے کی بھی دو صورتیں ہیں۔ ایک صورت یہ ہے کہ آپ ایک دفعہ صبح کی نماز پڑھا رہے تھے اور قراءت کے دوران ایک آیت چھوڑ گئے۔ نماز کے بعد سیدنا ابی بن کعب نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–7
4۔ (اپنی کسی مصلحت سے، سو وہ اس پر بھی قادر ہے) بہرحال اس کلام کا یاد رکھنا ہو تو اور اس کے کسی جزو کو بھلا دینا ہو تو ہمیشہ وہی قرین حکمت ومطابق مصلحت ہی ہوگا۔ (آیت) ” سنقرئک “۔ اشارہ قرآن مجید کی جانب ہے، جو طریق طاعت بتانے ہی کے لیے ہے۔
5۔ (اور اس سے کسی چیز کی کوئی بھی مصلحت مخفی نہیں) چناچہ کسی کلام کا محفوظ رکھنا ہی جب مصلحت ہوتا ہے، حق تعالیٰ اسے محفوظ رکھتا ہے، اور جب اسے بھلا دینا ہی مصلحت ہوتا ہے تو وہ اسے بھلا بھی دیتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–7
سنقرئک فلاتنسی حاکم نے حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ سے اور ابن مردویہ نے حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت نقل کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ قرآن کے الفاظ کو اس خوف سے جبرائیل (علیہ الصلوۃ والسلام) کے ساتھ ساتھ دہراتے جاتے تھے کہ کہیں بھول نہ جائیں، مجاہد اور کلبیک ہتے ہیں کہ جبرائیل (علیہ الصلوۃ والسلام) وحی سنا کر فارغ نہ ہوتے تھے کہ آپ ﷺ بھول جانے کے اندیشہ سے دہرانے لگتے تھے اسی بناء پر اللہ تعالیٰ نے نبی ﷺ کو یہ اطمینان دلایا کہ وحی کے نزول کے وقت آپ ﷺ خاموشی سے سنتے رہیں ہم اسے آپ ﷺ کو پڑھوا دیں گے اور وہ ہمیشہ کے لئے آپ ﷺ کو یاد ہوجائے گا۔
Read the full tafseer →الا ماشاء اللہ . مگر جس کو فراموش کیا جانا ‘ اللہ چاہے گا وہ تم کو فراموش ہوجائے گا۔ تفسیر جمہور کے موافق اس سے مراد
قرآن کا وہ حصہ ہے جس کی تلاوت بھی منسوخ ہوگئی اور حکم بھی جیسے آیت : ما ننسخ من اٰیۃ او ننسھا میں فرمایا ہے۔ انساء (فراموش کرا دینا) بھی نسخ ہی کی قسم ہے۔ اس تشریح کی بناء پر آیت میں دو طرح کا معجزہ ہے۔
1) نسیان بالکل نہ ہونا۔ باوجودیکہ نسیان ‘ انسان کے فطری عوارض میں سے ہے۔
2) آئندہ ہونے والی چیز کی پہلے سے خبر دینا (یہ کل تفصیل اس صورت میں ہوگی جب فلا تنسٰی کو فعل منفی قرار دیا جائے) لیکن اگر اس کو صیغۂ نہی کہا جائے (اور آخر کے الف کو زیادہ قرار دیا جائے) تو استثناء کا معنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–7
(6۔ 7) اے محمد جتنا قرآن کریم ہم آپ کو بذریعہ جبریل پڑھا دیا جریں گے، یا یہ کہ آپ کو سکھا دیا کریں گے تو مشیت خداوندی یہی ہے کہ آپ اس کو نہ بھولیں گے۔ چناچہ اس کے بعد رسول اکرم قرآن حکیم کے کسی حصہ کو نہیں بھولے اور وہ ظاہر اور ایسی مخفی بات کو جس کا ابھی تک تکلم نہیں کیا ہے جانتا ہے۔
شان نزول : سَنُقْرِئُكَ فَلَا تَنْسٰٓى (الخ)
امام طبرانی نے حضرت ابن عباس سے روایت کیا ہے کہ رسول اکرم کے پاس جبریل امین جس وقت وحی لے کر آتے تو جبریل امین وحی سے فارغ نہ ہونے پاتے اور رسول اکرم سے اس کو بھولنے کے ڈر کی وجہ سے پڑھنا شروع کردیتے تھے اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی، اس روایت کے راوی بہت…
Read the full tafseer →(1) الا ما شآء اللہ : یعنی اللہ تعالیٰ جو چاہے بھلا دے۔ بعض اوقات کچھ آیات اس طرح بھی منسوخ کی جاتی تھیں کہ وہ آپ ﷺ کو بھلا دی جاتیں، یجسا کہ فرمایا :(ماننسخ من ایۃ اوننسھا نات بخیر منھا اومثلھا) (البقرہ : 106)”جو آیت ہم منسوخ کرتے ہیں یا بھلا دیتے ہیں اس سے بہتر یا اس جیسی آیت لے آتے ہیں۔“
(2) انہ یعلم الجھروما یخفی :”وہ کھلی اور چھپی سب باتیں جانتا ہے“ یہ بات اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں کئی جگہ بیان فرمائی ہے کہ وہ کھلی اور چھپی سب باتیں جانتا ہے، کوئی بات اونچی آواز سے کی گئی ہو یا آہستہ یا بالکل مخفی ہو وہ سب کچھ جانتا ہے۔ (دیکھیے رعد : 10۔ طہ : 7۔ انعام : 3۔ انبیائ : 110۔ ملک : 13) ابن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–7
سنقرئک فلا تنسی۔۔۔ تا۔۔۔ للیسری۔
سنقرئک فلا تنسی۔ اے محمد ﷺ ہم تجھے قرآن پڑھائیں گے اور تجھے تعلیم دیں گے اور آپ نہ بھولیں گے یعنی آپ یاد رکھیں گے یہ ابن وہب نے امام مالک سے روایت کی ہے یہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے بشارت ہے، اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ کو ﷺ کو بشارت دی کہ اس نے اسے واضح نشانی عطا فرمائی ہے وہ یہ کہ جبرائیل امین آپ پر جو بھی پڑھتے ہیں وہ وحی ہوتی ہے جبکہ رسول اللہ امی ہیں نہ لکھنا سیکھا اور نہ پڑھا آپ ﷺ اسے یادرکھتے ہیں اور اسے بھولتے نہیں، ابن ابی نجیح نے مجاہد سے یہ روایت نقل کی ہے کہ آپ بھول جانے کے ڈر سے اسے یاد کیا کرتے تھے تو آپ کو کہا گیا میں تجھے اس کی جانب سے کافی ہوں، اس…
Read the full tafseer →43۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) آیت سنقرئک فلاتنسی الا ماشاء اللہ کے بارے میں روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ کسی چیز کو نہیں بھولتے تھے مگر جو اللہ تعالیٰ چاہتے اس کو بھول جاتے تھے آیت انہ یعلم الجہر وما یخفی۔ بیشک وہی ظاہر کو بھی جانتا ہے اور وسوسہ کو بھی اس میں وما یخفی سے مراد وسوسہ ہے۔
44۔ ابن ابی شیبہ وابن ابی حاتم نے سعید بن جبیر (رح) آیت انہ یعلم الجہر وما یخفی کے بارے میں روایت کیا کہ وہ ظاہر کو بھی جانتا ہے اور اسے بھی جو آپ دل میں چھپائے ہوئے ہیں۔
Read the full tafseer →[اِلَّا مَا : سوائے اس کے جو [ شَاۗءَ اللّٰهُ ۭ: چاہا اللہ نے ][ انهٗ يَعْلَمُ الْجَـهْرَ : بیشک وہ جانتا ہے نمایاں کرنے کو ][ وَمَا يَخْفٰى: اور اس کو جو پوشیدہ ہوتا ہے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–9
﴿سَنُقْرِئُكَ فَلَا تَنْسٰۤىۙ006﴾ (ہم آپ کو قرآن پڑھائیں گے سو آپ نہیں بھولیں گے) ۔
اس میں وعدہ فرمایا ہے کہ یہ قرآن جو آپ پر نازل ہوچکا ہے اور اس کے بعد مزید نازل ہوگا آپ اس قرآن کو بھولیں گے نہیں، یہ وہ ہی مضمون ہے جسے سورة ٴ قیامہ کی آیت کریمہ ﴿ اِنَّ عَلَيْنَا جَمْعَهٗ وَ قُرْاٰنَهٗۚۖ0017﴾ میں بیان فرمایا ہے ﴿ اِلَّا مَا شَآء اللّٰهُ ﴾ (مگر اللہ جو چاہے) اس میں یہ بتادیا کہ آپ پر جو وحی آئے اس میں سے آپ بعض چیزوں کو بھول جائیں گے اور آپ کا یہ بھولنا ہماری مشیت سے ہوگا حکمت کے مطابق ہوگا اس میں منسوخ التلاوۃ اور منسوخ الحکم دونوں کو بیان فرما دیا، سورة ٴ بقرہ میں فرمایا ہے : ﴿ مَا نَنْسَخْ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–8
5:۔ ” انہ یعلم “ یہ دعوی توحید کا دوسرا حصہ ہے یعنی عالم الغیب اور سب کچھ جاننے والا اللہ تعالیٰ ہی ہے اور کوئی نہیں۔ ” ونیسرک للیسری “ یہ دوسرے دعوے پر انعام ہے یعنی جب دوسرا دعوی بیان کریں گے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی عالم الغیب نہیں تو اللہ تعالیٰ آپ کے لیے جنت کی راہ آسان فرما دے گا۔ جس طرح پہلا دعوے دوسرے دعوے کے لیے بمنزلہ سبب ہے یعنی جو سب کچھ کرنے والا اور متصرف و کارساز ہو وہی عالم الغیب ہوتا ہے اسی کو پکارنا چاہئے۔ اسی طرح پہلا انعام بھی دوسرے انعام کے لیے بمنزلہ سبب ہے۔ کیونکہ قرآن کی ہدایت دخول جنت کا موجب ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–13
(پہلی سورة کے ساتھ ربط)
پہلی سورة میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ہر انسان کے نفس پر اللہ نے محافظ مقرر کر رکھے ہیں اور اس کے اعمال کی حفاظت ہو رہی ہے ۔ لہذا ایک دن آئے گا ، جب راز کھلیں گے جب ایسا ہوگا ۔ معاملہ بڑا خراب ہوگا ۔ اس دن انسان ندامت اور شرمندگی سے بچنا چاہیں گے اس کا طریقہ بھی اللہ نے اس سورة میں بتا دیا اور وہ یہ ہے جیسا کہ آخری آیات میں آتا ہے ۔ حیوۃ الدنیا اور ترغیب فی الاخرت یعنی دنیا کی طرف سے بےرغبتی اور آخرت کے معاملات کی طرف زیادہ توجہ ہونی چاہیئے ۔ اگر ایسا ہوگیا تو راز کھلنے کے دن انسان شرمندگی سے بچ جائے گا ۔ ورنہ وہاں پر بچنے کی کوئی صورت نہیں ۔ اور رازوں کو کوئی تبدیلی…
Read the full tafseer →اِلَّا مَا شَاۗءَ اللہُ 0 ۭ اِنَّہٗ يَعْلَمُ الْجَـہْرَ وَمَا يَخْفٰى 7 ۭ
ما
مَا في کلامهم عشرةٌ: خمسة أسماء، وخمسة حروف .
فإذا کان اسما فيقال للواحد والجمع والمؤنَّث علی حدّ واحد، ويصحّ أن يعتبر في الضّمير لفظُه مفردا، وأن يعتبر معناه للجمع .
فالأوّل من الأسماء بمعنی الذي
نحو : وَيَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ ما لا يَضُرُّهُمْ [يونس/ 18] ثمّ قال : هؤُلاءِ شُفَعاؤُنا عِنْدَ اللَّهِ [يونس/ 18] لمّا أراد الجمع، وقوله : وَيَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ ما لا يَمْلِكُ لَهُمْ رِزْقاً ... الآية [ النحل/ 73] ، فجمع أيضا، وقوله : بِئْسَما يَأْمُرُكُمْ بِهِ إِيمانُكُمْ [ البقرة/ 93] .
الثاني :
نكرة…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–7
ترکیب ¦ الاعلیٰ صفۃ ربک الذین الجملۃ صفۃ اخریٰ للرب والذی صفۃ اخریٰ او معطوف علی الموصول الذی قبلہ قدر قریٔ مخففۃ ومثقلا والذی اخرج صفۃ اخریٰ فجعلہ غثاء فی القاموس الغثاء والقماش والزید والھالک البالی من ورق الشجر قال قتادہ الغثاء الیابس احویٰ اسود ماخوذ من الحوۃ وھی سواد یضرب الی الخضرۃ فے القاموس الحوۃ سواد الی خضرۃ او حمرۃ الی السوا وحوی کر ضی وفی الصحاح الحوۃ بالضم حمرۃ الشفۃ قال ابن عباس غثا ھشیما احوی متغیر افل اتنسی قیل نفی وقیل نھی والالف للاشباع الا استثناء مفرغ من اعم المفاعیل ای لاتنس لیٰ مماک علمک اللہ شیئاً من الاشیاء الاماشاء اللہ ان تنساہ قال الفراء ولم یشاء اللہ ان ینسی نبیہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–7
سَنُقْرِئُکَ فَلاَ تَنْسٰٓی۔ اِلاَّ مَاشَآئَ اللّٰہُ ط اِنَّـہٗ یَعْلَمُ الْجَھْرَ وَمَا یَخْفٰی۔ (الاَعلٰی : 6، 7)
(ہم آپ کو پڑھائیں گے تو پھر آپ نہیں بھولیں گے۔ سوائے اس کے جو اللہ چاہے، وہ علانیہ کو بھی جانتا ہے اور اس کو بھی جو چھپا ہوتا ہے۔ )
وحی کے بارے میں ایک وضاحت
سابقہ آیات میں اللہ تعالیٰ کی قدرت کا اظہار اور اس کی عنایات کا بیان ہے۔ اسی سلسلے کو آگے بڑھاتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا ہے کہ انسانوں کی ہدایت کے لیے وحی کا نزول اور آپ کی بعثت اللہ تعالیٰ کا بہت بڑا احسان اور اس کی قدرت کا ظہور ہے۔ تو یہ کیسے ممکن ہے کہ وحی کے نزول کے وقت اللہ تعالیٰ اپنی قدرت کا اظہار نہ فرمائے اور اپنے اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–13
فہم القرآن
ربط کلام : رب تعالیٰ کی قدرتوں کا ذکر جاری ہے۔ جو ” رب “ اپنی قدرت سے نباتات کو اگاتا اور اسے کوڑا کرکٹ بناتا ہے اسی نے اپنی قدرت سے نبی ﷺ کو قرآن پڑھایا اور یاد کروایا۔
ان آیات کا یہاں لانے کا ایک مقصد یہ ہے کہ جس طرح انسان اور نباتات کا پہلے وجود نہیں تھا اسی طرح وحی سے پہلے آپ کی نبوت کا وجود نہ تھا۔ انسان اور دیگر چیزوں کے لیے فنا ہے لیکن اللہ تعالیٰ کی وحی کو فنا نہیں ہے۔ نبوت کے ابتدائی دور میں نبی ﷺ وحی کو یاد رکھنے کے لیے عجلت فرمایا کرتے تھے تاکہ وحی کا کوئی حصہ بھول نہ جائے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے آپ کو اطمینان دلایا کہ اے نبی ﷺ ! آپ کو پڑھنے اور یاد کرنے میں عجلت سے کام…
Read the full tafseer →7 : اِلَّا مَاشَآ ئَ اللّٰہُ اِنَّہٗ یَعْلَمُ الْجَھْرَ وَمَا یَخْفٰی (مگر جس وقت اللہ تعالیٰ کو منظور ہو اور وہ ہر ظاہر و مخفی کو جانتا ہے) مگر جس کو اللہ تعالیٰ چاہے منسوخ فرما دے۔ یہ نبی اکرم ﷺ کو بشارت و خوشخبری ہے کہ وحی آپ کو یاد کرادیں گے۔ یہاں تک کہ اس میں سے کوئی چیز نہ رہے گی مگر جس کے متعلق اللہ تعالیٰ چاہے کہ وہ اس کو منسوخ کرے۔ وہ آپ کے حافظہ سے جاتی رہے گی اور اس کا حکم اور تلاوت اٹھالی جائیگی۔
قولِ جنید (رح) :
ابن کیسان نے جنید سے اس کے متعلق پوچھا تو انہوں نے فرمایا۔ اس پر عمل کرنا نہ بھولیں۔ آپ جیسا آدمی صدر مجلس میں بیٹھ سکتا ہے۔
ایک اور قول یہ ہے :
فلا تنسٰی یہ صیغہ نہی ہے۔…
Read the full tafseer →7 ۔” الا ماشاء اللہ “ کہ آپ اس کو بھول جائیں اور جس کی اللہ تعالیٰ قرآن میں سے تلاوت منسوخ کردیں ۔ جیسا کہ فرمایا ” ماننسخ من آیۃ اور ننسھا “ اور بھلا دینا بھی نسخ کی ایک قسم ہے اور مجاہد اور کلبی رحمہم اللہ فرماتے ہیں کہ جب آپ (علیہ السلام) پر جبرئیل (علیہ السلام) قرآن لے کر اترتے تو وہ آیت کے آخر سے فارغ نہ ہوتے تھے حتیٰ کہ رسول اللہ ﷺ اس کے اول کا تکلم شروع کردیتے تھے اس خوف سے کہ اس کو بھول جائیں تو اللہ تعالیٰ نے نازل کیا ” سنقرئک فلا تنسیٰ “ پھر آپ ﷺ اس کے بعد کوئی چیز نہیں بھولے۔ ” انہ یعلم الجھر “ قول اور فعل میں سے۔ ” وما یخفیٰ “ ان دونوں سے اور معنی یہ ہے کہ وہ پوشیدہ اور علانیہ کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–13
1۔ 13۔ ہجرت سے پہلے بلکہ فتح مکہ تک جو کچھ اللہ تعالیٰ کی ذات صفات اور احکام میں شرک کا رواج تھا وہ تو سب کو معلوم ہے اس مکی سورة کے اول میں فرمایا کہ اہل مکہ کی شرک کی باتوں سے اے نبی اللہ کے تم اور تمہارے ساتھی اللہ کی توحید ہر دم ورد زبان رکھو تاکہ ان مشرک اہل مکہ کے کان بھی ذرا توحید کی آواز سے آشنا ہوجائیں اسی واسطے اکثر صحابہ 1 ؎ جب اس آیت کو پڑھا کرتے تھے تو سبحان ربی الاعلیٰ کہا کرتے تھے۔ خلق نسوی کا یہ مطلب ہے کہ انسان حیوان سب کو مناسب اعضا مناسب حالت میں پیدا کیا والذی قدر فھدیٰ کی تفسیر کے طور پر مسند امام احمد صحیح مسلم 2 ؎ وغیرہ میں جو صحابہ کی ایک جماعت سے روایت ہیں ان کا حاصل…
Read the full tafseer →(اِلَّا مَا شَاۗءَ اللّٰهُ ۭ ) مگر جو اللہ چاہے۔ اور اس کی حکمت کا تقاضا کرے کہ کسی مصلحت اور حکمت بالغہ کی بنا پر آپ کو فراموش کرادے۔ ( اِنَّهٗ يَعْلَمُ الْجَـهْرَ وَمَا يَخْفٰى) بیشک وہ ظاہر اور پوشیدہ کا جانتا ہے۔ اور اس میں سے یہ بھی کہ وہ جانتا ہے کہ اس کے بندوں کے لیے کیا درست ہے اس لیے وہ جو چاہتا ہے مشروع کرتا ہے اور جو چاہتا ہے فیصلہ کرتا ہے۔
Read the full tafseer →(8) اللہ تعالیٰ کے کمال علم کا حوالہ و ذکر : چناچہ ارشاد فرمایا گیا اور صحیح توکل کی تعلیم کے لیے اللہ تعالیٰ کے کمال علم کے حوالے کے طور پر ارشاد فرمایا گیا اور حرف تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ " بیشک وہ ظاہری بات کو بھی جانتا ہے اور اس کو بھی جو مخفی ہوتی ہے "۔ پس اس سے نہ کسی انسان کی کوئی نیت اور اس کی داخلی کیفیت چھپی رہ سکتی ہے، اور نہ اس کی طبیعت و فطرت کا کوئی تقاضا اور اس کی حاجت و ضرورت، اس لیے وہ اپنی حکمت اور مشیت کے مطابق اپنی وحی میں سے جو چاہے آپ کے سینہ اطہر میں باقی رکھے اور جو چاہے بھلا دے۔ جیسا کہ دوسری جگہ فرمایا گیا وَلَئِن شِئْنَا لَنَذْہَبَنَّ بالَّذِیْ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–19
اللہ بہترین امتحان لینے والا ہے
تشریح : نبی کریم ﷺ قرآن پاک کے ان الفاظ کو جو جبریل وحی کے ذریعے سناتے تھے اس خوف سے کہ وہ بھول نہ جائیں جلدی جلدی دہرانے لگتے اس پر اللہ تعالیٰ نے نبی پاک ﷺ کو یقین دلایا کہ آپ وحی کو غور سے سنا کریں ہم خود ہی آپ کو یاد کرانے کا ذمہ لیتے ہیں آپ بےفکر رہیں اور حقیقت بھی یہی ہے کہ قرآن حرف بحرف آپ کے حافظہ میں محفوظ کردیا گیا تھا اور یہ ایک بہت بڑا معجزہ ہے اس کے بعد اعمال کے بارے میں اور انسان کے انجام کے بارے میں ذکر ہے نیکی اور بدی ' اچھائی اور برائی ' سچائی اور جھوٹ ' روشنی اور اندھیرا ' کفر اور ایمان ' فرشتہ اور شیطان یہ شروع دن سے پیدا کئے گئے ہیں اور ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–19
سورة الاعلی۔
آیات 1 تا 19۔
اسرار ومعارف۔
اپنے پروردگار کے اعلی نام کی پاکی بیان کیجئے جس نے مخلوق کو عدم سے وجود بخشا کچھ بھی نہ تھا پھر سب کچھ پیدا فرمایا۔
مسئلہ : جب یہ آیہ مبارکہ نازل ہوئی تو آپ نے اسے سجدے کے لیے مقرر فرمایا۔ پھر تمام اجسام کو ایک انتہائی مناسب اندازے کے مطابق شکل و صورت دی اور جس کو جس کام کے لیے بنایا اسے اس کام کی استعداد بھی بخشی اور اس کی طرف میلان بھی عطا فرمایا۔
قدرت کا عطیہ۔
یہ سارے نظام کائنات میں مشاہدہ کیا جاسکتا ہے کہ ہر ذرے کو صورت ، شعور ، اور فطری کام کی استعداد عطا کرکے ایسا میلان بخشا کہ سوج ، چاند ، ستارے ، بادل ، ہوا ، جمادات ونباتات ہر ایک شے اپنے وقت…
Read the full tafseer →ف 18 اس میں یہ چیز شامل ہے کہ کوئی پکار کر قرآن پڑھے یا آہستہ پڑھے اللہ تعالیٰ دونوں کو جانتا ہے۔
Read the full tafseer →(87:7) الا ما شاء اللہ۔ صاحب تفسیر مظہری اس کی تفسیر میں یوں رقمطراز ہیں :۔ ” مگر جس کا فراموش کیا جانا اللہ چاہے وہ تم کو فراموش ہوجائے گا “۔
اور تفسیر جمہور کے موافق اس سے مراد قرآن کا وہ حصہ ہے جس کی تلاوت بھی منسوخ ہوگئی اور حکم بھی جیسے آیت ما ننسخ من ایۃ اوننسھا نات بخیر منھا او مثلہا (2:106) ہم جس آیت کو منسوخ کردیتے ہیں یا اسے فراموش کرا دیتے ہیں تو اس سے بہتر یا ویسی ہی اور آیت بھیج دیتے ہیں) میں فرمایا ہے۔
انساء (فراموش کرا دینا) بھی نسخ ہی کی ایک قسم ہے اس تشریح کی بنا پر آیت میں دو طرح کا معجزہ ہے :۔
(1) اول نیسان بالکل نہ ہونا یا وجود یکہ نیسان انسان کے فطری عوارض میں سے ہے۔
(2)…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–19
لغات القرآن۔
سنح۔ تسبیح کر۔ قدر۔ اندازہ کیا۔ المرعی۔ چارہ (جانوروں کی غذا) ۔ غثائ۔ کوڑا۔ کباڑ۔ احوی۔ سیاہ۔ نقری۔ ہم پڑھائیں گے۔
لا تنسی۔ تو نہ بھولے گا۔ یسری۔ آسانی۔ ذکر۔ سمجھا دے۔ ذکر کر۔ یتجنب۔ وہ بچے گا۔ الاشقی۔ بدنصیب۔ بدقسمت۔ افلح۔ کامیاب ہوا۔ تزکی۔ جس نے تزکیہ کیا۔ اپنے آپ کو پاک صاف کیا۔ تو ثرون۔ تم ترجیح دیتے ہو۔ اختیار کرتے ہو۔ ابقی۔ باقی رہنے والا۔
تشریح :
ان آیات ہی میں شروع سے لے کر آخر تک نبی کریم خاتم الانبیاء حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ سے خطاب کرے ہوئے چند بنیادی اصولوں کی تعلیم دی گئی ہے۔ فرمایا۔
٭اے نبی ﷺ ! آپ اپنے اس پروردگار کی پاکیزگی یعنی حمدو ثنا بیان کرتے رہییے جو سب سے بلندو…
Read the full tafseer →(ف 4) مفسرین نے فرمایا کہ یہ استثناء واقع نہ ہوا اور اللہ نے نہ چاہا کہ آپ کچھ بھولیں (خازن) ۔
(ف 5) یعنی وہ تمہارا مخفی استعداد اور ظاہر اعمال واحوال کو جانتا ہے اور وہ جو بالکل پوشیدہ ہے جس کو کسی نے ابھی خیال بھی نہ کیا اس کو بھی جانتا ہے۔
Read the full tafseer →[6] یعنی ہم تمہیں قرآن ایسا یاد کرا دیں گے کہ اس کا کوئی حصہ تم بھولنے نہ پاؤ گے بجز ان آیتوں کے جن کو بھلا دینا ہی مقصود ہوگا۔
[7] یعنی اس سے کسی چیز کی کوئی مصلحت بھی مخفی نہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–7
سورة الاعلیٰ
1: سنقرئک فلا تنسی میں اس چیز کی طرف اشارہ ہے کہ پیغمبر کا دماغ خدا کی جانب سے محفوظ ہوتا ہے اور جہاں تک شرعیات کا تعلق ہے ، اس پر کبھی سہو ونسیان کی کیفیتیں طاری نہیں ہوتیں ۔ الا ماشاء اللہ کا استثناء تائید کے لئے ہے ۔ یعنی خدا کو یہ منظور نہ ہو کہ پیغمبر ﷺ تعلیمات کو بھول جائے ۔ ورنہ دوسری قوت ایسی نہیں جو ذہن پیغمبر پر غالب آسکے ۔
حل لغات :۔ فسوی ۔ اعضاء میں تسویہ پیدا کرنا فھدی ۔ بدن میں اعضاء واحشاء کو ان کے وظائف طبعی سے اطلاع بخشی ۔
Read the full tafseer →(7) مگرہاں جو اللہ تعالیٰ چاہے وہ ہر ظاہر و پوشیدہ کو جانتا ہے - یعنی جن آیات یا جس حصے کو منسوخ کرنا مقصود ہو اس کو بھلا دینا اس سے مستثنیٰ ہے جیسا کہ سورة بقرہ میں گزر چکا ہے ماننسخ من ایۃ اوننسھا اس پر وہاں ہم مفصل بحث کرچکے ہیں اور نسخ کے معنی بھی بتا چکے ہیں کہ کسی حکم کی مدت پوری ہوجانے کا نام نسخ ہے اسی کو حکم کا رفع ہوجانا بھی کہتے ہیں یہ مطلب نہیں کہ کسی حکم کو غلط سمجھ کر واپس لیے لیا (معاذ اللہ) جیسا کہ بعض جہلاء کہتے ہیں، بہرحال نسخ کا ایک طریقہ یہ بھی ہے کہ اس حکم کو سینوں سے فراموش کردیا جائے اور وہ حکم کسی کو یادی ہی نہ رہے۔ نہ پیغمبر کو نہ پیغمبر کے ساتھیوں کو اسی لئے اس کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–8
ف 3۔ پس اس سے کسی چیز کی مصلحت مخفی نہیں اس لئے جب محفوظ رکھنا مصلحت ہوتا ہے محفوظ رکھتے ہیں۔ جب بھلا دینا مصلحت ہو بھلا دیتے ہیں۔
Read the full tafseer →سوائے اس کے جو اللہ چاہے بلا شبہ وہ ہر ظاہر و مخفی کو جانتا ہے
7 ؎ (الا ماشاء اللہ) کہہ کر نہ بھولنے میں استثناء کردی کیونکہ بھولنا خاصہ ٔ انسانیت ہے اور کسی انسان کو اس کی خصوصیات سے الگ نہیں کیا جاسکتا پھر ایک چیز کو بھول جانا ایسا ہے کہ وہ دماغ سے ایسی نکل جائے کہ دوبارہ یاد کرنے سے بھی یاد نہ آئے اور بعض بھولنا بالکل وقتی ہوتا ہے کہ انسان بھول جاتا ہے اور پھر اس کو یاد دلانے یاد بھی آجاتا ہے اور کبھی خود بخودہی بات یاد آجاتی ہے جو پہلے ذہن سے اتر چکی ہوتی ہے۔ اوپر جس چیز کے نہ بھولنے کی ذمہ داری لی گئی ہے وہ اس میں سے ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے پڑھانے سے تعبیر کیا ہے اور وہ فقط قرآن کریم ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–7
سَنُقْرِئُكَ فَلَا تَنسَىٰ ۔ إِلَّا مَا شَاءَ اللَّـهُ (We will make you recite, then you will not forget, except that which Allah wills. Indeed He knows what is manifest and what is hidden....87:6-7). In the preceding verses, Allah depicted the manifestation of His Omnipotence and [ profound ] wisdom. Thereafter, a few guidelines are given to the Holy Prophet ﷺ regarding his prophetic obligation. Before putting forth the guidelines, he is given the cheerful news of making his task easier. When the Qur'an was revealed initially, and as Jibra'il (علیہ السلام) began to recite, the Holy Prophet…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–8
8 This sentence can have two meanings: first, "that the preservation of the entire Qur'an word for word in your memory is not a manifestation of your own power but the result of Allah Almighty's bounty and grace; otherwise if Allah so willed, He could cause it to be forgotten. " This same theme has been expressed at another place in the Qur'an, thus: "O Muhammad! We may, if We so will, take back from you all of what We have revealed to you." (Bani Isra'il: 86) . Another meaning also can be: "Your forgeting something temporarily, or your forgetting a verse or a word occasionally is an…
Read the full tafseer →